Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 107 of 379

2129Sahih Muslim

مر یض اور میت والوں کے پاس کیا کہا جائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَرِيضَ أَوْ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَی مَا تَقُولُونَ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَی حَسَنَةً قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہیں گے جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو نبی ﷺ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا تو (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَی حَسَنَةً ) اے اللہ مجھے اور اس کو معاف فرما دے اور مجھے اس سے اچھا بدلہ عطا فرما کہہ میں نے کہا تو اللہ نے مجھے اس سے بہتر محمد ﷺ عطا فرما دیے۔

Umm Salamah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Whenever you visit the sick or the dead, supplicate for good because angels say "Amen" to whatever you say. She added: When Abu Salama died, I went to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, Abu Salama has died. He told me to recite: "O Allah! forgive me and him (Abu Salama) and give me a better substitute than he." So I said (this), and Allah gave me in exchange Muhammad, who is better for me than him (Abu Salama).

2130Sahih Muslim

میت کی آنکھوں کو بند کرنے اور اس کے لئے دعا کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ لَا تَدْعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَی مَا تَقُولُونَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ

زہیر بن حرب، معاویہ بن عمرو، ابواسحاق فزاری، خالد حذاء، ابوقلابہ، قبیصہ بن ذویب، ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ کے پاس تشریف لائے تو ابوسلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے ان کو بند کردیا، پھر فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ بھی اس کے پیچھے جاتی ہے، ان کے گھر کے لوگوں نے رونا شروع کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے آپ پر خیر ہی کی دعا کیا کرو بیشک فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کو معاف فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور باقی لوگوں میں سے اس کا جانشین مقرر فرمایا رب العالمین ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں اس کے لئے کشادگی فرما اور اس میں اس کے لئے روشنی فرما۔

Umm Salamah reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon came to Abu Salama (as he died). His eyes were fixedly open. He closed them, and then said: When the soul is taken away the sight follows it. Some of the people of his family wept and wailed. So he said: Do not supplicate for yourselves anything but good, for angels say "Amen" to what you say. He then said: O Allah, forgive Abu Salama, raise his degree among those who are rightly guided, grant him a successor in his descendants who remain. Forgive us and him, O Lord of the Universe, and make his grave spacious, and grant him light in it.

2131Sahih Muslim

میت کی آنکھوں کو بند کرنے اور اس کے لئے دعا کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَاخْلُفْهُ فِي تَرِکَتِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَلَمْ يَقُلْ افْسَحْ لَهُ وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّائُ وَدَعْوَةٌ أُخْرَی سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا

محمد بن موسیٰ قطان واسطی، مثنی بن معاذ بن معاذ، عبیداللہ بن حسن، خالد حذاء اس حدیث کی دوسری سند مذکور ہے اس میں ہے اے اللہ جو بچے یہ چھوڑ کر جا رہے ہیں ان میں ان کا جانشین مقرر فرما اور فرمایا اے اللہ اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت فرما افسح نہیں فرمایا آپ ﷺ نے ساتویں چیز کی بھی دعا کی جو میں بھول گیا۔

This hadith has been narrated by Khalid al Hadhdha with the same chain of transmitters but with this alteration that he said: (O Allah!) let Thee be the caretaker of what is left by him, and he said: Grant him expansion of the grave, but he did not say: Make his grave spacious. Khalid said: He supplicated for the seventh (thing too) which I have forgotten.

2132Sahih Muslim

روح کا پیچھا کرتے ہوئے میت کے آنکھوں کا کھلا رہنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ يَعْقُوبَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ قَالُوا بَلَی قَالَ فَذَلِکَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، علاء بن یعقوب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا وجہ یہ ہے کہ اس کی نگاہ جان کے پیچھے جاتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Did you not see when the man died and his eyes were fixedly open? He ( Abu Hurairah (RA) ) said: Yes. He (the Holy Prophet) said: It is due to the fact that when (the soul leaves the body) his eyesight follows the soul.

2133Sahih Muslim

روح کا پیچھا کرتے ہوئے میت کے آنکھوں کا کھلا رہنے کا بیان

حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، حضرت علا ؓ سے دوسری سند مذکور ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Ala with the same chain of transmitters.

2134Sahih Muslim

میت پر رونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْکِيَنَّهُ بُکَائً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَکُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُکَائِ عَلَيْهِ إِذْ أَقَبَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ فَکَفَفْتُ عَنْ الْبُکَائِ فَلَمْ أَبْکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، سفیان، ابن ابی نجیح، عبید بن عمیر ؓ سے روایت ہے کہ ام سلمہ ؓ نے کہا جب ابوسلمہ فوت ہوگئے تو میں نے کہا، مسافر تھا اور مسافر زمین میں مرگیا ہے میں اس کے لئے ایسا روؤں گی کہ اس کے بارے میں باتیں کی جائیں گی، چناچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی مدینہ کے اوپر کے ایک محلہ سے ایک عورت میری مدد کے لئے بھی آگئی رسول اللہ ﷺ سے اس کی ملاقات ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو جس گھر سے اللہ نے شیطان نکال دیا ہے اس میں اس کو داخل کرنا چاہتی ہے آپ ﷺ نے دو دفعہ یہ فرمایا تو میں رونے سے رک گئی پس میں نہ روئی۔

Umm Salamah reported: When Abu Salama died I said: I am a stranger in a strange land; I shall weep for him in a manner that would be talked of. I made preparation for weeping for him when a woman from the upper side of the city came there who intended to help me (in weeping). She happened to come across the Messenger of Allah ﷺ and he said: Do you intend to bring the devil into a house from which Allah has twice driven him out? I (Umm Salamah), therefore, refrained from weeping and I did not weep.

2135Sahih Muslim

میت پر رونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَی بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوْ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُولِ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَی وَکُلُّ شَيْئٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَعَادَ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ کَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَائَ

ابوکامل جحدری، ابن زید، عاصم احول، ابوعثمان نہدی، اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ کی بیٹیوں میں سے کسی نے آپ ﷺ کو بلوایا اور آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ اس کا بچہ حالت موت میں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے پیغام لانے والے سے فرمایا واپس جا اور اس کو خبر دے کہ جو اللہ لیتا ہے وہ اسی کا ہے اور جو عطا کرتا ہے وہ بھی اسی کے لئے ہے اور اس کے پاس ہر چیز مقرر مدت کے ساتھ ہے، اس کو صبر کا حکم دینا اور ثواب کی امید رکھے، پیام بر دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ کی بیٹی نے قسم دے کر عرض کیا کہ آپ ﷺ ضرور اس کے ہاں تشریف لائیں تو نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل ؓ بھی کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا پس بچہ آپ ﷺ کو پیش کیا گیا اور اس کا دم نکل رہا تھا گویا کہ پرانی مشک پانی ڈالنے سے بول رہی ہو، آپ ﷺ کی آنکھیں بھر آئیں تو آپ ﷺ سے سعد نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ نرم دلی ہے جس کو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں بنایا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے مہربانی کرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔

Usama bin Zaid reported: While we were with the Apostle of Allah ﷺ , one of his daughters sent to him (the Messenger) to call him and inform him that her child or her son was dying. The Messenger of Allah ﷺ told the messenger to go back and tell her that what Allah had taken belonged to Him, and to him belonged what He granted; and He has an appointed time for everything. So you (the messenger) order her to show endurance and seek reward from Allah. The messenger came back and said: She adjures him to come to her. He got up to go accompanied by Sad bin Ubadah, Muadh bin Jabal, and I also went along with them. The child was lifted to him and his soul was feeling as restless as if it was in an old (water skin). His (Prophets) eyes welled up with tears. Sad said: What is this, Messenger of Allah? ﷺ He replied: This is compassion which Allah has placed in the hearts of His servants, and God shows compassion only to those of His servants who are compassionate.

2136Sahih Muslim

میت پر رونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن فضیل، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم احول اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی گئی ہے فرق یہ ہے کہ پہلی حدیث زیادہ لمبی اور کامل ہے۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of Asim al-Atwal.

2137Sahih Muslim

میت پر رونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اشْتَکَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَکْوَی لَهُ فَأَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ فَقَالَ أَقَدْ قَضَی قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمُ بُکَائَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکَوْا فَقَالَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَکِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ

یونس بن عبدالاعلی صدفی، عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن حارث انصاری، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ بیمار ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لئے آئے، آپ کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جب آپ ﷺ سعد کے پاس پہنچے تو ان کو بےہوشی کی حالت میں پایا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس کو موت دے دی گئی ہے؟ تو صحابہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ، رسول اللہ ﷺ رونے لگے جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو پڑے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو بیشک اللہ رونے والی آنکھ اور غم والے دل پر عذاب نہیں کرتا لیکن اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا یا رحم کیا جائے گا اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔

Abdullah bin Umar said that Sad bin Ubadah complained of illness. The Messenger of Allah ﷺ came to visit him accompanied by Abdul Rahman bin Auf, Sad bin Abi Waqqas and Abdullah bin Masud. As he entered (his room) he found him in a swoon. Upon this he said: Has he died? They said: Messenger of Allah, it is not so. The Messenger of Allah ﷺ wept. When the people saw Allahs Messenger ﷺ weeping, they also began to weep. He said. Listen, Allah does not punish for the tears that the eye sheds or the grief the heart feels, but He punishes for this (pointing to his tongue), or He may show mercy.

2138Sahih Muslim

بیمار کی عیادت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَخَا الْأَنْصَارِ کَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعُودُهُ مِنْکُمْ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ نَمْشِي فِي تِلْکَ السِّبَاخِ حَتَّی جِئْنَاهُ فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ حَتَّی دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ

محمد بن مثنی عنزی، محمد بن جہضم، ابن جعفر، ابن غزیہ، سعید بن حارث بن معلی، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے آپ ﷺ کے پاس انصار میں سے ایک آدمی نے آکر آپ ﷺ کو سلام کیا پھر وہ انصاری چلا گیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اے انصار کے بھائی! میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا اچھے ہیں، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون اس کی عیادت کرنا چاہتا ہے؟ پس آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہم کچھ اوپر دس آدمی تھے ہمارے پاس جوتے موزے ٹوپیاں اور قمیض نہ تھے، ہم اس کنکریلی زمین میں پیدل جا رہے تھے یہاں تک کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو ان کی قوم ان کے پاس سے ہٹ گئی رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے اس کے قریب ہوگئے۔

Abdullah bin Umar reported: While we were sitting with the Messenger of Allah ﷺ , a person, one of the Ansar, came to him and greeted him. The Ansari then turned back. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: O brother of Ansar, how is my brother Sad bin Ubadah? He said: He is better. The Messenger of Allah ﷺ said: Who amongst you would visit him? He (the Holy Prophet) stood up and we also got up along with him, and we were more than ten persons. We had neither shoes with us, nor socks, nor caps, nor shirts. We walked on the barren land till we came to him. The people around him kept away till the Messenger of Allah ﷺ and his Companions with him came near him (Sad bin Ubadah).

2139Sahih Muslim

مصیبت پر صبر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَی

محمد بن بشارعبدی، ابن جعفر، شعبہ، ثابت، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبر صدمہ کی ابتداء کے وقت ہی افضل ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Endurance is to be shown at the first blow.

2140Sahih Muslim

مصیبت پر صبر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی امْرَأَةٍ تَبْکِي عَلَی صَبِيٍّ لَهَا فَقَالَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَلَمَّا ذَهَبَ قِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَی بَابِهِ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْکَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ أَوْ قَالَ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ

محمد بن مثنی، عثمان بن عمر، شعبہ، ثابت بنانی، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ اپنے بچے پر روتی عورت کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اس سے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر اختیار کر! تو اس نے کہا تم کو میری مصیبت نہیں پہنچی، جب آپ ﷺ گئے تو اس عورت سے کہا گیا کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ تھے تو اس عورت کو پریشانی ہوئی اور وہ آپ ﷺ کے دروازے پر پہنچی اور آپ ﷺ کے گھر پر کسی دربان کو نہ پایا تو اندر جا کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کرنے لگی میں نے آپ ﷺ کو پہچانا نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبر صدمہ کی ابتداء میں ہی افضل ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ came to a woman who had been weeping for her (dead) child, and said to her: Fear Allah and show endurance. She (not recognising him) said: You have not been afflicted as I have been. When he (the Holy Prophet) had departed, it was said to her that he was the Messenger of Allah ﷺ , she was mortally shocked. She came to his door and she did not find doorkeepers at his door. She said: Messenger of Allah. I did not recognise you. He said: Endurance is to be shown at first blow, or at the first blow.

2141Sahih Muslim

مصیبت پر صبر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ

یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن حارث، ح، عقیہ بن مکرم عمی، عبدالملک بن عمرو، ح، احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیکن عبدالصمد کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی عورت کے پاس سے ہوا باقی حدیث اوپر والی حدیث کی طرح ہے۔

A hadith like this is narrated with the same chain of transmitters but with the addition of these words:" The Apostle of Allah ﷺ happened to pass by a woman (who was sitting) by the side of a grave."

2142Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَکَتْ عَلَی عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ابوبکر، محمد بن بشر عبدی، عبیداللہ بن عمر، نافع، عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ حضرت عمر ؓ پر رونے لگیں تو حضرت عمر ؓ نے (بحالت نیم بےہوشی) فرمایا میری پیاری بیٹی رک جا! کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کے اہل والوں کے رونے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔

Abdullah bin Umar reported that Hafsa wept for Umar (when he was about to due). He (Umar) said: Be quiet, my daughter. Dont you know that the Messenger of Allah ﷺ had said:" The dead is punished because of his familys weeping over it"?

2143Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، قتادہ، سعید بن مسیب، ابن عمر، حضرت عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے۔

Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The dead is punished in the grave because of wailing on it.

2144Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، سعید بن مسیب، ابن عمر، حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں، میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے۔

The same hadith is narrated on the authority of Umar through another chain of transmitters.

2145Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

علی بن حجرسعدی، علی بن مسہر، اعمش، ابوصالح، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کو زخمی کیا گیا، آپ ؓ پر بےہوشی طاری ہوگئی تو لوگ آپ پر با آواز بلند چیخنے لگے، جب آپ ؓ کو ہوش آیا تو فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

Ibn Umar reported: When Umar was wounded he fainted, and there was a loud lamentation over him. When he regained consciousness he said: Didnt you know that the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead is punished because of the weeping of the living"?

2146Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَا أَخَاهْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

علی بن حجر، علی بن مسہر، شیبانی، ابوبردہ سے روایت کرتی ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ زخمی ہوئے صہیب نے ہائے بھائی کہنا شروع کردیا تو حضرت عمر ؓ نے اس سے کہا اے صہیب کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

Abu Burda narrated on the authority of his father that when Umar was wounded Suhaib uttered (loudly in lamentation): O brother! Upon this Umar said: Suhaib, did you not know that the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead is punished because of the lamentation of the living"?

2147Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَی عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُمَرَ فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْکِي فَقَالَ عُمَرُ عَلَامَ تَبْکِي أَعَلَيَّ تَبْکِي قَالَ إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْکَ أَبْکِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُبْکَی عَلَيْهِ يُعَذَّبُ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُوسَی بْنِ طَلْحَةَ فَقَالَ کَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّمَا کَانَ أُولَئِکَ الْيَهُودَ

علی بن حجر، شعیب بن صفوان، ابویحیی، عبدالملک بن عمیر، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ زخمی ہوگئے تو حضرت صہیب اپنے گھر سے حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو اس کو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کس بات پر روتے ہو؟ کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟ تو اس نے کہا اے امیرالمؤمنین اللہ کی قسم آپ ؓ ہی پر روتا ہوں، تو آپ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم تو جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس پر رویا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے فرماتے ہیں میں نے اس کا ذکر موسیٰ بن طلحہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ( کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے) وہ یہودی تھے۔

Abu Musa reported that when Umar was wounded, there came Suhaib from his house and went to Umar and stood by his side, and began to wail. Upon this Umar said: What are you weeping for? Are you weeping for me? He said: By Allah, it is for you that I weep, O Commander of the believers. He said: By Allah, you already know that the Messenger of Allah ﷺ had said: He who is lamented upon is punished. I made a mention of it to Musa bin Talha, and he said that Aisha told that it concerned the Jews (only).

2148Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ

عمرو ناقد، عفان بن مسلم، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ ؓ نے آپ ؓ پر آواز سے رونا شروع کردیا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے حفصہ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس پر آواز سے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے اور آپ پر صہیب جب روئے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے صہیب کیا تو نہیں جانتا کہ جس پر آواز سے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔

Anas reported that when Umar bin Khattab was wounded Hafsa lamented for him. Upon this he said: O Hafsa, did you not hear the Messenger of Allah ﷺ saying:" One who is lamented would be punished"? Suhaib also lamented over him. Umar told him also: O Suhaib, didnt you know that one who is lamented is punished?