Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 115 of 379

2289Sahih Muslim

نماز عید سے پہلے صدقہ الفطر ادا کرنے کے حکم کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَکَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاةِ

محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ الفطر لوگوں کے نماز کی طرف نکلنے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا۔

Abdullah b Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ ordered the payment of Sadaqat-ul-Fitr before people go out for prayer.

2290Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ کُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ قَالَ وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا کَانَتْ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا کُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ قَالَ وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا جَلْحَائُ وَلَا عَضْبَائُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا کُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَائً وَفَخْرًا وَنِوَائً عَلَی أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَکَلَتْ مِنْ ذَلِکَ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا کُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَکَلَتْ حَسَنَاتٌ وَکُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَی نَهْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ قَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْئٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

سوید بن سعید، حفص بن میسرہ صنعانی، زید بن اسلم، ابوصالح ذکوان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سونے یا چاندی والا اس میں اس کا حق ادا نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن آگ کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور ان کو جہنم کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا، جب وہ ٹھنڈے ہوجائیں گے تو ان کو دوبارہ گرم کیا جائے گا اس دن برابر یہ عمل اس کے ساتھ ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ کردیا جائے تو اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائے گا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ اونٹ والوں کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اونٹوں والا بھی جو ان میں سے ان کا حق ادا نہ کرے اور ان کے حق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن ان کا دودھ نکال دے تو قیامت کے دن ایک ہموار زمین میں اس کو اوندھا لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ نہایت فربہ ہو کر آئے گا کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا جو اس کو اپنے کھروں سے نہ روندے اور منہ سے نہ کاٹے جب اس پر سے سب سے پہلا گزر جائے گا تو دوسرا آجائے گا پچاس ہزار سال کی مقدار والے دن میں یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ ہوجائے پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گائے اور بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا گائے اور بکری والوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو ان میں سے ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کو ہموار زمین پر اوندھا لٹایا جائے گا اور ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو اس کو اپنے پاؤں سے نہ روندے اور وہ ایسی ہوں گی کہ کوئی ان میں مڑے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور نہ سینگ کے بغیر نہ سینگ ٹوٹی ہوئی، سب اس کو ماریں گی اپنے سینگوں سے جب پہلی اس پر سے گزر جائے گی تو دوسری آجائے گی یہی عذاب پچاس ہزار سال والے دن میں ہوتا رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہوجائے تو اس کو جنت یا دوزخ کی راہ دکھائی جائے گی۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گھوڑے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا گھوڑے کی تین اقسام ہیں، ایک مالک پر وبال ہے دوسرا مالک کے لئے پردہ ہے، تیسرا مالک کے لئے ثواب کا ذریعہ ہے، بہر حال جس کو آدمی نے دکھاوے کے لئے باندھ رکھا ہے فخر اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے تو یہ گھوڑا اس کے لئے بوجھ اور وبال ہے اور وہ جو اس کے لئے پردہ پوشی ہے وہ یہ ہے کہ جس کو آدمی نے اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھا ہے پھر اس کی پشتوں اور گردنوں سے وابستہ اللہ کے حقوق بھی نہ بھولا ہو تو یہ گھوڑا مالک کے لئے عزت کا ذریعہ ہے اور باعث ثواب وہ گھوڑا ہے جس کو آدمی نے اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھا ہو۔ اہل اسلام کے لئے سبزہ زار یا باغ میں تو یہ گھوڑے باغ یا سبزہ زار سے جو کچھ کھائیں گے تو ان کے کھانے کی تعداد کے موافق اس کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی لید اور پیشاب کی مقدار کے لئے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جائے تو اس کے قدموں کے نشانات اور لید کے برابر نیکیاں اللہ لکھ دیتا ہے اور جب اس کا مالک اس کو کسی نہر سے لے کر گزرتا ہے اور پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تب بھی اللہ اس کے لئے پانی کے قطروں کے تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے جو اس نے پیا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گدھوں کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا گدھوں کے بارے میں سوائے ایک آیت کے کوئی احکام نازل نہیں ہوئے وہ آیت بےمثل اور جمع کرنے والی ہے (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه) 99۔ الزلزلۃ: 7) یعنی جس نے ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ کے برابر بدی کی وہ بھی اسے دیکھے گا یعنی قیامت کے دن۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If any owner of gold or silver does not pay what is due on him, when the Day of Resurrection would come, plates of fire would be beaten out for him; these would then be heated in the fire of Hell and his sides, his forehead and his back would be cauterized with them. Whenever these cool down, the process is repeated during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment is pronounced among servants, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. It was said: Messenger of Allah, what about the camel? He (the Holy Prophet) said: If any owner of the camel does not pay what is due on him, and of his due in that (camel) is (also) to milk it on the day when it comes down to water. When the Day of Resurrection comes a soft sandy plain would be set for him, as extensive as possible, (he will find) that not a single young one is missing, and they will trample him with their hoofs and bite him with their mouths. As often as the first of them passes him, the last of them would be made to return during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment is pronounced among servants and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. It was (again) said: Messenger of Allah, what about cows (cattle) and sheep? He said: If any owner of the cattle and sheep does not pay what is due on them, when the Day of Resurrection comes a soft sandy plain would be spread for them, he will find none of them missing, with twisted horns, without horns or with a broken horn, and they will gore him with their horns and trample him with their hoofs. As soon as the first of them passes him the last of them would be made to return to him during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment would be pronounced among the servants. And he would be shown his path leading him to Paradise or to Hell. It was said: Messenger of Allah, what about the horse? Upon this he said: The horses are of three types. To one man (these are) a burden, and to another man (these are) a covering, and still to another man (these are) a source of reward. The one for whom these are a burden is the person who rears them in order to show off, for vain glory and for opposing the Muslims; so they are a burden for him. The one for whom these are a covering is the person who rears them for the honour and dignity but does not forget the right of Allah concerning their backs and their necks, and so they are a covering for him. As for those which bring reward (these refer to) the person who rears them for the sake of Allah to be used for Muslims and he puts them in meadow and field. And whatever thing do these eat from that meadow and field would be recorded on his behalf as good deeds, as would also the amount of their dung and urine. And these would not break their halter and prance a course or two without having got recorded the amount of their hoof marks and their dung as a good deed on his behalf (on behalf of their owner). And their master does not bring them past a river from which they drink, though he did not intend to quench their thirst, but Allah would record for him the amount of what they drink on his behalf as deeds. It was said: Messenger of Allah, what about the asses?, Upon this he said: Nothing has been revealed to me in regard to the asses (in particular) except this one verse of a comprehensive nature: "He who does an atoms weight of good will see it, and he who does an atoms weight of evil will see it" (xcix. 7)

2291Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَی آخِرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا حَقَّهَا وَذَکَرَ فِيهِ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا وَقَالَ يُکْوَی بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ

یونس بن عبدالاعلی صدفی، عبداللہ بن وہب، ہشام بن سعد، زید بن اسلم اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے کچھ الفاظ کا تغیر وتبدل ہے لیکن معنی و مفہوم وہی ہے۔

This hadith has been narrated by Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters except that he said: "None among the owners of camels who does not pay their due," but did not say "their due (Zakat) out of them." and he made a mention: "He did not miss a single young one out of them." and he said: "Their sides, their foreheads and their backs would be cauterised."

2292Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ کَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ کُلَّمَا مَضَی عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا جَلْحَائُ کُلَّمَا مَضَی عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قَالَ سُهَيْلٌ فَلَا أَدْرِي أَذَکَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا أَوْ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُکُّ الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَکَلَتْ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ کَانَ لَهُ بِکُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا وَلَوْ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کُتِبَ لَهُ بِکُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَکَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَی حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَائَ النَّاسِ فَذَاکَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ قَالُوا فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

محمد بن عبدالملک اموی، عبدالعزیزبن مختار، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خزانہ والا جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس پر وہ خزانہ جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اس کو چٹانوں کی طرح بنا کر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا یہاں تک اللہ اپنے بندوں کا فیصلہ کر دے اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے پھر اس کو جنت یا جہنم کی طرف راستہ دکھایا جائے گا اور کوئی اونٹوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا مگر یہ کہ اس کو ایک ہموار زمین پر لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ فربہ ہو کر آئیں گے جیسا کہ وہ اونٹ دنیا میں بہت فربہی کے وقت تھے وہ اس کو روندیں گے اس پر جب ان کا آخری گزر جائے گا تو پہلے والا واپس آکر دوبارہ روندے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ اس دن میں کرے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا اور کوئی بکریوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو مگر یہ کہ اس کو ہموار زمین پر لٹایا جائے گا اور وہ بہت فربہ ہو کر آئیں گے اور وہ سب اپنے کھروں کے ساتھ اس کو روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی اس وقت ان میں کوئی مُنڈی یا الٹے سینگوں والی نہ ہوگی جب اس پر ان میں سے آخری گزرے گی تو پہلی کو اس پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کا فیصلہ پچاس ہزار سال والے دن میں کرلیں پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سہیل کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے گائے کا ذکر کیا یا نہیں، صحابہ نے عرض کیا گھوڑوں کا کیا حکم ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں خیر ہے سہیل کہتے ہیں کہ مجھے خیر قیامت کے دن تک میں شک ہے آپ ﷺ نے فرمایا گھوڑے کی تین اقسام ہیں اور یہ آدمی کے لئے ثواب، پردہ اور بوجھ ہے پس وہ جو اس کے لئے ثواب ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جس نے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں باندھا اور اللہ ہی کے لئے اسے تیار رکھا کوئی بھی چیز اس کے پیٹ میں غائب نہیں کی جاتی مگر اللہ اس کے لئے ثواب لکھتا ہے اور اگر اس کو کہیں چراگاہ میں چرایا اس نے اس میں جو کچھ بھی کھایا اللہ اس کے بدلہ اس کے لئے ثواب لکھتا ہے اور اگر کسی نہر سے اس کو پلایا تو اس کے مالک کے لئے ہر قطرہ کے بدلے ثواب ہے جو اس کے پیٹ میں غائب ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اس کے پیشاب اور لید کا بھی ذکر فرمایا اور اگر وہ ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم پر جو وہ رکھے گا اس کے لئے ثواب لکھا جاتا ہے اور وہ گھوڑا جو اس کے لئے پردہ پوشی ہے وہ یہ ہے جس کو آدمی احسان اور زینت کے لئے باندھتا ہے اور اس کو اس کی سواری کا حق اور اس کے پیٹ کا حق اپنی تنگی آسانی میں نہ بھولا اور وہ گھوڑا جو اس پر بوجھ ہے وہ یہ ہے کہ جس کو فخر سرکشی اور لوگوں کو دکھانے کے لئے باندھا ہو یہ وہ ہے جو اس پر بوجھ ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ گدھوں کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا مگر یہ آیت جامع اور بےمثل ہے (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه) 99۔ الزلزلۃ: 7)

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No owner of the treasure who does not pay Zakat (would be spared) but (his hoards) would be heated in the Fire of Hell and these would be made into plates and with these his sides, his forehead would be cauterised till Allah would pronounce judgment among His servants during a day, the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path, leading either to Paradise or to Hell. And no owner of the camels who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him and they (the camels) would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants during a day, the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path leading him to Paradise or leading him to Hell. And no owner of the cattle and goats who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him, he would find none of them missing, with twisted horns, without horns, or with broken horns, and they will gore him with their horns and trample him with their hoofs and they would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants, during a day the extent of which would be fifty thousand years, and he would see the paths leading to Paradise or to Hell. Suhail said: I do not know whether he made mention of the cows. They said: Messenger of Allah ﷺ , what about the horses? He said: The horses have goodness in their foreheads (or he said) or goodness is ingrained in the foreheads of the horses (Suhail said: I am in doubt as to what was actually said) up till the Day of judgement. The horses are of three kinds. They are a source of reward to a person, they are a covering to a person, and they are a burden to a person. As for those which bring reward is that a person would get reward who rears them for the sake of Allah and trains them for Him, and nothing disappears in their stomachs but Allah would record for him a good deed. And if they were to graze in the meadow, they would eat nothing but Allah would record for him a reward. And if they were to drink water from the canal, with every drop that would disappear in their stomachs there would be reward (for the owner). He went on describing till a reward was mentioned for their urine and dung. And if they pranced a course or two, there would be recorded a reward for every pace that they covered. As for one for whom they are a covering, he is the man who rears them for honour and dignity but does not forget the right of their backs and their stomachs, in plenty and adversity. As regards one for whom they are a burden, he is that who rears them for vainglory and showing off to the people; for him they are, the burden. They said: Messenger of Allah, what about asses? He said: Allah has not revealed to me anything in regards to it except this one comprehensive verse: "He who does an atoms weight of good will see it, and he who does an atoms weight of evil will see it" (xcix. 7).

2293Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، سہیل ہی سے دوسری سند سے اسی حدیث کی طرح مذکور ہے۔

Not tracable.

2294Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بَدَلَ عَقْصَائُ عَضْبَائُ وَقَالَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ وَلَمْ يَذْکُر جَبِينُهُ

محمد بن عبداللہ بن بزیع، یزید بن زریع، روح بن قاسم، سہیل بن ابوصالح سے ایک اور سند کے ساتھ یہی حدیث ذکر فرمائی ہے لیکن اس میں عقصاء غضباء سے بدلا ہے اور اس میں پیشانی کا ذکر نہیں۔

This hadith has been narrated by Suhail bin Abu Salih with the same chain of transmitters, and he said he substituted the word aqsa with adba and said: "his side and his back," but he made no mention of his forehead.

2295Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْئُ حَقَّ اللَّهِ أَوْ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، ذکوان، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آدمی نے اللہ کا حق یا زکوٰۃ اپنے اونٹوں کی ادا نہ کی۔ باقی حدیث سہیل کی طرح ہے

This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters: The Messenger of Allah ﷺ said: "When a person does not pay what is due to Allah or Sadaqa of his camels...." The rest of the hadith is the same.

2296Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ قَطُّ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّائُ وَلَا مُنْکَسِرٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ کَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَائَ کَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ کَنْزَکَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَی أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَکَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُا هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ و قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَی الْمَائِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، محمد بن رافع، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اونٹ والا اس کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن زیادہ ہو کر آئیں گے اور ان کے مالک کو ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور وہ اس کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے اور جو گائے والا اس کا حق ادا نہ کرے گا تو قیامت کے دن پہلے سے بہت زیادہ ہو کر آئیں گی اور ان کے مالک کو ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے سینگوں سے زخمی اور اپنے کھروں سے روندیں گی اور جو بکریوں والا ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ ہو کر آئیں گی اور ان کا مالک ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور وہ اس کو اپنے سینگوں سے زخمی اور کھروں سے روندیں گی ان میں کوئی بےسینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور جو خزانے والا اس کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا خزانہ قیامت کے دن لایا جائے گا گنجے اژدھے کی صورت میں منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا جب وہ اس کے پاس آئے گا تو وہ اس سے بھاگے گا تو وہ خزانہ اس کو پکارے گا اپنا خزانہ لے جو تو نے چھپا رکھا تھا تو وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اس کے منہ میں اپنا ہاتھ ڈال دے گا وہ اسے اونٹ کے چبانے کی طرح چبا جائے گا ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے عبید بن عمیر ؓ سے سنا وہ کہتے تھے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اونٹوں کا کیا حق ہے فرمایا ان کے دودھ کو پانی پر نکال لینا (تاکہ فقیروں کو دودھ مل جائے) اس کا ڈول اور اس کے نر اور اس کے نطفے کو مانگے دے دینا اور اس کی سواری کو اللہ کی راہ میں دینا۔

Jabir bin Abdullah al-Ansari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The owner of a camel who does not pay what is due on it, would be punished in this way: that on the Day of Resurrection many more (along with his camel) would come and the owner would be made to sit on a soft sandy ground and they would trample him with their feet and hooves. And no owner of the cattle who does not pay what is due on them (would be spared the punishment) but on the Day of Resurrection, many more would come and he (the owner) would be made to sit on the soft sandy ground and would be gored by their horns and trampled under their feet. And no owner of the goats and sheep who does not pay what is due on them (would be spared of punishment) but many more would come on the Day of Resurrection and he (the owner) would be made to sit on a soft sandy ground and they would gore him with their horns and trample him under their hooves. And there would be more (among this flock of sheep and goat) without horns or with broken horns. And no owner of the treasure who does not pay its due but his treasure would come on the Day of Resurrection like a bald snake and would pursue him with its mouth open, and when it would come near he would run away from it, and he would be called thus: "Take your treasure which you concealed, for I do not need it." When he would find no way out he would put his hand in its mouth and it would gnaw it like a he-camel. Abu Zubair said: We heard Ubaid bin Umair saying this. We then asked Jabir bin Abdullah about this. And he also said like Ubaid bin Umair, Abu Zubair said: I heard Ubaid bin Umair saying: A man said: Messenger of Allah, what is due on camels? He said: Milking them near water, and lending of bucket (used for drawing water from it), or lending its male for mating with a she-camel and providing it as a ride for the sake of Allah.

2297Sahih Muslim

زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّائُ وَلَا مَکْسُورَةُ الْقَرْنِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَی الْمَائِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهُ إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَيُقَالُ هَذَا مَالُکَ الَّذِي کُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ فَإِذَا رَأَی أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اونٹوں اور گائیوں بکریوں والا ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن ایک ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور کھروں والا جانور اس کو اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں والا اس کو اپنے سینگوں سے زخمی کرے گا اس دن کوئی جانور بغیر سینگ اور ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہوگا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا حق کیا ہے فرمایا اس کے نر کو چھوڑنا اور اس کے ڈول کسی کو بخش دینا پانی پر ان کا دوھ نکالنا اور اللہ کے راستے میں ان پر سواری کرانا اور کوئی مال والا جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی صورت میں تبدیل کیا جائے گا جو اپنے مالک کا پیچھا کرے گا جہاں وہ جائے گا وہ اس کے پیچھے بھاگے گا کہا جائے گا یہ تیرا وہ مال ہے جس پر تو بخل کیا کرتا تھا جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا ڈالے گا جیسا کہ نر اونٹ چبا لیتا ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ as saying: No owner of camels or cattle or flock of sheep or goats who does not pay his due (would be spared punishment) but would be made to sit on the Day of Resurrection on a soft sandy ground and the hoofed animals would trample him with their hoofs and gore him with their horns. And none of them on that day would be without horns, or with broken horns. We said: Messenger of. Allab, but what is due on them? He said: Lending of the male (for use) and lending of the bucket (used for drawing water for them) and for mating and milking them near water and providing them as a ride for the sake of Allah. And no owner of the property who does not pay Zakat (would be spared punishment) but it (his property) would turn into a bald snake and would follow its owner wherever he would go, and he would run away from it, and it would be said to him: That is your property about which you were stingy. And when he would find no other way out he would thrust his hand in its mouth and it would gnaw it like a male camel.

2298Sahih Muslim

زکوة وصول کرنے والوں کی راضی کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنْ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضُوا مُصَدِّقِيکُمْ قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ

ابوکامل فضیل بن حسین جحدری، عبدالواحد بن زیاد، محمد بن ابواسماعیل، عبدالرحمن بن ہلال عبسی، جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ اعرابیوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم پر زکوٰۃ وصول کرنے والے زیادتی کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو خوش کردیا کرو جریر کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سنا ہے تو ہر زکوٰۃ وصول کرنے والا مجھ سے راضی ہو کر ہی گیا ہے۔

Jabir bin Abdullah reported: There came people from among the Bedouins to the Messenger of Allah ﷺ and said: Collectors of Sadaqa come to us and treat us unjustly. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Please your collectors. Jarir said: Ever since I heard it from the Messenger of Allah ﷺ no collector had departed but was pleased with me.

2299Sahih Muslim

زکوة وصول کرنے والوں کی راضی کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، اسحاق، ابواسامہ، محمد بن ابواسماعیل اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Muhammad bin Ismail with the same chain of transmitters.

2300Sahih Muslim

زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ قَالَ هُمْ الْأَکْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا کُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، معرور بن سوید، حضرت ابوذر ؓ روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں، میں آکر آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو نہ ٹھہر سکا اور کھڑا ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں وہ کون ہیں؟ فرمایا وہ بہت مال والے ہیں سوائے اس کے جو اس اس طرح اپنے سامنے سے اپنے پیچھے سے اپنے دائیں اور بائیں سے اور ان میں سے کم لوگ وہ ہیں جو اونٹ اور گائے اور بکریوں والے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو وہ قیامت کے دن بڑھ چڑھ کر فربہ ہو کر آئیں گی ان کو اپنے سینگوں سے زخمی کریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب ان کا پچھلا گزر جائے گا تو اس پر ان کا پہلا لوٹ آئے گا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے۔

Abu Dharr (RA) reported: I went to the Apostle of Allah ﷺ and he was sitting under the shade of the Ka’bah. As he saw me he said: By the Lord of the Ka’bah, they are the losers. I came there till I sat and I could not stay (longer) and (then) stood up. I said: Messenger of Allah, let my father be ransom for you, who are they (the losers)? He said: They are those having a huge amount of wealth except so and so and (those who spend their wealth generously on them whom they find in front of them, behind them and on their right side and on their left side) and they are a few. And no owner of camels, or cattle or goat and sheep, who does not pay Zakat (would be spared punishment) but these (camels, cattle, goats and sheep) would come on the Day of Resurrection wearing more flesh and would gore him with their horns and trample them with their hooves. And when the last one would pass away, the first one would return (to trample him) till judgment would be pronounced among people.

2301Sahih Muslim

زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمَعْرُورِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَکِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَکَاتَهَا

ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، معرور، ابوذر ؓ روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں بیٹھنے والے تھے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو آدمی زمین پر مرتا ہے اور اونٹ یا گائے یا بکری چھوڑتا ہے جن کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا تھا۔

Abu Dbarr reported: I went to the Apostle of Allah ﷺ and he was sitting under the shade of the Ka’bah, and the rest of the hadith it the same but for this that he (the Holy Prophet) said: "By Allah, in Whose hand is my life, no person on earth who dies and leaves behind camels, or cattle or goat and sheep, and does not pay Zakat (would be spared the punishment)."

2302Sahih Muslim

زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ

عبدالرحمن بن سلام جمحی، ابن مسلم، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے لئے یہ بات باعث مسرت نہیں کہ میرے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسری شب مجھ پر آجائے اور ان میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی ہو سوائے اس دینار کے کہ اس کو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے بچا رکھوں۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: Nothing is more delighting to me than this: that Uhud should be of gold for me, and no dinar is left with me out of it before three nights pass except a dinar which I would set aside for the repayment of debt upon me.

2303Sahih Muslim

زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported the same from the Prophet ﷺ .

2304Sahih Muslim

صدقہ کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَاأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَی أُحُدٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاکَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَی ثَالِثَةً عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَکَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهَکَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَهَکَذَا عَنْ شِمَالِهِ قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الْأَکْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَی قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ کَمَا أَنْتَ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّی تَوَارَی عَنِّي قَالَ سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَائَ ذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ فَقَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن یحیی، ابن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز کے وقت مدینہ کی زمین حرہ میں چل رہا تھا اور ہم احد کو دیکھ رہے تھے تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا لبیک اے اللہ کے رسول! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کا ہو اور تیسری شب تک میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی بچ جائے سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے روک رکھوں بلکہ میں اللہ کے بندوں کو اس طرح بانٹوں اور آپ ﷺ نے اپنے سامنے ایک لپ بھر کر اشارہ کیا اور اسی طرح دائیں اور اسی طرح اپنے بائیں پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول! فرمایا کثرت مال والے ہی قلیل مال والے ہوں گے قیامت کے دن سوائے ان لوگوں کے جو اس طرح اور اس طرح دیتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے پہلی مرتبہ کیا پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! تم یہاں ہی رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آؤں آپ ﷺ چلے کہ مجھ سے چھپ گئے پھر میں نے کچھ گنگناہٹ اور آواز سنی تو میں نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی امر پیش آگیا ہو میں نے آپ ﷺ کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو مجھے آپ ﷺ کا حکم یاد آگیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں تم اپنی جگہ پر ہی رہنا میں نے آپ ﷺ کا انتظار کیا جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے اس کا ذکر کیا جو میں نے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو فوت ہوا اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا، ابوذر کہتے ہیں میں نے کہا اگر اس نے زنا کیا یا چوری کی فرمایا اگرچہ اس نے زنا یا چوری کی۔

Abu Dharr (RA) reported: I walked with the Messenger of Allah ﷺ on the stony ground of Madinah in the afternoon and we were looking at Uhud. The Messenger of Allah ﷺ (may peace by upon him) said: Abu Dharr! I said: Messenger of Allah, I am here at thy beck and call. He said: What I desire is that Uhud be gold with me and three nights should pass and there is left with me any dinar but one coin which I would keep to pay debt. (I love) to spend it among the servants of Allah like this and he pointed in front of him, and on his right side and on his left side. We then proceeded on and he said: Abu Dharr. I said: At thy beck and call, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: The rich would be poor on the Day of Resurrection, but he who spent like this and like this and like this, and he pointed as at the first time. We again went on when he said. Abu Dharr, stay where you are till I come back to you. He (the Holy Prophet) then moved on till he disappeared from my sight. He (Abu Dharr) said: I heard a sound and I heard a noise. I said (to myself): The Messenger of Allah ﷺ might have met (mishap or an enemy). I wished to follow him but I remembered his command for not departing till he would come back. So I waited for him, and when he came I made a mention of what I heard. He said: it was Gabriel (علیہ السلام), who came to me and said: "He who dies among your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I said: Even if he committed fornication or theft? He said: Even if he committed fornication or theft.

2305Sahih Muslim

صدقہ کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَکْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ إِنَّ الْمُکْثِرِينَ هُمْ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَائَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ اجْلِسْ هَا هُنَا قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّی أَرْجِعَ إِلَيْکَ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّی لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ فَلَمَّا جَائَ لَمْ أَصْبِرْ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ مَنْ تُکَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْکَ شَيْئًا قَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ بَشِّرْ أُمَّتَکَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ

قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، زید بن وہب، ابوذر ؓ روایت ہے کہ میں ایک رات نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے بغیر کسی ہمراہی انسان کے ٹہل رہے تھے میں نے گمان کیا آپ ﷺ اپنے ساتھ کسی کے چلنے کو ناپسند فرمائیں گے تو میں نے چاند کے سایہ میں چلنا شروع کردیا آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے مجھے دیکھ کر فرمایا کون ہے؟ میں نے کہا ابوذر اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے، فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میرے پاس آؤ میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا مالدار لوگ ہی قیامت کے دن کم مال والے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے مال عطا کیا اور پھونک سے اپنے دائیں بائیں یا سامنے اور پیچھے اڑا دے اور اس میں نیک اعمال کرے پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہاں بیٹھ جا اور آپ ﷺ نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے اردگرد پتھر تھے آپ ﷺ نے فرمایا میرے آ نے تک یہاں بیٹھے رہو آپ ﷺ زمین حرہ میں ایک طرف چل دیئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کو نہ دیکھا کافی دیر ٹھہر نے کے بعد میں نے آپ ﷺ سے آتے ہوئے سنا اگرچہ اس نے چوری اور اس نے زنا کیا آپ ﷺ جب تشریف لائے تو میں نے صبر کئے بغیر عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے آپ ﷺ سے حرہ کی طرف کون گفتگو کر رہا تھا میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا فرمایا وہ جبرائیل تھے جو حرہ میں میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا اپنی امت کو خوشخبری دے دو جو اللہ کے ساتھ شرک کئے بغیر مرگیا جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا اے جبرائیل اگرچہ اس نے چوری یا زنا کیا ہو کہا جی ہاں فرمایا میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا اس نے کہا جی ہاں میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو اس نے کہا ہاں اگرچہ اس نے شراب پی۔

Abu Dharr (RA) reported: I went out one night and found the Messenger of Allah ﷺ walking all alone. There was no man with him. I thought that he did not like anyone walking along with him. So I began to walk in the light of the moon. He, however turned his attention to me and saw me and said: Who is this? I said: It is Abu Dharr. Let Allah make me as ransom for you. He said: Abu Dharr, come on. He (Abu Dharr) said: So I walked along with him for some time and he said: The wealthy persons would have little (reward) on the Day of Resurrection, except upon whom Allah conferred goodness (wealth). He dispensed it to his right, left, in front of him and at his back (just as the wind diffuses fragrance) and did good with it (riches). I went along with him for some time when he said: Sit here. And he made me sit at a safe place and there were stones around it, and he said to me: Sit here till I come to you. He went away on the stony ground till I could not see him. He stayed away from me, and he prolonged his stay. Then I heard him as he came back and he was saying: Even if he committed theft and even if he committed fornication. When he came I could not help asking him: Apostle of Allah ﷺ , let Allah make me ransom for you, whom were you speaking on the stony ground? I heard nobody responding to you. He (the Holy Prophet) said: It was Gabriel (علیہ السلام) who met me by the side of the stony ground and said: Give glad tidings to your Ummah that he who died without associating ought with Allah would go into Paradise. I said: Gabriel (علیہ السلام), even if he committed theft and fornication? He said: Yes. I said: Even it he committed theft and fornication? He said: Yes, I again said: Even if he committed theft and fornication? He said: Yes, even if he drank wine.

2306Sahih Muslim

اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَی عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَی حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ کَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَی نُغْضِ کَتِفَيْهِ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُئُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلَائِ إِلَّا کَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَتَرَی أُحُدًا فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنْ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ کُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ هَؤُلَائِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ مَا لَکَ وَلِإِخْوَتِکَ مِنْ قُرَيْشٍ لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ قَالَ لَا وَرَبِّکَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّی أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابوعلاء، حضرت احنف بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا تو میں سرداران قریش کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک آدمی موٹے کپڑے سخت جسم و چہرے والا آیا اور ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہا بشارت دے دو مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی کہ ان کے لئے جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کے سینوں پر اس طرح رکھا جائے گا کہ شانہ کی نوک سے پار ہوجائے گا اور شانوں کی نوک پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ پستان کے سر سے پار ہوجائے اور آدمی بےقرار ہوجائے گا تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے میں نے کسی آدمی کو نہ دیکھا کہ جس نے اس کو کوئی جواب دیا ہو وہ پھرے اور میں نے ان کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے پاس جا بیٹھے تو میں نے کہا میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی بات ناگوار گزری ہے تو انہوں نے کہا یہ لوگ کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے مجھے بلایا میں گیا تو فرمایا کیا تم احد دیکھ رہے ہو تو میں نے اپنے اوپر پڑنے والی سورج کی شعاع کو دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ آپ ﷺ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں میں اس کو دیکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے اس کی مثل سونا ہو لیکن اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب کا سب خرچ کر دوں اور یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور سمجھ رکھتے میں نے کہا آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا حال ہے نہ آپ ان سے ملتے ہیں نہ ان کے پاس جاتے اور نہ ان سے کچھ مانگتے ہیں فرمایا اللہ کی قسم میں نہ ان سے دنیا مانگوں گا ورنہ دنیوی معاملہ کروں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں۔

Ahnaf bin Qais reported: I came to Madinah and when I was in the company of the grandees of Quraish a man with a crude body and an uncouth face wearing coarse clothes came there. He stood up before them and said: Give tidings to those who amass riches of the stones which would be heated in the Fire of Hell, and would be placed at the tick of the chest till it would project from the shoulder bone and would he put on the shoulder bone till it would project from the tick of his chest, and it (this stone) would continue passing and repassing (from one side to the other). He (the narrator) said: Then people hung their heads and I saw none among them giving any answer. He then returned and I followed him till he sat near a pillar. I said: I find that these (people) disliked what you said to them and they do not understand anything. My friend Abul-Qasim (Muhammad) (may peace he upon him) called me and I responded to him, and he said: Do you see Uhud? I saw the sun (shining) on me and I thought that he would send me on an errand for him. So I said: I see it. Upon this he said: Nothing would delight me more than this, that I should have gold like it (equal to the bulk of Uhud), and I should spend it all except three dinars. (How sad it is) that they hoard worldly riches, and they know nothing. I said: What about you and your brothers Quraish? You do not go to them for any need and do not accept anything from them. He said: By Allah, I neither beg anything from them (from worldly goods), nor do I ask them anything about religion till I meet my Allah and His Messenger.

2307Sahih Muslim

اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ کُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِکَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِکَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْئٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَائِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِينِکَ فَدَعْهُ

شیبان بن فروخ، ابوالاشہب، خلیدعصری، حضرت احنف بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں قریش کی ایک جماعت میں تھا کہ حضرت ابوذر یہ کہتے ہوئے گزرے، خوشخبری دے دو مال جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں سے جو ان کی پشت پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے، پھر وہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے، میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ابوذر ہے میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا یہ کیا بات تھی جو میں نے آپ سے ابھی سنی، کہا میں نے وہی بات کہی جس کو میں نے ان کے نبی ﷺ سے سنا میں نے کہا آپ عطا و بخشش کے مال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا اس کو لے لو کیوں کہ اس سے آج کل تمہیں مدد حاصل ہوگی اور اگر یہ تیرے دین کی قیمت ہو تو چھوڑ دو۔

Ahnaf bin Qais reported: While I was in the company of the (elites) of Quraiah, Abu Dharr (RA) came there and he was saying: Give tidings to the hoarders of riches that their backs would be branded (so deeply) that (the hot Iron) would come out of their sides, and when the backs of their necks would be branded, it would come out of their foreheads. He (Abu Dharr) then went away and sat down. I asked who he was. They said: He is Abu Dharr. I went to him and said to him: What is this that I heard from you which you were saying before? He said: I said nothing but only that which I heard from their Prophet ﷺ . I again said: What do you say about this gift? He said: Take it, for today it is a help. But when it becomes a price for your religion, then abandon it.

2308Sahih Muslim

خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّائُ لَا يَغِيضُهَا شَيْئٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ

زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتے ہیں اے بنی آدم تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا نیز فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کے برسنے سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Most Blessed and High, said: O son of Adam, spend. I will spend on you. The right hand of Allah is full and overflowing and in nothing would diminish it, by overspending day and night.