کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَکْذِبُ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّی أَزِيدَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَائِ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا قَالَ لَوْ کُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَکْتُهُ عَلَی مَا بَنَی ابْنُ الزُّبَيْرِ
محمد بن حاتم، عبداللہ بن بکر، حاتم بن ابی صغیرہ، ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کے طواف کے دوران کہہ رہا تھا کہ اللہ ابن زبیر ؓ کو ہلاک کر دے وہ ام المومنین پر جھوٹ کہتا تھا اور کہتا ہے کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے نیانیا کفر چھوڑا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑ کر حطیم والے حصہ کو اس میں شامل کردیتا کیونکہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی تعمیر کو کم کردیا ہے حارث بن عبداللہ کہتے ہیں اے امیرالمومنین! آپ ایسے نہ کہیں کیونکہ میں نے ام المومنین ؓ سے یہ حدیث خود سنی ہے عبدالملک نے کہا کہ اگر میں یہ بات بیت اللہ کو گرانے سے پہلے سن لیتا تو میں حضرت ابن زبیر والی تعمیر کو قائم رہنے دیتا۔
Abu Qazaah reported that while Abdul Malik bin Marwan was circumambulating the Ka’bah he said: May Allah ruin Ibn Zubair that he lies in attributing to the Mother of the Faithful, as he says: I heard her stating that Allahs Messenger ﷺ had said: Aisha, if your people had not been new converts to Islam, I would have demolished the House and would have added (in it area) from the Hijr for your people have reduced the area from its foundations. Harith bin Abdullah bin Abu Rabia (RA) said: Commander of the Faithful, dont say that, for I heard the Mother of the Faithful saying this, whereupon he said: If I had heard this before demolishing it, I would have left it in the state in which Ibn Zabair had built it.
کعبہ کی دیوار اور اس کے دروازے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَلِکِ قَوْمُکِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَائُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَائُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ
سعید بن منصور، ابواحوص، اشعث بن ابی شعثاء، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ میں شامل ہے یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے عرض کیا کہ پھر اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں کے پاس اس کا خرچہ کم ہوگیا تھا میں نے عرض کیا کہ اس کا دروازہ بلند کیوں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس طرح کیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں اور اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ انہیں ناگوار لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دیتا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about the wall, circumpassing the House (i. e. whether the wall on the side of Hijr was included in the Ka’bah). He said, Yes. I said: Then why did they not include it in the House? He said: Your people ran short of the means (to do so). I said: Why is it that the level of its door is raised high? He said: Your people did it so that they should admit one whom they liked, and forbid him whom they disliked, and if your people were not new converts to faith, and I did not apprehend that their hearts would feel agitated at this, I would have definitely included (the area of) this wall-in the House and would have brought the door to the level of the ground.
کعبہ کی دیوار اور اس کے دروازے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَقَالَ فِيهِ فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ وَقَالَ مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ، ابن موسیٰ شیبان، اشعث بن ابی شعثاء، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حطیم کے بارے میں پوچھا آگے حدیث اسی طرح ہے اور اس میں ہے کہ بیت اللہ کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے کہ سوائے سیڑھی کے اس کی طرف نہیں چڑھا جاسکتا فرمایا کہ ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہونے کا ڈر ہے۔
Aisha reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about Hijr, and the rest of the hadith is the same. I also said: Why is it that the door has been made on a higher level, and one cannot (get into it) but with the help of a ladder? The rest of the hadith is the same as reported above and the concluding words are: (I do not change it) out of the apprehension that their hearts may disapprove of it.
عاجز اور بوڑھا وغیرہ یا میت کی طرف سے حج کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَی عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَکَتْ أَبِي شَيْخًا کَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَی الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِکَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سلیمان بن یسار، ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار تھے کہ ایک عورت آئی جو قبیلہ خثعم سے تھی اس نے آپ ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو حضرت فضل ؓ کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فضل ؓ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا وہ عورت عرض کرتی ہے اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے میرا باپ تو بہت بوڑھا ہے وہ طاقت نہیں رکھتا کہ سواری پر بیٹھ سکے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور یہ حجہ الوداع کا واقعہ ہے۔
Abdullah bin Abbas reported that while al-Fadl bin Abbas had been riding behind Allahs Messenger ﷺ a women of the tribe of Khatham came to him (to the Holy Proppet) asking for a religious verdict. Fadl looked at her and she looked at him. Allahs Messenger ﷺ turned the face of al-Fadl to the other side. She said: Messenger of Allah, there is an obligation from Allah upon His servants in regard to Hajj. (But) my father is an aged man; he is incapable of riding safely. May I perform Hajj on his behalf? He said: Yes. It was during the Farewell Pilgrimage.
عاجز اور بوڑھا وغیرہ یا میت کی طرف سے حج کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ کَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَی ظَهْرِ بَعِيرِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُجِّي عَنْهُ
علی بن خشرم، عیسی، ابن جریج، حضرت فضل ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت عرض کرتی ہے اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ بوڑھا ہے ان پر اللہ نے حج فرض کردیا ہے اور وہ اپنے اونٹ کی پشت پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تو ان کی طرف سے حج کرلے۔
Fadl reported that a woman of Banu Khatham said: Messenger of Allah, my father is very old. There is an obligation of Hajj upon him from Allah, but he is not capable of sitting on the back of the camel. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Perform Hajj on his behalf.
بچے کے حج کے صحیح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَکْبًا بِالرَّوْحَائِ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا مَنْ أَنْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابراہیم بن عقبہ، کریب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے روحاء کے مقام پر کچھ سواروں نے ملاقات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کونسی قوم ہو؟ وہ کہنے لگے مسلمان تو ان لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کون ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا رسول ﷺ تو ان میں سے ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر عرض کیا کہ کیا اس کا بھی حج ہوجائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور تجھے بھی اجر ملے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ met some riders at al-Rauha and asked who they were. They replied that they were Muslims. They said: Who are thou? He said: (I am) Messengef of Allah. A woman (then) lifted up a boy to him and said: Would this child be credited with having performed the Hajj? Thereupon he said: Yes, and you will have a reward.
بچے کے حج کے صحیح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَفَعَتْ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، سفیان، محمد بن عقبہ، کریب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہوجائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی اس کا اجر ملے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported: A woman lifted up her child and said: Messenger of Allah, would the child be credited with having performed the Hajj? Thereupon he said: Yes, and there would be a reward for you.
بچے کے حج کے صحیح ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، بن سفیان، ابراہیم، بن عقبہ، حضرت کریب ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے بچے کو اٹھا کر عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس کا حج ہوجائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی اجر ملے گا۔
Karaib reported: A woman lifted a child and said: Messenger of Allah, would he be credited with Hajj? He said: Yes and for you there would be a reward.
بچے کے حج کے صحیح ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، محمد بن عقبہ، کریب، ابن عباس اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Abbas through another chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ عمر میں ایک مرتبہ حج فرض کیا گیا ہے۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَکَتَ حَتَّی قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَی أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُکُمْ عَنْ شَيْئٍ فَدَعُوهُ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ربیع بن مسلم، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس تم حج کرو تو ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ نے تین مرتبہ عرض کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں کہتا ہاں تو ہر سال حج واجب ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن باتوں کو میں چھوڑ دیا کروں تم ان کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور وہ اپنے نبیوں سے اختلاف کرتے تھے جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم کروں تو حسب استطاعت تم اسے اپنا لو اور جب تمہیں کسی چیز سے روک دوں تو تم اسے چھوڑ دو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ addressed us and said: O people, Allah has made Hajj obligatory for you; so perform Hajj. Thereupon a person said: Messenger of Allah, (is it to be performed) every year? He (the Holy Prophet) kept quiet, and he repeated (these words) thrice, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: If I were to say "Yes," it would become obligatory (for you to perform it every year) and you would not be able to do it. Then he said: Leave me with what I have left to you, for those who were before you were destroyed because of excessive questioning, and their opposition to their apostles. So when I command you to do anything, do it as much as it lies in your power and when I forbid you to do anything, then abandon it.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی عورت تین دن سفر نہ کرے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ محرم ہو یعنی محرم کے بغیر عورت کو سفر کرنے سے منع فرما دیا گیا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman should not set out on three (days journey) except when she has a Mahram with her.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ ثَلَاثَةً إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ نے اپنے باپ سے اس طرح روایت نقل کی ہے اس روایت میں بھی یہی ہے کہ عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔
This hadith has been narrated on the same authority by Ubaidullah. And in the narration of Abu Bakr (RA) (the words are): "More than three (days)." Ibn Numair narrated on the authority of his father, (and the words are): "Three (days) except (when) she has a Mahram with her."
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت کے لئے جو کہ اللہ عزوجل پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ تین راتوں کی مسافت سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔
Abdullah bin Umar (RA) (Allah -be pleased with them) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Hereafter to travel for more than three nights journey except when there is a Mahram with her.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَقُولُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَی ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَی وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ مِنْ الدَّهْرِ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ زَوْجُهَا
قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، قتیبہ، جریر، عبدالملک، ابن عمیر، حضرت قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے ایک حدیث سنی جو کہ مجھے بہت اچھی لگی چناچہ میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے آپ نے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ پر پس پردہ وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے آپ ﷺ سے نہ سنا ہو راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سامان سفر نہ باندھو سوائے تین مسجدوں کی طرف میری یہ مسجد (مسجد نبوی) مسجد حرام، مسجد اقصی اور میں نے آپ ﷺ سے یہ بھی سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی عورت دو دن کا سفر نہ کرے سوائے اس کے کہ اس کا کوئی محرم یا اس کا خاوند اس کے ساتھ ہو۔
Qazaah reported: I heard a hadith from Abu Said (RA) and it impressed me (very much), so I said to him: Did you hear it (yourself) from Allahs Messenger ﷺ ? Thereupon he said: (Can) I speak of anything about Allahs Messenger ﷺ which I did not hear? He said: I heard Allahs Messenger ﷺ saying: Do not set out on a journey (for religious devotion) but for the three mosques-for this mosque of mine (at Madinah) the Sacred Mosque (at Makkah), and the Mosque al-Aqsa (Bait al-Maqdis), and I heard him saying also: A woman should not travel for two days duration, but only when there is a Mahram with her or her husband.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي نَهَی أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَاقْتَصَّ بَاقِيَ الْحَدِيثِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک، بن عمیر، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بڑی اچھی لگیں ان میں سے ایک یہ کہ آپ ﷺ نے عورت کو دو دن کی مسافت کا سفر کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس کے کہ اس کا خاوند یا اس کا محرم اس کے ساتھ ہو۔
Qazaah reported: I heard Abu Said al-Khudri (RA) saying: I heard four things from Allahs Messenger ﷺ which impressed me and captivated me (and one out of these is this), that He forbade a woman to undertake journey extending over two days but with her husband, or with a Mahram; and he then narrated the rest of the hadith.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، مغیرہ، ابراہیم، سہم بن منجاب، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
Abu Said (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman should not set out on three (days) journey, but in the company of a Mahram.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
ابوغسان، محمد بن بشار، معاذ بن ہشام، ابوغسان، حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی عورت تین راتوں سے اوپر سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
Abu Said Khudri (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A woman should not set out on a journey extending beyond three nights but with a Mahram.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
ابن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ کوئی عورت تین دن سے زیادہ سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters and he said: "More than three (days) except in the company of a Mahram."
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان عورت کے لئے ایک رات کی مسافت سفر کرنا بھی حلال نہیں سوائے اس کے کہ ایک آدمی اس کے ساتھ ہو اور وہ بھی محرم۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not lawful for a Muslim woman to travel a nights journey except when there is a Mahram with her.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابی ذئب، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ ایک دن کی مسافت سفر کرے سوائے اس کے کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Hereafter to undertake a days journey except in the company of a Mahram.