Sahih Muslim 2142

جنازوں کا بیان

2142Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَکَتْ عَلَی عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ابوبکر، محمد بن بشر عبدی، عبیداللہ بن عمر، نافع، عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ حضرت عمر ؓ پر رونے لگیں تو حضرت عمر ؓ نے (بحالت نیم بےہوشی) فرمایا میری پیاری بیٹی رک جا! کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کے اہل والوں کے رونے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔

Abdullah bin Umar reported that Hafsa wept for Umar (when he was about to due). He (Umar) said: Be quiet, my daughter. Dont you know that the Messenger of Allah ﷺ had said:" The dead is punished because of his familys weeping over it"?