Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 246 of 379

4908Sahih Muslimصحیح

مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرْمَةُ نِسَائِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَی الْقَاعِدِينَ کَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنْ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَائَ فَمَا ظَنُّکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، علقمہ ابن مرثد، سلیمان بن بریدہ (رض) ، حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی حرمت وعزت گھروں میں رہنے والوں کے لئے ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی عزت ہے کوئی آدمی گھر میں رہنے والوں میں سے ایسا نہیں جو مجاہدین کے کسی آدمی کے گھر میں اس کے بعد نگرانی کرنے والا ہو پھر ان میں خیانت کا مرتکب ہو کہ اسے قیامت کے دن کھڑا نہ کیا جائے پھر وہ مجاہد اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب تمہارا کیا خیال ہے (کہ وہ کونسی نیکی لے لے گا) ؟

It has been narrated on the authority of Sulaiman bin Buraida who learnt the tradition from his father. The latter said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The sanctity of the wives of Mujahids is like the sanctity of their mothers for those who sit at home (i. e do not go out for Jihad). Anyone who stays behind looking after the family of a Mujahid and betrays his trust will be made to stand on the Day of Judgment before the Mujahid who will take away from his meritorious deeds whatever he likes. So what do you think (will he leave anything)?

4909Sahih Muslimصحیح

مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ

محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مسعر، علقمہ ابن مرثد، ابن بریدہ، حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

This tradition has been narrated by the same authority through different chain of transmitters.

4910Sahih Muslimصحیح

مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَعْنَبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَمَا ظَنُّکُمْ

سعید بن منصور، سفیان، قعنب، علقمہ بن مرثد، اس سند سے بھی یہ اسی طرح ہے اس میں اضافہ ہے کہ مجاہد (رض) سے کہا جائے گا اس کی نیکیوں میں سے جو تم چاہو لے لو پھر رسول اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تمہارا کیا خیال ہے۔

A version of the tradition narrated on the authority of Alqama bin Murthad has a differently worded end: It will be said to the Mujahid: Take from his noble deeds whatever you like. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned to us and asked: What do you think (will he leave anything)? - (i. e. he will take away everything).

4911Sahih Muslimصحیح

معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَائَ يَقُولُا فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَائَ بِکَتِفٍ يَکْتُبُهَا فَشَکَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَائِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت براء (رض) کو فرماتے ہوئے سنا وہ اس آیت مبارکہ (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) فی سبیل اللہ کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید (رض) کو حکم دیا تو وہ ایک شانہ کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت مبارکہ لکھ دی تو حضرت ابن ام مکتوم (رض) نے آپ ﷺ سے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) آیت نازل ہوئی آگے اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, that he heard Bara talking about the Quranic verse:" Those who sit (at home) from among the believers and those who go out for Jihad in the way of Allah are not aqual" (iv. 95). (He said that) the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ordered Zaid (to write the verse). He brought a shoulder-blade (of a slaughtered camel) and inscribed it (the verse) thereon. The son of Umm Maktum complained of his blindness to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (At this) descended the revelation:" Those of the believers who sit (at home) without any trouble (illness, incapacity, disability)" (iv. 95). The tradition has been handed down through two other chains of transmitters.

4912Sahih Muslimصحیح

معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ کَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

ابوکریب، ابن بشار، مسعر، ابواسحاق، حضرت براء (رض) روایت ہے کہ جب آیت (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) نازل ہوئی تو آپ ﷺ سے ابن ام مکتوم نے کچھ گفتگو کی تو ( غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) نازل ہوئی

It has been narrated on the authority of Bara who said: When the Quranic verse:" Those who sit (at home) from among mumin" (iv. 94) was revealed, the son of Umm Maktum spoke to him (the Holy Prophet). (At this). the words:" other than those who have a trouble (illness)" were revealed.

4913Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ

سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید، سفیان، عمرو، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر میں قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجور کو پھینکا پھر لڑنا شروع کیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا اور سوید کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے احد کے دن یہ پوچھا تھا

It has been reported on the authority of Jabir that a man said: Messenger of Allah, where shall I be if I am killed? He replied: In Paradise. The man threw away the dates he had in his hand and fought until he was killed (i. e. he did not wait until he could finish the dates). In the version of the tradition narrated by Suwaid we have the words:" A man said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . on the day of Uhud......"

4914Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّکَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ کَثِيرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے قبیلہ بنونبیت کے آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک آپ ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں پھر میدان میں بڑھا اور لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اس آدمی نے عمل کم کیا اور ثواب زیادہ دیا گیا۔

It has been reported on the authority of Bara! who stated: A man from Banu Nabit (one of the Ansar tribes) came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I testify that there is no god except Allah and that thou art His bondman and Messenger. Then he went forward and fought until he was killed. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He has done a little but shall be given a great reward.

4915Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَائَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْکَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَا إِلَّا مَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِينَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَيْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا دُونَهُ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَی جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَائَةَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ أَهْلِهَا فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ

ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ہارون بن عبداللہ بن محمد بن رافع، عبد بن حمید، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیر ہ، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھے کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کرتا ہے۔ پس جب وہ واپس آیا تو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی بھی گھر میں نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس (رض) نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے بعض کا استثنی کیا تھا یا نہیں۔ پس اس نے آکر ساری بات آپ ﷺ سے بیان کی تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا بیشک ہمیں ایک چیز کی ضرورت ہے پس جس کے پاس اپنی سواری ہو تو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے۔ پس لوگ مدینہ کی بلندی سے ہی آپ ﷺ سے اپنی سواریوں کو پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، صرف وہی ساتھ چلیں جن کے پاس سواریاں موجود ہوں۔ پس رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رض) چلے یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے ہی مقام بدر پر پہنچ گئے جب مشرک آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پیش قدمی نہ کرے جب تک میں نہ آگے بڑھوں پس جب مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے عمیر بن حمام انصاری نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا واہ واہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے اس کلمہ تحسین کہنے پر کس چیز نے ابھارا ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے کلمہ صرف جنت والوں میں ہونے کی امید میں کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اہل جنت میں سے ہے تو عمیر نے اپنے تھیلے سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا پھر کہا اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ بہت لمبی زندگی ہوگی پھر انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوروں کو پھینک دیا پھر کافروں سے لڑتے ہوئے شہید کردیئے گئے۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent Busaisah as a scout to see what the caravan of Abu Sufyan (RA) was doing. He came (back and met the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in his house) where there was nobody except myself and the Messenger of Allah. I do not remember whether he (Hadrat Anas) made an exception of some wives of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) or not and told him the news of the caravan. (Having heard the news), the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came out (hurriedly), spoke to the people and said: We are in need (of men) ; whoever has an animal to ride upon ready with him should ride with us. People began to ask him permission for bringing their riding animals which were grazing on the hillocks near Madinah. He said: No. (I want) only those who have their riding animals ready. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions proceeded towards Badr and reached there forestalling the polytheists (of Makkah). When the polytheists (also) reached there, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: None of you should step forward to (do) anything unless I am ahead of him. The polytheists (now) advanced (towards us), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said. Get up to enter Paradise which is equal in width to the heavens and the earth. Umair bin al- Humam al-Ansari said: Messenger of Allah, is Paradise equal in extent to the heavens and the earth? He said: Yes. Umair said: My goodness! The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked him: What prompted you to utter these words (i. e. my goodness! )? He said: Messenger of Allah, nothing but the desire that I be among its residents. He said: Thou art (surely) amona its residents. He took out dates from his bag and began to eat them. Then he said: If I were to live until I have eaten all these dates of mine, it would be a long life. (The narrator said): He threw away all the dates he had with him. Then he fought the enemies until he was killed.

4916Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ السَّلَامَ ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَی بِسَيْفِهِ إِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّی قُتِلَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، قتیبہ بن سعید، جعفر بن سلیمان، ابوعمرجونی، ابوبکر، حضرت عبداللہ بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ سے دشمن کے مقابلہ کے وقت سنا وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں یہ سن کر ایک خستہ حال آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے ابوموسی ! کیا تم نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں تو وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور انہیں کہا میں تم کو سلام کرتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ کر پھینک دیا پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چلا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔

The tradition has been narrated on the authority of Abdullah bin Qais (RA) . He heard it from his father who, while facing the enemy, reported that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Surely, the gates of Paradise are under the shadows of the swords. A man in a shabby condition got up and said; Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say this? He said: Yes. (The narrator said): He returned to his friends and said: I greet you (a farewell greeting). Then he broke the sheath of his sword, threw it away, advanced with his (naked) sword towards the enemy and fought (them) with it until he was slain.

4917Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ نَاسٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَنْ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّائُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ وَکَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَائِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَائِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَکَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ وَأَتَی رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّی أَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا

محمد بن حاتم، عفان، حماد، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ﷺ ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن وسنت کی تعلیم دیں تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ انصار میں سے ستر آدمی بھیج دیئے جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور ان میں میرے ماموں حضرت حرام (رض) بھی تھے قرآن پڑھتے تھے اور رات کو درس و تدریس اور تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے اور دن کے وقت پانی لا کر مسجد میں ڈالتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر انہیں فروخت کردیتے اور اس سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانے کی چیزیں خریدتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں کفار کی طرف بھیج دیا اور انہیں منزل مقصور تک پہنچنے سے پہلے ہی کفار نے حملہ کرکے شہید کردیا تو انہوں نے کہا اے اللہ ہمارا یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے اسی دوران ایک آدمی نے آکر حضرت انس (رض) کے ماموں حضرت حرام (رض) کے پیچھے سے اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آرپار ہوگیا تو حرام (رض) نے کہا رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا بیشک تمہارے بھائیوں کو قتل کردیا گیا ہے اور بیشک انہوں نے یہ کہا ہے اے اللہ ہماری طرف سے یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہوچکے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that some people came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said to him: Send with us some men who may teach us the Quran and the Sunnah. Accordingjy, he sent seventy men from the Ansar. They were called the Reciters and among them was my maternal uncle. Haram. They used to recite the Quran, discuss and ponder over its meaning at night. In the day they brought water and poured it (in pitchers) in the mosque, collected wood and sold it, and with the sale proceeds bought food for the people of the Suffa and the needy. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent the Reciters with these people, but these (treacherous people) fell upon them and killed thern before they reached their destination (While dying), they said: O Allah, convey from us the news to our Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that we have met Thee (in a way) that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us. (The narrator said): A man attacked Haram (maternal uncle of Anas)) from behind and smote him with a spear which pierced him. (While dying), Haram said: By the Lord of the Ka’bah, I have met with success. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to his Companions: Your brethren have been slain grid they were saying: O Allah, convey from us to our Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the news that we have met Thee in a way that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us.

4918Sahih Muslimصحیح

شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ قَالَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا قَالَ فَکَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ

محمد بن حاتم، بہز، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس، حضرت ثابت (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس (رض) نے کہا میرے اس چچا نے کہا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا کہ یہ وہ معرکہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ تو شریک تھے لیکن میں غیرحاضر تھا ہاں اگر اللہ نے مجھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہی میں کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں تو وہ اس کے علاوہ کوئی کلمات کہنے سے ڈرے پس وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے تو حضرت انس (رض) نے حضرت سعد بن معاذ (رض) سے کہا اے ابوعمرو کہاں جا رہے ہو مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے پھر وہ کفار سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم میں نیزوں اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پائے گئے اور ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو صرف ان کے پوروں سے ہی پہچان سکی اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں میں سے بعض وہ آدمی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچا کر دکھایا ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کیا اور بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدہ میں کوئی رد وبدل نہ کیا صحابہ کرام گمان کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس (رض) اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی تھی۔

It has been Deported on the authority of Anas who said: My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Uhud. He met Sad bin Muadh (who was retreating). Anas said to him: O Abu Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell of Paradise beside the Uhud mountain. (Reprimanding Sad in these words) he went forward and fought thein (the enemy) until he was killed. (The narrator says). More than eighty wounds inflicted with swords, spears and arrows were found on his body. His sister, my aunt, ar-Rubayyi, daughter of Nadr, said: I could not recognise my brothers body (it was so badly mutilated) except from his finger-tips. (It was on this occasion that) the Quranic verse:" Among the Believers are men who have been true to their covenant with God. Of them some have completed their vow (to the extreme), and some still wait: but they have never changed (their determination) in the least" (xxxiii. 23). The narrator said that the verse had been revealed about him (Anas bin Nadr) and his Companions.

4919Sahih Muslimصحیح

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْکَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَی مَکَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَی فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایک آدمی غنیمت حاصل کرنے کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی ناموری اور شہرت کے لئے لڑتا ہے تیسرا آدمی جو اپنی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون ہے جو اللہ کے راستے میں لڑنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے لڑتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Musa Ashari that a desert Arab came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Messenger of Allah, one man fights fgr the spoils of war; another fights that he may be remembered, and another fights that he may see his (high) position (achieved as a result of his valour in fighting). Which of these is fighting in the cause of God? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who fights so that the word of Allah is exalted is fighting in the way of Allah.

4920Sahih Muslimصحیح

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَائً أَيُّ ذَلِکَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

ابوبکر بن ابوشیبہ، ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن علاء، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو شجاعت کے لئے لڑتا ہے اور دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے اور تیسرا ریاکاری کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین اور کلمہ کی بلندی و عظمت کے لئے لڑتا ہے حقیقتا وہ اللہ کے راستہ میں لڑنے والا ہے۔

It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Musa who said. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked which of the men fights in the way of Allah: (one who fights) for displaying his valour; (a man who) fights out of his family pride and (a man who) fights for the sake of show, who amongst these fights in the way of Allah? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who fights that the word of Allah be exalted fights in the way of Allah.

4921Sahih Muslimصحیح

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً فَذَکَرَ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے ایک آدمی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

It has been narrated (through yet another chain of transmitters) on the same authority, i. e. Abu Musa, who said: We, came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Messenger of Allah, one of us hho fights to display his valour... (followed by the same words as we have in the previous tradition).

4922Sahih Muslimصحیح

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ کَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ کے راستہ میں جہاد و قتال کرنے کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا ایک وہ آدمی ہے جو غصہ کی وجہ سے لڑتا ہے دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے آپ ﷺ نے اس کی طرف سر اٹھایا اور سر مبارک اس وجہ سے اٹھایا کہ وہ کھڑا ہوا تھا اور ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے کلمہ کے بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔

It has been narrated through a different chain of transmitters on the same authority, i. e. Abu Musa Ashari, that a man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about fighting in the way of Allah, the Exalted and Majestic, a man who fights out of rage or out of family pride. He raised his head towards him-and he did so because the man was standing and said: Who fights that the word of Allah be exalted fights in the way of Allah.

4923Sahih Muslimصحیح

جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيکَ حَتَّی اسْتُشْهِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ

یحییٰ بن حبیب، حارث، خالد بن حارث، ابن جریج، یونس بن یوسف، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ، ابوہریرہ، حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ (رض) سے لوگ دور ہوگئے تو ان سے اہل شام میں سے ناتل نامی آدمی نے کہا اے شیخ آپ ہمیں ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو تو اس لئے لڑتا رہا کہ تجھے بہادر کہا جائے تحقیق ! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص ہوگا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو تیری رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لئے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے تحقیق ! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

It has been narrated on the authority of Sulaiman bin Yasar who said: People dispersed from around Abu Hurairah (RA) , and Natil, who was from the Syrians. said to him: O Shaikh, relate (to us) a tradition you have heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: Yes. I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: The first of men (whose case) will be decided on the Day of Judgment will be a man who died as a martyr. He shall be brought (before the Judgment Seat). Allah will make him recount His blessings (i. e. the blessings which He had bestowed upon him) and he will recount them (and admit having enjoyed them in his life). (Then) will Allah say: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I fought for Thee until I died as a martyr. Allah will say: You have told a lie. You fought that you might be called a" brave warrior". And you were called so. (Then) orders will be passed against him and he will be dragged with his face downward and cast into Hell. Then will be brought forward a man who acquired knowledge and imparted it (to others) and recited the Quran. He will be brought And Allah will make him recount His blessings and he will recount them (and admit having enjoyed them in his lifetime). Then will Allah ask: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I acquired knowledge and disseminated it and recited the Quran seeking Thy pleasure. Allah will say: You have told a lie. You acquired knowledge so that you might be called" a scholar," and you recited the Quran so that it might be said:" He is a Qari" and such has been said. Then orders will be passed against him and he shall be dragged with his face downward and cast into the Fire. Then will be brought a man whom Allah had made abundantly rich and had granted every kind of wealth. He will be brought and Allah will make him recount His blessings and he will recount them and (admit having enjoyed them in his lifetime). Allah will (then) ask: What have you done (to requite these blessings)? He will say: I spent money in every cause in which Thou wished that it should be spent. Allah will say: You are lying. You did (so) that it might be said about (You):" He is a generous fellow" and so it was said. Then will Allah pass orders and he will be dragged with his face downward and thrown into Hell.

4924Sahih Muslimصحیح

جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔

و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ

علی بن خشرم، حجاج بن محمد بن جریج، یونس بن یوسف، سلمان بن یسار، حضرت سلیمان بن یسار (رح) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) سے جب لوگ جدا ہوگئے تو ان سے ناتل نامی شامی نے کہا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

This tradition has been handed down through a different chain of transmitters.

4925Sahih Muslimصحیح

لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنْ الْآخِرَةِ وَيَبْقَی لَهُمْ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ

عبد بن حمید، عبداللہ بن یزید، ابوعبدالرحمن، حیوہ بن شریح، ابوہانی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لشکر اللہ کے راستہ میں لڑنے کے لئے جائے پھر انہیں غنیمت مل جائے تو اسے آخرت کے ثواب میں سے دوتہائی اسی وقت مل جاتا ہے اور ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے اور اگر انہیں غنیمت نہ ملے تو ان کے لئے ان کا ثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A troop of soldiers who fight in tile way of Allah and get their share of the booty receive in advance two-thirds of their reward in the Hereafter and only one-third will remain (to their credit). If they do not receive any booty, they will get their full reward.

4926Sahih Muslimصحیح

لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا کَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ

محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، نافع بن یزید، ابوہانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں پھر وہ مال غنیمت حاصل کر کے سلامتی سے واپس آجائیں تو انہیں ثواب کا دو تہائی حصہ اسی وقت مل جاتا ہے اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی واپس آئیں اور نقصان اٹھائیں تو ان کا اجر وثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Amr (RA) (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A troop of soldiers, large or small, who fight (in the way of Allah), get their share of the booty and return safe and sound, receive in advance two-thirds of their reward (only one-third remaining to their credit to be received in the Hereafter) ; and a troop of soldiers, large or small, who return empty-handed and are afflicted or wounded, will receive their full reward (in the Hereafter).

4927Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابرہیم، علقمہ بن وقاص، عمر بن خطاب، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی پس جس شخص نے ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہوئی تو وہ اسے حاصل کرے گا یا عورت کی طرف ہوئی اس سے نکاح کرنے کے لئے ہوئی تو وہ اس سے نکاح کرلے گا پس اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس طرف ہجرت کرنے کی اس نے نیت کی ہوگی۔

It has been narrated on the authority of Umar bin al-Khattab that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: (The value of) an action depends on the intention behind it. A man will be rewarded only for what he intended. The emigration of one who emigrates for the sake of Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is for the sake of Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; and the emigration of one who emigrates for gaining a worldly advantage or for marrying a woman is for what he has emigrated.