Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 19 of 379

362Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن حاتم، محمد بن بکر، احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Muhammad bin Hatim, Muhammad bin Bakr, Ahmad bin Uthman Naufali, Abu Asim, Ibn Juraij.

363Sahih Muslim

رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ

شیبان بن فروخ، ابواشہب، حسن کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار ؓ کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو حضرت معقل ؓ نے فرمایا کہ میں تجھے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے اگر مجھے اپنے زندہ رہنے کا علم ہوتا تو میں تجھے بیان نہ کرتا میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ اللہ اسے رعایا پر حاکم بنائے اور وہ ان کے حقوق میں خیانت کرے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔

Hasan reported: Ubaidullah bin Ziyad paid a visit to Maqil bin Yasar Muzani in his illness of which he (later on) died. (At this juncture) Maqil said: I am going to narrate to you a hadith which I have heard from the Messenger of Allah ﷺ and which I would not have transmitted if I knew that I would survive. Verily I have heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is none amongst the bondsmen who was entrusted with the affairs of his subjects and he died in such a state that he was dishonest in his dealings with those over whom he ruled that the Paradise is not forbidden for him

364Sahih Muslim

رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَی مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ قَالَ أَلَّا کُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُکَ أَوْ لَمْ أَکُنْ لَأُحَدِّثَکَ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، یونس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار ؓ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے آئے ان کا حال پوچھا حضرت معقل ؓ کہنے لگے کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابھی تک بیان نہیں کی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جسے لوگوں کا حکمران بناتا ہے اور پھر وہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے مرتا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کردیتا ہے، ابن زیادہ کہنے لگا کیا تم مجھ سے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں بیان کرچکے؟ حضرت معقل ؓ نے فرمایا میں نے تجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی یا یہ فرمایا کہ میں تجھے اس سے پہلے یہ حدیث بیان نہیں کرسکا۔

Hasan reported: Ubaidullah bin Ziyad went to see Maqil bin Yasir and he was ailing. He (Ubaidullah) inquired (about his health) to which he (Maqil) replied: I am narrating to you a hadith which I avoided narrating to you (before). Verily the Messenger of Allah ﷺ observed: Allah does not entrust to his bondsman the responsibility of managing the affairs of his subjects and he dies as a dishonest (ruler) but Paradise is forbidden by Allah for such a (ruler). He (Ibn Ziyad) said: Why did you not narrate it to me before this day? He replied: I (in fact) did not narrate it to you as it was not (fit) for me to narrate that to you.

365Sahih Muslim

رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان

حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ کُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَجَائَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي سَأُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا

قاسم بن زکریا، حسین، زائدہ، ہشام سے روایت ہے کہ حضرت حسن نے فرمایا کہ ہم حضرت معقل بن یسار ؓ کے پاس ان کی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے اتنے میں عبیداللہ بن زیاد آگیا تو حضرت معقل ؓ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے پھر دونوں حدیثوں کی طرح بیان کیا جو اس سے قبل ذکر کی گئیں۔

Hasan reported: We were with Maqil bin Yasar inquiring about his health that Ubaidullah bin Ziyad came there. Maqil said to him: Verily I am going to narrate to you a hadith which I heard from the Messenger of Allah ﷺ . Then he narrated the hadith like those two (mentioned above).

366Sahih Muslim

رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ الْجَنَّةَ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، معاذ بن ہشام، قتادہ، ابی ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار ؓ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس آیا تو اس سے حضرت معقل ؓ نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں کہ اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں تجھ سے وہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مسلمانوں کا حکمران ہو اور پھر ان کی بھلائی کے لئے جدوجہد نہ کرے اور خلوص نیت سے ان کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abu Malih that Ubaidullah bin Ziyad visited Maqil bin Yasar in his illness. Maqil said to him: I am narrating to you a hadith which I would have never narrated to you had I not been in death-bed. I heard Allahs apostle ﷺ say: A ruler who has been entrusted with the affairs of the Muslims but he makes no endeavors ( for the material and moral uplift) and does not sincerely mean (their welfare) would not enter Paradise along with them.

367Sahih Muslim

بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنْ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنْ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ قَالَ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَکْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَی رِجْلِکَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ أَخَذَ حَصًی فَدَحْرَجَهُ عَلَی رِجْلِهِ فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَکَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّی يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا حَتَّی يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ مَا أَظْرَفَهُ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَی عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّکُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ کَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ وَلَئِنْ کَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا کُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْکُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حذیفہ فرماتے ہیں کہ ہم سے اللہ کے رسول ﷺ نے دو حدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک تو میں دیکھ چکا اور دوسری کے انتظار میں ہوں، آپ ﷺ نے ہمیں بیان فرمایا کہ امانت کا نزول لوگوں کے دلوں کی جڑوں پر ہوا۔ پھر قرآن نازل ہوا اور انہوں نے قرآن وسنت کا علم حاصل کیا پھر آپ ﷺ نے ہمیں دوسری حدیث امانت کے اٹھ جانے کے متعلق بیان فرمائی آپ نے فرمایا ایک آدمی تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھالی جائے گی اس کا ہلکا سا نشان رہ جائے گا پھر ایک بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ جائے گی اس کا نشان ایک انگارہ کی طرح رہ جائے گا جس طرح کہ ایک انگارہ تو اپنے پاؤں پر لڑھکا دے اور کھال پھول کر چھالے کی شکل اختیار کرلے اور اس کے اندر کچھ نہ ہو، پھر آپ نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا دیا اور پھر فرمایا کہ لوگ خریدو فروخت کریں گے اور ان میں سے کوئی امانت کا حق ادا کرنے والا نہیں ہوگا یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک آدمی صاحب امانت ہے اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ کس قدر ہوشیار ہے کس قدر خوش اخلاق ہے کس قدر عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا اور حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایسے دور سے گزر چکا ہوں جب میں ہر ایک سے بےتکلف اور بغیر غور و فکر کے معاملہ کرلیتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اسے بےایمانی سے روکے رکھتا اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا حاکم اسے بےایمانی نہ کرنے دیتا مگر آج تو میں فلاں فلاں کے علاوہ اور کسی سے معاملہ نہیں کرسکتا۔

Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ narrated to us two ahadith. I have seen one (crystallized into reality), and I am waiting for the other. He told us: Trustworthiness descended in the innermost (root) of the hearts of people. Then the Quran was revealed and they learnt from the Quran and they learnt from the Sunnah. Then he (the Holy Prophet) told us about the removal of trustworthiness. He said: The man would have a wink of sleep and trustworthiness would be taken away from his heart leaving the impression of a faint mark. He would again sleep and trustworthiness would be taken away from his heart leaving an impression of a blister, as if you rolled down an ember on your foot and it was vesicled. He would see a swelling having nothing in it. He (the Holy Prophet) then took up a pebble and rolled it down over his foot and (said): The people would enter into transactions amongst one another and hardly a person would be left who would return (things) entrusted to him. (And there would be so much paucity of honest persons) till it would be said: There in such a such tribe is a trustworthy man. And they would also say about a person: How prudent he is, how broad-minded he is and how intelligent he is, whereas in his heart there would not be faith even to the weight of a mustard seed. I have passed through a time in which I did not care with whom amongst you I entered into a transaction, for if he were a Muslim his faith would compel him to discharge his obligations to me and it he were a Christian or a Jew, the ruler would compel him to discharge his obligations to me. But today I would not enter into a transaction with you except so and so.

368Sahih Muslim

بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابن نمیر، ابو وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس ایک دوسری سند میں حضرت اعمش ؓ سے یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted by another chain of transmitters: Ibn Numair, Waki, Ishaq bin Ibrahim, Isa bin Yunus on the authority of Amash.

369Sahih Muslim

بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّکُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْفِتَنَ فَقَالَ قَوْمٌ نَحْنُ سَمِعْنَاهُ فَقَالَ لَعَلَّکُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ تِلْکَ تُکَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَکِنْ أَيُّکُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْفِتَنَ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ حُذَيْفَةُ فَأَسْکَتَ الْقَوْمُ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوکَ قَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوبِ کَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُکِتَ فِيهِ نُکْتَةٌ سَوْدَائُ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْکَرَهَا نُکِتَ فِيهِ نُکْتَةٌ بَيْضَائُ حَتَّی تَصِيرَ عَلَی قَلْبَيْنِ عَلَی أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا کَالْکُوزِ مُجَخِّيًا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْکِرُ مُنْکَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بَيْنَکَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِکُ أَنْ يُکْسَرَ قَالَ عُمَرُ أَکَسْرًا لَا أَبَا لَکَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ کَانَ يُعَادُ قُلْتُ لَا بَلْ يُکْسَرُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِکَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ أَبُو خَالِدٍ فَقُلْتُ لِسَعْدٍ يَا أَبَا مَالِکٍ مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا قَالَ شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْکُوزُ مُجَخِّيًا قَالَ مَنْکُوسًا

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوخالد سلیمان بن حیان، سعد بن طارق، ربیع، حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے اللہ کے رسول ﷺ سے فتنوں کا ذکر سنا ہے ایک جماعت کے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ شاید تمہاری مراد ان فتنوں سے وہ فتنے ہیں جو اس کے گھر والوں میں، مال میں اور ہمسایوں میں ہوتے ہیں لوگوں نے عرض کیا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ان فتنوں کا کفارہ تو نماز، روزہ اور صدقہ سے ہوجاتا ہے لیکن تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے ان فتنوں کے بارے میں سنا ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح امڈ آئیں گے، حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ سن کر خاموش ہوگئے میں نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تیرا والد بہت اچھا تھا (کہ تم بھی ان کے بیٹے ہو) حضرت حذیفہ ؓ کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ فتنے دلوں پر ایک کے بعد ایک اس طرح آئیں گے کہ جس طرح بوریا اور چٹائی کے تنکے ایک کے بعد ایک ہوتے ہیں جو دل اس فتنہ میں مبتلا ہوگا وہ فتنہ اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ ڈال دے گا اور جو دل اسے رد کرے یعنی قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس کے دل میں ایک سفید نقطہ لگ جائے گا یہاں تک کہ اس کے دو دل ہوجائیں گے ایک سفید دل کہ جس کی سفیدی بڑھ کر کوہ صفا کی طرح ہوجائے گی جب تک زمین و آسمان رہیں گے اسے کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا اور دوسرا دل سیاہ راکھ کے کوزہ کی طرح علوم سے خالی ہوگا نہ نیکی کو پہنچانے گا اور نہ ہی بدی کا انکار کرے گا مگر اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا، حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے یہ حدیث بیان کی کہ تیرے اور ان فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے اور قریب ہے کہ وہ ٹوٹ جائے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ وہ توڑ دیا جائے گا تیرا باپ نہ رہے اگر وہ کھلتا تو شاید بند ہوجاتا میں نے عرض کیا وہ کھلے گا نہیں بلکہ ٹوٹ جائے گا اور میں نے حضرت عمر سے فرمایا وہ توڑ دیا جائے گا؟ ایک آدمی ہے یا تو قتل کردیا جائے گا یا اس کا انتقال ہوجائے گا یہ حدیث غلط باتوں میں سے نہ تھی ابوخالد نے کہا کہ میں نے سعد سے عرض کیا کہ اسود مرباد سے کیا مراد ہے فرمایا سیاہی میں سفیدی کی شدت۔ میں نے عرض کیا اِنَّ الکَوزَ مَجخِیَّا سے کیا مراد ہے فرمایا الٹا ہوا کوزہ۔

It is narrated on the authority of Hudhaifa (RA) : We were sitting in the company of Umar and he said: Who amongst you has heard the Messenger of Allah ﷺ talking about the turmoil? Some people said: It is we who heard it. Upon this be remarked: Perhaps by turmoil you presume the unrest of man in regard to his household or neighbour, they replied: Yes. He (Umar) observed: Such (an unrest) would be done away with by prayer, fasting and charity. But who amongst you has heard from the Apostle ﷺ describing that turmoil which would come like the wave of the ocean. Hudhaifa said: The people hushed into silence, I replied: It is I. He (Umar) said: Ye, well, your father was also very pious. Hudhaifa said: I heard the Messenger of Allah ﷺ (may peace be, upon him) observing: Temptations will be presented to mens hearts as reed mat is woven stick by stick and any heart which is impregnated by them will have a black mark put into it, but any heart which rejects them will have a white mark put in it. The result is that there will become two types of hearts: one white like a white stone which will not be harmed by any turmoil or temptation, so long as the heavens and the earth endure; and the other black and dust-coloured like a vessel which is upset, not recognizing what is good or rejecting what is abominable, but being impregnated with passion. Hudhaifa said: I narrated to him (Umar): There is between you and that (turmoil) a closed door, but there is every likelihood of its being broken. Umar said: Would it be broken? You have, been rendered fatherless. Had it been opened, it would have been perhaps closed also. I said: No, it would be broken, and I narrated to him: Verily that door implies a person who would be killed or die. There is no mistake in this hadith. Abu Khalid narrated: I said to Sad, O Abu Malik, what do you mean by the term" Aswad Murbadda"? He replied: High degree of whiteness in blackness. I said: What is meant by" Alkoozu Mujakhiyyan"? He replied: A vessel turned upside down.

370Sahih Muslim

بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان

حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا فَقَالَ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَيُّکُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ وَلَمْ يَذْکُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِکٍ لِقَوْلِهِ مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا

ابن ابی عمر، مروان، ابومالک، ربعی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ جب حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو بیٹھ کر ہم سے حدیث بیان فرمانے لگے کہ کل جب میں امیر المومنین کے پاس بیٹھا تھا تو انہوں نے صحابہ ؓ سے پوچھا کہ تم میں سے کس کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان فتنوں کے بارے میں یاد ہے پھر ابوخالد سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث روایت کی مگر اس میں ابومالک کی مرباد اور مَجخِیَّا کی تفسیر ذکر نہیں کی۔

It is narrated on the authority of Ribi (b. Hirash). When Hudhaifa came from Umar he sat down to narrate to us and said: Verily yesterday when I was sitting with the Commander of the believers he asked his companions: When amongst you retains in his memory the utterance of the Messenger of Allah ﷺ with regard to the turmoil? -and he cited the hadith like the hadith narrated on the authority of Abu Khalid, but he did not mention the exposition of his words (Murbaddan) and (Mujakhiyyan).

371Sahih Muslim

بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ مَنْ يُحَدِّثُنَا أَوْ قَالَ أَيُّکُمْ يُحَدِّثُنَا وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ کَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ حُذَيْفَةُ حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ وَقَالَ يَعْنِي أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، عمرو بن علی، عقبہ بن مکرم، محمد بن ابی عدی، سلیمان تیمی، نعیم بن ابی ہند، ربعی بن حراش، حذیفہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ ہم سے حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ تم سے کس نے رسول اللہ ﷺ سے فتنوں کے بارے میں حدیث سنی ہے ان میں حضرت حذیفہ بھی تھے انہوں نے کہا کہ میں نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا ہے اور پھر اس اس طرح حدیث بیان کی جس طرح کہ ابومالک نے ربعی سے روایت کی ہے اور اس روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی جو غلط نہیں تھی بلکہ وہ بالکل اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔

It is transmitted by Ribi bin Hirash. who narrated it on the authority of Hudhaifa that verily Umar said: Who would narrate to us or who amongst you would narrate to us (and Hudhaifa was one amongst them) what the Messenger of Allah ﷺ had said about the turmoil? Hudhaifa said: I will, and recited the hadith like that transmitted by Abu Malik on the authority of Ribi and he observed in connection with this hadith that Hudhaifa remarked: I am narrating to you a hadith and it has no mistake, and said: That it is transmitted from he Messenger of Allah ﷺ .

372Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَی لِلْغُرَبَائِ

محمد بن عباد، ابی عمر، مروان، ابن عباد، یزید، ابن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی ابتداء غربت سے ہوئی اور پھر یہ حالت غربت کی طرف لوٹ آئے گا پس غرباء کے لئے خوشخبری ہو۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Islam initiated as something strange, and it would revert to its (old position) of being strange. so good tidings for the stranger.

373Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا کَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا

محمد بن رافع، فضل بن سہل، اعرج، شبابہ، سوار، عاصم، ابن محمد، عمری، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی ابتداء غربت کی حالت میں ہوئی اور پھر ایسا وقت آئے گا کہ یہ (اسلام) ابتداء کی طرح غربت کی حالت میں ہوجائے گا اور وہ سمٹ کردو سجدوں میں آجائے گا جیسا کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوارخ میں چلا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Ibn Umar (Abdullah bin Umar) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Verily Islam started as something strange and it would again revert (to its old position) of being strange just as it started, and it would recede between the two mosques just as the serpent crawls back into its hole.

374Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَی الْمَدِينَةِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَی جُحْرِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر، خبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان اس طرح سمٹ کر مدینہ منورہ میں آجائے گا جس طرح کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ میں چلا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Verily the faith would recede to Madinah just as the serpent crawls back into its hole.

375Sahih Muslim

اس بات کے بیان کیں کہ آخری زمانہ میں ایمان رخصت ہوجائے گا

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ

زہیر بن حرب، عفان، حماد، ثابت، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ زمین میں اللہ اللہ کیا جاتا رہے گا۔

It is narrated on the authority of Anas that verily the Messenger of Allah ﷺ observed: The Hour (Resurrection) would not come so long as Allah is supplicated in the world.

376Sahih Muslim

اس بات کے بیان کیں کہ آخری زمانہ میں ایمان رخصت ہوجائے گا

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَی أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ اللَّهُ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ثابت، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ایک بھی اللہ اللہ کہنے والا باقی رہے گا۔

It is narrated on the authority of Anas that verily the Messenger of Allah ﷺ observed: The Hour (Resurrection) would not come so long as Allah is supplicated in the world.

377Sahih Muslim

خوفزدہ کے لئے ایمان کو پو شیدہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْصُوا لِي کَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِلَی السَّبْعِ مِائَةٍ قَالَ إِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّکُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيَنَا حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے مجھے شمار کر کے فرمایا کہ اسلام کے قائل ( کھلا اظہار کرنے والے) کتنے ہیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ کو ہم پر (دشمنوں کی طرف سے کسی سازش کا) خوف ہے؟ اور ہماری تعداد چھ سو سے سات سو تک ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے شاید کہ تم کسی آزمائش میں پڑجاؤ، حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں ہم آزمائش میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نماز بھی چھپ کر پڑھنے لگے۔

Hudhaifa reported: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ when he said. Count for me those who profess al-Islam. We said: Messenger of Allah, do you entertain any fear concerning us and we are (at this time) between six hundred and seven hundred (in strength). He (the Holy Prophet) remarked: You dont perceive; you may be put to some trial, He (the narrator) said: We actually suffered trial so much so that some of our men were constrained to offer their prayers in concealment.

378Sahih Muslim

کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغٰیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمٌ أَقُولُهَا ثَلَاثًا وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يَکُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ

ابن ابی عمر، سفیان، زہری، عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ فلاں کو دیجئے کیونکہ وہ مومن ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان ہے ( مومن نہیں ظاہری طور پر عبادت گزار ہے)، میں نے تین مرتبہ عرض کیا کہ وہ مومن ہے اور آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی فرمایا کہ وہ مسلمان ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ میں دوسرے کو اس سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دے۔

Sad narrated it on the authority of his father (Abi Waqqas) that he observed: The Messenger of Allah ﷺ distributed shares (of booty among his Companions). I said: Messenger of Allah! ﷺ Give it to so and so, for verily he is a believer. Upon this the Apostle of Allah ﷺ remarked: Or a Muslim. I (the narrator) repeated it (the word" believer") thrice and he (the Holy Prophet) turned his back upon me (and substituted the word)" Muslim," and then observed: I bestow it (this share) to a man out of apprehension lest Allah should throw him prostrate into the fire (of Hell) whereas in fact the other man is dearer to me than he.

379Sahih Muslim

کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَی رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عامر بن سعد ابن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مال عطا فرمایا اور حضرت سعد ؓ بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کو مال عطا نہیں فرمایا جو میرے نزدیک زیادہ مستحق تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں کو عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلم؟ حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھے وہی خیال غالب آنے لگا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو کیوں عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن جانتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا مسلم؟ حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں پھر کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہی خیال غالب آ نے لگا جس کے بارے میں میں آگاہ تھا میں نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو مال عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن ہونے کو جانتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا مسلم؟ اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں ایک آدمی کو دے دیتا ہوں حالانکہ دوسرا آدمی مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے اور میں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں وہ ( کفر کر کے) منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دیا جائے۔

It is narrated on the authority of Sad that the Messenger of Allah ﷺ bestowed upon a group of persons (things), and Sad was sitting amongst them. Sad said: The Messenger of Allah ﷺ ignored some of them. And he who was ignored seemed to be more deserving in my eyes (as compared with others). I (Sad) said: Messenger of Allah ﷺ I why is it that you did not give to such and such (man)? Verily I see him a believer. Upon this the Messenger of Allah ﷺ observed: Or a Muslim? I kept quiet for some time but I was again impelled (to express) what I knew about him. I said: Messenger of Allah ﷺ why is it that you did not give it to such and such? Verily, by Allah, see him a believer. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: (Nay, not a believer) but a Muslim. He (Sad) said: I again kept quite for some time but what I knew about him again impelled me (to express my opinion) and I said: Why is it that you did not give (the share) to so and so: By Allah, verily I see him a believer. The Messenger of Allah ﷺ remarked; (Nay, not so) but a Muslim. Verily (at times) I give (a share) to a certain man apprehending that he may not be thrown prostrate in the Fire, whereas the other man (who is not given) is dearer to me (as compared with him).

380Sahih Muslim

کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ

حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد، سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمایا اور میں انہیں میں بیٹھا ہوا تھا پھر آپ ﷺ نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح فرمایا لیکن اس سند کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کھڑا ہوا اور آپ ﷺ سے خاموشی سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو کیوں نہیں عطا فرمایا؟

Sad reported: The Messenger of Allah ﷺ bestowed upon a group of persons (booty) and I was sitting with them. The remaining part of the hadith is the same as mentioned (above) with the additionI stood up and went to the Messenger of Allah ﷺ and whispered to him: Why did you omit such and such a man?

381Sahih Muslim

کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَکَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ

حسن حلوانی، یعقوب، صالح، اسماعیل بن محمد بن سعد ایک دوسری سند میں یہی روایت بیان کی گئی ہے لیکن اس حدیث میں ہے کہ حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میری گردن اور کندھے کے درمیان مارا اور فرمایا اے سعد کیا تو جھگڑتا ہے کہ میں ایک آدمی کو نہیں دیتا آخر حدیث تک۔

The same hadith has been narrated on the authority of Muhammad b Sad and these words (are also there): The Messenger of Allah ﷺ gave a stroke on my neck or between my two shoulders and said: Sad, do you fight with me simply because I gave (a share) to a man?