دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي کَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَی قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے دکھلا دیجئے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے اللہ نے فرمایا کیا تجھے اس بات کا یقین نہیں عرض کیا کیوں نہیں! یقین ہے، لیکن اس غرض سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے دل کو اطمینان ہوجائے آپ ﷺ نے فرمایا اور اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ ایک مضبوط پایہ کی پناہ چاہتے تھے اور اگر میں اتنے عرصے تک قید رہتا جتنے عرصے تک حضرت یو سف (علیہ السلام) رہے تو میں بلا نے والے کے بلانے پر فورًا چلا جاتا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: We have more claim to doubt than Ibrahim ﷺ when he said: My Lord! Show me how Thou wilt quicken the dead. He said: Believeth thou not? He said: Yes! But that my heart may rest at ease. He (the Holy Prophet) observed: May Lord take mercy on Lot, that he wanted a strong support, and had I stayed (in the prison) as long as Yusuf stayed, I would have responded to him who invited me.
دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی جَازَهَا
عبداللہ بن محمد، اسماء، جویریہ، مالک، زہری، سعید بن مسیب، ابوعبید، ابوہریرہ ؓ ایک دوسری سند میں حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے زہری کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔ اور مالک کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وَلٰکِنَّ لِیَطمَئِنَّ قَلبِی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ (آپ ﷺ نے) اس کو پورا پڑھ دیا۔
Abdullah bin Muhammad narrated the same hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) and in the transmission by Malik the words are that he (the Holy Prophet) recited the verse:" but that my heart may rest at ease" and completed it.
دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ کَرِوَايَةِ مَالِکٍ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی أَنْجَزَهَا
عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابواویس، زہری، مالک، زہری کی روایت اس سند کے ساتھ مالک کی روایت کی طرح ہے فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ پوری پڑھ لی۔
This hadith has also been narrated by Abd bin Humaid Yaqub, i. e. son of Ibrahim bin Sad, Abu Uwais, Zuhri, like the one narrated by Malik with the same chain of transmission and said: He recited this verse till he completed it.
ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ الْأَنْبِيَائِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنْ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَی اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، لیث سعید بن ابی سعید، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الٰہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء (علیہم السلام) کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: There has never been a Prophet ﷺ amongst the prophets who was not bestowed with a sign amongst the signs which were bestowed (on the earlier prophets). Human beings believed in it and verily I have been conferred upon revelation (the Holy Quran) which Allah revealed to me. I hope that I will have the greatest following on the Day of Resurrection.
ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، ابویونس، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اس امت کا کوئی بھی یہودی اور نصرانی جو میری بات سنے (شریعت) جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں (یعنی اسلام) اور وہ اس پر ایمان نہ لائے تو اس کا ٹھکانہ جہنم والوں میں سے ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: By Him in Whose hand is the life of Muhammad, he who amongst the community of Jews or Christians hears about me, but does not affirm his belief in that with which I have been sent and dies in this state (of disbelief), he shall be but one of the denizens of Hell-Fire.
ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ سَأَلَ الشَّعْبِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَهُ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَأَدْرَکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ مَمْلُوکٌ أَدَّی حَقَّ اللَّهِ تَعَالَی وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ وَرَجُلٌ کَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَائَهَا ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْئٍ فَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَی الْمَدِينَةِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، صالح بن صالح ہمدانی، شعبی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو خراسان کا رہنے والا تھا اس نے شعبی سے پوچھا کہ اے ابوعمرو خراسان کے لوگ کہتے ہیں کہ کسی آدمی کا اپنی باندی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرلینا اس آدمی کی طرح ہے جو اپنی قربانی کے جانور پر سوار ہو حضرت شعبی کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد حضرت ابوموسی اشعری کے حوالہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کو دوہرا ثواب دیا جائے گا ایک تو وہ آدمی جو اہل کتاب میں سے ہو اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اس نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا آپ ﷺ پر بھی ایمان لایا آپ ﷺ کی پیروی اور تصدیق کی تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے اور ایک وہ آدمی ہے جس کے پاس ایک باندی ہو اسے اچھی طرح کھلائے پلائے اس کی اچھے طریقے سے تعلیم و تربیت کرے اس کے بعد اسے آزاد کر کے خود اس سے نکاح کرلے تو اس کے لئے بھی دوہرا ثواب ہے پھر حضرت شعبی نے اس خراسانی سے فرمایا کہ یہ حدیث بغیر کسی چیز کے (محنت ومشقت کے بغیر) لے لو ورنہ ایک آدمی کو اس جیسی حدیث کے لئے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔
It is narrated on the authority of Shabi that one among the citizens of Khurasan asked him: O Abu! some of the people amongst us who belong to Khurasan say that a person who freed his bondswoman and then married her is like one who rode over a sacrificial animal. Shabi said: Abu Burda bin Abi Musa narrated it to me on the authority of his father that verily the Messenger of Allah ﷺ said: There are three (classes of persons) who would be given a double reward. One who is amongst the People of the Book and believed in his apostle and (lived) to see the time of Apostle ﷺ Muhammad ﷺ and affirmed his faith in him and followed him and attested his truth, for him is the double reward; and the slave of the master who discharges all those obligations that he owes to Allah and discharges his duties that he owes to his master, for him there is a double reward. And a man who had a bondswoman and fed her and fed her well, then taught her good manners, and did that well and later on granted her freedom and married her, for him is the double reward. Then Shabi said: Accept this hadith without (giving) anything. Formerly a man was (obliged) to travel to Madinah even for a smaller hadith than this.
ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابن ابی عمر، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، صالح بن صالح ایک دوسری روایت کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters like Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Abda bin Sulaiman Ibn Abi Umar Sufyan, Ubaidullah bin Muadh, Shubah; all of them heard it from Salih bin Salih.
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم لوگوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نزول فرمائیں گے شریعت محمدیہ کے مطابق حکم دیں گے اور عدل و انصاف کریں گے صلیب (سولی) توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے اور مال بہت دیں گے یہاں تک کہ کوئی مال قبول کرنے والا نہیں رہے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: By Him in Whose hand is my life, the son of Mary ﷺ will soon descend among you as a just judge. He will break crosses, kill swine and abolish Jizya and the wealth will pour forth to such an extent that no one will accept it.
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَکَمًا عَدْلًا وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ حَکَمًا عَادِلًا وَلَمْ يَذْکُرْ إِمَامًا مُقْسِطًا وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ حَکَمًا مُقْسِطًا کَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنْ الزِّيَادَةِ وَحَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الْآيَةَ
عبدالاعلی بن حماد، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح زہری سے یہ حدیث بھی اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انصاف کرنے والے امام اور عدل کرنے والے حکمران ہوں گے اور یونس کی روایت میں ہے کہ عدل کرنے والے حاکم ہوں گے اور اس میں انصاف کرنے والے امام کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ لیث نے اپنی روایت میں کہا ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اس زمانہ میں ایک سجدہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہوگا پھر حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو پڑھو (وَاِنَّ مِن اَہلِ الکِتَابِ اِلَّا لَیُومِنَنَّ بِہ قَبلَ مَوتِہ) یعنی کوئی آدمی اہل کتاب میں سے نہیں رہتا مگر وہ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق ضرور کرتا ہے۔
The same hadith is transmitted from Zuhri with the same chain of transmission. But in the tradition narrated by Ibn Uyaina the words are:" impartial leader and just judge" and in the tradition narrated by Yunus: the" judge judging with justice" and" impartial leader" are not mentioned. And in the hadith narrated by Salih like the one transmitted by Laith the words are:" impartial judge". And in the hadith transmitted by Ziyad the words are:" Till one sajda is better than the worldand what it contains. Then Abu Hurairah (RA) used to say," recite" if you like: Not one of the People of the Book will fail to believe in him before his death.
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَادِلًا فَلَيَکْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَائُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، عطاء بن میناء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور اتریں گے وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑیں گے مگر ان پر کوئی متوجہ نہیں ہوگا یعنی ان سے بار برداری کے لئے کام نہیں لے گا لوگوں کے دلوں سے کینہ بغض اور حسد ختم ہوجائے گا اور وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger or Allah ﷺ observed: I swear by Allah that the son of Mary will certainly descend as a just judge and he would definitely break the cross, and kill swine and abolish Jizya and would leave the young she-camel and no one would endeavour to (collect Zakat on it). Spite, mutual hatred and jealousy against one another will certainly disappear and when he summons people to accept wealth, not even one would do so.
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، نافع، قتادہ انصاری، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس وقت کس حال میں ہو گے جب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے اور تمہارے امام ہوں گے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: What will be your state when the son of Mary descends amongst you and there will be an Imam amongst you?
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَأَمَّکُمْ
محمد بن حاتم بن میمون، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ ؓ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اتریں گے اور تمہارے امام بنیں گے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: What would you do when the son of Mary would descend and lead you?
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّکُمْ مِنْکُمْ فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَنَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ تَدْرِي مَا أَمَّکُمْ مِنْکُمْ قُلْتُ تُخْبِرُنِي قَالَ فَأَمَّکُمْ بِکِتَابِ رَبِّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَسُنَّةِ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، ابن ابی ذنب، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تم ہی میں سے تمہارے امام بنیں گے ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تمہارا امام تم ہی میں سے بنے گا ابن ابی ذئب نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا اس کا کیا مطلب ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے بتائیے، آپ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ تمہاری امامت کریں گے (وہ اس کے مطابق فیصلے کریں گے)۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: What would you do when the son of Mary would descend amongst you and would lead you as one amongst you? Ibn Abi Dhib on the authority of Abu Hurairah (RA) narrated: Your leader amongst you. Ibn Abi Dhib said: Do you know what the words:" He would lead as one amongst you" mean? I said: Explain these to me. He said: He would lead you according to the Book of your: Lord (hallowed be He and most exalted) and the Sunnah of your Apostle ﷺ .
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالُوا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أُمَرَائُ تَکْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ
ولید بن شجاع، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، ابن محمد، ابن جریج، ابوزبیر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا اور فرمایا کہ پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اتریں گے لوگوں کا امیر ان سے نماز پڑھانے کے لے عرض کرے گا آپ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایک دوسرے پر امیر ہو یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمایا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A section of my people will not cease fighting for the Truth and will prevail till the Day of Resurrection. He said: Jesus son of Mary would then descend and their (Muslims) commander would invite him to come and lead them in prayer, but he would say: No, some amongst you are commanders over some (amongst you). This is the honour from Allah for this Ummah.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا آمَنَ النَّاسُ کُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن حعفر، علاء ابن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا پھر جب سورج مغرب سے نکلے گا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے مگر اس وقت کا ایمان لانا کسی کو فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے (یقینی قیامت کی نشانی سے قبل) ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی تھی۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The (Last) Hour shall not came till the sun rises from the place of its setting And on the day when it rises from the place of its setting even if all the people together affirmed their faith, it would not be of any avail to one who did not believe previously and derived no good out of his belief.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ لْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابی زرعہ، ابوہریرہ ؓ ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، عبدالرحمن اعرج، ابوہریرہ ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters, Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Ibn Numair, Abu Kuraib, Ibn Fudail.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن یوسف، فضیل بن غزوان، ابوکریب، محمد بن علاء، ابن فضیل، ابی حازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں کے ظاہر ہوجانے کے بعد کسی ایسے آدمی کا ایمان لانا اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جو کہ ان سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام کیا ہو ان تین میں سے ایک سورج کا مغرب سے نکلنا دوسرے دجال کا نکلنا تیسرے دَابَّةُ الْأَرْضِ کا نکلنا ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: When three things appear faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from his faith: the rising of the sun in its place of setting, the Dajjal, and the beast of the earth.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً فَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْکِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا ذَاکَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ لَهَا ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِکِ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَتَی ذَاکُمْ ذَاکَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
یحییٰ بن ایوب، اسحاق بن ابراہیم، ابن علیہ، ابن ایوب، ابن علیہ، یونس، ابراہیم بن یزید تمیمی، ابوذر ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ عرش کے نیچے آجاتا ہے اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے سجدے میں پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اٹھنے کا (بلند ہونے) کا حکم ملتا ہے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں پر لوٹ جا پھر صبح کو نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے پہنچ جاتا ہے اور پھر سجدہ میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ اسے حکم ہوتا ہے کہ اٹھ کر جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ لوٹ جاتا ہے پھر صبح کو اپنے نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر اس طرح چلتا رہتا ہے پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کو اس کے چلنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے آجائے گا پھر اسے کہا جائے گا کہ اٹھ اور مغرب کی طرف سے نکل چناچہ وہ اس وقت مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا یہ اس وقت ہوگا جب کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہ دے گا جب تک کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان کی حالت میں اس نے نیک کام نہ کئے ہوں۔
It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ one day said: Do you know where the sun goes? They replied: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Holy Prophet) observed: Verily it (the sun) glides till it reaches its resting place under the Throne. Then it falls prostrate and remains there until it is asked: Rise up and go to the place whence you came, and it goes back and continues emerging out from its rising place and then glides till it reaches its place of rest under the Throne and falls prostrate and remains in that state until it is asked: Rise up and return to the place whence you came, and it returns and emerges out from it rising place and the it glides (in such a normal way) that the people do not discern anything ( unusual in it) till it reaches its resting place under the Throne. Then it would be said to it: Rise up and emerge out from the place of your setting, and it will rise from the place of its setting. The Messenger of Allah ﷺ said. Do you know when it would happen? It would happen at the time when faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from the faith.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
عبدالحمید بن بیان، واسطی، خالد، ابن عبداللہ بن یونس، ابراہیم تیمی، ابوذر ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) that the Apostle of Allah ﷺ one day said: Do you know where the sun goes? The remaining part of the hadith is the same.
اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَکَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے پھر جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ سورج جا کر اللہ تعالیٰ سے سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے اور ایک مرتبہ قیامت کے قریب اسے کہا جائے گا کہ جہاں سے نکلا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مغرب کی طرف سے نکلے گا حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت کی مطابق پڑھا ( ذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا) یعنی یہی مقام سورج کے ٹھہرنے کا ہے۔
Abu Dharr (RA) reported: I entered the mosque and the Messenger of Allah ﷺ was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of Abdullah recited it: And that is its appointed term.