وعن أنس قال : إن نعل النبي صلى الله عليه وسلم كان لها قبالان
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی پاپوش مبارک میں دو تسمے تھے۔ (البخاری)
تشریح
قبال پاپوش کے تسمے کو کہتے ہیں جو انگلیوں کے بیچ میں ہوتا ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کی پاپوش مبارک میں دو تسمے تھے ایک انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کے درمیان رہتا تھا اور دوسرا تسمہ بیچ کی انگلی اور اس کے برابر والی انگلی جس کو عربی میں بنصر کہتے ہیں کے درمیان ہوتا تھا۔ اس پاپوش کو اس زمانے میں اہل عرب چپل کے طور پر استعمال کرتے تھے جس کو ہمارے یہاں عام طور پر گھر میں یا مسجد وغیرہ تک جانے کے لئے پہن لیا جاتا ہے۔
وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها يقول : استكثروا من النعال فإن الرجل لا يزال راكبا ما انتعل . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک غزوے کے موقع پر کہ جس میں جنگ ہوئی (یعنی کسی جہاد کے لئے روانگی کے وقت) نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بہت سی جوتیاں لے لو، کیونکہ آدمی جب تک جوتیاں پہنے ہوئے ہوتا ہے سوار کی مانند رہتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
جو شخص جوتا پہنے ہوئے ہوتا ہے وہ یقینا ننگے پیر چلنے والوں کی بہ نسبت زیادہ تیز چلتا ہے اور اس کے پیر بھی تکلیف اور نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے جوتا پہننے والے شخص کو سوار کی مانند کہا گیا ہے، اس ارشاد گرامی میں گویا اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ اسباب سفر میں سے وہ چیزیں دوران سفر ضرور ساتھ رکھنی چاہئیں جن کی ضرورت پڑتی ہو۔
پہلے دایاں پیر جوتے میں ڈالو اور پہلے بائیں پیر کا جوتا اتارو
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا انتعل أحدكم فليبدأ باليمنى وإذا نزع فليبدأ بالشمال لتكن اليمنى أولهما تنعل وآخرهما تنزع
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو اس کو چاہئے کہ دائیں پیر سے ابتدا کرے یعنی پہلے دایاں پیر جوتے میں ڈالے اور جب جوتا اتارے تو چاہئے کہ بائیں پیر سے ابتداء کرے یعنی بایاں پیر جوتے سے نکالے حاصل یہ کہ دائیں پیر کو پہنتے وقت تو مقدم رکھنا چاہئے اور اتارتے وقت مؤخر رکھنا چاہئے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مذکورہ مسئلہ میں اصل ضابطہ یہ ہے کہ جو عمل فضیلت و شان رکھتا ہو اس میں دائیں سے ابتداء کرنا مستحب ہے اور جو عمل ایسا نہ ہو اس میں بائیں سے ابتداء ہونی چاہئے، چناچہ جوتا پہننا چونکہ مسجد میں جانے اور دوسرے اعمال خیر کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اس لئے جوتا پہنتے وقت دائیں پیر سے ابتداء کرنا مستحب ہے اس ضابطہ کی روشنی میں یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دائیں پیر رکھنا چائیے اور مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں پیر نکالنا چاہئے اس کے برخلاف بیت الخلاء جاتے وقت پہلے بایاں پیر اندر رکھنا چاہئے اور وہاں سے نکلتے وقت پہلے دایاں پیر نکالنا چاہئے۔ یہ ضابطہ کی بات تھی اس کے علاوہ اس حقیقت پر بھی نظر رہنی چاہئے کہ بائیں پیر کے مقابلہ میں دائیں پیر کو فضیلت اور برتری کا درجہ حاصل ہے لہٰذا اس کی تکر یم کو ملحوظ رکھنا چاہئے اور اس کی تکریم یہی ہے کہ جب جوتا پہنا جائے تو پہلے دایاں پیر جوتے میں ڈالا جائے اور جب جوتا اتارا جائے تو پہلے بائیں پیر کا جوتا نکالا جائے تاکہ دایاں پیر بائیں پیر کی بہ نسبت جوتے میں زیادہ دیر تک رہے یہ گویا دائیں پیر کے اعزازو احترام کا ذریعہ ہے اسی پر مسجد وغیرہ میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔
ایک پیر میں جوتا اور ایک پیر ننگا نہ ہونا چاہئے
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يمشي أحدكم في نعل واحدة ليحفيهما جميعا أو لينعلهما جميعا
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک پیر میں جوتا پہن کر نہ چلے، یہ ضروری ہے کہ یا تو دونوں پیر ننگے ہوں یا دونوں پیروں میں جوتے ہوں۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جوتا پہنے تو دونوں پیروں میں پہنے اور اگر نہ پہنے تو دونوں پیروں میں نہ پہنے ایک پاؤں میں جوتا پہننا اور دوسرے پاؤں کو ننگا رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اول تو یہ طریقہ تہذیب و شائستگی کے خلاف ہے، دوسرے پیروں کے اونچے نیچے پڑنے اور گر جانے کا سبب بن سکتا ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کہ جوتا اونچا اور زمین غیر ہموار ہو۔ علماء نے اس کے ساتھ ایک ہاتھ آستین سے باہر رکھنے کو بھی شامل کیا ہے یعنی اگر کوئی شخص کرتے وغیرہ کی ایک آستین میں تو ہاتھ ڈال لے لیکن دوسری آستین کو خالی چھوڑ کر کندھے پر ڈال لے تو اس کا بھی یہی حکم ہے اسی طرح ایک پاؤں میں جوتا پہننا اور دوسرے پاؤں میں محض موزہ پہن لینا بھی یہی حکم رکھتا ہے۔
ایک پیر میں جوتا اور ایک پیر ننگا نہ ہونا چاہئے
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا انقطع شسع نعله فلا يمش في نعل واحدة حتى يصلح شسعه ولا يمش في خف واحد ولا يأكل بشماله ولا يجتبي بالثوب الواحد ولا يلتحف الصماء . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی شخص کی جوتی یعنی چپل وغیرہ کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک ہی جوتے میں نہ چلے بلکہ اس جوتی کا تسمہ درست کرلے اسی طرح کپڑے میں گوٹ مارے (جب کہ اس کپڑے کا کوئی حصہ اس کے ستر کو چھپائے ہوئے نہ ہو) اور نہ کسی کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ہاتھ بھی اندر رہیں (اور ہاتھ نکالتے وقت ستر کھل جائے )۔ (مسلم )
آنحضرت ﷺ کی پاپوش مبارک کے تسمے
عن ابن عباس قال : كان لنعل رسول الله صلى الله عليه وسلم قبالان مثنى شراكهما . رواه الترمذي
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پاپوش مبارک میں دو تسمے تھے جن میں پیروں کی انگلیاں رہتی تھیں اور ان دونوں میں ہر تسمہ دوہرا تھا تاکہ تسمے کی مضبوطی بھی قائم رہے اور پاؤں میں دھنستے بھی نہیں۔ (ترمذی )
کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت
وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينتعل الرجل قائما . رواه أبو داود
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی، وابن ماجہ، ) نے اس روایت کو ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ کھڑے ہو کر جوتا پہننے میں مشقت اٹھانا پڑتی ہو، یعنی ایسا جوتا ہو جس کو پہننے اور اس کا تسمہ باندھنے میں ہاتھ لگانا پڑتا ہو، ویسے مطلق جوتے کے بارے میں یہ ممانعت نہیں ہے۔
کیا آنحضرت ﷺ ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلتے پھرتے تھے
وعن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : ربما مشى النبي صلى الله عليه وسلم في نعل واحدة وفي رواية : أنها مشت بنعل واحدة . رواه الترمذي وقال : هذا أصح
اور حضرت قاسم بن محمد حضرت عائشہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا نبی کریم ﷺ بعض وقت ایک پاپوش پہن کر چلتے تھے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ ایک پاپوش پہن کر چلیں ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ روایت اسناد کے اعتبار سے یا مفہوم و معنی کے اعتبار سے نہایت صحیح ہے
تشریح
جن احادیث میں ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت منقول ہے یہ حدیث ان کے بالکل متضاد ہے چناچہ علماء نے اس حدیث کے صحیح ہونے میں شک و شبہ کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کا یہ عمل نادر کے درجہ میں ہوگا اور یہ کہ اس کا تعلق گھر کے اندر سے ہوگا نہ کہ باہر سے یعنی اپ ﷺ گھر کے اندر کسی موقع پر ایک جوتا پہن کر چلے ہوں گے اور وہ بھی کسی ضرورت و مجبوری کی بنا پر، یا بیان جواز کی خاطر تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ایک پیر میں جوتا پہن کر چلنا بالکل حرام نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز امت کے حق میں مکروہ تنزیہی ہے اس کا شارع (علیہ السلام) کے عمل میں آنا اس چیز کے اصل میں جواز کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے اس اعتبار سے وہ چیز گویا شارع کے حق میں مکروہ ہوتی ہی نہیں بلکہ کسی چیز کے جواز کو بیان کرنا شارع پر واجب ہے اس نکتہ کو صاحب مواہب لدنیہ نے آنحضرت ﷺ کے کھڑے ہو کر پانی پینے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔
وعن ابن عباس قال : من السنة إذا جلس الرجل أن يخلع نعليه فيضعهما بجنبه . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ جب کوئی شخص بیٹھے تو اپنے جوتے اتارے اور ان کو اپنے پہلو میں رکھ لے!۔ (ابوداؤد )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جوتے سمیت نہ بیٹھے بلکہ ان کو اتار کر بیٹھے کہ یہ آداب مجلس کا تقاضہ بھی ہے اور تہذیب و شائستگی کی علامت بھی، نیز جوتوں کو اپنے بائیں پہلو کی طرف رکھے تاکہ دائیں پہلو کی تکریم برقرار رہے، سامنے کی طرف بھی نہ رکھے، تاکہ اگر مسجد وغیرہ میں بیٹھا ہو تو قبلہ کی تعظیم کے خلاف نہ ہو اور چوری ہوجانے کے خوف سے پیچھے کی طرف بھی نہ رکھے۔
آنحضرت ﷺ کے لئے نجاشی کی طرف سے پائتابوں کا ہدیہ
وعن ابن بريدة عن أبيه أن النجاشي أهدى إلى النبي صلى الله عليه وسلم خفين أسودين ساذجين فلبسهما . رواه ابن ماجه . وزاد الترمذي عن ابن بريدة عن أبيه : ثم توضأ ومسح عليهما
اور حضرت ابن بریدہ ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نجاشی (حبش کے بادشاہ) نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دو سیاہ موزے (یعنی کالے چمڑے کے پائتابے) بطور ہدیہ بھیجے جو سادہ یعنی غیر منقش تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو بحالت طہارت پہنا۔ (ابن ماجہ) اور ترمذی نے اس روایت کو ابوہریرہ ؓ اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے یعنی ترمذی کی روایت میں عن ابن بریدۃ کے بجائے عن ابی بریدۃ ہے اور ان کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے کہ پھر آنحضرت ﷺ نے وضو کیا اور ان موزوں پر مسح کیا۔
تشریح
وہ موزے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے یہ تحقیق و تفتیش نہیں کی کہ یہ موزے جس چمڑے کے ہیں آیا وہ دباغت دیا گیا تھا یا نہیں اور یہ کہ چمڑہ مردار کا ہے یا ذبح کئے ہوئے جانور کا، ان باتوں کو پوچھے بغیر آپ ﷺ نے وہ موزے پہن لئے گویا آپ ﷺ نے ان موزوں کی ظاہری صورت حال کا اعتبار کیا کہ ظاہر میں ان پر کسی نجاست وغیرہ کے آثار نہیں تھے اس لئے ان کو پاک سمجھا اس سے کورے کپڑوں، بوریوں، چٹائیوں، قالین، دریوں اور شطرنجی اور دوسرے فرش و فروش کا یہ حکم معلوم ہوا کہ اگر ان پر ظاہر میں کوئی نجاست وغیرہ محسوس نہ ہو تو وہ پاک سمجھے جائیں گے۔
ترجل عربی زبان میں کنگھی کرنے کو کہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق سر میں کنگھی کرنے کا ہو یا داڑھی میں لیکن عام طور پر ترجل کا استعمال سر میں کنگھی کرنے کے معنی میں ہوتا ہے اور داڑھی میں کنگھی کرنے کو تسریح کے لفظ سے بیان کرتے ہیں۔
حائضہ کا بدن ناپاک نہیں ہوتا
عن عائشة رضي الله عنها قالت كنت أرجل رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا حائض . ( متفق عليه )
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ایام حیض میں بھی رسول کریم ﷺ کے سر مبارک میں کنگھی کیا کرتی تھی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن ناپاک نہیں ہوتا اور یہ کہ اس (حائضہ) کے ساتھ اختلاط جائز ہے۔
وہ چیزیں جو|" فطرت |" ہیں
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الفطرة خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں (داخل) ہیں ایک تو ختنہ کرانا دوسرے (زیر ناف بالوں کو صاف کرنے کے لئے لوہے) یعنی استرے وغیرہ کا استعمال کرنا، تیسرے لبوں کے بال ترشوانا چوتھے ناخن کٹوانا اور پانچویں بغل کے بال صاف کرانا۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
فطرت کا مطلب یہ ہے کہ پانچ چیزیں تمام انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین کی شریعت میں مسنون رہی ہیں۔ واضح رہے کہ فطرت سے متعلق حدیث کتاب کے ابتدائی حصے میں باب السواک میں بھی گزر چکی ہے، وہاں دس چیزوں کو فطرت میں شمار کرایا گیا تھا اور یہاں پانچ چیزوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو وہاں حصر مقصود تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ جو چیزیں تمام انبیاء کرام کی سنت ہونے کی وجہ سے فطرت کا درجہ رکھتی ہیں ان میں سے دس چیزیں یہ ہیں (جن کو باب السواک میں بیان کیا گیا ہے) اور پھر ان دس چیزوں میں سے پانچ چیزیں علیحدہ کر کے بیان کی گئی ہیں۔
اپنے کو اہل شرک سے ممتاز رکھو
وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خالفوا المشركين أوفروا اللحى وأحفوا الشوارب . وفي رواية أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى .
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اہل شرک کے خلاف کرو یعنی وہ چونکہ داڑھیاں پست کراتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں اس لئے ہم بایں طور ان سے اپنے آپ کو ممتاز رکھو کہ تم داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں ہلکی کراؤ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم مونچھیں نہایت ہلکی کراؤ اور داڑھیاں چھوڑ دو۔ (بخاری و مسلم )
زائد بالوں کو صاف کرنے کی مدت
وعن أنس قال وقت لنا في قص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط وحلق العانة أن لا تترك أكثر من أربعين ليلة . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ مونچھیں ترشوانے، ناخن کٹوانے، بغل کے بال صاف کرانے اور زیر ناف مونڈنے کے بارے میں ہمارے لئے جو مدت متعین کی گئی ہے وہ یہ کہ ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ (مسلم)
تشریح
ابن مالک کہتے ہیں کہ حضرت ابوعمر ؓ سے منقول ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ناخن اور لبوں کے بال، ہر جمعہ کو ترشواتے تھے، زیر ناف بال بیس دن میں صاف کرتے تھے اور بغل کے بال چالیس دن میں صاف کراتے تھے۔ قنیہ میں لکھا ہے کہ افضل یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک بار ناخن ترشوا کر، لبوں کے بال ہلکے کرا کر اور جسم کے زائد بال صاف کر کے غسل کے ذریعہ اپنے بدن کو صاف ستھرا کیا جائے اگر ہر ہفتہ یہ ممکن نہ ہو تو ہر پندرھویں دن اس پر عمل کیا جائے، یہاں تک کہ چالیس دن سے زائد کا عرصہ گزر جائے تو یہ بلا عذر ترک کہلائے گا گویا ان چیزوں کے لئے ایک ہفتہ تو افضل مدت ہے پندرہ روزہ مدت اوسط درجہ پر مشتمل ہے اور آخری مدت چالیس دن ہے چالیس سے زیادہ گذارنے والا بلاعذر ترک کرنے والا شمار ہوگا جس پر حنفیہ کے نزدیک وہ وعید کا مستحق ہوگا۔ مظہر کہتے ہیں کہ ابوعمر ؓ اور عبداللہ الاغر ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کو جانے سے پہلے لبوں کے بال اور ناخن کترتے تھے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ بغل کے بال اور ناف کے نیچے کے بال چالیس دن میں اور بعض حضرات کی روایت کے مطابق ایک مہینہ میں صاف کرتے تھے، ایک مہینہ والی روایت ایک معتدل قول ہے۔
وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہودی اور عیسائی خضاب نہیں لگاتے لہٰذا تم ان کے خلاف کرو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تم لوگ خضاب لگا کر یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کو ظاہر کرو۔ واضح رہے کہ خضاب سے مراد وہ خضاب ہے جو سیاہ نہ ہو کیونکہ سیاہ خضاب لگانا ممنوع ہے، اس کی تفصیلی بحث آگے آئے گی، جہاں تک صحابہ وغیرہ کا تعلق ہے تو وہ مہندی کا سرخ خضاب کرتے اور کبھی کبھی زرد خضاب بھی کرلیا کرتے تھے چناچہ مہندی کا خضاب لگانے کے بارے میں متعدد احادیث منقول ہیں اور علماء نے لکھا ہے کہ مہندی کا خضاب مؤمن ہونے کی ایک علامت ہے، تمام علماء کے نزدیک مہندی کا خضاب لگانا جائز ہے، بلکہ بعض فقہاء نے مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے اس کو مستحب بھی کہا ہے اور اس کے فضائل میں وہ احادیث بھی نقل کرتے ہیں اگرچہ ان احادیث کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ مجمع البحار میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں خضاب کرنے کا حکم ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کے بال کھچڑی یعنی کچھ سیاہ اور کچھ سفید ہوں، بلکہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کے بال بالکل سفید ہوگئے ہوں اور سیاہ بالوں کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ گیا ہو، جیسا کہ حضرت ابوقحافہ ؓ کے بال تھے، جن کے متعلق اگلی حدیث میں ذکر آ رہا ہے، اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ خضاب کے مسئلہ میں علماء کے اقوال مختلف ہیں اور اس اختلاف کی بنیاد احوال کے مختلف ہونے پر ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ اس حکم کا تعلق اس مسلم شہر و علاقہ کے لوگوں سے ہے جہاں خضاب لگانے کا عام دستور ہو کہ اگر کوئی شخص اپنے شہر کے لوگوں کے تعامل و عادت سے اپنے آپ کو الگ رکھے گا تو غیر مناسب شہرت کا حامل ہوگا جو مکروہ ہے اور بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے بالوں کی سفیدی اس کے باوقار و پاکیزہ بڑھاپے کی علامت اس کے چہرے مہرے کی نورانیت اور خوشنمائی کا سبب ہو بلکہ، خضاب کرنے سے اس کی شخصیت کا وقار پھیکا پڑجاتا ہو تو اس کے حق میں خضاب نہ کرنا ہی زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب ہے اس کے برخلاف جس شخص کے بالوں کی سفیدی اس کے بدنما اور بےوقت بڑھاپے کی غماز ہو جس کی وجہ سے اس کی شخصیت کی دل کشی مجروح ہوتی ہو تو اس کو اپنا یہ عیب چھپانا اور خضاب لگانا زیادہ بہتر و مناسب ہے۔
وعن جابر قال أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا فقال النبي صلى الله عليه وسلم غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ (حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے والد) ابوقحافہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا اور اسی دن انہوں نے اسلام قبول کیا ان کے سر اور داڑھی کے بال گویا ثغامہ تھے یعنی بالکل سفید تھے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان بالوں کی سفیدی کو کسی چیز کے ذریعہ بدل ڈالو لیکن سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا یعنی سیاہ خضاب استعمال نہ کرنا۔ (مسلم)
تشریح
ثغامہ ایک قسم کی گھاس کو کہتے ہیں جس کے شگوفے اور پھل سفید ہوتے ہیں اس گھاس کو فارسی میں ورمغہ کہا جاتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیاہ خضاب مکروہ حرام ہے اور مطالب المؤمنین میں علماء کا یہ قول لکھا ہے کہ اگر کوئی غازی و مجاہد و دشمنان دین کی نظر میں اپنی ہیبت قائم کرنے کے لئے سیاہ خضاب کرے تو جائز ہے اور جو شخص اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے زینت و آرائش کی خاطر اور عورت کی نظر میں دل کش بننے کے لئے سیاہ خضاب کرے تو یہ اکثر علماء کے نزدیک ناجائز ہے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مہندی اور وسمہ (نیل کے پتے) کا خضاب کرتے تھے اور اسی خضاب کی وجہ سے ان کے بالوں کا رنگ سیاہ نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ سرخ مائل بہ سیاہی ہوتا تھا، اسی طرح اس سلسلے میں بعض دوسرے صحابہ کے متعلق جو روایات نقل کی جاتی ہیں وہ بھی اسی پر محمول ہیں۔ حاصل یہ کہ مہندی کا خضاب بالاتفاق جائز ہے اور سیاہ خضاب میں حرمت و کراہت ہے بلکہ اس کے بارے میں بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے، جیسا کہ دوسری فصل میں بیان ہوگا۔
سر کے بالوں میں فرق وسدل دونوں جائز ہیں
وعن ابن عباس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه وكان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم وكان المشركون يفرقون رؤوسهم فسدل النبي صلى الله عليه وسلم ناصيته ثم فرق بعد . ( متفق عليه )
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہیں ملتا تھا اس میں آپ ﷺ اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے چناچہ اہل کتاب اپنے (سر کے) بالوں کو یونہی چھوڑے رکھتے تھے ( یعنی وہ مانگ نہیں نکالتے تھے بلکہ اپنے بالوں کو یونہی پڑے رہنے دینے تھے) جب کہ مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے اس لئے نبی کریم ﷺ اہل کتاب کے طریقے کے مطابق) اپنی پیشانی کے بال یوں ہی چھوڑے رکھتے تھے لیکن بعد میں مانگ نکالنے لگے تھے ( بخاری و مسلم)
تشریح
سدل کے معنی ہیں سر کے بالوں کو چاروں طرف یونہی چھوڑے اور لٹکائے رکھنا اور مانگ نکالنے کے لئے دونوں طرف کے بالوں کو اکٹھا نہ کرنا اور فرق کا مطلب ہے سر کے آدھے بالوں کو ایک طرف اور آدھے بالوں کو دوسری طرف اکٹھا کرلینا نیز قاموس میں لکھا ہے کہ فرق بالوں کے درمیان پیدا کی جانے والی راہ یعنی مانگ کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو ابتداء میں اہل کتاب کی موافقت میں پیشانی کے بالوں کو سدل کرتے تھے، یعنی یوں ہی بےترتیب چھوڑے رکھتے کیونکہ اہل کتاب کا طریقہ سدل ہی کا تھا واضح رہے کہ سدل کا مطلب اگر بالوں کے سر کے چاروں طرف یونہی رکھنا ہے اور اس میں پیشانی کے بالوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے، لیکن سدل اور فرق کے درمیان امتیاز چونکہ پیشانی کے اوپر کے بالوں ہی سے ظاہر ہوتا ہے اس سبب سے خاص طور سے پیشانی کے بالوں کو ذکر کیا گیا ہے اگرچہ طیبی نے کہا ہے کہ یہاں سدل سے مراد محض پیشانی کے بالوں کو چھوڑے رکھنا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ شروع میں تو آنحضرت ﷺ کا معمول سدل ہی کا تھا لیکن بعد میں فرق یعنی مانگ نکالنا آخری عمل پایا، لہٰذا اس بنا پر بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سدل یعنی بالوں کو یوں ہی چھوڑے رکھنا منسوخ ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر فرق کو اختیار کرنا حکم الہٰی (وحی) کے سبب تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو یہ اجازت تھی کہ جس معاملہ میں ابھی کوئی شرعی حکم نازل نہیں ہوا ہے اس اہل کتاب کے دستور کے مطابق عمل کیا جاسکتا ہے، چناچہ جب بالوں کے بارے میں آپ ﷺ کو بذریعہ وحی فرق یعنی مانگ نکالنے کا حکم دیا گیا تو یہ اس بات کی علامت قرار پایا کہ بالوں کے سلسلے میں عارضی طور پر اہل کتاب کے دستور کے مطابق عمل کرنے کی جو اجازت تھی وہ منسوخ ہوئی اس سے خود بخود یہ واضح ہوگیا کہ فرق کا حکم آخری و حتمی ہے اس لئے اس بارے میں اہل کتاب کی مخالفت یعنی سدل کو ترک کرنا بھی حتمی ہی طور پر ہونا چاہئے۔ اس حدیث سے بعض حضرات نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت ہمارے لئے قابل اتباع ہے جب تک کہ ہمیں اس کے برخلاف عمل کرنے کا حکم نہ دیا جائے، لیکن یہ اتباع انہیں چیزوں میں ہوگا جن کے بارے میں ہو کہ ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ جوں کے توں وہی احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پچھلی شریعت میں نازل کئے تھے۔ روایت کے ان الفاظ یحب موافقتہم (آپ ﷺ اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے) سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان معالات میں بھی اہل کتاب کی موافقت کرنے کو آنحضرت ﷺ کے محض اختیار پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ اگر آپ ﷺ پسند کریں تو اہل کتاب کے مطابق عمل کریں اور اگر پسند نہ کریں تو عمل نہ کریں اگر یہ (یعنی موافقت کرنے کا حکم) اسی درجہ کا ہوتا، جس درجہ کا کوئی شرعی حکم ہوتا ہے تو اس میں آنحضرت ﷺ کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا کوئی سوال نہیں ہوتا بلکہ ایک واجب اور لازم امر ہوتا۔ بعض احادیث میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ اگر آپ ﷺ کے بال بےترتیب اور بکھرے ہوئے ہوتے تو ان کو اکٹھا کر کے مانگ نکال لیتے تھے ورنہ ان کی حالت پر چھوڑے رکھتے تھے، گویا عام حالات میں (جب کہ بال بکھرے ہوئے نہ ہوتے) آپ ﷺ سدل یا دونوں میں سے کسی کا بھی اہتمام و تکلف نہیں فرماتے تھے بلکہ ان بالوں کو ان کی حالت پر رہنے دیتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ سدل اور فرق دونوں جائز ہیں لیکن فرق افضل ہے۔
وعن نافع عن ابن عمر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع . قيل لنافع ما القزع ؟ قال يحلق بعض رأس الصبي ويترك البعض . وألحق بعضهم التفسير بالحديث .
اور حضرت نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو قزع سے منع فرماتے ہوئے سنا، حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا (قزع اس کو کہتے ہیں کہ) لڑکے کے سر کے بعض حصہ کو مونڈا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے۔ (بخاری ومسلم) اور بعض راویوں نے وضاحت کو حدیث کے ساتھ جوڑا ہے یعنی راوی کے مطابق، قزع کے یہ معنی آنحضرت ﷺ ہی نے بیان فرمائے۔
تشریح
نووی کہتے ہیں کہ قزع کے معنی مطلق (کسی کے بھی) سر کے کچھ حصے کو مونڈنا (اور کچھ حصے کو بغیر مونڈے چھوڑ دینا ہیں) اور یہی معنی زیادہ صحیح ہیں کیوں کہ حدیث کے روای نے بھی یہی معنی بیان کئے ہیں اور یہ حدیث کے ظاہری مفہوم کے مخالف بھی نہیں ہیں لہٰذا اسی معنی پر اعتماد کرنا واجب ہے! جہاں تک لڑکے کی تخصیص کا ذکر ہے تو یہ محض عام رواج و عادات کی بنا پر ہے ورنہ قزع جس طرح لڑکے کے حق میں مکروہ ہے، اس طرح بڑوں کے حق میں بھی مکروہ ہے، اسی لئے فقہی روایات میں یہ مسئلہ کسی قید و استثناء کے بغیر بیان کیا جاتا ہے اور قزع میں کراہت اس اہل کفر کی مشابہت اور بد ہئیتی سے بچانے کے لئے ہے۔ راوی نے قزع کا جو مطلب بیان کیا ہے اور جس کو نووی نے زیادہ صحیح کہا ہے اس میں چوٹی (جیسا کہ غیر مسلم اپنے سر چھوڑتے ہیں) (زلف اور بالوں کی) وہ تراش خراش شامل ہے جو مسنون طرز کے خلاف ہو۔
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيا قد حلق بعض رأسه وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال احلقوا كله أو اتركوا كله . رواه مسلم .
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے لڑکے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے لڑکے کی پرورش کرنے والوں کو اس سے منع فرمایا اور فرمایا کہ پورے سر کو مونڈو یا پورے سر کو چھوڑ دو!۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ حج وعمرہ کے علاوہ بھی سر منڈانا جائز ہے۔ ویسے مسئلہ یہ ہے کہ مرد کو اختیار ہے کہ وہ چاہے سر منڈائے اور چاہے سر پر بال رکھے لیکن افضل یہ کہ سوائے حج اور عمرہ کے سر نہ منڈائے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت علی ؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام کا معمول تھا اور کتاب کے ابتدائی حصہ میں باب الجنایت کے دوران اس کا ذکر گزر چکا ہے۔