کھانوں کے ابواب

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 138 · 96 hadiths · Page 4 of 5

4127Mishkaat-al-Masabih

جن چیزوں کو شریعت نے حلال یا حرام نہیں کہا ہے ان کا استعمال مباح ہے

وعن سلمان قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السمن والجبن والفراء فقال : الحلال ما أحل الله في كتابه والحرام ما حرم الله في كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه . رواه ابن ماجه والترمذي وقال : هذا حديث غريب وموقوف على الأصح

اور حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے گھی پنیر اور پوستین یا گورخر کے بارے میں پوچھا گیا (کہ یہ چیزیں حلال ہیں یا حرام ہیں؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (حلت و حرمت کے سلسلے میں یہ اصول مد نظر رکھو کہ) حلال وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے (یعنی جس کا حلال ہونا قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے) اور حرام وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور جس چیز سے سکوت فرمایا (یعنی جس کو نہ حلال فرمایا نہ حرام) وہ اس قسم سے ہے جس کو معاف رکھا گیا ہے (یعنی اس کے استعمال کرنے کو مباح رکھا ہے) اس روایت کو ابن ماجہ اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور (ترمذی نے) کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے لیکن زیادہ صحیح یہ بات ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ تشریح گھی کے بارے میں تو اس لئے پوچھا گیا کہ بظاہر ابتداء اسلام میں بعض لوگوں کو اس کے حلال ہونے میں شبہ ہوا ہوگا۔ پنیر کا معاملہ بذات خود محل اشتباہ وسوال تھا کیونکہ اس زمانہ میں وہ چستہ (یعنی اونٹ یا بکری کے اوجھ) کے ذریعہ بنتا تھا تیسری چیز جس کے بارے میں سوال کیا گیا فراء تھی۔ اس لفظ فراء کے بارے میں اکثر شارحین نے کہا ہے کہ یہ فرئی کی جمع ہے جس کے معنی گورخر کے ہیں۔ اور بعضوں نے اس کو فرو کی جمع کہا ہے جس کے معنی پوستین (جانور کی کھال کے کوٹ) کے ہیں۔ اسی لئے ترمذی نے اس روایت کو باب اللباس میں نقل کیا ہے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ فراء کے بارے میں سوال کفار کے عمل سے اجتناب کرنے کے جذبہ سے کیا گیا تھا، کیونکہ وہ (کفار) مردار کی کھال کو دباغت دئیے بغیر اس کی پوستین بنایا کرتے تھے۔ اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ چیزیں حرام ہیں جن کے حرام ہونے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے یا اس آیت کریمہ آیت (وَمَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) 59۔ الحشر 57) کے ذریعہ بطریق اجمال بیان کیا ہے یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے تاکہ ان اکثر چیزوں کے بارے میں اشکال پیدا نہ ہو جو حرام ہیں مگر ان کی حرمت کتاب اللہ میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کا حرام ہونا احادیث نبوی کے ذریعہ ثابت ہے۔ حدیث کا آخری جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہیں لہٰذا جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار نہیں دیا ہے وہ مباح ہوں گی۔ یہ حدیث موقوف ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرت سلمان کا اپنا قول ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ چناچہ فن حدیث کی اصطلاح میں صحابہ کے قول و فعل کو موقوف کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے قول و فعل کو مرفوع کہتے ہیں۔

4128Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی طرف سے عمدہ کھانے کی خواہش کا اظہار

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن فقام رجل من القوم فاتخذه فجاء به فقال : في أي شيء كان هذا ؟ قال في عكة ضب قال : ارفعه . رواه أبو داود وابن ماجه وقال أبو داود : هذا حديث منكر

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (مجلس میں) فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے سامنے سفید گجر گیہوں کی روٹی ہو جس کو گھی اور دودھ میں تر کیا گیا ہو۔ (یہ سن کر) جماعت میں سے ایک شخص اٹھ کر چلا گیا اور مذکورہ روٹی تیار کر کے لایا، آنحضرت ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ اس روٹی کو جو گھی لگا ہوا ہے وہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا کہ گوہ کی کھال کے کپے میں تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا (میں نہیں کھاؤں گا) اس کو میرے سامنے سے اٹھا لو (ابوداؤد، ابن ماجہ، ) اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ تشریح آنحضرت ﷺ نے اس روٹی کو اپنے سامنے سے اٹھانے کا حکم اس بنا پر دیا کہ آپ ﷺ گوہ سے طبعی نفرت رکھتے تھے کیونکہ وہ آپ ﷺ کی قوم کے علاقے میں نہیں پائی جاتی تھی جیسا کہ پچھلے صفحات میں حضرت خالد ؓ کی روایت اس کے متعلق گزر چکی ہے نہ کہ اس کے اٹھانے کا حکم اس سبب سے تھا کہ گواہ کی کھال نجس ہوتی ہے کیونکہ اگر گوہ کی کھال نجس ہوتی تو اس کھال کے کپے میں رکھے ہوئے گھی سے ترکی ہوئی روٹی کو آپ ﷺ پھینک دینے کا حکم دیتے اور دوسروں کو بھی اس کے کھانے سے منع فرما دیتے۔ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ روٹی کو طلب کرنا اور خواہش نفس کے مطابق اس طرح کی تمنا کا اظہار کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو آپ ﷺ کی عادت مبارکہ اور آپ ﷺ کے مزاج کے بالکل خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اسی لئے ابوداؤد نے اس روایت کو منکر کہا ہے اور اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس صورت میں یہی توجیہ ہوسکتی ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح کی خواہش کا اظہار محض بیان جواز کی خاطر کیا۔

4129Mishkaat-al-Masabih

کچا لہسن کھانے کی ممانعت

وعن علي رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل الثوم إلا مطبوخا . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے لہسن کھانے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ پکا ہوا ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد ) تشریح پکے ہوئے لہسن کو کھانے سے اس لئے منع نہیں فرمایا گیا ہے کہ پکنے سے اس کی بو جاتی رہتی ہے۔ یہی حکم پیاز اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا بھی ہے لیکن واضح رہے کہ مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔

4130Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے پیاز کھانے کا مسئلہ

وعن أبي زياد قال : سئلت عائشة عن البصل فقالت : إن آخر طعام أكله رسول الله صلى الله عليه وسلم طعام فيه بصل . رواه أبو داود

اور حضرت ابوزیاد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ سے (پکی ہوئی) پیاز کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ وہ حرام ہے یا حلال؟ ) تو انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے (اپنی زندگی میں) جو سب سے آخری کھانا کھایا تھا اس میں (پکی ہوئی) پیاز تھی۔ (ابوداؤد) تشریح اس مسئلہ میں تفصیل یہ ہے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پیاز و لہسن نہیں کھایا بلکہ بعض روایت میں یہ ہے کہ امت کو بھی اس سے منع فرمایا ہے لیکن حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے پیاز کھائی ہے لہٰذا بعض حضرات کہتے ہیں کہ پیاز و لہسن کھانے کی جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق کچی پیاز اور لہسن سے ہے نہ کہ اس لہسن و پیاز سے جو کھانے میں پکا ہوا ہو۔ بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کچے کے بارے میں ممانعت بھی محض نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ بطور تحریمی کے نہیں ہے چناچہ یہ چیزیں نہ تو آنحضرت ﷺ پر حرام تھیں اور نہ امت پر حرام ہیں بلکہ طحاوی نے شرح آثار میں ایسی احادیث نقل کی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پیاز و لہسن اور گندنا وغیرہ کھانا مباح ہے خواہ وہ کچے ہوں یا کھانے کے ساتھ پکے ہوئے ہوں، لیکن یہ اباحت اس شخص کے لئے ہے جو ان کو کھانے کے بعد گھر میں بیٹھا رہے اور ان کی بو آنے تک مسجد میں نہ جائے کیونکہ ان چیزوں کو کھا کر مسجد میں جانا مکروہ ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا قول بھی یہی ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے کہ آپ کا اپنی زندگی کے آخر میں ایسے کھانے کو کھانا جس میں پیاز تھی بیان جواز کی خاطر تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ ان چیزوں کے کھانے کی ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے نہ کہ بطور تحریمی۔

4131Mishkaat-al-Masabih

مکھن آنحضرت ﷺ کو پسند تھا

وعن ابني بسر السلميين قالا : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقدمنا زبدا وتمرا وكان يحب الزبد والتمر . رواه أبو داود

اور بسر کے دونوں بیٹوں (یعنی حضرت عبداللہ اور حضرت عطیہ) سے جو اسلمی (اور صحابی) ہیں روایت ہے کہ ان دونوں نے کہا (ایک دن رسول کریم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کے سامنے مسکہ (مکھن ) اور کھجوریں پیش کیں (جن کو آپ ﷺ نے کھایا) آنحضرت ﷺ مسکہ اور کھجور کو پسند فرماتے تھے۔ (ابو داؤد )

4132Mishkaat-al-Masabih

ایک برتن میں کھانے کی چیز مختلف قسموں کی ہو تو اپنے سامنے سے کھانے کی قید نہیں ہوگی

وعن عكراش بن ذؤيب قال : أتينا بجفنة كثيرة من الثريد والوذر فخبطت بيدي في نواحيها وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال : يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد . ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق فقال : يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ومسح بلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال : يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار . رواه الترمذي

اور حضرت عکراش بن ذویب ؓ کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر) ہمارے سامنے ایک بڑا پیالہ لایا گیا جس میں بہت سا ثرید (شوربے میں بھیگے ہوئے روٹی کے ٹکڑے) اور (گوشت کی) بوٹیاں تھیں، (کھانے کے دوران) میں اپنا ہاتھ پیالے کے ہر طرف دوڑانے لگا۔ (یعنی اپنے) سامنے سے لقمہ اٹھانے کے بجائے ہر طرف ہاتھ ڈالنے لگا) جب کہ رسول کریم ﷺ اپنے آگے سے کھا رہے تھے، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا کہ عکراش۔ ایک جگہ سے (یعنی اپنے آگے سے) کھاؤ کیونکہ یہ ایک ( ہی طرح کا کھانا ہے۔ پھر ہمارے آگے ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کی کھجوریں تھیں، میں نے (آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق) اپنے سامنے سے (کھجوریں اٹھا اٹھا کر) کھانا شروع کیا لیکن (اب) رسول کریم ﷺ کا ہاتھ طباق میں ( ہر طرف) گردش کرنے لگا (یعنی آپ ﷺ اپنی طبعی پسند کے مطابق طباق کے ہر کنارے سے کھجوریں اٹھا اٹھا کر کھانے لگے اور اس کا مقصد لوگوں پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو کھجوریں ہر طرف سے اٹھا کر کھا سکتے ہیں اور پھر آپ ﷺ نے محض اپنے اس فعل کے ذریعہ ہی بیان نہیں کیا بلکہ قول کے ذریعہ بھی تعلیم دی کہ) پھر فرمایا عکراش،! جس طرف سے چاہو کھاؤ کیونکہ یہ کھجوریں ایک (ہی) قسم کی نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہمارے پاس پانی لایا گیا چناچہ رسول کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اپنے ہاتھوں کی تری اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھوں پر اور سر پر مل لی اور فرمایا عکراش! یہ اس کھانے کے بعد کا وضو ہے جس کو آگ نے متغیر کیا ہے (یعنی یہ ہاتھ اور منہ دھونا کہ جس کو وضو طعام کہا جاتا ہے اس کھانے کی وجہ سے ہے جس کو آگ پر پکایا گیا ہے۔ (ترمذی) تشریح ایک طرح کا کھانا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جب پورے پیالے میں یکساں قسم کا کھانا ہے اور اس کی ہر طرف ایک ہی طرح کی چیز ہے تو پھر پیالے کی ساری اطراف میں ہاتھ پکانا طمع و حرص کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے یعنی اگر کھانا کئی طرح کا ہوتا یا ایک ہی ہوتا لیکن پیالے کے ہر حصے میں الگ الگ رنگ ہوتا تو اپنی طبیعت کے میلان کی بناء پر ہر طرف سے کھانا مناسب معلوم ہوتا مگر جب کہ کھانا ایک ہی طرح کا ہے اور یکساں رنگ کا ہے تو پھر ہر طرف ہاتھ دوڑانا معیوب و مکروہ ہے! جس طرف سے چاہو کھاؤ میں بظاہر درمیان کی جگہ مستثنیٰ ہے کیونکہ برکت نازل ہونے کی وہی جگہ ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ درمیان کی جگہ سے نہ کھایا جانا اس کھانے کے ساتھ مخصوص ہو جو ایک رنگ کا ہو اور چونکہ یہاں (کھجور کھانے کی صورت میں) ایک رنگت نہیں تھی اس لئے درمیان میں سے بھی کھجور اٹھا کر کھانے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا گیا ہو! ابن ملک کہتے ہیں کہ اس ارشاد سے یہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ اگر کھانے کی چیز از قسم میوہ و پھل ہو اور وہ ایک ہی طرح اور ایک ہی رنگ کی ہو تو اس صورت میں برتن کے ہر طرف ہاتھ نہ لپکانا چاہئے۔ جیسا کہ طعام کا حکم ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ایک برتن میں کھانا مختلف رنگت کا ہو تو صرف اپنے سامنے سے کھانے کی قید نہیں ہوگی بلکہ جس طرف سے جی چاہے کھایا جاسکتا ہے۔

4133Mishkaat-al-Masabih

حریرے کا فائدہ

وعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أخذ أهله الوعك أمر بالحساء فصنع ثم أمر فحسوا منه وكان يقول : إنه ليرتو فؤاد الحزين ويسرو عن فؤاد السقيم كما تسروا إحداكن الوسخ بالماء عن وجهها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے گھر والوں کو بخار آجاتا تو آپ حساء تیار کرنے کا حکم دیتے چناچہ وہ تیار کیا جاتا اور پھر آپ ﷺ مریضوں کو اس حساء کے پینے کا حکم دیتے جس کو وہ (مریض) پیتے، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ درحقیقت حساء غمزدہ دل کو طاقت پہنچاتا ہے اور بیمار کے دل سے رنج و کلفت کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح (عورتوں) میں سے کوئی اپنے منہ کے میل کو پانی سے صاف کر ڈالتی ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح حساء کھانے کی قسم سے ایک رقیق چیز ہوتی ہے جو آٹا، پانی اور گھی کو ملا کر پکائی جاتی ہے کبھی اس میں شکر بھی ملا دی جاتی ہے مکہ کے لوگ اس کو حریرہ بھی کہتے تھے اور تبینہ بھی، جس کا ذکر فصل اول کی ایک حدیث میں گزر چکا ہے، آنحضرت ﷺ سے اس ارشاد میں حریرے کے فائدے کو ظاہر کرنے کے لئے اپنا روئے سخن عورتوں کی طرف اس لئے منعطف کیا کہ اصل میں عورتیں اپنے جسم کا میل دھونے اور اپنے چہرے کو صاف رکھنے کی زیادہ سے زیادہ سعی کرتی ہیں یا یہ کہ جس وقت آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا اس وقت عورتیں موجود تھیں اس لئے انہی کو خطاب کیا۔

4134Mishkaat-al-Masabih

عجوہ جنت کی کھجور ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم والكمأة من المن وماؤها شفاء للعين . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عجوہ (جو کھجور کی سب سے اچھی قسم ہے) جنت کی (کھجور) ہے اور اس میں زہر کی شفاء ہے اور کھنبی من (کی قسم) سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔ (ترمذی ) تشریح عجوہ جنت کی کھجور ہے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عجوہ کی اصل جنت سے آتی ہے یا یہ کہ جنت میں جو کھجور ہوگی وہ عجوہ ہے اور یا یہ کہ عجوہ ایسی سود مند اور راحت بخش کھجور ہے گویا وہ جنت کا میوہ ہے، زیادہ صحیح مطلب پہلا ہی ہے حدیث کے باقی حصے کی وضاحت پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔

4135Mishkaat-al-Masabih

چھری سے گوشت کاٹ کر کھانا جائز ہے

عن المغيرة بن شعبة قال : ضفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فأمر بجنب فشوي ثم أخذ الشفرة فجعل يحز لي بها منه فجاء بلال يؤذنه بالصلاة فألقى الشفرة فقال : ما له تربت يداه ؟ قال : وكان شاربه وفاء فقال لي : أقصه على سواك ؟ أو قصه على سواك . رواه الترمذي

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ کسی شخص کے ہاں مہمان ہوا۔ اس شخص نے (ہمارے لئے) ایک بکری ذبح کی اور رسول کریم ﷺ نے اس (بکری) کا ایک پہلو بھوننے کا حکم دیا، جب وہ پہلو بھون دیا گیا آنحضرت ﷺ نے ایک چھری لی۔ پھر اس کے ذریعہ اس پہلو میں سے میرے لئے (بوٹیاں کاٹنے لگے، اتنے میں حضرت بلال ؓ آنحضرت ﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے، آپ ﷺ نے چھری کو ڈال دیا اور (بطریق تعجب) فرمایا کہ بلال کو کیا ہوا؟ (کہ ایسے وقت بلانے آگیا) اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ (اس وقت) اس کی لبیں (یعنی مونچھیں) بڑھی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ۔ میں تمہارے لئے (تمہاری) لبیں مسواک پر کتر دوں، یا یہ فرمایا کہ۔ لبیں مسواک پر) کتر ڈالو۔ (ترمذی) تشریح اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ یہ اصل میں ذلت و خواری اور فقر و افلاس سے کنایہ ہے اور ایک طرح بد دعا کے مرادف ہے اس جملہ کا استعمال عام طور پر اہل عرب کے ہاں اس شخص کے لئے کیا جاتا ہے جس کو ملامت کرنا مقصود ہوتا ہے اور حقیقت میں اس بددعا کے واقع ہوجانے کی طلب و خواہش نہیں ہوتی بلکہ روز مرہ کے محاورے کے طور پر اس جملہ کو بولتے ہیں اس سے مراد محض شرزنش و ملامت ہوتی ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی گویا آنحضرت ﷺ کو یہ ناگوار گزرا کہ جب نماز کا ابھی کافی وقت باقی ہے تو بلال نے کھانے کی مشغولیت کے دوران نماز کے لئے کیوں اٹھانا چاہا اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کا استعمال میزبان کی کیفیات و حالات کو دیکھتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس وقت یقینا میزبان کو بڑی ذہنی اذیت و کوفت ہوئی ہوگی اس لئے آپ ﷺ نے ان کی طرف سے یا ان کی دلجوئی کے لئے حضرت بلال ؓ پر اس جملہ کے ذریعہ اظہار ناگواری فرمایا۔ اس کی لبیں بڑھی ہوئی تھیں شارحین نے اس جملہ کی وضاحت کئی طرح کی ہے، ایک یہ کہ شاربہ کی ضمیر حدیث کے راوی حضرت مغیرہ ؓ کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں اگرچہ ظاہری اسلوب کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہا جاتا وکان شاربی (اور میری لبیں بڑھی ہوئی تھیں) یعنی ضمیر متکلم کا استعمال ہوتا لیکن اس کے بجائے و شاربہ کہہ کر غائب کی ضمیر استعمال کی اس کی وجہ محض تفنن کلام ہے جس کو اہل معانی کی اصطلاح میں تجرید و التفات کہا جاتا ہے، لہٰذا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میری لبیں بڑھی ہوئی تھیں، نیز مسواک پر کترنے کا مطلب یہ تھا کہ لبوں کے نیچے مسواک رکھ کر لبوں کو چھری سے کاٹ ڈالوں۔ اور یا یہ فرمایا۔ یہ اصل میں راوی کا اپنے شک کو ظاہر کرنا ہے کہ یا تو آپ ﷺ نے پہلا جملہ ارشاد فرمایا کہ لبیں مسواک پر رکھ کاٹ ڈالو یعنی آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہاری لبیں کاٹوں بلکہ انہیں (حضرت مغیرہ) کو حکم فرمایا کہ خود اپنی لبیں کاٹ ڈالیں۔ شارحین نے دوسری وضاحت یہ بیان کی ہے کہ شاربہ کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف راجع کی جائے یعنی حضرت مغیرہ ؓ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی لبیں بڑھی ہوئی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنی لبوں کو تمہارے لئے کتروں گا کہ وہ بال مجھ سے جدا ہو کر تمہارے پاس رہیں اور تم ان سے برکت حاصل کرو، یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مغیرہ ؓ کو حکم دیا کہ تم میری لبوں کے بال کتر دو۔

4136Mishkaat-al-Masabih

بسم اللہ پڑھ کر کھانا نہ کھانا شیطانی اثر ہے

وعن حذيفة قال : كنا إذا حضرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لم نضع أيدينا حتى يبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع يده وإنا حضرنا معه مرة طعاما فجاءت جارية كأنها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها ثم جاء أعرابي كأنما يدفع فأخذه بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الشيطان يستحل الطعام أن لا يذكر اسم الله عليه وإنه جاء بهذه الجارية ليستحل بها فأخذت بيدها فجاء بهذا الأعرابي ليستحل به فأخذت بيده والذي نفسي بيده إن يده في يدي مع يدها . زاد في رواية : ثم ذكر اسم الله وأكل . رواه مسلم

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ کسی کھانے پر ہوتے تو ہم اس وقت تک کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک رسول کریم ﷺ شر وع نہ فرماتے، آپ ﷺ کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے (تو اس کے بعد ہم اپنا ہاتھ بڑھاتے) چناچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ کھانے پر بیٹھے، اتنے میں ایک لڑکی (کھانے پر) اس طرح آئی گویا وہ ڈھکیل دی گئی ہے (یعنی وہ بھوک کی شدت سے بےاختیار ہو کر کھانے پر اس طرح ٹوٹی جیسے اس کو کسی نے پیچھے سے دستر خوان پر ڈھکیل دیا ہو) پھر اس نے (جوں ہی) یہ چاہا کہ (بسم اللہ کہے بغیر) کھانے پر ہاتھ ڈالے، تو رسول کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی (بھی اسی) طرح بیتابی کے ساتھ) آیا کہ گویا اس کو (کھانے پر) ڈھکیل دیا گیا ہے (اور اس نے بھی بسم اللہ کہے بغیر کھانے پر ہاتھ ڈالنا چاہا کہ) آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ (بھی) پکڑ لیا۔ اور پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان اس کھانے کو اپنے لئے حلال کرتا ہے (اور اس کے کھانے پر قادر ہوتا ہے) جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتا چناچہ شیطان اس لڑکی کو لے کر آیا تاکہ اس (کے بسم اللہ نہ پڑھنے کے) سبب اس کھانے کو اپنے لئے حلال کرے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر شیطان اس دیہاتی کو لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے کو اپنے لئے حلال کرے مگر میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بلاشبہ (اس وقت) شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ ایک روایت میں (حذیفہ یا مسلم نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اللہ کا نام لیا (یعنی بسم اللہ پڑھی) کھانا کھایا۔ (مسلم ) تشریح ایک روایت میں مع یدھا (اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ) بجائے مع یدیھما (اس لڑکی اور اس اعرابی کے ہاتھ کے ساتھ) کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے تاہم جس روایت میں لفظ یدھا ہے وہ گویا اس لڑکی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اس اعرابی کا ہاتھ بھی آپ کے ہاتھ میں ہو کیوں کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے اس اعرابی کا ہاتھ بھی پکڑ لیا البتہ چونکہ پہلے لڑکی ہی کا ہاتھ پکڑا تھا اس لئے خاص طور پر محض اس کا ذکر کیا۔

4137Mishkaat-al-Masabih

زیادہ کھانا بے برکتی کی علامت ہے

عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يشتري غلاما فألقى بين يديه تمرا فأكل الغلام فأكثر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن كثرة الأكل شؤم . وأمر برده . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ایک غلام کو خریدنے کا ارادہ فرمایا تو (آزمائش کے طور پر) اس کے آگے کھجوریں رکھ دیں، چناچہ وہ غلام (خوراک سے) بہت زیادہ کھجوریں کھا گیا، رسول کریم ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا کہ زیادہ کھانا بےبرکتی کا سبب اور بےبرکتی کی علامت ہے۔ (پھر آپ ﷺ نے اس غلام کو واپس کردینے کا حکم دیا۔ (بیہقی )

4138Mishkaat-al-Masabih

نمک بہترین سالن ہے

وعن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سيد إدامكم الملح . رواه ابن ماجه

اور حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارے سالنوں میں بہترین سالن نمک ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح نمک کو بہترین سالن اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ وہ کم سے کم محنت اور بڑی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوجاتا ہے اور قناعت کا سب سے قریبی ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے اکثر عارفین اور اہل اللہ نمک ہی پر قناعت کرتے تھے، اس اعتبار سے یہ ارشاد آنحضرت ﷺ کے اس قول کے منافی نہیں ہے کہ سید الادم فی الدنیا والاخرۃ اللحم (یعنی دنیا و آخرت میں سالنوں کا سردار گوشت ہے )۔

4139Mishkaat-al-Masabih

جوتا اتار کر کھانا کھاؤ

: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا وضع الطعام فاخلعوا نعالكم فإنه أروح لأقدامكم

اور حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب (تمہارے سامنے کھانا رکھا جائے (اور تم کھانے بیٹھو) تو اپنے جوتے اتار دو کیونکہ جوتے اتار دینا پیروں کے لئے بہت راحت بخش ہے۔

4140Mishkaat-al-Masabih

کھانا ٹھنڈا کر کے کھانا چاہئے

وعن أسماء بنت أبي بكر : أنها كانت إذا أتيت بثريد أمرت به فغطي حتى تذهب فورة دخانه وتقول : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : هو أعظم للبركة . رواهما الدارمي

اور حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے بارے میں روایت ہے کہ جب ان کے سامنے ثرید لایا جاتا تو وہ اس کو ڈھانک دینے کا حکم دیتیں، چناچہ اس کو ڈھانک کر رکھ دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اس کے دھویں اور بھاپ کا جوش نکل جاتا ہے تھا (یعنی اس کی گرمی کی شدت ختم ہوجاتی تھی اس کے بعد وہ اس کو کھاتی تھیں) نیز وہ فرماتی تھیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کھانے میں سے گرمی کا نکل جانا برکت میں زیادتی کا موجب ہے۔ (ان دونوں روایتوں کو دارمی نے نقل کیا ہے۔ تشریح ثرید کا ذکر محض اتفاقی ہے کہ اس وقت کا عام کھانا ثرید ہی ہوتا تھا اس لئے اس کا ذکر کیا ورنہ دوسرے کھانوں کا بھی یہی حکم ہے، چناچہ جامع الصغیر میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابردوا بالطعام فان الحار لابرکۃ فیہ (کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھاؤ کیوں کہ گرم میں برکت نہیں ہوتی) اسی طرح بیہقی نے بطریق ارسال یہ روایت نقل کی ہے کہ نہی عن الطعام الحار حتی یبرد (آنحضرت ﷺ نے گرم کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوجائے )۔

4141Mishkaat-al-Masabih

کھانے کے برتن کو چاٹ لینا چاہئے

وعن نبيشة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أكل في قصعة ثم لحسها تقول له القصعة : أعتقك الله من النار كما أعتقتني من الشيطان . رواه رزين

اور حضرت نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص پیالے (یا طشتری وغیرہ) میں کھائے اور پھر اس کو (انگلیوں سے) چاٹ لے تو وہ پیالہ (زبان حال سے یا زیادہ صحیح یہ ہے کہ زبان قال سے ) اس شخص سے کہتا ہے کہ جس طرح تو نے شیطان کے (کھانے یا اس کے خوش ہونے) سے مجھ کو نجات دی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تجھ کو دوزخ کی آگ سے نجات دے (رزین) تشریح ترمذی، احمد، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ استغفرت لہ القصعۃ (وہ پیالہ اس شخص کے لئے بخشش و مغفرت طلب کرتا ہے اور طبرانی نے حضرت عرباض سے یہ نقل کیا ہے من لعق الصحفۃ ولعق صابعہ اشبعہ اللہ فی الدنیا والاخر ۃ (یعنی جس شخص نے رکابی اور اپنی انگلیوں کو چاٹا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں سیر کرے )

4142Mishkaat-al-Masabih

ضیافت کا بیان

ضاف کے معنی ہیں مہمان ہونا۔ اضاف کے معنی ہیں مہمان داری کرنا، ضیف کے معنی ہیں مہمان اور مضیف کے معنی ہیں میزبان اس عنوان کے تحت جو احادیث نقل ہوں گی ان سے معلوم ہوگا کہ ضیافت اور مہمان داری کی فضیلت ہے؟ شریعت کی نظر میں اس کے کیا طور طریقے اور آداب ہیں اور یہ کہ مہمان و میزبان کے درمیان حفظ مراتب اور ان دونوں سے متعلق تہذیب و شائستگی کی کیا حدود ہیں؟ ضیافت کا حکم اکثر علماء کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ ضیافت (مہمان داری) کے حقوق و آداب کی رعایت، اچھے اخلاق اور تہذیب و شائستگی کی علامت بھی ہے اور مستحب بھی۔ چناچہ اکثر احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں، بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ایک دن کی مہمان داری کرنا تو واجب ہے اور ایک دن کے بعد مستحب ہے۔ ضیافت کی جو آٹھ قسمیں علماء نے بیان کی ہیں ان کی تفصیل باب الولیمہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔

4143Mishkaat-al-Masabih

مہمان کی خاطر کرنا کمال ایمان کی علامت ہے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت . وفي رواية : بدل الجار ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليصل رحمه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے، جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ بھلی بات کہے یا چپ رہے۔ (بخاری کی) ایک روایت میں (یعنی پڑوسی کا ذکر کرنے) کے بجائے یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے ناطے کو باقی رکھے، یعنی اپنے ناطے داروں اور عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کا معاملہ کرے۔ (بخاری، ومسلم) تشریح جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے الخ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایمان کا پایا جانا مذکورہ باتوں پر موقوف ہے اور یہ کہ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے مہمان کی خاطر نہیں کرتا یا اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچاتا ہے تو وہ مؤمن نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اصل مقصد ان چیزوں کی اہمیت کو بیان کرنا اور ان پر عمل کرنے کی زیادہ سے زیادہ تاکید کرنا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کو اطاعت و فرماں برداری کی راہ پر لگانے کے لئے یوں کہے کہ اگر تو میرا بیٹا ہے تو اطاعت و فرماں برداری کر ظاہر ہے کہ وہ اطاعت و فرماں برداری نہ کرے تو اس سے ثابت نہیں ہوگا کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ جس شخص کا ایمان درجہ کمال کا ہوگا (یعنی جو مسلمان کامل الایمان ہوگا) اس کی شان یہی ہوگی کہ وہ ان باتوں پر عمل کرے گا گویا ان چیزوں کو اختیار کرنا کمال ایمان کی علامت ہے۔ اکرام ضیف یعنی مہمان کی خاطر کرنا شرعی طور پر یہ ہے کہ جب کوئی مہمان آئے تو اس کے ساتھ کشادہ پیشانی، خوش خلقی اور ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آئے، اس کے خوش گفتاری، نرم گوئی اور ملاطفت کے ساتھ بات چیت کرے اور اس کو تین دن تک اس طرح کھلائے پلائے کے پہلے دن تو اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق کچھ پر تکلف میزبانی کرے بشرطیکہ اس کی وجہ سے اپنے متعلقین و لواحقین کی حق تلفی نہ ہو اور پھر تین دن کے بعد ( بھی اگر مہمان ٹھہرا رہے تو) اس کو کھلانا پلانا صدقہ کے حکم میں ہوگا کہ میزبان چاہے تو کھلائے اولا چاہے کھلائے پلائے اور چاہے کھلانے پلانے سے انکار کر دے۔ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے یعنی یہ پڑوسی کا سب سے کم درجہ ہے کہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے، ورنہ تو جہاں تک حقوق ہمسائیگی کا تعلق ہے وہ بہت ہمہ گیری نوعیت کے ہیں چناچہ بخاری و مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ فلیکرم جارہ (تو اس کو چاہئے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ تکریم کا معاملہ کرے) اور بخاری و مسلم ہی کی ایک روایت میں یوں منقول ہے کہ فلیحسن الی جارہ یعنی اس کو چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی اس چیز میں مدد کرے جس کا وہ اس سے حاجت مند ہے اور اس کی مصیبت کو دور کرے۔ اسی طرح امام غزالی نے اربعین میں یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ۔ تم جانتے بھی ہو پڑوسی کا کیا حق ہے؟ اگر وہ (پڑوسی) تم سے مدد چاہے تو تم اس کی مدد کرو اور اگر وہ تم سے قرض مانگے تو تو اس کو قرض دو، اگر وہ اس کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دو اور وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو، اگر وہ محتاج و مفلس ہو تو اس کو کچھ دو، اگر اس کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دو، اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کو تسلی دو، مثلاً اس کے ہاں کوئی موت ہوجائے تو اس کے گھر جا کر تعزیت کرو، اس کے مکان کے پاس اونچا مکان نہ بناؤ، کہ اس کی ہوا وغیرہ رک جائے، اگر تم پھل وغیرہ خریدو تو تحفہ کے طور پر اس کے یہاں بھی بھجوا دو اور یہ ممکن نہ ہو سکے تو پھر تم اس (پھل وغیرہ) کو گھر میں پوشیدہ طور پر لے آؤ اور اپنے بچوں کو بھی تاکید کردو کہ وہ اس (پھل وغیرہ کو لے کر گھر سے باہر نہ نکلیں تاکہ تمہارے پڑوسی کے بچے (تمہارے بچوں کو پھل وغیرہ کھاتا دیکھ کر اپنی محرومی کی بنا پر) رنج و افسوس نہ کریں اور تم اپنی ہانڈی (چولھے) کے دھوئیں سے اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ اور یہ کہ اس ہانڈی میں سے کچھ اس کے ہاں بھی بھجواؤ۔ اور کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کیا ہے؟ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اپنے پڑوسی کا حق وہی شخص پہچانتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔ بھلی بات کہے یا چپ رہے کا مطلب یہ ہے کہ جب زبان سے کوئی بات نکالنے کا ارادہ کرے اور یہ معلوم ہو کہ وہ بات خیر و بھلائی کی ہے کہ جس پر ثواب ملتا ہے خواہ وہ واجب ہو یا مستحب، تب اس کو زبان سے نہ نکالے، حاصل یہ کہ بھلائی اس میں ہے کہ زبان کو حتی الامکان خاموش رکھا جائے، اگر بولنا ضروری ہی ہو تو زبان سے وہی بات نکالی جائے جو خیر و بھلائی کی حامل ہو، نہ صرف یہ کہ حرام و مکروہ باتوں میں زبان کو مشغول رکھنا ممنوع ہے بلکہ مباح باتوں سے بھی زبان کو بچانا دانشمندی کا تقاضا ہے کہ مبادا مباح باتیں ہی زبان کو حرام باتوں تک کھینچ کرلے جائیں۔ اپنے ناطے کو باقی رکھے میں اس طرف اشارہ ہے کہ صلہ رحمی ایمان کی علامت ہے کہ جس شخص نے ناتوں کو توڑ ڈالا وہ گویا اللہ اور دن پر ایمان رکھنے والا نہیں ہے کیونکہ ناتا توڑنے پر جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے اس کی پرواہ نہ کرنا اپنے ایمان کی خود نفی کرنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

4144Mishkaat-al-Masabih

مہمان کو تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہرنا چاہئے

وعن أبي شريح الكعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم وليلة والضيافة ثلاثة أيام فما بعد ذلك فهو صدقة ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه

اور حضرت شریح کعبی ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی تعظیم و خاطر داری کرے مہمان کے ساتھ تکلف و احسان کرنے کا زمانہ ایک دن و ایک رات ہے اور مہمان داری کرنے کا زمانہ تین دن ہے، اس (تین دن کے بعد جو دیا جائے گا وہ ہدیہ و خیرات ہوگا اور مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کے ہاں تین دن کے بعد اس کی استدعا کے بغیر ٹھہرے کہ وہ تنگی میں مبتلا ہوجائے )۔ ( بخاری ومسلم) تشریح نہایہ جزری میں اس حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ مہمان کی تین دن اس طرح مہمان داری کی جائے کہ پہلے دن اس کے کھانے پینے کی چیزوں میں جو تکلف و اہتمام ہو سکے وہ کیا جائے اور پھر دوسرے و تیسرے دن بلا تکلف و اہتمام جو کچھ حاضر ہو اس کو مہمان کے سامنے پیش کر دے، اس کے بعد اس کو کھانے پینے کی اتنی چیزیں دے دے جن کے سہارے وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر طے کرسکے۔ حدیث میں جائزہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لفظ آیا ہے اس کا مفہوم یہی ہے، ویسے لغت کے اعتبار سے جائزہ کے معنی بخشش تحفہ اور انعام کے ہیں، لیکن یہاں وہ چیز مراد ہے جو ایک دن کی غذا کی ضرورت کے بقدر ہو اس کے سہارے منزل تک پہنچ جائے مہمان کو جائزہ کے بعد جو کچھ دیا جائے گا وہ ایک زائد چیز ہوگی اور صدقہ بھلائی اور احسان کے حکم میں ہوگا۔ اس وضاحت کے مطابق جائزہ یعنی مہمان کو ایک دن کے بقدر زاد راہ دینا ضیافت یعنی مہمان داری کے بعد ہوگا (جب کہ حدیث میں اس کا ذکر ضیافت سے پہلے کیا گیا ہے) نیز یہ جائزہ، مہمان داری کرنے سے ایک زائد چیز ہوگا۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جائزہ تین دن مہمان داری کرنے سے زائد کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ حدیث میں اس کا ذکر اس تکلف و اہتمام اور الطاف و عنایات کی وضاحت کے طور پر ہے جو میزبان مہمان داری کے تین دنوں میں سے پہلے اپنے مہمان کے لئے کرتا ہے، چناچہ ابوداؤد کی عبارت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ جائزہ مہمان کی اس خاطر داری اور تواضع و مدارات کو کہا گیا ہے جو پہلے دن کی جاتی ہے اسی طرح حضرت مولانا شاہ عبد الحق محدث دہلوی بھی یہی فرماتے تھے کہ ہمارا علم بھی یہ ہے کہ جائزہ کے یہی معنی ہیں۔ مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔ الخ۔ سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کے ہاں مہمان جائے اس کے لئے یہ مطلقاً مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے میزبان کے ہاں تین دن سے زائد ٹھہرے، ہاں اگر خود میزبان کی خواہش ہو اور وہ درخواست کرے تو اس کی استدعا پر تین دن سے زائد ٹھہرنے میں مضائقہ نہیں ہوگا! اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسافر (مہمان) کسی کے یہاں ٹھہرے اور کسی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کے سبب اس کو تین دن سے زائد قیام کرنا پڑجائے تو وہ تین دن کے بعد اپنے پاس سے کھائے پیئے صاحب خانہ کو تنگی و کلفت میں نہ ڈالے،

4145Mishkaat-al-Masabih

مہمان داری کرنا واجب نہیں ہے

وعن عقبة بن عامر قال : قلت للنبي صلى الله عليه وسلم : إنك تبعثنا فتنزل بقوم لا يقروننا فما ترى ؟ فقال لنا : إن نزلتم بقوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فإن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم

اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ جب آپ ﷺ ہمیں (جہاد یا کسی اور کام کے لئے) کہیں بھیجتے ہیں تو (ایسا بھی ہوتا ہے کہ) ہمیں ایسے لوگوں میں (بھی) قیام کرنا پڑتا ہے جو ہماری مہمان داری نہیں کرتے (ایسی صورت میں) آپ ﷺ کیا حکم دیتے ہیں (آیا ہم ان سے زبردستی اپنی مہمان داری کرا سکتے ہیں یا نہیں؟ ) چناچہ آنحضرت ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ اگر تم (اپنے سفر کے دوران) کسی قوم کے درمیان قیام کرو اور وہ تمہیں وہ چیز دیں جو ایک مہمان (کو دینے) کے لائق ہے تو تم اس کو قبول کرو اور اگر وہ ایسا نہ کریں ( یعنی مہمان داری کا حق ادا نہ کریں) تو تم ان سے مہمان کا وہ حق لے سکتے ہو جو ایک مہمان کے لائق ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر میزبان مہمان داری کے حقوق ادا نہ کرے تو مہمان اس سے اپنا حق زبردستی لے سکتا ہے، اس اعتبار سے یہ حدیث ان حضرات کے مسلک کی دلیل بھی ہے جو ضیافت یعنی مہمان کو کھلانا پلانا ایک واجب حق قرار دیتے ہیں لیکن جمہور علماء کا مسلک چوں کہ یہ نہیں ہے اس لئے ان کی طرف سے اس حدیث کی کئی تاویلیں کی جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ یہ حدیث اصل میں محمصہ (خالی پیٹ ہونے) اور اضطرار بھوک کی وجہ سے بیتاب و مضطر ہونے) کی صورت پر محمول ہے اور ایسی صورت میں جب کہ مہمان سخت بھوکا اور مضطر ہو اس کی ضیافت کرنا بلا شبہ میزبان پر واجب ہوگا کہ اگر وہ (میزبان) اس حق کو ادا نہ کرے تو یہ حق اس سے زبردستی لیا جاسکتا ہے، دوسرے یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا اس وقت محتاج اور فقراء کی خبر گیری کرنی واجب تھی مگر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں عام طور پر فقر و احتیاج کی جگہ وسعت و فراخی پیدا فرما دی تو یہ حکم منسوخ قرار دیا گیا اور تیسرے یہ کہ اس ارشاد گرامی کا تعلق اہل ذمہ وہ غیر مسلم جن کا مسلمان سے جان و مال کی مصالحت کا معاہدہ ہوچکا ہو) کے یہاں قیام کرنے سے تھا جب کہ ان کے ساتھ معاہدہ کی شرط کی بنا پر مسلمانوں کی مہمان داری کرنا ان پر واجب تھا اور جو حق واجب ہو اس کو زبر دستی بھی لیا جاسکتا ہے اور چوتھے یہ کہ یہ حدیث معاوضہ اور بدلہ کی صورت پر محمول ہے یعنی اگر کچھ لوگ (مثلاً مسافر) کسی جگہ قیام کریں اور وہاں کے لوگ ( نہ صرف یہ کہ ان کی ضیافت نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ایسی چیز فروخت کرنے سے انکار کریں جو ان (مہمان مسافروں) کے پاس نہیں ہے، نیز وہ اضطرار (بیتابی) کی حالت میں ہوں تو ان کے لئے جائز ہے کہ وہ (وہاں کے لوگوں سے) اس چیز کو زبردستی خرید لیں۔

4146Mishkaat-al-Masabih

جس میزبان پر اعتماد ہو اس کے ہاں دوسرے آدمیوں کو ہمراہ لے جانا درست ہے

وعن أبي هريرة قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وليلة فإذا هو بأبي بكر وعمر فقال : ما أخرجكما من بيوتكما هذه الساعة ؟ قالا : الجوع قال : وأنا والذي نفسي بيده لأخرجني الذي أخرجكما قوموا فقاموا معه فأتى رجلا من الأنصار فإذا هو ليس في بيته فلما رأته المرأة قالت : مرحبا وأهلا فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : أين فلان ؟ قالت : ذهب يستعذب لنا من الماء إذ جاء الأنصاري فنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وصاحبيه ثم قال : الحمد لله ما أحد اليوم أكرم أضيافا مني قال : فانطلق فجاءهم بعذق فيه بسر وتمر ورطب فقال : كلوا من هذه وأخذ المدية فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : إياك والحلوب فذبح لهم فأكلوا من الشاة ومن ذلك العذق وشربوا فلما أن شبعوا ورووا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر : والذي نفسي بيده لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع ثم لم ترجعوا حتى أصابكم هذا النعيم . رواه مسلم . وذكر حديث أبي مسعود : كان رجل من الأنصار في باب الوليمة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ دن یا رات کے وقت (کہیں جانے کے لئے گھر سے) نکلے کہ اچانک حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے ملاقات ہوگئی۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ تم کو کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکال دیا ہے (یعنی اس وقت چوں کہ گھر سے نکلنے کی تم لوگوں کی عادت نہیں ہے اس لئے ایسی کیا ضرورت پیش آگئی جو تمہارے گھر سے نکلنے کا باعث ہوئی ہے) ان دونوں نے عرض کیا کہ بھوک نے ہمیں گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے، یعنی ہم بھوک کی شدت سے بیتاب ہو کر گھر سے نکلے ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور مجھے بھی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اسی چیز نے (گھر سے) نکالا ہے، جس چیز نے تمہیں نکالا ہے یعنی میں بھی بھوک ہی کہ وجہ سے گھر سے نکلا ہوں، اٹھو (میرے ساتھ چلو) چناچہ وہ دونوں (بھی) اٹھے (اور آپ ﷺ کے ساتھ ہوئے) پھر آپ ﷺ ایک انصاری کے گھر پہنچے (جن کا نام ابوالہیثم تھا) مگر وہ اپنے گھر میں موجود نہیں تھے، ان کی بیوی نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو کہا کہ خوش آمدید! آپ ﷺ اپنے ہی لوگوں میں آئے ہیں، آپ ﷺ کا تشریف لانا مبارک) آنحضرت ﷺ نے فرمایا فلاں شخص یعنی تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لانے گئے ہیں۔ اتنے میں وہ انصاری (یعنی صاحب خانہ بھی) آگئے، انہوں نے جب رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ (حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ کو اپنے گھر میں) دیکھا تو (اپنی اس خوش بختی پر پھولے نہیں سمائے اور) کہنے لگے الحمد اللہ! اللہ کا شکر ہے) بزرگ تر مہمانوں کے اعتبار سے آج کے دن مجھ سے زیادہ کوئی خوش نصیب نہیں ہے، یعنی آج کے دن میرے مہمان دوسرے لوگوں کے مہمانوں سے زیادہ بزرگ و معزز ہیں۔ راوی (یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ انصاری (ان حضرات کو لے کر اپنے باغ میں گئے جہاں ان کے لئے ایک بچھونا بچھا کر ان کو اس پر بٹھایا اور خود کھجوروں کے درختوں کے پاس) گئے اور ان (مہمانوں) کے لئے کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں نیم پختہ، پختہ اور تروتازہ (ہر طرح کی) کھجوریں تھیں، پھر انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اس میں سے کھائیے اس کے بعد انہوں نے چھری لی (اور ایک بکری کو ذبح کرنا چاہا) رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ دودھ والی بکری ذبح کرنے سے اجتناب کرنا آخر کار انہوں نے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے ایک بکری ذبح کی (اور جب اس کا گوشت پک گیا تو ) سب نے اس بکری کا گوشت کھایا، اس خوشہ میں سے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا، اس طرح جب کھانے پینے سے پیٹ بھر گیا تو رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کی بابت پوچھا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا تھا، لیکن تم اپنے گھروں کو واپس (بھی) نہ ہوئے تھے کہ (خدا کی طرف سے) تمہیں یہ نعمتیں مرحمت ہوگئیں۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے کئی مسئلے ثابت ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس میزبان پر اعتماد ہو اس کے ہاں دوسرے آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے جانا درست ہے، دوسرے یہ کہ اپنے احباب سے رنج و الم اور تکلیف و پریشانی کا اظہار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ یہ اظہار شکوہ و شکایت، عدم رضا اور بےصبرے و جزع فزع کے طور پر نہ ہو، خاص طور پر جب کہ گھر میں کھانے پینے کو کچھ میسر نہ ہو اور بھوک کی شدت نہ صرف یہ کہ جسمانی طور پر اذیت پہنچائے بلکہ عبادت کے کیف و نشاط میں رکاوٹ ڈالے، طاعات کے ذریعہ حاصل ہونے والی روحانی لذت سے پوری طرح محفوظ نہ ہونے دے اور قلب کو (یاد اللہ اور حضوری عبادات سے پھیر کر) ادھر ادھر مشغول کر دے، تو ایسی صورت میں گھر سے نکل کر مباح اسباب و وسائل کے ذریعہ اس (بھوک) کو مٹانے کا علاج کرنا اور اس سلسلہ میں سعی و کوشش کی راہ اختیار کرنا محض جائز ہی نہیں بلکہ لازم ہوجاتا ہے۔ نیز ایسے وقت میں اپنے احباب کے پاس جانا اور اس یقین کے ہوتے ہوئے کہ وہ انکار نہیں کریں گے ان سے بےتکلف کھانے پینے کی چیز مانگنا مباح ہی نہیں ہے بلکہ آپس کی محبت و مروت میں زیادتی کا باعث بھی ہوتا ہے۔ منقول ہے کہ جب نادار صحابہ کو کھانا پینا میسر نہ آتا اور ان کو بھوک کی شدت پریشان کرتی تو وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور جب روئے انور ﷺ کی زیارت اور جمال باکمال پر نظر پڑتی تو ان کی بھوک وغیرہ کی ساری کلفت جاتی رہتی اور جلوہ حق کی نورانیت انہیں کھانے پینے سے بےنیاز کردیتی تیسرے یہ کہ ضرورت کی بنا پر اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کی بات کو سننا جائز ہے، اسی طرح عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ اگر اس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو تو وہ اپنے ہاں آنے والے مہمان کو گھر میں آنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ بشرطیکہ اول تو اس مہمان کے گھر میں آنے سے کسی بات کا کوئی خطرہ و خدشہ نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اپنے شوہر کی رضا مندی کا یقین ہو، یعنی اس بات کا کوئی شبہ نہ ہو کہ شوہر اس مہمان کے گھر میں آنے سے کسی ناگواری یا ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ چوتھے یہ کہ ان انصاری کا اپنے گھر میں ان معزز بزرگ ترین مہمانوں کو دیکھ کر اپنے حق میں ایک عظیم نعمت تصور کرنا اور اس پر ان کا الحمد للہ کہنا اس بات کی علامت ہے کہ کسی نعمت کے ظاہر ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا مستحب ہے، نیز یہ بھی مستحب ہے کہ جب مہمان آئے تو اس کے سامنے جلد پیش کردینا مستحب ہے۔ جب کھانے پینے سے پیٹ بھر گیا اس کے بارے میں نووی کہتے ہیں کہ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیٹ بھر کر کھانا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی کھایا جاتا تھا اور یہ (یعنی پیٹ بھر کر کھانا) جائز ہے، جہاں تک ان اقوال کا تعلق ہے جو پیٹ بھر کر کھانے کی کراہت کے سلسلے میں منقول ہیں تو وہ عادت و مداومت پر محمول ہیں کہ عادت و مداومت کے طور پر پیٹ بھر کر کھانا گویا محتاج اور غرباء کے حال سے فراموشی اور ان کے تئیں سنگدلی اختیار کرنے کا مظہر ہے۔ قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کی بابت پوچھا جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس دنیا میں جو نعمتیں عطا فرماتا ہے ان کے بارے میں وہ قیامت کے دن سوال کرے گا اور یہ سوال بعض کے حق میں تو توبیخ و سرزنش کے طور پر ہوگا اور بعضوں سے احسان جتانے اور اظہار نعمت و کرامت کے طور پر ہوگا گویا ہر صورت میں اللہ تعالیٰ اپنی ہر نعمت پر بندوں سے سوال و پرسش کرے گا کہ ہم نے تمہیں دنیا میں یہ جو فلاں فلاں نعمت عطا کی تھی تم نے اس پر ادائیگی شکر کا حق ادا کیا یا نہیں؟ وذکر حدیث ابی مسعود کان رجل من الانصار فی باب الولیمۃ۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی یہ روایت کان رجل من الانصار (کتاب النکاح کے) باب الولیمہ میں ذکر کی جا چکی ہے۔