لباس کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 140 · 205 hadiths · Page 2 of 11

4222Mishkaat-al-Masabih

کسی عذر کی بنا پر ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے

وعن أنس قال : رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير وعبد الرحمن بن عوف في لبس الحرير لحكة بهما وفي رواية لمسلم قال : إنهما شكوا من القمل فرخص لهما في قمص الحرير

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دے دی کیونکہ ان کے خارش ہوگئی تھی (اور یہ خارش جوئیں پڑجانے کی وجہ سے تھی جیسا کہ آگے کی روایت سے معلوم ہوگا) (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ ان دونوں (حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمن ؓ نے جوئیں پڑجانے کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دے دی۔ تشریح موجز میں لکھا ہے کہ ریشم اپنی اصل کے اعتبار سے گرم اور مفرح ہوتا ہے اور ریشمی کپڑا پہننے سے جوئیں ختم ہوجاتی ہیں۔

4223Mishkaat-al-Masabih

کسم کا رنگا ہوا کپڑا نہ پہنو

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم علي ثوبين معصفرين فقال : إن هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها وفي رواية : قلت : أغسلهما ؟ قال : بل احرقها . رواه مسلم وسنذكر حديث عائشة : خرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات غداة في باب مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ کو کسم کے رنگے ہوئے دو کپڑوں میں دیکھا تو فرمایا کہ۔ یہ کافروں کا لباس ہے (کہ نہ وہ حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں اور نہ مرد و عورت کے لباس میں فرق کرتے ہیں) لہٰذا تم ان کو نہ پہنو۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں نے عرض کیا کہ کیا ان کو دھو ڈالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (نہیں) بلکہ جلا ڈالو۔ (مسلم) اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت خرج النبی ﷺ ذات غداۃ الخ انشاء اللہ ہم مناقب اہل بیت نبوی ﷺ کے باب میں نقل کریں گے۔ تشریح شارحین نے لکھا ہے کہ جلا ڈالنے سے آنحضرت ﷺ کی مراد اس بات کو مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا تھا کہ ان کپڑوں کو کسی بھی صورت سے اپنی ملکیت اور اپنے قبضے سے نکال دو، خواہ اس کو کسی دوسرے کے ہاتھ بیچ دو، یا کسی کو ہبہ کردو غرض کہ جس طرح بھی ہو ان کو اپنے پاس سے جدا کردو۔ جہاں تک اس باب کا تعلق ہے کہ آپ ﷺ نے ان کپڑوں کو دھو ڈالنے کا حکم کیوں نہیں دیا تو اس کا سبب یہ تھا کہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا اگرچہ مردوں کے لئے حرام و مکروہ ہے لیکن عورتوں کے لئے مکروہ نہیں ہے لہٰذا اس کو دھو ڈالنے کی صورت میں گویا اپنے مال کو ناقص کردینا یا ضائع کر ڈالنا تھا اس لئے آپ ﷺ نے مذکورہ حکم کے ذریعہ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان کپڑوں کو چاہئے اپنی عورتوں کو دے دو چاہے بیچ ڈالو اور چاہے دوسروں کی عورتوں کو ہبہ کردو کہ وہ ان کپڑوں سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو بہ نظر ظاہر یہ حکم دیا گیا اور انہوں نے ان کپڑوں کو جلا دیا۔ اور پھر جب اگلے دن وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کے بارے میں عرض کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے وہ کپڑے اپنی عورتوں کو کیوں نہیں پہنا دیئے کیونکہ ایسے کپڑوں کا پہننا عورتوں کے لئے درست ہے۔ اس روایت کی بنا پر شارحین نے جلا ڈالنے کو اس کے ظاہری حکم کے خلاف پر محمول کیا ہے اور بعض حضرات نے جو یہ کہا ہے کہ جلا ڈالنے کا حکم اصل میں اس بات کو مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا ہے کہ ان کپڑوں سے کسم کے رنگ کو ختم کردیا جائے تو یہ قول روایت کے مفہوم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور روایت کے بھی خلاف ہے۔ واضح رہے کہ مردوں کو کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، بعض علماء اس کو مطلق حرام کہتے ہیں اور بعض حضرات مباح کہتے ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر کپڑے کو بننے کے بعد کسم میں رنگا گیا ہو تو اس کا پہننا حرام ہوگا اور اگر سوت کو رنگنے کے بعد اس کا کپڑا بنا گیا ہو تو اس کا پہننا مباح ہوگا، بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر اس (کسم) کی بو زائل ہوگئی تو مباح ہوگا ورنہ حرام اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ کسم کے رنگے ہوئے کپڑوں کو مجلسوں وغیرہ میں پہننا تو مکروہ ہے، البتہ اگر گھر میں پہنا جائے تو درست ہے جہاں تک حنیفہ کا تعلق ہے تو ان کے مسلک میں مختار قول یہ ہے کہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ تحریمی ہے اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ کسم کے علاوہ دوسرے سرخ رنگ کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں شیخ قاسم حنفی نے جو مصر کے متاخرین علماء حنیفہ میں بہت بڑی حیثیت کے مالک گزرے ہیں اور قسطلانی کے استاد ہیں، فتویٰ دیا ہے کہ اصل میں رنگ کے سبب سے ہے لہٰذا ہر سرخ رنگ مردوں کے لئے حرام و مکروہ ہے۔

4224Mishkaat-al-Masabih

کرتے کی فضیلت

عن أم سلمة قالت : كان أحب الثياب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم القميص . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تمام کپڑوں میں کرتا سب سے زیادہ پسند تھا۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح کرتے کی پسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس کے پہننے سے جسم کے اعضاء اچھی طرح ڈھک جاتے ہیں اور دوسرے وہ بہت ہلکا اور جسم کے لئے آرام دہ ہوتا ہے اور تیسرے یہ کہ کرتا پہننے سے آدمی متواضع و منکسر معلوم ہوتا ہے اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو چیز آنحضرت ﷺ کو پسندیدہ و مرغوب رہی ہوگی اس میں یقینا وہ اسرار و انوار ہوں گے جو اس کے علاوہ کسی چیز میں نہیں ہونگے جیسا کہ تمام مستحبات کا حکم ہے۔

4225Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے کُرتے اور اس کی آستینوں کی لمبائی

وعن أسماء بنت يزيد قالت : كان كم قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرصغ . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے کرتے کی آستینیں پہنچوں تک (بھی) تھیں۔ (ترمذی، ابوداؤد) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح بعض روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے کرتے کی آستینوں کا ہاتھ کی انگلیوں کے سر تک کی ہونا بھی منقول ہے، اسی طرح بعض روایتوں میں یہ بھی منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کرتا لمبائی میں ٹخنوں سے اونچا تھا۔

4226Mishkaat-al-Masabih

کپڑے کو دائیں طرف سے پہننا شروع کیا جائے

وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لبس قميصا بدأ بميامنه . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کرتا پہنتے تو دائیں طرف سے پہننا شروع کرتے۔ (ترمذی) تشریح میامن میمنہ کی جمع ہے جس کے معنی دائیں جانب کے ہیں، حدیث میں یہ لفظ جمع کے صیغہ کے ساتھ اس لئے لایا گیا ہے کہ کرتے کی دائیں جانب کا تعلق آستین اور کرتے کے نیچے تک کی بھی دوسری چیزوں جیسے گلے وغیرہ سے ہے۔

4227Mishkaat-al-Masabih

تہبند وپائجامہ کا نصف ساق تک ہونا اولیٰ ہے

وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين ما أسفل من ذلك ففي النار قال ذلك ثلاث مرات ولا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مؤمن کے تہبند و پائجامہ کی سب سے بہتر صورت تو یہ ہے کہ وہ آدھی پنڈلیوں تک ہو اور آدھی پنڈلیوں سے ٹخنوں تک (کے درمیان) ہونے میں ( بھی) کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اس (ٹخنے) سے نیچے جو حصہ (لٹکا ہوا) ہوگا وہ دوزخ کی آگ میں لے جائے گا۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین بار فرمائے۔ اور (پھر فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو (رحمت و عنایت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو غرور وتکبر سے اپنے تہبند و پائجامہ کو (ٹخنوں سے) نیچے لٹکائے گا۔ (ابوداؤد، ترمذی )۔

4228Mishkaat-al-Masabih

اسبال ہر کپڑے میں ممنوع ہے

وعن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الإسبال في الإزار والقميص والعمامة من جر منها شيئا خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه

اور حضرت سالم اپنے والد (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اسبال یعنی لٹکانا، ازار، کُرتے اور عمامے میں سے ہے جو شخص ان (کپڑوں) سے کچھ لٹکا کر غرور وتکبر سے کھینچے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (بنظر کرم) نہیں دیکھے گا )۔ (ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ) تشریح اسبال یعنی کپڑے کو شرعی مقدار سے زائد لٹکانے کی جو حرمت و کراہت منقول ہے اس کا تعلق محض ازار یعنی تہبند و پائجامہ ہی سے نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں بلکہ کرتے اور پگڑی میں کپڑے کا اسراف کرنا اور ان کو شرعی مقدار سے زائد لٹکانا حرام و مکروہ ہے، چناچہ اس مسئلہ کی تفصیلی بحث پہلی فصل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے تحت گزر چکی ہے۔

4229Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی ٹوپیاں

وعن أبي كبشة قال : كان كمام أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بطحا . رواه الترمذي وقال : هذا حديث منكر

اور حضرت ابوکبشہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی ٹوپیاں اس طرح کی ہوتی تھیں کہ وہ سروں سے چپکی رہتی تھیں۔ (ترمذی) نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ تشریح اکثر شارحین نے کہا ہے کہ کمام اصل میں کمہ کی جمع ہے جیسے قبہ کی جمع قباب اور کمہ مدور یعنی گول ٹوپی کو کہتے ہیں۔ اور بطح بطحا کی جمع ہے جس کے معنی ہموار پتھریلی زمین کے ہیں، اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ صحابہ کرام جو ٹوپیاں استعمال کرتے تھے وہ گول اور پھیلی ہوئی ہوتی تھیں کہ وہ سروں سے چپکی رہتی تھیں نہ کہ ہوا میں اوپر اٹھی ہوئی بلندو دراز جیسے اس زمانہ میں ترکی اور ایرانی ٹوپیاں ہوتی ہیں۔ اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ کمام کمہ کی جمع نہیں بلکہ کم کی جمع ہے جس کے معنی آستین کے ہیں جیسے قف کی جمع قفاف (قف کے معنی بلند زمین کے ہیں ) اس صورت میں بطحا کے معنی فراخ و کشادہ کے ہوں گے، کیونکہ بطحا یعنی ہموار پتھریلی زمین، کشادہ بھی ہوتی ہے، اس طرح حدیث کا مطلب یہ ہوجائے گا کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ اپنے کرتوں میں تنگ آستین نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کے کرتوں کی آستینیں ایک بالشت کے بقدر چوڑی ہوتی تھیں۔

4230Mishkaat-al-Masabih

عورتیں اپنے لباس میں مردوں سے زائد کپڑا رکھ سکتی ہیں

وعن أم سلمة قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر الإزار : فالمرأة يا رسول الله ؟ قال : ترخي شبرا فقالت : إذا تنكشف عنها قال : فذراعا لا تزيد عليه . رواه مالك وأبو داود والنسائي وابن ماجه وفي رواية الترمذي والنسائي عن ابن عمر فقالت : إذا تنكشف أقدامهن قال : فيرخين ذراعا لا يزدن عليه

اور حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت رسول کریم ﷺ ازار بند (تہبند و پائجامہ) کا حکم بیان فرما رہے تھے (کہ اس کا لٹکانا ممنوع ہے) تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور عورت (کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یعنی اگر وہ اپنے ازار کو نیچا نہ رکھے تو اس کا ستر پوری طرح نہیں چھپے گا) آپ ﷺ نے فرمایا عورت اپنا تہبند یا پائجامہ (اپنی آدھی پنڈلیوں یا بعض کے قول کے مطابق اپنے ٹخنوں سے) ایک بالشت نیچا لٹکا سکتی ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا کہ اس صورت میں بھی کھلا رہے گا یعنی مثلا اس کی پنڈلیاں زیادہ لمبی ہوں اور وہ اپنی آدھی پنڈلیوں سے ایک بالشت اور نیچے تک اپنا پائجامہ لٹکا لے تب بھی اس کا ستر کھلنے کا احتمال رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا (اگر اس صورت میں بھی اس کا ستر کھلا رہے تو ) وہ ایک گز اور نیچے لٹکا لے (گز سے شرعی گز یعنی ایک ہاتھ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں وہ اپنے پائجامہ وغیرہ کو اتنا نیچے لٹکا سکتی ہے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے تاکہ اس کے پیر چھپے رہیں اور وہ ایک بالشت کے بقدر زائد ہو یا ایک گز کے بقدر اس کے بعد آپ ﷺ نے حد سے زیادہ لٹکانے کی ممانعت کو تاکیدا بیان کرنے کے لئے یہ فرمایا کہ) کوئی عورت اس ایک گز سے زیادہ نیچے نہ لٹکائے۔ (مالک، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ) اور ترمذی نسائی کی ایک روایت میں جو حضرت ابن عمر ؓ سے منقول ہے، یوں ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے یہ کہا کہ اس صورت میں ان کے پیر کھلے رہیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہاتھ بھر اور نیچے لٹکا لیں لیکن اس سے زائد نہ لٹکائیں۔

4231Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے کُرتے میں گریبان کس جگہ تھا

وعن معاوية بن قرة عن أبيه قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في رهط من مزينة فبايعوه وإنه لمطلق الأزرار فأدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم . رواه أبو داود

اور حضرت معاویہ بن قرہ ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ (ایک دن) میں نے مزینہ قوم کی ایک جماعت کے ساتھ (جو اسلام قبول کرنے آئی تھی) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا چناچہ اس جماعت کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے (اسلام پر بیعت کی، اس وقت آنحضرت ﷺ (اپنے کرتے کی) گھنڈیاں کھولے ہوئے بیٹھے تھے، میں نے (موقع غنیمت جانا اور حصول برکت وسعادت کے لئے) اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے کرتے کے گریبان میں ڈال کر مہر نبوت پر ہاتھ پھیرلیا۔ (ابوداؤد ) تشریح آنحضرت ﷺ کے کرتے کا گریبان سینہ مبارک پر تھا، چناچہ اس پر بہت حدیثیں دلالت کرتی ہیں، اسی لئے شیخ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ بعض لوگ جو علم سنت سے بےبہرہ ہیں یہ خیال رکھتے ہیں کرتے کا گریبان سینہ پر رکھنا بدعت ہے یہ قول قطعا بےبنیاد اور بالکل باطل ہے۔

4232Mishkaat-al-Masabih

سفید کپڑے کی فضلیت

وعن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : البسوا الثياب البيض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه

اور حضرت سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ کہ سفید کپڑے بہت پاک اور زیادہ پاکیزہ و خوش تر ہوتے ہیں اسی طرح اپنے مردوں کو کفن بھی سفید کپڑوں کا دو۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ ) تشریح سفید کپڑے کو بہت پاک تو اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ سفید کپڑا چونکہ جلد میلا ہوجاتا ہے اس لئے وہ باربار اور بہت دھویا جاتا ہے، اس کے برخلاف رنگین کپڑا چونکہ میل خور ہوتا ہے اس لئے وہ کافی عرصہ کے بعد ہی دھویا جاتا ہے! اور زیادہ پاکیزہ اس اعتبار سے ہوتا ہے کہ وہ دوسرے رنگوں میں مخلوط نہیں ہوتا، اسی طرح سفید کپڑے کو خوش تر اس سبب سے کہا گیا ہے کہ سلیم الطبع لوگ سفید ہی کپڑے کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ البتہ ضرورت کی صورت میں اس سے خارج ہے۔ جیسے صوفیاء نیلا اور یا کسی اور رنگ کے کپڑے کو اس ضرورت کی بناء پر اختیار کرتے ہیں کہ وہ سفید کپڑے کو باربار دھوئے رہنے پر قادر نہیں ہوتے۔ جہاں تک کفن کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ کفن میں سفید ہی کپڑا دینا افضل ہے کیوں کہ اس وقت مردہ گویا فرشتوں کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے جیسے کہ سفید کپڑا پہننا اس شخص کے لئے افضل ہے جو مجلسوں اور محفلوں میں جانا چاہے، مثلاً جمعہ یا جماعت کے لئے مسجد میں اور علماء و اولیاء اللہ کی ملاقات کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہو لیکن بعض حضرات نے کہا ہے کہ عید میں وہ کپڑا پہننا افضل ہے جو زیادہ قیمتی ہو تاکہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت کا زیادہ سے زیادہ اظہار ہو سکے چناچہ اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ عیدین اور جمعہ میں سرخ دھاریوں والی چادر اوڑھتے تھے۔

4233Mishkaat-al-Masabih

پگڑی کے شملہ کا مسئلہ

وعن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اعتم سدل عمامته بين كتفيه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب عمامہ باندھتے تو اس کا شملہ دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈالتے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

4234Mishkaat-al-Masabih

پگڑی کے شملہ کا مسئلہ

وعن عبد الرحمن بن عوف قال : عممني رسول الله صلى الله عليه وسلم فسدلها بين يدي ومن خلفي . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ کو عمامہ بندھوایا تو اس کا شملہ میرے آگے اور میرے پیچھے (دونوں طرف) لٹکایا۔ (ابوداؤد) تشریح یعنی آپ ﷺ پگڑی کے دونوں سروں کا شملہ چھوڑ کر ایک کو سینہ اور دوسرے کو پیٹھ پر لٹکایا۔ واضح رہے کہ عمامہ باندھنا سنت ہے اور اس کی فضیلت میں بہت زیادہ حدیثیں منقول ہیں، بلکہ ایک روایت میں جو اگرچہ ضعیف ہے یہاں تک منقول ہے کہ عمامہ باندھ کر پڑھی جانے والی دو رکعتیں بغیر عمامہ کے پڑھی جانے والی ستر رکعتوں سے افضل ہیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ عمامہ میں شملہ چھوڑنا افضل ہے لیکن دائمی طور پر نہیں چناچہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ کبھی تو شملہ چھوڑتے تھے اور کبھی نہیں چھوڑتے تھے، اسی طرح بعض دفعہ آپ ﷺ کے عمامہ کا شملہ آپ ﷺ کی گردن سے نیچے تک لٹکا ہوتا تھا اور بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ عمامہ کا ایک سرا عمامہ ہی میں اڑس دیتے تھے اور دوسرا چھوڑ دیتے تھے نیز آپ ﷺ کے عمامہ کا شملہ اکثر اوقات میں پیٹھ پر پڑا ہوتا تھا اور کبھی کبھی دائیں طرف بھی لٹکا لیتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ عمامہ کے دونوں سروں کا شملہ چھوڑ کر دونوں مونڈھوں کے درمیان یعنی ایک کو سینے پر اور دوسرے کو پیٹھ پر لٹکا لیتے تھے لیکن بائیں طرف لٹکانا چونکہ ثابت نہیں ہے اس لئے بدعت ہے اور کنز میں لکھا ہے کہ شملہ کو مونڈھوں کے درمیان چھوڑنا مستحب ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے شملہ کی لمبائی کم سے کم ایک بالشت اور زیادہ سے زیادہ ہاتھ بھر ہونی چاہئے اس سے زائد لمبا شملہ چھوڑنا بدعت ہے اور اس کے خلاف ورزی ہے جس کے ذریعہ اسبال و اسرف سے منع کیا گیا ہے چناچہ مقررہ حد سے زائد لمبائی اگر غرور وتکبر کے طور پر ہوگی تو وہ حرام شمار ہوگی ورنہ مکروہ اور خلاف سنت! نیز محمد ثین نے یہ لکھا ہے کہ شملہ چھوڑنے کو صرف نماز کے وقت کے ساتھ مختص کرنا بھی سنت کے خلاف ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ شملہ چھوڑنا فقہی اعتبار سے مستحب ہے جس کا تعلق سنت زائدہ سے ہے سنت ہدی سے نہیں اس لئے اس (شملہ چھوڑنے) کے ترک میں کوئی گناہ یا برائی نہیں ہے اگرچہ اس کو اختیار کرنے میں ثواب و فضیلت ہے، جن حضرات نے شملہ چھوڑنے کو سنت مؤ کدہ کہا ہے ان کا یہ قول ہے تحقیق و روایت کے خلاف ہے۔

4235Mishkaat-al-Masabih

ٹوپی پر عمامہ باندھنا مسلمانوں کی امتیازی علامت ہے

وعن ركانة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب وإسناده ليس بالقائم

اور حضرت رکانہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہمارے اور مشرکوں کے درمیان (ایک) فرق یہ (بھی) ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد درست نہیں۔ تشریح اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے سکوت کیا ہے یعنی انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد درست نہیں، لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کی اسناد اصل کے اعتبار سے درست ہو یا دونوں (ترمذی، ابوداؤد، ) کے نقل کرنے کی وجہ سے اس کو درستی حاصل ہوگئی ہو۔ بہرحال حدیث کی عبارت کے دو معنی محتمل ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ ہم (مسلمان) تو ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں جب کہ مشرک لوگ بغیر ٹوپیوں کے (یعنی ننگے سر پر) عمامہ باندھتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ۔ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں جب کہ مشرک لوگ عمامہ باندھتے ہی نہیں صرف ٹوپی پہنتے ہیں۔ شارحین نے لکھا ہے کہ ان دونوں معنوں میں سے پہلے ہی معنی مراد ہیں کیونکہ اس زمانہ کے مشرکین کا عمامہ باندھنا تو تحقیق کے ساتھ معلوم ہے لیکن ان کا صرف ٹوپی پہننا ثابت نہیں ہے (اگرچہ ملا علی قاری نے خدری سے نقل کیا ہے کہ دوسرے معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں نیز انہوں نے کہا ہے کہ بعض علماء کے قول کے مطابق سنت یہ ہے کہ ٹوپی اور عمامہ استعمال کیا جائے صرف ٹوپی پہننا مشرکین کی علامت ہے۔ )

4236Mishkaat-al-Masabih

سونا اور ریشم عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہے

وعن أبي موسى الأشعري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : أحل الذهب والحرير للإناث من أمتي وحرم على ذكورها . رواه الترمذي والنسائي وقال الترمذي : هذا صحيح

اور حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کی عورتوں کے لئے سونا اور ریشم حلال کیا گیا ہے اور امت کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے (ترمذی، نسائی) اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح مرد کے لفظ میں بچے (لڑکے) بھی داخل ہیں لیکن بچے چونکہ مکلف نہیں ہیں اس لئے ان کے حق میں ان چیزوں کی حرمت کا تعلق پہنانے والوں سے ہوگا کہ اگر کوئی بچہ ریشم یا سونے، کا زیور پہنے گا تو اس کا گناہ اس کے پہنانے والے پر ہوگا۔ نیز سونے سے مراد سونے کے زیورات ہیں ورنہ سونے چاندی کے برتن کا استعمال جس طرح مردوں کے لئے حرام ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی حرام ہے، اسی طرح چاندی کے زیورات کا حلال ہونا بھی صرف عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے علاوہ اس مقدار کے جو مردوں کے لئے بھی حلال ہے جیسے انگوٹھی وغیرہ۔

4237Mishkaat-al-Masabih

نیا کپڑا پہنتے وقت کی دعا

وعن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استجد ثوبا سماه باسمه عمامة أو قميصا أو رداء ثم يقول اللهم لك الحمد كما كسوتنيه أسألك خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا جو نام ہوتا یعنی پگڑی یا کرتا اور یا چادر، وہ نام لیتے اور پھر فرماتے۔ اے اللہ تیرے ہی لئے تعریف ہے کہ تو نے مجھ کو یہ کپڑا پہنایا، اے اللہ میں تجھ سے اس کپڑے کی بھلائی کا طلب گار ہوں (کہ یہ کپڑا میرے بدن پر عافیت سے رہے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچے) اور تجھ سے اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے (یعنی یہ کہ میں یہ کپڑا پہن کر تیری اطاعت کروں) اور میں اس کپڑے کی برائی اور اس چیز کی برائی کی جس کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے تیری پناہ چاہتا ہوں (یعنی یہ کہ میں کپڑا پہن کر کوئی گناہ نہ کروں )۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح نیا کپڑا پہننے کے بارے میں ابن حبان خطیب اور بغوی نے نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہننے کا ارادہ کرتے تو اس کو جمعہ کے دن زیب تن فرماتے۔ اس کا جو نام ہوتا الخ یعنی آپ ﷺ اس کپڑے کا نام لیتے خواہ کپڑا عمامہ ہوتا یا کرتا یا چادر اور یا کوئی اور لباس، چناچہ مذکورہ جملہ میں لفظ ثوب سے عمومیت مراد ہے اور خاص طور پر جن کپڑوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض تمثیل کے طور پر ہیں۔ وہ نام لیتے یعنی اگر مثلا آپ ﷺ کرتا پہنتے تو اس طرح فرماتے کہ رزقنی اللہ، یا اعطانی اللہ۔ یا کسانی اللہ ہذا القمیص اور پھر اس کے بعد مذکورہ دعا پڑھتے۔

4238Mishkaat-al-Masabih

نیا کپڑا پہنتے وقت کی دعا

وعن معاذ بن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من أكل طعاما ثم قال : الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه . رواه الترمذي وزاد أبو داود : ومن لبس ثوبا فقال : الحمد لله الذي كساني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر

اور حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص کھانا کھائے اور پھر یہ کہے یعنی یہ دعا پڑھے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ کو یہ کھانا کھلایا اور کھانا بغیر میرے کسی حیلہ اور بغیر میری کسی قوت (کے اثر کے) مجھ تک پہنچایا تو اس کے تمام پہلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ جو شخص کپڑا پہنے اور پھر یہ کہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ کو یہ کپڑا پہنایا اور یہ کپڑا بغیر میرے کسی حیلہ اور بغیر میری کسی قوت (کے اثر کے) مجھ تک پہنچایا۔ تو اس کے تمام اگلے پچھلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

4239Mishkaat-al-Masabih

پرانے کپڑے کو ضائع مت کرو

وعن عائشة قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا عائشة إذا أردت اللحوق بي فليكفك من الدنيا كزاد الراكب وإياك ومجالسة الأغنياء ولا تستخلقي ثوبا حتى ترقعيه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث صالح بن حسان قال محمد بن إسماعيل : صالح بن حسان منكر الحديث

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا۔ عائشہ ؓ! اگر تم ( دنیا و آخرت دونوں جگہ مجھ سے (کامل) اتصال و وابستگی چاہتی ہو تو دنیا کی صرف اتنی ہی چیزوں پر اکتفا کرو جو سوار کے زاد راہ کے برابر ہو اور دولت مندوں کی ہم نشینی اختیار کرنے سے اجتناب کرو، نیز کپڑے کو اس وقت تک پرانا سمجھ کر نہ پھینکو جب تک کہ تم اس کو پیوند (لگا کر پہننے) کے قابل سمجھو۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور یہ حدیث ہم تک صالح ابن حسان کی روایت کے علاوہ اور کسی ذریعہ سے نہیں پہنچی ہے جب کہ محمد بن اسماعیل (یعنی امام بخاری) نے کہا ہے صالح ابن حسان منکر الحدیث ہیں (یعنی ان کی روایت منکر ہے )۔ تشریح جو سوار کے زاد راہ کے برابر ہو۔ اس ارشاد گرامی ﷺ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی صرف اتنی ہی چیزوں پر قناعت کرے جو اس کی زندگی اور مقصد حیات کے لئے ضروری ہوں۔ اس جملہ میں سوار کی تخصیص شاید اس لئے ہے کہ وہ اپنا راستہ تیز گامی سے طے کرتا ہے اور منزل پر جلد پہنچتا ہے جس کی وجہ سے اس کو تھوڑا سا بھی زاد راہ کافی ہوجاتا ہے اس کے برخلاف پیادہ کو چونکہ سفر میں دیر لگتی ہے اس لئے اس کو زاد راہ بھی زیادہ لینا پڑتا ہے۔۔ دولت مندوں کی ہمنشینی سے پچھنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ دنیا دار دولت مندوں کی صحبت و مجالست دنیا اور دنیا کی لذات کے تئیں محبت و خواہشات میں زیادتی اور لہو و لعب میں مشغولیت کا باعث بنتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (لاتمدن عینیک) الاّ یہ ایک روایت میں منقول ہے کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کی ہمنشینی سے اجتناب کرو عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہیں ( جن کو مردہ فرمایا جا رہا ہے اور جن کی ہمنشینی سے بچنے کی تلقین فرمائی جا رہی ہے أپ ﷺ نے فرمایا ( دنیا دار) دولت مند۔ جب تک کہ تم اس کو پیوند کے قابل سمجھو۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کپڑا پرانا و بوسیدہ ہوجائے یا وہ پھٹ جائے تو اس سے بےاعتنائی نہ برتو اور اس کو ضائع نہ کرو بلکہ اس کو ٹھیک ٹھاک کر کے اور اس میں پیوند لگا کر کم سے کم ایک بار اور استعمال کرلو۔ اس ارشاد کے ذریعہ گویا اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ اگر اپنے پاس پھٹے پرانے کپڑے ہوں تو (زہد و قناعت کا تقاضا یہ ہے کہ ستر پوشی کے لئے انہی پر اکتفا کیا جائے، چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی خلافت کے زمانہ میں (جب کہ ان کو دنیا کے ایک عظیم ترین حکمران کی حیثیت حاصل تھی) ایک دن اسی حالت میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ انہوں نے جو تہبند باند ھ رکھا تھا اس میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔

4240Mishkaat-al-Masabih

پرانے کپڑے کو ضائع مت کرو

ابو امامہ اياس بن ثعلبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ألا تسمعون ؟ ألا تسمعون أن البذاذة من الإيمان أن البذاذة من الإيمان ؟ . رواه أبو داود

اور حضرت ابوامامہ ابن ایاس ابن ثعلبہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کیا تم سن نہیں رہے (یعنی اے لوگو! کان لگا کر سنو! کپڑے کی بوسیدگی و کہنگی (یعنی لباس کی سادگی) کو اختیار کرنا اور دنیا کی زیب وزینت کو ترک کرنا حسن ایمان کی علامت ہے، کپڑے کی بوسیدگی و کہنگی کو اختیار کرنا اور دنیا کی زیب وزینت کو ترک کرنا حسن ایمان کی علامت ہے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ لباس کے معاملہ میں زیادہ تکلف و اہتمام سے کام لینا، عورتوں کی طرح اپنے آپ کو سنوارنا اور ہر وقت زیب وزینت کا خیال رکھنا مسلمان مرد کے شایان شان نہیں ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے اچھے کپڑے پہننے کی استطاعت عطا کی ہے تو بیشک اپنے لباس میں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے عمدگی و نفاست کا لحاظ رکھنا اور جائز طریقے سے اچھے کپڑے پہننا کوئی معیوب نہیں ہے لیکن کبھی کبھی پرانا کپڑا بھی پیوند لگا کر پہن لینا بہتر ہے۔ حاصل یہ کہ لباس میں تواضع و انکسار اختیار کرنا اور دنیاوی زیب وزینت سے بچنا اہل ایمان کی اچھی عادتوں میں سے ہے اور حسن ایمان کی علامت ہے کیونکہ آخرت اور آخرت کی زینتوں پر ایمان لانا ہی اس زہد و قناعت کا باعث ہوتا ہے۔

4241Mishkaat-al-Masabih

اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے اعلی لباس پہننا اخروی ذلت کا باعث ہے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من لبس ثوب شهرة من الدنيا ألبسه الله ثوب مذلة يوم القيامة . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں شہرت کا کپڑا پہنے گا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی عزت طلبی اور اپنی بڑائی کے اظہار کی غرض سے اعلی و نفیس لباس پہنے یعنی اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ میرے جسم پر اعلی لباس دیکھ کر میری عزت کریں اور مجھے شہرت و بڑائی ملے تو ایسے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ذلیل و حقیر کپڑا پہنائے گا، یعنی اس کو اس کپڑے کے ذریعہ ذلیل و بےعزت کرے گا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دنیا میں ایسا لباس پہنے گا جس سے تواضع اور بےنفسی ظاہر ہوتی ہو (یعنی جس کو دنیا دار لوگ ذلیل و حقیر لباس سمجھتے ہوں اس کو اللہ تعالیٰ عقبی میں عزت و عظمت کا لباس پہنائے گا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شہرت کے کپڑے سے مراد وہ حرام کپڑے ہیں کہ جن کا پہننا مباح نہیں ہے بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ کپڑا مراد ہے جو از راہ تمسخر و مذاق یعنی لوگوں کو ہنسانے کے لئے پہنے، یا وہ کپڑا مراد ہے جو اپنے زہد و پارسائی کے اظہار کے لئے پہنے اسی طرح بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں داراصل اعمال کو کپڑے سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی مراد یہ ہے کہ جو شخص از راہ ریا یعنی محض دکھانے سنانے کے لئے اچھے اعمال کرے تاکہ ان کی وجہ سے دنیا والوں کی شہرت و عزت حاصل ہو تو قیامت کے دن اس کا حشر یہ ہوگا! بہرحال حدیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلاشک کہی جاسکتی ہے کہ وہی مراد و مطلب زیادہ صحیح ہے جس کو پہلے بیان کیا گیا ہے۔