معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ
ابوطاہر، ابن وہب، جریر بن حازم، حضرت یعلی بن حکیم سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں حضرت رافع (رض) نے اپنے چچاؤں کا واسطہ بیان نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Rafi bin Khadij with the same chain of transmitters, but in it no mention is made of some of his uncles.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَی رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ وَهُوَ عَمُّهُ قَالَ أَتَانِي ظُهَيْرٌ فَقَالَ لَقَدْ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ بِنَا رَافِقًا فَقُلْتُ وَمَا ذَاکَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ سَأَلَنِي کَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِکُمْ فَقُلْتُ نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَی الرَّبِيعِ أَوْ الْأَوْسُقِ مِنْ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِکُوهَا
اسحاق بن منصور، ابومسہر، یحییٰ بن حمزہ، ابوعمرو اوزاعی، ابی النجاشی مولیٰ رافع بن خدیج، حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ میرے چچا ظہیر بن رافع میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے کام سے منع کردیا جو ہمارے لئے نفع مند تھا تو میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ اور رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا وہ حق ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم اس کو کرایہ پر دیتے ہیں چوتھائی پیداوار یا کھجور یا جو کے معین وسق کے بدلے تو آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو اسے خود کاشت کرو یا دوسرے سے کاشت کراؤ یا اسے اپنے پاس روکے رکھو۔
Rafi (RA) reported that Zuhair bin Rafi (who was his uncle) came to me and said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade a practice which was useful for us. I said: What is this? (I believe) that whatrver Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) says is absolutely true. He (Zuhair) said that he (the Holy Prophet) asked me: What do you do with your cultivable lands? I said: Allahs Messenger, we rent those irrigated by canals for dry dates or barley. He said: Dont do that. Cultivate them or let them be cultivated (by others) or retain them yourself.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْکُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، عکرمہ بن عمار، ابی النجاشی، حضرت رافع (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث روایت کی اور اپنے چچا ظہیر کا درمیان میں واسطہ ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Rafi from the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about this, but he did not make mention of his uncle Zuhair.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
یحییٰ بن یحیی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت حنظلہ بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ اس نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا میں نے عرض کیا کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی کرایہ پر دینے سے منع ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
Hanzala bin Qais reported that he asked Rafi bin Khadij (RA) about renting of land, whereupon he said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the renting of land. I said: Is it forbidden (even if it is paid) in gold (dinar) and silver (dirham)? Thereupon he said: If it is paid in gold and silver, there is no harm in it.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلِکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِکُ هَذَا فَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ
اسحاق، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت حنظلہ بن قیس انصاری (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر زمین کرایہ پر دیتے تھے تو بعض اوقات اس زمین کی تباہی ہوتی اور دوسری سلامت رہتی اور بعض دفعہ یہ سلامت رہتی اور وہ ہلاک ہوجاتی اور لوگوں میں سے بعض کو بچے ہوئے کے علاوہ کچھ کرایہ وصول نہ ہوتا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہاں اگر کرایہ کے بدلے کوئی معین اور ضمانت شدہ چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
Hanzala bin Qais al-Ansri reported: I asked Rafi bin Khadij about the renting of land for gold and silver, whereupon he said: There is no harm in it for the people let out land situated near canals and at the ends of the streamlets or portion of fields. (But it so happened) that at times this was destroyed and that was saved. whereas (on other occasions) this portion was saved and the other was destroyed and thus no rent was payable to the people (who let out lands) but for this one (which was saved). It was due to this that he (the Holy Prophet) prohibited it. But if there is something definite and reliable (e. g. money). there is no harm in it.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا قَالَ کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ عَلَی أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا
عمرو ناقد، سفیان بن عتبہ، یحیی، ابن سعید، حضرت حنظلہ زرقی سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج (رض) فرماتے تھے ہم انصار میں سے زیادہ محاقلہ والے تھے اور زمین اس شرط سے کرایہ پر دیتے تھے کہ یہاں کی پیداوار ہمارے لئے اور یہ ان کے لئے کبھی یہاں پیداوار ہوتی اور وہاں نہ ہوتی تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کردیا بہرحال چاندی کے بدلے دینے سے ہمیں منع نہیں کیا۔
Hanzala reported that he heard Rafi bin Khadij (RA) say: We were the major agriculturists of the Ansar and so we let out land (saying): The produce of this (part of land) would be ours and (the produce) of that would be theirs. But it so happened that at times this (land) gave harvest, but the other one produced nothing. So he (the Holy Prophet) forbade this. But so far as the payment in silver (dirham, a coin) is concerned, he did not forbid.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، حماد، ابن مثنی، یزید بن ہارون، حضرت یحییٰ بن سعید نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Said with the same chain of transmitters.
مزارعت اور مواجرہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنْ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاکِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَارَعَةِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَهَی عَنْهَا وَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ
یحییٰ بن یحیی، عبدالواحد بن زیاد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حضرت عبداللہ بن سائب (رض) سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن معقل (رض) سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ثابت بن ضحاک (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع کیا اور کہتے ہیں کہ ابن معقل سے میں نے پوچھا عبداللہ کا نام نہیں لیا۔
Abdullah bin al Saib reported: I askedAbdullah bin Maqil about Muzaraa (cultivating land on share basis in the produce). He said: Thabit bin Dahhak informed me that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade Muzaraa as Ibn Abu Shaiba forbade it with a slight change of words. He (the narrator) said: I asked Ibn Maqil but he did not name Abdullah.
مزارعت اور مواجرہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا
اسحاق بن منصور، یحییٰ بن حماد، ابوعوانہ، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن سائب (رض) سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن معقل (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت ثابت (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا ہے اور اجرت پر دینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
Abdullah bin al-Saib reported: We visited Abdullah bin Maqil and asked him about sharing of crops, whereupon he said: Thabit alleged that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade Muzaraa and commanded leasing it out on rent (for money) and said: There is no harm in it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ مُجَاهِدًا قَالَ لِطَاوُسٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَانْتَهَرَهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، عمرو، مجاہد، طاؤس، رافع بن خدیج، حضرت عمرو (رح) سے روایت ہے کہ مجاہد (رح) نے طاؤس (رح) سے کہا کہ ہمیں رافع بن خد یج (رض) کے لڑکے کے پاس لے چلو اور ان سے حدیث سنو جو وہ اپنے باپ کے واسطے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں طاؤس سے روایت کرتے ہیں طاؤس نے مجاہد کو جھڑکا اور کہا اللہ کی قسم ! اگر میں جانتا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے تو میں نہ کرتا لیکن مجھے حدیث بیان کی اس نے جو صحابہ (رض) میں سے زیادہ جاننے والے ہیں یعنی ابن عباس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو اپنی زمین ہبہ کر دے تو یہ اس سے معین کرایہ و خراج وصول کرنے سے بہتر ہے
Mujahid said to Tawus: Come along with me to Ibn Rafi bin Khadij in order to listen from him the hadith transmitted on the authority of his father (pertaining to the renting of land) from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He (Tawus) scolded him and said: By Allah, it I were to know that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had forbidden it, I would have never done it. But it has been narrated to me by one who has better knowledge of it amongst them (and he meant Ibn Abbas) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It is better if a person lends, his land to his brother (for cultivation) than that he gets recognised rent on it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ کَانَ يُخَابِرُ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَکْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُخَابَرَةِ فَقَالَ أَيْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِکَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا قَالَ يَمْنَحُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
ابن ابی عمر، سفیان، عمرو، حضرت عمر بن طاؤس سے روایت ہے کہ طاؤس اپنی زمین مخابرہ پر دیتا تھا عمرو کہتے ہیں میں نے انہیں کہا اے ابوعبدالرحمن کاش تم مخابرہ چھوڑ دو کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مخابرہ سے منع کیا تو انہوں نے کہا اے عمرو ! مجھے ان سے زیادہ جاننے والے یعنی ابن عباس (رض) نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اگر اپنے بھائی کو زمین ہبہ کر دے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے معین خراج و کرایہ وصول کرے۔
Tawus reported that he let out his land on rent, whereupon Amr said: I said to him: Abu Abdul Rahrman, I wish if you abandon this renting of land, for they alleged that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade Mukhabara. He siad: Amr, one who has informed me has the best knowledge of it among them (he meant Ibn Abbas (RA) ). (He said) that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not prohibit it altogether, but said: Lending of land by one among you to his brother is better for him than getting a specified amount of produce from it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ شَرِيکٍ عَنْ شُعْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابن ابی عمر، ثقفی، ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، محمد بن رمح، لیث، ابن جریج، علی بن حجر، فضل بن موسی، شریک، شعبہ، حضرت عمرو (رح) بن دینار، طاؤس (رح) ، ابن عباس (رض) کی روایت کی طرح دوسری سندات بیان کی ہیں ان اسناد سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ibn Abbas (RA) .
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا کَذَا وَکَذَا لِشَيْئٍ مَعْلُومٍ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
عبد بن حمید، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین ہبہ کر دے یہ اس سے اتنی اتنی معلوم چیز وصول کرنے سے بہتر ہے ابن عباس (رض) نے فرمایا یہی حقل ہے جسے انصار محاقلہ کہتے ہیں۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If one among you lets out land to his brother, that is better for him than if he receives such and such (the definite thing). Ibn Abbas (RA) said: It is Haql, and in the parlance of the Ansar it is Muhaqala.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَإِنَّهُ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، عبداللہ بن جعفر، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عبدالملک بن زید، طاؤس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو اور وہ اسے اپنے بھائی کو ہبہ کرے تو اس کے لئے یہ بہتر ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who has land, it is better for him that he should let it out to his brother.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ
احمد بن حنبل، زہیر بن حرب، یحیی، قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خبیر سے زمین کی پیداوار پھل یا کھیتی سے نصف پر عمل کرایا۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) contracted with the people of Khaibar the (trees) on the condition that he would have half the produce in fruits and harvest.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَکَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ کُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَائَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَالْمَائَ وَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَکَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَائَ
علی بن حجر سعدی، علی ابن مسہر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین خیبر اس کی پیداوار پھل یا کھیتی سے نصف کے عوض دی اور آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات (رض) کو ہر سال سو وسق عطا کرتے تھے اسّی وسق کھجور اور بیس وسق جو جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنائے گئے اور اموال خیبر کو تقسیم کیا گیا تو ازواج نبی ﷺ کو اختیار دیا کہ وہ اپنی زمین اور پانی سے حصہ لے لیں یا ہر سال ان کے لئے اوساق مقرر کر دئیے جائیں ازواج مطہرات (رض) میں اختلاف ہوا بعض نے تو ہر سال اوساق کو اختیار کیا اور بعض نے زمین اور پانی کو پسند کیا سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) اور حفصہ (رض) ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو پسند کیا۔
Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) handed over the land of Khaibar (on the condition) of the share of produce of fruits and harvest, and he also gave to his wives every year one hundred wasqs: eighty wasqs of dates and twenty wasqs of barley. When Umar became the caliph he distributed the (lands and trees) of Khaibar, and gave option to the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to earmark for themselves the land and water or stick to the wasqs (that they got) every year. They differed in this matter. Some of them opted for land and water, and some of them opted for wasqs every year. Aisha and Hafsa were among those who opted for land and water.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فَکَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَائَ وَقَالَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَائَ
ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خبیر کو زمین کی پیداوار کھیتی یا پھل کے نصف پر عامل بنایا باقی حدیث گزر چکی لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) اور حفصہ (رض) ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو پسند کیا اور کہا کہ ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا کہ ان کے لئے زمین قطع کردی جائے اور پانی کا ذکر نہیں کیا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) contracted with the people of Khaibar (land and trees on the condition that they should give) half of the yield from land and trees. The rest of the hadith is the same. In the hadith transmitted on the authority of AIi bin Mushir there is no mention of it, but that Aisha and Hafsa were those who opted for land and water, but he (the narrator) said: He (Hadrat Umar, gave option to the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that land would be earmarked for them, but he made no mention of water.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَی أَنْ يَعْمَلُوا عَلَی نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُقِرُّکُمْ فِيهَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَ فِيهِ وَکَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَی السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْسَ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، اسامہ بن زیدلیثی، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب خبیر فتح کیا گیا تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ انہیں خبیر میں ہی زمین کی پیداوار پھل اور کھیتی میں سے نصف کے عوض کا شتکاری کرنے کے لئے رہنے دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس عمل پر اس وقت تک ٹھہرنے دوں گا جب تک ہم چاہیں گے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ خیبر کے نصف پھل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس میں سے خمس حاصل کرتے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that when Khaibar had been conquered, the Jews asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to let them continue (cultivation in those lands) on half of the share of yield in fruits and crop, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I will allow you to continue here, so long as we would desire. The rest of the hadith is the same, but with this addition:" The fruit would be distributed equal to the half of Khaibar. And out of hall of the produce of the land, Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be be upon him) got the fifth part."
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَفَعَ إِلَی يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَی أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا
ابن رمح، لیث، محمد بن عبدالرحمن، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خبیر کے درخت اور اس کی زمین کو یہود خیبر کے سپرد اس بات پر کیا کہ وہ اپنے اموال سے اس کی خدمت کریں گے اور اللہ کے رسول ﷺ کے لئے اس کے پھل کا نصف ہوگا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) returned to the Jews of Khaibar the date-palms of Khaibar and its land on the condition that they should work upon them with their own wealth (seeds, implements), and give half of the yield to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَی الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَکَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَی أَنْ يَکْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّکُمْ بِهَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّی أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَی تَيْمَائَ وَأَرِيحَائَ
محمد بن رافع، اسحاق بن منصور، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے یہود و نصاری کو سر زمین حجاز سے نکال دیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر پر غالب ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اس لئے کہ جب آپ ﷺ اس زمین پر غالب ہوگئے تو وہ زمین اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لئے ہوگئی آپ ﷺ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر رہنے دینے کی درخواست کی کہ وہ اس زمین کی محنت کریں گے اور ان کے لئے آدھا پھل ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا ہم تمہیں اس بات پر جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے وہ اس میں رہتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) نے انہیں تیماء یا اریحا کی طرف جلا وطن کردیا۔
Ibn Umar (RA) reported that Umar bin al-Khattab (RA) expelled the Jews and Christians from the land of Hijaz, and that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) conquered Khaibar he made up his mind to expel the Jews from it (the territory of Khaibar) because, when that land was conquered, it came under the sway of Allah, that of His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and that of the Muslims. The jews asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to let them continue there on the condition that they would work on it, and would get in turn half of the fruit (of the trees), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: We would let you continue there so long as we will desire. So they continued (to cultivate the lands) till Umar externed them to Taima ang Ariha (two villages in Arabia, but out of Hijaz).