Sahih Muslim 3007

حج کا بیان

3007Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَکَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت مسلم قری ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے حج کو احرام باندھا تو نہ نبی ﷺ حلال ہوئے اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے جو قربانی ساتھ لائے تھے وہ حلال ہوئے اور ان میں سے باقی صحابہ حلال ہوگئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ انہی حضرات میں سے تھے جن کے ساتھ قربانی تھی اس لئے وہ حلال نہیں ہوئے احرام نہیں کھولا۔

Muslim al-Qurri heardibn Abbas (RA) saying that Allahs Apostle ﷺ entered into the state of Ihram for Umrah and his Companions for Hajj. Neither Allahs Apostle ﷺ nor those among his Companions who had brought sacrificial animals with them put off Ihram, whereas the rest (of the pilgrims) did so. Talha bin Ubaidullah (RA) was one of those who had brought the sacrificial animals along with them so he did not put off Ihram.