عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَکَهُ
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated from Jarir on the authority of Amash with the same chain of transmitters and he said (these words with a little bit of variation from the previous hadith): When (fasting) in Ramadan was (made) obligatory, he abandoned it (the practice of observing fast on Ashura).
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَکَنٍ أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَهُوَ يَأْکُلُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَکُلْ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ کُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن حاتم، زبیدیامی، عمارہ بن عمیر، حضرت قیس بن سکن ؓ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابومحمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے پھر چھوڑ دیا۔
Qais b. Sakan reported that al-Ashath bin Qais went to Abdullah on the day of Ashura while he was eating. He said: Abu Muhammad, come near and dine. Upon this he said: I am fasting. Thereupon he said: We used to observe fast and then (this practice) was abandoned.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَی ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْکُلُ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ قَدْ کَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِکَ فَإِنْ کُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس، علی ابن مسعود، حضرت علقمہ ؓ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ ابن مسعود ؓ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟ تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔
Alqama reported that Ashath bin Qais went to Ibn Masudd while he was eating on the day of Ashura. Thereupon he said: Abu Abdul Rahman, it is the day of Ashura (and you are eating). Upon this he said: Fast was observed on (this day) before the (fasting) in Ramadan was made obligatory, but when it was made obligatory, (fasting on the day of Ashura) was abandoned. So if you are not fasting, then take food.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اشعث بن ابی شعثاء، جعفر بن ابی ثور، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کردئیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اس کا اہتمام فرماتے۔
Jabir b. ahadeeth reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded us to observe fast on the day of Ashura and exhorted us to do it and was particular about it But when (fasting) in Ramadan was made obligatory, he hence forth neither commanded us nor forbade us, nor was he so particular about it.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَائَ وَلَمْ يَکْتُبْ اللَّهُ عَلَيْکُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت حمید بن عبدالرحمن ؓ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن کے لئے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطار کرلے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کرلے۔
Abdul Rahman reported that he heard Muawiyahh bin Abu Sufyan (RA) delivering a sermon in Madinah. i. e. when he came there (for Hajj). He delivered a sermon on the day of Ashura and said: People of Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this very day: It is the day of Ashura. Allah has not made fasting on This day obligatory for you but I am fasting. He who likes to observe fast among you should do so, and he who likes not to observe it may not observe it.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، حضرت ابن شہاب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَائَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَيُونُسَ
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ؓ سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں تو جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھے وہ رکھ لے اور مالک بن انس ؓ اور یونس ؓ کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that be heard Allahs Apostle ﷺ as saying on a similar day: I am fasting today, so he who wishes to observe fast should do so; but he did not make mention of the rest of the hadith.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَی فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو آپ ﷺ نے اس روزے کا حکم فرمایا۔
Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) reported that when Allahs Messenger ﷺ came to Madinah, he found the Jews observing the fast on the day of Ashura. They (the Jews) were asked about it and they said: It is the day on which Allah granted victory to Moses (علیہ السلام) and (his people) Bani Israil over the Pharaoh and we observe fast out of gratitude to Him. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: We have a closer connection with Moses (علیہ السلام) than you have, and he commanded to observe fast on this day.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِکَ
ابن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی بشر اس سند کے ساتھ حضرت ابی بشر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔
This hadith has been narrated by Ibn Bishr with the same chain of transmitters (but with a slight variation) that he (the Holy Prophet) inquired of them (Jews) about it (fasting on the day of Ashura).
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَی اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَی شُکْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم زیادہ حقدار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ ؓ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
IbnAbbas (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah ﷺ arrived in Madinah and found the Jews observing fast on the day of Ashura. The Messenger of Allah ﷺ said to them: What is the (significance) of this day that you observe fast on it? They said: It is the day of great (significance) when Allah delivered Moses (علیہ السلام) and his people, and drowned the Pharaoh and his people, and Moses (علیہ السلام) observed fast out of gratitude and we also observe it. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: We have more right, and we have a closer connection with Moses (علیہ السلام) than you have; so Allahs Messenger ﷺ observed fast (on the day of Ashura), and gave orders that it should be observed.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَمْ يُسَمِّهِ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، حضرت ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن سعید بن جبیر ہے نام ذکر نہیں کیا گیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ يَوْمُ عَاشُورَائَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوهُ أَنْتُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، ابی عمیس، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔
Abu Musa (RA) reported: The day of Ashura was one which the Jews respected and they treated it as Id. The Messenger of Allah ﷺ said: You also observe fast on this day.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
وحدثنا احمد بن المنذر حدثنا حماد بن اسامه حدثنا وزاد قال ابواسامة فحدثنی صدقة بن ابی موسیٰ رضی الله عنه قال کان اهل خيبر يصومون يوم عاشورائ يتخذونه عندا ويلبسون نسائهم فيه حليهم وشارتهم فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم
احمد بن منذر، حماد بن اسامہ، ابوعمیس، قیس، صدقہ بن ابی عمران، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔
Abu Musa reported that the people of Khaibar (most of them were Jews) observed fast on the day of Ashura and they treated it as Id and gave their women ornaments and beautiful dress to wear. The Messenger of Allah ﷺ said: You (only) observe fast on this day.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَی الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، ابوبکر، ابن عیینہ، عبیداللہ ابن ابی یزید، حضرت ابن عباس ؓ سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن فضیلت کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے۔
Ibn Abbas (RA) was asked about observing of fast on the day of Ashura, whereupon he said: I do not know Allahs Messenger ﷺ singling out any days fast and considering it more excellent than another, except this day (the day of Ashura) and this month, meaning the month of Ramadan.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah bin Abi Yazid.
اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا قُلْتُ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب ابن عمر، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم (کے قریب) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چاند دیکھے تو تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں!
Hakam bin al-Araj reported: I went to Ibn Abbas (Allah be Pleased with both of them) and he was reclining using his mantle as a pillow near the fountain of Zamzam. I said to him: Tell me about fasting on Ashura. He said: When you see the new moon of Muharram then count the (days) and observe fast on the 9th. I said to him: Is it how the Messenger of Allah ﷺ observed the fast? He said: Yes.
اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے
Hakam bin Araj reported: I asked Ibn Abbas (RA) as he was reclining using his cloak as a pillow near Zamzam about fasting on Ashura. The rest of the hadith is the same.
اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّی تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حسن بن علی حلوانی، ابن ابی مریم، یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔
Ibn Abbas reported that when the Messenger of Allah ﷺ fasted on the day of Ashura and commanded that it should he observed as a fast, they (his Companions) said to him: Messenger of Allah, it is a day which the Jews and Christians hold in high esteem. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: When the next year comes, God willing, we would observe fast on the 9th But the Messenger of Allah ﷺ died before the advent of the next year.
اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَی قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عباس، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ۔
Abdullah b Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: If I live till the next (year), I would definitely observe fast on the 9th, and the narration transmitted by Abu Bakr (RA) is: "He meant the day of Ashura."
اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ کَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ کَانَ أَکَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَی اللَّيْلِ
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھالیا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرلے۔
Salama bin al-Akwa (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ sent a person of the tribe of Aslam on the day of Ashura and commanded him to declare to the people to observe fast in case they had not observed it, and to complete fast till evening if they had taken food.