Sahih Muslim 208

ایمان کا بیان

208Sahih Muslim

گناہ کرنے سے ایمان کم ہوجاتا ہے اور گناہ کرتے وقت گنہگار سے ایمان علیحدہ ہوجاتا ہے یعنی اس کا ایمان کامل نہیں رہتا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، سلیمان، ذکوان، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زنا کرنے والا شخص زنا کی حالت میں مومن نہیں ہوتا اور چور بھی چوری کی حالت میں مومن نہیں اور اسی طرح جب کوئی شراب نوشی کرتا ہے تو اس حالت میں وہ مومن نہیں ہوتا اور توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا رہتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Huraira: A fornicator who fornicates is not a believer as long as he commits fornication, and no one who steals is a believer as long as he commits theft, and no one who drinks wine is a believer as long as he drinks it, and repentance may be accepted after that.