ازار کا نصف ساق تک ہونا پسندیدہ ہے
عن ابن عمر قال : مررت برسول الله صلى الله عليه وسلم وفي إزاري استرخاء فقال : يا عبد الله ارفع إزارك فرفعته ثم قال : زد فزدت فما زلت أتحراها بعد فقال : بعض القوم : إلى أين ؟ قال : إلى أنصاف الساقين . رواه مسلم
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کے قریب سے گزرا اس وقت میرا تہبند لٹکا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ! اپنا تہبند اونچا کرو۔ میں نے تھوڑا سا اونچا کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا اور اونچا کرو، میں نے اور اونچا کرلیا پھر حضرت ابن عمر ؓ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ اس حکم کے بعد میں برابر عمل (یعنی تہبند کو اونچا کرتے رہنے) کی طرف متوجہ رہتا ہوں، بعض لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ اپنے تہبند کو کتنا اونچا رکھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ آدھی پنڈلیوں تک۔ (مسلم)
تشریح
اتحراھا کی ضمیر اصل میں فعلہ جو مخدوف ہے کی طرف راجع ہے چناچہ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے لیکن بظاہر صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ضمیر رفعہ اخیرہ کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ میں ہمیشہ اس بات کی طرف متوجہ رہتا ہوں کہ میرا تہبند آنحضرت ﷺ کی منشاء کے مطابق اونچا ہے۔ بہرحال مطلب دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔
ٹخنوں سے نیچے ازار کے لٹکنے کی حرمت کی اصل تکبر وغرور ہے
وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة . فقال أبو بكر : يا رسول الله إزاري يسترخي إلا أن أتعاهده . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنك لست ممن يفعله خيلاء . رواه البخاري
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص از راہ تکبر اپنا تہبند یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر نہیں اٹھائے گا یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ میرے قصد و ارادہ کے بغیر میرا تہبند لٹک جاتا ہے اور ٹخنوں تک یا ٹخنوں سے نیچے پہنچ جاتا ہے الاّ یہ کہ میں ہمہ وقت اس کا دھیان رکھوں یعنی اگر میں ہر وقت اس طرف متوجہ رہوں تو یقینا کسی بھی وقت میرا تہبند نہیں لٹک سکتا لیکن بعض شرعی یا طبعی رکاوٹوں کی وجہ سے اس کی طرف ہر وقت دھیان رکھنا ممکن نہیں ہے تو ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں جو از راہ تکبر اپنا تہبند یا پائجامہ لٹکاتے ہیں،۔ (بخاری )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تہبند یا پائجامہ کا بغیر قصد و ارادہ کے لٹکنا شرعی طور پر نقصان دہ نہیں ہے خاص طور سے اس شخص کے حق میں جو غرور وتکبر سے دور رہتا ہے لیکن افضل یہی ہے کہ بہر صورت متابعت ہی کو اختیار کیا جائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تہبند و پاجامہ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی حرمت کی اصل تکبر ہے۔
اگر تہبند آگے سے لٹکا ہوا ہو لیکن پیچھے سے اٹھا ہوا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں
وعن عكرمة قال : رأيت ابن عباس يأتزر فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدمه ويرفع من مؤخرة قلت لم تأتزر هذه الإزرة ؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتزرها . رواه أبو داود
اور حضرت عکرمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو اس طرح تہبند باندھے ہوئے دیکھا کہ وہ اس تہبند کے آگے کا کنارہ تو اپنے پیروں کے اوپر تک رکھتے اور اس کے پیچھے کا کنارہ ٹخنوں سے اونچا رکھتے تھے، میں نے یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس ؓ سے کہا کہ آپ کبھی کبھی اس طرح تہبند کیوں باندھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ بھی کبھی کبھی اس طرح تہبند باندھا کرتے تھے۔ (ابوداؤد )
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ تہبند و پاجامہ آگے کی طرف تو لٹکا رہے لیکن پیچھے کی طرف سے ٹخنوں سے اوپر اٹھا رہے تو عدم اسبال یعنی ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانے کے حکم کی تعمیل کے لئے کافی ہے۔
وعن عبادة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : عليكم بالعمائم فإنها سيماء الملائكة وأخوها خلف ظهوركم . رواه البيهقي
اور حضرت عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم عمامہ پگڑی باندھنا ضروری سمجھو کیونکہ عمامے فرشتوں کی علامت ہیں (بایں طور کہ بدر کی جنگ کے موقعہ پر جو فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لئے نازل ہوئے تھے وہ عمامہ باندھے ہوئے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملئکۃ مسومین ) اور عمامہ کے شملہ کو اپنی پشت پر چھوڑ دو کیونکہ ملائکہ بھی اسی ہیئت سے آئے تھے۔ (بہیقی شعب الایمان )
بدن کا باریک کپڑے کے نیچے جھلکنا بدن کے برہنہ ہونے کے برابر ہے
وعن عائشة أن أسماء بنت أبي بكر دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليها ثياب رقاق فأعرض عنه وقال : يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لن يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا . وأشار إلى وجهه وكفيه . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن اسماء بنت ابوبکر ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں اس حالت میں آئیں کہ ان کے بدن پر باریک کپڑے تھے، آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر اس کی طرف سے منہ پھیرلیا اور فرمایا کہ اسماء ؓ! عورت جب ایام حیض کو پہنچ جائے یعنی (جب وہ بالغ ہوجائے) تو یہ گز درست نہیں ہے کہ اس کے جسم کا کوئی عضو دیکھا جائے علاوہ اس کے اور اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔ (ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ عورت کے لئے شرعی پردہ کی حد یہی ہے کہ وہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ باقی اعضاء کو ڈھانکے لیکن شرم و حجاب کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس حالت میں بھی گھر سے باہر نکل کر مردوں کے سامنے نہ آئے کہ اس کا پورا بدن علاوہ چہرے اور ہاتھوں کے چھپا ہوا ہو بلکہ اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو چہرے اور ہاتھوں کو بھی چھپائے رکھے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورت نے کوئی ایسا باریک کپڑا پہن رکھا ہو جس کے نیچے اس کا بدن جھلک رہا ہو تو وہ برہنہ کے حکم میں ہوگی۔
نیا کپڑا پہنو تو اللہ کی حمد و ثنا کرو
وعن أبي مطر قال : إن عليا اشترى ثوبا بثلاثة دراهم فلما لبسه قال : الحمد لله الذي رزقني من الرياش ما أتجمل به في الناس وأواري به عورتي ثم قال : هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول . رواه أحمد
اور حضرت ابومطر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ؓ نے ایک کپڑا تین درہم کے عوض خریدا اور جب اس کو پہنا تو کہا تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ کو زینت والے اسباب میں سے وہ چیز عطا کی جس کے ذریعہ ہم لوگوں کے سامنے اپنی آرائش بھی کرتے ہیں اور ستر بھی چھپاتے ہیں پھر حضرت علی ؓ نے کہا کہ اسی طرح میں نے رسول کریم ﷺ کو بھی کپڑے پہننے کے بعد یہ حمد و ثنا کرتے ہوئے سنا ہے۔ (احمد )
نیا کپڑا پہنو تو اللہ کی حمد و ثنا کرو
وعن أبي أمامة قال : لبس عمر بن الخطاب رضي الله عنه ثوبا جديدا فقال : الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من لبس ثوبا جديدا فقال : الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي ثم عمد إلى الثوب الذي أخلق فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب
اور حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ کہا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہننے کو دیا جس کے ذریعہ میں اپنا ستر بھی چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں لوگوں کے سامنے اپنی آرائش بھی کرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نیا کپڑا پہننے کے بعد یوں کہے، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہننے کو دیا جس کے ذریعہ میں اپنا ستر بھی چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں لوگوں کے سامنے اپنی آرائش بھی کرتا ہوں اور پھر اس کپڑے کو جو پرانا ہوگیا ہے یعنی جو (کپڑا اس نے اپنے جسم سے اتارا ہے) کسی کو اللہ واسطے دے دے تو وہ اپنے جیتے جی اور مرنے کے بعد (یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) اللہ کی پناہ میں رہے گا اللہ کی محافظت میں رہے گا اور اللہ کے عفو و مغفرت کے پردے میں رہے گا!۔ (احمد ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے )۔
عورتوں کے لئے باریک کپڑے کی ممانعت
وعن علقمة بن أبي علقمة عن أمه قالت : دخلت حفصة بنت عبد الرحمن على عائشة وعليها خمار رقيق فشقته عائشة وكستها خمارا كثيفا . رواه مالك
اور حضرت علقمہ بن علقمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حفصہ، حضرت عائشہ ؓ کے پاس اس حالت میں آئیں، کہ انہوں نے باریک اوڑھنی اوڑھ رکھی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ نے وہ باریک اوڑھنی پھاڑ ڈالی اور ان کو ایک موٹی اوڑھنی اڑھا دی۔ (مالک)
تشریح
حفصہ، حضرت عائشہ ؓ کی بھتیجی تھیں حضرت عائشہ ؓ نے جب ان کو باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے دیکھا تو خفا ہوئیں اور ان کو سبق دینے کے لئے ان کے اس باریک دوپٹے کے دو ٹکڑے کر ڈالے اور پھر اس کے بدلے ان کے سر پر ایک موٹا دوپٹہ ڈال دیا۔
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حضرت عائشہ (رض) کا فقر و زہد
وعن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال : دخلت على عائشة وعليها درع قطري ثمن خمسة دراهم فقالت : ارفع بصرك إلى جاريتي انظر إليها فإنها تزهى أن تلبسه في البيت وقد كان لي منها درع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فما كانت امرأة تقين بالمدينة إلا أرسلت إلي تستعيره . رواه البخاري
اور حضرت عبدالواحد بن ایمن اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک دن میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت ان کے جسم پر (مصر کے بنے ہوئے) قطری کپڑے کا کرتا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی، حضرت عائشہ ؓ نے دوران گفتگو مجھ سے فرمایا کہ ذرا میری اس لونڈی کو تو دیکھو یہ کس قدر غرور کرتی ہے یہ گھر میں بھی اس کپڑے کو پہننے پر تیار نہیں ہوتی (چہ جائیکہ اس کو پہن کر باہر نکلے) حالانکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں میرے پاس اس طرح کے (یعنی قطری کپڑے) کا ایک کرتا تھا اور مدینہ میں جو بھی عورت (اپنی شادی میں یا کسی اور کی شادی کے وقت) اپنی آرائش کرنا چاہتی وہ کسی کو میرے پاس بھیج کر وہی کرتا عاریتا منگواتی۔ (بخاری)
تشریح
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ نے یہاں یہ واضح کیا ہے کہ اس تھوڑے سے عرصہ میں ذہنوں میں کیسی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے کہ جس کپڑے کے کرتے کو کل تک عورتیں اپنی آرائش کے لئے ضروری سمجھتی تھیں وہی کرتا اب وہ اپنے گھر میں بھی پہننا پسند نہیں کرتی ہیں وہیں انہوں نے گویا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اپنے فقر و تنگی اور زہد کو بھی بیان کیا ہے۔
وعن جابر قال : لبس رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما قباء ديباج أهدي له ثم أوشك أن نزعه فأرسل به إلى عمر فقيل : قد أوشك ما انتزعته يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : نهاني عنه جبريل فجاء عمر يبكي فقال : يا رسول الله كرهت أمرا وأعطيتنيه فما لي ؟ فقال : إني لم أعطكه تلبسه إنما أعطيتكه تبيعه . فباعه بألفي درهم . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک ریشمی قبا پہنی جو آپ ﷺ کو ہدیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ لیکن فورًا ہی اس قبا کو جسم مبارک سے اتار کر حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دیا صحابی نے (یہ دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے اس قباء کو اتنی جلد کیوں اتار ڈالا؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھ کو جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے پہننے سے منع کردیا تھا (اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے وہ قبا ریشمی کپڑے کی حرمت نازل ہونے سے پہلے پہنی تھی) پھر جب حضرت عمر ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے (یعنی اس ریشمی قبا کے پہننے کو) اس کو مجھے مرحمت فرما دیا ہے (تاکہ میں اس کو پہن لوں) اس صورت میں میرا کیا حال ہوگا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے وہ قبا تمہیں اس لئے نہیں دی ہے کہ تم اس کو پہنو بلکہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کو بیچ ڈالو، چناچہ حضرت عمر ؓ نے اس قبا کو دو ہزار درہم کے عوض بیچ دیا۔ (مسلم )
جس کپڑے کے تانے میں ریشم ہو وہ مردوں کے لئے حلال ہے
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثوب المصمت من الحرير فأما العلم وسدى الثوب فلا بأس به . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس کپڑے کو پہننے سے منع فرمایا ہے جو خالص ریشم کا ہو، البتہ ریشم کی گوٹ یا بیل (جو چار انگشت سے زائد نہ ہو) اور وہ کپڑا جس کے تانے میں ریشم ہو اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
جس کپڑے میں تانا اور بانا دونوں ریشم کا ہو اس کا مردوں کو پہننا حرام ہے اور صاحبین کے نزدیک جنگ میں اس کو پہننا مباح ہے اور جس کپڑے کا تانا ریشم کا ہو اور بانا، سوت وغیرہ کا ہو تو اس کا پہننا بالاتفاق جائز ہے اور اس کا برعکس ناجائز ہے مگر جنگ میں جائز ہے۔ گویا صاحبین کے نزدیک تو جنگ میں وہ کپڑا بھی مباح ہے جو خالص ریشم کا ہو اور وہ کپڑا بھی جس کے بانے میں ریشم ہو۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جنگ میں صرف وہ کپڑا پہننا مباح ہے جس کا بانا ریشم کا ہو اور تانا سوت وغیرہ کا اور جس کپڑا کا تانا ریشم کا ہو اور بانا کسی اور چیز کا وہ ہر حالت میں مباح ہے۔
اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کو ظاہر کرنا پسندیدہ ہے
وعن أبي رجاء قال : خرج علينا عمران بن حصين وعليه مطرف من خز وقال : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من أنعم الله عليه نعمة فإن الله يحب أن يرى أثر نعمته على عبده . رواه أحمد
اور حضرت ابورجاء (تابعی) کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمران بن حصین (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس آئے تو اس وقت ان کے بدن پر خزکا مطرف (شال) تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمت سے سرفراز فرمائے تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر دیکھا جائے۔ (احمد)
تشریح
مطرف ایک خاص طرح کا چادر نما کپڑا ہوتا تھا، جس کے دونوں طرف کنارے بنے ہوتے تھے اور قاموس میں لکھا ہے کہ مطرف، جو مکرم کے وزن پر ہے خز کی دھاری دار شال کو کہتے ہیں اس صورت میں مطرف من خز اس کپڑے کو کہتے تھے جو ریشم اور اون دونوں سے بنا جاتا تھا۔ اس کا پہننا مباح ہے۔ چناچہ یہاں خز سے یہی مراد ہے۔
مباحات میں سے جو چاہو کھاؤ پہنو لیکن اسراف اور تکبر سے دامن بچاؤ
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كل ما شئت والبس ما شئت ما أخطأتك اثنتان : سرف ومخيلة . رواه البخاري في ترجمة باب
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا جائز و مباح چیزوں میں سے جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو تاوقتیکہ دو چیزیں یعنی اسراف اور تکبر تم میں سرایت نہ کریں۔ (بخاری فی ترجمۃ باب)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کھانے کی ہر مباح چیز کو کھانا اور پہننے کی ہر مباح چیز کو پہننا درست ہے لیکن کھانے اور پہننے میں وہ توسع مکروہ ہے جو اسراف اور تکبر کے طور پر ہو جس توسع میں اسراف اور تکبر نہ ہو وہ مباح ہے۔
مباحات میں سے جو چاہو کھاؤ پہنو لیکن اسراف اور تکبر سے دامن بچاؤ
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كلوا واشربوا وتصدقوا والبسوا ما لم يخالط إسراف ولا مخيلة . رواه أحمد والنسائي وابن ماجه
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ نے فرمایا (اپنی حاجت و ضرورت کے بقدر) کھاؤ اور پیو اور جو چیز تمہاری حاجت اور ضرورت سے زائد ہو اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو (نیز پہننے کی مباح چیزوں میں سے جو چاہو) پہنو جب تک کہ اس میں اسراف اور تکبر نہ ہو۔ (احمد، نسائی، ابن ماجہ )
وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن أحسن ما زرتم الله في قبوركم ومساجدكم البياض . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ بہترین کپڑا کہ جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور اپنی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو، سفید کپڑا ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مسجد، اللہ کا گھر ہے۔ جو شخص عبادت کے لئے مسجد میں گیا وہ گویا اللہ سے ملاقات کے لئے گیا لہٰذا وہاں سفید کپڑا پہن کر جانا بہتر ہے اسی طرح بندہ مرنے کے بعد گویا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے۔ لہٰذا مردہ کو سفید کفن دینا بہتر ہے۔
مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام اور چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما من ذهب وفي رواية : وجعله في يده اليمنى ثم ألقاه ثم اتخذ خاتما من الورق نقش فيه : محمد رسول الله وقال : لا ينقشن أحد على نقش خاتمي هذا . وكان إذا لبسه جعل فصه مما يلي بطن كفه
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا۔ اور پھر اس کو پھینک دیا، پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کرائے اور فرمایا کہ کوئی شخص میری اس مہر کی مانند الفاظ (اپنی انگوٹھی میں) کندہ نہ کرائے نیز آنحضرت ﷺ جب انگوٹھی پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے سونے کی انگوٹھی اس وقت بنوائی تھی جب کہ مردوں کے لئے سونا حرام نہیں ہوا تھا چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مردوں کے لئے سونا پہننا حرام قرار دے دیا تو آپ ﷺ نے وہ انگوٹھی پھینک دی امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں کہا ہے کہ مردوں کے لئے جس طرح سونے کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے اسی طرح ان کے لئے لوہے اور کانسی وغیرہ کی انگوٹھی بھی جائز نہیں ہے لہٰذا مرد کو چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی انگوٹھی نہیں چاہئے۔ عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور دوسرے زیورات پہننا جائز ہے بلکہ علماء نے یہ لکھا ہے کہ عورتوں کو چاندی کی انگوٹھی مکروہ ہے، کیونکہ چاندی کی انگوٹھی مرد پہنتے ہیں اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مکروہ ہے، لہٰذا اگر کوئی عورت چاندی کی انگوٹھی پہننا ہی چاہئے تو وہ اس کے رنگ کو کسی ملمع وغیرہ کے ذریعہ تبدیل کر دے۔ نیز ہدایہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس بارے میں انگوٹھی کے حلقہ کا اعتبار ہے نہ کہ اس کے نگینہ کا۔ کوئی شخص میری مہر کے مانند الفاظ کندہ نہ کرائے اصل بات یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ یہ دیکھا کرتے تھے کہ مسلمان میری اتباع کے کس قدر حریص اور شیدائی ہیں وہ میرے ہر عمل کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے کوئی بعید نہیں کہ لوگ میری اس مہر کے الفاظ اپنی انگوٹھیوں میں بھی کندہ کرنے لگیں، لہٰذا آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا نیز اس ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی اس مہر اور اس میں کندہ الفاظ کی ایک قانونی حیثیت بھی تھی کہ آپ ﷺ جو خطوط وغیرہ دنیا کے بادشاہوں اور سربرہان مملکت کے نام بھیجا کرتے تھے ان پر وہی مہر ثبت فرماتے تھے اس صورت میں اگر دوسرے لوگ بھی اپنی انگوٹھیوں میں اسی طرح کی مہر کندہ کراتے تو نہ صرف یہ کہ مہر رسالت کی مخصوص حیثیت ان بادشاہوں کی نظر میں مشتبہ ہوجاتی بلکہ ایک عجیب طرح کی خرابی بھی واقع ہوجاتی۔ قاضی خاں نے کہا ہے کہ چاندی کی انگوٹھی پہننا اس شخص کے حق میں مباح ہے جس کے لئے مہر رکھنا ایک ضرورت کے درجہ کی چیز ہو جیسے قاضی وغیرہ اور جو شخص مہر رکھنے کا ضرورت مند نہ ہو اس کے حق میں افضل یہی ہے کہ چاندی کی انگوٹھی کا بھی استعمال نہ کرے نیز جو شخص انگوٹھی پہنے اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انگوٹھی کس ہاتھ میں پہنی جائے تو سیوطی کہتے ہیں کہ احادیث تو دائیں ہاتھ میں پہننے کے بارے میں بھی منقول ہیں اور بائیں ہاتھ میں پہننے کے بارے میں بھی، لیکن عمل ان ہی احادیث پر ہے جن میں بائیں ہاتھ میں پہننے کا ذکر ہے اور جو احادیث دائیں ہاتھ کے متعلق ہیں ان کو منسوخ قرار دیا گیا ہے چناچہ عدی وغیرہ نے حضرت ابن عمر ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ پہلے تو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے لیکن پھر بائیں ہاتھ میں پہننے لگے۔ سفر السعادہ کے مصنف نے یہ لکھا ہے کہ اس بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، بعض روایتوں میں تو نقل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور بعض روایتوں میں بائیں ہاتھ میں پہننا نقل کیا گیا ہے یہ سب روایتیں صحیح ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کبھی تو آپ ﷺ دائیں ہاتھ میں پہنتے ہوں گے اور کبھی بائیں ہاتھ میں۔ امام نووی یہ لکھتے ہیں کہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انگوٹھی کا دائیں ہاتھ میں بھی پہننا جائز ہے اور بائیں ہاتھ میں بھی لیکن شوافع کے نزدیک دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں کی بہ نسبت شرف و فضیلت رکھتا ہے اس لئے وہی ہاتھ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی زینت و آرائش اور تو قیر ہو۔
مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام اور چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے
وعن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس القسي والمعصفر وعن تختم الذهب وعن قراءة القرآن في الركوع . رواه مسلم
اور حضرت علی ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مردوں کو) قسی کپڑے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا نیز آپ ﷺ نے رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ (مسلم)
تشریح
قسی ایک خاص قسم کے ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں جو مصر کے ایک شہر قس میں تیار ہوتا تھا۔ رکوع میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ رکوع میں یا سجدے میں تسبیح کے بجائے قرآن پڑھا جائے، دوسرے یہ کہ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص قیام کی حالت میں اضطراب وبے اطمینانی کا رویہ اختیار کرے اور قرأت کو پورا کئے بغیر اس طرح رکوع میں چلا جائے کہ اس قرأت کا کچھ حصہ رکوع میں واقع ہو۔
سونے کی انگوٹھی پہننے والے مرد کے بارے میں وعید
وعن عبد الله بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى خاتما من ذهب في يد رجل فنزعه فطرحه فقال : يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده ؟ فقيل للرجل بعدما ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم : خذ خاتمك انتفع به . قال : لا والله لا آخذه أبدا وقد طرحه رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم
اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی کو اتار کر پھینک دیا اور پھر فرمایا کہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوزخ کی آگ کے انگارے کو حاصل کرے اور اس کو اپنے ہاتھ میں پہن لے، یعنی جو شخص اپنے ہاتھوں میں سونے کی کوئی چیز پہنے گا اس کا ہاتھ دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا اس صورت میں کسی مرد کا سونے کی انگوٹھی پہننا گویا اپنے ہاتھ میں دوزخ کی آگ کا انگارہ پہننا ہے، پھر جب رسول کریم ﷺ وہاں سے تشریف لے گئے تو اس شخص سے کہا گیا کہ تم اپنی اس انگوٹھی کو اٹھا لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ یعنی چاہے تو اس کو فروخت کر ڈالو اور چاہے کسی عورت کو دے دو لیکن اس شخص نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اس کو کبھی نہیں اٹھاؤں گا جب کہ اس کو رسول کریم ﷺ نے پھینک دیا ہے! (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قدرت رکھتا ہو وہ اگر کسی خلاف شرع چیز کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بگاڑ دے اور مٹا دے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے حدیث (اذا رای احد منکم منکر فلیغیرہ بیدہ) یعنی جب تم میں سے کوئی شخص کسی خلاف شرع چیز کو دیکھے تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بگاڑ ڈالے۔
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أراد أن يكتب إلى كسرى وقيصر والنجاشي فقيل : إنهم لا يقبلون كتابا إلا بخاتم فصاغ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما حلقة فضة نقش فيه : محمد رسول الله . رواه مسلم . وفي رواية للبخاري : كان نقش الخاتم ثلاثة أسطر : محمد سطر ورسول الله سطر والله سطر وعنه أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان خاتمه من فضة وكان فصه منه . رواه البخاري
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ واپس آ کر، کسری (فارس کے بادشاہ) قیصر (روم کے بادشاہ) اور نجاشی (حبشہ کے بادشاہ) کو (اسلام کی دعوت دینے کے لئے) خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو عرض کیا گیا کہ (مروج قاعدہ کے مطابق) یہ (بادشاہ) اسی خط کو قبول کرتے ہیں یعنی مستند سمجھتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو، چناچہ رسول کریم ﷺ نے چاندی کے حلقہ والی انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول اللہ کندہ کردیا گیا۔ ( مسلم) اور بخاری کی ایک ورایت میں یوں منقول ہے کہ اس انگوٹھی میں جو الفاظ کندہ کرائے گے تھے وہ تین سطروں میں تھے اس طرح کہ ایک سطر میں (جو سب سے نیچی تھی) محمد کا لفظ تھا ایک سطر میں (جو پیچ میں تھی) رسول کا لفظ تھا اور ایک سطر میں (جو سب سے اوپر تھی) اللہ (کا لفظ) تھا۔
تشریح
یہاں انگوٹھی کے ضمن میں صرف اس کے حلقہ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے اس کے نگینہ کے بارے میں ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ انگلی میں خلقہ ہی پہنا جاتا ہے اور وہی محل استبعاد بھی ہے اس لئے بیان جواز کی خاطر اس کا ذکر کیا گیا تاہم دوسری احادیث میں نگینہ کا بھی ذکر ہے چناچہ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ آپ ﷺ کی انگوٹھی کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس کا نگینہ حبشی یعنی عقیق کا تھا چناچہ اس کا ذکر آگے آر ہا ہے مہر نبوی ﷺ میں جو الفاظ کندہ تھے ان کی ہیت امام نووی نے وہی بیان کی ہے جو اوپر ذکر کی گئی یعنی اوپر کی سطر میں اللہ بیچ کی سطر میں رسول اور نییچے کی سطر میں محمد کا لفظ تھا گویا اس مہر کی یہ صورت تھی محمد رسول اللہ ﷺ اور بعض حضرات نے اس مہر کی یہ صورت بیان کی ہے محمد رسول اللہ واللہ اعلم آنحضرت ﷺ کی انگوٹھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ میں رہا کرتی تھی ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ کے ہاتھ میں اور ان کے بعد حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ میں آئی لیکن حضرت عثمان ؓ کے خلافت کے آخری دور میں وہ انگوٹھی ایک دن معیقیب کے ہاتھ سے جو حضرت عثمان ؓ کے خادم تھے اریس کنویں میں گر پڑی اور پھر اس کو بہت زیادہ تلاش کیا گیا مگر نہیں ملی علماء لکھتے ہیں کہ وہ فتنہ و فساد اور اختلاف و انتشار جو حضرت عثمان ؓ کے آخری دور خلافت میں اور پھر ان کے بعد اسلامی مملکت میں پیدا ہوا اس کا باعث اس مبارک انگوٹھی کا گم ہونا تھا کیونکہ اس انگوٹھی میں حق تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی تھی جو حکومت و مملکت کے انتظام و انصرام کا ایک مؤثر ذریعہ تھی جیسا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مہر والی انگوٹھی کی خاصیت تھی
أنحضرت ﷺ کی انگوٹھی کا نگینہ
وعنہ ان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان خاتمہ من قصۃ وکان قصہ منہ
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔ (البخاری)