اس آدمی کے بیان میں جس نے کسی عورت کو دیکھا اور اپنے نفس میں میلان پایا تو چاہیے کہ وہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے آکر صحبت کرلے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَةً فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَأَتَی امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً وَلَمْ يَذْکُرْ تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابن ابی العالیہ، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؓ نے ایک عورت کو دیکھا پھر اسی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیوی زینب ؓ کے پاس آئے اور وہ کھال کو دباغت دے رہی تھیں اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ وہ شیطانی صورت میں جاتی ہے۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ saw a woman; and the rest of the hadith was narrated but (with this exception) that he said he came to his wife Zainab, who was tanning a (piece of) leather, and he made no mention of: "She retires in the shape of satan."
اس آدمی کے بیان میں جس نے کسی عورت کو دیکھا اور اپنے نفس میں میلان پایا تو چاہیے کہ وہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے آکر صحبت کرلے۔
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَدُکُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَی امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِکَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت اچھی لگے اور اس کے دل میں واقع ہوجائے تو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف ارادہ کرے اور اس سے صحبت کرے کیونکہ یہ اس کے دل کے میلان کو دور کرنے والا ہے۔
Jabir heard Allahs Apostle ﷺ say: When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ وَابْنُ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَائٌ فَقُلْنَا أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، وکیع، ابن بشر، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتی تھیں ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی نہ ہوجائیں آپ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا پھر ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے کے بدلے مقررہ مدت تک کے لئے نکاح کرلیں پھر حضرت عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی اے ایمان والو! پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اور نہ حد سے تجاوز کرو بیشک اللہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Abdullah (b. Masud) reported: We were on an expedition with Allahs Messenger ﷺ and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so. He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and Abdullah then recited this verse: Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Quran, v. 87).
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلَمْ يَقُلْ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسماعیل بن ابی خالد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی عبداللہ ؓ نے تلاوت کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that Abdullah recited it.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ کُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي وَلَمْ يَقُلْ نَغْزُو
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ہم نوجوان تھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم خصی نہ ہوجائیں؟ ہم جہاد کرتے تھے نہیں کہا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ismail with the same chain of transmitters (and the words are): "We were young, so we said: Allahs Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition."
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَکُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَائِ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا منادی آیا تو اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں نکاح متعہ کی اجازت دی ہے۔
Jabir bin Abdullah and Salama bin al-Akwa said: There came to us the proclaimer of Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger ﷺ has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ
امیہ بن بسطام عیشی، یزید ابن زریع، روح، ابن قاسم، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، سلمہ بن اکوع، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی۔
Salama bin al. Akwa and Jabir binAbdullah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ came to us and permitted us to contract temporary marriage.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَائَ ثُمَّ ذَکَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ
حسن حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت عطا ؓ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ عمرہ کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے لوگوں نے مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کئے پھر لوگوں نے متعہ کا ذکر کیا آپ نے کہا جی ہاں ہم نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر وعمر ؓ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا۔
IbnJuraij reported: Ata reported that Jabir binAbdullah (RA) came to perform Umrah, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Holy Prophet ﷺ and during the time of Abi Bakr and Umar.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ حَتَّی نَهَی عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانہ میں متعہ کرلیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔
Jabir bin Abdullah reported: We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dowery during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and during the time of Abu Bakr (RA) until Umar forbade it in the case of Amr bin Huraith.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا
حامد بن عمر بکراوی، عبدالواحد ابن زیاد، عاصم، حضرت ابونضرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا ایک آنے والا آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ کے درمیان دونوں متعہ (حج و نکاح) میں اختلاف ہوگیا ہے سو جابر ؓ نے کہا کہ ہم ان دونوں متعہ (حج ونکاح) کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے تھے پھر حضرت عمر ؓ نے ہمیں ان سے منع کردیا تو اس کے بعد ہم نے انہیں نہیں لوٹایا نہیں کیا۔
Abu Nadra reported: While I was in the company of Jabir binAbdullah, a person came to him and said that Ibn Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mutas (Tamattu of Hajj 1846 and Tamattu with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَی عَنْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔
Iyas bin Salama reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَی امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِي فَقُلْتُ رِدَائِي وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي وَکَانَ رِدَائُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَکُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَی رِدَائِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُکَ يَکْفِينِي فَمَکَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَائِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، حضرت ربیع بن سبرہ الجہنی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی تو میں اور ایک آدمی بنی عامر کی ایک عورت کی طرف چلے جو نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا تم مجھے کیا عطا کرو گے؟ میں نے کہا اپنی چادر اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی اور میں اس سے زیادہ نوجوان تھا پس اس عورت نے جب میری طرف دیکھا تو مجھے پسند کیا پھر اس نے کہا تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے پس میں اس کے ساتھ تیں دن تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس مقررہ مدت نکاح والی عورتیں ہوں جن سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے تو چاہیے کہ وہ انہیں آزاد کر دے۔
Sabra Juhanni reported: Allahs Messenger ﷺ permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allahs Messenger ﷺ said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشرا بن مفضل، عمارہ بن غزیہ، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن (یعنی دن رات تیس) قیام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کرسکتی ہے اس نے کہا تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہ ﷺ نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا۔
Rabi bin Sabra reported that his father went on an expedition with Allahs Messenger ﷺ during the Victory of Makkah, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allahs Messenger ﷺ permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloak. My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Makkah, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said: Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allahs Messenger ﷺ declared it forbidden.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَی مَکَّةَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاکَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ
احمد بن صخر دارمی، ابونعمان، وہیب، عمارہ بن غزیہ، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فتح مکہ کے سال نکلے باقی حدیث بشر کی طرح ہی ذکر کی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ اس عورت نے کہا یہ درست ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھی نے کہا یہ چادر پرانی اور گئی گزری ہے۔
Rabi bin Sabra al-juhanni reported on the authority of his father. We went with Allahs Messenger ﷺ to Makkah during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition: "She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it: "He said: The cloak of this (man) is old and worn out."
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَائِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا
محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبدالعزیز ابن عمر، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور ان سے جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father that while he was with Allahs Messenger (may peace be upon hm) he said: O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower).
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبدالعزیز بن عمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ ارشاد فرماتے دیکھا ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdul Aziz bin Umar with the same chain of transmitters, and he said: I saw Allahs Messenger ﷺ standing between the pillar and the gate (of the Ka’bah) and he was relating a hadith as narrated by Ibn Numair.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَکَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّی نَهَانَا عَنْهَا
اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، ابراہیم بن سعد، حضرت عبدالملک بن ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فتح مکہ کے سال مکہ میں داخلہ کے وقت نکاح متعہ کی اجازت دی پھر ہم مکہ سے نکلے ہی نہ تھے کہ آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
Abdul Malik bin Rabi bin Sabraal-Juhanni reported on the authority of his father who narrated it on the authority of his father (i e. Abdul Maliks grandfather, Sabura al-juhanni): Allahs Messenger ﷺ permitted us to contract temporary marriage in the Year of Victory, as we entered Makkah, and we did come out of it but he forbade us to do it.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَکَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنْ النِّسَائِ قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّی وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَی نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي وَتَرَی بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَی صَاحِبِي فَکُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ربیع ابن سبرہ بن معبد، حضرت ابی ربیع بن سبرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو فتح مکہ کے سال عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی راوی کہتے ہیں پس میں اور میرا ایک ساتھی بنی سلیم سے نکلے یہاں تک کہ ہم نے بنی عامر کی ایک عورت کو پایا جو کہ نوجوان اور لمبی گردن والی معلوم ہوتی تھی ہم نے اسے نکاح متعہ کا پیغام دیا اور اس کے سامنے ہم نے اپنی اپنی دو چادریں پیش کیں پس اس نے مجھے دیکھنا شروع کیا کیونکہ میں اپنے ساتھی سے زیادہ خوبصورت تھا اور میرے ساتھی کی چادر کو دیکھا جو کہ میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی تھوڑی دیر تک اس نے سوچا پھر مجھے میرے ساتھی سے پسند کرلیا پس وہ میرے ساتھ تین دن تک رہی پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مسلمانوں کو ان کے چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
Sabra bin Mabad reported that Allahs Apostle ﷺ permitted his Companions to contract temporary marriage with women in the Year of Victory. So I and a friend of mine from Banu Sulaim went out, until we found a young woman of Banu Amir who was like a young she-camel having a long neck. We made proposal to her for contracting temporary marriage with us, and presented to her our cloaks (as dower). She began to look and found me more handsome than my friend, but found the cloak of my friend more beautiful than my cloak. She thought in her mind for a while, but then preferred me to my friend. So I remained with her for three (nights), and then Allahs Messenger ﷺ commanded us to part with them (such women).
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ
عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi bin Sabra reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ prohibited the contracting of temporary marriage.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، معمر، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi bin Sabra reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women.