لباس کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 140 · 205 hadiths · Page 5 of 11

4282Mishkaat-al-Masabih

أنحضرت ﷺ کی انگوٹھی کا نگینہ

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتم فضة في يمينه فيه فص حبشي كان يجعل فصه مما يلي كفه

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا ( بخاری) ٦ اور حضرت انس ؓ ہی سے ( یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنی جس کا نگینہ حبشی تھا نیز آنحضرت ﷺ انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے یعنی آپ ﷺ اپنی انگوٹھی کو اس طرح پہنتے تھے کہ اس کا نگینہ والا حلقہ ہتیھلی کی طرف رہتا تھا ( بخاری ومسلم) تشریح بشی سے مراد عقیق ہے اور عقیق کو حبشہ کی طرف منسوب کر کے حبشی اس لئے کہا گیا ہے کہ عقیق کی کان حبشہ اور یمن میں تھی یا وہ نگینہ عقیق کی بجائے کسی اور قسم کا ہوگا اور وہ قسم حبشہ ہی میں پائی جاتی تھی اس لئے اس کو حبشی کہا گیا یا وہ نگینہ سیاہ رنگ کا تھا جیسا کہ حبشیوں کا رنگ ہوتا ہے اس مناسبت سے اس کو حبشی کہا گیا اور یا یہ کہ اس نگینہ کو کسی حبشی شخص نے بنایا ہوگا اس لئے اس کو حبشی سے تعبیر کیا گیا اس صورت میں دونوں روایتیں تعدد پر محمول ہوں گی یعنی یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کی ایک انگوٹھی کا نگینہ چاندی ہی کا تھا اور دوسری انگوٹھی کا نگینہ حبشی یعنی عقیق کا تھا۔

4283Mishkaat-al-Masabih

أنحضرت ﷺ کی انگوٹھی کا نگینہ

وعنه قال : كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه وأشار إلى الخنصر من يده اليسرى . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی (اس انگلی) میں تھی! حضرت انس ؓ نے یہ کہہ کر بائیں ہاتھ کی چھنگلیا کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم )

4284Mishkaat-al-Masabih

انگوٹھی کس انگلی میں پہنی جائے

وعن علي رضي الله عنه قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتختم في إصبعي هذه أو هذه قال : فأومأ إلى الوسطى والتي تليها . رواه مسلم

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے اس سے منع فرمایا کہ میں اپنی اس انگلی میں یا اس انگلی میں انگوٹھی پہنوں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے (یہ کہہ کر) درمیانی انگلی اور اس قریب والی انگلی یعنی شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم) تشریح درمیانی اور شہادت کی انگلی کے بارے میں تو اس حدیث سے واضح ہوا اور انگوٹھے نیز چھوٹی انگلی کے قریب والی انگلی میں انگوٹھی پہننا نہ تو آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہ وتابعین ہی سے منقول ہے اس سے معلوم ہوا کہ انگوٹھی کو چھوٹی انگلی ہی میں پہننا مستحب ہے۔ چناچہ شوافع اور حنیفہ کا رجحان اسی طرف ہے تاہم یہ بات مردوں کے حق میں ہے، جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو ان کے قریب کے لئے سب انگلیوں میں پہننا جائز ہے۔ امام نووی نے کہا ہے کہ مردوں کو درمیانی اور شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہننا مکروہ تنزیہی ہے۔

4285Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ انگوٹھی دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں میں پہنتے تھے

عن عبد الله بن جعفر قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه . رواه ابن ماجه

حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انگوٹھی کو اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ) ابوداؤد اور نسائی نے اس روایت کو حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے۔

4286Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ انگوٹھی دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں میں پہنتے تھے

وعن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يتختم في يساره . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انگوٹھی کو اپنے بائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔ (ابوداؤد )۔

4287Mishkaat-al-Masabih

ریشمی کپڑا اور سونا مردوں کے لئے حرام ہے

وعن علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ حريرا فجعله في يمينه وأخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال : إن هذين حرام على ذكور أمتي . رواه أحمد وأبو داود والنسائي

اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ریشمی کپڑا لیا اور اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اسی طرح سونا لیا اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا اور پھر فرمایا کہ میری امت کے مردوں کے لئے یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔ (احمد، ابوداؤد، نسائی )

4288Mishkaat-al-Masabih

ریشمی کپڑا اور سونا مردوں کے لئے حرام ہے

وعن معاوية أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ركوب النمور وعن لبس الذهب إلا مقطعا . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے چیتے کی کھال کی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا اسی طرح آپ ﷺ نے (مردوں کو) سونا پہننے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ بہت قلیل مقدار میں ہو۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث کے آخری الفاظ سے قلیل مقدار میں سونے کی جو اباحت ثابت ہوتی ہے وہ بھی منسوخ قرار پاچکی ہے ویسے بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان الفاظ سے بظاہر جو جواز ثابت ہوتا ہے وہ حنیفہ کے نزدیک اس پر محمول ہے کہ مثلا کسی چیز پر سونے کا ملمع کیا جائے یا نگینہ وغیرہ میں سونے کی کیل لگائی جائے اور یا کپڑے پر دھاریوں اور بیل کے طور پر سنہرا کام کیا جائے تو یہ حنیفہ کے نزدیک مردوں کے لئے بھی جائز ہیں۔

4289Mishkaat-al-Masabih

پیتل اور لوہے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت

وعن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل عليه خاتم من شبه : ما لي أجد منك ريح الأصنام ؟ فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال : ما لي أرى عليك حلية أهل النار ؟ فطرحه فقال : يا رسول الله من أي شيء أتخذه ؟ قال : من ورق ولا تتمه مثقالا . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے جو پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا فرمایا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تم میں بتوں کی بو پاتا ہوں یعنی آپ ﷺ نے اس شخص کے سامنے یہ بات بطور تعریض فرمائی۔ کیونکہ عام طور پر پیتل ہی کے بت بنائے جاتے تھے۔ چناچہ اس شخص نے آنحضرت ﷺ کی یہ ناگواری دیکھ کر اس انگوٹھی کو اتار کر پھینک دیا پھر (جب دوبارہ) وہ شخص آیا تو لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا آنحضرت ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تم پر دوزخیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں یعنی آپ ﷺ نے یہ بات بھی بطور تعریض اس بناء پر فرمائی کہ کفار میں سے کچھ لوگ دنیا میں لوہے کی چیز پہنتے ہیں یا اس ارشاد میں اس طرف اشارہ تھا کہ کافروں کو دوزخ میں جو طوق و سلاسل پہنائے جائیں گے وہ لوہے کے ہوں گے اس لئے لوہے کی انگوٹھی پہننا دوزخیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے چناچہ اس شخص نے اس انگوٹھی کو (بھی) اتار کر پھینک دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا چاندی کی اور وہ چاندی بھی پوری مثقال نہ ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) محی السنۃ فرماتے ہیں کہ عورت کے مہر کے بارے میں حضرت سہل بن سعد ؓ کی صحیح روایت منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا جو نکاح کرنے کا متمنی تھا کہ بیوی کے مہر کے لئے از قسم مال کوئی چیز تلاش کرو اگرچہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ تشریح پوری ایک مثقال نہ ہو یہ ممانعت اصل میں احتیاط وتقویٰ اور اولویت کے لئے ہے، یعنی اولیٰ یہ ہے کہ انگوٹھی ایک مثقال (٢٤/١ ماشہ) سے کم چاندی کی ہو ورنہ جہاں تک جواز کا تعلق ہے تو پورے ایک مثقال کی بھی جائز ہے) اور یہ الویت بھی اس بنا پر ہے کہ سونا اور چاندی اصل کے اعتبار سے غیر پسندیدہ ہیں لہٰذا ان کا استعمال بس اسی قدر ہونا چاہئے جو ضرورت کے مطابق ہو اس لئے دو یا اس سے زائد انگوٹھیاں پہننا مکروہ ہے تاہم متعدد انگوٹھیاں بنانا مکروہ نہیں ہے، بشرطیکہ ان کو ایک ساتھ نہ پہنا جائے بلکہ نوبت بنوبت پہنا جائے۔ فتاویٰ قاضی خاں میں لکھا ہے کہ لوہے اور پیتل کی انگوٹھی وغیرہ پہننا مکروہ ہے اور مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ محی السنۃ نے عورت کے مہر کے بارے میں حضرت سہل ؓ کی جو روایت نقل کی ہے اس سے ان کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس شخص سے جو یہ فرمایا کہ بیوی کو مہر میں دینے کے لئے مال مہیا کرو اگرچہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو تو اس سے معلوم ہوا کہ اوپر روایت میں لوہے کی انگوٹھی پہننے کی جو ممانعت ثابت ہوتی ہے وہ تحریم کے لئے نہیں ہے کیونکہ اگر حقیقت میں لوہے کی انگوٹھی پہننا حرام ہوتا تو آپ ﷺ نکاح کے متمنی شخص کو لوہے کی انگوٹھی مہیا کرنے کے لئے کیوں فرماتے۔ مہر کے مال کے بارے میں مذکورہ ارشاد گرامی ﷺ کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ اس کا مقصد دراصل عورت کے مہر میں مال خرچ کرنے کی اہمیت و ضرورت کو زیادہ سے زیادہ تاکید کے ساتھ بیان کرنا ہے کہ مہر کے طور پر کوئی نہ کوئی مال ضرور مقرر کیا جائے خواہ وہ ادنیٰ ترین چیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس ارشاد سے یہ بھی واضح ہوا کہ لوہے کی انگوٹھی پہننے کو اگرچہ ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن دو انگوٹھی مال متقوم مالیت کے دائرے سے باہر نہیں ہے تاہم یہ بھی احتمال ہے کہ لوہے کی انگوٹھی پہننے کی اس ممانعت کے نفاذ وبیان کا زمانہ حضرت سہل ؓ کی مذکورہ روایت کے بعد کا ہو، کیوں کہ یہ ثابت ہے کہ حضرت سہل ؓ کی روایت استقراء سنن اور استحکام شرائع سے پہلے کی ہے اور حضرت بریدہ ؓ کی یہ روایت اس کے بعد کی ہے لہٰذا حضرت سہل ؓ کی روایت منسوخ قرار پائے گی، نیز حضرت سہل ؓ کی روایت باب المہر کی پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔

4290Mishkaat-al-Masabih

وہ دس چیزیں جن کو آنحضرت ﷺ برا سمجھتے تھے

وعن ابن مسعود قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره عشر خلال : الصفرة يعني الخلوق وتغيير الشيب وجر الأزرار والتختم بالذهب والتبرج بالزينة لغير محلها والضرب بالكعاب والرقى إلا بالمعوذات وعقد التمائم وعزل الماء لغير محله وفساد الصبي غير محرمه . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دس چیزوں کو برا سمجھتے تھے ایک تو زردی یعنی خلوق کے استعمال کو، دوسرے بڑھاپا تبدیل کرنے کو، تیسرے (ٹخنوں سے نیچے) تہبند (یا پاجامہ کو لٹکا کر) کھینچتے ہوئے چلنے کو، چوتھے (مردوں کے لئے) سونے کی انگوٹھی پہننے کو، پانچویں عورت کا بےمحل زینت ظاہر کرنے کو چھویں نرد (چونسر) کھیلنے کو، ساتویں بجز معوذات کے جھاڑ پھونک کرنے کو، آٹھویں کوڑیوں اور منکوں کے باندھنے کو نویں بےموقع عزل یعنی عورت کی شرم گاہ سے باہر منی گرانے کو اور دسویں بچے کے خراب کرنے کو، اگرچہ آپ ﷺ اس کو حرام نہیں فرماتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح خلوق ایک قسم کی خوشبو کو کہتے ہیں جو زعفران وغیرہ سے بنائی جاتی ہے، خلوق استعمال کرنے کی یہ ممانعت صرف مردوں کے لئے ہے عورتوں کو اس کا لگانا درست ہے اگرچہ ایسی احادیث بھی منقول ہیں جن سے مردوں کے لئے بھی خلوق کے استمعال کی اباحت ثابت ہوتی ہے لیکن ایسی احادیث زیادہ منقول ہیں جن سے ممانعت ثابت ہوتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اباحت کی حدیثیں منسوخ ہیں مردوں کے لئے خلوق کا استعمال اس لئے ممنوع ہے کہ وہ خاص طور پر عورتوں کی خوشبو ہے بڑھاپے کو تبدیل کرنا خواہ سفید بالوں کو چننے کی صورت میں ہو یا سیاہ خضاب لگانے کے ذریعہ ہو یہ بہر صورت ممنوع ہے البتہ مہندی کا خضاب مستثنیٰ ہے کیوں کہ اس کے جواز میں احادیث کے منقول ہونے کی بنا پر وہ بالاتفاق درست ہے، سفید بالوں کو اکھاڑنے اور چننے کے بارے میں حنفیہ کا مختار قول حرمت و کراہت کا ہے۔ والتبرج بالزینۃ لغیرمحلہا میں لفظ محل حاء کے زیر کے ساتھ ہے جو موضع حل کے معنی میں ہے یعنی وہ جگہ جہاں عورت کو اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنا حلال ہے اور وہ جگہ اس کا شوہر اور اس کے محارم جیسے باپ اور بھائی وغیرہ ہیں، گویا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے خاوند اور اپنے محارم کے علاوہ دوسرے مردوں کے سامنے بناؤ سنگار ظاہر کرنا درست نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے آیت (ولایبدین زینتہن الا لبعولتہن او ابآہ ن) الاّ یہ۔ بعض حضرات نے محلہا میں لفظ محل حاء کے زیر کے ساتھ بھی کہا ہے جو حلول سے ہے۔ کعاب کعب کی جمع ہے اور چوسر کی گوٹوں اور مہروں (پانسوں) کے معنی میں ہے جن کو قرعہ کی مانند پھینک پھینک کر چوسر کھیلا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کھیل ممنوع ہے، چناچہ اہل علم صحابہ کی اکثریت کے نزدیک یہ کھیل حرام تھا، حنفیہ شطرنج کھیلنے کو بھی مکروہ تحریمی کہتے ہیں۔ رقی رقیہ کی جمع ہے جس کے معنی منتر پڑھ کر پھونکنے کے ہیں اور معوذات سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جو استعاذہ کے معنی پر مشتمل ہیں، خواہ وہ یہ دونوں سورتیں ہوں یا ان کے علاوہ دوسری آیات۔ حاصل یہ کہ قرآن کریم کی آیات، احادیث میں منقول دعاؤں اور اسماء الہٰی کے ذریعہ جھاڑ پھونک جائز ہے ان کے علاوہ حرام ہے، خاص طور پر ایسے الفاظ کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنا جن کے معنی معلوم نہ ہوں نہ صرف حرام ہے، بلکہ کفر کی حد میں داخل ہوجانے کے خوف کا بھی محتمل ہے۔ تمائم تمیمہ کی جمع ہے اس کے معنی ان منکوں (دانوں) اور ہڈیوں کے ہیں جن کو جوڑ کر عرب نظر نہ لگنے کے لئے بچوں کے گلے میں لٹکاتے تھے یہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کا خاص طریقہ تھا لیکن اسلام نے اس کی ممانعت فرما دی، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ تمائم سے مراد وہ گنڈے اور منتر ہیں جن کی نوعیت مشرکانہ ہوتی ہے اور جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھے، لیکن وہ تعویذات وغیرہ جن میں آیات قرآنی منقول دعائیں اور اسماء الہٰی لکھے ہوتے ہیں گلے میں لٹکانا جائز ہیں جیسا کہ حصن حصین میں منقول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ بےموقع عزل کا مطلب یہ ہے کہ حمل ٹھہر جانے کے خوف سے عزل کرنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ عورت (بیوی) کی رضامندی حاصل ہو اگر اس کی رضامندی کے بغیر عزل کیا جائے گا تو وہ ایسا عزل ہوگا جو بےموقع کھلائے گا۔ جس کی ممانعت اس حدیث میں مذکور ہے البتہ اگر عورت آزاد نہ ہو بلکہ لونڈی ہو تو وہ (لونڈی) چونکہ محل عزل ہے اس لئے اس کی رضامندی کے بغیر عزل کرنا جائز ہے۔ بچے کو خراب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس عورت کے ساتھ صحبت کی جائے جس کی گود میں دودھ پینے والا بچہ ہو اور اس صحبت کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوجائے، چونکہ اس حمل کی وجہ سے اس کا دودھ خراب ہوجاتا ہے اور وہ دودھ بچے کو نقصان پہنچاتا ہے کہ اس کو ضعف وغیرہ لاحق ہوجاتا ہے اس لئے دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنا گویا بچے کو نقصان پہنچانا ہے۔ دودھ والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے کو غیل کہتے ہیں اور اس کا ذکر باب المباشرت میں گزر چکا ہے۔ اگرچہ آپ ﷺ اس کو حرام نہیں فرماتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ آپ ﷺ دودھ پلانے کے زمانے میں عورت کے ساتھ صحبت کرنے اور بچے کو نقصان پہنچانے کو ناپسند فرماتے تھے لیکن اس کو حرام قرار نہیں دیتے تھے کیونکہ منکوحہ عورت کے ساتھ جماع کرنا حلال ہے اور محض حمل کے احتمال سے کہ جس سے بچے کو مذکورہ نقصان پہنچنے کا تعلق ہے وہ عورت حرام نہیں ہوتی۔

4291Mishkaat-al-Masabih

عورت کو بجنے والا زیور پہننا ممنوع ہے

وعن ابن الزبير : أن مولاة لهم ذهبت بابنة الزبير إلى عمر بن الخطاب وفي رجلها أجراس فقطعها عمر وقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : مع كل جرس شيطان . رواه أبو داود

اور حضرت ابن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ان کی آزاد کی ہوئی لونڈی حضرت زبیر ؓ کی بچی کے پیروں میں کھنگرو تھے، حضرت عمر ؓ نے ان گھنگرؤں کو کاٹ ڈالا اور فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر (جرس بجنے والی چیز) کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ شیطان کا مزمار (باجہ) ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے الجرس مذامیر الشیطان لہٰذا ہر جرس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ شیطان ہر بجنے والی چیز کی طرف لوگوں کو مائل کرتا ہے اور ان کی نظر اس کی آواز کو زیادہ سے زیادہ دلکش بناتا ہے۔

4292Mishkaat-al-Masabih

عورت کو بجنے والا زیور پہننا ممنوع ہے

وعن بنانة مولاة عبد الرحمن بن حيان الأنصاري كانت عند عائشة إذ دخلت عليها بجارية وعليها جلاجل يصوتن فقالت : لا تدخلنها علي إلا أن تقطعن جلاجلها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تدخل الملائكة بيتا فيه أجراس . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن حیان انصاری ؓ کی آزاد کی ہوئی لونڈی بنانہ سے روایت ہے کہ وہ (ایک دن) حضرت عائشہ ؓ کے ہاں تھیں کہ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ایک چھوٹی لڑکی لائی گئی جو گھنگرو پہننے ہوئے تھی اور وہ بج رہے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے (اس لڑکی کو لانے والی عورت سے) فرمایا کہ اس لڑکی کو میرے پاس اس وقت تک نہ لایا جائے جب تک کہ ان گھنگرؤں کو کاٹ کر پھینک نہ دیا جائے کیوں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں باجے کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ (ابوداؤد )

4293Mishkaat-al-Masabih

کسی مجبوری کے تحت سونے کے استعمال کی اجازت

وعن عبد الرحمن بن طرفة أن جده عرفجة بن أسعد قطع أنفه يوم الكلاب فاتخذ أنفا من ورق فأنتن عليه فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يتخذ أنفا من ذهب . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت عبدالرحمن ابن طرفہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ بن سعد ؓ کی ناک کلاب کی لڑائی میں کاٹ ڈالی گئی تھی، انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان کو سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح کلاب ایک جگہ کا نام ہے وہاں لڑائی ہوئی جس میں حضرت عرفجہ ؓ بھی شریک تھے اسی لڑائی کے دوران ان کی ناک کٹ گئی تھی جس کی وجہ سے ان کو چاندی کی ناک بنوا کر چہرے پر لگانی پڑی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے اس کو سونے کی ناک بنوانے کی اجازات عطا فرمائی اس حدیث کی بناء پر علماء نے سونے کی ناک بنوانے کو اور اسی طرح دانتوں میں چاندی کا تارا باندھنے کو مباح قرار دیا ہے، لیکن حضرت امام محمد نے دانتوں میں سونے کی تار باندھنے کو بھی جائز کہا ہے۔

4294Mishkaat-al-Masabih

سونے کے زیورات پہننے والی عورت کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من أحب أن يحلق حبيبه حلقة من نار فليحلقه حلقة من ذهب ومن أحب أن يطوق حبيبه طوقا من نار فليطوقه طوقا من ذهب ومن أحب أن يسور حبيبه سوارا من نار فليسوره من ذهب ولكن عليكم بالفضة فالعبوا بها . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے عزیز یعنی بیوی یا اولاد وغیرہ کو (ان کے کان یا ناک میں) آگ کا حلقہ پہنانا پسند کرتا ہو تو وہ اس کو سونے کا حلقہ ضرور پہنائے (یعنی سونے کا بالا وغیرہ پہنانے کی سزا یہ ہے کہ اس کو آگ کا بالا وغیرہ پہنایا جائے گا) جو شخص اپنے عزیز کی گردن میں آگ کا طوق ڈالنا پسند کرتا ہو تو وہ اس کو سونے کا گلوبند ضرور پہنائے اور جو شخص اپنے عزیز کو آگ کا کنگن پہنانا پسند کرتا ہو وہ اس کو کنگن ضرور پہنائے، لیکن چاندی کے استعمال کی تمہیں اجازت ہے کہ تم اس کو اپنے استعمال و تصرف میں لاسکتے ہو۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث کے آخری الفاظ فلعبوابھا کا اصل ترجمہ تو یہ ہے کہ تم چاندی سے کھیلو، یعنی چاندی کے زیورات بنوا کر اپنی عورتوں کو پہناؤ، اس کی انگوٹھی بنوا کر خود پہنو اور اگر اپنے ہتھیار جیسے تلوار وغیرہ کی زینت و آرائش چاہو تو اس مقصد کے لئے بھی چاندی استعمال کرسکتے ہو، لیکن حدیث کے ان الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا کی زیب وزینت اور دنیا کے زیورات لہو و لعب میں داخل ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے مباح ہوں، یا اس طرف اشارہ ہے کہ زیور دار عورت کے ساتھ تفریح و دل چسپی لینا گویا اس کے زیور کے ساتھ کھیلنا ہے۔ ابن مالک کہتے ہیں کہ کسی چیز کے ساتھ کھیلنا اس میں خواہش ومرضی کے مطابق تصرف کرنے کے مرادف ہے، لہٰذا ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی عورتوں کے زیور کے اقسام میں سے جس قسم کا زیور چاہو اس میں چاندی کا استعمال کرو، لیکن مردوں کو صرف انگوٹھی، تلواروں اور جنگ کے دوسرے ہتھیاروں کی زینت و آرائش کے لئے چاندی کا استعمال کرنا جائز ہے۔

4295Mishkaat-al-Masabih

سونے کے زیورات پہننے والی عورت کے بارے میں وعید

وعن أسماء بنت يزيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : أيما امرأة تقلدت قلادة من ذهب قلدت في عنقها مثلها من النار يوم القيامة وأيما امرأة جعلت في أذنها خرصا من ذهب جعل الله في أذنها مثله من النار يوم القيامة . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو عورت سونے کا ہار پہنے قیامت کے دن اس کی گردن میں اسی طرح کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کان میں سونے کا بالا یا بالی پہنے گی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے کان میں اسی طرح کا آگ کا بالا یا بالی ڈالے گا۔ (ابو داؤد )

4296Mishkaat-al-Masabih

سونے کے زیورات پہننے والی عورت کے بارے میں وعید

وعن أخت لحذيفة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : يا معشر النساء أما لكن في الفضة ما تحلين به ؟ أما إنه ليس منكن امرأة تحلى ذهبا تظهره إلا عذبت به . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت حذیفہ ؓ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت! کیا تمہارے لئے چاندی میں وہ بات نہیں ہے کہ تم اس کا زیور بناؤ (یعنی تمہارے لئے چاندی کا زیور بنوانا کافی ہے) یاد رکھو! تم میں سے جو بھی عورت سونے کا زیور بنوائے گی اور پھر اس زیور کی (بےجا اور بےموقع) نمائش کرتی پھرے گی تو اس کو اس کے عمل کی بنا پر عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (ابوداؤد، نسائی) تشریح اوپر جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کو بھی خالص سونا پہننا منع ہے اور جو عورت سونے کے زیوارت پہنے گی وہ حدیث میں مذکورہ وعید کا مورد ہوگی نیز یہ کہ محض چاندی کا زیور پہننا مباح ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے لئے دونوں مباح ہیں وہ سونے کے زیوارت بھی پہن سکتی ہیں اور چاندی کے بھی لہذا علماء نے ان احادیث کی مختلف تاویلیں بیان کی ہیں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پہلے تو یہی حکم تھا کہ سونا پہننا عورتوں کے لئے بھی مباح نہیں لیکن بعد میں اس روایت کے ذریعہ اس حکم کو منسوخ قرار دیا گیا جس کو حضرت علی ؓ نے نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حریر یعنی خالص ریشم اور سونا میری امت کے مردوں کے لئے حرام ہے پس اس ارشاد سے ثابت ہوا کہ عورتوں کو سونا اور خالص ریشم پہننا مباح ہے۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مذکورہ احادیث میں جو وعید بیان کی گئی ہے اس کا تعلق اس عورت سے ہے جو زکوٰۃ ادا کئے بغیر سونے کے زیورات پہنے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ وعید اس عورت کے حق میں ہے جو زیورات پہن کر اجنبی مردوں کو دکھلائے۔

4297Mishkaat-al-Masabih

اگر جنت میں زیور اور ریشم پہننا چاہتے ہو تو دنیا میں ان چیزوں سے اجتناب کرو

عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمنع أهل الحلية والحرير ويقول : إن كنتم تحبون حلية الجنة وحريرها فلا تلبسوها في الدنيا . رواه النسائي

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ زیور والوں اور ریشم والوں کو منع فرماتے تھے (یعنی ان چیزوں کے پہننے کی ممانعت بیان کرتے تھے) اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کے زیور اور جنت کے ریشم کی خواہش رکھتے ہو کہ جنت میں تمہیں یہ چیزیں ملیں تو دنیا میں ان چیزوں کو نہ پہنو۔ (نسائی )

4298Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی سونے کی انگوٹھی

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما فلبسه قال : شغلني هذا عنكم منذ اليوم إليه نظرة وإليكم نظرة ثم ألقاه . رواه النسائي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کو پہنا پھر آپ ﷺ نے (حاضرین کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ آج کے دن اس انگوٹھی نے مجھ کو تمہاری طرف سے مشغول رکھا (یعنی میں تمہاری طرف متوجہ نہ رہ سکا) کیونکہ کبھی تو اس انگوٹھی کی طرف دیکھتا ہوں اور کبھی تمہاری طرف دیکھتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اس انگوٹھی کو اتار پھینکا۔ (نسائی ) تشریح بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں جس انگوٹھی کا ذکر کیا گیا ہے وہ سونے کی تھی۔

4299Mishkaat-al-Masabih

بچوں کو بھی سونا پہننا منع ہے

وعن مالك قال : أنا أكره ن يلبس الغلمان شيئا من الذهب لأنه بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن التختم بالذهب فأنا أكره للرجال الكبير منهم والصغير . رواه في الموطأ

اور حضرت امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں اس کو برا سمجھتا ہوں کہ لڑکوں کو سونے کی کوئی چیز پہنائی جائے کیونکہ مجھ تک روایت پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بھی استعمال کرنے سے منع فرمایا ( اور جب انگوٹھی جیسی ممنوع ہے تو اور چیزیں بطریق اولی ممنوع ہوں گی لہذا میں مردوں کے لئے (سونا پہننا) برا سمجھتا ہوں خواہ وہ بڑے ہوں یا بچے ہوں!۔ (مؤطا) تشریح پس جس طرح مردوں کو سونے کی کوئی چیز خود پہننا یا لڑکوں کو پہننا ممنوع ہے اسی طرح چاندی کی چیزیں بھی ممنوع ہیں علاوہ انگوٹھی کے نیز ریشم کا کپڑا بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے۔

4300Mishkaat-al-Masabih

پاپوش کا بیان

نعال نعل کی جمع ہے اور نعل اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ پیروں کو زمین سے بچایا جائے، جس چیز کے ذریعہ پیروں کی حفاظت کی جاتی ہے یعنی پاپوش اس کی ہیئت و قسم ہر دور میں اور ہر قوم و فرقہ کے لوگوں میں مختلف رہی ہے خواہ وہ جوتے کی صورت میں ہو یا چپل و کھڑاؤں وغیرہ کی شکل میں ہو۔ اس بات کی اصل مراد آنحضرت ﷺ کے پاپوشوں کی ہیئت وصفات بیان کرنا ہے جو اس دور میں اہل عرب کے درمیان رائج تھیں، چونکہ اس زمانہ میں رائج پاپوش بھی مختلف اقسام کے ہوتے تھے اس لئے باب کے عنوان میں جمع کا صیغہ، نعال، استعمال کیا گیا ہے۔

4301Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی پاپوش مبارک

عن ابن عمر قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعال التي ليس فيها شعر . رواه البخاري

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو جو پاپوش مبارک پہنے ہوئے دیکھا ہے اس میں بال نہیں تھے!۔ (بخاری )