کھانوں کے ابواب

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 138 · 96 hadiths · Page 3 of 5

4107Mishkaat-al-Masabih

کھانے کے بعد شکر وحمد

وعن أبي أيوب قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أكل أو شرب قال : الحمد لله الذي أطعم وسقى وسوغه وجعل له مخرجا رواه أبو داود

اور حضرت ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کھاتے اور پیتے تو فرماتے ہر طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے جس نے کھلایا پلایا اور اس کھانے پینے کی چیز کو آسانی کے ساتھ حلق سے اتارا اور اس کے نکلنے کی راہ پیدا فرمائی۔ (ابوداؤد )

4108Mishkaat-al-Masabih

کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا کھانے میں برکت کا ذریعہ ہے۔

وعن سلمان قال : قرأت في التوراة أن بركة الطعام الوضوء بعده فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت سلمان کہتے ہیں کہ میں نے (اسلام قبول کرنے سے پہلے) تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے میں برکت کا ذریعہ کھانے کے بعد وضو کرنا چناچہ (قبولیت اسلام) کے بعد (ایک دن) میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے (تورات کے اس مضمون کا) ذکر کیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کھانے میں برکت کا ذریعہ کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد وضو کرنا ہے۔ (ترمذی ابوداؤد) تشریح وضو سے مراد کھانے سے پہلے ہاتھوں کو اور کھانے کے بعد دونوں ہاتھوں اور منہ کو دھونا ہے کھانے سے پہلے وضو یعنی ہاتھ دھونا اس کھانے میں برکت کا ذریعہ اس طور پر ہوتا ہے کہ اس (ہاتھ دھونے) کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کھانے میں زیادتی عطا فرماتا ہے اور کھانے کے بعد وضو کا اس کھانے میں برکت کا ذریعہ ہوتا یہ ہے کہ اس کی وجہ سے طبیعت کو سکون حاصل ہوتا ہے اور یہ (یعنی کھانے کے بعد ہاتھ منہ کا دھونا یا ہاتھ منہ دھونے سے طبیعت کو سکون حاصل ہونا) عبادات، اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ میں تقویت و دل جمعی کا سبب ہوتا ہے۔

4109Mishkaat-al-Masabih

کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا کھانے میں برکت کا ذریعہ ہے۔

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقدم إليه طعام فقالوا : ألا نأتيك بوضوء ؟ قال : إنما أمرت بالوضوء إذا قمت إلى الصلاة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ بیت الخلاء سے واپس آئے تو آپ ﷺ کے سامنے کھانا لایا گیا۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے سامنے وضو کا پانی لائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے (حدث کے بعد) وضو کرنے کا حکم (بطریق وجوب) اس صورت میں دیا گیا ہے جب کہ میں نماز کے لئے کھڑا ہونے کا ارادہ کروں (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح یہ آپ ﷺ نے اغلب و اکثر کے اعتبار سے فرمایا کہ بطریق وجوب وضو کرنے کا حکم صرف نماز کے لئے ہے ورنہ سجدہ تلاوت کرنے، قرآن مجید کو چھونے اور طواف کرنے کے لئے بھی وضو کرنا واجب ہے۔ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے گویا یہ سمجھا کہ صحابہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کھانے سے پہلے وضو شرعی کرنا واجب ہے چناچہ آپ ﷺ نے ان کے اس اعتقاد کی نفی کو اچھی طرح واضح کرنے کے لئے اپنے ارشاد میں حصر کا اسلوب اختیار فرمایا اور یہ اس بات کے منفی نہیں ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ لہٰذا یہاں وضو سے مراد وہی وضو ہے جو نماز کے لئے کیا جاتا ہے نہ کہ کھانے کا وضو یعنی ہاتھ اور منہ دھونا حدیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ تاہم اگر اس جملہ الا ناتیک بوضو (کیا ہم آپ کے لئے وضو کا پانی لائیں؟ ) میں وضو سے مراد لیا جائے تو یہ بھی ہوسکتا ہے اور چونکہ کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا سنن اور آداب میں سے ہے نہ کہ واجب، اس لئے آپ ﷺ نے اس موقع پر تعلیم جواز کے پیش نظر اس کو ترک کیا اور اس صورت میں حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ یہ وضو یعنی کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونا کہ جس کے لئے تم مجھ سے درخواست کرتے ہو کوئی واجب اور مامور نہیں ہے اگر میں اس کو ترک کروں یعنی کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھوؤں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ہاں یہاں ایک اور وضو ہے اور وہ نماز کا وضو ہے جو واجب ہے۔

4110Mishkaat-al-Masabih

اپنے آگے سے کھانے کا حکم

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم : أنه أتي بقصعة من ثريد فقال : كلوا من جوانبها ولا تأكلوا من وسطها فإن البركة تنزل في وسطها . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح

اور حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ (ایک دن) آپ ﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے (مجلس میں موجود صحابہ سے) فرمایا کہ اس پیالے کے کناروں سے کھاؤ۔ اس کے درمیان میں سے نہیں کھاؤ کیونکہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی ) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے بیٹھے تو اس کو چاہئے کہ وہ پیالہ کے اوپر سے نہ کھائے البتہ پیالے کے نیچے سے کھائے کیونکہ برکت اوپر کے حصے میں نازل ہوتی ہے۔ تشریح ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں جو روٹی کو شوربے میں تیار کیا گیا ہو۔ جمع کا لفظ جمع کے صیغے کے مقابلے میں لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سامنے کے کنارے سے کھائے۔ درمیان کے حصے میں برکت کا نازل ہونا اس سبب سے ہے کہ کسی بھی چیز کا درمیانی حصہ اس کے اور حصوں کی بہ نسبت افضل ہوتا ہے لہٰذا کھانے کے برتن کا درمیانی حصہ ہی اس کا مستحق ہے کہ خیر و برکت کا نزول اس پر ہو اور جب کھانے کا درمیانی حصہ خیر و برکت کے اترنے کی جگہ قرار پایا تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ حصہ آخر کھانے تک باقی رہے تاکہ کھانے کی برکت بھی آخر تک برقرار رہے لہٰذا اپنے سامنے کے کناروں کو چھوڑ کر پہلے درمیانی حصہ پر ہاتھ ڈالنا اور اس کو ختم کردینا مناسب نہیں ہے۔ پیالہ کے اوپر سے مراد اس کا درمیانی حصہ ہے اور اس کے نیچے سے مراد اس کے کنارے ہیں اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اپنے سامنے سے کھانا چاہئے۔

4111Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا

وعن عبد الله بن عمرو قال : ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط ولا يطأ عقبه رجلان . رواه أبو داود

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے دو آدمی بھی نہیں چلتے تھے۔ (ابو داؤد) تشریح ٹیک لگا کر کھانا کھانے کے سلسلے میں تفصیلی بات پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔ پیچھے چلنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کہیں جاتے آتے تو آپ ﷺ کے پیچھے زیادہ آدمیوں کا تو ذکر ہی نہیں دو آدمی بھی نہیں چلتے تھے، بلکہ آپ ﷺ انتہائی تواضع اور انکسار کے تحت اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح چلتے کہ یا تو آپ ﷺ سب کے درمیان میں رہتے یا سب سے پیچھے رہتے جیسا کہ ایک اور حدیث میں الفاظ منقول ہیں کہ ویسوق اصحابہ (آپ ﷺ اپنے صحابہ ؓ سے پیچھے چلتے تھے) آپ ﷺ اپنے ہمراہیوں اور صحابہ کے آگے ہو کر نہیں چلے تھے جیسے امراء و سلاطین متکبر و جاہ پرست لوگوں اور دنیا دار پیروں کا طریقہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ہمراہیوں کے آگے آگے چلنے ہی میں اپنی بڑائی سمجھتے ہیں بلکہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا ہجوم ان کے پیچھے پیچھے چلے۔ دو کی قید سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار ایک آدھ آدمی جیسے حضرت انس ؓ وغیرہ آنحضرت ﷺ کے پیچھے رہا کرتے تھے اور یہ بھی ضرورت کے تحت اور یہ تواضع و انکسار کے منافی بھی نہیں۔

4112Mishkaat-al-Masabih

مسجد میں کھانے پینے کا مسئلہ

وعن عبد الله بن الحارث بن جزء قال : أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بخبز ولحم وهو في المسجد فأكل وأكلنا معه ثم قام فصلى وصلينا معه ولم نزد على أن مسحنا أيدينا بالحصباء . رواه ابن ماجه

اور حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں روٹی اور گوشت (پر مشتمل کھانا) لایا گیا جب کہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے چناچہ (اس کھانے کو) آنحضرت ﷺ نے بھی کھایا اور آنحضرت ﷺ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا، پھر کھڑے ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے نماز پڑھی، آپ ﷺ کے ساتھ ہم نے بھی نماز ادا کی اور اس سے زیادہ ہم نے کچھ نہیں کیا کہ (کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو ان کنکریوں سے پونچھ ڈالا تھا جو مسجد میں تھیں ابن ماجہ۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہم نے اپنے ہاتھوں کو پانی سے دھویا نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کھانے میں چکنائی نہیں تھی یا یہ کہ نماز کے لئے ہمیں جلدی تھی اور یا اس کا سبب یہ تھا کہ ہم نے تکلف کو ترک کر کے رخصت (آسانی) پر عمل کرنا چاہا تھا کیوں کہ غیر واجب امور میں کبھی کبھی رخصت پر عمل کرلینا بھی حق تعالیٰ کے نزدیک اسی طرح پسندیدہ ہے جس طرح وہ اکثر اوقات میں عزیمت پر عمل کرنے کو محبوب رکھتا ہے۔ احیاء العلوم میں بعض صحابہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا۔ کھانے کے بعد ہمارے پاؤں کی پاشنی (ایڑی) ہمارے لئے رومال کا کام دیا کرتی تھی یعنی ہم کھانا کھا کر اپنے ہاتھوں کو اپنے پاؤں کی ایڑیوں سے پونچھ لیا کرتے تھے جیسا کہ رومال سے پونچھا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ لم نزد اور مسحنا میں متکلم مع الغیر کا صیغہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ سب کو شامل ہے یعنی آنحضرت ﷺ اور وہاں موجود سارے صحابہ نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں کھانا پینا جائز ہے اور یہ بات اکثر احادیث میں منقول ہے خاص طور پر کھجوروں اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے بارے میں زیادہ منقولات ہیں لیکن علماء نے لکھا ہے کہ یہ جواز اس امر کے ساتھ مقید ہے کہ اس کی وجہ سے مسجد میں گندگی وغیرہ پیدا نہ ہو ورنہ (گندگی پیدا ہونے کی صورت میں) مسجد میں کھانا پینا حرام یا مکروہ ہوگا اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے جو شخص اعتکاف کی حالت میں نہ ہو وہ مسجد میں نہ تو کھائے پئے نہ سوئے اور نہ خریدو فروخت کرے کہ یہ مکروہ ہے، ہاں اس مسافر کے لئے اجازت ہے جس کا مسجد کے علاوہ اور کوئی ٹھکانا نہ ہو۔ علماء نے لکھا ہے کہ آدمی کو چاہئے کو وہ جب مسجد میں داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرلیا کرے تاکہ یہ چیزیں (مسجد میں کھانا پینا وغیرہ) اس کے لئے مباح بھی ہوجائیں اور اس کو (اعتکاف کا) ثواب بھی مل جائے۔

4113Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا

وعن أبي هريرة قال : أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فرفع إليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها . رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں (پکا یا بھنا ہوا) گوشت لایا گیا، اس میں سے آپ ﷺ کو دست کا حصہ دیا گیا کیونکہ دست کا گوشت آپ ﷺ کو بہت پسند تھا چناچہ آپ ﷺ نے اس کو دانتوں سے نوچ نوچ کے کھایا۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح آپ ﷺ نے بےتکلفی و سادگی اور تواضع کے سبب دست کی ہڈیوں سے گوشت کو دانتوں کے ذریعہ نوچ نوچ کر کھایا، چناچہ اس طرح گوشت کھانا مستحب ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا دست کے گوشت کو پسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ اچھی طرح گل جاتا ہے جلد ہضم ہوتا ہے اور زیادہ لذیذ ہوتا ہے یا اس پسندیدگی کی وجہ یہ تھی کہ دست کا گوشت نجاست کی جگہوں (جیسے آنت وغیرہ) سے دور ہوتا ہے۔ شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ دست کا گوشت آنحضرت ﷺ کو زیادہ پسند نہیں تھا لیکن چونکہ آپ کو گوشت مدت کے بعد (کبھی کبھی) میسر آتا تھا اور دست کا گوشت جلدی گل جاتا ہے اس لئے آپ دست کے گوشت کو پسند فرماتے تھے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مزیدار اور زیادہ پسند آنے والا گوشت، پشت کا گوشت ہے۔

4114Mishkaat-al-Masabih

چھری سے کاٹ کر گوشت کھانا غیر پسندیدہ طریقہ ہے

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقطعوا اللحم بالسكين فإنه من صنع الأعاجم وانهسوه فإنه أهنأ وأمرأ . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان وقالا : ليس هو بالقوي

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گوشت کو چھری سے نہ کاٹو یعنی چھری سے کاٹ کاٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے بلکہ گوشت کو دانتوں سے نوچ نوچ کر کھاؤ کیوں کہ دانتوں سے نوچ کر کھانا زیادہ لذت بخش اور زیادہ خوش گوار ہے۔ اس روایت کو ابوداؤد نے اور بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور دونوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث (باعتبار سند کے) قوی نہیں ہے۔ (بلکہ ضعیف ہے۔ ) تشریح عرب کے لوگ اپنے علاوہ دنیا کے اور سارے ہی لوگوں کو عجمی (گونگا) کہا کرتے تھے لیکن یہاں اہل فارس (ایرانی) مراد ہیں کہ وہ از راہ تکبر و غرور گوشت وغیرہ چھریوں سے کاٹ کر کھاتے تھے، مگر بعض مواقع پر آنحضرت ﷺ سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے چھری سے کاٹ کر کھایا ہے لہٰذا ان دونوں روایتوں میں یوں مطابقت پیدا کی جائے گی کہ اگر گوشت نرم اور گلا ہوا ہو تو اس کو چھری کے بجائے دانتوں سے کاٹ کر کھانا چاہئے اور اگر سخت ہو تو پھر چھری سے کاٹ کر کھانا جائز ہوگا واضح رہے کہ مذکورہ بالا ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔

4115Mishkaat-al-Masabih

بیمار کے لئے پرہیز ضروری ہے

وعن أم المنذر قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي ولنا دوال معلقة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل وعلي معه يأكل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي : مه يا علي فإنك ناقه قالت : فجعلت لهم سلقا وشعيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يا علي من هذا فأصب فإنه أوفق لك . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

اور حضرت ام منذر انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ میرے یہاں تشریف لائے، آپ کے ہمراہ حضرت علی ؓ بھی تھے (اس وقت) ہمارے گھر میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان خوشوں میں سے کھانا شروع کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی کھانے لگے۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ علی! ان کھجوروں کو کھانے سے اجتناب کرو کیونکہ تمہیں کمزوری لاحق ہے یعنی تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور تم پر ضعف کا اثر غالب ہے اس لئے تمہارے لئے پرہیز ضروری ہے۔ حضرت ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ اور آنحضرت ﷺ کے رفقاء کے لئے چقندر اور جو تیار کئے تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ علی! تم اس میں سے کھاؤ اس لئے کہ یہ تمہارے لئے بہت مفید اور موافق ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیمار اور بیماری سے اٹھے ہوئے شخص کے لئے پرہیز بہت ضروری ہے بلکہ بعض اطباء نے کہا ہے کہ جو شخص بیماری سے اٹھا ہو اور اس پر ضعف و کمزوری کا غلبہ ہو اس کے لئے پرہیز بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے، جب کہ تندرست کے لئے پرہیز کرنا مضر ہوتا ہے۔

4116Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کو کھرچن پسند تھی

قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه الثفل . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو کھرچن یعنی تہ دیگی اچھی لگتی تھی۔ (ترمذی بہیقی) تشریح آنحضرت ﷺ کی عادت یہ تھی کہ آپ ﷺ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے چناچہ پہلے تو آپ ﷺ اوپر کا کھانا اپنے اہل و عیال، مہمانوں اور محتاج و فقراء کو بانٹ دیتے تھے اور نیچے کا جو کھانا بچتا اس کو اپنے لئے رکھتے، یہ آپ ﷺ کے جذبہ ایثار و سخاوت کا غماز بھی تھا اور آپ ﷺ کے وصف تواضع و انکسار اور صبر و قناعت کا مظہر بھی! نیز یہ بات ان مالداروں کے لئے ایک واضح دلیل بھی ہے جو عام طور پر از راہ تکبر و نخوت نیچے کے کھانے کو عار سمجھتے ہیں اور اس کو ضائع کردیتے ہیں۔

4117Mishkaat-al-Masabih

کھانے کے بعد پیالہ وتشتری کو صاف کرنا مغفرت وبخشش کا ذریعہ ہے

عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من أكل في قصعة فلحسها استغفرت له القصعة . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

اور حضرت نبیشہ ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخض کسی پیالے (یا تشتری) میں کھائے اور پھر اس کو انگلیوں سے) چاٹ لے تو وہ پیالہ اس کے لئے استغفار کرتا ہے ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ظاہر بات یہ ہے کہ پیالہ حقیقت میں استغفار کرتا ہے! علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ تشتری پیالے کو چاٹنا اصل میں تواضع کو اختیار کرنا اور تکبر سے بری ہونا ہے اور یہ چیز گناہوں سے مغفرت و بخشش کا سبب ہے اور پیالہ کی طرف استغفار کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ بظاہر اس مغفرت و بخشش کا سبب پیالہ ہی ہوتا ہے۔

4118Mishkaat-al-Masabih

کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر نہ سوؤ

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من بات وفي يده غمر لم يغسله فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اس حالت میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہوئی ہو کہ (کھانے کے بعد) اس نے اس کو دھویا نہ ہو اور پھر اس کو کوئی ضرر پہنچ جائے (یعنی ایذاء پہنچانے والے جو جانور کھانے کی بو یا چکنائی پر آتے ہیں وہ اس کو ضرر پہنچائیں) تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کیونکہ چکنے ہاتھوں کے ساتھ سو کر وہ اس ضرر کا خود سبب بنا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )

4119Mishkaat-al-Masabih

ثرید آنحضرت ﷺ کا پسندیدہ کھانا تھا

وعن ابن عباس قال : كان أحب الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الثريد من الخبز والثريد من الحيس . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے نزدیک روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح روٹی کا ثرید یعنی روٹی کے ٹکرے شوربے میں بھیگے ہوئے۔ اور حیس کا ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں۔ جو چھوہارے گھی اور قردت (یعنی دہی کے بنے ہوئے پنیر) کو ملا کر مالیدہ کی طرح بنایا جائے۔

4120Mishkaat-al-Masabih

زیتون کی فضیلت

وعن أبي أسيد الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كلوا الزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

اور حضرت ابواسید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا زیت یعنی روغن زیتون کو کھایا اور بدن پر اس کی مالش کیا کرو کیونکہ وہ ایک بابرکت درخت (زیتون) کا تیل ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، ) تشریح زیتون بابرکت درخت اس اعتبار سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ خیر و برکت اور منافع ہیں چناچہ قرآن کریم کی اس آیت (اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) 24۔ النور 35) میں جس درخت کو شجرہ مبارک کہا گیا ہے اس سے زیتون ہی کا درخت مراد ہے جس کی سب سے عمدہ قسم ملک شام میں پیدا ہوتی ہے نیز سورت والتین والزیتون میں اللہ تعالیٰ نے اس درخت کی قسم کھائی ہے۔ عرب کے لوگ خصوصا اہل شام اس درخت کے میٹھے تیل کو کھانے کے مصرف میں لاتے ہیں اور اس کے کڑوے تیل کو چراغ وغیرہ میں جلانے کے کام میں لاتے ہیں۔ طبی طور پر یہ ثابت ہے کہ جسم پر زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے جسم کو بہت زیادہ فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

4121Mishkaat-al-Masabih

سرکہ کی فضیلت

وعن أم هانئ قالت : دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال : أعندك شيء قلت : لا إلا خبز يابس وخل فقال : هاتي ما أقفر بيت من أدم فيه خل . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت ام ہانی ؓ (جو ابوطالب کی بیٹی اور حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ تھیں) کہتی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ (کھانے کے لئے) تمہارے پاس کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ سوکھی روٹی اور سرکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہی لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح آنحضرت ﷺ نے انتہائی بےتکلفی کے ساتھ جو مذکورہ کھانا طلب فرمایا اس کا سبب یہ تھا کہ ام ہانی کا دل بھی خوش ہو جائے اور ان پر یہ بھی واضح ہوجائے کہ گھر میں موجود جو بھی کم سے کم غذائی ضرورت کر دے اس پر قناعت کرنا چاہئے۔

4122Mishkaat-al-Masabih

کھجور سالن کی جگہ

وعن يوسف بن عبد الله بن سلام قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أخذ كسرة من خبز الشعير فوضع عليها تمرة فقال : هذه إدام هذه وأكل . رواه أبو داود

اور حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن کہ نبی کریم ﷺ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھ کر فرمایا کہ یہ اس روٹی کے ٹکڑے کا سالن ہے۔ (ابوداؤد )

4123Mishkaat-al-Masabih

غیرمسلم معالج سے رجوع کرنا جائز ہے

وعن سعد قال : مرضت مرضا أتاني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني فوضع يده بين ثديي حتى وجدت بردها على فؤادي وقال : إنك رجل مفؤود ائت الحارث بن كلدة أخا ثقيف فإنه رجل يتطبب فليأخذ سبع تمرات منم عجوة المدينة فليجأهن بنواهن ثم ليلدك بهن . رواه أبو داود

اور حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں بہت سخت بیمار ہوا (تو) نبی کریم ﷺ عیادت کی غرض سے میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے (اس وقت) میری دونوں چھاتیوں کے درمیان (یعنی سینہ پر) اپنا دست مبارک رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل پر محسوس کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص ہو جو دل کے درد میں مبتلا ہے (یعنی تم قلب کے مریض ہو) لہٰذا تم حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہ شخص طب (علاج معالجہ کرنا) جانتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ کی (سب سے اعلیٰ قسم کی کھجور) عجوہ میں سے سات کھجوریں لے۔ پھر ان کو گٹھلیوں سمیت کوٹ لے اور اس کے بعد ان کو (دوا کی صورت میں تمہارے منہ میں ڈالے۔ (ابوداؤد) تشریح اگر یہ سوال پیدا ہو کہ اس کا کیا سبب تھا کہ آپ نے سعد ؓ کو پہلے تو ایک معالج کے پاس جانے کا حکم دیا اور پھر خود ہی علاج بھی تجویز کیا لیکن دوا بنانے کا کام معالج کے سپرد کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو آپ نے سعد کو معالج کے پاس جانے کا مشورہ دیا تاکہ وہ ان کو دیکھ کر ان کا علاج کرے، پھر جب آپ ﷺ کو ان کا ایک آسان علاج یاد آگیا جو جلد فائدہ کرنے والا تھا تو آپ ﷺ نے از راہ شفقت وتعلق اس کو تجویز کیا۔ گویا ان کو معالج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا کہ وہ مبادا ان کو دور دراز کے علاج میں ڈال دے اور چونکہ اس دوا کا بنانا اور اس کو استعمال کرانا معالج کے لئے زیادہ آسان تھا اس لئے اس کام کو اس کے سپرد فرمایا۔ علماء نے لکھا ہے یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ غیر مسلم معالج سے رجوع و مشورہ کرنا جائز ہے کیوں کہ حارث بن کلدہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مراد ہے اس کا اسلام قبول کرنا ثابت نہیں ہے۔

4124Mishkaat-al-Masabih

غذا کو معتدل کر کے کھاؤ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأكل البطيخ بالرطب . رواه الترمذي وزاد أبو داود : ويقول : يكسر حر هذا ببرد هذا وبرد هذا بحر هذا . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خرپزہ، تازہ کھجوروں کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور آپ یہ فرماتے تھے کہ اس (کھجور) کی گرمی اس (خرپزے) کی سردی سے توڑی جاتی ہے اور خرپزے کی سردی کھجور کی گرمی سے توڑی جاتی ہے۔ نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح مذکورہ بالا دونوں چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانے میں بڑی حکمت یہ ہے کہ ایک سرد دوسری گرم ہے۔ دونوں ملا کر معتدل غذا ہوجاتی ہے! طیبی نے کہا ہے خرپزے سے مراد شاید کچا خرپزہ ہوگا کیونکہ وہ سرد تر ہوتا ہے ورنہ پکا خرپزہ گرم ہوتا ہے لیکن کھجور کی بہ نسبت وہ بھی سرد ہوتا ہے۔ اکثر علماء نے یہ لکھا ہے کہ بطیخ سے مراد خرپزہ نہیں ہے بلکہ تربوز ہے کہ وہ سرد ہوتا ہے۔

4125Mishkaat-al-Masabih

کھانے پینے کی چیز میں کیڑے پڑجانے کا مسئلہ

وعن أنس قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر عتيق فجعل يفتشه ويخرج السوس منه . رواه أبو داود

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پرانی کھجور لائی گئی (جس میں کیڑے پڑگئے تھے چناچہ آپ ﷺ اس کو چیرتے اور اس میں سے کیڑا نکال ( کر پھینک) دیتے۔ (ابوداؤد) تشریح طبرانی نے بسند حسن حضرت ابن عمر ؓ سے بطریق مرفوع یہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھجور کو چیرنے سے منع فرمایا ہے! اس صورت میں چونکہ آنحضرت ﷺ کے فعل اور قول میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ حضرت ابن عمر ؓ سے جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق نئی کھجوروں سے ہے اور اس کا مقصد وہم و وسوسہ سے بچانا ہے۔ یا یہ کہ حضرت انس ؓ سے جو فعل منقول ہے وہ بیان جواز پر محمول ہے اور مذکورہ بالا ممانعت نہیں تنزیہی کے طور پر ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کھانے میں کیڑا پڑجائے تو وہ کھانا نجس نہیں ہوتا اور مطالب المؤمنین، میں یہ لکھا ہے کہ اگر کیڑا پنیر یا سیب میں پڑجائے ( اور کھاتے وقت پیٹ میں چلا جائے) تو وہ حلال ہوگا کیونکہ اس سے احتراز ممکن نہیں، ہاں اگر ان چیزوں سے نکال دیا گیا ہو تو پھر اس کا حکم مکھی، بھڑ، پسہ اور ہر اس جانور کا سا ہوگا جو دم مسفوح (جاری خون) نہیں رکھتا کہ اس کا کھانا حرام ہوگا لیکن اگر وہ پانی یا کھانے میں پڑجائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا۔

4126Mishkaat-al-Masabih

چستہ پاک ہوتا ہے

وعن ابن عمر قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بجبنة في تبوك فدعا بالسكين فسمى وقطع . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے دوران (ایک موقعہ پر) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پنیر کا ایک ٹکڑا لایا گیا تو آپ ﷺ نے چھری منگوائی اور بسم اللہ کہہ کر اس کو کاٹا۔ (ابوداؤد ) تشریح یہ بسم اللہ کہنا کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی جگہ تھا نہ کہ وہ بسم اللہ جو ذبح کرتے وقت پڑھی جاتی ہے جیسا کہ بعض جاہل لوگ کدو کو کاٹتے وقت ذبح کی نیت سے بسم اللہ کہتے ہیں۔ مظہر نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ چستہ یعنی اونٹ یا بکری کے بچہ کا اوجھ پاک ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ناپاک ہوتا تو پنیر کو بھی ناپاک ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ پنیر اس کے بغیر نہیں بنتا تھا۔