سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا و قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَی الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ رُخْصَةٌ مِنْ اللَّهِ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ هِيَ رُخْصَةٌ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ اللَّهِ
ابوطاہر، ہارون بن سعید، ہارون، ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی اسود، عروہ بن زبیر، ابی مرواح، حضرت حمزہ بن عمر اسلمی ؓ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہارون نے اپنی حدیث میں رخصہ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا۔
Hamza bin Amr al-Aslami (RA) said: Messenger of Allah, I find strength in me for fasting on a journey; is there any sin upon me (in doing it)? Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: It is a concession from Allah. He who took advantage of it, it is good for him, and he who preferred to observe fast, there is no sin upon him. Harun (one of the narrators) in his narration said: lt is a concession, and he made no mention of "from Allah".
سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّی إِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
داؤد بن رشید، ولید بن مسلم، سعید بن عبدالعزیز، اسماعیل، عبیداللہ، ام درداء، حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے۔
Abu Darda (RA) reported: We set out during the month of Ramadan with the Messenger of Allah ﷺ in such an intense heat that one of us would place his hand over his head (in order to protect himself) against the excessive heat, and none among us was observing the fast, except the Messenger of Allah ﷺ and Abdullah bin Rawaha.
سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
عبداللہ بن مسلمہ، ہشام بن سعید، عثمان ابن حیان دمشقی، حضرت ام درداء ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھا کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہا تھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔
Abu Darda reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on some of his journeys on an intensely hot day so much so that a person would place his hand on his head (in order to protect himself) against excessive heat, and none amongst us was fasting but the Messenger of Allah ﷺ andAbdullah bin Rawaha
حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، عمیر، مولیٰ ابن عباس، حضرت ام الفضل بنت حارثہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ روزہ سے نہیں تھے۔ آپ ﷺ کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ ﷺ اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پی لیا۔
Umm al-Fadl bint- al-Harith reported that some people argued about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ on the day of Arafa. Some of them said that he had been fasting, whereas the others said that he had not been fasting. I sent a cup of milk to him while he was riding his camel at Arafa, and he drank it.
حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِيرِهِ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی أُمِّ الْفَضْلِ
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، حضرت ابی النصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ ﷺ کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Nadr with the same chain of transmitters, but he did not mention that he was mounting (riding on) his camel.
حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی أُمِّ الْفَضْلِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت سالم بن ابی النضر ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Nadr on the authority of Umair, the freed slave of Umm al-Fadl, through the same chain of transmitters.
حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ شَکَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابی نضر، مولیٰ ابن عباس، حضرت ام فضل ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام فضل ؓ فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو میں نے آپ کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پی لیا۔
Umm al-Fadl (Allah be pleased with her) is reported to have said that some people among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were in doubt about fasting on the day of Arafa and we were with him on that day. I (Umm al-Fadl) sent him a cup of milk and he was halting at Arafa, and he drank that.
حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّاسَ شَکُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، بکیربن اشج، کریب، مولیٰ ابن عباس، حضرت میمونہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں شک میں پڑگئے چناچہ حضرت میمونہ ؓ نے آپ ﷺ کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جس وقت کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اس دودھ سے پیا جبکہ لوگ آپ ﷺ کی طرف دیکھ رہے تھے۔
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas (RA) , reported from Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , that people had doubt about the fasting of Allahs Messenger ﷺ on the day of Arafa. Maimuna sent him a cup of milk and he was halting at a place and he drank it and the people were seeing him.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَائَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ مَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ
زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ ؓ کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض کر دئیے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to fast on the day of Ashura in the pre-Islamic days and the Messenger ot Allah ﷺ also observed it. When he migrated to Madinah, he himself observed this fast and commanded (others) to observe it. But when fasting during the month of Ramadan was made obligatory he said: He who wishes to observe this fast may do so, and he who wishes to abandon it may do so.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَتَرَکَ عَاشُورَائَ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَرِوَايَةِ جَرِيرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but he made no mention in the first part of the hadith that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fast, and said about the second part that he abandoned the (fast) of Ashura, and he who wished observed the fast and who wished otherwise abandoned it, and he did not hold it as the words of the Apostle of Allah ﷺ as mentioned in the narration transmitted by Jarir.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَائَ کَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ مَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ
عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتا تھا تو جب اسلام آیا (تو ﷺ نے فرایا) کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported. In the pre-Islamic days fast was observed on the day of Ashura, but with the advent of Islam (its position was ascertained as that of a voluntary fast). Then he who wished to fast fasted, and he who liked to abandon it abandoned it.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ مَنْ شَائَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے (تو آپ ﷺ نے فرمایا) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ had ordered to observe fast (on Ashura) before the fasting in Ramadan was made obligatory. But when it became obligatory, then he who wished fasted on the day of Ashura, and he who wished did not observe it (on that day).
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عِرَاکًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ قُرَيْشًا کَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَائَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّی فُرِضَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَائَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَائَ فَلْيُفْطِرْهُ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعید، یزید بن ابی حبیب، عروہ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو (آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to observe fast on the day of Ashura during the pre-Islamic days. The Messenger of Allah ﷺ then commanded to fast on that day till (fasting) in Ramadan became obligatory. Then the Messenger of Allah ﷺ said: He who wished to fast should do so, and he who wished to break it may do so.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ کَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَاشُورَائَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں اسے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that the Arabs of pre-Islamic days used to observe fast on the day of Ashura and the Messenger of Allah ﷺ observed it and the Muslims too (observed it) before fasting in Ramadan became obligatory. But when it became obligatory, the Messenger of Allah ﷺ said: Ashura is one of the days of Allah, so he who wished should observe fast and he who wished otherwise should abandon it.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah through the same chain of transmitters.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ کَرِهَ فَلْيَدَعْهُ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں سے جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو وہ رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتا ہے تو وہ چھوڑ دے۔
Ibn Umar (RA) said that the day of Ashura was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him). Thereupon the Messenger of Allah, ﷺ said: That was a day on which the people of pre-Islamic days used to observe fast. So he who amongst you likes to observe fast should do so, and he who does not like it should abandon it.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَائَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ کَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُکَهُ فَلْيَتْرُکْهُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ
ابوکریب، ابواسامہ، ولید، ابن کثیر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے اور حضرت عبداللہ ؓ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان کے روزوں سے موافقت ہوجائے۔
Abdullah bin Umar (Allah be pleased with both of them) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say about the day of Ashura: It is a day on which the people of pre-Islamic days observed fast. So he who liked to fast on this day should do so, and he who liked to abandon it should abandon it. Abdullah (RA) did not observe fast except when it coincided (with the days when he was in the habit of observing voluntary fasts during every month).
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَائً
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابومالک، عبیداللہ بن اخنس، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیا گیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that the day of Ashura was mentioned before the Apostle of Allah ﷺ and he narrated a hadith like one (narrated above).
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ ذَاکَ يَوْمٌ کَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، عمر ابن محمد بن زید عسقلانی، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that the day of Ashura was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ and he said: It is a day when the people in the pre-Islamic days need to observe fast, so he who wishes to observe fast should do so, and he who wishes to abandon it should do so.
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّی فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَی الْغَدَائِ فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَائَ قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَائَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِکَ و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ تَرَکَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابی معاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کرلو تو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟ اشعث نے کہا وہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہوگئے تو آپ ﷺ نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا۔
Abdul Rahman bin Yazid said: When al-Ashath bin Qais entered the house of Abdullah he was having his breakfast. He (Abdullah bin Umar (RA) said: Abu Muhammad (al-Ashath), came near to the breakfast. Thereupon he said: Is not today the Day of Ashura? He (Abdul Rahman) said: Do you know what the Day of Ashura is? He said: What is it? He said: It is a day on which the Messenger of Allah ﷺ used To observe fast before the (fasting) in the month of Ramadan became obligatory. But when it became obligatory the (fasting of Ashura) was abandoned (as compulsory). Abu Kuraib said: He (the Holy Prophet ﷺ abandoned it.