بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يأكلن أحدكم بشماله ولا يشربن بها فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بها . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ، تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے ( کوئی چیز) پئے کیوں کہ (یہ شیوہ شیطان کا ہے کہ وہ) اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (مسلم )
تشریح
تورپشتی نے۔ بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو لوگ شیطان کے زیر اثر اور اس کے تابعدار ہوتے ہیں، وہ ان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے پر ابھارتا ہے جب کہ طیبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے یعنی حقیقت میں شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند یہ روایت نقل کی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس کو چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پئے (اگر کسی کو کوئی چیز دے یا کسی سے کوئی چیز لے تو) دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے دے کیوں کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔ بائیں سے پیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا دیتا ہے۔
تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے
وعن كعب بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاثة أصابع ويلعق يده قبل أن يمسحها . رواه مسلم
اور حضرت کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین انگلیوں سے ( یعنی انگوٹھے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے ساتھ) کھانا کھایا کرتے اور ( کھانے سے فراغت کے بعد) اپنا ہاتھ ( کسی رومال وغیرہ سے) پونچھنے ( یا دھو نے) سے پہلے چاٹ لیا کرتے تھے (مسلم )
تشریح
نووی کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا سنت ہے لہذا ان تینوں کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے الاّ یہ کہ چوتھی اور پانچویں انگلی کو ملانا ضروی ہو۔ ہاتھ کو چاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن انگلیوں سے کھاتے تھے ان کو چاٹ لیا کرتے تھے چناچہ پہلے بیچ کی انگلی کو چاٹتے پھر اس کے پاس کی انگلی کو پھر انگوٹھے کو چاٹتے تھے۔ طبرانی نے عامر بن ربیعہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ أنحضرت ﷺ تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور ان کی مدد کے لئے چوتھی انگلی بھی ملا لیا کرتے تھے! نیز ایک حدیث مرسل میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پانچ انگلیوں سے کھاتے تھے۔ یا تو یہ پتلی چیز کھانے پر محمول ہے یہ کہ آپ ﷺ بیان جواز کی خاطر کبھی کبھی اس طرح بھی کھاتے تھے، لیکن اکثر اوقات تین ہی انگلیوں سے کھانے کی عادت تھی۔ بعض روایت میں یمسحہا کے بعد بشئی کا لفظ بھی منقول ہے اور یہ الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں کہ ثم یغسلہا یعنی (ہاتھ کو چاٹتے اور) پھر اس کو دھو لیتے۔
تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے
وعن جابر : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بلعق الأصابع والصفحة وقال : إنكم لا تدرون : في أية البركة ؟ . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انگلیوں اور رکابی کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کس انگلی یا نوالے میں برکت ہے۔ (مسلم)
تشریح
والصحفحۃ میں حرف واو مطلق جمع کے لئے ہے لہٰذا پہلے رکابی وبرتن وغیرہ کو صاف کیا جائے اور پھر انگلی کو چاٹا جائے۔ لفظ ایۃ تاء تانیث کے ساتھ منقول ہے اس لئے ترجمہ انگلی یا نوالہ کیا گیا ہے۔ لیکن بعض نسخوں میں یہ لفظ ہ ( یعنی مذکر) ضمیر کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ( تم نہیں جانتے کہ) کس کھانے میں برکت ہے ( آیا اس کھانے میں جو کھاچکے ہو یا اس کھانے میں جو چاٹو گے) اس کی تائید آگے آنے والی حدیث کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ کہ فانہ لایدری فی ای طعام تکون البرکتہ اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں سنت انگلیوں کو چاٹنا ہے اور اس چیز کو صاف کرنا ہے جو انگلیوں کو لگی ہے نہ کہ محض انگلیوں کو بمبالغہ منہ میں داخل کرنا۔
تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا أكل أحدكم فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو وہ ہاتھ کو اس وقت تک (کسی چیز سے) نہ پونچھے (اور نہ دھوئے) جب تک کہ ہاتھ کی انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ دے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
چٹوا نہ دے کا مطلب یہ ہے کہ اگر انگلیوں کو خود نہ چاٹے تو ان لوگوں میں کسی کو چٹوا دے جو اس سے گھن اور کراہت محسوس نہ کریں جیسے بیوی، بچے، لونڈی اور خادم و غلام وغیرہ کیونکہ ان کو اپنے طبعی تعلق و محبت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی گھن اور کراہت محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایک خاص قسم کی لذت محسوسس کرتے ہیں، انہیں کے حکم میں شاگرد اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کو حصول سعادت سمجھتے ہوں۔
کھاتے وقت کوئی لقمہ گر جائے تو اس کو صاف کر کے کھا لینا چاہئے
وعن جابر قال : النبي صلى الله عليه وسلم يقول : إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم لقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان فإذا فرع فليلعق أصاب فانه لا يدري : في أي طعامه يكون البركة ؟ . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے کھانے کے وقت بھی تمہارے پاس موجود رہتا ہے، لہٰذا تم میں سے جب کسی شخص کا کوئی نوالہ گرجائے تو چاہئے کہ ( اس کو اٹھا لے اور از قسم مٹی وغیرہ) جو چیز اس کو لگ گئی ہو اس کو صاف کر کے کھالے، اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے، نیز جب کھانا کھاچکے تو چاہئے کہ اپنی انگلیاں چاٹ لیں کیونکہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے کون سے کھانے میں (یعنی کھانے کے کس حصہ میں) برکت ہے۔ (مسلم)
تشریح
اس کو صاف کر کے کھالے لیکن اگر وہ لقمہ کسی نجاست و گندگی پر گرا ہو تو اس کو دھو کر کھائے، بشرطیکہ اس کو دھونا ممکن ہو، یا طبیعت اس پر آمادہ ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو پھر اس کو کتے یا بلی وغیرہ کو کھلا دے۔ اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے یہ یا تو حقیقت پر محمول ہے کہ وہ واقعۃ کھاتا ہے، یا یہ کنایہ ہے اس لقمہ کو ضائع کرنے اور اس کو حقیر جاننے سے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسا کرنا (یعنی اس گرئے ہوئے لقمہ کو حقیر و کمتر جان کر نہ اٹھانا) دراصل متکبر لوگوں کی مشابہت اور ان کی عادت کو اختیار کرنا کیونکہ وہ (متکبر لوگ) گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانا عار سمجھتے ہیں اور یہ ساری چیزیں (یعنی اس لقمہ کو ضائع کرنا اور اس کو حقیر جاننا اور اس متکبر لوگوں کی عادت اختیار کرنا) شیطانی افعال میں سے ہیں۔ نیز جب کھانا کھاچکے تو الخ یہ اگرچہ ایک علیحدہ حکم ہے۔ مگر حقیقت میں پہلے حکم سے حاصل ہونے والے مفہوم تکبر کو ترک کرنے اور تواضع و انکساری کو اختیار کرنے کو مؤ کد کرنے کے لئے ہے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد ہاتھ کو دھونے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا جائے تاکہ اللہ کے رزق کے تئیں اپنے کامل احتیاج اور تواضع و انکساری کا اظہار ہو اور تکبر و نخوت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔
ٹیک لگا کر کھانا کھانے کی ممانعت
وعن أبي جحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا آكل متكئا . رواه البخاري
اور حضرت ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔ (بخاری)
تشریح
سفر السعادت کے مصنف نے لکھا ہے کہ کھانا کھاتے وقت ٹیک لگانے کی تین صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ پہلو زمین پر رکھا جائے، دوسرے یہ کہ چار زانو بیٹھا جائے اور تیسرا یہ کہ ایک ہاتھ ٹیک کر بیٹھا جائے اور دوسرے ہاتھ سے کھانا کھایا جائے، یہ تینوں صورتیں مذموم ہیں اور بعض حضرات نے چوتھی صورت یہ بیان کی ہے کہ تکیہ یا دیوار اور اسی طرح کی کسی اور چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھا جائے! مسنون یہ ہے کہ کھاتے وقت کھانے کی طرف جھک کر اور متوجہ ہو کر بیٹھا جائے اور اکثر حضرات نے ٹیک لگانے کی وضاحت یہ کی ہے کہ دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو کی طرف جھک کر اور اس پر سہارا لے کر بیٹھا جائے۔ کھاتے وقت بیٹھنے کی یہ صورت اس لئے غیر مسنون ہے کہ ایسی حالت میں کھانا ضرر پہنچاتا ہے بایں طور کہ وہ بدن میں اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے نہیں پہنچتا، جو طبیعت پر گراں ہو کر سؤ ہضم کی شکایت پیدا کرتا ہے۔ سیوطی نے کتاب عمل الیوم واللیلۃ میں لکھا ہے کہ ٹیک لگا کر، منہ کے بل پڑ کر اور کھڑے ہو کر کھانا نہ کھایا جائے۔ بلکہ اس طرح بیٹھ کر کھائے کہ یا تو دو زانو ہو یا بصورت اقعاء ہو یعنی دونوں کو ل ہے ٹیک لے اور دونوں زانو کھڑے کرلے یا دونوں پاؤں پر بیٹھے اکڑوں اور یا داہنا زانو کھڑا کرلے اور بائیں زانو پر بیٹھ جائے۔
منبر وچوکی پر کھانا رکھ کر کھانے کا مسئلہ
وعن قتادة عن أنس قال : ما أكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان ولا في سكرجة ولا خبز له مرقق قيل لقتادة : على م يأكلون ؟ قال : على السفر . رواه البخاري
اور حضرت قتادہ ؓ عنہ، حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ طشتری میں کھایا اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی! حضرت قتادہ ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ دسترخوان پر۔ (بخاری)
تشریح
خوان یا خوان کے معنی دسترخوان کے ہیں، لیکن خوان سے مراد چوکی یا میز ہے جس پر کھانا رکھ کر کھایا جائے تاکہ کھانے میں جھکنا نہ پڑے چناچہ یہ مال دار عیش پسند متکبر اور غیر اسلامی تہذیب کے حامل لوگوں کا شیوہ ہے کہ وہ میز پر یا چوکی پر کھانا رکھ کر کھاتے ہیں اسی لئے أنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اس طریقہ سے کھانا پسند نہیں فرمایا۔ سکرجۃ یا جیسا کہ بعض حضرات نے سکرجۃ کو زیادہ فصیح کہا ہے کے معنی چھوٹی پیالی یا طشتری کے ہیں جس میں دستر خوان پر چٹنی اچار اور جوارش و مربہ وغیرہ رکھا جاتا ہے اس غرض سے کہ کھانے کے ساتھ اس کو کھاتے جائیں تاکہ بھوک بڑھے کھانے کی طرف رغبت زیادہ ہو اور جو کچھ کھایا جائے ہضم ہو، چناچہ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دسترخوان پر کوئی طشتری یا پیالی نہیں ہوتی تھی جیسا کہ عام طور پر مال دار، عیش پسند اور متکبر لوگوں کے دسترخوان پر ایسی تشتریاں رکھنے کا رواج ہے۔ اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی۔ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو کبھی خاص طور پر آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی اور نہ کبھی آپ ﷺ نے چپاتی کھائی، خواہ آپ ﷺ کے لئے پکائی گئی ہو یا دوسروں کے لئے پکائی گئی ہو، جیسا کہ دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی چپاتی نہیں کھائی! حضرت شیخ عبد الحق نے کتاب میں اس موقع پر جو قول نقل کیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے لئے چپاتی نہیں پکائی جاتی تھی لیکن کوئی شخص اپنے چپاتی پکاتا یا پکواتا اور پھر وہ چپاتی آپ ﷺ کے سامنے لاتا تو آپ ﷺ تناول فرما لیتے تھے۔ اس کو کھانے میں سے انکار نہیں فرماتے تھے! مگر یہ آگے آنے والی حدیث کے منافی ہے، جو حضرت انس ؓ نے بیان کی ہے۔ حدیث میں چپاتی کے علاوہ دو چیزوں کی نفی کے بیان کی گئی ہے، ایک تو خوان پر کھانے کی اور دوسری طشتری میں کھانے کی، ان دونوں میں سے طشتری میں کھانے کی نفی کے بیان کے وقت کسی سوال کا کوئی موقع نہ تھا کیوں کہ اس کی نفی مطلق ہے جب کہ خوان پر کھانے کی نفی کے بیان کے وقت سوال کا موقع تھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے آیا خوان کے علاوہ کوئی اور چیز تھی جس پر کھانا رکھا جاتا تھا یا کوئی بھی چیز نہیں ہوتی تھی، چناچہ یہ سوال کیا گیا اور حضرت قتادہ ؓ نے جواب دیا کہ دسترخوان پر۔ چناچہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ کھانے والا جہاں بھی بیٹھے وہاں دسترخوان بچھا کر اس پر کھانا رکھ کر کھائے۔ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے سے سائل کی مراد صحابہ کے بارے میں معلوم کرنا تھا کیونکہ صحابہ اصل میں آنحضرت ﷺ کی سنت ہی کے پیرو اور آپ ﷺ کے طریقہ پر عامل تھے اس لئے صحابہ کے بارے میں سوال کرنا حقیقت میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں سوال کرنا تھا، یا یہ بھی صحیح ہے کہ یاکلون کی ضمیر آنحضرت ﷺ اور صحابہ دونوں کی طرف راجع کی جائے۔ روایت کے آخری جز سے ثابت ہوا کہ دسترخوان پر کھانا رکھ کر کھانا سنت ہے اور خالص اسلامی تہذیب ہے، جب کہ خوان (یعنی میز یا چوکی وغیرہ پر) رکھ کر کھانا بدعت اور تکلفات محض میں سے ہے، ہاں اگر میز و چوکی پر کھانے کی صورت میں کسی تکبر و نخوت کی نیت کار فرما نہ ہو، تو پھر مجبوری کے تحت میز و چوکی پر کھانا رکھ کر کھانا بھی جائز ہوگا۔
آنحضرت ﷺ نے کبھی چپاتی دیکھی بھی نہیں
وعن أنس قال : ما أعلم النبي صلى الله عليه وسلم رأى رغيفا مرققا حتى لحق بالله ولا رأى شاة سميطا بعينه قط . رواه البخاري
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی پتلی روٹی یعنی چپاتی دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اللہ سے ملاقات کی (یعنی آپ ﷺ اپنی پوری زندگی میں کبھی چپاتی کی صورت بھی نہیں دیکھی چہ جائیکہ کبھی چپاتی کھائی ہو) اسی طرح آپ ﷺ نے دم پخت بکری بھی کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ (بخاری)
تشریح
سمیط اس بکری یا بکری کے بچے کو کہتے ہیں جس کو بال صاف کرنے کے بعد چمڑے سمیت پانی کی بھاپ کے ذریعہ بھونا یا پکایا گیا ہو۔ یہ اس زمانہ میں اہل چین کا خاص کھانا تھا جو اپنے دور میں انتہائی متمول و متمدن اور عیش پرست تھے، اسی لئے خاص طور پر اس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے لفظ بعینہ محض تاکید کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کتب بیدہ ( اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا) یا مشی برجلہ (وہ اپنے پیروں کے ذریعہ چلا )
آنحضرت ﷺ نے میدہ کی تیار کی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی
وعن سهل بن سعد قال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله وقال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله حتى قبضه قيل : كيف كنتم تأكلون الشعير غير منخول ؟ قال : كنا نطحنه وننفخه فيطير ما طار وما بقي ثريناه فأكلناه . رواه البخاري
اور حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی میدہ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کی، نیز حضرت سہل ؓ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی چھلنی کو نہیں دیکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی (یعنی آنحضرت ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہونے کے وقت اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک میدہ کی تیار کی ہوئی کوئی چیز یا چھلنی کے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کیا کھاتے کہ کبھی آپ ﷺ نے ان چیزوں کی صورت بھی نہیں دیکھی) حضرت سہیل سے پوچھا گیا پھر آپ لوگ جو (کے بغیر چھنے آٹے کی روٹی) کس طرح کھاتے تھے؟ حضرت سہیل ؓ نے کہا کہ ہم جو کو پیسنے کے بعد اس میں پھونک مارتے، چناچہ اس میں سے جو چیز اڑنے والی ہوتی (یعنی بھوسی) وہ اڑ جاتی اور جو چیز باقی رہتی (یعنی آٹا) اس کو ہم پانی میں گوندھ لیتے، (اور پھر اس کی روٹی پکا کر) کھالیتے۔ ( بخاری)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ اس وقت سے۔۔۔۔۔ الخ۔ عسقلانی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت سہل ؓ نے ان الفاظ کے ذریعہ اس زمانہ کو ذکر کرنے سے احتراز کیا ہے، جو مرتبہ رسالت پر فائز ہونے سے پہلے گزرا تھا اور اس احتراز کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو دو مرتبہ ملک شام کا تجارتی سفر اختیار فرمایا تھا وہ بعثت رسالت کے قبل کے زمانہ ہی کا واقعہ ہے اور اس سفر کے دوران بحیرہ راہب نے آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا اور آپ ﷺ نے اس کے یہاں دعوت کھائی اور چونکہ وہاں کے لوگ خوش حال و مالدار تھے اس لئے بظاہر یہ امکان ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے یہاں چیزیں ضرور دیکھی ہوں گی، لیکن آپ ﷺ نے بعثت رسالت کے بعد سے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک جو زمانہ گذارا وہ تنگی معاش اور اقتصادی زبوں حالی کے لئے مشہور و معروف ہے ظاہر ہے کہ اس میں ایسی چیزوں کا کیا ذکر تھا۔ یہ حدیث دراصل آنحضرت ﷺ کی سادہ طبیعت اور بےتکلف زندگی کی واضح غماز ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے کھانے پینے کا اتنا اہتمام بھی عزیز نہیں تھا، جتنا مالی طور پر ایک معمولی حیثیت کے انسان کے یہاں بھی ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی سبق ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی طرف متوجہ رہنا محض مقصد آشنا، بیوقوف اور غافل لوگوں کا شیوہ زندگی ہے۔
آنحضرت ﷺ کسی کھانے کو برا نہیں کہتے تھے
وعن أبي هريرة قال : ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا اگر آپ ﷺ کو رغبت ہوتی تو اس کو کھالیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کے سلسلہ میں آپ ﷺ کا یہ معمول تھا جو چیز آپ ﷺ کی پسندیدہ ہوتی، اس کو آپ ﷺ رغبت کے ساتھ کھالیتے اور جو چیز آپ ﷺ کو مرغوب و پسندیدہ نہ ہوتی تھی، اس کو نہیں کھاتے تھے، یہ نہیں تھا کہ جو چیز پسندیدہ نہ ہوتی اس کو برا کہتے اس میں عیب نکالتے۔
مؤمن ایک آنت سے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے
وعنه أن رجلا كان يأكل أكلا كثيرا فأسلم فكان يأكل قليلا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال : إن المؤمن يأكل في معى واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء . رواه البخاري عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضافه ضيف وهو كافر فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أخرى فشربه ثم أخرى فشربه حتى شرب حلاب سبع شياه ثم إنه أصبح فأسلم فأمر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أمر بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المؤمن يشرب في معى واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص تھا، جو (پہلے تو) بہت زیادہ کھایا کرتا تھا، مگر جب مسلمان ہوا تو کم کھانے لگا، چناچہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مؤمن تو ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ( بخاری) اور مسلم نے اس روایت کو حضرت ابوموسی اور حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے جس میں (یہ واقعہ مذکور نہیں ہے بلکہ) محض آنحضرت ﷺ کا ارشاد مذکور ہے، لیکن مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں یوں ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آیا جو کافر تھا، رسول کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا، بکری دوہی گئی اور اس کافر نے اس دودھ کو پی لیا، پھر آپ ﷺ کے حکم سے دوسری بکری دوہی گئی، وہ اس دودھ کو بھی پی گیا، پھر جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہوگیا، رسول کریم ﷺ نے (اس وقت بھی) اس کے لئے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا۔ بکری دوہی گئی اور اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر آپ ﷺ نے دوسری بکری دوہنے کا حکم دیا (بکری دوہی گئی) لیکن (اب) وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مؤمن ایک آنت میں میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔
تشریح
کہا جاتا ہے کہ انسان کے پیٹ میں آنتیں ہوتی ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہاں ایک آنت اور سات آنت سے مراد قلب حرص اور کثرت حرص ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کھانے پینے میں کم حرص رکھتا ہے اور کافر زیادہ حرص رکھتا ہے اور یہ بات اکثر و اغلب کے اعتبار سے ہے یا اس مخصوص شخص کی حالت بیان کرنا مراد ہے، جس کا روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ جب مسلمان ہوا تو کم کھانے لگا، لیکن جب کافر تھا تو زیادہ کھاتا، یا کامل الایمان مؤمن مراد ہے، کہ وہ ذکر الہٰی کی برکت اور نور و معرفت ایمان کے سبب ہمہ وقت سیر رہتا ہے کہ اس کو نہ کھانے پینے کی حرص ہوتی ہے اور نہ کھانے پینے کے اہتمام کی طرف رغبت، اس کے برعکس کافر کا حال دوسرا ہوتا ہے! درحقیت اس حدیث میں یہ تنبیہ ہے کہ مؤمن کی شان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صبر و قناعت کو لازم جانے، زہد و ریاضت کی راہ کو اختیار کرے، خوردونوش کی اسی حد پر اکتفا کرے جو زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہو اور معدے کو اتنا خالی رکھے۔ جو نورانیت دل، صفائی باطن اور شب بیداری وغیرہ کے لئے ممد و معاون ہو۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ ایک فقیر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آیا اور بہت زیادہ کھا کر اٹھا، حضرت عمر ؓ نے جب اس کو اتنا زیادہ کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کے آئندہ اس کو میرے پاس نہ آنے دیا جائے، علماء نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب اس فقیر نے اس قدر غیر معمولی طور پر کھایا تو گویا وہ کفار کے مشابہ ہوا اور جو شخص کافروں کی مشابہت اختیار کرے اس سے ملنا جلنا ترک کردینا چاہئے، واضح رہے کہ کم کھانے کی عادت اختیار کرنا، عقلاء باہمت اور اہل حقیقت کے نزدیک مستحسن و محمود ہے اور اس کے برعکس مذموم ہے، لیکن وہ بھوک جو حد افراط کو پہنچ جائے، ضعف بدن اور قوائے جسمانی کے اختلال کا باعث ہو اور جس کی وجہ سے دین و دنیا کے امور کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا ہو، وہ ممنوع اور طریقہ حکمت کے منافی ہے۔
تھوڑے کھانے میں بھی دوسروں کو شریک کرلینا بہتر ہے
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : طعام الاثنين كافي الثلاثة وطعام الثلاثة كافي الأربعة
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو کھانا دو آدمیوں کو سیر کردیتا ہے وہ تین آدمیوں کو بھی سیر کردیتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس کھانے کو دو آدمی سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ وہ تین آدمیوں کے لئے بطور قناعت کافی ہوجاتا ہے کہ وہ تینوں کی بھوک ختم کردیتا ہے ان کو عبادت وطاعت کی طاقت و قوت عطا کردیتا ہے اور ان کے ضعف کو دور کردیتا ہے اس پر مابعد کی عبارت تین آدمیوں کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے، اصل میں حدیث کی غرض اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ اگر تمہیں اتنا کھانا میسر ہو جو تمہارا پیٹ پوری طرح بھر سکتا ہے تو اس کو محض اپنے پیٹ بھر نے میں صرف نہ کرو بلکہ درجہ قناعت اختیار کر کے اس میں سے اتنا ہی کھاؤ جو تمہاری غذائی ضرورت کے بقدر ہو، جو تمہاری ضرورت واقعی سے زائد ہو، اس کو کسی دوسرے محتاج کو کھلا دو۔
تھوڑے کھانے میں بھی دوسروں کو شریک کرلینا بہتر ہے
وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھانا آٹھ کو کافی ہوتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں بھی وہی تاویل ہوگی جو اوپر بیان ہوئی لیکن اوپر کی حدیث میں ثلث و ربع کے حساب سے فرمایا گیا ہے۔ (کہ ایک کا کھانا دو کو اور دو کا تین آدمیوں کو کافی ہوتا ہے) اس حدیث میں بطریق تضاعف (دگنے کے حساب سے) فرمایا گیا ہے (کہ ایک کا کھانا دو کو اور دو کا چار کو کافی ہوتا ہے) یہ اختلاف اشخاص و احوال کے تفاوت کے سبب سے ہے کہ جس جذبہ قناعت اور ایثار کی صورت میں دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے ہوتا ہے، بعض حالات اور بعض آدمیوں کی صورت میں وہی جذبہ قناعت و ایثار کچھ اور بڑھ کردو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے بھی کافی قرار دے دیتا ہے۔ منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ہر گھر والوں کے پاس ان کی تعداد کے بقدر آدمی بھیج دوں، کیونکہ آدمی آدھا پیٹ کھانے سے ہلاک نہیں (حضرت عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ اس قحط کے زمانہ میں بھی کچھ لوگوں کو اسباب معیشت میسر ہیں اور وہ دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں، جب کہ کتنے ہی بندگان اللہ ایسے ہیں جنہیں بقاء زندگی کے بقدر بھی خوارک میسر نہیں ہے میں چاہتا ہوں کہ جن گھروں کو اللہ نے پیٹ بھر کھانے کے بقدر رکھا ہے ان میں سے ہر گھر کے ذمہ اتنے محتاج نادار لوگوں کا کھانا کر دوں، جتنے خود گھر والے ہیں، مثلا جس گھر میں پانچ آدمی ہیں، اس گھر کے ذمہ پانچ ہی ناداروں کا کھانا کر دوں کہ وہ اپنے اتنے ہی کھانے میں کہ جو وہ تیار کرتے ہیں، ان پانچوں ناداروں کو بھی شریک کرلیں، اس طرح وہ اپنا آدھا پیٹ کاٹ کر ان ناداروں کی زندگی کی بقاء کا ذریعہ بن جائیں گے جن کو کچھ بھی کھانے کے لئے میسر نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ آدھا پیٹ بھرنے سے جسم کی توانائی میں کچھ کمی بیشک آجائے مگر اس کی وجہ سے آدمی ہلاک نہیں ہوتا۔ بہرحال ان احادیث و روایات کا اصل مقصد غرباء کی خبر گیری اور اپنی تئیں ایثار و قناعت کو اختیار کرنے کی طرف راغب کرنا ہے اور اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ نفس امارہ کا تقاضا تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ بھی میسر ہو وہ اپنے پیٹ میں ڈال لیا جائے لیکن انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے کہ اس میں ان لوگوں کو بھی شریک کرو، جنہیں کچھ بھی میسر نہیں ہوسکا ہے۔
تلبینہ بیمار کے لئے بہترین چیز ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : التلبينة مجمة لفؤاد المريض تذهب ببعض الحزن
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تلبینہ بیمار کے دل کو تسکین و قوت دیتا ہے اور بعض غموں کو دور کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
تلبینہ اس حریرے کو کہتے ہیں، جو آٹے اور دو دھ سے بنایا جاتا ہے کبھی اس میں شہد بھی ملا دیتے ہیں، چونکہ اس حریرہ کا خاص جز دودھ ہوتا ہے اور دودھ کی طرح سفید بھی ہوتا ہے اس لئے اس کو تلبینہ کہتے ہیں لبن (دودھ) سے مشتق ہے۔
تلبینہ بیمار کے لئے بہترین چیز ہے
وعن أنس أن خياطا دعا النبي صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه فذهبت مع النبي صلى الله عليه وسلم فقرب خبز شعير ومرقا فيه دباء وقديد فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حوالي القصعة فلم أزل أحب الدباء بعد يومئذ
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں ( ایک دن) ایک درزی نے نبی کریم ﷺ کو اپنے تیار کئے ہوئے کھانے پر مدعو کیا نبی کریم ﷺ کے ہمراہ میں بھی گیا اس نے جو کی روٹی اور شوربا لا کر (دسترخوان پر) رکھا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا، چناچہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ (کو کدو چونکہ بہت مرغوب تھا اس لئے آپ ﷺ پیالے کے کناروں میں کدو کو تلاش کر کرکے کھاتے تھے، اسی لئے اس دن کے بعد سے میں کدو کو بہت پسند کرتا ہوں (کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کو بہت پسند تھا۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
حضرت انس ؓ کا اس دعوت میں جانا یا تو اس بنا پر تھا، کہ ان کو بھی مدعو کیا گیا ہوگا یا وہ چونکہ آنحضرت ﷺ کے خادم خاص تھے اور کسی بھی دعوت میں خادم کے ساتھ ہونے کی اجازت راعی کی طرف سے عام طور پر ہوتی ہے، اس لئے حضرت انس ؓ آنحضرت ﷺ کے ہمراہ اس دعوت میں شریک ہوئے، اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اگر دسترخوان پر کسی پیالے یا برتن میں کھانے کی مختلف چیزیں ایک ساتھ ہوں تو اس پیالے یا برتن کے دوسرے کنارہ تک ہاتھ بڑھانا جائز ہے، اس صورت میں محض اپنے سامنے کے کنارے تک اپنے ہاتھ محدود رکھنا ضروری نہیں ہوگا، بشرطیکہ دسترخوان پر بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ اس کو ناپسند کریں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ غرباء اور دست کاروں کی دعوت قبول کرنا چاہئے اور وہ دسترخوان پر کھانے کی جو بھی چیز لا کر رکھیں اس کو برضا ورغبت کھانا چاہئے، تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر کھانے کے وقت اپنا خادم ساتھ ہو تو اس کو اپنے ساتھ ہی کھانا کھلانا چاہئے، یہ خالص دنیا داروں کا طریقہ ہے کہ خود تو الگ بیٹھ کر کھائیں اور خادم کو دوسری جگہ بٹھا کر کھلائیں۔ اور چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ کدو کو اپنی پسندیدہ غذا قرار دینا مسنون ہے اور اس طرح ہر اس چیز کو پسند و مرغوب رکھنا مسنون ہے، جس کو آنحضرت ﷺ پسندیدہ و مرغوب رکھتے تھے۔
چھری کانٹے سے کھانے کا مسئلہ
وعن عمرو بن أمية أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يحتزمن كتف الشاة في يده فدعي إلى الصلاة فألقاها والسكين التي يحتز بها ثم قام فصلى ولم يتوضأ
اور حضرت عمرو بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، کہ آپ ﷺ بکری کا شانہ جو آپ کے ہاتھ میں تھا چھری سے کاٹتے تھے، پھر آپ ﷺ کو (اسی دوران ) نماز کے لئے بلایا گیا، تو آپ ﷺ شانے کو اور اس چھری کو کہ جس سے وہ شانہ کاٹ رہے تھے وہیں چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور نماز ادا کی، آپ ﷺ نے (اس وقت) وضو نہیں کیا (کیونکہ آپ ﷺ وضو سے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھاتے وقت گوشت یا کھانے کی کوئی چیز کاٹ کاٹ کر کھانا جائز ہے، بشرطیکہ اس کی ضرورت ہو اور اگر وہ گوشت یا کوئی بھی چیز گلی ہوئی اور نرم ہو کہ اس کو چھری سے کاٹنے کی ضرورت نہ ہوتی ہو، تو پھر چھری سے کاٹ کر کھانا مکروہ ہوگا، کیونکہ اس طرح بلا ضرورت چھری کانٹے سے کھانا عجمیوں (یعنی غیر مسلموں کے) تکلفات میں شمار کیا گیا ہے، جیسا کہ دوسری فصل میں بیان ہوگا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ داعی حق (نماز کے لئے بلانے والے یا اذان) کی آواز سن کر کھڑے ہوجانے اور نماز میں پہنچ جانا چاہئے اگرچہ کھانا سامنے رکھا ہوا ہو، لیکن یہ اس صورت کا حکم ہے جب کہ کھانے کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو اس کھانے کی طرف شدید احتیاج نہ ہو، یعنی اتنی بھوک نہ ہو کہ اگر وہ کھانا کھائے بغیر اٹھ کر نماز کے لئے چلا گیا تو نماز میں جی نہ لگے اور اس بات کا خوف نہ ہو کہ نماز سے واپس آنے کے بعد پھر کھانا نہیں ملے گا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا ضروری نہیں ہوتا جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے کہ ان کے نزدیک آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو میٹھی چیز بہت پسند تھی
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الحلواء والعسل . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ میٹھی چیز اور شہد کو بہت پسند فرماتے تھے۔ (بخاری)
تشریح
عربی میں حلو آء (مد کے ساتھ) اور حلواء ( قصر کے ساتھ) دونوں کا اطلاق اس میٹھی چیز پر ہوتا ہے جو مٹھاس اور چکنائی کے ذریعہ بنے، جس کو اردو میں حلوہ کہا جاتا ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مطلق یعنی ہر میٹھی چیز کو حلوہ کہتے ہیں اس صورت میں الحلواء کے بعد و العسل کا ذکر تخصیص بعد تعمیم کے طور پر ہوگا (یعنی پہلے تو حلوہ کا ذکر کیا) جو ایک عام لفظ ہے اور جس کے حکم میں شہد بھی داخل ہے، لیکن پھر بعد میں خاص طور پر شہد کو بھی ذکر کردیا، خطابی نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا میٹھی چیز کو بہت پسند کرنا طبعی خواہش کی زیادتی کی بنا پر نہیں تھا کہ آپ ﷺ اکثر و بیشتر میٹھی چیز کھانا پسند فرماتے ہوں بلکہ بہت پسند کرنے کا مطلب محض یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے سامنے دسترخوان پر میٹھی چیز آتی تو آپ ﷺ اس کو اتنی رغبت کے ساتھ تناول فرماتے کہ معلوم ہوتا کہ یہ آپ ﷺ کو بہت مرغوب ہے۔
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم سأل أهله الأدم . فقالوا : ما عندنا إلا خل فدعا به فجعل يأكل به ويقول : نعم الإدام الخل نعم الإدام الخل . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا، گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس سالن نہیں ہے البتہ سرکہ ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے سرکہ منگوایا اور اس کے ساتھ روٹی کھانے لگے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ سرکہ بہترین ہے سرکہ بہترین سالن ہے (مسلم)
تشریح
سرکہ بہترین سالن ہے یہ بار بار آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ سرکہ کی زیادہ سے زیادہ تعریف ہو، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنا اور اپنے نفس کو لذیذ چیزوں سے باز رکھنا اچھی بات ہے۔ حدیث سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ میں سالن سے روٹی نہیں کھاؤں گا اور پھر سرکہ سے روٹی کھالے تو وہ حانث (یعنی قسم کو توڑنے والا) ہوگا کیونکہ سرکہ کا سالن ہونا اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ سرکہ انبیاء کرام صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین کا سالن ہے اور طبی طور پر سرکہ کے جو منافع و فوائد ہیں، وہ بہت زیادہ ہیں، جن کی تصدیق طبی کتابوں اور اطباء کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔
وعن سعيد بن زيد قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : من المن الذي أنزل الله تعالى على موسى عليه السلام
اور حضرت سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کھنبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے ( بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ کھنبی اس من میں سے ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا تھا۔
تشریح
کماۃ کاف کے زبر میم کے جزم اور ہمزہ کے زبر کے ساتھ۔ رحمت کے وزن پر ہے، کماۃ، کھنبی کو کہتے ہیں، جواز قسم بناتات چربی کی مانند ایک چیز ہوتی ہے اور اکثر برسات میں از خود پیدا ہوجاتی ہے، عربی میں اس کو حشم الارض (زمین کی چربی) بھی کہتے ہیں اور ہمارے یہاں اس کو عام طور پر سانپ کی چھتری کہا جاتا ہے۔ کھنبی حلال ہے اور بہت لوگ اس کو تل کر کھاتے بھی ہیں اگرچہ بعض مقامات پر اس کو کھانا طبعی طور پر مکروہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہاں اس کو کھانے کی عادت نہیں ہوتی۔ کھنبی من کی ایک قسم ہے کا مطلب یہ نہیں ہے، کھنبی اصل میں وہ من ہے جو اس آیت کریمہ ( وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى) 2۔ البقرۃ 57) (اور ہم نے بنی اسرائیل پر من وسلوی اتارا) کے مطابق حضرت موسیٰ علی السلام کی قوم بنی اسرائیل پر اترتا تھا، کیونکہ من تو ترنجبین کی طرح کی ایک چیز تھی جو آسمان سے اترتی تھی اور یہ کھنبی زمین سے اگتی ہے، بلکہ کھنبی، من کی ایک قسم ہے) کہ جس طرح من اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت تھی، جو بلا محنت و مشقت آسمان سے نازل ہوتی تھی اس طرح کھنبی بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو بلا محنت و مشقت زمین سے پیدا ہوتی ہیں، یا یہ مراد ہے کہ کھنبی اپنے منافع و فوائد کے لحاظ سے من کے مشابہ ہے۔ اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کا پانی آنکھ کے لئے اس صورت میں شفاء کا حکم رکھتا ہے جب کہ اس کو دوسری دواؤں (جیسے سرمہ یا طوطیا وغیرہ) میں ملا کر آنکھوں میں لگایا جائے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ فقط کھنبی کا پانی بھی آنکھ کے لئے فائدہ ہے اور حدیث کے مطلق مفہوم کی بناء پر یہی بات زیادہ صحیح ہے، بعض علماء نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کی بصارت جاتی رہی تھی اس نے کھنبی کا پانی لگایا تو اس کی بصارت درست ہوگئی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا یہ قول بھی نقل کیا جاتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ میں نے تین یا پانچ کھنبیاں لے کر ان کو نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی میں رکھا، ایک چھوکری نے اس کو آنکھوں سے لگایا تو وہ اچھی ہوگئی، بہرحال اس سلسلے میں تفصیل انشاء اللہ باب الطب والرقی میں بیان ہوگئی۔
ککڑی اور کھجور کو ملا کر کھانے کا ذکر
وعن عبد الله بن جعفر قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل الرطب بالقثاء
اور حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو ککڑی اور تازہ کھجور ملا کر کھاتے دیکھا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ککڑی اور کھجور کو ملا کر کھانے کی صورت یا تو یہ تھی، کہ دونوں کو ملا کر ایک ساتھ منہ میں رکھتے اور کھاتے تھے، یا یہ کہ پہلے ایک کھجور منہ میں رکھ لیتے اور پھر ایک ٹکڑا ککڑی کا رکھتے اور دونوں کو ساتھ کھاتے، آپ ﷺ دونوں کو ملا کر اس لئے کھاتے کہ دونوں مل کر معتدل ہوجائیں کیوں کہ کھجور میں حرارت ہوتی ہے اور ککڑی میں برودت اور مرکبات کی سب سے بڑی اصل اعتدال ہے کہ معتدل چیز تعدیل مزاج کی باعث بھی ہوتی ہے اور بہت زیادہ نفع بھی بخشتی ہے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک وقت میں کھانے کی دو چیزوں کو غذا بنانا، یا کھانے پینے میں وسعت و فراخی اختیار کرنا، یعنی کھانے کی ایک سے زائد چیزیں تیار کرانا اور کھانا جائز ہے، چناچہ اس کے جواز کے بارے میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ جن علماء نے اس کو مکروہ کہا ہے وہ اس صورت پر محمول ہے جب کہ کھانوں کی زیادہ مقدار و قسمیں تیار کرانا اور کھانا اور عمدہ اقسام و انواع کے کھانوں کو غذا بنانا بطور عادت اختیار کیا جائے اور کھانے کی اس تنوع و کثرت کی بنیاد کسی دینی مصلحت و فائدے کے بجائے محض لذت کام و دہن اور حصول عیش پر ہو۔