Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 247 of 379

4928Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابوربیع عتکی، حماد بن زید، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، اسحاق بن ابراہیم، ابوخالد احمر، سلیمان بن حیان، محمد بن عبداللہ بن نمیر، حفص بن غیاث، یزید بن ہارون، محمد بن علاء ہمدانی، ابن سفیان، یحییٰ بن سعید، سفیان، عمر بن خطاب (رض) ، ان مختلف اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن بعض اسانید میں یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ حدیث منبر پر کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے روایت کی۔

It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Sufyan who said that he heard Umar bin al-Khattab relate (this tradition) from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while he was delivering a sermon from the pulpit.

4929Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ

شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صدق دل سے شہادت طلب کی اسے شہادت کا رتبہ دے دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ بھی ہو۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who seeks martyrdom with sincerity shall get its reward, though he may not achieve it.

4930Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَائِ وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ بِصِدْقٍ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، ابوشریح، سہل بن ابی امامہ، حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ سے صدق دل سے شہادت مانگی تو اللہ اسے شہداء کے مرتبہ تک پہنچا دیں گے اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی مرجائے ابوالطاہر نے روایت میں بصدق کے لفظ کا ذکر نہیں کیا۔

It has been reported on the authority of Sahl bin Aba Umama bin Sahl bin Hunaif who learned the tradition from his father who (in turn) learned it from his grandfather-that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who sought martyrdom with sincerity will be ranked by Allah among the martyrs even if he died on his bed. In his version of the tradition Abd Tahir did not mention the words:" with sincerity".

4931Sahih Muslimصحیح

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاکِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ وُهَيْبٍ الْمَکِّيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَی شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ قَالَ ابْنُ سَهْمٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ فَنُرَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبدالرحمن بن سہم انطا کی، عبداللہ بن مبارک، وہیب مکی، عمر بن محمد بن منکدر، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی موت واقع ہوگئی اور اس نے جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کی تمنا ہوئی تو وہ نفاق کے شعبہ پر مرا عبداللہ بن مبارک (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اسے خیال کرتے ہیں کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک کے ساتھ خاص تھا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who died but did not fight in the way of Allah nor did he express any desire (or determination) for Jihad, died the death of a hypocrite. Abdullah bin Mubarak said: We think the hadith pertained to the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . rted on the authority of Sahl bin Aba Umama bin Sahl bin Hunaif who learned the tradition from his father who (in turn) learned it from his grandfather-that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who sought martyrdom with sincerity will be ranked by Allah among the martyrs even if he died on his bed. In his version of the tradition Abd Tahir did not mention the words:" with sincerity".

4932Sahih Muslimصحیح

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا کَانُوا مَعَکُمْ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابی سفیان، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی غزوہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں کچھ لوگ ہیں جنہیں بیماری نے روک رکھا ہے لیکن جس جگہ سے تم گزرتے ہو یا کسی وادی کو طے کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔

It has been narrated on the authority of Jabir who said: We were with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on an expedition. He said: There are some people in Madinah. They are with you whenever you cover a distance or cross a valley. They have been detained by illness.

4933Sahih Muslimصحیح

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِلَّا شَرِکُوکُمْ فِي الْأَجْرِ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، وکیع، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن حضرت وکیع کی حدیث میں ہے کہ وہ اجر وثواب میں تمہارے شریک ہوتے ہیں۔

In a version of the tradition narrated on the authority of Amash, we have the words:" They will share with you the reward (for Jihad)."

4934Sahih Muslimصحیح

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ يَشُکُّ أَيَّهُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ کَمَا قَالَ فِي الْأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَرَکِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ

یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق، عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ ﷺ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرام (رض) حضرت عبادہ (رض) بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کھانا پیش کیا پھر آپ ﷺ کے سر مبارک میں مالش کرنے بیٹھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ مجھ پر سمندر میں بادشاہوں کے تختوں کی مثال سواریوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے یا کہا بادشاہوں کے تختوں پر سوار ہو کر۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جیسا کہ پہلی دفعہ فرمایا تھا۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو ان کے پہلے گروہ سے ہوگی پس ام حرام بنت ملحان حضرت معاویہ (رض) کے زمانہ میں سمندر میں سوار ہوگئیں جب وہ سمندر سے نکلیں تو اپنے جانور سے گر کر انتقال گئیں۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to visit Umm Haram daughter of Milhan (who was the sister of his foster-mother or his fathers aunt). She was the wife of Ubadah bin Samit, One day the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) paid her a visit. She entertained him with food and then sat down to rub his head. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) dozed off and when he woke up (after a while), he was laughing. She asked: What made you laugh. Messenger of Allah? (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) He said: Some people from my Umma were presented to me who were fighters in the way of Allah and were sailing in this sea. (Gliding smoothly on the water), they appeared to be kings or like kings (sitting) on thrones (the narrator has a doubt about the actual expression used by the Holy Prophet). She said: Messenger of Allah, pray to Allah that He may include me among these warriors. He prayed for her. Then he placed his head (down) and dozed off (again). He woke up laughing, as before. (She said) I said: Messenger of Allah, what makes you laugh? He replied: A people from my Umma were presented to me. They were fighters in Allahs way. (He described them in the same words as he had described the first warriors.) She said: Messenger of Allah, pray to God that He may include me among these warriors. He said: You are among the first ones. Umm Haram daughter of Milhan sailed in the aea in the time of Muawiyah. When she came out of the sea and (was going to mount a riding animal) she fell down and died.

4935Sahih Muslimصحیح

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ قَالَتْ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ عِنْدَنَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْکَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ فَإِنَّکِ مِنْهُمْ قَالَتْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَکُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا أَنْ جَائَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ فَرَکِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا

خلف بن ہشام، حماد بن زید، یحییٰ بن سعید، محمد بن یحییٰ بن حبان، حضرت انس (رض) کی خالہ حضرت ام حرام (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہمارے پاس قیلولہ فرمایا اور آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا مجھے تیری امت میں سے ایک قوم دکھائی گئی جو بادشاہوں کے تختوں جیسے تختوں پر سمندر میں سواری کر رہے تھے میں نے عرض کیا اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں میں سے ہے۔ کہتی ہیں آپ ﷺ پھر سو گئے اور اسی طرح بیدار ہوئے کہ آپ ﷺ ہنس رہے تھے میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو پہلی بات جیسی بات فرمائی میں نے عرض کیا آپ ﷺ اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ نے فرمایا تو پہلے گروہ میں سے ہوگی پھر اس کے بعد ام حرام سے حضرت عبادہ بن صامت نے نکاح کرلیا پس جب انہوں نے سمندری جہاد شروع کیا تو ام حرام کو بھی اپنے ساتھ سوار کر کے لے گئے جب وہ آئیں اور ایک خچر ان کے قریب کیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوگئیں تو اس نے انہیں گرا دیا اور اس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی۔

It has been narrated on the authority of Umm Haram (and she was the aunt of Anas) who said: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to us one day and had a nap in our house. When he woke up, he was laughing. I said: Messenger of Allah, what made you laugh? He said: I saw a people from my followers sailing on the surface of the sea (looking) like kings (sitting) on their thrones. I said: Pray to Allah that He may include me among them. He said: You will hip among them. He had a (second) ntip, woke up and was laughing. I asked him (the reason for his laughter). He gave the same reply. I said: Pray to Allah that He may include me among them. He said: You are among the first ones. Anas said: Ubadah bin Samit married her. He joined a naval expedition and took her along with him. When she returned, a mule was brought for her. While mounting it she fell down, broke her neck (and died).

4936Sahih Muslimصحیح

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ أَنَّهَا قَالَتْ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَکَکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْکَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

محمد بن رمح بن مہاجر، یحییٰ بن یحیی، لیث، یحییٰ بن سعید ابن حبان، حضرت انس (رض) کی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے قریب سو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا آپ ﷺ نے فرمایا مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس سبز سمندر کی پیٹھ پر سوار ہو رہے تھے باقی حدیث اسی طرح بیان کی۔

It has been reported on the authority of Umm Haram daughter of Milhan (through another chain of transmitters). She said: One day the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) slept (at a place) near me. He woke up smiling. She said: Messenger of Allah. what made thee laugh? He said: A people from my followers were presented to me. They were sailing on the surface of this green sea... (here follows the tradition that has gone before).

4937Sahih Muslimصحیح

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انس کی خالہ بنت ملحان (رض) کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر سو گئے باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

It has been reported by Abdullah bin Abdul Rahman that he heard Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) paid a visit to Milhans daughter, maternal aunt of Anas (and the sister of the Holy Prophets foster-mother). He placed his head near her (from this point onward, the narrator carried on the previous tradition to its end).

4938Sahih Muslimصحیح

اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي کَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ

عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی، ابو ولید طیالسی، لیث، ابن سعد، ایوب بن موسی، مکحول، شرحبیل بن سمط، حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک دن رات کی چوکیداری کا ثواب ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے اور اگر وہ مرگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کر رہا تھا اور اس کا رزق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کی قبر کو فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔

It has been narrated on the authority of Salman who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Keeping watch for a day and a night is better (in point of reward) than fasting for a whole month and standing in prayer every night. If a person dies (while, performing this duty), his (meritorious) activity will continue and he will go on receiving his reward for it perpetually and will be saved from the torture of the grave.

4939Sahih Muslimصحیح

اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی

ابوطاہر، ابن وہب، عبدالرحمن بن شریح، عبدالکریم بن حارث، ابوعبیدہ بن عقبہ، شرحبیل بن سمط، سلمان خیر، اس سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں حضرت سلمان خیر کا نام مذکور ہے۔

This tradition has been handed down on the authority of Salman al-Khair through another chain of transmitters.

4940Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ وَقَالَ الشُّهَدَائُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی کسی راستہ میں چل رہا تھا کہ اس نے راستہ پر کانٹوں والی ایک ٹہنی پڑی ہوئی پائی تو اسے راستہ سے ہٹا دیا تو اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کرتے ہوئے اسے معاف کردیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا شہداء کی پانچ اقسام یہ ہیں طاعون میں مرنے والا، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا، ڈوبنے والا، کسی چیز کے نیچے آ کر مرنے والا اور اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the, Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: While a man walks along a path, finds a thorny twig lying on the way and puts it aside, Allah would appreciate it and forgive him The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The martyrs are of five kinds: one who dies of plague; one who dies of diarrhoea (or cholera) ; one who is drowned; one who is buried under debris and one who dies fighting in the way of Allah.

4941Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَائَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَالُوا فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ أَشْهَدُ عَلَی أَبِيکَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے میں سے شہید کسے شمار کرتے ہو صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ ﷺ نے فرمایا ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے صحابہ (رض) نے عرض کیا پھر وہ کون ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں مرگیا وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون میں مرا وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مرگیا وہ بھی شہید ہے ابن مقسم نے اس حدیث میں یہ بھی کہا ڈوب کر مرجانے والا بھی شہید ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) (through another chain of transmitters) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whom do you consider to be a martyr among you? They (the Companions) said: Messenger, of Allah, one who is slain in the way of Allah is a martyr. He said: Then (if this is the definition of a martyr) the martyrs of my Umma will be small in number. They asked: Messenger of Allah, who are they? He said: One who is slain in the way of Allah is a martyr; one who dies in the way of Allah, is a martyr; one who dies of plague is a martyr; one who dies of cholera is a martyr. Ibn Miqsam said: I testify the truth of your fathers statement (with regard to this tradition) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who is drowned is a martyr.It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) (through another chain of transmitters) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whom do you consider to be a martyr among you? They (the Companions) said: Messenger, of Allah, one who is slain in the way of Allah is a martyr. He said: Then (if this is the definition of a martyr) the martyrs of my Umma will be small in number. They asked: Messenger of Allah, who are they? He said: One who is slain in the way of Allah is a martyr; one who dies in the way of Allah, is a martyr; one who dies of plague is a martyr; one who dies of cholera is a martyr. Ibn Miqsam said: I testify the truth of your fathers statement (with regard to this tradition) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who is drowned is a martyr.

4942Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سُهَيْلٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ أَشْهَدُ عَلَی أَخِيکَ أَنَّهُ زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ

عبدالحمید بن بیان واسطی، خالد، سہیل، عبیداللہ بن مقسم، حضرت سہیل سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن مقسم نے کہا میں تیرے بھائی کے بارے میں گواہی دیتا ہوں باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ جو ڈوب گیا وہ بھی شہید ہے۔

A version of the tradition narrated on the authority of Suhail contains the additional words:" And one who is drowned is a martyr."

4943Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ

محمد بن حاتم، بہز، وہیب، سہیل، عبیداللہ بن مقسم، ابوصالح، اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے اضافہ یہ ہے کہ غرق ہونے والا بھی شہید ہے۔

Another version of the tradition narrated on the authority of Suhail thouch a different chain of transmitters contains the additional words:" A drowned person is a martyr."

4944Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَی بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَتْ قُلْتُ بِالطَّاعُونِ قَالَتْ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ

حامد بن عمر بکراوی، عبدالوحد بن زیاد، عاصم، حضرت حفصہ بنت سیرین رحمۃ اللہ علیہا، انس بن مالک، حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے مجھ سے کہا یحییٰ بن ابی عمرہ کی موت کا کیا سبب بنا میں نے کہا : طاعون، تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

It has been narrated on the authority of Hafsa daughter of Sirin who said: Anas bin Malik (RA) asked me the cause of death of Yahya bin Abu Amra. I said: (He died) of plague. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that death by plague is martyrdom for a Muslim.

4945Sahih Muslimصحیح

شہدا کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

ولید بن شجاع، علی بن مسہر، عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Asim through the same chain of transmitters.

4946Sahih Muslimصحیح

تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ

ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، علی، ثمامہ بن شفی، عقبہ بن عامر، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ( وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) کفار کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق قوت حاصل کرو سنو قوت تیر اندازی ہے سنو قوت تیراندازی ہے سنو قوت تیر اندازی ہے۔

It has been narrated on the authority of Ibn Amir who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say-and he was delivering a sermon from the pulpit: Prepare to meet them with as much strength as you can afford. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery.

4947Sahih Muslimصحیح

تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُفْتَحُ عَلَيْکُمْ أَرَضُونَ وَيَکْفِيکُمُ اللَّهُ فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ

ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، علی، عقبہ بن عامر، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے عنقریب تم پر زمینوں کی فتوحات کھل جائیں گی اور تمہیں اللہ کافی ہوگیا پس تم میں سے کوئی شخص تیراندازی میں کمزوری نہ دکھائے۔

It has been narrated on the authority of Uqba bin Amir who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Lands shall be thrown open to you and Allah will suffice you (against your enemies), but none of you should give up playing with his arrows.