تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
داؤد بن رشید، ولید، بکر بن مضر، عمرو بن حارث، علی ہمدانی، عقبہ بن عامر، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This tradition has also been narrated on the same authority through another chain of transmitters.
تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ کَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْکَ قَالَ عُقْبَةُ لَوْلَا کَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ وَمَا ذَاکَ قَالَ إِنَّهُ قَالَ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَکَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، حارث بن یعقوب، عبدالرحمن بن شماسہ، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ (رض) سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے عرض کیا کہ آپ ان دو نشانیوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں اس وجہ سے آپ پر یہ دشوار ہوتا ہوگا تو عقبہ نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں حدیث نہ سنی ہوتی تو میں کبھی دشواری برداشت نہ کرتا حارث نے کہا میں نے ابن شماسہ سے کہا وہ حدیث کیا ہے انہوں نے کہا حضرت عقبہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تیراندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔
It has been reported by Abdul Rahman bin Shamasa that Fuqaim al- Lakhmi said to Uqba bin Amir: You frequent between these two targets and you are an old man, so you will be finding it very hard. Uqba said: But for a thing I heard from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , I would not strain myself. Harith (one of the narrators in the chain of transmitters) said: I asked Ibn Shamasa: What was that? He said that he (the Holy Prophet) said: Who learnt archery and then gave it up is not from us. or he has been guilty of disobedience (to Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَی الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّی يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ کَذَلِکَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَهُمْ کَذَلِکَ
سعید بن منصور، ابوربیع عتکی، قتبیہ بن سعید، حماد ابن زید، ایوب، ابی قلابہ، اسماء، ثوبان، حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر غالب رہے گی جو انہیں رسوا کرنا چاہے گا وہ ان کو کوئی نقصان نہ کرسکے گا یہاں تک کہ اللہ کے حکم آجائے گا اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Thauban that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A group of people from mv Umma will always remain triumphant on the right path and continue to be triumphant (against their opponents). He who deserts them shall not be able to do them any harm. They will remain in this position until Allahs. Command is executed (i. e. Qayamah is established). In Qutaibas version of the tradition, we do not have the words:" They will remain in this position."
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدَةُ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَی النَّاسِ حَتَّی يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، وکیع، عبدہ، اسماعیل بن ابی خالد ابن ابی عمرو، مروان، اسماعیل، قیس، مغیرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک قوم ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ غالب ہی ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Mughira who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: A group of people from my Umma will continue to be triumphant over the people until the Command of Allah overtakes them while they are still triumphant.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ سَوَائً
محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل، قیس، مغیرہ بن شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been narrated through another chain of transmitters on the same authority.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے قیام کے لئے مسلمانوں کی ایک جماعت روز قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔
It has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This religion will continue to exist, and a group of people from the Muslims will continue to fight for its protection until the Hour is established.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر قیامت تک غالب رہے گی اور جہاد کرتی رہے گی۔
It has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: A group of people from my Umma will continue to fight In defence of truth and remain triumphant until the Day of Judgment.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّی يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَی النَّاسِ
منصور بن ابی مزاحم، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، حضرت عمیر بن ہانی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت معاویہ (رض) کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کو قائم کرتی رہے گی جو ان کو رسواء کرنا چاہے گا یا مخالفت کرے گا تو ان کا کچھ بھی نقصان نہ کرسکے گا اور وہ لوگوں پر غالب رہیں گے۔
It his been narrated on the authority of Umair bin Umm Hani who said: I heard Muawiyah say (while delivering a sermon from the pulpit) that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: A group of people from my Umma will continue to obey Allahs Command, and those who desert or oppose them shall not be able to do them any harm. They will be dominating the peeple until Allahs Command is executed (i. e. Resurrection is established).
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ذَکَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِنْبَرِهِ حَدِيثًا غَيْرَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَی مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اسحاق بن منصور، کثیر بن ہشام، جعفر ابن برقان، یزید بن اصم، معاویہ بن ابی سفیان، حضرت یزید بن اصم (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت معاویہ (رض) بن ابوسفیاں سے ایک حدیث سنی جسے انہوں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث منبر پر روایت کرتے نہیں سنا نبی ﷺ نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے اور مسلمانوں میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر جہاد کرتی رہے گی اور اپنے مخالفین پر قیامت تک غالب رہے گی۔
It has been related by, Yazid bin al-Asamm that he heard Muawiyah bin Abu Sfyan quote a tradition from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which he related from the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (mail peace be upon him) -and he did not hear him quote from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (masy peace be upon him) any tradition other than this in the course of his sermon from the pulpit-that whom Allah wants to do a favour, He grants him an understanding of religion. A group of people from the Muslims will remain on the Right Path and continue until the Day of Judgment to triumph over those who oppose them.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَی شِرَارِ الْخَلْقِ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْئٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَی ذَلِکَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ يَا عُقْبَةُ اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ عُقْبَةُ هُوَ أَعْلَمُ وَأَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی تَأْتِيَهُمْ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَی ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَجَلْ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا کَرِيحِ الْمِسْکِ مَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ فَلَا تَتْرُکُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ ثُمَّ يَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، عبدالرحمن بن شماسہ مہری، مسلمہ، مخلد، عبداللہ بن عمرو بن عاص، عبداللہ، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ مہری (رح) سے روایت ہے کہ میں مسلمہ بن مخلد کے پاس تھا اور ان کے پاس عبداللہ بن عمرو بن عاص تشریف فرما تھے تو عبداللہ نے کہا قیامت مخلوق میں ان برے لوگوں پر قائم ہوگی جو اہل جاہلیت سے زیادہ برے ہوں گے وہ اللہ سے جس چیز کا بھی سوال کریں گے تو ان کی دعا رد کردی جائے گی اسی دوران ان کے پاس حضرت عقبہ بن عامر بھی تشریف لے آئے تو مسلمہ نے کہا اے عقبہ سنو عبداللہ کیا کہتے ہیں تو عقبہ نے کہا وہ بہتر جاننے والے ہیں اور بہرحال میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل رکھے گی جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اسی حالت میں قیامت واقع ہوجائے گی تو عبداللہ نے کہا اسی طرح ہی ہے پھر اللہ تعالیٰ مشک کی خوشبو کی طرح کی ہوا بھیجے گا اور اس کا چھونا ریشم کے چھونے کی طرح ہوگا تو یہ ہوا قبض کئے بغیر کسی ایسی روح کو نہ چھوڑے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔
It has bIt has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Shamasa al- Mahri who said: I was in the company of Maslama bin Mukhallad, and Abdullah bin Amr bin As was with him. Abdullah said: The Hour shall some oniy when the worst type of people are left on the earth. They will be worse than the people of pre-Islamic days. They will get whatever they ask of Allah. While we were yet sitting when Uqba bin Amir came, and Maslama said to him: Uqba, listen to what Abdullah says. Uqba said: He knows better; so far as I am concerned, I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: A group of people from my Umma will continue to fight in obedience to the Command of Allah, remaining dominant over their enemies. Those who will oppose them shall not do them any harm. They will remain ill this condition until the Hour overtakes them. (At this) Abdullah said: Yes. Then Allah will raise a wild which will be fragrant like musk and whose touch will be like the touch of silk; (but) it will cause the death of all (faithful) persons, not leaving behind a single person with an iota of faith in his heart. Then only the worst of men will remain to be overwhelmed by the Hour.een related by, Yazid bin al-Asamm that he heard Muawiyah bin Abu Sfyan quote a tradition from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which he related from the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (mail peace be upon him) -and he did not hear him quote from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (masy peace be upon him) any tradition other than this in the course of his sermon from the pulpit-that whom Allah wants to do a favour, He grants him an understanding of religion. A group of people from the Muslims will remain on the Right Path and continue until the Day of Judgment to triumph over those who oppose them.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَی الْحَقِّ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، داؤد بن ابی ہند، ابی عثمان، سعد بن ابی وقاص، حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل غرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
It has been narrated by Sad bin Abu Waqqas that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The people of the West will continue to triumphantly follow the truth until the Hour is established.
سفر میں جانوروں کی رعایت کرنے کے حکم اور راستہ میں اخیر شب کو پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنْ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا مَأْوَی الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو انکا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی چلو اور جب تم اخیر رات میں پڑاؤ ڈالو تو راستہ میں سے پرہیز کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ کیڑوں مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When you journey through a fertile land, you should (go slow and) give the camels a chance to graze in the land. When you travel In an arid (land) where there is scarcity of vegetation, you should quicken their pace (lest your camels grow feeble and emaciated for lack of fodder). When you halt for the night, avoid (pitching your tent on) the road, for it is the abode of noxious little animals at night.
سفر میں جانوروں کی رعایت کرنے کے حکم اور راستہ میں اخیر شب کو پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنْ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد، سہیل، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی چلو اونٹوں کے کمزور ہوجانے کی وجہ سے اور جب تم رات کے اخیر میں پڑاؤ ڈالو تو راستہ سے ہٹ کر رکو کیونکہ وہ رات کے وقت جانوروں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When you travel (through a land) where there is plenty of vegetation, you should (go slow and) give the camels a chance to enjoy the benefit of the earth. When you travel (through a land) where there is scarcity of vegetation, you should hasten with them (so that you may be able to cross that land while your animals ore still in a good condition of health). When you make a halt for the night, avoid (doing so on) the road, for the tracks are the pathways of wild beasts or the abode of noxious little animals.
سفر کا عذاب کا ٹکڑا ہونے اور اپنا کام پورا کرنے کے بعد اپنے اہل وعیال میں جلدی واپس آنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ سُمَيٌّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَکُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَی أَحَدُکُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَی أَهْلِهِ قَالَ نَعَمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، اسماعیل بن ابی اویس، ابومصعب، زہری، منصور بن ابی مزاحم، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفر عذاب کا ٹکڑا ہے وہ تمہیں سونے کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے جب تم سے کوئی اپنا کام پورا کرلے تو اپنے اہل و عیال میں واپس آنے میں جلدی کرے۔
On the authority of Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Travelling is a tortuous experience. It deprives a person of his sleep, his food and drink. When one of you has accomplished his purpose, he should hasten his return to his family.
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا وَکَانَ يَأْتِيهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ہمام، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت تشریف نہ لاتے تھے بلکہ آپ ﷺ ان کے پاس صبح یا شام تشریف لاتے تھے۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would not come (back) to his family by night. He would come to them in the morning or in the evening.
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ لَا يَدْخُلُ
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالورث، ہمام، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے فرق صرف یہ ہے کہ پہلی روایت میں لَا يَطْرُقُ تھا اور اس میں لَا يَدْخُلُ ہے۔
Another version of the tradition narrated on the same authority is a little difierently worded. It says: (He) would not enter (upon his household at night).
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا حَتَّی نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَائً کَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ
اسمعیل بن سالم، ہشیم سیار، یحییٰ بن یحیی، ہشیم، سیار، شعبی، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے شہر میں داخل ہونا شروع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ٹھہرجاؤ یہاں تک کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ بکھرے ہوئے بالوں والی عورت اپنے بالوں میں کنگھی کرلے اور جس عورت کا خاوند غائب رہا ہے وہ اپنی اصلاح کرلے۔
It has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah who said: We accompanied the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on an expedition. When we came (back) to Madinah and were going to enter our houses, he said: Wait and enter (your houses) in the later part of the evening so that a woman with dishevelled hair may have used the comb, and a woman whose husband has been away from home may have removed the hair from her private parts.
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ أَحَدُکُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّی تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ
محمد بن مثنی، عبدالصمد، شعبہ، سیار، عامر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی رات کے وقت سفر سے واپس آئے تو اچانک اپنے گھر والوں کے پاس نہ جا پہنچے یہاں تک کہ غیر حاضر شوہر والی عورت اپنی اصلاح کرلے یعنی زیر ناف بال مونڈلے اور بکھرے ہوئے بالوں والی کنگھی کرلے۔
It has been narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If one of you comes (back from a journey) at night, he should not enter his house as a night visitor (but should wait) until a woman whose husband has been away from house has removed the hair from her private parts and a woman with dishevelled hair has combed her hair.
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن حبیب، روح بن عبادہ، شعبہ، سیار، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This tradition has been handed down through another chain of transmitters.
مسافر کے لئے رات کے وقت اپنے گھر آنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا
محمد بن بشار، محمد ابن جعفر، شعبہ، عاصم، شعبی، جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو جس کی گھر میں غیر حاضری لمبی ہوگئی ہو رات کے وقت گھر والوں کے پاس آنے سے منع فرمایا۔
It has been narrated (through a different chain of tranmitters) on the authority of Jabir who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade that a man should come to his family like (an unexpected) night visitor doubting their fidelity and spying into their lapses.