وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من تشبه بقوم فهو منهم . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ۔ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا۔ (احمد، ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص جس قوم و جماعت کی مشابہت اختیار کرے گا اس کو اسی قوم و جماعت جیسی خیر و معصیت ملے گی مثلاً اگر کوئی شخص اپنے لباس واطوار وغیرہ کے ذریعہ کسی غیر مسلم قوم یا فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرے گا تو اس کے نامہ اعمال میں وہی گناہ لکھے جائیں گے جو اس غیر مسلم قوم کے لوگوں یا فساق و فجار کو ملتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے آپ کو علماء و مشائخ اور اولیاء اللہ کے نمونے پر ڈھالے گا کہ انہی جیسے لباس پہنے گا انہی جیسے اطوار اختیار کرے گا اور انہی جیسے اعمال کرے گا تو وہ بھلائی وسعادت کے اعتبار سے انہی کے زمرہ میں شمار ہوگا، اس ارشاد گرامی کے الفاظ بہت جامع وہمہ گیر ہیں جن کے دائرے میں بہت سی باتیں اور بہت سی چیزیں آجاتی ہیں یعنی مشابہت کا مفہوم عمومیت کا حامل ہے کہ مشابہت خواہ اخلاق واطوار میں ہو، یا اطوار میں ہو، یا افعال و کردار میں ہو اور خواہ لباس و طرز رہائش میں ہو اور یا کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے اور بولنے چالنے میں ہو سب کا یہی حکم ہے۔
ترک زیب وزینت آخرت میں بڑائی ملنے کا ذریعہ ہے
وعن سويد بن وهب عن رجل من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من ترك لبس ثوب جمال وهو يقدر عليه وفي راويه : تواضعا كساه الله حله الكرامة ومن تزوج لله توجه الله تاج الملك . رواه أبو داود وروى الترمذي منه عن معاذ بن أنس حديث اللباس
اور حضرت سوید بن وہب ؓ نبی کریم ﷺ کے صحابی کے بیٹے سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص زیب وزینت کے لباس کو پہننا چھوڑ دے باوجودیکہ وہ اس کے پہننے کی استطاعت و حیثیت رکھتا ہو۔ اور ایک روایت میں تواضعا کا لفظ بھی آیا ہے یعنی جو شخص زہد تواضع اور کسر نفسی کے سبب زیب وزینت کا لباس پہننا چھوڑ دے اس کو اللہ تعالیٰ عزت و عظمت کا جوڑا پہنائے گا یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا لباس عطا کرے گا جو اس کی رفعت و عظمت کا باعث ہوگا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت دونوں جگہ عزت و عظمت عطا کرے گا جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ جو شخص فروتنی اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو بلند مرتبہ بناتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے نکاح کرے اس کو اللہ تعالیٰ بادشاہت کا تاج عطا فرمائے گا۔ (ابوداؤد، ) اور ترمذی نے اس روایت کا صرف وہ حصہ جس میں لباس کا ذکر ہے حضرت معاذ بن انس ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جز کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اعلی و نفیس کپڑے اور زینت و آرائش کا لباس پہننے کی حیثیت رکھتا ہو لیکن اس کے باوجود یا تو اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے، یا آخرت میں بلند مرتبہ پانے کی تمنا میں اور یا دنیا کی زینت و آرائش کے بےوقعت و حقیر جان کر اعلیٰ لباس پہننا چھوڑ دے تو اس کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں عزت و عظمت کی دولت سے نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے نکاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسی عورت سے نکاح کرے جو نہ تو کفو اور عزت میں اس کے برابر اور نہ دولت و ثروت میں اس کی برابری رکھتی ہو اور اس شخص نے اس عورت سے محض اس لئے نکاح کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا خوشنودی چاہتا تھا یا وہ اپنے نفس کو بدکاریوں کے فتنہ سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا اور اس کا مقصد دین کی محافظت اور طلب و بقانسل تھا۔ اس کو اللہ تعالیٰ بادشاہت کا تاج عطا فرمائے گا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل پر اس کو جنت میں بادشاہی عزت و عظمت کا تاج پہنائے گا یا یہ جملہ عزت و توقیر سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں عزت و توقیر عطا فرمائے گا روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ امام ترمذی نے اس حدیث کو معاذ بن انس ؓ سے نقل کیا ہو اور صرف وہ حصہ نقل کیا ہے جس میں لباس کا ذکر ہے، حدیث کا دوسرا جز کہ جس میں نکاح کا ذکر ہے انہوں نے نقل نہیں کیا۔
حق تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا اظہار ایک مطلوب عمل ہے
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله يحب أن يرى أثر نعمته على عبده . رواه الترمذي
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر دیکھا جائے۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو مادی نعمت عطا کرے تو چاہئے کہ وہ اس کو ظاہر کرے مثلاً وہ اپنی حیثیت کے مطابق اور مبالغہ و اسراف کی حد تک جائے بغیر اچھے کپڑے پہنے، لیکن اس کو خوش پوشا کی کسی غرور وتکبر اور اتراہٹ کے جذبہ سے نہیں ہونی چاہئے بلکہ شکر گزاری کی نیت سے ہونی چاہئے تاکہ فقراء محتاج، زکوٰۃ صدقات لینے کے لئے اس کی طرف رجوع کریں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو چھپانا اچھا نہیں ہے بلکہ کفران نعمت کا موجب ہے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو روحانی نعمت جیسے علم و فضل کی دولت اور بزرگی و شخصیت عطا فرمائے تو اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے سامنے اس نعمت کا اظہار کرے تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ اوپر کی حدیث میں تو ترک زینت کی طرف راغب کیا گیا ہے۔ اور اس حدیث میں خوش پوشا کی کی ذریعہ گویا زیب وزینت اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے اس صورت میں ان دونوں حدیثوں کے درمیان جو ظاہری تضاد محسوس ہوتا ہے، اس کے دفعیہ کے لئے کیا توجیہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اوپر کی حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ خوش پوشا کی کی حیثیت و استطاعت نہ ہو، چناچہ اس صورت میں ترک زینت کی طرف راغب کیا گیا ہے تاکہ اگر کسی شخص کو کسی موقع پر خوش پوشا کی کی ضرورت بھی لاحق ہو اور وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس مقصد کی تکمیل کے لئے غیر موزوں تکلیف و اہتمام کر کے اور ناروا زحمت برداشت کر کے اچھے کپڑے حاصل کرنے کی سعی نہ کرے، بلکہ صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے ترک زینت ہی پر عامل رہے اس کے برخلاف جو شخص عمدہ پوشاک پہننے اور لباس کی نفاست و لطافت کو اختیار کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور وہ اس کے باوجود ترک زینت ہی کو اپنا معمول کی بنا پر پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پر قناعت کئے رہے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کی یہ عادت اصل میں بخل و خست پر محمول ہوگی۔
جسم ولباس کی درستگی اور صفائی ستھرائی پسندیدہ چیز ہے
وعن جابر قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم زائرا فرأى رجلا شعثا قد تفرق شعره فقال : ما كان يجد هذا ما يسكن به رأسه ؟ ورأى رجلا عليه ثياب وسخة فقال : ما كان يجد هذا ما يغسل به ثوبه ؟ . رواه أحمد والنسائي
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ ملاقات کی غرض سے ہمارے پاس تشریف لائے تو وہاں آپ ﷺ نے ایک پراگندہ بال شخص کو دیکھا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا اس شخص کو وہ چیز یعنی کنگھی وغیرہ میسر نہیں ہے جس کے ذریعہ یہ اپنے بالوں کو درست کرسکے، اسی طرح آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص شخص کو دیکھا جس کے بدن پر میلے کچیلے کپڑے تھے تو فرمایا کہ کیا اس شخص کو وہ چیز یعنی صابون یا پانی میسر نہیں ہے جس سے یہ اپنے کپڑوں کو دھو ڈالے۔ (احمد، نسائی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسم کی درستی و نفاست اور لباس کی صفائی و ستھرائی آنحضرت ﷺ کے نزدیک پسندیدہ تھی اور اس کا برعکس ناپسندیدہ مکروہ کیونکہ یہ چیزیں تہذیب و شائستگی کی علامت بھی ہیں اور اسلام کی روح پاکیزگی کے عین مطابق بھی۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی البذاذۃ من الایمان (یعنی لباس کی سادگی اور ترک زینت حسن ایمان کی علامت ہے) کی مراد چونکہ موٹے چھوٹے کپڑے پر قناعت کرنا ہے اس لئے یہ بات نہ تو مذکورہ بالا روایت کے منافی ہے اور نہ اس نظافت و پاکیزگی کے خلاف ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انہا من الذین (یعنی وہ نظافت و پاکیزگی) دین کا ایک جز ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت عطا کی ہے تو اس کو اپنی پوشاک سے ظاہر کرو
وعن أبي الأحوص عن أبيه قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي ثوب دون فقال لي : ألك مال ؟ قلت : نعم . قال : من أي المال ؟ قلت : من كل المال قد أعطاني الله من الإبل والبقر والخيل والرقيق . قال : فإذا آتاك الله مالا فلير أثر نعمة الله عليك وكرامته . رواه أحمد والنسائي وفي شرح السنة بلفظ المصابيح
اور حضرت ابوالاحوص اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایسی حالت میں حاضر ہوا کہ میرے بدن پر خراب و خستہ کپڑے تھے آپ صلی اللہ علیہ نے یہ دیکھ کر مجھ سے فرمایا کہ تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہر قسم کا مال ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ گائیں اور بکریاں بھی عطا کی ہیں اور گھوڑا اور غلام بھی دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنا زیادہ مال دیا ہے تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمت کا اثر ظاہر ہو اور تمہیں اللہ نے جس عزت و عظمت سے نوازا ہے وہ عیاں ہو (نسائی) اور شرح السنہ نے اس روایت کو مصابیح کی روایت سے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے عبادت تو دونوں کی مختلف ہے لیکن دونوں کا مضمون ایک ہی ہے،
تشریح
مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنا کچھ دیا ہے اور تم اچھا لباس پہن سکتے ہو تو پھر تم اچھے کپڑے زیب تن کرو تاکہ لوگ جانیں کہ تم مالدار ہو اللہ کی نعمت کا اظہار کرنے کے لئے خوش پوشا کی اچھے صاف ستھرے اور نئے کپڑے پہننے سے حاصل ہوتی ہے بشرطیکہ وہ کپڑے اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق ہوں اور یہ کہ وہ تو اتنے باریک اور مہین ہوں جس کی ممانعت منقول ہے اور نہ اتنے زیادہ نفیس و عمدہ ہوں جس سے بیجا شان و شوکت کا اظہار ہو اسی طرح وہ کپڑے اوپر تلے یعنی ایک لباس کے اوپر تلے یعنی ایک لباس کے اوپر دوسرا لباس نہ پہنا گیا ہو۔ منقول ہے آنحضرت ﷺ لباس کے تئیں دونوں شہرتوں سے منع فرماتے تھے یعنی باریک کپڑے سے بھی اور موٹے کپڑے سے بھی اور سخت کپڑے سے بھی اور لمبے کپڑے سے بھی اور چھوٹے کپڑے سے بھی۔ الاّ یہ کہ وہ کپڑا درمیانی درجہ کا ہو۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ کپڑے کی کہنگی یعنی کپڑے کا پرانا ہونا اور اس میں پیوند لگا ہوا ہونا ایک پسندیدہ محمود چیز ہے اور افعال ایمان میں سے ہے بشرطیکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دنیا میں زہد وفقر اور تواضع و انکسار اختیار کرنے کے مخلصانہ جذبہ سے ہو اور اگر حیثیت و استطاعت کے باوجود یہ (یعنی کپڑے کا پرانا و خستہ و پیوند لگا ہوا ہونا) بخل و خست کی بنا پر ہوگا تو اس کو قبیح و مذموم کہیں گے۔
مردوں کے لئے سرخ کپڑا پہننا حرام ہے۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : مر رجل وعليه ثوبان أحمران فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فلم يرد عليه . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص دو سرخ کپڑے پہنے ہوئے گزرا اور نبی کریم ﷺ کو سلام کیا آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
یہ حدیث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو سرخ کپڑا پہننا حرام ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو شخص کسی ممنوع چیز کا مرتکب ہو اور وہ سلام کرے تو وہ سلام کا جواب دیئے جانے اور تکریم و توقیر کئے جانے کا مستحق نہیں ہے! جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ریشمی کپڑے پر بیٹھنا بھی صاحبین اور تینوں اماموں کے نزدیک مکروہ ہے لیکن حضرت امام اعظم کے نزدیک جائز ہے اور صاحبین کے نزدیک مکروہ ہے۔
وعن عمران بن حصين أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال : لا أركب الأرجوان ولا ألبس المعصفر ولا ألبس القميص المكفف بالحرير وقال : ألا وطيب الرجال ريح لا لون له وطيب النساء لون لا ريح له . رواه أبو داود
اور حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں ارغوانی یعنی سرخ رنگ ازین پوش پر سوار نہیں ہوتا نہ میں کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہنتا ہوں اور نہ میں ایسا پیرہن (کرتا وغیرہ) پہنتا ہوں جس پر ریشمی سنجاف (یعنی ریشمی گوٹ و بیل وغیرہ) لگی ہو۔ اور پھر فرمایا یاد رکھو! مرد جو خوشبو لگائیں وہ ایسی ہونی چاہئے جس میں مہک تو ہو رنگ نہ ہو جیسے گلاب اور عطر وغیرہ تاکہ رنگ دار خوشبو لگانے سے کپڑے رنگین نہ ہوجائیں اور عورتیں جو خوشبو لگائیں وہ ایسی ہونی چاہئے جس میں رنگ تو ہو مہک نہ ہو جیسے زعفران و مہندی وغیرہ تاکہ ان کی مہک باہر نکل کر مردوں کے لئے فتنہ و ابتلاء کا سبب نہ بن جائے۔ (ابو داؤد)
تشریح
ارجوان (الف و جیم کے پیش اور راء کے سکون کے ساتھ) کے معنی ہیں سرخ رنگ کی ریشمی پوش مطلب یہ ہے کہ میں سواری کے کسی ایسے جانور پر نہیں بیٹھتا جس کی زین (پالان) کے اوپر سرخ ریشمی کپڑا پڑا ہو اور نہایہ میں یہ لکھا ہے کہ ارجوان اصل میں ارغوان کا معرب ہے اور ارغوان اس درخت کو کہتے ہیں اور قاموس میں یہ لکھا ہے کہ ارجوان سرخ رنگ کو کہتے ہیں بہرحال ملا علی قاری کے مطابق حدیث میں ارجوان سے مراد سرخ رنگ کا کپڑا ہے خواہ وہ ریشمی ہو یا غیر ریشمی اور گویا یہ ارشاد گرامی اپنے مفہوم کے اعتبار سے اس حکم کو زیادہ سے زیادہ تاکید کے ساتھ واضح کر رہا ہے کہ مردوں کو سرخ رنگ کا لباس پہننے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اگرچہ سوار ہونے پر پہننے کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود أنحضرت ﷺ جب رنگ کے زین پوش پر سوار ہونے سے اجتناب کرتے تھے تو سرخ رنگ کا کپڑا پہننے سے تو آپ ﷺ بطریق اولی اجتناب کرتے ہوں گے اور نہ میں ایسا پیرہن پہنتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں ایسا کرتا یا جبہ نہیں پہنتا جس میں ریشمی سنجاف چار انگشت سے زیادہ ہو یا یہ کہ یہ ارشاد گرامی تقویٰ اور احتیاط پر محمول ہے۔ جس میں رنگ تو ہو مہک نہ ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے گھر سے باہر نکلتے وقت ایسی کوئی چیز استعمال کرنی درست نہیں ہے جس میں مہک اور خوشبو ہو ہاں۔۔۔۔۔۔ گھر کے اندر رہتے ہوئے اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حدیث میں خوشبو کے سلسلے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا ظاہری اسلوب بیان خبر کا ہے لیکن معنی میں امر یعنی حکم کے ہے جس کا مطلب یہ ہے جیسا کہ ترجمہ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ مرد جو خوشبو استعمال کریں اس میں رنگ کی آمیزش نہ ہونی چاہئے، اس کے برخلاف عورت جو خوشبو استعمال کرے اس میں مہک نہ ہونی چاہئے، اسی طرح شمائل ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ مردوں کی خوشبو ایسی چیز ہونی چاہئے جس سے مہک تو نکلتی ہو لیکن اس کا رنگ ظاہر نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو ایسی چیز ہونی چاہئے جس کا رنگ تو ظاہر ہو لیکن اس سے مہک نہ نکلتی ہو۔ اس روایت کا مطلب بھی وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ عورت گھر سے باہر نکلتے وقت کوئی ایسی چیز استعمال نہ کرے جس کی مہک پھیلتی ہو کیونکہ اگر یہ مطلب نہ لیا جائے تو عبارت کا مفہوم اس لئے غیر واضح ہوجائے گا کہ کوئی بھی خوشبو بغیر مہک کے نہیں ہوسکتی اس صورت میں اس کی طرف مہک کی نسبت غیر ضروری اور بےفائدہ ہوگی اور اگر یہ کہا جائے کہ کچھ خوشبوئیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں بالکل مہک نہیں ہوتی اور عورتوں کے لئے ایسی ہی خوشبوؤں کا استعمال جائز کیا گیا ہے تو یہ بات بالکل غیر حقیقی اور غیر صحیح ہوگی۔
وعن أبي ريحانة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر : عن الوشر والوشم والنتف وعن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار ومكامعة المرأة المرأة بغير شعار وأن يجعل الرجل في أسفل ثيابه حريرا مثل الأعاجم أو يجعل على منكبيه حرير مثل الأعاجم وعن النهبى وعن ركوب النمور ولبوس الخاتم إلا لذي سلطان . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے دانتوں کو تیز کرنے سے، جسم کے کسی حصہ کو گودنے سے، بال اکھاڑ نے سے، مرد کو مرد کے ساتھ سونے سے اگر درمیان میں کپڑا حائل نہ ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ مرد اپنے کپڑے کے نیچے ریشم (کا استر) لگائے جیسا کہ عجمی لوگ لگاتے ہیں یا عجمی لوگوں کی طرح مونڈھوں پر ریشمی کپڑا لگائے اور آپ ﷺ نے کسی کا مال لوٹنے سے اور چیتے کی زین پر سونے سے منع فرمایا نیز آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مہر والی انگوٹھی پہنے الاّ یہ کہ وہ صاحب حکومت ہو۔ (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
عرب میں یہ دستور تھا کہ بوڑھی عورتیں، جوان عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے کے لئے اپنے دانت کے کناروں کو تیز اور باریک کیا کرتی تھیں لہٰذا آپ ﷺ نے اس نے منع فرمایا اسی طرح ایک رواج یہ بھی تھا کہ عورتیں اپنے جسم کے کسی بعض حصوں کو سوئی سے گود کر اس میں نیل یا سرمہ بھر دیتی تھیں (جیسا کہ ہمارے یہاں بھی بعض غیر مسلم میں یہ دستور ہے کہ جسم کے کسی حصہ خاص طور سے ہاتھ پر نام وغیرہ گودتے ہیں) آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا۔ بال اکھاڑنے سے منع فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ آرائش وزینت کی خاطر داڑھی اور سر کے سفید بال چننا ممنوع ہے یا یہ کہ عورتوں کا اپنے چہرہ یعنی پیشانی کے بال چننا ممنوع ہے ان چیزوں کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر کرنا لازم آتا ہے دوسرے یہ چیزیں آرائش وزینت کے لئے بےجا اور برے قسم کے تکلفات کا مرتکب ہونے کا باعث ہیں اگرچہ زیب وزینت اختیار کرنا عورتوں کے لئے جائز ہے مگر اس طرح کے مذموم تکلفات ان کے لئے بھی ممنوع ہیں۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں بال اکھاڑنے سے مراد یہ ہے کہ کسی حادثہ و مصیبت کے وقت شدت جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے سر اور داڑھی کے بال نوچنا ممنوع ہے۔ مرد کا مرد کے ساتھ سونے۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب حدیث کے ظاہری مفہوم کے مطابق تو یہی ہے کہ دو مرد ایک کپڑے (یعنی ایک چادر و لحاف وغیرہ میں ) اس طرح سوئیں کہ دونوں بالکل ننگے ہوں، یا ان کے صرف ستر ڈھکے ہوئے ہوں تو یہ بالکل ممنوع ہے یا یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق صرف اس صورت سے ہو جب کہ دونوں کے ستر بھی ڈھکے ہوئے نہ ہوں یہی دونوں احتمال عورتوں کے بارے میں بھی ہیں اگر وہ عورتوں کا باہم اس طرح سونا کسی فتنہ و شرانگیزی کا خوف نہ ہو تب بھی یہ صورت تہذیب و شائستگی اور ادب و اخلاق کے منافی اور بےحیائی و بےشرمی کی غماز تو بہر حال ہو ہی گی۔ مرد اپنے کپڑے کے نیچے ریشم کا استر لگائے کا مطلب یہ ہے کہ ریشم کا کپڑا پہننا مرد کے لئے قطعا حرام ہے خواہ وہ کپڑا ایسے لباس کی صورت میں کیوں نہ ہو کہ اس کے اوپر کا حصہ سوتی اور اس کا استر ریشمی ہو یا اس کے اوپر کا حصہ تو ریشمی ہو اور اس کا استر سوتی ہو چناچہ صحیح قول یہی ہے۔ مونڈھوں پر ریشمی کپڑا لگانے کا مطلب یہ ہے کہ کرتے یا جبہ وغیرہ کے مونڈھوں پر بطور سنجاف (بیل) ریشمی کپڑا لگانا یا ریشم کا کام کرنا ایسی صورت میں جائز ہے جب کہ اس کی مقدار چار انگشت تک ہو، چار انگشت سے زائد کی صورت میں ممنوع ہوگا نیز ہوسکتا ہے کہ اس جملہ سے یہ مراد ہو کہ کاندھوں پر دوپٹے کی طرح از راہ تکبر و اتراہٹ ریشمی کپڑا ڈالنا ممنوع ہے۔ چیتے کی کھال کی زین پر سوار ہونے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس میں متکبرین کی مشابہت ہے۔ بعض مشائخ نے کہا ہے کہ چوپایوں اور درندوں کی کھال پر بیٹھنے سے ان چوپایوں و درندوں کی خاصیتیں جیسے وحشت و درندگی وغیرہ سرایت کر جاتی ہیں۔ الاّ یہ کہ وہ صاحب حکومت ہو۔ یعنی جیسے بادشاہ، قاضی اور حاکم وغیرہ۔ حاصل یہ کہ مہر والی انگوٹھی کو بلا ضرورت کے محض زینت کی خاطر پہننا مکروہ تنزیہی ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے بایں دلیل کہ حضرت عمر ؓ اور دوسرے خلفاء کے زمانہ میں صحابہ مہر والی انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور کوئی اس کو خلاف نہیں کہتا تھا۔
مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشمی کپڑا حرام ہے
وعن علي قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن لبس القسي والمياثر . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه وفي رواية لأبي داود قال : نهى عن مياثر الأرجوان
اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ کو سونے کی انگوٹھی اور قسی کے پہننے سے اور میاثر استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ، ) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت علی ؓ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے ارغوانی یعنی سرخ میاثر استعمال کرنے سے منع فرمایا۔
تشریح
مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننا چاروں اماموں کے نزدیک حرام ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض صحابہ جیسے حضرت طلحہ، حضرت سعد اور حضرت صہیب ؓ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہنی تھی تو اس کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب کہ یہ حرمت نافذ نہیں ہوئی تھی۔ قسی اصل میں اس کپڑے کو کہا جاتا تھا جو مصر کے ایک شہر قس میں تیار ہوتا تھا۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ قسی ایک خاص قسم کے کپڑے کو کہا جاتا تھا جس میں ریشمی دھاریاں ہوتی تھیں، اس صورت میں اس ممانعت کا تعلق احتیاط وتقویٰ کی بناء پر نہی تنزیہی سے ہوگا اور حضرت ابن مالک نے کہا ہے کہ مذکورہ ممانعت کا تعلق اس صورت میں سے ہے جب کہ وہ کپڑا یا تو پوری طرح کا ریشم کا ہو یا اس کے بانے میں ریشم ہو اس صورت میں یہ ممانعت نہی تحریمی کے طور پر ہوگی اور طیبی نے یہ کہا ہے کہ قسی جس کپڑے کو کہتے تھے وہ کتان کا ہوتا تھا جس میں ریشم بھی مخلوط ہوتا تھا۔ میاثر مثیر کی جمع ہے جو سرخ رنگ کے زین پوش کو کہتے ہیں اور عام طور پر ریشمی ہوتا تھا چناچہ اس ممانعت کا تعلق بھی اس صورت میں سے ہوگا جب کہ وہ ریشمی ہو، تاہم یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق اس کے سوتی ہونے کی صورت سے بھی ہو اس صورت میں یہ ممانعت اس کے بیجا قسم شان و شوکت اور اتراہٹ وتکبر میں مبتلا لوگوں کی مشابہت کے مظہر ہونے کی وجہ سے نہی تنزیہی کے طور پر ہوگی۔
خز اور چیتے کی کھال کے زین پوش پر سوار ہونے کی ممانعت
وعن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تركبوا الخز ولا النمار . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ خز اور چیتے کی کھال کے زین پوش پر سوار نہ ہوا کرو ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
خز پچھلے زمانہ میں اس کپڑے کو کہتے تھے جو اون اور ریشم ملا کر بنا جاتا تھا اور ایک طرح کے خالص ریشمی کپڑے کو بھی خز کہتے ہیں چناچہ اگر خز سے وہ کپڑا مراد ہو جس میں اون اور ریشم دونوں ہوتے تھے تو ان عجمیوں کی مشابہت کی بنیاد پر جواز راہ تکبر خز کو زین پر ڈالتے تھے نہ ممانعت نہی تنرہیی کے طور پر ہوگی کیونکہ اس خز کا پہننا مباح ہے چناچہ صحابہ اور تابعین اس کو پہنا کرتے تھے اور اگر خز سے مراد خالص ریشمی کپڑا ہو تب یہ ممانعت نہی تحریمی یعنی حرمت کے طور پر ہوگی۔ واضح رہے کہ ایک دوسری روایت میں جو آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ آخر زمانہ میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو خز اور حریر (ریشمی لباس) کو حلال جانیں گے تو اس میں خز سے وہی خالص ریشمی کپڑا مراد ہے۔ چناچہ علماء نے لکھا ہے کہ زمانہ نبوت میں اس کپڑے (یعنی وہ خز جو خالص ریشم کا ہوتا ہے کا وجود نہیں تھا اس صورت میں یہ ارشاد گرامی آپ ﷺ کے معجزہ پر محمول ہوگا کہ آپ ﷺ نے ایک ایسے کپڑے کے بارے میں آگاہ کیا جو بہت بعد کے زمانہ میں وجود پزیر ہونے والا تھا۔
وعن البراء بن عازب : أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الميثرة الحمراء . رواه في شرح السنة
حضرت براء ابن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ (شرح السنۃ)
آنحضرت ﷺ کے بالوں کی سفیدی
وعن أبي رمثة التيمي قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوبان أخضران وله شعر قد علاه الشيب وشيبه أحمر . رواه الترمذي وفي رواية لأبي داود : وهو ذو وفرة وبها ردع من حناء
اور حضرت ابورمثہ تیمی ؓ کہتے ہیں کہ جب میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ ﷺ کے بدن پر دو سبز کپڑے تھے یعنی آپ ﷺ نے جو دو کپڑے پہن رکھے تھے وہ یا تو خالص سبز رنگ کے تھے یا ان میں سبز رنگ کی دھاریاں تھیں اور آنحضرت ﷺ کے سر اور داڑھی کے تھوڑے ہی بالوں پر بڑھاپے (یعنی سفیدی) کا غلبہ تھا، نیز آپ کا بڑھاپا سرخ تھا۔ (ترمذی، ) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ وفرہ والے تھے اور ان (بالوں) میں مہندی کا رنگ تھا۔
تشریح
آنحضرت ﷺ کے سفید بالوں کی مقدار کے بارے میں مختلف روایتیں منقول ہیں، چناچہ ایک روایت میں حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے سر اور داڑھی کے سفید بالوں کو گنا تو وہ چودہ سے زیادہ نہیں تھے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت یہ کہ آنحضرت ﷺ پر بڑھاپے کا اثر تقریبا بیس سفید بالوں سے زیادہ نہیں تھا، اس طرح ایک روایت میں سترہ کی تعداد آئی ہے وفرہ اصل میں سر کے ان بالوں کو کہتے ہیں جو کانوں کی لو تک ہوں لہٰذا آنحضرت ﷺ وفرہ والے تھے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے سر کے بال کان کی لو تک تھے۔ آپ ﷺ کا بڑھاپا سرخ تھا کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے جو چند بال ان پر آپ ﷺ مہدی کا خضاب کئے ہوئے تھے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ سرخ بڑھاپے سے مراد یہ ہے کہ وہ چند بال بھی بالکل سفید نہیں تھے بلکہ مائل بہ سرخی تھے جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب بال سفید ہونے لگتے ہیں تو وہ پہلے بھورے ہوتے ہیں اور پھر سفید ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کے خضاب کرنے کا تعلق ہے تو اس بارے میں محدیثین اور فقہا کے درمیان اختلاف ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خضاب کیا ہے یا نہیں؟ چناچہ اکثر م حدیثیں یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خضاب نہیں کیا ہے اور نہ آپ ﷺ کا بڑھاپا سفید بالوں کی اس حد تک پہنچا تھا کہ آپ ﷺ کو خضاب کرنے کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے پھر آپ ﷺ کے جو چند بال سفید تھے ان کی بھی صورت یہ تھی کہ اگر آپ ﷺ سر کو تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی ظاہر نہیں ہوتی تھی اور جب سر بغیر تیل کے ہوتا تو وہ سفید بال ظاہر رہتے! اس کے برخلاف فقہاء اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ ﷺ خضاب لگاتے تھے اس کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ محدثین اس حدیث کے بارے میں جو اوپر نقل ہوئی ہے یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہی مفہوم ہوتا ہے کہ جو چند بال سفید تھے آپ ﷺ صرف انہی پر خضاب کرتے تھے لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ آپ ﷺ ان بالوں پر بھی قصدا خضاب نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ آنحضرت ﷺ اپنے بالوں کو دھونے اور ان کو صاف کرنے کے لئے کبھی کبھی سر میں مہندی ڈال لیا کرتے تھے اسی کی وجہ سے وہ سفید بال رنگین ہوجاتے تھے، ایک روایت میں جو یہ منقول ہے کہ حضرت انس ؓ کے پاس آنحضرت ﷺ کا جو موئے مبارک تھا وہ (دیکھنے والوں کو) ایسا نظر آتا تھا جیسے اس پر مہندی کا خضاب کیا گیا ہو تو اس کے بارے میں محدثین یہ کہتے ہیں کہ بیشک اس بال پر خضاب کا اثر تھا لیکن وہ خضاب آنحضرت ﷺ نے نہیں کیا تھا بلکہ اس کی حقیقت یہ تھی کہ حضرت انس ؓ چونکہ ادب و تعظیم و تبرک کے طور پر اس بال کو خوشبوؤں میں ڈال کر رکھتے تھے اس لئے وہ ان خوشبوؤں کے رنگ کے اثر سے خضاب کے مشابہ نظر آتا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود حضرت انس ؓ نے اس بال کی حفاظت و مضبوطی کے لئے اس پر خضاب کردیا ہو اسی طرح بعض روایت میں جو یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی سرخ خضاب کرتے تھے اور کبھی زرد تو اس کی حقیقیت بھی یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی ریش مبارک کو صفائی و ستھرائی کے لئے مہندی کے ساتھ دھوتے تھے اور کبھی زعفران کے ساتھ چناچہ ریش مبارک کے بال جو بذات خود سیاہ تھے اس طرح دھوئے جانے کی وجہ سے رنگین ہوجاتے تھے۔
وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان شاكيا فخرج يتوكأ على أسامة وعليه ثوب قطر قد توشح به فصلى بهم . رواه في شرح السنة
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی بیماری کے زمانہ میں اس حالت میں باہر (مسجد میں) تشریف لائے کہ اسامہ پر سہارا دیئے ہوئے تھے اور بدن مبارک پر قطر کا کپڑا تھا جس کو آپ ﷺ نے بدھی کی طرح لپیٹ رکھا تھا اور پھر آپ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ (شرح السنۃ)
تشریح
قطر ایک قسم کی چادر کو کہتے ہیں جس میں سرخ رنگ کی دھاریاں ہوتی ہیں اور اس کا کپڑا کچھ کھرا کھرا ہوتا ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جس کپڑے کا ذکر کیا گیا ہے وہ قطر کا تھا جو بحرین کے علاقہ میں ایک بستی کا نام ہے اسی مناسبت سے اس کپڑے کو قطری کہا گیا ہے۔ حضرت انس ؓ نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے یہ اس وقت کا ہے جب آپ ﷺ مرض الموت میں مبتلا تھے چناچہ حضرت محمد ﷺ کی آخری نماز تھی جو آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں ادا کی روایت میں منقول ہے کہ اس وقت حضرت ابوبکر ؓ صحابہ کو نماز پڑھانا شروع کرچکے تھے کہ آنحضرت ﷺ مرض اور نقاہت کی وجہ سے حضرت اسامہ ؓ کا سہارا لئے ہوئے حجرہ مبارک سے نکل کر مسجد میں تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے اور نماز پڑھائی، چناچہ اس واقعہ کی پوری تفصیل کتاب الصلوۃ کے باب الامامت میں گزر چکی ہے۔
ایک یہودی کی شقاوت کا ذکر
وعن عائشة قالت : كان على النبي صلى الله عليه وسلم ثوبان قطريان غليظان وكان إذا قعد فرق ثقلا عليه فقدم بز من الشام لفلان اليهودي . فقلت : لو بعثت إليه فاشتريت منه ثوبين إلى الميسرة فأرسل إليه فقال : قد علمت ما تريد إنما تريد أن تذهب بمالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كذب قد علم أني من أتقاهم وآداهم للأمانة . رواه الترمذي والنسائي
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک زمانہ میں نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک پر جو دو کپڑے تھے وہ قطر کے تھے اور بہت زیادہ موٹے تھے چناچہ جب آپ ﷺ زیادہ دیر تک بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ کپڑے آپ ﷺ کے بدن پر بھاری ہوجاتے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کو تکلیف اٹھانی پڑتی آخر کار ایک دن جب کہ فلاں یہودی کے ہاں جس کا نام یہاں ذکر نہیں کیا گیا ہے شام سے کپڑا آیا ہوا تھا تو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ ﷺ کسی شخص کو اس یہودی کے پاس بھیج دیتے جو اس سے بوعدہ فراغت یعنی اس وعدہ پر کہ جب کہیں سے کچھ آجائے گا تو قیمت ادا کردی جائے گی دو کپڑے خرید لیتا تو اچھا ہوتا تاکہ آپ ﷺ اس تکلیف سے بچ جائیں جو ان کپڑوں کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہی ہے آنحضرت ﷺ نے میرے اس مشورہ کو قبول فرما لیا اور کسی شخص کو مذکورہ وعدہ پر کپڑا خریدنے کے لئے اس یہودی کے پاس بھیج دیا اس شخص نے یہودی کے پاس پہنچ کر جب کپڑا مانگا تو اس نے کہا کہ تمہارا جو ارادہ ہے اس کو میں جانتا ہوں تم اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے کہ اس وقت تو وعدہ پر میرا کپڑا لے جاؤ اور پھر قیمت ادا کرنے سے انکار کردو بظاہر ان الفاظ کا مخاطب وہ شخص تھا، لیکن حقیقت میں اس کا خطاب آنحضرت ﷺ سے تھا پھر اس شخص نے واپس آ کر جب آنحضرت ﷺ سے یہودی کا قول نقل کیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس یہودی نے جھوٹ بولا ہے اور وہ خود بھی جانتا ہے کہ اس نے بالکل جھوٹ بات اپنی زبان سے نکالی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ (تورات کے ذریعہ) یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ متقی و پرہیز گار ہوں اور ان سے زیادہ اچھی طرح امانت ادا کرنے والا ہوں۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے موٹا کپڑا پہنا لیکن جب اس کپڑے کی وجہ سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی راحت اور آسودگی کی خاطر دوسرے کپڑے قرض خریدنے کا ارادہ فرمایا اسی طرح اس حدیث سے اس یہودی کی شقاوت بھی ظاہر ہوئی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے تئیں کس قدر بغض و نفرت کا شکار تھا۔
مرد کو کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہننا ممنوع ہے
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي ثوب مصبوغ بعصفر موردا فقال : ما هذا ؟ فعرفت ما كره فانطلقت فأحرقته فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ما صنعت بثوبك ؟ قلت : أحرقته قال : أفلا كسوته بعض أهلك ؟ فإنه لا بأس به للنساء . رواه أبو داود
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے مجھ کو کسم کا رنگا ہوا گلابی رنگ کا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ میں اس ارشاد گرامی سے سمجھ گیا کہ آپ ﷺ نے میرے اس کپڑے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے چناچہ میں فوراً گیا اور اپنے اس کپڑے کو جلا ڈالا، پھر جب میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو) آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ تم نے اپنے اس کپڑے کا کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اس کو جلا ڈالا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کپڑے کو اپنی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کے لئے اس قسم کے کپڑے میں کوئی حرج نہیں۔ (ابوداؤد )
سرخ دھاری دار چادر کا ذکر
وعن هلال بن عامر عن أبيه قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسلم بمنى يخطب على بغلة وعليه برد أحمر وعلي أمامه يعبر عنه . رواه أبو داود
اور حضرت بلال ابن عامر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ ﷺ خچر پر سوار تھے اور جسم مبارک پر سرخ (دھاریوں کی) چادر تھی، نیز حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے سامنے کھڑے تھے جو آپ ﷺ کے الفاظ لوگوں تک پہنچا رہے تھے! (ابوداؤد)
تشریح
چونکہ اس موقع پر لوگوں کا بہت ہجوم تھا اور آنحضرت ﷺ کی آواز مبارک مجمع میں دور والوں تک نہیں پہنچ رہی تھی اس لئے حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کے الفاظ بلند آواز میں دوہرا کر لوگوں کو سمجھاتے جاتے تھے۔
وعن عائشة قالت : صنعت للنبي صلى الله عليه وسلم بردة سوداء فلبسها فلما عرق فيها وجد ريح الصوف فقذفها . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے لئے سیاہ چادر تیار کی گئی جس کو آپ ﷺ نے استعمال فرمایا لیکن جب اس کی وجہ سے پسینہ آیا اور اس میں سے اون کی بو نکلنے لگی تو آپ ﷺ نے الطافت طبع کی ناگواری کی بنا پر اس چادر کو پھینک دیا!۔ (ابو داؤد )۔
آنحضرت ﷺ کے گوٹ مار کر بیٹھنے کا ذکر
وعن جابر قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو محتب بشملة قد وقع هدبها على قدميه . رواه أبو داود
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ ﷺ ایک چادر کے ذریعہ گوٹ مارے ہوئے بیٹھے تھے اور اس چادر کے کنارے آپ ﷺ کے قدموں پر پڑے ہوئے تھے! (ابوداؤد)
تشریح
گوٹ مار کر بیٹھنا اس نشست کو کہتے ہیں جس میں کو لھے زمین پر ٹیک کر دونوں گھٹنے کھڑے کرلیتے ہیں اور سہارے کے لئے دونوں ہاتھ یا کوئی کپڑا گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیتے ہیں۔
عورتیں باریک کپڑا کس طرح پہنیں
وعن دحية بن خليفة قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بقباطي فأعطاني منها قبطية فقال : اصدعها صدعين فاقطع أحدهما قميصا وأعط الآخر امرأتك تختمر به . فلما أدبر قال : وأمر امرأتك أن تجعل تحته ثوبا لا يصفها . رواه أبو داود
اور حضرت دحیہ بن خلیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کے پاس قبطی کپڑے آئے تو آپ ﷺ نے اس میں سے ایک قبطی کپڑا مجھ کو عطا کیا اور فرمایا کہ اس کو پھاڑ کردو ٹکڑے کرلینا، ان میں سے ایک کا کرتہ بنا لینا اور دوسرا اپنی عورت کو دے دینا وہ اس کا دوپٹہ بنا لے گی۔ پھر جب دحیہ یعنی میں واپس ہونے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنی عورت کو ہدایت کردینا کہ اس قبطی کپڑے کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ اس کپڑے کے باریک ہونے کی وجہ سے اس کے بال اور جسم نظر نہ آئے۔ (ابوداؤد)
تشریح
قباطی اصل میں قبطیہ کی جمع ہے، قبطیہ ایک خاص قسم کے کپڑے کو کہتے ہیں جو سفید اور مہین ہوتا تھا اور مصر میں بنا کرتا تھا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کوئی ایسا کپڑا پہننا چاہے جس کے نیچے بدن جھلکتا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ خالی وہی کپڑا نہ پہنے بلکہ کپڑے کے نیچے کوئی اور کپڑا لگا لے تاکہ اس کا بدن نہ جھلکے۔
دوپٹہ کا سر پر ایک ہی پیچ ڈالنا کافی ہے
وعن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وهي تختمر فقال : لية لا ليتين . رواه أبو داود
اور حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ اس وقت دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوپٹہ کا ایک ہی سر پر ڈال لیتیں دوسرے پیچ کی ضرورت نہیں تھی۔ (ابوداؤد )
تشریح
مطلب یہ تھا کہ دوپٹہ کا سر پر اور گلے کے نیچے ایک ہی پھیر ڈالا کرو دو پھیر نہ دو تاکہ اسراف لازم نہ آئے اور مردوں کے عمامہ کی مشابہت بھی نہ ہو اور یہ بھی محتمل ہے بلکہ یہی زیادہ صحیح ہے کہ یہاں پیچ سے مراد سر پر کپڑا لپیٹنا ہو، جیسا کہ پچھلے زمانہ کی عرب عورتوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے سر کو عصابہ (عورتوں کے سر پر باندھنے کا ایک خاص قسم کا رومال) کی طرح کپڑے لپیٹے رہا کرتی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے واضح فرمایا کہ دوپٹہ کا پس ایک پیچ کافی ہے، دوپٹہ کو سر پر زیادہ نہ لپیٹو تاکہ اسراف کی صورت بھی پیدا نہ ہو اور مردوں کی پگڑی کی مشابہت بھی لازم نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ مردوں جیسا لباس پہنیں اور ان کی مشابہت اختیار کریں جس طرح کہ مردوں کیلئے عورتوں جیسا لباس پہننا اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا درست نہیں ہے۔