درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا کَانَ مَا أُکِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَکَلَتْ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا کَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
ابن نمیر، عبدالملک، عطاء، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان نے کوئی پودا لگایا تو اس درخت سے جو کھایا گیا وہ اس کے لئے صدقہ ہے جو اس سے چوری کیا گیا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور جو درندوں نے کھایا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور کوئی اسے کم نہیں کرے گا مگر وہ اس پودا لگانے والے کے لئے صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Never a Muslim plants a tree, but he has the reward of charity for him, for what is eaten out of that is charity; what is stolen out of that, what the beasts eat out of that, what the birds eat out of that is charity for him. (In short) none incurs a los! k to him but it becomes a charity on his part.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ فَقَالَ لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْئٌ إِلَّا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ام مبشر انصاریہ (رض) کے پاس اس کے باغ میں تشریف لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا یہ باغ مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے ؟ تو اس نے کہا مسلمانوں نے تو آپ ﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کوئی پودا لگائے یا کھیتی کاشت کرے اور اس سے انسان یا جانور یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لئے صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited Umm Mubashshir al-Ansariya at her orchard of date-palms and said to her: Who has planted these trees of dates-a Muslim or a non-Musim? She said: A Muslim, of course, whereupon he said: Never a Muslim plants, or cultivates a land, and it out of that men eat, or the animals eat, or anything else eats, but that becomes charity on his (planters) behalf.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا زَرْعًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَيْئٌ إِلَّا کَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ و قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ طَائِرٌ شَيْئٌ
محمد بن حاتم، ابن ابی خلف، روح، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا پودا لگانے والا کوئی ایسا مسلمان نہیں اور کھیتی کرنے والا کہ اس سے درندے یا پرندے یا اور کوئی کھائے مگر یہ کہ اس میں اس لگانے والے کے لئے ثواب ہوگا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: Never does a Muslim plant, or cultivate, but has reward for him for what the beasts eat, or the birds eat or anything else eats out of that.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا فَقَالَ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ قَالَ فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا کَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
احمد بن سعید بن ابراہیم، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، عمر بن دینار، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ام معبد (رض) کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو فرمایا اے ام معبد ! یہ کھجور کا درخت مسلمان نے لگایا ہے کافر نے۔ اس نے کہا مسلمان نے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان بھی کوئی پودا لگائے اور اس سے انسان اور چوپائے اور پرندے جو بھی کھائیں تو اس لگانے والے کے لئے قیامت کے دن تک صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited the orchard of Umm Masud and said: Umm Mabad. he who has planted this tree, is he a Muslim or a non-Muslim? She said: Of course, he is a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: No Muslim who plants (trees) and from their fruits the human beings or the beasts or birds eat, but that would be taken as an act of charity on the Day of Resurrection.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَمَّارٍ ح وَأَبُو کُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَا عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَقَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ رُبَّمَا قَالَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ وَکُلُّهُمْ قَالُوا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَائٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابی معاویہ، عمرو ناقد، عمار بن محمد، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، اعمش، ابی سفیان، جابر، عمار، ابوکریب، ابی معاویہ، ام مبشر، ابن فضیل، امراہ زید بن حارثہ، اسحاق، ابی معاویہ، ام مبشر اوپر والی حدیث کی چار اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith is transmitted on the authority of Abu Muawiya (but With a slight change of words).
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْکُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا کَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، محمد بن عبیدالغبری، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی پودا لگائے یا کھیتی کاشت کرے اور اس سے پرندے یا انسان یا جانور کھائی تو یہ اس لگانے والے کے لئے صدقہ ہوگا۔
Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying Never does a Muslim plant trees or cultivate land and birds or a man or a beast eat out of them but that is a charity on his behalf.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ قَالُوا مُسْلِمٌ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
عبد بن حمید، مسلم بن ابراہیم، ابن یزید، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ انصار میں سے ایک عورت ام مبشر (رض) کے باغ میں تشریف لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس باغ کو مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے تو انہوں نے کہا مسلمان نے باقی حدیث گزر چکی۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited the date-palms of Umm Mubashshir (Allah be pleased with her), a lady from the Ansar, and said: Who planted this palm-a Muslim or an unbelievers The rest of the hadith is the same.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيکَ ثَمَرًا ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيکَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَکَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيکَ بِغَيْرِ حَقٍّ
ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو نے اپنے بھائی کو پھل فروخت کردیا اور اس پھل کو کوئی آسمانی آفت لاحق ہوگئی تو تیرے لئے اس سے کوئی بدلہ و عوض لینا جائز نہیں تو اپنے بھائی کا مال بغیر کسی حق کے کس چیز کے بدلے حاصل کرے گا ؟
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: If You sell fruits to your brother (and Jabir bin Ahduthh reported through another chain of narrators: If you were to sell fruits to your brother) and these is a stricken with Calamity, it is not permissible for you to get anything from him. Why do you get the wealth of your brother, without jutification?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
حسن حلوانی، ابوعاصم، ابن جریج اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّی تَزْهُوَ فَقُلْنَا لِأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ أَرَأَيْتَکَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيکَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کھجور کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ رنگ نہ پکڑے راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے کہا رنگ آنے کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا اس کا سرخ یا زرد ہوجانا آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ پھل کو روک لے تو تو اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض حلال کرے گا۔
Anas (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the sale of the fruit of date-palms until it becomes mellow. We (some of the other narrators in the chain of transmitters) said: What does the word" mellow" mean? He said: (There the fruit) turns red or yellow. Dont you see if Allah had checked (the growth of) fruits; then what for the wealth of your brother would be permissible for you?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُزْهِيَ قَالُوا وَمَا تُزْهِيَ قَالَ تَحْمَرُّ فَقَالَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيکَ
ابوطاہر، ابن وہب، مالک، حمید طویل، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ رنگ نہ آجائے صحابہ (رض) نے عرض کیا تز ہی کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا سرخ ہوجانا اور فرمایا جب اللہ پھل کو روک لے تو پھر تو کس چیز کے بدلے اپنے بھائی کا مال حلال کرے گا ؟
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the sale of fruits until these are mellow. They (the companions of Anas) said: What is meant by" mellow"? He said: It implies that these became red. He said: When Allah hinders the growth of fruits, (then) what for the wealth of your brother would become permissible for you?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِيهِ
محمد بن عباد، عبدالعزیز بن محمد، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ اس درخت پر پھل نہ لگائے تو پھر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کیسے حلال کرے گا۔
Anas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If Allah does not fructify them, then what is permissible for one of you to take the wealth of his brother?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَهُوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا
بشربن حکم، ابراہیم بن دینار، عبدالجبار بن العلاء، سفیان بن عیینہ، حمید اعرج، سلیمان بن عتیق، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کو وضع کرنے کا حکم دیا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded to make deductions in the payment of that stricken with a Calamity.
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَکَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِکَ وَفَائَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَکُمْ إِلَّا ذَلِکَ
قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر، عیاض بن عبداللہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی کو پھلوں میں نقصان ہوا جو اس نے خریدے تھے اور اس کا قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن یہ رقم اس کے قرض کو پورا کرنے کے برابر نہ پہنچ سکی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو تم کو مل جائے وہ حاصل کرو اور تمہارے لئے صرف یہی ہے جو اس کے پاس تھا۔
Abu Said al-Khudri (Allah be pleeased with him) reported that in the time of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a man suffered loss in fruits he had bought and his debt increased; so Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told (the people) to give him charity and they gave him charity, but that was not enough to pay the debt in full, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to his creditors:" Take what you find, you will have nothing but alms.
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمر بن حارث، بکیر بن اشج اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Bukair bin al-Ashajj with the same chain of transmitters
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْئٍ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَی اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ أَيُّ ذَلِکَ أَحَبَّ
اسماعیل بن ابی اویس، سلیمان ابن بلال، یحییٰ بن سعید، محمد بن عبدالرحمن، ام عمرہ بنت عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے میں جھگڑنے والوں کی آواز سنی اور دونوں کی آواز بلند تھی ان میں ایک دوسرے سے معافی اور کچھ نرمی کے لئے کہہ رہا تھا دوسرا کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ پر قسم کھا کر کہنے والا کہاں ہے جو کہتا ہے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں ہوں اور اسی کو اختیار ہے جو اس کو پسند ہو کرے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard the voices of altercation of two disputants at the door; both the voices were quite loud. The one demanded some remission and desired that the other one should show leniency to him, whereupon the (other one) was saying: By Allah will not do that. Then there came Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to them and said: Where is he who swears by Allah that he would not do good? He said: Massenger of Allah, it is I. He may do as he desires.
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا کَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّی سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَی کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ يَا کَعْبُ فَقَالَ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعْ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِکَ قَالَ کَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن کعب بن مالک، حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اس نے ابوحدرد کے بیٹے سے اس قرض کا مطالبہ مسجد میں کیا جو اس پر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا اور ان کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں ان کی آوازوں کو سنا آپ ﷺ ان کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک کو آواز دی اور فرمایا اے کعب ! اس نے کہا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض میں سے آدھا کم کردو کعب نے عرض کیا تحقیق میں نے ایسا کردیا اے اللہ کے رسول ﷺ ، رسول اللہ ﷺ نے مقروض سے فرمایا اٹھو اور ان کا قرض ادا کردو۔
Abdullah bin Kaab bin Malik reported from his father that he pressed in the mosque Ibn Abu Hadrad for the payment of the debt that he owed to him during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (In this altercation) their voices became loud, until Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard them, while he was in the house, so Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came out towards them, and he lifted the curtain of his apartment and he called upon Kab bin Malik and said: O Kab. He said: At thy beck and call, Allahs Messenger. He pointed out with the help of his hand to remit half of the loan due to him. Kab said: Allahs Messenger, I am ready to do that, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said (to Ibn Abu Hadrad): Stand up and make him the payment (of the rest).
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَی دَيْنًا لَهُ عَلَی ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن عمر، یونس، زہری، حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ کعب (رض) نے اپنے قرض کا مطالبہ کیا جواب حدرد کے بیٹے پر تھا باقی حدیث گزر چکی۔
The above hadith is narrated through another chain with a slight variation of words at the begining and the rest is of the hadith is the same.
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
قَالَ مُسْلِم وَرَوَی اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ کَانَ لَهُ مَالٌ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَکَلَّمَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا کَعْبُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ کَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَکَ نِصْفًا
مسلم، لیث ابن سعد، جعفر بن ربیعہ، عبدالرحمن بن ہرمز، عبداللہ بن کعب، حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابوحدرد اسلمی پر قرض تھا وہ اس سے ملے تو اسے پکڑ لیا اور دونوں میں گفتگو شروع ہوگئی یہاں تک کہ آوازیں بلند ہوگئیں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے کعب اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا کہ آپ ﷺ نصف کا فرما رہے ہیں میں نے اپنے قرض میں سے آدھا وصول کرلیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
Kab bin Malik reported that he made a demand for the payment of the debt that Ibn Abu Hadrad owed to him. This hadith is narrated through another chain of transmitters and (the words are):" He had to get the loan fromAbdullah bin Hadrad al-Aslami. He met him and pressed him for payment. There was an altercation between them, until their voices became loud. There happened to pass by them Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said: O Kab, and pointed out with his hand in such a way as he meant half. So he got half of what he (Ibn Abu Hadrad) owed to him and remitted the half."
جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَکَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، یحییٰ بن سعید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، عمر بن عبدالعزیز، ابابکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس آدمی نے اپنا مال بعینہ اس آدمی کے پاس پایا جو غریب ہوگیا ہے یا اس انسان کے پاس جو غریب ہوگیا ہے تو وہ دوسروں سے زیادہ اس مال کا حقدار ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who found his property intact with a person (who bought it but who later on) became insolvent (or a person who became insolvent), he (the seller) is entitled to get it more than anyone else.