جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ رَجُلٌ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن یوسف اوزاعی، ابن شہاب، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں (رَجُلٌ فِي شِعْبٍ ) ہے ثم رجل نہیں کہا۔
A version of the tradition narrated on the authority of Ibn Shihab has a little differently worded ending. i. e." A man in a mountain valley." but did not mention" next to him a man who...."
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْجَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِکٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَطِيرُ عَلَی مَتْنِهِ کُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّکَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنْ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی عبدالعزیز بن ابی حازم بعجہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اس کی پشت پر اللہ کے راستہ میں اڑا جا رہا ہو جب وہ دشمن کی آواز سنے یا خوف محسوس کرے تو اسی طرح اڑ جائے قتل اور موت کو تلاش کرتے ہوئے یا اس شخص کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لے کر پہاڑ کی ان چوٹیوں میں سے کسی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں رہتا ہو نماز قائم کرتا ہوں زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو یہاں تک کہ اسے اسی حال میں موت آجائے اور سوائے خیر کے لوگوں کے کسی معاملہ میں نہ پڑتا ہو۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Of the men he lives the best life who holds the reins of his horse (ever ready to march) in the way of Allah, flies on its back whenever he hears a fearful shriek, or a call for help, flies to it seeking death at places where it can be expected. (Next to him) is a man who lives with his sheep at a hill-top or in a valley, says his prayers regularly, gives Zakat and worships his Lord until death comes to him. There is no better person among men except these two.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ وَيَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ وَقَالَ فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ خِلَافَ رِوَايَةِ يَحْيَی
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیزبن ابی حازم، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابوحازم، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے اور ایک روایت میں (مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ) کے الفاظ مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بَعْجَةَ وَقَالَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، اسامہ بن زید، بعجہ بن عبداللہ جہنی، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں لیکن اس میں ( فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ ) کے الفاظ ہیں۔
Two more versions of the tradition narrated by Abdullah bin Badr and Abu Hurairah (RA) , respectively, have been handed down through different chains of transmitters with negligible difference in the wording.
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَضْحَکُ اللَّهُ إِلَی رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ کِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالُوا کَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَی الْقَاتِلِ فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ
محمد بن ابی عمر مکی، سفیان، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو قتل کرے اور دونوں جنت میں داخل ہوجائیں صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہوجائے پھر اللہ تعالیٰ قاتل کی طرف رجوع کرے اور وہ اسلام قبول کرکے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہوجائے (جیسے، حضرت حمزہ اور وحشی (رض) ۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: God laughs at the two men both of whom will enter Paradise (though) one of them kills the other. They said: Messenger of Allah, how is it? He said: One of them fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted. and dies a martyr. Then God turns in mercy to the murderer who embraces Islam, fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted, and dies a martyr.
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، سفیان، ابی زناد، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been narrated on the authority of Abu Zinad (with the same chain of transmitters).
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ کِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالُوا کَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَی الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَی الْإِسْلَامِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی وجہ سے ہنستا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے اور دونوں جنت میں داخل ہوجائیں صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کیسے ممکن ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ شہید کیا گیا اس لئے جنت میں داخل ہوگا پھر اللہ دوسرے پر رحمت فرمائے گا اور اسے اسلام کی ہدایت عطا فرمائے گا پھر وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید کردیا جائے۔
It has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: God laughs at the two men one of whom kills the other; both of them will enter Paradise. They (the Companions) said: How, Messenger of Allah? (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) He said: One is slain (in the way of Allah) and enters Paradise. Then God forgives the other and guides him to Islam; then he fights in the way of Allah and dies a martyr.
جس نے کافر کو قتل کیا اسے جہنم سے روک دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ کَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل یعنون ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر اور اسے قتل کرنے والا مسلمان کبھی جہنم میں اکٹھے نہ ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A disbeliever and a believer who killed him will never be gathered together in Hell.
جس نے کافر کو قتل کیا اسے جہنم سے روک دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ قِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُؤْمِنٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ
عبداللہ بن عون ہلالی، ابواسحاق فزاری، ابراہیم بن محمد، سہیل، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں دو آدمیوں کا اجتماع اس طرح نہ ہوگا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو کوئی نقصان پہنچا سکے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا وہ مومن جس نے کافر کو قتل کیا پھر اعمال خیر پر کار بند رہا۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: No two such persons shall be together in Hell as if one of them is such that his presence hurts the other. It was asked: Messenger of Allah, who are they? He said: A believer who killed a disbeliever and (then) kept to the right path."
اللہ کے راستہ میں صدقہ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ کُلُّهَا مَخْطُومَةٌ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، ابوعمرو، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک اونٹنی لے کر آیا جس کو مہار ڈالی ہوئی تھی عرض کیا یہ اس کے راستہ (صدقہ) میں ہے تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس قیامت کے دن اس کے بدلہ سات سو اونٹیناں ہوں گی جن کی مہار ڈالی ہوئی ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Abu Masud al-Ansari who said A man brought a muzzled she-camel and said: It is (offered) in the way of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: For this you will have seven hundred she-camels on the Day of Judgment all of which will be muzzled.
اللہ کے راستہ میں صدقہ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، زائدہ، بشر بن خالد بن جعفر، شعبہ، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
A similar tradition has been narrated on the authority of al-Amash.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي فَقَالَ مَا عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَدُلُّهُ عَلَی مَنْ يَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَی خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن ابی عمر، ابومعاویہ، اعمش، ابوعمرو شیبانی، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا، میری سواری ہلاک ہوگئی ہے آپ ﷺ مجھے سوار کردیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تو کوئی سواری نہیں ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اس کی اس آدمی کی طرف راہنمائی کرتا ہوں جو اسے سواری دے دے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کسی کی نیکی پر راہنمائی کی تو اس کے لئے اس عمل کرنے والے کی مثل اجر وثواب ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Masud al-Ansari who said: A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: My riding beast has been killed, so give me some animal to ride upon. He (the Holy Prophet) said: I have none with me. A man said: Messenger of Allah, I can guide him to one who will provide him with a riding beast. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who guides to something good has a reward similar to that of its doer.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، بشر بن خالد، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، اعمش، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
The above tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ قَالَ ائْتِ فُلَانًا فَإِنَّهُ قَدْ کَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ قَالَ يَا فُلَانَةُ أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَوَاللَّهِ لَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَکَ لَکِ فِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، ابوبکر بن نافع، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ بنی اسلام کے ایک نوجوان نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامان جہاد نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سامان جہاد تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا ہے اس نے اس آدمی کے پاس جا کر کہا رسول اللہ ﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اپنا تیار شدہ سامان مجھے عطا کردو اس نے کہا اے فلانی اسے وہ سامان عطا کر دے جو میں نے تیار کیا تھا اور اس میں سے کسی چیز کو بھی نہ رکھنا اللہ کی قسم ! اس میں سے کوئی چیز بچا کر نہ رکھنا کیونکہ اس میں تیرے لئے برکت نہ ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that a young man from Aslam tribe said: Messenger of Allah, I wish to fight (in the way of Allah) but I dont have anything to equip myself with for fighting. He (the Holy Prophet) said: Go to so and so, for he had equipped himself (for fighting) but he fell ill. So, he (the young man) went to him and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sends you his greetings and says that you should give me the equipage that you have provided yourself with. The man said (to his wife or maidservant): So and so, give him the equipage I have collected for myself and do not withhold anything from him. Do not withhold anything from him so that you may be blessed therein.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ و قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
سعید بن منصور، ابوطاہر، ابن وہب، سعید، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کو سامان تیار کرکے دیا تو اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے اس مجاہد کے بعد اس کے اہل و عیال کے ساتھ بھلائی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
It has been narrated on the authority of Zaid bin Kbalid al-Juhani that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Anybody who equips a warrior (going to fight) in the way of Allah (is like one who actually) fights. And anybody who looks well after his family in his absence (is also like one who actually) fights.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا
ابوربیع زہرانی، یزید بن زریع، حسین معلم، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، بسر بن سعید، زید بن خالد جہنی، حضرت زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مجاہد کے لئے سامان تیار کیا تو اس نے جہاد کیا اور جو شخص مجاہد کے پیچھے اس کے اہل و عیال میں رہا تو اس نے بھی جہاد کیا۔
The above tradition has been narrated on the authority of Khalid al- Juhani who said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who equips a warrior in the way of Allah (is like one who dctually fights) aud he who looks after the family of a warrior in the way of Allah in fact participated in the battle.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیۃ، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسعید مہری، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بنو لحیان کی طرف بھیجا (جو کہ ہذیل کا ایک قبیلہ ہے) تو فرمایا : ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے اور ثواب دونوں کے لئے برابر ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent a force to Banu Lihyan (who are from Banu Hudhail, and said: One man from every two and the reward (will be divided) between the two.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَعَثَ بَعْثًا بِمَعْنَاهُ
اسحاق بن منصور، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابی حسین، یحیی، ابوسعید مہری، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
The above tradition has also been narrated through two different chains of transmitters on the authority of Abu Said Khudri and Yahya, respectively.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن منصور، عبیداللہ ابن موسی، شیبان، یحیی، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Same as Hadees 4905
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَی بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ کَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ
سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، یزید بن ابوسعید مولیٰ مہری، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو فرمایا ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے پھر گھر پر رہنے والوں سے فرمایا تم میں سے جو شخص اللہ کے راستہ میں جانے والے کے اہل و عیال اور مال کی نگرانی کرے گا تو اس کے لئے جہاد میں جانے والے سے آدھا ثواب ہوگا۔
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) despatched a force to Banu Lihyan. (and said:) One man from every two should join the force. Then he said to those who stayed behind: Those of you who will look well after the family and wealth of those who are going on the expedition will be getting half the reward of the warriors.