خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی لَا يَغِيضُهَا سَحَّائُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَی الْقَبْضَ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کی فیاضی سے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے کتنی فیاضی کی ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور فرمایا اللہ کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روکنے کی طاقت ہے جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah said to him: "Spend, I will bestow upon you." And the Messenger of Allah ﷺ said: The right hand of Allah is full and spending (the riches) liberally during day and night will not diminish (the resources of Allah). Dont you see what (an enormous amount of resources) He has spent since He created the heaven and the earth, and what is in His right hand has not decreased? His Throne is upon the water. And in His other hand is death, and He elevates and degrades (whom He likes).
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَی دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَی عِيَالٍ صِغَارٍ يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمْ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ابوربیع، حماد بن ربیعہ، ایوب، ابوقلابہ، اسماء رحبی، حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے وہ ہے جو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو اللہ کے راستہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو اپنے ساتھیوں پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے کہا عیال سے شروع کیا پھر ابوقلابہ نے کہا اس سے بڑھ کر کس آدمی کا ثواب ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر ان کی عزت وآبرو بچانے کے لئے خرچ کرتا ہے یا نفع دے اللہ ان کو اس کے سبب سے اور ان کو بےپرواہ کردیتا ہے۔
Thauban reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most excellent dinar is one that a person spends on his family, and the dinar which he spends on his animal in Allahs path, and the dinar he spends on his companions in Allahs path. Abu Qilaba (one of the narrators) said: He (the narrator) started with family, and then Abu Qilaba said: Who is the person with greater reward than a person who spends on young members of his family (and thus) preserves (saves them from want) and by virtue of which Allah brings profit for them and makes them rich.
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَی مِسْکِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، سفیان، مزاحم بن زفر، مجاہد، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ دینار جس کو تو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو تو غلام پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو تو نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جو تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Of the dinar you spend as a contribution in Allahs path, or to set free a slave, or as a sadaqa given to a needy, or to support your family, the one yielding the greatest reward is that which you spent on your family.
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ الْکِنَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَائَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَفَی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِکُ قُوتَهُ
سعید بن محمد جرمی، عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر کنانی، طلحہ بن مصرف، حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس آپ کا خزانچی داخل ہوا تو ابن عمر نے کہا تو نے غلاموں کو ان کا حق دے دیا؟ اس نے کہا نہیں فرمایا جاؤ ان کو انکا کھانا دے دو، کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا یہی گناہ کافی ہے کہ اپنے مملوک کے حق کو روک کر بیٹھ جائے۔
Khaithama reported: While we were sitting in the company of Abdullah bin Umar there came in his steward. He (Ibn Umar) said: Have you supplied the provision to the slaves? He said: No. Upon this he said: Go and give (the provision) to them, for the Messenger of Allah ﷺ has said: This sin is enough for a man that he withholds the subsistence from one whose master he is.
خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَکَ مَالٌ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَائَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ابْدَأْ بِنَفْسِکَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْئٌ فَلِأَهْلِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِکَ شَيْئٌ فَلِذِي قَرَابَتِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِکَ شَيْئٌ فَهَکَذَا وَهَکَذَا يَقُولُ فَبَيْنَ يَدَيْکَ وَعَنْ يَمِينِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ بنی عذرہ میں سے ایک آدمی نے اپنا غلام اپنے مرنے کے بعد آزاد کیا یعنی اس نے یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس اس کے علاوہ مال ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مجھ سے کون خریدے گا تو اس کو نعیم بن عبداللہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ دراہم رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے اور آپ ﷺ نے غلام کے مالک کو دے دیئے پھر فرمایا اپنی ذات سے ابتداء کر اور اس پر خرچ کرو اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کے لئے اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے اور اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو اس اس طرح اور اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے۔
Jabir reported: A person from the Banu Udhra set a slave free after his death. This news reached the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon hhn). Upon this he said: Have you any property besides it? He said: No. Upon this he said: Who would buy (this slave) from me? Naeem binAbdullah bought it for eight hundred dirhams and (this amount was) brought to the Messenger of Allah ﷺ who returned it to him (the owner), and then said: Start with your own self and spend it on yourself, and if anything is left, it should be spent on your family, and if anything is left (after meeting the needs of the family) it should be spent on relatives, and if anything is left from the family, it should be spent like this, like this. And he was saying: In front of you, on your right and on your left.
خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْکُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ
یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی ابومذکور نے اپنے غلام یعقوب کو اپنے بعد آزاد ہونے کا کہا باقی حدیث اوپر گزر چکی۔
Jabir reported that a person among the Ansar who was called Abu Madhkur granted posthumous freedom to his slave who was called Yaqub. The rest of the hadith is the same.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَکَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَی وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي کِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَی وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کو اپنے مال میں سب سے زیادہ باغ بیرحاء محبوب تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے، انس کہتے ہیں جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3۔ آل عمران: 92) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی کی حد کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور مجھے میرے تمام اموال میں سب سے محبوب بیر حاء ہے یہ اللہ کے لئے خیرات ہے میں اس کے ثواب اور آخرت میں ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اس کو جہاں چاہیں رکھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت خوب یہ بہت نفع بخش مال ہے میں نے سنا جو تم نے کہا میں مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو تو ابوطلحہ نے اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔
Anas bin Malik (RA) is reported as saying: Abu Talha was the one among the Ansar of Madinah who possessed the largest property and among his property he valued most was his garden known as Bairaha which was opposite the mosque, and the Messenger of Allah ﷺ often visited it and he drank of its sweet water. When this verse was revealed: "You will never attain righteousness till you give freely of what you Have" (iii. 91), Abu Talha got up and, going to Allahs Messenger ﷺ , said: Allah says in His Book: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love," and the dearest of my property is Bairaha so I give it as Sadaqa to God from Whom I hope for reward for it and the treasure with Allah; so spend it, Messenger of Allah, on whatever purpose you deem it proper. The Messenger of Allah ﷺ said: Bravo! that is profit earning property. I have heard what you have said, but I think you should spend it on your nearest relatives. So Abu Talha distributed it among the nearest relatives and his cousins on his fathers side.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَرَی رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِکَ قَالَ فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3۔ آل عمران: 92) ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا میں نے دیکھا کہ ہمارا پروردگار ہمارا مال ہم سے طلب فرماتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنی زمین بیر حاء والی اللہ کے لئے دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رشتہ داروں کو دے دو تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب میں تقسیم کردیا۔
Anas reported that when this verse was tevealed: "You will not attain righteousness till you give freely of what you love," Abu Talha said: I see that our Lord has demanded from us out of our property; so I make you a witness, Messenger of Allah, that I give my land known as Bairaha for the sake of Allah. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Give that to your relatives. So he gave it to Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kab.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَکِ کَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِکِ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، بکیر، کریب، حضرت میمونہ بنت حارث سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی اور میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو اسے اپنے ماموں کو دے دیتی تو تیرے لئے بڑا ثواب ہوتا۔
Maimuna bint Harith reported that she set free a slave-girl during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ and she made a mention of that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Had you given her to your maternal uncles, you would have a greater reward.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّکَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَی غَيْرِکُمْ قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلْ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِي حَاجَتُهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ قَالَتْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِکَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَی أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَی أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هُمَا فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
حسن بن ربیع، ابواحوص، اعمش، ابو وائل، عمرو بن حارث، زوجہ عبداللہ حضرت زینب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو فرماتی ہیں میں حضرت عبداللہ کے پاس لوٹی اور عرض کیا کہ آپ خالی ہاتھ والے آدمی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے تم آپ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ کر آؤ اگر میری طرف سے آپ کو دینا کافی ہوجائے تو بہتر ورنہ تمہارے علاوہ کسی اور کو دوں، تو عبداللہ ؓ نے مجھے فرمایا تم خود ہی جا کر آپ ﷺ سے پوچھ لو میں چلی جب آپ ﷺ کے دروازہ پر پہنچی تو انصاری عورتوں میں سے ایک عورت میری حاجت ہی لے کر موجود تھی اور اللہ کے رسول ﷺ پر عظمت و جلال چھایا ہوا تھا ہماری طرف حضرت بلال آئے تو ان سے ہم نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو خبر دو کہ دروازے پر موجود دو عورتیں آپ ﷺ سے سوال کرتی ہیں کہ ان کی طرف سے صدقہ ان کے خاوندوں پر کفایت کر جائے گا یا ان یتیموں پر صدقہ کردیں جو ان کی گود میں ہیں اور آپ ﷺ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں حضرت بلال ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا زینب اور ایک عورت انصار سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون سی زینب؟ عرض کیا عبداللہ کی بیوی تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے لئے دو اجر وثواب ہیں ایک رشتہ داری کا ثواب اور دوسرا صدقہ و خیرات کا ثواب۔
Zainab, the wife of Abdullah (b. Masud ), reported that the Messenger of Allah ﷺ said: O women, give sadaqa even though it be some of your jewellery. She returned to Abdullah and said: You are a person with empty hands, whereas the Messenger of Allah ﷺ has commanded us to give sadaqa, so better go to him and ask and if this will suffice for me; otherwise I shall give it to someone else. Abdullah said to me (his wife): You better go yourself. So I went and there was another woman of the Ansar at the door of the Messenger of Allah ﷺ having the same purpose as I had. Now Allahs Messenger ﷺ was invested with awe (so we did not like to knock). Then Bilal (RA) came out and we said to him: Go to the Messenger of Allah ﷺ and inform him that there are two women at the door asking him whether it will serve them to give sadaqa to their spouses and to orphans who are under their charge, but do not inform him who we are. Bilal (RA) went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him (what these women had instructed him to ask). The Messenger of Allah ﷺ asked him who these women were. He ( Bilal (RA) ) said: They are women from Ansar and Zainab. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Which of the Zainabs? He said: The wife of Abdullah. The Messenger of Allah ﷺ said: There are two rewards for them, the reward of kinship and the reward of Sadaqa.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَذَکَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَائً قَالَ قَالَتْ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ
احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عمرو بن حارث، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ حضرت زینب فرماتی ہیں میں مسجد میں تھی نبی ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے ہو باقی حدیث گزر چکی۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Zainab the wife of Abdullah, and she said: I was in the mosque and the Prophet ﷺ of Allah ﷺ saw me and said: Give Sadaqa even though it is out of your jewellery. The rest of the hadith is the same.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِکَتِهِمْ هَکَذَا وَهَکَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ نَعَمْ لَکِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے سے ثواب ہوگا؟ اور میں ان کو چھوڑنے والی نہیں ہوں کہ ادھر ادھر پریشان ہوجائیں کیونکہ وہ میرے بیٹے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تیرے لئے ان پر خرچ کرنے میں ثواب ہے۔
Umm Salamah said: I asked the Messenger of Allah ﷺ whether there is a reward for me if I spend on Abu Salamas sons, and I am not going to abandon them in this state (of helplessness) for they are my sons. He (the Holy Prophet) said: Yes. For you is the reward for what you spend on them.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
سوید بن سعید، علی بن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ہشام بن عروہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Urwa with the same chain of transmitters.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید، ابومسعود بدری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔
Abu Masud reported Allahs Messenger (way peace be upon him) as saying: When a Muslim spends on his family seeking reward for it from Allah, it counts for him as sadaqa.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، ابوکریب، وکیع، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ نَعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ہشام بن عروہ، حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری والدہ حالت کفر میں میرے پاس آئیں کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ فرمایا جی ہاں۔
Asma daughter of Abu Bakr (RA) reported: I said: Messenger of Allah, my mother, who is inclined or scared has come to me. Should I (even in her position of being opposed to Islam) treat her well? He said: Yes.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِکَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ نَعَمْ صِلِي أُمَّکِ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ میری والدہ میرے پاس آئیں حالانکہ وہ مشرکہ تھی جب کہ آپ ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کیا میں نے عرض کیا کہ میری مشرکہ والدہ میرے پاس آئی ہے کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کروں آپ ﷺ نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کر۔
Asma bint Abu Bakr (RA) reported: My mother who was a polytheist came to me when he (the Holy Prophet) entered into treaty with the Quraish (of Makkah). I inquired from the Messenger of Allah ﷺ saying: Messenger of Allah, there has come to me my mother and she is inclined; should I (in this state of her mind) show her kindness? He said: Yes, treat her kindly.
میت کی طرف سے ایصال ثواب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میری والدہ بغیر وصیت کے فوت ہوگئی ہے اور میرا گمان ہے اگر وہ بات کرتی تو وہ صدقہ کرتی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو ثواب ہوجائے گا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔
Aisha said that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: My mother died suddenly without having made any will. I think she would have definitely given Sadaqa if she had been able to speak. Would she have a reward if I gave Sadaqa on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes.
میت کی طرف سے ایصال ثواب کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ کَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِکَ الْبَاقُونَ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابوکریب، ابواسامہ، علی بن حجر، علی بن مسہر، حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام، ابواسامہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Abu Usama the words are: "She did not make any will," as it has been reported by Ibn Bishr, but it was not reported by the rest of the narrators.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، ابومالک اشجعی، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
Hudhaifa and Abu Shaiba reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every act of goodness is sadaqa.