وعن جابر قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمر الظهران نجني الكباث فقال : عليكم بالأسود منه فإنه أطيب فقيل : أكنت ترعى الغنم ؟ قال : نعم وهل من نبي إلا رعاها ؟
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ مقام مرالظہران میں تھے (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے) اور پیلو کے پکے پکے پھل جمع کر رہے تھے، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کا جو پھل سیاہ ہو، وہ لے لو) کیونکہ وہ اچھا ہوتا ہے اور فائدہ بھی پہنچاتا ہے ہم نے عرض کیا (یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں! اور کونسا نبی ہے جس نے بکریاں نہیں چرائی ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کیا آپ ﷺ نے بکریاں چرائی ہیں اس سوال کا مطلب یہ تھا کہ پیلو کے پھل چونکہ ان لوگوں کی خاص خوراک و غذا ہے جو جنگل میں بود و باش رکھتے ہیں، یا بکریاں چرایا کرتے ہیں اور اسی اعتبار سے وہی لوگ اس پھل کے اچھے برے کی تمیز رکھتے ہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ اور کون سا نبی ہے جس نے بکریاں نہیں چرائی ہیں اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے نبوت کا منصب کبھی بھی دنیا داروں، بادشاہوں اور متکبر و مغرور لوگوں کے طبقہ کو عطاء نہیں فرمایا بلکہ دین و دنیا کے اس سب سے بڑے منصب کی ذمہ داری ہمیشہ ان لوگوں کے سپرد کی گئی جو بکر یاں چراتے تھے، مفلس و نادار ہوتے تھے اور انتہائی تواضع و انکساری کے ساتھ دست کاری و کاریگری کا پیشہ اختیار کئے ہوتے تھے، چناچہ منقول ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) خیاطی کا کام کرتے تھے، حضرت زکریا (علیہ السلام) نجاری کرتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اجرت پر، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور اس میں حق تعالیٰ کی مصلحت و حکمت یہ ہوتی تھی کہ طبقہ انسانی کے ان برگزیدہ ترین لوگوں کی پرورش و نمو حلال رزق کے ذریعہ ہو جو عام طور پر سخت محنت و مشقت ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے عمل صالح کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوں اور وہ زیادہ زیادہ نیک کام کریں اور خاص طور پر بکریاں چرانے میں ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ لوگوں سے یکسوئی اور حق تعالیٰ جل شانہ کے ساتھ خلوت کا موقع حاصل ہوتا نیز رعایا پروری کے طور طریقے اور کمزور و نادار لوگوں کے ساتھ شفقت و نرمی کا برتاؤ رکھنے کا سبق ملتا تھا۔ چنانچہ ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ (ایک دن) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہو ہم نے تمہیں نبوت کا منصب اعظم کیوں عطا کیا؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار! تو ہی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس دن کو یاد کرو۔۔۔۔۔ جب تم ودای الایمن میں بکریاں چرا رہے تھے اور ایک بکری بھاگ کھڑی ہوئی تھی تم اس کے پیچھے دوڑے جس کی وجہ سے تمہیں بہت زیادہ تکلیف و مشقت برداشت کرنا پڑی، پھر جب تم نے اس بکری کو جالیا تو تم نے نہ اس بکری کو مارا اور نہ اس پر غیظ وغضب کا اظہار کیا بلکہ اس کے ساتھ شفقت نرمی کا برتاؤ کیا پھر اور اس کو مخاطب کرکے کہا کہ اوہ بچاری! تو نے اپنے آپ کو بھی تکلیف و مصیبت میں مبتلا کیا اور مجھے بھی کلفت و تعب میں ڈالا۔ جب ہم نے اس حیوان کے تئیں تمہاری یہ شفقت و رحم پروری دیکھی تو ہم پر ہماری رحمت متوجہ ہوئی کہ تمہیں نبوت سے سرفراز کیا اور اپنا برگزیدہ بندہ قرار دیا۔
آنحضرت ﷺ کس طرح بیٹھ کر کھاتے تھے
وعن أنس قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسلم مقعيا يأكل تمرا وفي رواية : يأكل منه أكلا ذريعا . رواه مسلم
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو بہ ہیئت اقعاء بیٹھ کر کھجوریں کھاتے دیکھا ہے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ کھجوروں کو جلدی جلدی کھا رہے تھے۔ (مسلم)
تشریح
بہ ہیئت اقعاء سے مراد بیٹھنے کی وہ صورت ہے جس میں دونوں سرین زمین پر رکھے جائیں اور دونوں زانو کھڑے کر لئے جائیں۔ کھجوروں کو جلدی جلدی کھانے کا سبب یہ تھا کہ اس وقت آپ ﷺ کو کوئی کام درپیش ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے کھجوروں کو جلدی جلدی کھایا تاکہ اس سے فارغ ہو کر اس کام میں مشغول ہوجائیں۔
کئی آدمی ہوں تو دو کھجوریں ساتھ ساتھ نہ کھاؤ
وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو کھجوروں کو جمع نہ کرے، یعنی ایک ساتھ دو دو کھجوریں کھائے الاّ یہ کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سیوطی کہتے ہیں کہ اس ممانعت کا تعلق اس وقت سے تھا، جب کہ مسلمان فقر و افلاس اور تنگی معاش میں مبتلا تھے، لیکن جب انہیں اللہ نے معاش میں وسعت و فراخی اور خوشحالی عطا فرمائی تو آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ ممانعت منسوخ ہوگئی کہ۔ میں تمہیں کھجوروں کو جمع کرنے سے (یعنی ایک سے زائد کھجوروں کو ایک ساتھ کھانے سے) منع کرتا تھا، مگر اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق کی وسعت و فراخی عطا فرمائی ہے تو جمع کرو، یعنی اگر تم اب ایک سے زائد کھجوریں ایک ساتھ کھاؤ تو یہ حرام یا مکروہ نہیں ہوگا۔ لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر چند لوگ کسی بھی کھانے کی چیز اپنی غذائی ضرورت میں صرف کرنے کا مشترکہ طور پر یکساں حق رکھتے ہوں اور ان کی طرف سے اس چیز کو خرچ سے مقرر مقدار سے زیادہ کھانے پر پابندی) نہ ہو تو اس صورت میں بھی مروت و ادب کا تقاضا بہرحال یہی ہوگا کہ ایسا نہ کیا جائے (یعنی دوسرے ساتھیوں سے زیادہ کھانے مقررہ مقدار سے تجاوز کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ یہ کھانے کے آداب کے بھی منافی ہے اور مروت کے بھی خلاف ہے ہاں اگر تمام ساتھی ایسا کرنے کی صریح اجازت دے دیں یا کوئی ایسی چیز ہو جو ان کی طرف سے اجازت پر دلالت کرے تو کوئی مضائقہ نہیں، لہٰذا سابقہ ممانعت کا تعلق دونوں صورتوں (یعنی حالت فقر و افلاس اور شرکت) سے ہوگا اور اباحت و استثناء کا تعلق شرکت کے علاوہ دوسری صورت سے ہوگا۔
وعن عائشة رضي الله عنها إن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا يجوع أهل بيت عندهم التمر . وفي رواية : قال : يا عائشة بيت لا تمر فيه جياع أهله قالها مرتين أو ثلاثا . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جس گھر میں کھجور ہو۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ عائشہ ؓ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں۔ آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ (مسلم)
تشریح
بعض علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس گھر کے رہنے والوں سے مراد اہل مدینہ اور وہ لوگ ہیں جن کی غذا کھجور ہے۔ نووی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں درحقیقت کھجوروں کی فضیلت و اہمیت کا بیان ہے اور اس کے ذریعہ اپنے گھر والوں کی غذائی ضروریات کے لئے کھجوروں کا ذخیرہ کرنے کے جواز کا اظہار اور اس کی ترغیب دینا مقصود ہے۔
وعن سعد قال : سمعت رسول الله يقول : من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر
اور حضرت سعید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص صبح کے وقت (کوئی اور چیز کھانے سے پہلے) سات عجوہ کھجوریں کھائے گا اس کو اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
عجوہ مدینہ کی کھجوروں میں سے ایک قسم ہے جو صیحانی سے بڑی اور مائل بہ سیاہی ہوتی ہے، یہ قسم مدینہ کی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور اعلی ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کھجور کا اصل درخت آنحضرت ﷺ نے لگایا تھا۔ زہر سے مراد وہی زہر ہے جو مشہور ہے (یعنی وہ چیز جس کو کھانے سے آدمی مرجاتا ہے) یا سانپ، بچھو اور ان جیسے دوسرے زہریلے جانوروں کا زہر بھی مراد ہوسکتا ہے مذکورہ خاصیت (یعنی دافع سحر زہر ہونا) اس کھجور میں حق تعالیٰ کی طرف سے پیدا کی گئی ہے جیسا کہ قدرت نے از قسم بناتات دوسری چیزوں (جڑی بوٹیوں وغیرہ) میں مختلف اقسام کی خاصیتیں رکھی ہیں اور یہ بات آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہوگئی کہ کھجور میں یہ خاصیت ہے، یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے اس کھجور میں یہ خاصیت ہے۔ جہاں تک سات کے عدد کی تخصیص کا سوال ہے تو اس کی وجہ شارع کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں، بلکہ اس کا علم توفیقی ہے یعنی آنحضرت ﷺ سے سماعت پر موقوف ہے کہ آپ ﷺ نے سات ہی کا عدد فرمایا اور سننے والوں نے اسی کو نقل کیا، نہ تو آنحضرت ﷺ نے اس تخصیص کی وجہ سے بیان فرمائی اور نہ سننے والوں نے دریافت کیا جیسا کہ رکعات وغیرہ کے اعداد کا مسئلہ ہے۔
وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن في عجوة العالية شفاء وإنها ترياق أول البكرة . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عالیہ کی عجوہ (کھجوروں) میں شفا ہے اور وہ (زہر وغیرہ کے لئے) تریاق کی خاصیت رکھتی ہے۔ جب کہ اس کو دن کے ابتدائی حصے میں (یعنی نہار منہ کھایا جائے۔ (مسلم )۔
تشریح
مدینہ منورہ کے اطراف میں قبا کی جانب جو علاقہ بلندی پر واقع ہے وہ عالیہ یا عوالی کہلاتا ہے، اسی مناسبت سے ان اطراف میں جتنے گاؤں اور دیہات ہیں ان سب کو عالیہ یا عوالی کہتے ہیں، اسی سمت نجد کا علاقہ ہے اور اس کے مقابل سمت سے جو علاقہ ہے وہ نشیبی ہے اور اس کو سافلہ کہا جاتا ہے۔ اس سمت میں تہامہ کا علاقہ ہے۔ اس زمانہ میں عالیہ یا عوالی کا سب سے نزدیک والا گاؤں مدینہ سے تین یا چار میل اور سب سے دور والا گاؤں سات یا آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ عالیہ کی عجوہ میں شفا ہے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ دوسری جگہوں کی عجوہ کھجوروں کی بہ نسبت عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں زیادہ شفا ہے، یا اس سے حدیث سابق کے مطلق مفہوم کی تقئید مراد ہے یعنی پچھلی حدیث میں مطلق عجوہ کھجور کی جو تاثیر و خاصیت بیان کی گئی ہے اس کو اس حدیث کے ذریعہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ مذکورہ تاثیر و خاصیت عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں ہوتی ہے۔ تریاق ت کے پیش اور زیر دونوں کے ساتھ۔ وہ مشہور دوا ہے جو دافع زہر وغیرہ ہوتی ہے۔
وعنها قالت : كان يأتي علينا الشهر ما نوقد فيه نارا إنما هو التمر والماء إلا أن يؤتى باللحيم
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بعض مہینہ ہم پر ایسا گزرتا تھا کہ ہم اس میں آگ نہ جلاتے تھے (یعنی بعض مرتبہ پورا پورا مہینہ ایسا گزرتا تھا کہ ہمارے گھر میں سامان خوارک نہ ہونے کی وجہ سے چھولھے میں آگ بھی نہیں جلتی تھی) اور (اس عرصہ میں) ہماری غذا کا انحصار (صرف) کھجور اور پانی پر ہوتا تھا۔ الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت آجاتا تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت آجاتا تھا کا مطلب یہ ہے کہ تنگی معاش کے اس عرصہ میں ہم صرف کھجوریں کھا کھا کر اور پانی پی پی کر گزر کرلیا کرتے تھے، یا اگر کوئی شخص تھوڑا بہت گوشت بھیج دیا کرتا تھا تو اس کو کھالیتے تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ گھر میں خوراک کا کوئی سامان نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی، ہاں اگر کہیں سے کچھ گوشت آجاتا تو اس کو پکانے کے لئے آگ جلالیا کرتے تھے۔
وعنها قالت : ما شبع آل محمد يومين من خبز بر إلا وأحدهما تمر
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایسا (کبھی نہیں ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے گھر والوں نے دو دن گیہوں کی روٹی سے اپنا پیٹ بھرا ہو اور ان دو دنوں میں سے ایک دن کی غذا کھجور نہ ہوئی ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل و عیال کبھی بھی مسلسل دو دنوں تک گیہوں کی روٹی نہیں کھاتے تھے، جہاں تک گیہوں کی روٹی کی قید لگانے کا سوال ہے تو ہوسکتا ہے کہ جو کی روٹی میسر ہوجاتی ہو۔
وعنها قالت : توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما شبعنا من الأسودين
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور ہم نے (آپ ﷺ کی حیات میں کبھی) دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی سے پیٹ نہیں بھرا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث بھی واضح کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل و عیال کس تنگی و سختی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے تھے اور باوجودیکہ اگر آپ چاہتے تو دنیا کی تمام لذات اور ایک خوش حال، بافراغت زندگی گزارنے کے سارے وسائل و ذرائع آپ ﷺ کے قدموں میں ہوتے مگر آپ ﷺ ہمیشہ کمال ایثار و استغناء اور نفس کشی و ترک لذات پر عامل رہے۔ اسودین (دو سیاہ چیزوں) میں سے ایک سیاہ چیز کھجور ہے اور دوسری سیاہ چیز پانی! کو سیاہ چیز سے تعبیر کرنا مجاورت و مقارنت کی وجہ سے ہے اور اس طرح کا طرز کلام اہل عرب کی یہاں مستعمل ہے، جیسا کہ ماں اور باپ کو ابوین یا چاند اور سورج کو قمرین کہتے ہیں، اس کو عربی میں تغلیب کہتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ اس ارشاد میں پانی کا ذکر کھجور کے ضمن و طفیل میں ہے، اصل مقصد کھجور ہی کا ذکر کرنا ہے، کیونکہ پانی نہ تو پیٹ بھرنے کے مصرف میں آتا ہے اور نہ اس کی کوئی کمی ہی تھی، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ آنحضرت ﷺ اور ان کے گھر والوں کو غذا کے طور پر کھجوریں بھی اتنی مقدار میں مہیا نہیں ہوتی تھیں جو پیٹ بھرنے کے بقدر ہوں، بلکہ بس اتنی ہی مہیا ہوجاتی تھیں جس سے پیٹ کو سہارا مل جاتا تھا۔
وعن النعمان بن بشير قال : ألستم في طعام وشراب ما شئتم ؟ لقد رأيت نبيكم صلى الله عليه وسلم وما يجد من الدقل ما يملأ بطنه . رواه مسلم
اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ایک موقع پر) فرمایا کیا تم لوگ اپنے کھانے پینے میں جس طرح چاہتے ہو عیش نہیں کرتے (یعنی تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں میں اپنی خواہش کے مطابق وسعت و افراط اختیار کر کے عیش و راحت کی زندگی گزار رہے ہو) جب کہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کو ناکارہ کھجوریں۔ بھی اس قدر میسر نہیں ہوتی تھیں جو آپ ﷺ پیٹ بھر دیتیں۔ (مسلم)
تشریح
کیا تم۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔، حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے یہ بات یا تو تابعین کو مخاطب کر کے کہی، یا آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہی۔ تمہارے نبی کریم ﷺ۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ مخاطبین کی طرف سے نبی کریم ﷺ کی اضافت و نسبت ان کو الزام دینے یا یوں کہا جائے کہ غیرت دلانے کے لئے کی کہ تم جس نبی ﷺ کی امت میں ہو اور جن کا نام لیوا ہونے پر فخر کرتے ہو، ان نبی کریم ﷺ کا تو یہ حال تھا کہ ان کو پیٹ بھرنے کے لئے ناکارہ کھجوریں بھی میسر نہیں آتی تھیں اور ایک تم ہو کہ انواع و اقسام کے کھانے کھاتے ہو اور عیش و عشرت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہو اور اس طرح گویا تم نے دنیا اور دنیا کی لذتوں سے اجتناب کرنے کے اپنے نبی ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرنے سے اعراض کیا ہے۔ واضح رہے کہ پہلی حدیث میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر بعض ایام ایسے گزرتے تھے جن میں آپ ﷺ کی غذا محض کھجوریں ہوتی تھیں، دوسری حدیث میں بیان کیا گیا کہ وہ کھجوریں بھی اتنی مقدار میں میسر نہیں ہوتی تھیں جس سے پیٹ ہی بھر لیا جاتا اور یہاں یہ بیان کیا گیا کہ وہ قلیل مقدار بھی اچھی کھجوروں پر مشتمل نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ ناکارہ کھجوریں ہوتی تھیں جن کو بالکل ہی محتاج و مفلس شخص کے علاوہ کوئی دوسرا کھانا بھی پسند نہ کرے اور یہ ساری باتیں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک لذات دنیا کی قطعا کوئی اہمیت نہیں تھی اور آپ ﷺ معمولی درجہ کی بھی خوش حال و راحت بخش زندگی گزارنے سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے تھے، بلکہ آپ ﷺ بنیادی طور پر فقر اور ترک لذات کو اختیار کیا تھا اور یہی آپ ﷺ کا معمول بن گیا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر حالت میں قائم رکھا، جب اسلام اور اہل اسلام پر سخت عسرت و تنگی کا زمانہ تھا اس وقت بھی آپ ﷺ اس پر عامل رہے اور جب اسلام و اہل اسلام کو شوکت نصیب ہوئی اور دنیا کے خزانے آپ ﷺ کے قدموں میں آگئے اس حالت میں بھی آپ ﷺ نے اسی فقر و عسرت کی زندگی گزارنے پر قناعت کی ایسا کیوں تھا؟ محض اس لئے نہیں کہ آپ ﷺ واقعۃ مفلس و محتاج تھے اور آپ ﷺ خواہش و طلب کے باوجود ایک خوش گوار و خوش حال زندگی کے اسباب و وسائل مہیا کرنے پر قادر نہیں تھے، کیوں کہ یہ بتایا جا چکا ہے کہ بعد میں مسلمانوں کو اسباب معیشت کی بڑی وسعت و فراوانی نصیب ہوئی بلکہ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عسرت و تنگی کے زمانہ میں بھی اگر آپ ﷺ چاہتے تو عیش و تنعم کے وہ کون سے وسائل تھے جو آپ ﷺ کو حاصل نہیں ہوسکتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کا اتنی سخت و تنگ زندگی گذارنا اس سخاوت کی بناء پر تھا کہ گھر میں جو بھی آیا دوسروں پر صرف کردیا، اس ایثار کی بناء پر تھا جو خود سخت سے سخت تکلیف میں مبتلا کر کے بھی دوسروں کی راحت چاہنا تھا، اس زہد وتقویٰ اور قناعت و توکل کی بنا پر تھا جس نے آخرت کی سر بلندی اپنے پروردگار کی رضا جوئی اور اپنی عبدیت و بےچارگی کے مکمل اظہار کے لئے دنیا کی ہر لذت، دنیا کا ہر عیش و تنعم اور دنیا کی ہر خواہش کو کلیۃً پس پشت ڈال دیا تھا اور ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اپنی اس عملی زندگی کے ذریعہ اپنی امت کو عیش و تنعم کی زندگی سے اجتناب کرنے قناعت و توکل اور ایثار کا وصف پیدا کرنے اور اپنے حقیقی مقصد حیات کی راہ میں سختی و مشقت برداشت کرنے کی تعلیم و تربیت دیں۔
وعن أيوب قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتي بطعام أكل منه وبعث بفضله إلي وإنه بعث إلي يوما بقصعة لم يأكل منها لأن فيها ثوما فسألته : أحرام هو ؟ قال : لا ولكن أكرهه من أجل ريحه . قال : فإني أكره ما كرهت . رواه مسلم
اور حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ ﷺ اس میں سے کھاتے اور باقی بچا ہوا میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک روز آپ ﷺ نے میرے پاس (ایسا) پیالہ بھیجا (جس میں کھانا تھا) اور اس میں سے خود کچھ نہیں کھایا تھا اس لئے کہ اس میں لہسن تھا میں نے پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں! بلکہ اس کی بو کے سبب میں اس کو (کھانا) پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابوایوب ؓ نے عرض کیا۔ تو پھر (میں بھی اس کھانے کو نہیں کھاؤں گا کیونکہ) جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند کیا ہے اس کو میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح
حضرت ابوایوب انصاری ؓ بڑے جلیل القدر انصاری صحابی ہیں ان کو ایک امتیازی درجہ حاصل ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر بار چھوڑ کر مکہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت ابوایوب انصاری ؓ ہی کے ہاں اترے اور ان کو میزبان رسول بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوایوب ؓ نے جس معمول کا ذکر کیا ہے، (کہ آنحضرت ﷺ باقی بچا ہوا کھانا اس کے پاس بھجواتے تھے) وہ انہی دنوں کا ہو جب کہ آپ ﷺ حضرت ابوایوب کے ہاں قیام فرما تھے۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا اس ارشاد میں کھانے کو عیب لگانا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل میں اس چیز کا اظہار مقصود ہے کہ اس کی بو مسجد میں جانے اور ملائکہ کے سامنے آنے سے روکتی ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ لہسن کا کھانا مباح ہے، لیکن اس شخص کے لئے مکروہ ہے جو جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی لہسن کھا کر نماز کے لئے مسجد میں جانا مکروہ ہے) اور یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس سے بدبو پیدا ہوتی ہو، جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے تو چونکہ آپ ﷺ ہر لمحہ وحی کے نازل ہونے کا متوقع رہتے تھے، اس لئے آپ ﷺ کبھی بھی لہسن نہیں کھاتے اور اس سے مکمل اجتناب فرماتے تھے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کہ پیاز، لہسن اور گندنا کا حکم آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے لئے کیا تھا آیا یہ چیزیں آپ ﷺ کے لئے حرام تھیں یا نہیں؟ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا کہ یہ چیزیں آنحضرت ﷺ کی ذات خاص کے لئے حرام نہیں تھیں ان کے نزدیک زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے والے اور پینے والے کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ جو چیز کھا یا پی رہا ہو اس میں سے کچھ باقی چھوڑ دے اور پھر اس کو اپنے محتاج ہمسایوں میں تقسیم کر دے۔ جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند کیا ہے۔۔۔ الخ۔، اس بات میں یا تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کامل کی طرف اشارہ ہے کہ آپ لہسن کو چونکہ ناپسند کرتے ہیں اس لئے میں بھی اس کو ہمیشہ ناپسند کروں گا، یا یہ کہ حضرت ابوایوب انصاری ؓ نے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ جماعت میں شریک ہونے کے لئے مسجد جاتے وقت میں لہسن کا استعمال نہیں کروں گا۔
لہسن، پیاز کھا کر مسجد ومجالس ذکر وغیرہ میں مت جاؤ
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من أكل ثوما أو بصلا فليعتزلنا أو قال : فليعتزل مسجدنا أو ليقعد في بيته . وإن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بقدر فيه خضرات من بقول فوجد لها ريحا فقال : قربوها إلى بعض أصحابه وقال : كل فإني أناجي من لا تناجي
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص لہسن یا (کچی) پیاز کھائے ہوئے ہو، تو اس کو چاہئے کہ وہ ہم سے الگ رہے یعنی ہماری مجالس میں نہ آئے یا یہ فرمایا کہ تو اس کو چاہئے کہ وہ (کہیں جانے کے بجائے) اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ اور (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں از قسم ترکاری سبزیاں تھیں (یعنی لہسن، پیاز اور گندنا وغیرہ) آپ ﷺ کو اس میں بو محسوس ہوئی تو اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے (کسی خادم سے) فرمایا کہ اس کو اس (فلاں شخص) کے پاس لے جاؤ اور پھر ( اس شخص کو) مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کو تم کھاؤ میں نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں جس ہستی کے ساتھ سرگوشیاں کرتا ہوں اس کے ساتھ تم سرگوشی نہیں کرتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ہماری مسجد میں مفرد لفظ یعنی مسجد سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف مسجد نبوی ﷺ کے لئے ہے اور صیغہ متکلم میں مع الغیر کا استعمال (یعنی میری مسجد کہنے کے بجائے ہماری مسجد کہنا) مسجد نبوی ﷺ کی تعظیم و اکرام کے پیش نظر ہے لیکن چونکہ اس حکم کی علت اور اس کا سبب میں تمام ہی مساجد بلکہ مجالس خیر جیسے مجلس ذکر وغیرہ، مجلس درس و تدریس اور اولیاء اللہ و علماء دین کی مجالس بھی شامل ہیں اس لئے جو حکم مسجد نبوی ﷺ کا ہے کہ لہسن وغیرہ کھا کر اس میں نہ جایا جائے یہی حکم دیگر مساجد و مجالس خیر کا بھی ہوگا اور اگر اس احتمال کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ اس ارشاد گرامی میں مفرد لفظ مسجد سے مراد جنس ہے ( کہ آپ ﷺ نے لفظ مسجد بول کر تمام مساجد مراد لی ہیں) تو پھر اس تاویل کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، علاوہ ازیں بعض روایت میں مساجدنا یعنی ہماری مساجد کا لفظ منقول ہے، اس صورت میں تو تمام مساجد کے لئے یہ حکم بالکل صریح ہوگا۔ او لیقعد فی بیتہ میں حرف او (یعنی یا) اگر راوی کے شک کے اظہار کے لئے ہے تو مراد یہ ہوگئی کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو فلیعتزلنا تو اس کو چاہئے کہ وہ ہم سے الگ رہے) فرمایا تھا یا یہ فرمایا تھا کہ فلیعتزل مسجدنا (تو اس کو چاہئے کہ ہماری مسجد سے دور رہے) اور یا یہ فرمایا تھا کہ من اکل ثوما او بصلا فلیقعد فی بیتہ یعنی جو شخص لہسن یا پیاز کھائے ہوئے ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے، کسی دوسرے کے پاس نہ جائے خواہ مسجد میں خواہ مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ او لیقعد فی بیتہ میں حرف اور راوی کے شک کے اظہار کے لئے نہ ہو، بلکہ تنویع و تقسیم کے لئے ہو اور اس کا تعلق ماقبل کے فقرہ یعنی فلیعتزل مسجدنا سے ہو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ لہسن پیاز کھا کر مسجد میں آنا مکروہ ہے کہ وہاں ملائکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ موجود رہتے ہیں اور ان چیزوں کو کھا کر عام لوگوں کے ساتھ اختلاط و مجالست مباح ہے اور یا اس سے بھی پرہیز کرنا چاہئے کہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور مطلق اختلاط و مجالست سے باز رہے کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔ اس ہستی سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور ملائکہ ہیں مطلب یہ تھا کہ یہ فرشتے میرے پاس آتے رہتے ہیں اور میں ان سے بات چیت کرتا ہوں جب کہ تمہارے ساتھ یہ چیز نہیں ہے اس لئے جو چیز ( یعنی لہسن پیاز وغیرہ کھانا) میرے لئے جائز نہیں وہ تمہارے لئے جائز ہے اس ارشاد گرامی میں گویا اس طرف اشارہ ہے کہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اپنے ہم نشین و مصاحب کی طبیعت و عادات اور اس کے حل کی رعایت ملحوظ رکھے اور اس کی جائز خوشی ومرضی کو پورا کرے۔
اشیاء خوراک کو ناپ تول کرلینے دینے اور پکانے کا حکم
وعن المقدام بن معدي كرب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : كيلوا طعامك يبارك لكم فيه . رواه البخاري
اور حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کھانے پینے کی چیزوں کو ناپ تول کرو تمہارے لئے اس میں برکت عطاء کی جائے (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو چیز پیمانہ و اوزان کے ذریعہ ناپی تولی جاتی ہے اس کو قرض لین دین بیچنے خریدنے اور پکانے کے لئے دیتے وقت ناپ تول لیا کرو تاکہ اس کا صحیح اندازہ توازن قائم رہ سکے اور کمی بیشی کا کوئی خدشہ نہ رہے چناچہ یہ چیز ( یعنی اناج و غلہ وغیرہ کا ناپنا تولنا) شارع (علیہ السلام) کے اس حکم کی بناء پر خیر و برکت میں اضافہ کی خاصیت و تاثیر رکھتی ہے خاص طور پر جب کہ سنت کی رعایت ملحوظ ہو اور أنحضرت ﷺ کے حکم کی بجا آوری کا قصد ہو ( شیخ عبدالحق محدث دہلوی) ملا علی قاری نے بھی مظہر سے اسی طرح کی بات نقل کر کے یہ لکھا ہے کہ اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ اس حدیث اور اس حدیث کے درمیان مطابقت کیوں کر ہوگی جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا جب رسول کریم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا جو کوئی جاندار کھاتا علاوہ اس تھوڑے سے جو کے جو بخاری میں تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے جو کی اس تھوڑی سی مقدار میں اتنی برکت عطا فرما رکھی تھی کہ) میں ایک مدت تک اس میں سے نکال نکال کر اپنے کھانے کا انتظام کرتی رہی پھر ( ایک دن) میں نے اس کو ناپ ڈالا بس جب ہی سے اس کی برکت جاتی رہی اس کا جواب یہ ہے اصل میں خریدو فروخت کے وقت ماپنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ برابری اور توازن قائم رہے اور خرچ کے وقت ناپنا درحقیقت احصار و ضبط ہے جو ایک طرح سے بخل اور تنگی قلب کا مظہر ہوتا ہے اور اس سے منع فرمایا گیا ہے چناچہ منقول ہے کہ أنحضرت ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا بلال تم بس خرچ کرو صاحب عرش ( اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے کمی کئے جانے کا خوف نہ کرو پس شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے حوالہ سے جو مطلب نقل کیا گیا ہے اس کے مطابق ناپنے تولنے کا حکم مطلق ناپ تول پر محمول ہے کہ لین دین اور خریدو فروخت کے وقت بھی ناپنا تو چاہیئے اور خرچ کے وقت بھی ناپ تول کو ملحوظ رکھنا چاہئے جب کہ ملا علی قاری سے منقول مذکورہ بالا اشکال اور اس کا جواب یہ واضح کرتا ہے کہ ناپ تول کرنے کا حکم محض لین دین اور خریدو فروخت کی صورت پر محمول ہے واللہ اعلم
کھانے کے بعد اللہ کی حمد وثنا
وعن أبي أمامة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رفع مائدته قال : الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا . رواه البخاري
اور حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھایا جاتا یعنی جب آپ ﷺ کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں اس طرح فرماتے سب تعریف اللہ کے لئے ہے ایسی تعریف جو بہت ہے اور پاکیزہ ( یعنی ظاہر داری اور دکھاوے سے خالی ہے جس میں برکت عطا کی گئی ہے یعنی وہ ایسی برکت حمد ہے کہ ہمیشہ جاری و قائم رہے اور کبھی منقطع نہ ہو وہ نہ کفایت کی گئی ہے اور نہ اس سے بےپروائی ہو اے رب ہمارے (بخاری)
تشریح
غیر مکفی کو علماء نے کئی طرح سے صحیح کہا ہے اور اس کے معنی بیان کئے ہیں، اگر ان کی پوری تفصیل کو یہاں نقل کیا جائے تو غیر معمولی طوالت اختیار کرنی پڑے گی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لفظ غیر اور ربنا کو مرفوع بھی قرار دیا گیا ہے اور منصوب بھی، یا ان دونوں میں سے ایک کو منصوب اور دوسرے کو مرفوع۔ اسی طرح علماء نے جو معنی و مطلب بیان کئے ہیں ان کا ما حصل یہ ہے کہ یہ الفاظ وہ نہ کفایت کی گئی ہے اور نہ متروک اور نہ اس سے بےپروائی ہو یا تو حمد و تعریف کے احوال وصفات کے اظہار کے لئے ہیں کہ انسان کو چاہئے کہ اپنے پروردگار کی اس طرح و ثنا بیان کرے کہ وہ کسی بھی درجہ پر کافی نہ سمجھی جائے نہ حمد و ثنا بیان کرنے کو ترک کیا جائے اور نہ اس سے بےنیازی برتی جائے بلکہ جس طرح حق تعالیٰ ہمہ وقت انسان پر اپنی رحمت کے ساتھ متوجہ رہتا ہے اور ہر لمحہ تسلسل و دوام کے ساتھ اس کو اپنی عطا کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی ہر لمحہ اور ہمہ وقت تسلسل و دوام کے ساتھ حق تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہے کہ اپنے منعم حقیقی کے حضور ادائیگی شکر بھی ہے اور اپنے پروردگار کی تعریف بھی، یا یہ کہ یہ الفاظ اصل میں کھانے کے حق میں درجہ صفت رکھتے ہیں کھانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کو کسی بھی درجہ میں اپنے لئے کافی نہ سمجھا جائے بلکہ ہمہ وقت اپنے آپ کو رزق الہٰی کا محتاج تصور کیا جائے کہ اس کی خواہش و طلب کو ترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس سے بےنیازی برتی جاسکتی ہے۔ اور یا یہ کہ یہ الفاظ حق تعالیٰ شانہ کے اوصاف جلیلہ کے اظہار کے لئے ہیں کہ ایسی کوئی ذات یا ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ جو اس ذات کبریائی کا کافی ہو بلکہ وہ خود سارے جہان اور ساری چیزوں کے لئے کافی ہے، اس کی قربت کی طلب و خواہش کو ترک نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے فضل و کرم سے مستغنی و بےنیاز ہوسکتے ہیں۔
کھانے کے بعد اللہ کی حمد وثنا
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله تعالى ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة فيحمده عليه أو يشرب الشربة فيحمده عليها . رواه مسلم وسنذكر حديثي عائشة وأبي هريرة : ما شبع آل محمد وخرج النبي صلى الله عليه وسلم من الدنيا في باب فضل الفقراء إن شاء الله تعالى
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے راضی و خوش ہوتا ہے کہ وہ ایک لقمہ کھائے اور اس پر اللہ کی حمد ثنا کرے یا ایک مرتبہ پئے اور اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے۔ (مسلم) اور دو روایتیں جن میں سے ایک روایت حضرت عائشہ ؓ کی ہے ما شبع ال محمد ﷺ الخ اور دوسری روایت خرج النبی ﷺ الخ حضرت ابوہریرہ ؓ کی ہے۔ ان دونوں روایتوں کو ہم انشاء باب فضل الفقراء میں نقل کریں گے۔ یعنی یہ دونوں روایتیں صاحب مصابیح نے کتاب الاطعمہ میں نقل کیں تھیں لیکن ہم نے ان کو باب فضل الفقراء میں نقل کیا ہے۔
تشریح
اکلہ الف کے زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ایک بار سیر ہو کر کھانا۔ ویسے یہ لفظ الف کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے جس کے معنی لقمہ کے ہیں۔ حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھا کر فارغ ہوجاتا ہے یا کوئی چیز پیتا ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے اور اس کی حمد و ثنا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل سے بہت خوش ہوتا ہے۔
بسم اللہ کہہ کر کھانا شروع کرنا کھانے میں برکت کا باعث ہوتا ہے
عن أبي أيوب قال : كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقرب طعام فلم أر طعاما كان أعظم بركة منه أول ما أكلنا ولا أقل بركة في آخره قلنا : يا رسول الله كيف هذا ؟ قال : إنا ذكرنا اسم الله عليه حين أكلنا ثم قعد من أكل ولم يسم الله فأكل معه الشيطان . رواه في شرح السنة
حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ کھانا سامنے لایا گیا (کھانے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ) میں نے اس کھانے میں اس وقت جو بڑی برکت دیکھی جب کہ ہم نے کھانا شروع کیا تھا ایسی برکت میں کسی اور کھانے میں نہیں دیکھی اور اس کھانے کے آخر میں میں نے جو کمتر برکت دیکھی ایسی کم برکت بھی اور کسی کھانے میں نہیں دیکھی، چناچہ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس کا کیا سبب تھا (کہ اس کھانے میں شروع میں تو اتنی زیادہ برکت دیکھی گئی اور آخر میں اس طرح بےبرکتی نظر آئی)؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا درحقیقت کھانے کے شروع میں ہم نے اللہ کا نام تھا لیکن بعد میں ایسا شخص آ کر بیٹھ گیا جس نے کھانا کھایا مگر اللہ کا نام نہیں لیا لہٰذا اس کے ساتھ شیطان نے بھی کھانا کھایا (اس سبب سے آخر میں بےبرکتی ہوئی۔ (شرح السنۃ)
تشریح
ہم نے اللہ کا نام لیا تھا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بسم اللہ پڑھنے کی سنت محض بسم اللہ کہہ لینے سے حاصل ہوجاتی ہے لیکن افضل یہ ہے کہ پوری بسم اللہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی جائے۔ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا مستحب ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جنبی (حالت ناپاکی میں) ہو یا کوئی عورت ایام حیض یا حالت نفاس میں ہو تو یہ استحباب اس کے لئے بھی ہے بشرطیکہ بسم اللہ پڑھتے وقت تلاوت کی نیت نہ کرے بلکہ ذکر کی نیت سے پڑھے ورنہ حرام ہوگا (کیونکہ ناپاکی اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت حرام ہے اور بسم اللہ بھی قرآن کریم ہی کا ایک فقرہ ہے )۔ جن چیزوں کو کھانا پینا شریعت کی رو سے مکروہ یا حرام ہے ان کو کھاتے پیتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب نہیں ہے بلکہ اگر کوئی شخص شراب پیتے وقت بسم اللہ پڑھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا (بعض علماء نے مطلق کسی بھی حرام چیز کو کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کو کفر کہا ہے۔ شیطان کا کھانے میں شریک ہونا اکثر علماء سلف و خلف کے نزدیک حقیقت پر محمول ہے کہ وہ بسم اللہ نہ پڑھ کر، کھانے والے کے ساتھ کھانے میں حقیقۃً شریک ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھانے میں بےبرکتی ہوجاتی ہے۔ پہلے جو یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک اجتماعی طور پر کھانا کھانے کی صورت میں کسی ایک شخص کا بسم اللہ پڑھ لینا اس کھانے پر موجود سب لوگوں کے لئے کافی ہے اور ہر ایک شخص کا بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے تو یہ حدیث ان علماء کے مسلک کے خلاف ایک دلیل ہے۔
کھانے کے درمیان بھی بسم اللہ پڑھی جا سکتی ہے
وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أكل أحدكم فنسي أن يذكر الله على طعامه فليقل : بسم الله أوله وآخره . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے بیٹھے اور (شروع میں) اپنے کھانے پر اللہ کا نام لینا بھول جائے (اور کھانے کے درمیان یاد آئے) تو اس کو چاہئے کہ وہ یہ کہے بسم اللہ اولہ واخرہ۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
اللہ کا نام لینا بھول جائے الخ سے یہ معلوم ہوا کہ کھانا شروع کرتے وقت محض اللہ کے نام کا ذکر کافی ہے لیکن بسم اللہ کہنا افضل ہے۔ محیط میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص وضو کرتے وقت (بسم اللہ کے بجائے) لا الہ الا اللہ یا الحمد للہ اور یا اشہد ان لا الہ الا اللہ کہے تو وہ سنت ادا کرنے والا کہلائے گا اسی طرح کھانے کی صورت میں بھی یہ مسئلہ ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ابتداء وضو میں بسم اللہ کہنا بھول جائے اور پھر درمیان وضو (یاد آنے پر) بسم اللہ کہہ لے تو اس کو سنت پر عمل کرنے کا درجہ حاصل نہیں ہوگا بخلاف کھانے کے (کہ کھانے کے درمیان آنے پر بسم اللہ کہہ لینا ادائیگی سنت کے لئے کافی ہوجائے گا )
کھانے کے درمیان بھی بسم اللہ پڑھی جا سکتی ہے
وعن أمية بن مخشي قال : كان رجل يأكل فلم يسم حتى لم يبق من طعامه إلا لقمة فلما رفعها إلى فيه قال : بسم الله أوله وآخره فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال : ما زال الشيطان يأكل معه فلما ذكر اسم الله استقاء ما في بطنه . رواه أبو داود
اور حضرت امیہ بن مخشی ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ایک شخص کھانا کھانے بیٹھا تو اس نے اللہ کا نام نہیں لیا (یعنی بسم اللہ کہے بغیر کھانا کھانے لگا ) یہاں تک کہ جب اس کھانے میں سوائے ایک لقمہ کے کچھ باقی نہیں رہا (اور اس کو یاد آیا کہ میں کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا بھول گیا ہوں) تو اس نے وہ آخری لقمہ اپنے منہ میں لے جاتے وقت کہا بسم اللہ اولہ واخرہ۔ رسول کریم ﷺ (یہ دیکھ کر) ہنسے اور پھر فرمایا کہ شیطان اس شخص کے ساتھ برابر کھانا کھا رہا تھا لیکن جب اس نے اللہ کا نام لیا تو اس (شیطان) نے وہ سب کچھ اگل دیا جو اس کے پیٹ میں تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
شیطان کا اپنے پیٹ کا سارا کھانا اگل دینا، حقیقت پر محمول ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ کھاتے وقت بسم اللہ نہ کہنے کی وجہ سے جو برکت جاتی رہی تھی اس نے اس کو واپس کردیا۔ گویا وہ برکت اس شیطان کے پیٹ میں امانت تھی جب اس شخص نے بسم اللہ کہی تو وہ برکت بھی کھانے میں واپس آگئی۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من طعامه قال : الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو فرماتے۔ ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزا وار ہے جس نے ہمیں کھانے کو دیا۔ ہمیں پہننے کو دیا اور ہمیں مسلمان بنایا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الطاعم الشاكر كالصائم الصابر . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کھانا کھا کر (اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کرنے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔ (ترمذی) ابن ماجہ اور دارمی نے اس روایت کو سنان بن سنہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
ادائیگی شکر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور صابر روزہ دار ہونے کا ادنیٰ درجہ یہ کہ اپنے آپ کو مفسدات صوم سے باز رکھے۔ صابر روز دار کی طرح ہے۔ یہ تشبیہ اصل ثواب میں ہے کہ دونوں ثواب میں شریک ہیں نہ یہ کہ مقدار میں تشبیہ دینا مراد ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جائے کہ کہا جاتا ہے، زید کعمر و یعنی زید، عمرو کی طرح ہے اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ زید بعض خصائل و عادات میں عمرو کے مشابہ ہے نہ کہ وہ تمام خصائل و عادات میں عمرو کے ہم مثل ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صابر فقیر، شاکر مالدار سے افضل ہے کیونکہ مشبہ بہ، مشبہ سے اقوی ہوتا ہے۔