لباس کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 140 · 205 hadiths · Page 1 of 11

4202Mishkaat-al-Masabih

لباس کا بیان

لباس اصل میں تو مصدر ہے، لیکن استعمال ملبوس کے معنی میں ہوتا ہے، جیسا کہ کتاب کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود مکتوب کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لباس کے ماضی اور مضارع کے صیغے باب علم یعلم سے آتے ہیں، ویسے اس کا مصدر لبس (لام کے پیش کے ساتھ) بھی آتا ہے! اور لبس جو لام کے زبر کے ساتھ آتا ہے اس کے معنی التباس و خلط کے ہیں جس کا باب ضرب یضرب ہے۔

4203Mishkaat-al-Masabih

حبرہ آنحضرت ﷺ کا پسندیدہ کپڑا تھا

عن أنس قال : كان أحب الثياب إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن يلبسها الحبرة

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو سب کپڑوں میں پہننے کے لئے (نہ کہ کسی دوسری ضرورت جیسے بستر پر پچھانے یا کسی کو دینے وغیرہ کے لئے) حبرہ (چادر) سب سے زیادہ پسند تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح حبرہ (با کے زبر کے ساتھ بروزن زغبۃ) ایک خاص قسم کی یمنی چادر کو کہتے ہیں جو اس زمانہ میں بننے والی چادروں میں سب سے عمدہ ہوتی تھی اس چادر میں اکثر سرخ دھاریاں ہوتی تھیں، بعض ایسی بھی ہوتی تھیں جن میں سبز دھاریاں ہوتی تھیں اس کی بناوٹ میں خالص سوت ہوتا تھا۔ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اس چادر کو اسی وجہ سے پسند فرماتے تھے، جب کہ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اس پسندیدگی کا سبب اس کا سبز رنگ ہوتا تھا کیونکہ سبز کپڑا اہل جنت کے ملبوسات میں سے ہے اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ کو سبز رنگ بہت زیادہ پسند تھا جیسا کہ طبرانی نے اوسط میں اور ابن نسی اور ابونعیم نے محب میں یہ روایت نقل کی ہے کہ۔ انہ کان احب الالوان الیہ الخضرۃ۔ آنحضرت ﷺ کو تمام رنگوں میں سبز رنگ سب سے زیادہ پسند تھا۔ اور بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس چادر کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ اس کی دھاریاں سرخ ہوتی تھیں اور سرخ رنگ میل خورا ہوتا ہے۔

4204Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی نقشی چادر

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (ایک دن) صبح کے وقت سیاہ بالوں کی نقشی چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔ (مسلم) تشریح بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ لفظ مرجل کے بجائے مرحل زیادہ صحیح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس چادر پر اونٹ کے پالان جیسے نقش و نگار تھے۔

4205Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے تنگ آستینوں کا جبہ پہنا ہے

وعن المغيرة بن شعبة : أن النبي صلى الله عليه وسلم لبس جبة رومية ضيقة الكمين

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رومی جبہ پہنا جس کی آستین تنگ تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح یہ ایک سفر کے دوران کا واقعہ ہے جب کہ آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا جبہ پہنا، چناچہ ایک اور روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کی آستینیں اتنی تھیں کہ جب آپ ﷺ وضو فرمانے لگے تو وہ آستینیں اوپر چڑھ سکیں۔ اس لئے آپ ﷺ کو اپنے ہاتھوں کو دھونے کے لئے ان آستینون کے نیچے سے نکالنا پڑا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے کرتے و جبہ وغیرہ کی آستینیں تنگ بنوانا سفر کے دوران تو مستحب ہے، سفر کے علاوہ (حضر میں) مستحب نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام فراخ آستینیں بنوایا کرتے تھے جب کہ ابن حجر نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں آئمہ کا قول یہ ہے کہ آستینوں کو فراخ رکھنا ایک قسم کی مذموم بدعت ہے، انہوں نے صحابہ کی آستینوں کے فراخ ہونے کے دوسرے معنی لکھے ہیں، جس کی تفصیل ان کی شرح میں دیکھی جاسکتی ہے، لیکن یہ کہا جاسکتا ہے ہے کہ آئمہ کا قول مفرط یعنی حد سے زیادہ فراخی پر محمول ہے اور صحابہ کی آستینوں کے فراخ ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے غیر مفرط (یعنی حد کے اندر) پر محمول ہے۔ اسی لئے منتقی میں، جو آئمہ کی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے، یہ لکھا ہے کہ آستینوں کو ایک بالشت کے بقدر فراخ رکھنا مستحب ہے۔

4206Mishkaat-al-Masabih

وہ کپڑے جن میں سرکار دو عالم ﷺ نے سفر آخرت اختیار فرمایا

وعن أبي بردة قال : أخرجت إلينا عائشة كساء ملبدا وإزارا غليظا فقالت : قبض روح رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذين

اور حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت عائشہ ؓ نے ہمیں دکھانے کے لئے ایک پیوند لگی چادر اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ جب رسول کریم ﷺ کی روح مبارک قبض کی گئی تو آپ ﷺ۔۔۔ ان ہی دو کپڑوں میں تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح آنحضرت ﷺ نے اپنے حق میں یہ دعا کی تھی کہ دعا (اللہم احیینی مسکینا وامتنی مسکینا) یعنی یا اللہ مجھے مسکین (غریب) رکھ کر جلا اور مسکین رکھ کر موت دے۔ تو یہ اس کا اثر تھا کہ جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کے جسم مبارک پر یہ دو انتہائی معمولی کپڑے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا اور دنیا کے زرق برق سے بےرغبتی و بےاعتنائی ایک پاکیزہ زندگی کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے، لہٰذا امت کو لازم ہے کہ ہر خصلت و عادت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کو اختیار کیا جائے۔

4207Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا پچھونا

وعن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي ينام عليه أدما حشوه ليف

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا بچھونا جس پر آپ ﷺ سوتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں (روئی کی جگہ) کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح شمائل ترمذی میں حضرت حفصہ ؓ سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا بچھونا ٹاٹ کا تھا، لہٰذا ان دونوں روایتوں میں کوئی تضاد و تناقض نہیں، کیوں کہ آپ ﷺ کے پاس کسی زمانہ میں چمڑے کا بچھونا رہا ہوگا اور کسی زمانے میں ٹاٹ کا یا یہ کہ سونے کا بچھونا تو چمڑے کا ہوگا اور بیٹھنے کا بچھونا ٹاٹ کا ہوگا۔

4208Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا تکیہ

وعنها قالت : كان وساد رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي يتكئ عليه من أدم حشوه ليف . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا تکیہ، کہ جس پر آپ ﷺ تکیہ فرماتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (مسلم) تشریح تکیہ کرتے تھے یعنی اس پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے یا سوتے وقت اس کو سر کے نیچے رکھتے تھے، ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ سونے کے لئے اور آرام کی خاطر، بچھونا اور تکیہ بنانا مستحب ہے، بشرطیکہ عیش و عشرت اور آسودگئی نفس میں انہماک اور اسراف کے طور پر نہ ہو، چناچہ آنحضرت ﷺ تکیہ کو پسند کرتے تھے اور سوتے وقت اس کو سر کے نیچے رکھتے تھے اور اس پر ٹیک لگا کر بیٹھتے بھی تھے، نیز آپ ﷺ فرماتے کہ اگر کوئی شخص تکیہ اور خوشبو دے تو اس کو قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔ یہ اور ان جیسی دوسری روایتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ دنیا کی زندگی میں زہد و استغناء اختیار کئے ہوئے تھے اور دنیا کی متاع اور لذتوں سے اعراض کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ کا لباس بھی موٹے جھوٹے اور پھٹے پرانے کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، منقول ہے آپ ﷺ کو جیسا بھی لباس میسر آجاتا اس کو پہن لیتے اس میں کسی تکلف و اہتمام کے روادار نہیں ہوتے تھے، البتہ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی نفیس و عمدہ کپڑا آگیا، تو بیان جواز کے لئے اس کو بھی زیب تن فرما لیا لیکن پھر فوراً ہی وہ کپڑا کسی دوسرے شخص کو غنایت فرما دیا، لہٰذا عمدہ و نفیس ہی کپڑے پہننے کی قید اپنے اوپر عائد کرلینا، یا عمدہ و نفیس کپڑا پہننے کی عادت اختیار کرلینا اور اس سلسلے میں بیجا تکلف و اہتمام کرنا سنت کے خلاف ہے اگرچہ اصل کے اعتبار سے مباح ہے، لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی اچھے کپڑے پہننے کی استطاعت و حیثیت کے باوجود محض بخل اور خست کی بنا پر موٹے جھوٹے اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے، یا لوگوں پر اپنے زہد وتقویٰ کا سکہ جمانے کے لئے اور یا حرص و طمع کے تحت لوگوں سے مانگنے کے لئے ریاکاری کے طور پر معمولی قسم کے خستہ و بوسیدہ کپڑے پہنے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی بلکہ بعض ارباب خیر و مشیخت کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے اپنی پرہیز گاری اور اپنے بلند مقام روحانیت کو چشم اغیار سے چھپانے کے لئے، یا تحدیث نعمت کے طور پر اپنی خوشحالی کو ظاہر کرنے کے لئے عمدہ اور نفیس کپڑے پہنے۔ حاصل یہ کہ اگر اللہ نے کسی کو خوشحالی کی نعمت عطا کی ہے اور وہ مالی طور پر اچھی حیثیت و استطاعت رکھتا ہے تو اس کو اعلی و نفیس کپڑے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ وہ اسراف وتکبر کی حد کو نہ پہنچے کیونکہ میانہ روی ہر جگہ اور ہر عمل میں محمود و مطلوب ہے۔

4209Mishkaat-al-Masabih

جب آنحضرت ﷺ ہجرت کا حکم سنانے کے لئے ابوبکر (رض) کے گھر تشریف لائے

وعنها قالت : بينا نحن جلوس في بيتنا في حر الظهيرة قال قائل لأبي بكر : هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا متقنعا . رواه البخاري

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ (ہجرت) سے قبل ایک دن جب کہ ہم دوپہر کی گرمی میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کسی کہنے والے نے (حضرت ابوبکر ؓ سے) کہا کہ (دیکھو) وہ رسول کریم ﷺ چادر کے کونے سے اپنا سر مبارک چھپائے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ (بخاری) تشریح آنحضرت ﷺ کا اپنے سر مبارک کو چادر کے کونے سے ڈھانکنا یا تو تمازت و تپش سے بچنے کے لئے تھا، یا آپ ﷺ نے اپنا سر اس لئے ڈھانک رکھا تھا کہ چہرہ چھپا رہے اور لوگ (دشمنان دین) پہچان نہ سکیں۔ یہ حدیث اصل میں اس حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جس میں ہجرت نبوی ﷺ کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے کہ (مکہ میں) بیعت العقبہ کے بعد آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کے حکم کے منتظر تھے ادھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس بات کے درخواست گزار تھے کہ اس سفر میں ان کو رفاقت کا شرف حاصل ہو، چناچہ آنحضرت ﷺ ان سے فرماتے تھے کہ اگر ہجرت کا حکم نازل ہوا تو ایسا ہی ہوگا (کہ اس سفر میں تم ہی رفیق بنو گے) چناچہ ایک دن اچانک ہجرت کا حکم نازل ہوا تو آپ ﷺ دوپہر میں حضرت ابوبکر ؓ کے گھر تشریف لائے اور ان کو بتایا کہ ہجرت کا حکم نازل ہوگیا ہے اور یہ ہدایت ملی ہے کہ میں ہجرت کے لئے مکہ سے نکل جاؤں اور تم میرے رفیق بنو، پھر آنحضرت ﷺ رات میں حضرت ابوبکر ؓ کو لے کر ان کے مکان کی اس کھڑکی سے نکلے جو مکہ کے نشیبی علاقہ میں واقع ثور پہاڑ کی سمت میں تھی اور غار ثور میں جا کر چھپ گئے۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔

4210Mishkaat-al-Masabih

گھر میں تین سے زائد بچھونے نہ رکھو

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ایک بچھونا مرد کے لئے، دوسرا بچھونا اس کی بیوی کے لئے تیسرا بچھونا مہمان کے لئے اور چوتھا بچھونا شیطان کے لئے ہوتا ہے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں میاں بیوی ہوں اور وہ استطاعت رکھتے ہوں تو ان کو اپنے یہاں تین بستر رکھنے چاہئیں، ایک تو میاں کے لئے، دوسرا بیوی کے لئے کہ شاید کسی وقت بیماری وغیرہ کی وجہ سے وہ تنہا سونا چاہے ورنہ میاں بیوی کو ایک بستر پر سونا اولی ہے اور سنت کے مطابق ہے کیوں کہ آنحضرت ﷺ ازواج مطہرات کے ساتھ سویا کرتے تھے اور تیسرا بستر اس مقصد کے لئے ہو کہ اگر کوئی مہمان آجائے تو وہ رات میں اس پر سوئے، بس یہ تین بستر کافی ہیں ان سے زیادہ جو بھی بستر ہوگا وہ اسراف کی حد میں آئے گا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چوتھا بستر ہوگا تو وہ شیطان کے لئے ہوگا، شیطان کی طرف نسبت اسی لئے گئی ہے کہ وہ (چوتھا بستر) یقینا ضرورت و حاجت سے زائد ہوگا اور ضرورت سے زائد چیز کا ہونا فخر و مباحات کے دائرے میں آنے کی وجہ سے مذموم ہے اور ہر مذموم چیز کی نسبت شیطان ہی کی طرف ہوتی ہے، یا اس نسبت کا سبب یہ ہے کہ وہ چوتھا بستر چونکہ ضرورت سے زائد ہوتا ہے اس لئے شیطان اس پر رات گزارتا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ جو شخص سخی اور فراخدل ہو اور کرم نواز طبیعت کا مالک ہو اور اس وجہ سے اس کے یہاں مہمانوں کی آمد کثرت سے ہوتی ہو تو اس کے یہاں بستر اور دوسرے اسباب کی زیادتی بظاہر مذموم نہیں ہوگی، مذموم تو وہ زیادتی و کثرت ہوگی جو محض اپنی بڑائی کے اظہار اور مفاخرت کے تحت ہو۔

4211Mishkaat-al-Masabih

از راہ تکبر ٹخنوں سے نیچے پائجامہ وغیرہ لٹکانا حرام ہے

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو غرور وتکبر سے اپنی ازار (یعنی پائجامہ و تہبند) کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح غرور وتکبر کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص غرور وتکبر کے بغیر اپنے پائجامے یا تہبند کو ٹخنوں سے لٹکائے تو یہ حرام نہیں، تاہم مکروہ تنزیہی یہ بھی ہے۔ اور کسی عذر کے سبب جیسے سردی یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پائجامہ و تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے۔

4212Mishkaat-al-Masabih

تکبر کے طور پر کپڑے کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلنا ممنوع ہے

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة

اور حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص غرور وتکبر کے طور پر اپنے (بدن کے) کپڑے کو زمین پر گھسیٹتا ہوا چلے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت و عنایت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح کپڑے میں عمومیت ہے کہ خواہ تہبند ہو یا پائجامہ ہو، خواہ کرتا ہو انگر کھا ہو اور خواہ فرغل ہو یا دوپٹہ ہو ان سب کا یہی حکم ہے۔

4213Mishkaat-al-Masabih

تکبر کے طور پر کپڑے کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلنا ممنوع ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بينما رجل يجر إزاره من الخيلاء خسف به فهو يتجلجل في الأرض إلى يوم القيامة . رواه البخاري

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب وقت ایک شخص غرور وتکبر کے طور پر اپنی ازار (یعنی تہبند یا پاجامہ) کو زمین پر گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا تو اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اب وہ قیامت تک (اسی طرح) زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ (بخاری )۔ تشریح جس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اسی امت کا کوئی فرد ہوگا اور آنحضرت ﷺ نے یہ بات بطور پیشن گوئی کے فرمائی کہ کسی آنے والے زمانہ میں ایسا ہوگا اور چونکہ اس واقعہ کا وقوع پذیر ہونا ایک یقینی امر تھا اس لئے آیت نے اس بات کی خبر دینے کے لئے ماضی کا پیرایہ بیان اختیار فرمایا۔ یا کسی ایسے شخص کا واقعہ ہے جو پچھلی کسی امت میں رہا ہوگا اس اعتبار سے حدیث کا ظاہری مفہوم اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ آپ ﷺ نے ایک گزرے ہوئے واقعہ کی خبر دی بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے مراد قارون ہے (لیکن حدیث کے ظاہری مفہوم اور اس شخص کا نام لئے بغیر ذکر کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شخص قارون کے علاوہ کوئی اور ہوگا۔ )

4214Mishkaat-al-Masabih

لباس میں ضرورت سے زائد کپڑا صرف کرنا ممنوع ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ از قسم ازار (یعنی پائجامہ وغیرہ) کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے پیر کے جتنے حصہ پر تہبند وغیرہ لٹکا ہوا ہوگا وہ پورا حصہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ عمل یعنی ٹخنے سے نیچے تہبند وغیرہ لٹکانا) ایک مذموم عمل ہے اور دوزخیوں کا کام ہے ٹخنے سے نیچے ازار وغیرہ لٹکانے کے مسئلہ میں یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ اس سلسے میں جو احادیث منقول ہیں ان میں زیادہ تر ازار کے لٹکانے کا ذکر ہے اور ازر لٹکانے والے کے حق میں بہت سخت وعیدیں بھی بیان کی گئی ہے یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے ایک دن ایک شخص کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کے پائچے ٹخنوں سے نیچے تھے تو أپ ﷺ نے اس کو دوبارہ وضو کرنے اور نماز لوٹانے کا حکم دیا اسی طرح ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ شعبان کی پندرھویں شب میں سب ( مسلمانوں) کی بخشش کی جاتی ہے علاوہ عاق، مدمن خمر اور مسبل ازار کے کہ ان لوگوں کی بخشش نہیں ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ساری وعیدوں اور ممانعت کا تعلق محض ازار ہی سے نہیں ہے بلکہ سب کپڑوں سے ہے یعنی بدن پر جو بھی کپڑا ضرورت سے زائد اور سنت کے دائرے سے باہر ہوگا اس پر مذکورہ ممانعت کا حکم عائد ہوگا جہاں تک ازار کی تخصیص کا تعلق ہے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اس زمانہ میں چادر اور ازار عام طور پر لباس ہوتا تھا اس لئے اس کے استعمال کی کثرت کی بنا پر اس کا ذکر کیا گیا ویسے بعض روایتوں میں ازار کے ساتھ دوسرے کپڑوں جیسے قمیص اور پگڑی کا بھی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے چناچہ آگے دوسری فصل میں حضرت ابن عمر ؓ کی یہ روایت نقل ہوگی کہ الا سبال فی الا زار والقمیص والعمامۃ من جر منھا شیأ خیلا الخ اسی طرح اسی فصل میں ابھی اوپر حضرت ابن عمر ؓ ہی کی جو روایت گزری ہے اس میں مطلق کپڑے کا ذکر ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لباس میں ضرورت سے زائد کپڑا رکھنے کی ممانعت کا تعلق ہر کپڑے سے ہے بہر حال عزیمت یعنی اولی درجہ یہ ہے کہ ازار یعنی تہبند وپائجامہ کو نصف پنڈلی تک رکھا جائے چناچہ آنحضرت ﷺ اپنا تہبند نصف پنڈلی ہی تک رکھتے تھے البتہ رخصت یعنی اجازت وا سانی کا درجہ ٹخنوں تک ہے کہ تہبند و پائجامے کو زیادہ سے زیادہ ٹخنوں تک رکھا جاسکتا ہے کرتے و قمیص اور عباد شیروانی وغیرہ کے دامن کا بھی یہی حکم ہے اسی طرح قمیص و کرتے وغیرہ کی آستینوں کی مسنون لمبائی یہ ہے کہ وہ بندوست یعنی ہاتھ کے جوڑ تک ہوں عمامہ کا شملہ زیادہ سے زیادہ اتنا چھوڑاجانا چاہئے جو نصف پشت تک رہے جو شملہ لمبائی یا چوڑائی میں اس سے زائدہو گا وہ بدعت اور اس زائد لٹکانے میں شمار ہوگا جو ممنوع ہے چناچہ بعض علاقوں اور شہروں کے لوگ اپنے لباس میں جو زائد از ضرورت کپڑا استعمال کرتے ہیں جیسے ضرورت سے زائد لمبی لمبی آستینوں اور وسیع و عریض دامنوں والے کرتے کئی کئی گز کے پاجامے اور شلواروں اور بڑے بڑے عمامے اور پگڑ کا رواج بعض جگہ پایا جاتا ہے وہ خلاف سنت ہے بلکہ یہ زائد از ضرورت کپڑے صرف کرنا اگر تکبر و غرور کی نیت سے ہوگا تو اس کو حرام کہیں گے اور اگر لوگوں کی دیکھا دیکھی یا کسی رواج کے تحت ہوگا تو اس کو مکروہ کہا جائے گا کپڑوں میں ضرورت سے زائد لمبائی چوڑائی رکھنا عورتوں کے لئے بھی ممنوع ہے لیکن مردوں کی بہ نسبت ایک بالشت کے بقدر زائد ہونا جائز ہے بلکہ اتنی زائد مقدار تو مستحب ہے جو پردہ پوشی کے بقدر ہو جیسا کہ حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت سے معلوم ہوگا جو دوسری فصل میں نقل ہوگی

4215Mishkaat-al-Masabih

کپڑے پہننے کے بعض ممنوع طریقے

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأكل الرجل بشماله أو يمشي في نعل واحد وأن يشتمل الصماء أو يجتني في ثوب واحد كاشفا عن فرجه . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک ( پیر میں) جوتا پہن کر چلے اور یہ کہ کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر آجائیں یا بدن پر کوئی ایک کپڑا لپیٹ کر اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کا ستر کھلا ہوا ہو (مسلم) تشریح بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور بعض حضرات کے نزدیک تحریمی کے طور پر ہے ایک پیر میں جوتا پہن کر چلنا ایک طرح کی بد ہئیتی ہے اور وقار کے خلاف ہے دوسرے اگر وہ جوتا اونچی ایڑی کا ہوگا تو اس صورت میں قدم کے ڈگمگانے اور زمین پر گر پڑنے کا باعث ہوگا لہذا اس سے منع فرمایا گیا کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لے۔۔ الخ۔۔۔ اس کو عربی میں اشتمال الصماء کہتے ہیں اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی ایک کپڑے جیسے چادر وغیرہ کو اس طرح اوڑھے یا بدن پر لپیٹ لے کہ پورا جسم ڈھک جائے کسی طرف سے کھلا نہ رہے دونوں ہاتھ بھی بند ہوجائیں اور کسی طرف سے کپڑے کے اٹھنے کی گنجائش نہ رہے کہ اس سے ہاتھ نکالا جائے اس طرح کوئی کپڑا اوڑھنے یا لپیٹنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس صورت میں آدمی ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو طوق پہنا دیا گیا ہو چناچہ اس کو صماء اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ اعضاء جسم کی نقل و حرکت اور منافذ کو بند کردیتا ہے جیسے صخرہ صمار اس سخت و سپاٹ پتھر کو کہتے ہیں جس میں کوئی سوراخ یا شگاف وغیرہ نہیں ہوتا۔ ابن ہمام نے ہدایہ کی شرح میں لکھا ہے کہ نماز میں اشتمال صماء مکروہ ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کپڑے میں اپنا سر اور اپنا پورا بدن اس طرح لپیٹ لے کہ ہاتھ نکلنے کی بھی کوئی جگہ نہ چھوڑے۔ لیکن امام محمد نے اس کراہت کے لئے اس کو شرط قرار دیا ہے کہ اس نے ازار (تہبند) بھی نہ پہن رکھا ہو جب کہ دوسروں کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے۔ اور نووی نے شرح مسلم میں یہ لکھا ہے کہ فقہا کے نزدیک اشتمال صماء کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایک کپڑے کو اپنے پورے بدن پر لپیٹ لے اور کوئی دوسرا کپڑا (جیسے تہبند و پاجامہ وغیرہ ) اس کے جسم پر نہ ہو اور پھر اس لپیٹے ہوئے کپڑے کا کوئی کنارہ اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لے۔ یہ صورت حرام ہے کیوں کہ اس میں ستر کا کچھ حصہ کھل جاتا ہے۔ حاصل یہ کہ اگر ستر کا کھل جانا یقینی ہو اشتمال صماء حرام ہوگا اور اگر ستر کا کھلنا محض احتمال کا درجہ رکھتا ہو تو مکروہ ہوگا۔ گوٹ مار کر بیٹھنا اس ہیئت میں بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ دونوں کو لہوں کو زمین پر ٹیک کر پنڈلیوں کو کھڑا کرے اور دونوں ہاتھ ان کے گرد باندھ لے، یا اس طرح بیٹھ کر کوئی کپڑا پیٹھ اور پنڈلوں پر لپیٹ لے (جب کہ اس کپڑے کے علاوہ اور کوئی کپڑا پہنے ہوئے نہ ہو) چناچہ اس طرح بیٹھنا اس صورت میں ممنوع ہے جب کہ اس کے پاس صرف چادر ہو کہ اگر اس کو اس طرح لپیٹے گا تو ستر کھل جائے گا اور اگر چادر کے علاوہ اس نے کوئی اور کپڑا پہن رکھا ہو تو اس طرح بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ نماز کے علاوہ دوسری حالتوں میں اس طرح بیٹھنا مستحب بھی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ خانہ کعبہ کے سامنے ایک چادر میں اور ہاتھوں کے ذریعہ بھی گوٹ مار کر بیٹھے تھے اور اگر چادر اتنی بڑی اور چوڑی ہو کہ اس کو لپٹنے سے ستر کھلنے کا احتمال نہ ہو تو صرف ایک چادر میں بھی اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔

4216Mishkaat-al-Masabih

ریشمی کپڑا پہننے والے مرد کے بارے میں وعید

وعن عمر وأنس وابن الزبير وأبي أمامة رضي الله عنهم أجمعين عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة

اور حضرت عمر ؓ عنہ، حضرت انس ؓ عنہ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت ابوامامہ ؓ (چاروں صحابہ کرام) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے دنیا میں (غیر مشروع ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس ارشاد گرامی کا تعلق اس شخص سے ہے جو مردوں کے لئے ریشم کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھتے ہوئے ریشمی کپڑا پہننے یا یہ زجر و تہدید پر محمول ہے اور یا اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ ایسا شخص ایک خاص مدت تک جنت میں داخل ہونے سے پہلے ریشمی کپڑا پہننے سے محروم رہے گا کیوں کہ جنت میں جنتیوں کا لباس ریشمی ہوگا اور حافظ سیوطی کے قول کے مطابق اکثر علماء نے اس حدیث کی یہ تاویل بیان کی ہے کہ جو شخص دنیا میں ریشمی کپڑا پہنے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا جو ابتداء ہی میں جائز المرام قرار پا کر جنت میں جائیں گے چناچہ اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد نے حضرت جویرہ ؓ سے نقل کی ہے کہ حدیث (من لبس الحریر فی الدنیا البسہ اللہ یوم القیمۃ ثوبا من نار)۔ یعنی جس شخص نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آگ کا لباس پہنائے گا۔

4217Mishkaat-al-Masabih

ریشمی کپڑا پہننے والے مرد کے بارے میں وعید

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنما يلبس الحرير في الدنيا من لا خلاق له في الآخرة

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کے لئے آخرت میں حصہ نہیں ہوتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ریشم پہننے والا شخص آخرت کے عقیدہ کا حصہ دار نہیں ہوتا یا یہ کہ دنیا میں ریشم پہننے والے کو آخرت (جنت) میں ریشم پہننا نصیب نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اوپر کی حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ لم یلبسہ فی الاخرۃ یعنی وہ آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا اس اعتبار سے اس ارشاد گرامی کا مقصد کنایۃً یہ بیان کرنا ہے کہ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ آیت (ولباسہم فیہا حریر) لہٰذا کافر کے حق میں تو یہ بات بالکل ظاہر ہے البتہ مسلمانوں کے حق میں یہ بات بطریق تغلیظ کے ہوگی کہ اس بات کے ذریعہ اس حقیقت کو شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان دنیا میں ریشم پہنے گا وہ شروع میں جنت میں داخل نہیں ہوگا یا یہ کہ وہ اس وقت تک جنت میں نہیں ہوگا جب تک کہ دوسرے بدکاروں کے ساتھ وہ بھی دوزخ کی آگ کے لباس کا عذاب نہ بھگت لے گا۔

4218Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ریشمی کپڑے پہننا مردوں کے لئے ناجائز ہے

وعن حذيفة قال : نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نشرب في آنية الفضة والذهب وأن نأكل فيها وعن لبس الحرير والديباج وأن نجلس عليه

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم سونے چاندی کے برتنوں میں پئیں اور ان میں کھائیں نیز آپ ﷺ نے حریر و دیبا (ایک قسم کا ریشمی کپڑا) پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ (بخاری ومسلم) تشریح سونے چاندی کے برتنوں وغیرہ میں کھانے پینے اور ریشمی کپڑے پہننے کے بارے میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہے کہ ریشمی کپڑے کا استعمال جس طرح مردوں کے لئے حرام ہے اسی طرح اس کو بچوں کو بھی پہننا حرام ہے اور پہنانے والوں کو گناہ ہوتا ہے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ریشمی کپڑے کو بچھونے میں استعمال کرنا اور اس پر سونا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا اسی طرح اگر تکیہ کے غلاف اور پردے ریشمی کپڑے کے ہوں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ جب کہ حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے ان سب کو مکروہ کہا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ (حدیث میں مردوں کے لئے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی کپڑے پر بیٹھنے کی جو ممانعت منقول ہے اس میں پہننے کی ممانعت تو متفقہ طور پر سب کے نزدیک تحریم پر محمول ہے لیکن ریشمی کپڑے پر بیٹھنے کی) ممانعت صاحبین کے نزدیک تو تحریم ہی پر محمول ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک تنزیہہ پر محمول ہے کیونکہ ابھی اوپر ان کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ وہ ریشمی کپڑے کو بچھونے وغیرہ میں استعمال کرنے کے مسئلہ میں یہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جس کا مطلب یہ کہ ان چیزوں میں ریشمی کپڑے کا استعمال بہر حال احتیاط وتقویٰ کے خلاف ہے، کیونکہ کسی عمل کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ ہونے کے شک سے بچنے کے لئے اس عمل کو نہ کرنا ہی بہتر ہے اس خوف کے سبب کہ شاید اس میں کوئی مضائقہ ہو اور یہی معنی اس مشہور حدیث کے بھی ہیں! دع مالا یریبک الی ما یریبک یعنی اس کام کو چھوڑ دو جس میں شک ہو اور اس کام کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو بہرحال حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کو چونکہ ایسی کوئی دلیل قطعی حاصل نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر ریشمی کپڑے پر بیٹھنے یا سونے کو حرام قرار دیا جاسکے اور کپڑے پہننے کی ممانعت میں جو صریح نصوص (یعنی اس کی حرمت کے واضح احکام) منقول ہیں ان کے دائرہ حکم میں ریشمی کپڑے پر بیٹھنے کا مسئلہ نہیں آتا کیوں کہ پہننا اور بیٹھنا دو الگ الگ چیزیں ہیں کہ پہننے کا اطلاق بیٹھنے پر نہیں ہوسکتا اس لئے انہوں نے اس حدیث میں (ریشمی کپڑے پر بیٹھنے کی ممانعت کو نہی تنزیہہ پر محمول کیا ہے۔

4219Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ریشمی کپڑے پہننا مردوں کے لئے ناجائز ہے

وعن علي رضي الله عنه قال : أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء فبعث بها إلي فلبستها فعرفت الغضب في وجهه فقال : إني لم أبعث بها إليك لتلبسها إنما بعثت بها إليك لتشققها خمرا بين النساء

اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دھاری دار ریشمی جوڑا (جو تہبند اور چادر پر مشتمل تھا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو میرے پاس بھیج دیا اور میں نے اس کو پہن لیا لیکن میں نے دیکھا کہ (اس جوڑے کو میرے بدن پر دیکھ کر) آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار پیدا ہوگئے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے اس جوڑے کو تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو بلکہ میں نے تو اس جوڑے کو تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اوڑھنیاں بنا لو اور ان اوڑھنیوں کو عورتوں میں تقسیم کردو۔ (بخاری ومسلم) تشریح آنحضرت ﷺ نے جب اس جوڑے کو حضرت علی ؓ کے پاس بھیجا تو وہ یہ سمجھے کہ آپ ﷺ نے اس جوڑے کو میرے پہننے کے لئے بھیجا ہے کیونکہ اس کا پہننا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ میرے پاس کیوں بھیجتے چناچہ انہوں نے پہن لیا اور جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے تو آپ ﷺ کے غصہ کا سبب یہ تھا کہ اس کپڑے میں اکثر حصہ یا سب کا سب ریشم تھا اس صورت میں حضرت علی ؓ نے اس کو پہن کر ایک شرعی حکم کی خلاف ورزی کی، یا یہ کہ اگر اس میں ریشم کم مقدار میں تھا اور اس وجہ سے اگرچہ اس کا پہننا جائز تھا لیکن بہرحال حضرت علی ؓ کی شان یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو پہنتے اس لئے آپ ﷺ خفا ہوئے کہ انہوں نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ یہ کپڑا متقی و پرہیز گار لوگوں کا لباس نہیں ہوسکتا۔

4220Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ریشمی کپڑے پہننا مردوں کے لئے ناجائز ہے

وعن عمر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الحرير إلا هكذا ورفع رسول الله صلى الله عليه وسلم إصبعيه : الوسطى والسبابة وضمهما وفي رواية لمسلم : أنه خطب بالجابية فقال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس الحرير إلا موضع أصبعين أو ثلاث أو أربع

اور حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ریشم (کے کپْڑے) پہننے سے منع فرمایا علاوہ اتنی (یعنی دو انگشت) مقدار کے اور آنحضرت ﷺ نے (یہ ممانعت بیان فرماتے ہوئے مذکورہ مقدار کو ظاہر کرنے کے لئے اپنی درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو اٹھایا اور دونوں کو ملایا (یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں انگلیوں کو ملا کر دکھایا اور بتایا کہ اس قدر یعنی دو انگشت کے بقدر ریشمی کپڑا لباس میں ہو تو مباح ہے) (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے (ملک شام کے ایک شہر) جابیہ میں اپنے خطبہ کے دوران یہ فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے علاوہ بقدر دو یا تین اور یا چار انگل کے۔ تشریح پہلی روایت سے مردوں کے لئے ریشمی کپڑے کی مباح مقدار دو انگشت معلوم ہوئی اور دوسری روایت سے معلوم ہوا کہ چار انگشت تک کی مقدار مباح ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ چار انگشت تک کے بقدر ریشمی کپڑا مردوں کے لباس میں استعمال ہو تو جائز ہے چناچہ اکثر علماء کا یہی قول ہے۔

4221Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا طیلسانی جبہ

وعن أسماء بنت أبي بكر : أنها أخرجت جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج وفرجيها مكفوفين بالديباج وقالت : هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت عند عائشة فلما قبضت قبضتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى نستشفي بها . رواه مسلم

اور حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے طیلسانی کا کسروانی جبہ نکالا، اس کے گریبان پر (سبخاف یعنی گوٹ کے طور پر) ریشمی کپڑے کا ٹکڑا سلا ہوا تھا اور اس کی دونوں کشادگیوں پر بھی ریشمی بیل ٹکی ہوئی تھی پھر انہوں نے فرمایا کہ یہ رسول کریم ﷺ کا جبہ ہے جو حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھا اور جب ان کی وفات ہوئی تو (حضرت عائشہ ؓ کی میراث سے جو میری بہن تھیں) میرے قبضے میں آگیا رسول کریم ﷺ اس جبہ کو (کبھی کبھی) پہن لیا کرتے تھے، ہم اس کو بیماروں کے لئے دھوتے ہیں (یعنی اس کے دھوئے ہوئے پانی کو بیماروں کو پلاتے ہیں) اور اس کے ذریعہ شفا حاصل کرتے ہیں۔ (مسلم) تشریح طیالس اصل میں طیلسان کی جمع ہے اور طیلسان، ایک دوسری زبان کے لفظ تالسان کا معرب ہے جو ایک خاص قسم کی چادر کو کہتے ہیں، یہ چادر سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور صوف (اون) سے بنتی ہے پہلے زمانہ میں اس چادر کو عام طور پر یہودی لوگ اوڑھا کرتے تھے یہاں حدیث میں جس جبہ (چغہ) کا ذکر کیا گیا ہے وہ اسی چادر کا بنایا گیا تھا اور سیاہ رنگ کا مدور تھا چونکہ اس طرح کا جبہ فارس (ایران) کے بادشاہ خسرو کی طرف منسوب ہوتا تھا اور خسرو کا عربی لفظ کسریٰ یا بعض کے مطابق کسریٰ ہے اس لئے اس جبہ کو کسروانی کہا گیا ہے۔ دونوں کشادگیوں سے مراد جبہ کے وہ دونوں کنارے ہیں جہاں سے جبہ کھلا ہوتا ہے اور جو ایک آگے اور ایک پیچھے ہوتا ہے جیسا کہ عام طور پر بعض جبوں کے آگے اور پیچھے دامن میں چاک کھلے ہوتے ہیں انہی دونوں چاکوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان پر جو سبخاف (گوٹ یا بیل) ٹکی ہوئی تھی وہ ریشم کی تھی۔ حضرت اسماء ؓ نے اس جبہ کو اس لئے نکالا تھا کہ لوگوں کو اس نعمت و برکت کا ان (اسماء ؓ کے پاس ہونا معلوم ہوا اور یہ ظاہر کرنا بھی مقصد تھا کہ اگر جبہ پر اس طرح کی ریشمی سبخاف ٹکی ہوئی ہو تو اس کو پہننا جائز ہے۔ واضح رہے کہ اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ریشمی سبخاف لگے ہوئے جبہ کو پہنا ہے جب کہ اسی باب کی دوسری فصل میں عمران بن حصین ؓ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ میں ایسا کرتا نہیں پہنتا جس پر ریشمی سبخاف ٹکا ہو۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے اس کو اس توجیہ کے ذریعہ دور کیا جائے گا کہ حضرت عمران ؓ کی روایت اس صورت پر محمول ہے جب کہ وہ ریشمی سبخاف چار انگشت سے زائد ہو اور یہاں جو روایت نقل کی گئی ہے یہ چار انگشت یا اس سے کم ریشمی سبخاف کے ٹکے ہوئے ہونے پر محمول ہے یا یہ کہ حضرت عمران ؓ کی روایت کا منشاء احتیاط وتقویٰ کی صورت کو بیان کرنا ہے اور حضرت اسماء ؓ کی اس حدیث کا مقصد اصل جواز کو ظاہر کرنا ہے۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ بعض اعتبار سے کرتے میں جبہ کی بہ نسبت زیادہ ٹھاٹ باٹ اور آسودگی کا اظہار ہوتا ہے (اس لئے آنحضرت ﷺ نے ریشمی سبخاف کے ٹکے ہوئے کرتے کو پہننا پسند نہیں فرمایا اور ریشمی سبخاف ٹکا ہوا جبہ پہنا۔ اور اس کے ذریعہ شفا حاصل کرتے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس کے دھوئے ہوئے پانی کو بیماروں کو پلاتے ہیں جس سے ان کو شفا ملتی ہے یا اس شفایابی کے مقصد سے اس جبہ کو مریض کے سر پر اور آنکھوں پر رکھتے لگاتے ہیں اور یا اس جبہ کو ہاتھ سے چھو کر یا اس کو بوسہ دے کر اس کی برکت سے شفا حاصل کرتے ہیں۔