نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَائِ وَأَنَّ أَبَاهُ کَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے زمانہ میں عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا اور ان کے والد یعنی سبرہ دو سرخ چادروں کے بدلہ میں نکاح متعہ کرتے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Rabi bin Sabra that Allahs Messenger ﷺ forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ بِمَکَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللَّهُ قُلُوبَهُمْ کَمَا أَعْمَی أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَتْ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَی عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَائَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا کَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَی عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کردیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو میری عمر کی قسم امام المتقین یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ( ابن عباس ؓ سے) ابن زبیر ؓ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کرلو اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا عمل کیا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے اس سے آکر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اس نے اسے اس کی اجازت دے دی تو اس سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جا انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین ﷺ کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح پھر اللہ نے دین کو مضبوط کردیا اور متعہ سے منع کردیا ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنی نے خبر دی ہے اس کے باپ نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
Urwa bin Zabair reported that Abdullah bin Zubair (RA) stood up (and delivered an address) in Makkah saying: Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn Abbas). Ibn Abbas (RA) called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Muta was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allahs Messenger, ﷺ , and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said Khalid bin Muhajir bin Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Muta and he permitted him to do it. Ibn Abu Amrah al-Ansari (RA) said to him: Be gentle. It was permitted in the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi bin Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu Amir for two cloaks during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ ; then he forbade us to do Muta. Ibn Shihab said: I heard Rabi bin Sabra narrating it to Umar bin Abdul Aziz and I was sitting there.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ وَقَالَ أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ کَانَ أَعْطَی شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن ابی عبلہ، عمر بن عبدالعزیز، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ سے ممانعت فرمائی اور فرمایا آگاہ رہو یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جس نے کوئی چیز دی ہو تو اسے واپس نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father: Allahs Messenger ﷺ prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبداللہ، حسن، محمد بن علی، حضرت علی ؓ بن ابوطالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Ali bin AbiTalib reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited on the Day of Khaibar the contracting of temporary marriage with women and the eating of the flesh of domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِفُلَانٍ إِنَّکَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ يَحْيَی عَنْ مَالِکٍ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، حضرت مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک آدمی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اسے کہہ رہے تھے کہ تو ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے رسول اللہ ﷺ نے متعہ سے منع فرمایا باقی حدیث یحییٰ بن مالک کی حدیث کی طرح ہے۔
Malik narrated this hadith on the authority of the same chain of transmitters that Ali Ibn Abi Talib (RA) said to a person: You are a person led astray; Allahs Messenger ﷺ forbade us (to do Muta), as is stated In the hadith transmitted on the authority of Yahya bin Malik.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان ابن عیینہ، زہری، حسن، عبداللہ، محمد بن علی، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Muhammad bin Ali narrated on the authority of his father Ali that Allahs Apostle ﷺ on the Day of Khaibar prohibited for ever the contracting of temporary marriage and eating of the flesh of the domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَقَالَ مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، ابن شہاب، حسن، عبداللہ، محمد بن علی، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو عورتوں کے متعہ میں نرمی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ٹھہر جاؤ اے ابن عباس ؓ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے غزوہ خیبر کے دن منع فرمایا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی۔
Ali (RA) heard that Ibn Abbas (RA) gave some relaxation in connection with the contracting of temporary marriage, whereupon he said: Dont be hasty (in your religious verdict), Ibn Abbas, for Allahs Messenger ﷺ on the Day of Khaibar prohibited for ever the doing of it and eating of the flesh of domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حسن، عبداللہ، حضرت محمد بن علی بن ابوطالب ؓ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت علی ؓ بن ابی طالب کو ابن عباس ؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Ali (RA) said to Ibn Abbas (RA) that Allahs Messenger ﷺ on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بھتیجی اور اس کی پھوپھی اور بھانجی اور اس کی خالہ کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace upon him) having said this: One should not combine a woman and her fathers sister, nor a woman and her mothers sister in marriage.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک بن مالک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عورتوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا بھتیجی اور اس کی پھوپھی اور بھانجی اور اس کی خالہ کو
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade combining of four women in marriage: a woman with her fathers sister, and a woman with her mothers sister.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُنْکَحُ الْعَمَّةُ عَلَی بِنْتِ الْأَخِ وَلَا ابْنَةُ الْأُخْتِ عَلَی الْخَالَةِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، عبدالرحمن بن عبدالعزیز، ابن مسلمہ، امامہ بن سہل بن حنیف، ابن شہاب، قبیصہ بن ذوئیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ پھوپھی کا نکاح بھائی کی بیٹی پر اور بہن کی بیٹی پر خالہ کا نکاح نہ کیا جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ say: Fathers sister should not be combined with her brothers daughter, nor the daughter of a sister with her mothers sister.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْکَعْبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَی خَالَةَ أَبِيهَا وَعَمَّةَ أَبِيهَا بِتِلْکَ الْمَنْزِلَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، قبیصہ بن ذوئیب کعبی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ کو ایک ہی نکاح میں جمع کرے ابن شہاب نے کہا کہ ہم اس عورت کے والد کی خالہ اور پھوپھی کو اسی مقام میں خیال کرتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade a person to combine in marriage a woman and her fathers sister, and a woman and her mothers sister. Ibn Shihab said: So we regarded the paternal aunt of her (wifes) father and the maternal aunt of her (wifes) father at the same level.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی أَنَّهُ کَتَبَ إِلَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَةُ عَلَی عَمَّتِهَا وَلَا عَلَی خَالَتِهَا
ابومعن رقاشی، خالد بن حارث، ہشام، یحیی، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی عورت کا نکاح اس کی خالہ یا اس کی پھوپھی پر نہ کیا جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: One should not combine in marriage a woman with her fathers sister, or her mothers sister.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَی خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَسُومُ عَلَی سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأَةُ عَلَی عَمَّتِهَا وَلَا عَلَی خَالَتِهَا وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَکْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْکِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا کَتَبَ اللَّهُ لَهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے اور نہ بھاؤ کرے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اور نہ کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ پر کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے لوٹ لے اور چاہیے کہ نکاح کرے اور اس کو وہی ملے گا جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A man must not make proposal of marriage to a woman when his brother has done so already. And he must not offer a price for a thing for which his brother had already offered a price; and a woman must not be combined in marriage with her fathers sister, nor with her mothers sister, and a woman must not ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her, but she must marry, because she will have what Allah has decreed for her.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَةُ عَلَی عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَکْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا
محرز بن عون بن ابی عون، علی بن مسہر، داؤد بن ابی ہند، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی یا خالہ پر کیا جائے یا کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے تاکہ وہ عورت اس کا برتن اپنے لئے لوٹ لے پس بیشک اللہ اس کو رزق دینے والا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the combining of a woman in marriage with her fathers sister, or with her mothers sister, or that a woman should ask for divorce for her sister in order to deprive her of what belongs to her. Allah, the Exaltedand Majestic, is her Sustainer too.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی وَابْنِ نَافِعٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوبکر بن نافع، ابن ابی عدی، شعبہ، عمرو بن دینار، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کسی عورت کا اس کی خالہ اور پھوپھی کے ساتھ ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade to combine a woman and her fathers sister, and a woman and her mothers sister.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن حاتم، شبابہ، ورقاء، عمرو بن دینار اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Amr bin Dinar
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَحْضُرُ ذَلِکَ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَجِّ فَقَالَ أَبَانُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْکَحُ وَلَا يَخْطُبُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، نبیہ بن وہب، عمر بن عبیداللہ، طلحہ بن عمر بنت شیبہ، ابن جبیر، حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حالت احرام میں نکاح نہ کرو اور نہ کسی کے لئے کیا جائے اور نہ پیغام نکاح دے۔
Nubaih bin Wahb reported that Umar bin Ubaidullah intended to marry Talha bin Umar with the daughter of Shaiba bin Jubair; so he sent a messenger to Aban bin Uthman to attend the marriage, and he was at that time the Amir of Hajj. Aban said: I heard Uthman bin Affan say that Allahs Messenger ﷺ had stated: A Muhrim must neither marry himself, nor arrange the marriage of another one, nor should he make the proposal of marriage.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ وَکَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَی ابْنِهِ فَأَرْسَلَنِي إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَی الْمَوْسِمِ فَقَالَ أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْکِحُ وَلَا يُنْکَحُ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عُثْمَانُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن ابی بکر مقدمی، حماد بن زید، ایوب، نافع، حضرت نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ مجھے عمر بن عبیداللہ بن معمر نے مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ابان ابن عثمان ؓ کے پاس بھیجا اور وہ اپنے بیٹے کا نکاح شیبہ بن عثمان ؓ کی بیٹی سے کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ میں اسے دیہاتی خیال کرتا ہوں کیونکہ حالت احرام میں نہ اپنا نکاح کرسکتا ہے نہ دوسرے کا ہمیں حضرت عثمان نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کی خبر دی۔
Nubaih bin Wahb reported: Umar bin Ubaidullah bin Mamar sent me to Aban bin Uthman as he wanted to make the proposal of the marriage of his son with the daughter of Shaiba bin Uthman. He (Aban bin Uthman) was at that time (busy) in the season of Pilgrimage. He said: I deem him to be a man of the desert (for it is a common thing) that a Muhrim can neither marry, nor is he allowed to be married to anyone. It is Uthman (b. Affan) who reported this to us from Allahs Messenger ﷺ .