وعن ابن عباس قال لعن الله المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء وقال أخرجوهم من بيوتكم . رواه البخاري .
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ مخنثوں کو اپنے کو اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔ (بخاری)
تشریح
مُخَنَث یا مُخَنث (زیادہ صحیح مخنث ہی ہے) کی اصل خنث ہے جس کے لغوی معنی نرمی اور شکستگی کے ہیں۔ مخنث اس مرد کو کہتے ہیں جو عورتوں کا سا لباس پہنے، عورتوں کی طرح ہاتھ پیروں کو مہندی کے ذریعہ رنگین کرے اور بات چیت میں عورتوں کا لب و لہجہ اختیار کرے اور اسی طرح جملہ حرکات و سکنات میں عورتوں کا انداز اپنائے، ایسے مرد کو ہماری بول چال میں ہجڑہ یا زنانہ بھی کہا جاتا ہے۔ مخنث دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو خلقی کہ ان کے اعضاء جسم اور انداز میں خلقی اور جبلی طور پر عورتوں کی سی نرمی و لچک ہوتی ہے، گویا ان میں قدرتی طور پر عورتوں کے اوصاف و عادات ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ بعض مرد اگرچہ اپنے اعضاء جسم اور خلقت وجبلت کے اعتبار سے مکمل مرد ہوتے ہیں مگر جان بوجھ کر اپنے کو عورت بنانا چاہتے ہیں چناچہ وہ بات چیت کے انداز اور رہن سہن کے طور طریقوں میں عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے فوطے اور عضو تناسل کٹوا کر نامرد بھی بن جاتے ہیں، مخنثوں کی اسی قسم کے حق میں لعنت و مذمت فرمائی گئی ہے، اس کے برخلاف پہلی قسم اس لعنت سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ تو معذوری کی شکل ہے اس میں اپنے قصد و اختیار کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی طرح عورتوں پر بھی لعنت فرمائی گئی ہے جو اپنے آپ کو وضع قطع، رہن سہن اور لباس وغیرہ میں مردوں کے مشابہ بناتی ہیں۔ شرعۃ الاسلام کی شرح میں لکھا ہے کہ مہندی لگانا عورتوں کے لئے مسنون ہے اور مردوں کے لئے بلاعذر لگانا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں عورتوں کی مشابہت لازم آتی ہے۔ اس قول سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے مہندی سے بالکل عاری رہنا مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں اس کی مردوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔
وعنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال . رواه البخاري .
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور جو عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔ (بخاری )
انسانی بال سے نفع اٹھانا حرام ہے۔
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة .
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو عورت اپنے بالوں میں کسی دوسری عورت کے بالوں کا جوڑا لگائے (خواہ خود لگائے اور خواہ کسی دوسرے سے لگوائے) اور جو عورت کسی دوسری عورت کے بالوں میں اپنے بالوں کا جوڑ لگائے اور جو عورت گودے اور جو عورت گدوائے ان سب پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
بالوں کا جوڑ لگائے یا لگوائے سے مراد یہ ہے کہ بالوں کے حسن و درازی کے لئے کوئی عورت کسی دوسری عورت کے بالوں کا چوٹا لے کر اپنی چوٹی میں شامل کرے یا اپنے بالوں کا چوٹا لے کر کسی دوسری عورت کی چوٹی میں شامل کر دے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ احادیث سے یہ بات صراحت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ بلا کسی استثناء و قید کے بالوں کا جوڑ لگانا حرام ہے چناچہ ظاہر و مختار مسئلہ بھی یہی ہے لیکن ہمارے (شافعی) علماء نے اس مسئلہ میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ انسان کے بالوں کا جوڑ لگانا تو بلا اختلاف حرام ہے کیونکہ انسان کو جو بزرگی و شرف حاصل ہے، اس کی بناء پر اس کے بالوں اور اس کے دیگر اجزاء جسم سے فائدہ اٹھانا حرام ہے اور اگر انسان کے علاوہ کسی جانور کے پاک بال ہوں تو ان کی چوٹی میں شامل کرنے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کا خاوند یا مالک نہ ہو (یعنی جو عورت آزاد ہو اور مطلقہ یا بیوہ یا کنواری ہو) تو اس کے لئے اپنی چوٹی میں ان بالوں کو شامل کرنا بھی حرام ہے اور اگر عورت خاوند یا مالک والی ہو تو اس کے حق میں تین صورتیں ہیں جن میں سے سب سے زیادہ صحیح صورت یہ ہے کہ وہ خاوند یا مالک کی اجازت کے بعد ان بالوں کو اپنی چوٹی میں شامل کرے تو جائز ہے۔ مالک، طبری اور اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ عورت کے لئے اپنی چوٹی میں کوئی بھی چیز شامل کرنا ممنوع ہے خواہ وہ بال ہوں، خواہ کالے صوف (اون) ہوں، خواہ دھجیاں ہوں اور خواہ ان کے علاوہ کوئی اور چیز ہو، ان حضرات نے اس مسئلہ میں احادیث سے استدلال کیا ہے، جبکہ فقیہ لیث کا قول یہ ہے کہ مذکورہ ممانعت کا تعلق صرف بالوں سے ہے، لہٰذا چوٹی میں بالوں کے علاوہ دوسری چیزیں جیسے صوف وغیرہ شامل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ نیز بالوں کو ایسی ڈوری وغیرہ سے باندھنا کہ جو بالوں کی مشابہت نہ رکھے بلا کراہت جائز ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں یہ لکھا ہے کہ سر کے بالوں میں (یعنی چوٹی میں ) انسان کے بال شامل کرنا حرام ہے لیکن صوف یعنی اون کو شامل کرنا جائز ہے۔ گودنے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے کسی حصہ کی جلد پر سوئیاں یا اسی طرح کی کوئی چیز چبھوئی جائے یہاں تک کہ خون بہنے لگے پھر اس میں سرمہ یا نیل بھر دیا جائے۔ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم ہے اور آج کل بعض غیر مسلم قوموں میں اس کا رواج ہے، شریعت اسلامی نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے، نووی فرماتے ہیں کہ یہ چیز گودنے والے اور گدوانے والے دونوں کے لئے حرام ہے اور جسم کے جس حصہ پر گودا جاتا ہے وہ حصہ نجس ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر کسی مسلمان نے ناسمجھی سے گدوا لیا ہے اور کسی علاج و معالجہ کے ذریعہ اس کا ازالہ ممکن ہو تو اس کا نشان مٹوا دینا واجب ہے اور اگر کسی حرج و تنگی کے بغیر اس کا ازالہ ممکن نہ ہو، نیز اس بات کا خوف ہو کہ اس کو زائل کرنے کی صورت میں جسم کا وہ حصہ تلف یا بیکار ہوجائے گا یا پوری طرح کام نہیں کرے گا یا اس ظاہری عضو میں بہت بڑا عیب پیدا ہوجائے گا تو اس صورت میں اس کا ازالہ واجب نہیں، تاہم اللہ سے معافی مانگنا اور توبہ و استغفار کرنا چاہئے تاکہ اس پر سے گناہ کا بار ہٹ جائے اور اگر مذکورہ چیزوں میں سے کسی چیز کا خوف نہ ہو تو پھر اس کا ازالہ ہی لازم ہوگا اور اس میں تاخیر کرنے سے گنہگار ہوگا۔
اللہ کی تخلیق میں تغیر کرنے والا اللہ کی لعنت کا مورد ہے
وعن عبد الله بن مسعود قال لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله فجاءته امرأة فقالت إنه بلغني أنك لعنت كيت وكيت فقال ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن هو في كتاب الله فقالت لقد قرأت ما بين اللوحين فما وجدت فيه ما نقول قال لئن كنت قرأتيه لقد وجدتيه أما قرأت ( ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا ) ؟ قالت بلى قال فإنه قد نهى عنه .
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ گودنے والی اور گدوانے والی عورتیں منہ پر سے بال نچوانے والی عورتیں، افزائش حسن کے لئے دانتوں کو سوہان (ریتی) سے رتوانے والی عورتیں ان سب پر کہ جو اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں تغیر کرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ (جب ابن مسعود ؓ کی یہ روایت عورتوں تک پہنچی) تو ایک عورت حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اس طرح (کی عورتوں پر) لعنت بھیجتے ہیں؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میرے لئے کیا رکاوٹ ہے کہ میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول کریم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے اور جس کو کتاب اللہ میں ملعون قرار دیا گیا ہے عورت نے کہا کہ میں نے بھی اس چیز کو پڑھا ہے جو دو دفتیوں کے درمیان ہے (یعنی میں نے بھی پورا قرآن کریم پڑھا ہے) لیکن اس میں مجھے یہ بات جو آپ کہتے ہیں (صریح الفاظ میں) کہیں نہیں ملی ہے؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا۔ اگر تم قرآن کریم کو غور و فکر کے ساتھ اور سمجھ کر پڑھتیں تو اس میں تمہیں یقینا اس کا حکم ملتا، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی ہے (وَمَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) 59۔ الحشر 7) (یعنی رسول کریم ﷺ تمہیں جو کچھ دیں اس کو قبول کرو اور اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کریں اس سے باز رہو) اس عورت نے کہا کہ ہاں یہ آیت تو میں نے پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ پس یہ وہ چیز ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
عورتوں کو اپنے چہرے کے بال چنوانا مکروہ ہے لیکن اگر کسی عورت کو چہرے پر داڑھی یا مونچھ نکل آئے تو اس کو صاف کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ حدیث میں صرف چنوانے والی کا ذکر ہے۔ چننے والی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ جس کو نامصہ کہتے ہیں جب کہ اس مسئلہ سے متعلق جو روایت دوسری فصل میں آئے گی اس میں نامصہ کا ذکر ہے۔ اہل عرب کے نزدیک عورتوں کے دانتوں میں ایک دوسرے دانت کے درمیان کشادگی و فرق کا ہونا پسندیدہ سمجھا جاتا تھا اور عام طور پر چھوٹی عمر کی عورتوں کے دانت اسی طرح کے ہوتے ہیں، چناچہ عرب میں یہ دستور تھا کہ عورتیں جب بوڑھی ہوجاتی تھیں اور ان کے دانت بڑھ جاتے تھے جس کی وجہ سے ان کے دانتوں کے درمیان یہ کشادگی باقی نہیں رہتی تھی، تو وہ باقاعدہ اپنے دانتوں پر سوہان اور ریتی وغیرہ چلا کر کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرتی تھیں اور اس کی بنیاد ان کا یہ جذبہ ہوتا تھا کہ جوان و کمسن نظر آئیں اور حسن و دلکشی ظاہر ہو، چناچہ اسلامی شریعت نے اس طریقہ کو بھی ممنوع قرار دیا۔ لفظ المغیرات تمام مذکورہ عورتوں کی صفت ہے جس کو ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے یعنی جن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب اس طرح کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز جیسی بنادی ہے اس میں وہ اپنی خواہش کے مطابق ترمیم کرتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مصلحت ومرضی کے خلاف ہے۔ اسی طرح لفظ خلق اللہ مغیرات کا مفعول ہے اور یہ پورا جملہ تعلیل کے درجہ میں ہے جو وجوب لعنت کی علت و وجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مثلہ اور داڑھی منڈانا وغیرہ میں جو حرمت (ممانعت) ہے اس کی علت و وجہ بھی یہی چیز یعنی اللہ کی تخلیق میں تغیر کرنا ہے، لیکن اس سے یہ ضروری قرار نہیں پاتا کہ ہر تغیر حرام ہو کیونکہ یہ علت کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ حرمت کی اصل علت تو شرع کی طرف سے منع کیا جانا ہے اور اس ممانعت میں جو حکمت پوشیدہ ہے وہ یہ چیز ہے جس کو ظاہری علت کا درجہ دیا جاتا ہے لہذا حاصل یہ نکلا کہ شارع ( علیہ السلام) نے جن تغیرات کو مباح قرار دیا ہے ان میں اباحت رہے گی اور جن تغیرات کو حرام قرار دیا ہے ان میں حرمت جاری ہوگی مذکورہ عورت نے حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر جو کچھ کہا اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ ان عورتوں کو اپنی طرف سے ملعون قرار دیتے ہیں یا اس بات کی اطلاع دیتے ہیں کہ قران کریم میں ان عورتوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے حالانکہ قران کریم میں ان عورتوں پر لعنت کا کوئی صریح ذکر نہیں ہے اور یہ مسئلہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے ملعون قرار دیا ہے اس پر لعنت بھیجنا جائز نہیں ہے؟ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس عورت کو بڑے اچھے انداز میں بات سمجھائی اور قران و حدیث کے حوالوں سے مسئلہ کو ثابت کیا تو اس کو اطمینان ہوگیا کیونکہ اس کو حدیث کے بارے میں کوئی شبہ تھا ہی نہیں محض اس حکم قران میں بالفاظ صریح نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ذہن میں اشکال پیدا ہوا تھا اور وہ بھی رفع ہوگیا روایت کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ جن امور کی ممانعت بیان فرمائیں ان سے باز رہا جائے اور رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بھی اور دوسری احادیث کے ذریعہ بھی مذکورہ بالا چیزوں سے منع فرمایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان چیزوں کی ممانعت گویا قرآن میں مذکور ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ عورتوں پر آنحضرت ﷺ کا لعنت فرمانا ایسا ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کو ملعون قرار دیا ہو لہٰذا اس پر عمل کیا جانا واجب ہے۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العين حق ونهى عن الوشم . رواه البخاري .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے نیز آپ ﷺ نے گودنے سے منع فرمایا۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ نظر بد ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اثر ظاہر ہوتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ سحر کی طرح یہ (نظر بد) بھی انسان وغیرہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
سر کے بالوں کو گوند وغیرہ سے جمانے کا ذکر
وعن ابن عمر قال لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ملبدا . رواه البخاري . ( متفق عليه )
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو ملبد دیکھا ہے! (بخاری)
تشریح
ملبد کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر کے بالوں کو گوند سے جما دیا تھا کہ جویں نہ پڑیں اور گرد و غبار سے حفاظت رہے۔ ایسا عام طور پر مذکورہ مقصد کے لئے احرام کی حالت میں کیا جاتا ہے، چناچہ حضرت ابن عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ کو اس طرح یا تو احرام کی حالت میں دیکھا ہوگا یا کسی دوسرے سفر کے دوران دیکھا ہوگا۔
مردانہ کپڑے اور جسم کو زعفران سے رنگنے کی ممانعت
وعن أنس قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتزعفر الرجل . ( متفق عليه )
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی مرد اپنے بدن یا کپڑوں پر زعفران ملے! (بخاری، ومسلم )
تشریح
یہ ممانعت اس لئے ہے کہ کپڑے یا بدن پر زعفران ملنا عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ رہی یہ بات کہ بعض صحابہ کے بارے میں جو یہ منقول ہے کہ انہوں نے خلوق کا استعمال کیا جو زعفران سے بنائی جانے والی ایک خوشبو ہے تو وہ اس ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
وعن عائشة قالت كنت أطيب النبي صلى الله عليه وسلم بأطيب ما نجد حتى أجد وبيص الطيب في رأسه ولحيته .
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے جو بہترین خوشبو میسر آتی وہ میں نبی کریم ﷺ کو لگاتی، یہاں تک کہ اس خوشبو کی چمک مجھ کو آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں نظر آتی!۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث کے بارے میں اس حدیث کے پیش نظر اشکال واقع ہوتا ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد کے لئے خوشبو (عطر وغیرہ) کا استعمال جائز ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہوتا ہو جب کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جو خوشبو لگائی جاتی تھی اس کا رنگ ظاہر ہوتا تھا کیونکہ اگر اس کی خوشبو کا رنگ ظاہر نہ ہوتا تو اس کی چمک آنحضرت ﷺ کی سر اور داڑھی میں کیسے نظر آتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث میں مرد کو رنگ دار خوشبو استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد وہ رنگ ہے جس کے ظاہر ہونے سے زینت و زیبائش کا انداز نمایاں ہوتا ہو، جسے سرخ اور زرد رنگ اور جو رنگ ایسا نہ ہو جیسے مشک و غنبر وغیرہ کا رنگ تو وہ جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صندل اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا بھی رنگ جائز ہے۔
خوشبو کی دھونی لینے کا ذکر
وعن نافع قال كان ابن عمر إذا استجمر استجمر بألوة غير مطراة وبكافور يطرحه مع الألوة ثم قال هكذا كان يستجمر رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم .
اور حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ جب خوشبو کی دھونی لیتے تو (کبھی تو صرف) اگر کی دھونی لیتے جس میں مشک وغیرہ مخلوط نہ ہوتا اور (کبھی) کافور کی دھونی لیتے کہ اس اگر ساتھ یعنی دونوں کو ملا کر آگ میں ڈالتے، نیز حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ بھی اسی طرح دھونی لیتے تھے کہ کبھی تو صرف اگر کی دھونی لیتے اور کبھی کافور اور اگر دونوں مخلوط کر کے اس کی دھونی لیتے۔ (مسلم )
عن ابن عباس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقص أو يأخذ من شاربه وكان إبراهيم خليل الرحمن صلوات الرحمن عليه يفعله . رواه الترمذي . ( جيد )
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی لبوں کو کترتے لیتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو اللہ کے دوست تھے وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے یعنی وہ بھی اپنی لبیں ترشواتے تھے!۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مونچھیں بالکل ہلکی کرانا ایک ایسی قدیم سنت ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی معمول تھا اور دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا بھی، چناچہ پیچھے لفظ فطرۃ کی وضاحت میں اس کا ذکر گزر چکا ہے، رہی یہ بات کہ جب یہ (یعنی مونچھیں ہلکی کرانا) دوسرے انبیاء کرام کی بھی سنت ہے تو اس موقعہ پر صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیوں کیا گیا؟ تو اس تخصیص کی وجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مخصوص عظمت و جلالت کا اظہار ہے، یا یہ کہ اس سنت کی ابتداء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ہوئی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے جو تیسری فصل میں نقل ہوگی۔
مونچھیں ہلکی نہ کرانے والے کے بارے میں وعید
وعن زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من لم يأخذ شاربه فليس منا . رواه أحمد والترمذي والنسائي .
اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص لبوں کو نہ کتروائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (احمد، ترمذی، نسائی)
تشریح
وہ ہم میں سے نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقے پر عمل پیرا نہیں ہے۔ اور ملا علی قاری، کے مطابق اس جملہ کے زیادہ صحیح معنی یہ ہیں کہ ایسا شخص ہماری سنت اور ہمارے طریق کو ماننے والوں میں کامل ترین نہیں ہے، یا اس جملہ کے ذریعہ اس سنت کو ترک کرنے والے کی تہدید مقصود ہے، یا ایسے شخص کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ اس سنت کا تارک ہوتے ہوئے مرنا گویا امت مسلمہ کے خلاف طریقے پر مرنا ہے۔
داڑھی کو برابر کرنے کا ذکر
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب .
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ریش مبارک کو عرض و طول میں یعنی نیچے سے بھی اور دائیں بائیں جانب سے بھی کترتے تھے، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی داڑھی کو ادھر ادھر سے بڑھے ہوئے بال کتروا کر برابر درست کرتے تھے۔ اور آپ ﷺ کا یہ عمل داڑھی کو چھوڑنے اور بڑھانے کے منافی نہیں ہے جس کا حکم دوسری احادیث میں منقول ہے کیونکہ اصل ممانعت کا تعلق منڈانے یا اتنی چھوٹی کرانے سے ہے جو غیر مسلم لوگوں کا شعار ہے ورنہ تو داڑھی کو برابر اور درست رکھنے کے لئے ادھر ادھر سے بڑھے ہوئے بالوں کو کترنا ممنوع نہیں ہے، جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ داڑھی کے طول و عرض میں سے ان بالوں کو ترشتے تھے جو ادھر ادھر بڑھے ہوتے تھے اسی لئے ابن ملک نے کہا ہے کہ داڑھی کے بالوں کو برابر کرنا سنت ہے۔ اور احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ زیادہ بڑھانے کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، چناچہ کچھ حضرات تو یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر داڑھی کے اس حصے کو کتروائے جو مٹھی سے نیچھے ہو تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، یہ قول حضرت ابن عمر ؓ اور تابعین کی ایک جماعت کا ہے اور شعبی اور ابن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا ہے، جب کہ حسن قتادہ اور ان کے متبعین نے اس چیز کو (یعنی داڑھی کے اس حصے کے کترنے کو جو مٹھی سے نکلی ہوئی ہو) اچھا نہیں سمجھا ہے ان حضرات نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد اعفوا للحی ( داڑھیوں کو چھوڑ دو ) کے پیش نظر اسی چیز کو بہتر جانا ہے کہ مٹھی سے بڑھی ہوئی داڑھی کو بھی چھوڑے رکھا جائے۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
مرد کو خلوق کے استعمال کی ممانعت
وعن يعلى بن مرة أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى عليه خلوقا فقال ألك امرأة ؟ قال لا قال فاغسله ثم اغسله ثم اغسله ثم لا تعد . رواه الترمذي والنسائي .
اور حضرت یعلی ابن مرہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ان (یعلی) کے کپڑوں پر (زعفران سے مرکب خوشبو) خلوق لگی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ کیا تم بیوی والے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کو دھو ڈالو پھر دھوؤ اور پھر آئندہ کبھی اس کو استعمال نہ کرنا۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
کیا تم بیوی والے ہو آپ ﷺ کے اس سوال کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ اگر بیوی ہے اور اس نے خلوق استعمال کی ہے اور پھر اس کے بدن یا کپڑے سے اس کا اثر تمہارے بدن یا کپڑے پر پہنچا ہے تو اس صورت میں تم معذرو ہو اور اگر خود تم نے خلوق کا استعمال کیا ہے تو پھر معذور نہیں سمجھے جاؤ گے کیونکہ مرد کو خلوق کا استعمال جائز نہیں ہے، اس صورت میں تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اپنے بدن یا کپڑے کو دھو کر اس کا اثر زائل کرو۔ اس سے واضح ہوا کہ اس سوال کا مقصد یہ ظاہر کرنا نہیں تھا کہ اگر تمہاری بیوی ہے اور تم نے بیوی کی خاطر استعمال کیا ہے تو تم معذور کے حکم میں ہو، جیسا کہ حدیث کے ظاہر مفہوم سے گمان ہوتا ہے۔ اس کو دھو ڈالو اس جملہ کے ذریعہ آپ ﷺ نے تین بار دھونے کا حکم دیا اور تین بار دھونے کا حکم دینا مبالغہ و تاکید کے طور پر تھا لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تین بار دھونے کا حکم اس لئے فرمایا کہ اس کا رنگ کم از کم تین مرتبہ دھوئے بغیر نہیں چھوٹتا۔
مرد کو خلوق کے استعمال کی ممانعت
وعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقبل الله صلاة رجل في جسده شيء من خلوق . رواه أبو داود .
اور حضرت ابوموسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے بدن پر تھوڑی سی بھی خلوق لگی ہوئی ہو۔ (ابوداؤد)
تشریح
سید کہتے ہیں کہ نماز قبول نہ کرنے سے مراد عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے اس ثواب کا نہ ملنا ہے جو نماز کامل پر ملتا ہے۔ اور ابن مالک نے کہا ہے کہ یہ ارشاد گرامی خلوق استعمال کرنے کے خلاف زجر و تہدید کے طور پر ہے۔
مرد کو خلوق کے استعمال کی ممانعت
وعن عمار بن ياسر قال قدمت على أهلي من سفر وقد تشققت يداي فخلقوني بزعفران فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد علي وقال اذهب فاغسل هذا عنك . رواه أبو داود .
اور حضرت عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر سے واپسی میں اپنے گھر والوں کے پاس اس حال میں پہنچا کہ میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھا، چناچہ میرے گھر والوں نے (علاج کے طور پر) میرے ہاتھوں پر اس خوشبو کا لیپ کیا جس میں زعفران مخلوط تھی، پھر جب میں صبح کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ جاؤ اور اس خوشبو کو اپنے بدن پر سے دھو ڈالو۔ (ابوداؤد)
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے علم میں وہ عذر نہیں آیا ہوگا جس کی بناء پر حضرت عمار ؓ نے اس خوشبو کا استعمال کیا تھا، چناچہ آپ ﷺ نے ان کے سلام کا جواب نہ دے کر اپنی خفگی کا اظہار فرمایا یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کو عمار کا اپنے ہاتھوں پر خوشبو لگائے ہوئے باہر نکلنا پسند نہیں آیا۔
مرد کو خلوق کے استعمال کی ممانعت
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه وطيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه . رواه الترمذي والنسائي .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی بو تو ظاہر ہو لیکن اس کا رنگ ظاہر نہ ہو (جیسے مشک و عنبر اور عطر وغیرہ) اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ تو ظاہر ہو لیکن اس کی بو نہ پھیلے جیسے مہندی اور زعفران وغیرہ۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا رنگ سے مراد وہ رنگ ہے جو زینت و رعنائی کا غماز ہو، جیسے سرخ و زرد رنگ علماء نے لکھا ہے کہ زنانہ خوشبو کی جو وضاحت کی گئی ہے وہ اس عورت کے حق میں ہے جو گھر سے باہر نکلے، جو عورت گھر کے اندر ہو، یا اپنے خاوند کے پاس ہو تو اس کے لئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کرنا جائز ہے۔
آنحضرت ﷺ کے استعمال کی خوشبو
وعن أنس قال كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم سكة يتطيب منها . رواه أبو داود .
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے پاس سکہ تھی (ایک مرکب خوشبو کا نام) آپ ﷺ اس میں سے خوشبو لگاتے تھے۔
آنحضرت ﷺ کثرت سے سر میں تیل لگاتے تھے
وعنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر دهن رأسه وتسريح لحيته ويكثر القناع كأن ثوبه ثوب زيات . رواه في شرح السنة .
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے سر مبارک پر کثرت سے تیل استعمال کرتے تھے، کثرت سے داڑھی میں کنگھی کرتے تھے اور اکثر سر مبارک پر ایک کپڑا رکھتے تھے جو ایسا نظر آتا جیسے تیلی کا کپڑا ہو۔ (شرح السنۃ )۔
تشریح
کثرت سے کنگھی کرتے تھے یہ بات اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رواز نہکنگھی سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ اول تو یہ ممانعت، نہی تحریمی کے طور پر نہیں ہے بلکہ نہی تنزیہی کے طور پر ہے دوسرے کثرت سے کنگھی کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ ﷺ روزانہ کنگھی کرتے تھے کہ کثرت کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے کہ کسی کام کو اس ضرورت کے وقت انجام دیا جائے، گویا جس عمل کی جس وقت ضرورت ہو اس وقت اس کو کرنا بھی کثرت کے حکم میں شامل ہوتا ہے، جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو داڑھی میں کنگھی کرنا سنت ہے لیکن جو لوگ ہر وضو کے بعد کنگھی کرتے ہیں اس کی سنت صحیحہ میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ قناع سے مراد وہ کپڑا ہے جو آپ بالوں کو تیل لگانے کے بعد سر پر اس مقصد سے ڈال لیا کرتے تھے کہ عمامہ میلا اور چکنا نہ ہو، چناچہ وہ کپڑا تیل لگنے کی وجہ سے چونکہ بہت تیل آلود ہوجاتا تھا اس لئے اس کو تیلی کے کپڑے سے تشبیہ دی گئی ہے ورنہ یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ وہ کپڑا بہت گندہ رہتا تھا یا آپ کے سارے کپڑے تیلی کے کپڑوں کی طرح رہتے تھے، کیونکہ یہ مراد اس نظافت و پاکیزگی اور صفائی و ستھرائی سے بہت بعید ہے جو آنحضرت ﷺ کے مزاج کا جز تھی، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سفید کپڑے کو بہت پسند فرماتے تھے۔
وعن أم هانئ قالت قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم علينا بمكة قدمة وله أربع غدائر . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه .
اور حضرت ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ (فتح مکہ کے دن) رسول کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو اس وقت آنحضرت ﷺ کے چار گیسو گندھے ہوئے تھے (یعنی دو دائیں طرف تھے اور دو بائیں طرف۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے پورے سر کے بالوں کو چار حصوں میں بٹ لیا تھا۔ گویا گیسو سے بالوں کی وہ مخصوص وضع مراد نہیں ہے جس کو ہماری زبان میں زلف کہا جاتا ہے۔
وعن عائشة قالت إذا فرقت لرسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه صدعت فرقه عن يافوخه وأرسلت ناصيته بين عينيه . رواه أبو داود .
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں جب رسول کریم ﷺ کے سر مبارک کے بالوں میں مانگ نکالتی تو تالو پر سے بالوں کے دو حصے کر کے مانگ چیرتی اور آپ ﷺ کی پیشانی کے بل دونوں آنکھوں کے درمیان چھوڑتی۔ (ابوداؤد)
تشریح
یافوخ سر کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں جہاں تالو ہوتا ہے، یہ دماغ کے عین اوپر کی سطح ہوتی ہے اور بچپن میں اس جگہ پھڑکن رہتی ہے، حضرت عائشہ ؓ نے گویا آنحضرت ﷺ کی مانگ کی صورت بیان کی ہے کہ اس کا ایک سرا تو تالو کے نزدیک ہوتا ہے اور دوسرا سرا دونوں آنکھوں کے درمیان کی جگہ کے بالمقابل پیشانی کے نزدیک ہوتا تھا۔ روایت کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میں مانگ کا رخ پیشانی کے اس کنارے پر رکھتی جو دونوں آنکھوں کی عین درمیانی سمت میں ہے اس طرح کی پیشانی کے آدھے بال مانگ کی دائیں طرف ہوتے اور آدھے بال مانگ کی بائیں طرف۔ طیبی نے حدیث کے یہی معنی بیان کئے ہیں۔