پینے کی چیزوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 139 · 39 hadiths · Page 2 of 2

4183Mishkaat-al-Masabih

کھانے پینے میں دودھ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أكل أحدكم طعاما فليقل : اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه . وإذا سقي لبنا فليقل : اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه فإنه ليس شيء يجزى من الطعام والشراب إلا اللبن . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو یوں کہے یعنی یہ دعا پڑھے اللہم بارک لنا فیہ واطعمنا خیرا منہ (اے اللہ ہمیں اس کھانے میں برکت عطا فرما اور ہم کو اس سے بھی اچھا کھانے کو دے) اور جب تم میں سے کسی شخص کو دودھ پینے کو ملے تو وہ یوں کہے، یعنی یہ دعا پڑھے۔ اللہم بارک لنا فیہ وزدنا منہ ( اے اللہ ہمیں ہمارے اس دودھ میں برکت عطا فرما اور ہم کو اس سے زیادہ پینے کو دے اور (دودھ پینے کی اس دعا اس سے بھی اچھا پینے کو دے کے الفاظ نہ کہے کیوں کہ دودھ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے، جو اللہ سے مانگی جاسکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ) ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے کا بدل بن سکے علاوہ دودھ کے (کہ وہ شکم سیر کرنے کی بھی خاصیت رکھتا ہے اور سیراب کرنے کی بھی )۔ (ترمذی، ابوداؤد )

4184Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے لئے میٹھے پانی کا خاص اہتمام

وعن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه وسلم يستعذب له الماء من السقيا . قيل : هي عين بينها وبين المدينة يومان . رواه أبو داود

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے لئے میٹھا پانی سقیا سے لایا جاتا تھا، بعض حضرات نے بیان کیا کہ سقیا ایک چشمہ کا نام ہے، جو مدینہ سے دو منزل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ (ابوداؤد )

4185Mishkaat-al-Masabih

سونے چاندی کے برتن میں نہ پئو

عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من شرب في إناء ذهب أو فضة أو إناء فيه شيء من ذلك فإنما يجرجر في بطنه نار جهنم . رواه الدارقطني

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پئے گا یا کسی ایسے برتن میں پئے گا (جو اگرچہ کلیۃ سونے چاندی کا نہ ہو مگر) اس میں سونے یا چاندی کا کچھ حصہ ہو تو اس کا یہ پینا اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا کہ اس کے پیٹ میں دوزخ کی آگ کو غٹ غٹ اتارے گا۔ (دارقطنی) تشریح اس میں سونے یا چاندی کا کچھ حصہ ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سونے یا چاندی کی کیلیں وغیرہ لگی ہوئی ہوں۔ اور طیبی نے نووی سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر وہ کیلیں وغیرہ چھوٹی چھوٹی ہوں اور اتنی ہی مقدار و تعداد میں استعمال کی گئی ہوں جو ضرورت و حاجت کے بقدر ہوں تو وہ حرام و مکروہ کے حکم میں داخل نہیں ہوں گی، لیکن اگر زیادہ مقدار و تعداد میں بھی ہوں اور بڑی بڑی یا چوڑی ہوں تو پھر وہ حرام کے حکم میں ہوں گی، لیکن جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس سلسلے میں حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ جس برتن میں سونے یا چاندی کی کیلیں وغیرہ لگی ہوئی ہوں اس میں پانی پینا جائز ہے بشرطیکہ جس جگہ منہ لگا کر پیا جائے وہاں سونا یا چاندی نہ ہو۔

4186Mishkaat-al-Masabih

نقیع اور نبیذوں کا بیان

آنحضرت ﷺ جو چیزیں پیا کرتے تھے ان میں ایک نقیع اور نبیذ بھی ہے۔ یہ دونوں چیزیں شربت کی قسم سے ہوتی ہیں ان میں سے نقیع کو بنانے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انگور یا کھجوروں کو پانی میں محض بھگو دیا جاتا ہے اس کو جوش نہیں دیا جاتا، اس طرح انگور یا کھجوروں کی مٹھاس اس پانی میں آجاتی ہے اور ایک عمدہ قسم کا شربت بن جاتا ہے اور یہ شربت بہت مزیدار بھی ہوتا ہے اور بدن کو فائدہ بھی پہنچاتا ہے، چناچہ خرما کا نقیع معدہ کے نظام کو درست کرتا ہے اور کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے جب کہ انگور کا نقیع جسم کی زائد حرارت کو دفع کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ نبیذ بھی اسی طرح بنتا ہے فرق محض یہ ہوتا ہے کہ نبیذ کی صورت میں انگور یا کھجوروں کو پانی میں بھگو کر کچھ عرصہ تک کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کچھ ہلکی سی تیزی اور تغیر پیدا ہوجائے، لیکن اتنی تیزی یا اتنا زیادہ تغیر نہیں جو نشہ آور ہوجانے کی حد تک پہنچ جائے کیونکہ جس نبیذ میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے اس کا پینا قطعا حرام ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ اس نبیذ کو ہرگز نہیں پیتے تھے جس پر تین دن سے زائد کا عرصہ گزر جاتا تھا، جیسا کہ آگے آئے گا، نقیع کی طرح نبیذ بھی ایک فائدہ مند مشروب ہے یہ جسم کی طاقت و قوت میں اضافہ کرتا ہے اور عام صحت کی محافظت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نبیذ انگور اور کھجور کے علاوہ دوسری چیزوں سے بھی بنتی ہے، چناچہ نہایہ میں لکھا ہے کہ نبیذ کھجور سے بھی بنتی ہے اور انگور سے بھی، شہد سے بھی بنتی ہے اور گیہوں اور جو وغیرہ سے بھی، منصف مشکوٰۃ نے اوپر عنوان میں انبذہ جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا ہے تاکہ اس کی متعدد اقسام و انواع کی طرف اشارہ ہوجائے۔

4187Mishkaat-al-Masabih

حضرت انس (رض) کا پیالہ

عن أنس قال : لقد سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدحي هذا الشراب كله : العسل والنبيذ والماء واللبن . رواه مسلم

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا۔ میں نے رسول کریم ﷺ کو اپنے اس پیالہ میں پینے کی ساری چیزیں پلائی ہیں جیسے شہد، نبیذ، پانی اور دودھ۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ جس پیالہ میں پینے کی چیزیں پیا کرتے تھے وہ حضرت انس ؓ کے پاس تھا، منقول ہے کہ نصر بن انس ؓ نے اس پیالہ کو حضرت انس ؓ کی میراث میں سے آٹھ لاکھ کے عوض خریدا تھا، حضرت امام بخاری نے اس پیالہ کو بصرہ میں دیکھا تھا اور ان کی خوش بختی کے کیا کہنے کہ ان کو اس مبارک پیالے میں پانی پینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔

4188Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے لئے نبیذ بنانے کا ذکر

وعن عائشة قالت : كنا ننبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء يوكأ أعلاه وله عزلاء ننبذه غدوة فيشربه عشاء وننبذه عشاء فيشربه غدوة . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے لئے ایک مشک میں نبیذ بنایا کرتے تھے جس کو اوپر سے (باندھ کر) بند کردیا جاتا تھا اور ان کے نیچے کے حصے میں بھی اس کا دہانہ تھا ہم اس مشک میں کھجور وغیرہ صبح کے وقت ڈال دیتے تھے تو آپ ﷺ رات کے وقت اس کو پیتے اور اگر اس میں کھجور وغیرہ رات میں ڈالتے تھے تو آپ ﷺ اس کو صبح کے وقت پیتے تھے۔ (مسلم) تشریح عزلاء اصل میں توشہ دان کے دہانہ کو کہتے ہیں، لیکن یہاں مشک کا دہانہ مراد ہے جو اس کے نیچے کی طرف ہو، حاصل یہ کہ اس مشک کے اوپر کی جانب تو منہ تھا ہی، لیکن اس کے نیچے کے حصے میں بھی ایک دہانہ تھا اس کے اوپر کے منہ کو تو باندھ دیا جاتا تھا اور اس کے نیچے کے منہ سے نکال کر پیا جاتا تھا، نبیذ بنانے کے لئے کھجوروں کو ایک دن اور ایک رات سے زائد تک، حتی کہ تین دن و تین رات تک بھگوئے رکھنے کا ذکر ہے ان کا تعلق جاڑے کے موسم سے ہوگا۔

4189Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے لئے نبیذ بنانے کا ذکر

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينبذ له أول الليل فيشربه إذا أصبح يومه ذلك والليلة التي تجيء والغد والليلة الأخرى والغد إلى العصر فإن بقي شيء سقاه الخادم أو أمر به

اور حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے لئے جو نبیذ رات کے ابتدائی حصے میں ڈالی جاتی تھی اس کو آپ ﷺ آنے والے دن کی صبح کو پیتے، پھر آنے والی رات میں پیتے پھر دوسرے دن اور دوسری رات میں پیتے اور پھر اس کے بعد آنے والے (یعنی تیسرے) دن عصر کے وقت تک پیتے اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ باقی رہ جاتی تو خادم کو پلا دیتے یا پھینک دینے کا حکم دے دیتے چناچہ وہ پھینک دی جاتی تھی۔ (مسلم) تشریح سقاہ الخادم او امر بہ میں حرف او (یا) اظہار شک کے لئے نہیں ہے بلکہ تنویع کے لئے ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تیسرے دن عصر کے وقت تک پینے کے بعد جو نبیذ بچ جاتی وہ چونکہ تلچھٹ رہ جاتی تھی اس لئے آپ ﷺ اس کو خود نہیں پیتے تھے بلکہ خادم کو پینے کے لئے دے دیتے تھے۔ اور اگر اس میں نشہ کا اثر آجاتا تو پھر خادم کو بھی پینے کے لئے نہیں دیتے تھے بلکہ پھینکوا دیتے تھے۔ مظہر کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مالک و آقا کے لئے جائز ہے کہ وہ خود اوپر کا کھانا کھائے اور نیچے کا کھانا غلام و خادم کو کھلائے۔

4190Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے لئے نبیذ بنانے کا ذکر

وعن جابر قال : كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقائه فإذا لم يجدوا سقاء ينبذ له في تور من حجارة . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے لئے مشک میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر کسی وقت مشک نہ ملتی تو پھر آپ ﷺ کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ (مسلم )

4191Mishkaat-al-Masabih

نبیذ کن برتنوں میں نہ بنائی جائے

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الدباء والحنتم والمرفت والنقير وأمر أن ينبذ في أسقية الأدم . رواه مسلم

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کدو کے تو بنے، سبز لاکھی گھڑے، رال ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور یہ حکم دیا کہ چمڑے کے مشک میں نبیذ بنائی جائے۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت فرمائی تھی اور اس ممانعت کی بنیاد یہ خوف تھا کہ کہیں ان برتنوں میں بنائی جانے والی نبیذ میں جلد نشہ پیدا نہ ہوجائے اور اس کے بارے میں معلوم بھی نہ ہو سکے، لیکن جب نشہ کی حرمت نازل ہونے پر اچھی خاصی مدت گزر گئی اور لوگوں کے ذہن میں بھی یہ حرمت اچھی طرح راسخ اور مشہور ہوگئی تو پھر ہر طرح کے برتن میں نبیذ کا بنانا مباح کردیا گیا جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے معلوم ہوگا اور اس مسئلہ کی مفصل تحقیق کتاب الایمان میں بھی گزر چکی ہے۔

4192Mishkaat-al-Masabih

اس حکم کی منسوخی جس کے ذریعہ بعض برتنوں میں نبیذ کا بنانا ممنوع قرار دیا گیا تھا

وعن بريدة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : نهيتكم عن الظروف فإن ظرفا لا يحل شيئا ولا يحرمه وكل مسكر حرام . وفي رواية : قال : نهيتكم عن الأشربة إلا في ظروف الأدم فاشربوا في كل وعاء غير أن لا تشربوا مسكرا . رواه مسلم

اور حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں نے تمہیں (مذکورہ بالا) بعض برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا اور تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ حلت و حرمت کا حکم برتنوں سے تعلق رکھتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز حرام ہے اس کو کوئی حلال نہیں کردیتا اور جو چیز حلال ہے اس کو کوئی برتن حرام نہیں کردیتا۔ اصل میں حکم تو یہ ہے کہ جو چیز نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے (خواہ وہ کسی بھی برتن میں پی جائے جو چیز نشہ پیدا نہ کرے وہ حلال ہے خواہ وہ کسی بھی برتن میں ہو )۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے (مذکورہ بالا بعض برتنوں میں تمہیں (نبیذ بنانے اور) پینے سے منع کیا تھا علاوہ چمڑے کے برتنوں کے (لیکن اب میں اس حکم کو منسوخ قرار دے کر ہر طرح کے برتن میں نبیذ بنانے اور پینے کو مباح قرار دیتا ہوں) لہٰذا تم ہر طرح کے برتن میں پی سکتے ہو، لیکن جو چیز نشہ پیدا کرنے والی ہو اس کو (ہرگز) مت پیو۔ (مسلم )

4193Mishkaat-al-Masabih

ہر نشہ آور مشروب حرام ہے خواہ اس کو شراب کہا جائے یا کچھ اور

عن أبي مالك الأشعري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ليشربن ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها . رواه أبو داود وابن ماجه

حضرت ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (ایسا زمانہ آنے والا ہے جب) میری امت کے بعض لوگ پئیں گے اور اس کا نام شراب کے بجائے کچھ اور رکھیں گے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے ذہن میں کجی اور فساد ہوگا وہ شراب پینے کے سلسلے میں مختلف حیلے بہانے کریں گے، خاص طور پر نام کو بڑا پردہ بنائیں گے، مثلاً نبیذ یا مباح شربت جیسے ماء العسل وغیرہ کو نشہ آور بنا کر پئیں گے اور یہ گمان کریں گے کہ یہ حرام نہیں ہے کیونکہ نہ اس کو انگور کے ذریعہ بنایا گیا ہے اور نہ کھجور کے ذریعہ، حالانکہ ان کا اس طرح گمان کرنا ان کے حق میں ان مشروبات کے مباح و حلال ہونے کے لئے کارگر نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں وہ شراب پینے والے شمار ہوں گے اور ان کی ان کو سزا ملے گی کیوں کہ اصل حکم یہ ہے کہ ہر نشہ آور شراب حرام ہے خواہ وہ کسی بھی چیز سے بنی ہو۔ ایک صورت یہ بھی ہوگی کہ وہ شراب ہی پئیں گے لیکن اپنی طرف سے اس کا کوئی دوسرا نام رکھ لیں گے اس کو شراب نہیں کہیں گے تاکہ لوگ شراب پینے کا الزام عائد نہ کریں، لیکن حقیقت میں نام کی یہ تبدیلی ان کے حق میں قطعا کارگر نہیں ہوگی اصل میں اعتبار تو مسمی کا ہے نہ کہ اسم کا۔

4194Mishkaat-al-Masabih

ہر نشہ آور مشروب حرام ہے خواہ اس کو شراب کہا جائے یا کچھ اور

عن عبد الله بن أبي أوفى قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نبيذ الجر الأخضر قلت : أنشرب في الأبيض ؟ قال : لا . رواه البخاري

حضرت عبداللہ بن اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سبز ٹھلیا میں بنی ہوئی نبیذ پینے سے منع فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ کیا ہم سفید ٹھلیا میں بنی ہوئی نبیذ پی سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ (بخاری) تشریح سبز ٹھلیا سے مراد خنتم یعنی سبز لاکھی (روغنی ) گھڑا ہے! عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سبز کی قید سے یہ سمجھے کہ جو ٹھلیا سبز نہ ہو اس میں بنی ہوئی نبیذ کا پینا مباح ہوگا اس لئے انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم سفید ٹھلیا کی پی سکتے ہیں؟ لیکن آنحضرت ﷺ نے سفید ٹھلیا کی نبیذ پینے سے بھی منع فرما کر گویا اس طرف اشارہ کیا کہ سبز کی قید محض اتفاقی ہے اور اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اس زمانہ میں جن ٹھلیوں میں نبیذ بنائی جاتی تھی عام طور پر سبز ہی ہوتی تھی، اس لئے سبز ہی کا ذکر کردیا، ورنہ سبز سفید کا حکم ایک ہی ہے کہ جو بھی لاکھی یعنی روغنی ٹھلیا ہو خواہ وہ سبز رنگ کی ہو یا کسی اور رنگ کی ہو اس میں بنی ہوئی نبیذ پینے سے اجتناب کرو! لیکن واضح رہے کہ اس حدیث کا حکم بھی منسوخ ہے، جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا۔

4195Mishkaat-al-Masabih

برتنوں وغیرہ کو ڈھانکنے کا بیان

اس باب میں وہ احادیث مذکور ہوں گی جو رات کو سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، دروازوں کو بند کردینے اور چراغ کو بجھا دینے جیسے امور کے سلسلے میں منقول ہیں۔

4196Mishkaat-al-Masabih

رات آنے پر کن چیزوں کا خیال رکھا جائے

عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا كان جنح الليل أو أمسيتم فكفوا صبيانكم فإن الشيطان ينتشر حينئذ فإذا ذهب ساعة من الليل فخلوهم وأغلقوا الأبواب واذكروا اسم الله فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا وأوكوا قربكم واذكروا اسم الله وخمروا آنيتكم واذكروا اسم الله ولو أن تعرضوا عليه شيئا وأطفئوا مصابيحكم وفي رواية للبخاري : قال : خمروا الآنية وأوكوا الأسقية وأجيفوا الأبواب واكفتوا صبيانكم عند المساء فإن للجن انتشارا أو خطفة وأطفئوا المصابيح عند الرقاد فإن الفويسقة ربما اجترت الفتيلة فأحرقت أهل البيت وفي رواية لمسلم قال : غطوا الإناء وأوكوا السقاء وأغلقوا الأبواب وأطفئوا السراج فإن الشيطان لا يحل سقاء ولا يفتح بابا ولا يكشف إناء فإن لم يجد أحدكم إلا أن يعرض على إنائه عودا ويذكر اسم الله فليفعل فإن الفويسقة تضرم على أهل البيت بيتهم وفي رواية له : قال : لا ترسلوا فواشيكم وصبيانكم إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء فإن الشيطان يبعث إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء وفي رواية له : قال : غطوا الإناء وأوكوا السقاء فإن في السنة ليلة ينزل فيها وباء لا يمر بإناء ليس عليه غطاء أو سقاء ليس عليه وكاء إلا نزل فيه من ذلك الوباء

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب رات کی تاریکی پھیل جائے یا یہ فرمایا کہ جب شام ہوجائے تو تم اپنے بچوں کو (گھر سے نکلنے اور گلی کوچوں میں پھرنے سے) روک دو کیونکہ اس وقت شیطان یعنی جنات چاروں طرف پھیل جاتے ہیں، پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو بچوں کو ( کہیں آنے جانے کے لئے) چھوڑ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، نیز اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ پڑھ کر) دروازوں کو بند کردو، کیونکہ (بسم اللہ پڑھ کر) بند (کئے گئے) دروازوں کو شیطان نہیں کھولتا (باوجودیکہ شیاطین اور جنات کو اس پر قدرت حاصل ہے کہ وہ دروازوں اور دیواروں میں بیٹھ جائیں، لیکن اللہ کے ذکر کے سبب وہ بیٹھنے کی مجال نہیں رکھتے) اور اللہ کا نام لے کر (ان) مشکیزوں کے منہ باندھ دو (جن میں پانی موجود ہو تاکہ ان میں کیڑا و پتنگا وغیرہ نہ گھس جائے) اور اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانک دو اور خواہ برتن پر عرضا ہی کوئی چیز رکھ دو (یعنی اگر برتن پر ڈھکنے کے لئے کوئی ایسی چیز موجود نہ ہو جس سے اس برتن کا پورا منہ چھپ سکے تو اس پر عرضا کوئی لکڑی وغیرہ رکھ دو اگرچہ اس صورت میں برتن پوری طرح نہیں ڈھکے گا لیکن اس طرح کم سے کم کراہت تو ختم ہو ہی جائے گی اور اس حکم کی برکت سے برتن میں موجود کھانے پینے کی چیز اس ضرر و نقصان سے بچ جائے گی جو برتن کے بالکل کھلے ہوئے ہونے کی صورت میں یقینی ہوتا جیسے شیطان کا تصرف) اور (سوتے وقت) اپنے چراغوں کو بجھا دو۔ (بخاری ومسلم) اور مذکورہ بالا روایت تو یکساں الفاظ میں بخاری و مسلم میں منقول ہے ہی لیکن یہ مضمون مختلف الفاظ کے ساتھ بخاری و مسلم نے الگ الگ بھی نقل کیا ہے چنانچہ) بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، دروازوں کو بند کردیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھائے رکھو (ان کو ادھر ادھر نہ جانے دو ) جب کہ شام ہوجائے کیونکہ (اس وقت) جنات چاروں طرف پھیل جاتے ہیں اور اچک لیتے ہیں اور سوتے سوتے چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ (اکثر یا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ) چوہا بتی کو کھینچ لے جاتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ برتنوں کو ڈھانک دیا کرو مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو دروازوں کو بند کردیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ ( اللہ کا نام لینے کی وجہ سے) شیطان (بندھے ہوئے، مشکیزوں کو نہیں، کھولتا اور نہ (بند) دروازوں کو کھولتا ہے اور نہ ڈھانکے ہوئے) برتنوں کو کھولتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو (ڈھانکنے کے لئے کوئی چیز) نہ ملے الاّ یہ کہ وہ اللہ کا نام لے کر برتن کے منہ پر عرضا لکڑی ہی رکھ سکتا ہو تو وہ ایسا ہی کرلے (یعنی بسم اللہ پڑھ کر برتن کے منہ پر کوئی لکڑی ہی رکھ دے) اور (سوتے وقت چراغ کو اس لئے بجھا دیا کرو) کہ (چوہا چراغ کی بتی کو کھینچ کر) گھر والوں پر ان کے گھر کو بھڑکا دیتا ہے۔ (یعنی چوہا جلی ہوئی بتی کو لے جا کر کسی ایسی جگہ ڈال دیتا ہے، جہاں کسی چیز میں آگ لگ جاتی ہے اور پھر سارا گھر جل جاتا ہے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ برتن کو ڈھانک دیا کرو اور مشکیزہ کا منہ بند نہیں ہوتا اس وبا کا کچھ حصہ اس میں بھی داخل ہوجاتا ہے۔ تشریح متفق علیہ روایت کے بعد بخاری کی جو روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں عند المساء (جب کہ شام ہوجائے) کا جو لفظ مذکور ہوا ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا تعلق ساری مذکورہ چیزوں سے ہو (یعنی رات شروع ہوجائے تو برتنوں کو ڈھانک دیا جائے، مشکیزوں کے منہ بھی باندھ دیئے جائیں، دروازے بھی بند کردیئے جائیں اور بچوں کو باہر نکلنے سے روک دیا جائے، اس صورت میں شام سے مراد وہ وقت ہوگا جو ابتداء شام سے عشاء تک رہتا ہے کہ دروازوں کو بند رکھنے اور برتنوں کو ڈھانکنے کا یہی وقت ہے اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ عند المساء کا تعلق صرف و اکفتوا صبیانکم (اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھائے رکھو) سے ہے جیسا کہ حدیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے تو مراد انسب ہوگی اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ رات میں ان سب چیزوں کا اس طرح خیال رکھو کہ رات کے ابتدائی حصے میں یعنی سورج ڈوبنے کے فوراً بعد بچوں کو باہر نکلنے اور ادھر ادھر ہونے سے روک دو، کیونکہ یہ وقت جنات کے پھیلنے کا ہے اور جب رات کی ایک گھڑی (یعنی ایک گھنٹہ) گزر جائے تو یہ سب کام کرو، یعنی برتن کو ڈھانک دو اور دروازے بند کردو نیز اس وقت بچوں کو باہر جانے دینے میں کوئی حرج نہیں اس توجیہ سے اس روایت کی متفق علیہ روایت کے ساتھ بھی مطابقت ہوجائے گی۔ اور اچک لیتے ہیں شیاطین کا بچوں کو اچک لینا ایک حقیقت ہے جس کی تصدیق بعض واقعات سے بھی ہوئی ہے اگرچہ یہ قلیل الوقوع ہے، یا پھر اچک لینے سے مراد بچوں کے ہوش و حو اس کو زائل کردینا یا ان کو کھیل کود میں لگا دینا ہے۔ جنات و شیاطین اصل میں یہ دونوں ایک ہی ہیں جنات میں سے جو سرکش و فاسق ہیں ان کو شیطان کہتے ہیں! فحمہ شروع رات میں یعنی مغرب و عشاء کے درمیان جو تاریکی چھا جاتی ہے اس کو فحمہ کہتے ہیں اور عشاء کی نماز سے صبح ہونے تک جو تاریکی رہتی ہے اس کو عسعسہ کہتے ہیں، چناچہ قرآن کریم کی آیت (وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ ) 81۔ التکویر 17) سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے واضح رہے کہ اس حدیث میں جو احکام دئیے گئے ہیں وہ بطریق وجوب نہیں ہیں، بلکہ ان کا مقصد محض ان امور کی ہدایت کرنا ہے جو ہماری روز مرہ زندگی میں بھلائی و مصلحت اندیشی کے متقاضی ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان احکام کا تعلق استحباب سے ہے یعنی حدیث میں مذکورہ ہدایت پر عمل کرنا مستحب ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ (اگر بنظر عمیق اس حدیث کے مضمون پر غور کیا جائے اور ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو واضح ہوگا کہ) اس ارشاد میں مختلف قسم کی بھلائیاں اور کتنے ہی جامع آداب اور تہذیب کے رموز پنہاں ہیں خاص طور سے ان میں سے جو سب سے بہتر تعلیم ہے وہ یہ ہے کہ ہر حرکت و سکون کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا یعنی بسم اللہ پڑھنا ایک ایسا سہل ذریعہ ہے جو دنیا و آخرت کی آفات و بلاؤں سے سلامتی و حفاظت کا ضامن قرار دیا جاسکتا ہے۔

4197Mishkaat-al-Masabih

جس برتن میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو اس کو ڈھانک کر لاؤ لے جاؤ

وعنه قال : جاء أبو حميد رجل من الأنصار من النقيع بإناء من لبن إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ألا خمرته ولو أن تعرض عليه عودا

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ابوحمید جو ایک انصاری شخص تھے، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مقام نقیع سے دودھ سے بھرا ہوا ایک برتن لے کر آئے آنحضرت ﷺ نے (جب اس برتن کو کھلا ہوا دیکھا تو) فرمایا کہ تم نے اس برتن کو ڈھانکا کیوں نہیں، اگرچہ ڈھانکنے کی یہ صورت کیوں نہ ہوتی کہ تم اس برتن پر عرضا کوئی لکڑی رکھ دیتے۔ (بخاری ومسلم )

4198Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت آگ بجھا دو

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون

اور حضرت عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم سونے لگو تو گھروں میں آگ نہ چھوڑو۔ (بخاری ومسلم) تشریح آگ سے مراد وہ آگ ہے جس سے کسی چیز کے جل جانے کا خوف ہو، وہ چراغ ہو یا چولھے وغیرہ کی آگ، لہٰذا روشنی کی جو چیزیں قندیل وغیرہ کی صورت میں لٹکی ہوئی ہوں اور ان سے آگ لگنے کا کوئی خطرہ نہ ہو تو اس کو چھوڑے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لہٰذا ایسی چیزیں اس ممانعت کے حکم میں داخل نہیں ہوں گی، کیونکہ اس ممانعت کی جو اصل علت ہے (یعنی آگ لگنے کا خطرہ) جب وہی نہیں پائی جائے گی تو اس حکم پر عمل بھی ضروری نہیں ہوگا، بلکہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی تو یہ فرماتے ہیں کہ اگر آگ کو بھی گھر میں اس طرح رکھ چھوڑا جائے کہ اس سے کسی چیز کے جلنے کا خوف نہ ہو، جیسے جاڑے کے موسم میں شب بیداری کی غرض سے یا کسی دوسری مصلحت و ضرورت کے تحت چولھے وغیرہ میں آگ دبا دیتے ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا وضاحت پر قیاس کرتے ہوئے یہ بھی ممنوع نہیں ہوگا۔

4199Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت آگ بجھا دو

عن أبي موسى قال : احترق بيت بالمدينة على أهله من الليل فحدث بشأنه النبي صلى الله عليه وسلم قال : إن هذه النار إنما هي عدو لكم فإذا نمتم فأطفئوها عنكم

اور حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رات میں ایسا ہوا کہ مدینہ میں ایک شخص کا گھر جل گیا اور گھر والوں پر گرپڑا، چناچہ اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ۔ یہ آگ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ یہ تمہارے حق میں ایک دشمن ہے (جو جان و مال کو جلا دیتی ہے) لہٰذا جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دو اور اس کے ضرر و نقصان سے اپنے کو محفوظ رکھو۔ (بخاری ومسلم )

4200Mishkaat-al-Masabih

کتے اور گدھے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ چاہو

عن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : إذا سمعتم نباح الكلاب ونهيق الحمير من الليل فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فإنهن يرين ما لا ترون . وأقلوا الخروج إذا هدأت الأرجل فإن الله عز وجل يبث من خلقه في ليلته ما يشاء وأجيفوا الأبواب واذكروا اسم الله عليه فإن الشيطان لا يفتح بابا إذا أجيف وذكر اسم الله عليه وغطوا الجرار وأكفئوا الآنية وأوكوا القرب . رواه في شرح السنة

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم رات میں کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے رینگنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو کیونکہ وہ (کتے اور گدھے) جس چیز کو دیکھتے ہیں (یعنی شیطان اور اس کی ذریات کو) اس کو تم نہیں دیکھتے اور جب لوگوں کا چلنا پھرنا بند ہوجائے تو اس وقت تم بھی (گھر سے) کم نکلو، کیونکہ (اس وقت) رات میں اللہ عزوجل اپنی مخلوقات میں سے جن کو چاہتا ہے (یعنی جنات و شیاطین اور موذی جانور وغیرہ) ان کو چاروں طرف پھیل جانے دیتا ہے اور اپنے دروازوں کو اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر بند کیا کرو، کیونکہ جس دروازے کو اللہ کا نام لے کر بند کیا جاتا ہے اس کو شیطان کھولنے پر قادر نہیں ہوتا اور (ان) برتنوں کو ڈھانک دیا کرو (جن میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو ) اور (جن) برتنوں (میں کچھ نہ ہو یعنی وہ خالی ہو ان) کو الٹ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو۔ (شرح السنۃ )

4201Mishkaat-al-Masabih

چوہے کی شرارت سے بچنے کے لئے سوتے وقت چراغ کو بجھا دو

وعن ابن عباس قال : جاءت فأرة تجر الفتيلة فألقتها بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم على الخمرة التي كان قاعدا عليها فأحرقت منها مثل موضع الدرهم فقال : إذا نمتم فأطفئوا سرجكم فإن الشيطان يدل مثل هذه على هذا فيحرقكم . رواه أبو داود وهذا الباب خال من الفصل الثالث

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) ایک چوہا چراغ کی (جلتی ہوئی بتی کھینچ لایا اور اس کو رسول کریم ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے چناچہ (اس طرح) اس نے ایک درہم کے بقدر چٹائی کو جلا دیا آنحضرت ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا کہ جب تم سونے لگو، تو چراغ کو گل کردو کیونکہ شیطان اس چوہے جیسے موذی کو ایسی حرکت پر آمادہ کرتا ہے اور (اس صورت میں گویا) وہ شیطان تمہیں جلا دیتا ہے (ابو داؤد ) تشریح مصنف مشکوٰۃ نے اس باب میں تیسری فصل شامل نہیں کی ہے اور یہ کہا ہے کہ بہ باب تیسری فصل سے خالی ہے۔ چناچہ یہ نہ کہنے کی وجہ پیچھے (کتاب الاشربہ سے پہلے باب میں بیان کی جا چکی ہے۔