پینے کی چیزوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 139 · 39 hadiths · Page 1 of 2

4163Mishkaat-al-Masabih

پانی کو تین سانس میں پینے کی خاصیت

عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتنفس في الشراب ثلاثا . متفق عليه . وزاد مسلم في رواية ويقول : إنه أروى وأبرأ وأمرأ

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پانی پینے کے درمیان تین مرتبہ سانس لیتے تھے (بخاری و مسلم) اور مسلم نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ۔۔۔۔۔ اور آپ ﷺ فرماتے کہ اس طرح (کئی سانس میں پانی پینا اچھی طرح سیراب کرتا ہے اور پیاس کو بجھاتا ہے بدن کو صحت بخشتا ہے اور خوب ہضم ہوتا ہے اور معدہ میں بڑی آسانی کے ساتھ جاتا ہے۔ تشریح تین مرتبہ سانس لیتے تھے یعنی آپ ﷺ پانی تین سانس میں پیتے تھے، حضرت انس ؓ نے یہ بات اکثر کے اعتبار سے بیان کی ہے کہ آپ ﷺ اکثر و بیشتر اسی طرح پانی پیتے تھے اور بعض روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں دو سانس میں بھی پینے کا ذکر آیا ہے بہرحال تین یا دو سانس میں پینے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ ہر مرتبہ برتن کو منہ سے جدا کرلیتے تھے۔

4164Mishkaat-al-Masabih

مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت

وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من قي السقاء

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشک کے دھانے سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مشک یا اس جیسی دوسری چیزوں (جیسے ہینڈ پمپ یا گھڑے وغیرہ) کے دہانہ (منہ) سے پانی پینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس طریقہ سے اول تو پانی ضرورت سے زائد صرف ہوتا ہے، دوسرے وہ پانی کپڑوں وغیرہ پر گر کر ان کو خراب کرتا ہے تیسرے یہ کہ اس طرح پانی پینا کہ زیادہ مقدار میں دفعتا پیٹ میں جائے معدہ کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اور چوتھے یہ کہ پانی پینے کا جو مسنون طریقہ ہے اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

4165Mishkaat-al-Masabih

مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت

وعن أبي سعيد الخدري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الأسقية . زاد في رواية : واختناثها : أن يقلب رأسها ثم يشرب منه

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشک کا منہ موڑنے یعنی اس کا منہ موڑ کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ اور راوی نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ مشک کا منہ موڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مشک کا سرا (یعنی منہ) الٹ دیا جائے اور پھر اس سے پانی پیا جائے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس ممانعت کی وجہ سے بھی وہی ہے کہ جو اوپر ذکر کی گئی، مشک کا منہ موڑ کر پانی پینے کی صورت میں ایک خدشہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس مشک میں کوئی کیڑا پتنگا ہو، یا کوئی زہریلا جانور اندر بیٹھا ہو اور وہ یکبارگی منہ کے اندر چلا جائے اور کوئی ضرر پہنچائے۔ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پیا ہے، یہ روایت دوسری فصل میں آئے گی اس سے مشک کے منہ سے پانی پینے کا جواز ثابت ہوتا ہے، چناچہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ جن روایتوں سے ممانعت ثابت ہوتی ہے ان کا تعلق بڑی مشک سے ہے جن کا منہ زیادہ فراخ ہوتا ہے اور جہاں تک آنحضرت ﷺ کے عمل کا تعلق ہے تو وہ چھوٹی مشک پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایسی مشک کے منہ سے پانی پیا ہوگا جو چھوٹی ہوگی اور اس کا دہانہ تنگ ہوگا، بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ممانعت کا تعلق دوام اور عادت سے ہے یعنی مشک کے منہ سے پانی پینے کی عادت نہ ڈالنی چاہئے، کیونکہ اس کیوجہ سے مشک کے منہ سے رفتہ رفتہ بدبو پیدا ہونے لگے گی اور اگر گاہ بگاہ مشک کے منہ سے پانی پی لیا جائے تو یہ ممنوع نہیں ہوگا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اباحت کا تعلق ضرورت و احتیاج سے ہے کہ اگر فرض کیجئے پانی پینے کی ضرورت ہو اور اس وقت کوئی ایسا برتن موجود نہ ہو جس میں پانی انڈیل کر پیا جاسکتا ہو تو پھر اس صورت میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ مشک یا گھڑے کے منہ سے پانی پی لیا جائے، ہاں بغیر ضرورت و احتیاج کے اس طرح پانی پینا ممنوع ہوگا کیونکہ اس طریقہ سے پانی پینے میں مذکورہ بالا مضرات کا خدشہ ہوسکتا ہے خاص طور پر مشک کے اندر کسی زہریلے جانور کی موجودگی کے خطرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص نے (مشک کے) دہانہ سے پانی پیا، تو اس کے اندر سے ایک سانپ نکل آیا۔ اور آخر میں ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ اس طرح پانی پینا پہلے مباح تھا مگر بعد میں اس ممانعت کے ذریعہ اس اباحت کو منسوخ قرار دے دیا گیا۔

4166Mishkaat-al-Masabih

کھڑے ہو کر پانی مت پیو

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى أن يشرب الرجل قائما . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پئے۔ (مسلم )

4167Mishkaat-al-Masabih

کھڑے ہو کر پانی مت پیو

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يشربن أحد منكم قائما فمن نسي منكم فليستقئ . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پئے اگر کسی شخص نے بھول سے کھڑے ہو کر پی لیا تو اس کو چاہئے کہ وہ قے کر ڈالے۔ (مسلم) تشریح حدیث میں قے کر ڈالنے کا جو امر (حکم) بیان کیا گیا ہے وہ وجوب کے طور پر نہیں ہے بلکہ بطریق استحباب ہے، چناچہ اس حدیث کی صراحت کے مطابق اگر کسی شخص نے بھول سے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو اس کے لئے یہ مستحب ہے وہ قے کر ڈالے۔ قاضی نے کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کی یہ ممانعت اصل میں اولی و بہتر طریقہ (یعنی بیٹھ کر پانی پینے) کی تلقین اور اس کے خلاف پر تادیب و تنبیہ کے طور پر ہے نہ کہ یہ ممانعت نہی تحریمی کے طور پر ہے حاصل یہ کہ اس ارشاد سے یہ نہ سمجھا جائے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا حرام ہے اس اعتبار سے یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہوگی جس میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک یا دو مرتبہ اس کے برخلاف عمل کیا ہے۔

4168Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا

وعن ابن عباس قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بدلو من ماء زمزم فشرب وهو قائم

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں زمزم کے پانی کا ایک ڈول لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اس کو اس حالت میں پیا کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم )۔ تشریح آپ ﷺ کا زم زم کے پانی کو کھڑے ہو کر پینا یا تو تبرک کی بنا پر تھا، یا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے ازدہام کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے وہاں بیٹھنا ممکن نہیں تھا اور یا جہاں (زم زم کے کنویں کے پاس) آپ ﷺ کھڑے تھے وہاں آس پاس پانی گرنے کی وجہ سے کیچڑ ہوگیا تھا اور اس کیچڑ میں کس طرح بیٹھ سکتے تھے اور یا یہ کہ آپ ﷺ کے کھڑے ہو کر پانی پینے کا مقصد محض بیان جواز تھا۔

4169Mishkaat-al-Masabih

وضو کا پانی اور آب زم زم کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے

وعن علي رضي الله عنه : أنه صلى الظهر ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة حتى حضرت صلاة العصر ثم أتي بماء فشرب وغسل وجهه ويديه وذكر رأسه ورجليه ثم قام فشرب فصله وهو قائم ثم قال : إن أناسا يكرهون الشرب قائما وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت . رواه البخاري

اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر لوگوں کے معاملات و مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے کوفہ کی ایک بلندو کشادہ جگہ پر اپنی مجلس قائم کی (اور وہاں لوگوں کے جھگڑوں اور معاملوں کو سن سن کر فیصلہ کرتے رہے) یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا جب (وضو کے لئے) پانی لایا گیا تو انہوں نے (اپنی پیاس بجھانے کے لئے وضو سے پہلے اس پانی میں سے) پیا اور پھر انہوں نے (وضو کے لئے) اپنا منہ اور اپنے ہاتھ دھوئے اور راوی نے یہ ذکر کیا کہ (انہوں نے) اپنا سر کا مسح اور اپنے پاؤں (دھوئے) اس کے بعد حضرت علی ؓ کھڑے ہوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی اس حالت میں پیا کہ وہ کھڑے ہوئے تھے اور پھر فرمایا کہ بعض لوگ کھڑے ہو کر پینے کو کراہت پر محمول کرتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ (ابھی) میں نے کیا۔ (بخاری) تشریح اور راوی نے یہ ذکر کیا الخ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اوپر کے (یعنی پہلے) راوی نے جہاں ہاتھ اور منہ دھونے کا ذکر کیا تھا وہیں سر اور پیروں کے بارے میں بھی ذکر کیا تھا لیکن جب نیچے کے (یعنی بعد کے) راوی نے حدیث نقل کی تو وہ پہلے راوی کے قول کی تفصیل بھول گیا اور اسے یاد نہیں رہا کہ پہلے راوی نے یہ کہا تھا (کہ حضرت علی ؓ نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیروں کو دھویا جیسا کہ بظاہر یہی واضح ہوتا ہے یا یہ کہ پہلے راوی نے یہ بیان کیا تھا کہ انہوں نے اپنے سر کا بھی مسح کیا اور پیروں کا بھی مسح کیا جیسا کہ اسی واقعہ کے بارے میں حضرت علی ؓ سے منقول ایک روایت میں یہی ذکر کیا گیا ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ پیروں کے مسح سے مراد پیروں کو ہلکے طور پر دھونا ہے اور یا یہ کہ حضرت علی ؓ نے اس وقت موزے پہن رکھے ہوں گے، اس لئے انہوں نے پیروں پر مسح کیا۔ اس حالت میں پیا کہ وہ کھڑے ہوئے تھے یہ جملہ دراصل تاکید کے طور پر ہے تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ کھڑے ہونے کے بعد پھر بیٹھ کر انہوں نے پانی پیا ہوگا چناچہ اس بات کو مکرر واضح کیا گیا کہ انہوں نے اسی طرح کھڑے کھڑے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ واضح رہے کہ احادیث میں کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت بیان کی گئی ہے جب کہ آنحضرت ﷺ اور اکابر صحابہ کا عمل اس کے برخلاف بھی ثابت ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں پہلے گزر ہی چکا ہے اور مواہب لدنیہ میں حضرت جبیر بن مطعم سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر پانی پی رہے تھے اسی طرح حضرت امام مالک نے بیان کیا ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر ؓ عنہ، حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں جو اس طرح کا تضاد و تعارض واقع ہوا ہے اس کو دور کرنے کے لئے علماء نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں جو ممانعت منقول ہے وہ اصل میں نہی تنزیہہ کے طور پر ہے، یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ممانعت کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ایک عادت و معمول بنالیں (ویسے گاہ بگاہ یا کسی عذر کی بنا پر کھڑے ہو کر پانی پی لینے میں کوئی مضائقہ) اسی لئے آنحضرت ﷺ نے جو کھڑے ہو کر پانی پیا اس کا مقصد محض اس جواز کو بیان کرنا تھا علاوہ ازیں آب زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی اس ممانعت سے مستثنیٰ ہے بلکہ ان کو تو کھڑے ہی ہو کر پینا مستحب ہے، چناچہ بعض فقہی روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا جائے البتہ اور پانی کھڑے ہو کر نہ پیا جائے۔

4170Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کی طرح منہ ڈال کر پانی پینا مکروہ ہے

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الأنصار ومعه صاحب له فسلم فرد الرجل وهو يحول الماء في حائط فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن كان عندك ماء بات في شنة وإلا كرعنا ؟ فقال : عندي ماء بات في شن فانطلق إلى العريش فسكب في قدح ماء ثم حلب عليه من داجن فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم أعاد فشرب الرجل الذي جاء معه . رواه البخاري

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ ایک انصاری (یعنی ابوالہیثم جن کا ذکر پہلے بھی گزرا ہے) کے باغ میں تشریف لے گئے آپ ﷺ کے ہمراہ صحابی (یعنی حضرت ابوبکر ؓ بھی تھے، آنحضرت ﷺ نے (باغ میں پہنچ کر) سلام علیک کی، ان انصاری نے جو اس وقت باغ میں پانی دے رہے تھے آپ کے سلام کا جواب دیا، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس پرانی مشک میں باسی پانی ہو (تو لاؤ تاکہ ہم پئیں) اور اگر تمہارے پاس ایسا پانی نہ ہو تو پھر ہم ندی یا نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔ (انہوں نے عرض کیا کہ (جی ہاں) میرے پاس پرانی مشک میں باسی پانی موجود ہیں۔ چناچہ وہ جھونپڑی میں گئے جو (انہوں نے اس باغ میں ڈال رکھی تھی) اور ایک پیالہ میں پانی لے کر پھر اس پر (یعنی اس پیالہ میں) گھر کی پلی ہوئی بکری کا دودھ دوہا (اور اس پیالہ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا) جس کو نبی کریم ﷺ نے نوش فرمایا اس کے بعد وہ انصاری پہلے پیالہ کی طرح ایک اور پیالہ لے کر آئے، جس کو ان صاحب نے پیا جو آنحضرت ﷺ کے ہمراہ آئے تھے۔ (بخاری) تشریح کر عنا کے معنی ہیں ہم کرع میں سے پانی پی لیں گے اور کرع اس جگہ کو کہتے ہیں، جہاں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے، اسی طرح چھوٹی سی نہر اور تالاب کو بھی کرع کہتے ہیں اس اعتبار سے کر عنا کا مفہوم یہ ہوا کہ ہم بغیر کسی برتن کے اور بغیر ہاتھ لگائے نہر یا تالاب وغیرہ سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کرع اس کو کہتے ہیں کہ بغیر برتن اور ہاتھ کے منہ ڈال کر پانی پیا جائے جس طرح چوپائے تالاب وغیرہ میں اپنے پاؤں ڈال کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر منہ لگا کر پانی پیتے ہیں۔ سیوطی کہتے ہیں کہ (اس حدیث سے مفہموم ہوتا ہے کہ کرع یعنی منہ ڈال کر پانی پینا جائز ہے جب کہ) ابن ماجہ کی ایک روایت میں کرع کی ممانعت منقول ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ ابن ماجہ کی روایت کا تعلق نہی تنزیہی سے ہے اور یہاں جو بیان کیا گیا ہے وہ جواز کو ظاہر کرنے کے لئے تھا (مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں تو اس طرح جانوروں کے طریقہ پر پانی پینا مکروہ ہے لیکن مخصوص حالات میں اس طرح پانی پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے )۔

4171Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا حرام ہے

وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : إن الذي يأكل ويشرب في آنية الفضة والذهب

اور حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو اس کا یہ پیتا اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا کہ اس کے پیٹ میں دوزخ کی آگ کو غٹ غٹ اتارے گا ( بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص چاندی اور سونے کے برتن میں کھاتا اور پیتا ہے اس کا حشر بھی یہی ہوگا تشریح تمام علماء اور ائمہ کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لئے چاندی اور سونے کے برتن میں کھانا پینا حرام ہے اسی طرح ان کے برتنوں میں پانی بھر کر وضو کرنے یا ان میں عطر رکھ کر ان سے عطر لگانے اور یا ان میں حقہ رکھ کر حقہ پینے وغیرہ جیسے کاموں میں استعمال کرنا بھی حرام ہے اگر کسی چاندی یا سونے کے برتن میں کھانے پینے کی چیز رکھی ہو تو اس کو پہلے اس میں سے نکال کر کسی دوسرے برتن میں رکھ لیا جائے اور پھر اس کو کھایا جائے، اسی طرح تیل یا عطر وغیرہ ہو تو پہلے اس تیل یا عطر کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر نکال لیا جائے اور پھر اس کو دائیں ہاتھ سے لگایا جائے اور اگر یہ صورت اختیار کی گئی کہ اس تیل یا عطر وغیرہ کو اس چاندی یا سونے کے برتن میں سے کسی ہاتھ کی ہتھیلی پر نکالا گیا اور پھر اسی ہتھیلی سے لگایا گیا تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ مفضض برتن میں پانی پینا جائز ہے بشرطیکہ منہ لگانے کی جگہ چاندی نہ ہو، اسی طرح سونے یا چاندی کے مضبب پیالہ میں بھی پانی پینا جائز ہے کیوں کہ پیالہ پر ضباب کا ہونا (یعنی اس پر سونے پر چاندی کا پتر چڑھا ہوا ہونا) اس پیالہ کی مظبوطی کے لئے ہونا ہے نہ زینت و آرائش کے مقصد سے

4172Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا حرام ہے

وعن حذيفة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تلبسوا الحرير ولا الديباج ولا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صحافها فإنها لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ریشمی کپڑا نہ پہنو اور نہ دیباج پہنو۔ (جو ایک طرح کا ریشمی ہی کپڑا ہوتا ہے) اسی طرح نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کوئی چیز پیو اور نہ سونے چاندی کی رکابیوں اور پیالوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ساری چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح ریشمی کپڑا نہ پہنو اس حکم سے چار انگشت کے بقدر ریشمی کپڑا مستثنیٰ ہے جو دوسرے کپڑے کے کنارے پر لگایا جائے، مثلا الحالق (یعنی روئی کی عبایا انگر کھے) وغیرہ کی سنجاف یعنی گوٹ یا جھالر ریشمی کپڑے کی لگانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ چار انگشت سے زائد چوڑی نہ ہو۔ اسی طرح وہ کپڑا پہننا جائز ہے جس کے تانے میں ریشم ہو اور بانے میں سوت اور اگر سوت تانے میں ہو اور ریشم بانے میں ہو تو اس کا پہننا جائز نہیں ہوگا لیکن لڑائی کے موقع پر اس کا پہننا بھی جائز ہوگا، اسی طرح اگر کسی کو خارش کا مرض لاحق ہو، یا جوؤں کی کثرت ہوگئی تو اس صورت میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہوگا۔

4173Mishkaat-al-Masabih

دائیں طرف سے دینا شروع کرو

وعن أنس قال : حلبت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة داجن وشيب لبنها بماء من البئر التي في دار أنس فأعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم القدح فشرب وعلى يساره أبو بكر وعن يمينه أعرابي فقال عمر : أعط أبا بكر يا رسول الله فأعطى الأعرابي الذي عن يمينه ثم قال : الأيمن فالأيمن وفي رواية : الأيمنون الأيمنون ألا فيمنوا

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ (جب ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ کے لئے گھر کی پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اور اس دودھ کو اس کنویں کے پانی میں ملایا گیا جو انس ؓ کے گھر میں تھا، پھر یہ دودھ کا پیالہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس میں آپ ﷺ نے کچھ دودھ پیا۔ (اس وقت) آنحضرت ﷺ کے بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ بیٹھے تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا تھا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ بچا ہوا دودھ حضرت ابوبکر ؓ کو دیجئے لیکن آپ ﷺ نے اس دیہاتی کو عنایت فرمایا جو آپ ﷺ کی دائیں طرف بیٹھا تھا پھر فرمایا کہ دایاں مقدم ہے اور پھر دایاں۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ (آپ ﷺ نے اس موقع پر یہ فرمایا کہ) یاد رکھو! دائیں طرف کے زیادہ حق دار ہیں دائیں طرف کے زیادہ حق دار ہیں لہٰذا دائیں طرف والوں کو دیا کرو یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ دائیں طرف والے زیادہ حق دار ہیں تو تم بھی دائیں طرف والوں کی رعایت ملحوظ رکھا کرو کہ دینے میں انہی سے ابتداء کرو۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو انس ؓ کے گھر میں تھا ظاہری اسلوب کا تقاضا تو یہ تھا کہ حضرت انس ؓ یہاں یہ کہتے کہ جو ہمارے گھر میں تھا کیوں کہ حضرت انس ؓ نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے وہ انہی کے گھر کا ہے، جس بکری کا دودھ دوہا گیا تھا وہ بھی حضرت انس ؓ کے گھر میں تھی اور وہ کنواں بھی ان ہی کے گھر میں تھا اور خود حضرت انس ؓ ہی اس واقعہ کو بیان کرنے والے ہیں، لیکن انہوں نے ظاہری اسلوب کے تقاضے کے برخلاف یہ کہہ کر کہ جو انس ؓ کے گھر میں تھا گویا تفنن عبارت کے اسلوب کو اختیار کیا جس کو علم عربیت میں وضع مظہر موضع مضمر کہتے ہیں۔ دونوں لفظ ایمن نون کے پیش کے ساتھ ہیں جن کا ترجمہ یہی ہے کہ دایاں مقدم ہے اور پھر دایاں یعنی سب سے پہلے اس شخص کو دیا جائے جو داہنی طرف ہو اور پھر اس شخص کو دیا جائے جو پہلے شخص کے برابر میں اسی طرف ہو، اسی ترتیب سے دیتا چلا جائے، یہاں تک کہ سب سے آخر میں اس شخص کا نمبر آئے جو بائیں طرف ہے۔ ایک روایت میں یہ دونوں لفظ ایمن نون کے زبر کے ساتھ ہیں اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ میں دائیں طرف والے کو دوں گا پھر دائیں طرف والے کو، لیکن نون کے پیش روایت کی تائید مذکورہ بالا دوسری روایت الا یمنون الا یمنون سے بھی ہوتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے دینے میں اپنی داہنی طرف کی رعایت ملحوظ رکھنا مستحب ہے یعنی اگرچہ داہنی طرف کا شخص بائیں طرف کے شخص کی بہ نسبت کم رتبہ بھی ہو تو تب بھی پہلے اسی کو دیا جائے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس دیہاتی کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر اسی لئے مقدم رکھا کہ وہ دائیں طرف تھا، نیز یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے کمال عدل و انصاف اور آپ ﷺ کے وصف حق شناسی پر بھی دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کے افضل اور مقرب ترین ہونے اور حضرت عمر ؓ کی سفارش کے باوجود دیہاتی کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جہاں تک حضرت عمر ؓ کے عرض کرنے کا تعلق ہے تو انہوں نے محض یاد دہانی کے لئے عرض کیا تھا کہ شاید آنحضرت ﷺ کو وہاں حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی یاد نہ رہی ہو۔

4174Mishkaat-al-Masabih

دائیں طرف سے دینا شروع کرو

وعن سهل بن سعد قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بقدح فشرب منه وعن يمينه غلام أصغر القوم والأشياخ عن يساره فقال : يا غلام أتأذن أن أعطيه الأشياخ ؟ فقال : ما كنت لأوثر بفضل منك أحدا يا رسول الله فأعطاه إياه وحديث أبي قتادة سنذكر في باب المعجزات إن شاء الله تعالى

اور حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (دودھ یا پانی) کا پیالہ لایا گیا جس سے آپ ﷺ نے پیا اس وقت آپ ﷺ کے دائیں طرف ایک نوعمر تھا جو (حاضرین مجلس میں) سب سے چھوٹا تھا، (یعنی حضرت ابن عباس ؓ اور جو بڑے بوڑھے لوگ تھے وہ بائیں طرف تھے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لڑکے کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں اس (باقی ماندہ دودھ یا پانی) کو ان بوڑھوں کو دے دوں؟ اس نوعمر نے کہا کہ (نہیں) یا رسول اللہ! میں آپ ﷺ کے بچے ہوئے (دودھ یا پانی) کو دینے کے سلسلے میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس بچے ہوئے ( دودھ یا پانی) کو اسی نوعمر کو دے دیا۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت قتادہ ؓ کی روایت (جس کو صاحب مصابیح نے یہاں نقل کیا تھا) ہم انشاء اللہ باب المعجزات میں نقل کریں گے۔ تشریح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میں ایک سے زائد لوگ موجود ہوں اور ان کو کوئی چیز دینی ہو تو دائیں طرف کا شخص اس بات کا اولی اور زیادہ حق دار ہے کہ دینے کی ابتداء اسی سے کی جائے ہاں اگر کسی مصلحت کا یہ تقاضا ہو کہ پہلے اس شخص کو دیا جائے جو بائیں طرف ہے تو دائیں طرف والے سے اس کی اجازت لینی چاہئے، اگر وہ اجازت دے دے تب بائیں طرف والے کو دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ اس موقعے پر تو آنحضرت ﷺ نے ابن عباس ؓ سے اجازت مانگی لیکن پچھلی حدیث میں جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے اس موقع پر آپ ﷺ نے دیہاتی سے اجازت نہیں مانگی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے دائیں طرف جو بڑی عمر والے لوگ بیٹھے تھے ان کا تعلق قریش سے تھا اور ابن عباس ؓ آپ ﷺ کے قرابتدار تھے، لہٰذا آپ ﷺ نے سوچا کہ اگر ابن عباس ؓ سے اجازت لے کر ان لوگوں کو دے جائے تو ابن عباس ؓ کو کوئی ناگواری بھی نہ ہوگی اور ان بڑی عمر والے لوگوں کی تالیف قلوب بھی ہوجائے گی جب کہ اس موقعہ پر آنحضرت ﷺ کے بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے جن کا آنحضرت ﷺ سے پختہ تعلق تھا اور محبت و اخلاص راسخ تھا ان کی تالیف قلب کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، دوسری طرف اس دیہاتی کے بارے میں بھی یہ خیال تھا کہ اگر اس سے اجازت لے کر ابوبکر ؓ کو دیا گیا تو شاید وہ اس بات کو اپنی حق تلفی سمجھتے ہوئے کسی وحشت و بیگانگی کا شکار ہوجائے، کیونکہ وہ نیا نیا حلقہ بگوش اسلام ہوا تھا گویا آپ ﷺ نے اس کی تالیف قلب اسی میں دیکھی کہ اس سے اجازت نہ لی جائے۔ فقہاء اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ طاعات (یعنی امور اور عبادات) میں ایثار جائز نہیں ہے۔ یہ تو فقہاء کا قول ہے لیکن اس مسئلہ کا زیادہ واضح پہلو یہ ہے کہ اگر ایثار واجبات میں ہو تو حرام ہے اور اگر فضائل و مستحبات میں ہو تو مکروہ ہے، اس کو اور واضح طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے، مثلاً ایک شخص کے پاس صرف اتنا پانی ہے جس سے وہ خود وضو کرسکے لیکن اس نے وہ پانی کسی دوسرے شخص کو دے دیا اور خود تیمم کر کے نماز پڑھی یا اس کے پاس محض اتنا کپڑا تھا جو اس کی ستر پوشی کے بقدر تھا لیکن اس نے وہ کپڑا کسی دوسرے شخص کو دے دیا اور خود ننگے بدن نماز پڑھی، اسی طرح کا ایثار جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے، یہ تو واجبات میں ایثار کی صورت تھی، فضائل و مستحبات میں ایثار کی صورت یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص باجماعت نماز پڑھنے کے لئے پہلی صف میں امام کے قریب بیٹھا تھا لیکن اس نے وہ جگہ کسی دوسرے شخص کو دے دی اور خود پچھلی صف میں آ کر نماز پڑھی اس طرح کا ایثار اچھا نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے، طاعات کے برعکس دنیاوی امور میں ایثار ایک محمود و مستحسن عمل ہے، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض صوفیاء کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے بعض مواقع پر طاعات میں ایثار کی صورتیں اختیار کیں تو غالباً انہوں نے ایسا غلبہ حال کے سبب کیا ہوگا۔

4175Mishkaat-al-Masabih

چلتے پھرتے کھانا اور کھڑے ہو کر پینا اصل کے اعتبار سے جائز ہے

عن ابن عمر قال : كنا نأكل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح غريب

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں (ایسا بھی ہوتا تھا کہ) ہم چلتے پھرتے کھاتے تھے اور کھڑے ہونے کی حالت میں (پانی وغیرہ) پی لیا کرتے تھے (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تشریح علماء نے کہا ہے کہ چلتے پھرتے کھانا اور کھڑے ہو کر پینا اصل میں تو جائز ہیں لیکن زیادہ بہتر اور پسندیدہ بات یہ ہے کہ چلتے پھرتے ہوئے کھانے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ خلاف ادب ہے یہی بات کھڑے ہو کر پانی پینے کی بھی ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

4176Mishkaat-al-Masabih

چلتے پھرتے کھانا اور کھڑے ہو کر پینا اصل کے اعتبار سے جائز ہے

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : رأيت رسول لله صلى الله عليه وسلم يشرب قائما وقاعدا . رواه الترمذي

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ کو کھڑے ہو کر بھی پیتے دیکھا ہے اور بیٹھے ہوئے بھی۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پیتے ہوئے تو ایک بار دیکھا ہے اور وہ بھی یا تو بیان جواز کی خاطر تھا یا کسی ضرورت و عذر کی بنا پر تھا، اس ایک یا دو بار کے علاوہ اور تمام مواقع پر بیٹھ کر ہی پیتے دیکھا ہے۔

4177Mishkaat-al-Masabih

پیتے وقت برتن میں سانس نہ لو

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتنفس في الإناء أو ينفخ فيه . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ (پانی وغیرہ پیتے وقت) برتن میں یا پیالہ وغیرہ میں سانس لیا جائے، یا پھونک ماری جائے۔ (ابوداؤد، وابن ماجہ) تشریح پیتے وقت برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے تاکہ پئے جانے والے پانی وغیرہ میں تھوک نہ گرجائے اور دوسرے شخص کو اس سے کراہت محسوس نہ ہو، نیز بسا اوقات منہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور اس صورت میں اگر برتن میں سانس لیا جائے گا یا پھونک ماری جائے گی تو ہوسکتا ہے کہ اس پی جانے والی چیز میں بدبو پہنچ جائے، علاوہ ازیں پانی میں سانس لینا اصل میں چوپایوں کا طریقہ ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اگر اس پی جانے والی چیز کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پھونک مارنے کی ضروت ہو تو اس صورت میں بھی پھونک نہ ماری جائے بلکہ اس وقت تک پینے میں صبر کیا جائے جب تک کہ وہ ٹھنڈی نہ ہوجائے نیز اگر پانی میں کوئی تنکا وغیرہ پڑجائے تو اس کو کسی تنکے وغیرہ سے نکالا جائے، انگلی سے یا پھونک مار کر نہ نکالا جائے کیونکہ اس سے طبیعت نفرت و کراہت محسوس کرتی ہے۔

4178Mishkaat-al-Masabih

ایک سانس میں پانی مت پیو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تشربوا واحدا كشرب البعير ولكن اشربوا مثنى وثلاث وسموا إذا أنتم شربتم واحمدوا إذا أنتم رفعتم . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ تم ایک سانس میں پانی مت پیو جس طرح اونٹ پیتا ہے بلکہ دو سانس میں پیو اور جب تم پانی پینے لگو تو بسم اللہ کہو اور جب (پینے کے بعد) برتن کو اپنے منہ سے ہٹاؤ تو حمد کرو، (یعنی ہر بار میں یا آخری بار میں۔ (ترمذی) تشریح ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ پانی دو سانس میں پیا جائے تاکہ اونٹ کی مشابہت لازم نہ آئے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تین سانس میں پینا بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے اور اکثر اوقات میں آنحضرت ﷺ کا یہی معمول تھا۔ تو حمد کرو کے سلسلہ میں احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ پہلے سانس کے بعد الحمد للہ کہے دوسری سانس کے بعد رب العلمین کا اضافہ کرے اور تیسرے سانس کے بعد الرحمن الرحیم۔ نیز پانی پینے کے بعد پڑھی جانے والی یہ دعا بھی منقول ہے۔ الحمد للہ الذی جعلہ عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا۔

4179Mishkaat-al-Masabih

تنکا وغیرہ نکالنے کے لئے بھی پانی میں پھونک نہ مارو

وعن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النفخ في الشراب فقال رجل : القذاة أراها في الإناء قال : أهرقها قال : فإني لا أروى من نفس واحد قال : فأبن القدح عن فيك ثم تنفس . رواه الترمذي والدارمي

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ایک شخص نے (یہ ممانعت سن کر) عرض کیا کہ اگر میں پانی میں تنکے ونکے پڑے ہوئے دیکھوں (تو کیا کروں؟ کیونکہ اگر پھونک نہیں ماروں گا تو وہ تنکے کیسے نکلیں گے) آپ ﷺ نے فرمایا تم اس کو پھینک دو یعنی اوپر سے تھوڑا سا پانی پھینک دو تاکہ وہ تنکے وغیرہ نکل جائیں (اور چونکہ وہ شخص پھونک مارنے کی ممانعت سے یہ بھی سمجھا ہوگا کہ اس سے یہ بات بھی ضروری ہوئی کہ پانی پیتے وقت درمیان میں سانس نہ لیا جائے بلکہ ایک ہی سانس میں پانی پیا جائے اس لئے) اس نے عرض کیا کہ میں ایک دم یعنی ایک سانس میں پینے سے سیراب نہیں ہوتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس طرح پانی پیو کہ پہلے تھوڑا سا ٰپی کر) پیالہ کو منہ سے ہٹاؤ اور (برتن سے باہر) سانس لو (اور پھر ایسے ہی دوسرے اور تیسرے سانس میں باقی پانی پی لو۔ (ترمذی، دارمی )

4180Mishkaat-al-Masabih

پینے کا برتن اگر کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہو تو وہاں منہ لگا کر نہ پیو

وعنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من ثلمة القدح وأن ينفخ في الشراب . رواه أبو داود

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے پیالہ کے سوراخ سے پانی پینے سے منع فرمایا نیز آپ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے بھی منع فرمایا۔ (ابوداؤد) تشریح سوراخ سے مراد برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر پینے کا برتن کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہو تو اس جگہ سے منہ لگا کر پانی نہ پیو، کیونکہ اس جگہ ہونٹوں کی گرفت اچھی نہیں ہوگی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہاں سے پانی نکل کر بدن اور کپڑوں پر گرے گا، دوسرے یہ کہ برتن کی دھلائی کے وقت اس کی ٹوٹی ہوئی جگہ اچھی طرح صاف نہیں ہو پاتی وہاں مٹی وغیرہ لگی رہ جاتی ہے اس صورت میں پاکیزگی و صفائی کا تقاضا بھی یہی ہے اس جگہ منہ نہ لگایا جائے۔ حدیث کے مفہوم اور مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ سوراخ سے ٹوٹا ہوا برتن مراد نہیں ہے بلکہ اس کی ٹوٹی ہوئی جگہ مراد ہے یعنی اس ممانعت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی نہ پیا جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ پر منہ لگا کر پانی نہ پیا جائے۔

4181Mishkaat-al-Masabih

کبھی کبھار مشک وغیرہ کے منہ سے پانی پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے

وعن كبشة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فشرب من في قربة معلقة قائما فقمت إلى فيها فقطعته . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب صحيح

اور حضرت کبشہ ؓ (صحابیہ) کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے کھڑے کھڑے لٹکی ہوئی مشک کے منہ سے پانی پیا، چناچہ میں مشک کے منہ کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور اس کو کاٹ لیا۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ مشک کے منہ کے جتنے حصے پر آپ ﷺ کا دہن مبارک لگا تھا میں نے اتنے حصے کا چمڑا کاٹ کر رکھ لیا اور یہ میں نے تبرک یعنی حصول برکت کی غرض سے کیا یا اس احساس ادب کی بنا پر کیا تاکہ اس حصے پر کسی اور کا منہ نہ لگے جیسا کہ اسی طرح کے ایک واقعہ کے سلسلے میں حضرت ام سلمہ ؓ نے جو روایت بیان کی ہے اس میں انہوں نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ میں نے مشک کا منہ کاٹ دیا تاکہ آنحضرت ﷺ کے پینے کے بعد کوئی دوسرا شخص اس جگہ منہ لگا کر نہ پئے۔

4182Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کو میٹھا اور ٹھنڈا مشرورب بہت پسند تھا

وعن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : كان أحب الشراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الحلو البارد . رواه الترمذي وقال : والصحيح ما روي عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا

اور حضرت زہری، حضرت عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کے نزدیک پینے کی چیزوں میں ٹھنڈی میٹھی چیز بہت زیادہ پسندیدہ تھ، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ روایت صحیح ہے جو بحوالہ زہری آنحضرت ﷺ سے بطریق ارسال نقل کی گئی ہے۔ تشریح میٹھی چیز سے عموم مراد ہے کہ آپ ﷺ کو ہر میٹھا مشروب بہت زیادہ پسند تھا، خواہ وہ میٹھا پانی ہوتا تھا یا میٹھا دودھ اور خواہ شہد وغیرہ کا شربت! اس وضاحت سے اس حدیث اور ان دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت و یکسانیت پیدا ہوجاتی ہے، جن میں سے ایک میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پینے کی چیزوں میں دودھ سب سے زیادہ پسند تھا اور دوسری روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پینے کی چیزوں میں شہد سب سے زیادہ پسند تھا۔ وہ روایت صحیح ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ زہری نے اس روایت کو دو طریق سے نقل کیا ہے ایک تو مسند یعنی سند کے ساتھ جس طرح اوپر نقل کی گئی ہے کہ عن الزہری عن عروہ عن عائشۃ۔۔۔۔۔۔ الخ۔ اور دوسرے مرسل یعنی بغیر سند کے ذکر کیا ہے اس طرح کہ اس میں انہوں نے عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ عبارت کے ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عروہ کا ذکر بھی نہیں کیا ہے، کیونکہ زہری خود بھی تابعی ہیں اگرچہ صغیر تابعی ہیں، لہٰذا ترمذی کہتے ہیں کہ زہری کی روایت بطریق ارسال ہم تک پہنچی ہے اس کے سلسلہ سند میں جن راویوں کا ذکر ہے وہ حدیث کی اصطلاح میں قوی تر اور ضابطہ تر ہیں، بخلاف اس روایت کے سلسلہ سند کے جو متصل ہے اس کے بعض راوی ضعیف ہیں۔