دین خیر خواہی اور بھلائی کا نام ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان، زیاد بن علاقہ، جریر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہر مسلمان سے خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔
Sufyan narrated on the authority of Ziyad bin Ilaqa that he heard Jarir bin Abdullah saying: I pledged allegiance to the Apostle of Allah ﷺ may peace and blessings be upon him) on sincerity and well-wishing for every Muslim.
دین خیر خواہی اور بھلائی کا نام ہے
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي فِيمَا اسْتَطَعْتَ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ
سریج بن یونس، یعقوب دورقی، ہشیم، سیار، شعبی، جریر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی کہ جو کچھ آپ ﷺ فرمائیں گے میں اس کو سنوں گا اور اطاعت کروں گا آپ ﷺ نے میری استطاعت کے مطابق ہی عمل کا حکم فرمایا اور میں نے ہر مسلمان سے خیر خواہی کی بھی بیعت کی۔
It is narrated on the authority of Jarir that he observed: I owed allegiance to the Apostle of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) on hearing ( is commands) and obeying (them) and the Prophet) instructed me (to act) as lay in my power, and sincerity and goodwill for every Muslim.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولَانِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلَائِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُا وَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ
حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ عمران تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی حالت میں کوئی زنا کرنے والا زنا نہیں کرتا اور نہ ہی ایمان کی حالت میں کوئی چور چوری کرتا ہے اور نہ ہی ایمان کی حالت میں کوئی شراب خور شراب خوری کرتا ہے ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے عبدالملک بن ابی بکر نے نقل کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایت کرتے تھے پھر فرماتے کہ ایمان کی حالت میں اعلانیہ کوئی لوگوں کے سامنے نہیں لوٹتا ( یعنی اس وقت اس میں ایمان نہیں ہوتا)۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed: The fornicator who fornicates is not a believer so long as he commits it and no thief who steals is a believer as long as he commits theft, and no drunkard who drinks wine is a believer as long as he drinks it. Abdul-Malik bin Abi Bakr narrated this on the authority of Abu Bakr (RA) bin Abdur-Rahman bin Harith and then said: Abu Hurairah (RA) made this addition: No plunderer who plunders a valuable thing that attracts the attention of people is a believer so long as he commits this act.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ يَذْکُرُ مَعَ ذِکْرِ النُّهْبَةِ وَلَمْ يَذْکُرْ ذَاتَ شَرَفٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي بَکْرٍ هَذَا إِلَّا النُّهْبَةَ
عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، بن سعد، عقیل بن خالد، ابن شہاب، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا کرنے والا زنا نہیں کرتا اور پھر حدیث بالا کی روایت بیان کی اور اس میں نھبہ کا لفظ بھی ہے مگر اس کے ساتھ ذات شرف کا لفظ نہیں ہے ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے سعید اور ابوسلمہ اور ان سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ سے حضرت ابوبکر ؓ کی اس حدیث کی طرح روایت کی مگر اس میں لفظ نہبہ (لوٹ) نہیں ہے۔
Abdul-Malik bin Shuaib narrated this hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) that he observed: The Messenger of Allah ﷺ said that a fornicator does not fornicate, and then narrated the hadith like this, and he also made mention of plundering too, but did not mention of a thin having value. Ibn Shihab said: Said bin al-Musayyib and Abu Salama narrated this hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) a hadith like that of Abu Bakr (RA) with the exception of (the mention) of plundering.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَذَکَرَ النُّهْبَةَ وَلَمْ يَقُلْ ذَاتَ شَرَفٍ
محمد بن مہران رازی، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، زہری، ابن مسیب، ابی سلمہ، ابی بکر بن عبدالرحمن، بن حارث، بن ہشام، ابوہریرہ ؓ نے اسی حدیث کے مثل روایت کی جو عقیل نے زہری سے زہری نے ابوبکر ؓ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی اور اس میں نہبہ کا لفظ ذکر کیا ہے اور لفظ ذات شرف نہیں ہے۔
Muhammad bin Mihran narrates this hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) and made mention of plundering but did not talk of (a thing) having value.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی مَيْمُونَةَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حسن بن علی حلوانی، یعقوب بن ابراہیم، عبدالعزیز بن مطلب، صفوان بن سلیم، عطاء بن یسار، میمونہ، حمید بن عبدالرحمن ابوہریرہ ؓ اس سند میں مذکور راویوں کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) : A fornicator who fornicates is not a believer as long as he commits fornication, and no one who steals is a believer as long as he commits theft, and no one who drinks wine is a believer as long as he drinks it, and repentance may be accepted after that.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ اسی سند میں مذکور راویوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا۔
It is reported on the authority of Qutaiba bin Said who reported on the authority of Abu Hurairah (RA) the hadith like that narrated from Zuhri with this exception that in the hadith narrated by Ala and Safwan bin Sulaim there is no mention of: People raise there eyes towards him, and in the hadith narrated by Hammam: The believers raise their eyes towards him, and such like words, so long as he plunders (is not) a believer, and these words were added: And no exploiter who makes an exploitation is a believer as long as he exploits It; therefore avoid and shun (these evils).
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ هَؤُلَاءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ الْعَلَاءَ وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ وَزَادَ وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ سے زہری کی حدیث کی طرح روایت ہے علاوہ اس کے علاء اور صفوان بن سلیم کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ (یَرفَعُ النَاسُ اِلَیہ فِیہَا اَبصَارِہِم) اور ہمام کی روایت کے الفاظ یہ ہیں (یَرفَعُ اِلَیہ المُومِنُونَ اّعیُنِہِم) اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ لَا یَغِلُّ اّحَدَکُم الخ یعنی جب تم میں سے کوئی شخص غنیمت کے مال میں سے چوری کرے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا پس اس سے بچتے رہو پس اس سے بچتے رہو۔
It is reported on the authority of Qutaiba b. Said who reported on the authority of Abu Huraira the hadith like that narrated from Zuhri with this exception that in the hadith narrated by Ala and Safwan b. Sulaim there is no mention of:
People raise there eyes towards him, and in the hadith narrated by Hammam: The believers raise their eyes towards him, and such like words, so long as he plunders (is not) a believer, and these words were added: And no exploiter who makes an exploitation is a believer as long as he exploits It; therefore avoid and shun (these evils).
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، سلیمان، ذکوان، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زنا کرنے والا شخص زنا کی حالت میں مومن نہیں ہوتا اور چور بھی چوری کی حالت میں مومن نہیں اور اسی طرح جب کوئی شراب نوشی کرتا ہے تو اس حالت میں وہ مومن نہیں ہوتا اور توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا رہتا ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira:
A fornicator who fornicates is not a believer as long as he commits fornication, and no one who steals is a believer as long as he commits theft, and no one who drinks wine is a believer as long as he drinks it, and repentance may be accepted after that.
گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، اعمش، ذکوان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے پھر آگے شعبہ کی حدیث کے مثل ہے۔
Muhammad bin Rafi, Abdur-Razzaq, Sufyan, Amash narrated this hadith like one narrated by Shubah, on the authority of Abu Hurairah (RA) tracing, it (right to the Holy Prophet).
منافق کی خصلتوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ کَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّی يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَإِنْ کَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ کَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ النِّفَاقِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اعمش، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، عبداللہ بن مرہ، مسروق، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہوجائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہوجائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہوگی۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ observed: Four characteristics made anyone who possessed them, a sheer hypocrite; anyone who possessed one of them possessed a characteristic of hypocrisy till be abandons it: when he talked he lied, when he made a covenant he acted treacherously, and when he quarreled he deviated from the truth.
منافق کی خصلتوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابوسہیل، نافع بن مالک، ابن ابوعامر، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Three are the signs of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made a promise he acted treacherously against it, when he was trusted he betrayed.
منافق کی خصلتوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَلَامَاتِ الْمُنَافِقِ ثَلَاثَةٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب مولیٰ حرقہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: There are three characteristics of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made promise he acted treacherously, and when he was trusted he betrayed.
منافق کی خصلتوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ أَبُو زُکَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ
عقبہ بن مکرم، یحییٰ بن محمد بن قیس، ابوزکیر، علاء بن عبدالرحمن اس سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں اور اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔
Uqba bin Mukarram al-Ami reported that he heard Ala bin Abdur-Rahman narrating this hadith with this chain of transmitters and he said: Three are the signs of a hypocrite, even if he observed fast and prayed and asserted that he was a Muslim.
منافق کی خصلتوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ ذَکَرَ فِيهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ
ابونصر تمار، عبدالاعلی بن حماد، حماد بن سلمہ، داود بن ابی ہند، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ ہی سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings of Allah be upon him) made observations like them embodied in the hadith narrated by Yahya bin Muhammad on the authority of Ala, and added to it: even if he observed fast and prayed and asserted that he was a Muslim.
مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن عمر، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کسی ایک پر یہ کلمہ چسپاں ہو کر رہتا ہے۔
It is reported on the authority of Ibn Umar that the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: When a man calls his brother an unbeliever, it returns (at least) to one of them.
مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا کَافِرُ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پہ کفر آئے گا اگر وہ واقعی کافر ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔
It is reported on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Any person who called his brother: or unbeliever (has in fact done an act by which this unbelief) would return to one of them. If it were so, as he asserted (then the unbelief of man was confirmed but if it was not true), then it returned to him (to the man who labeled it on his brother Muslim).
مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنْ ادَّعَی مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْکُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللَّهِ وَلَيْسَ کَذَلِکَ إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین ابن بریدہ، یحییٰ بن یعمر، ابواسود، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا۔
It is reported on the authority of Abu Dharr (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) saying: No person who claimed knowingly anyone else as his father besides (his own) committed nothing but infidelity, and he who made a claim of anything, which (in fact) did not belong to him, is not amongst us; he should make his abode in Fire, and he who labeled anyone with unbelief or called him the enemy of Allah, and he was in fact not so, it rebounded on him.
جاننے کے باوجود اپنے باپ کے انکار کرنے والے کے ایمان کی حالت کا بیان
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ کُفْرٌ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، جعفر بن ربیعہ، عراک بن مالک، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے آباء کے نسب کا انکار نہ کرو جس نے اپنے باپ کے نسب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Do not detest your fathers; he who detested his father committed infidelity.
جاننے کے باوجود اپنے باپ کے انکار کرنے والے کے ایمان کی حالت کا بیان
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَکْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُا سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَی أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ أَبُو بَکْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عمرو ناقد، ہشیم بن بشیر، خالد، ابوعثمان فرماتے ہیں کہ جب زیاد کے بارے میں بھائی ہونے کا دعوی کیا گیا تو میں نے ابوبکرہ سے ملاقات کی تو ان سے کہا کہ تم نے کیا کہا میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے خود اپنے کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان نے جاننے کے باوجود اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا باپ بنایا تو اس پر جنت حرام ہے ابوبکرہ نے کہا کہ یہ بات تو خود میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
It is reported on the authority of Sad bin Abi Waqqas: Both of my ears heard the Messenger of Allah ﷺ saying this: He who claimed the fatherhood of anyone else besides his real father knowingly (committed a great sin) ;Paradise is forbidden to him. Abu Bakra (RA) asserted that he too heard it from the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him ).