کھانوں کے ابواب

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 138 · 96 hadiths · Page 5 of 5

4147Mishkaat-al-Masabih

مہمان نوازی کی اہمیت

عن المقدام بن معدي كرب سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول : أيما مسلم ضاف قوما فأصبح الضيف محروما كان حقا على كل مسلم نصره حتى يأخذ له بقراه من ماله وزرعه . رواه الدارمي وأبو داود وفي رواية : وأيما رجل ضاف قوما فلم يقروه كان له أن يعقبهم بمثل قراه

حضرت مقدام بن معد یکرب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی قوم میں (کسی کے یہاں) مہمان ہوا اور اس نے محرومی کی حالت میں صبح کی (یعنی اس کے میزبان نے رات میں اس کی مہمان داری نہیں کی، تو اس کا ہر مسلمان پر یہ حق ہوگا کہ وہ اس کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ (جس شخص کے یہاں مہمان ہوا ہے) اس کے مال اور اس کی کھیتی باڑی سے مہمانداری کے بقدر (یعنی ایک مہمان کے کھانے پینے کے بقدر) وصول کرے۔ (دارمی، ابوداؤد، ) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جو شخص کسی قوم میں مہمان ہوا اور ان لوگوں نے اس کی مہمان داری نہیں کی تو اس کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ان لوگوں کا پیچھا پکڑ لے اور ان کے مال و اسباب سے اپنی مہمان داری) کے بقدر وصول کرے۔ تشریح اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے بھی مطلق ضیافت (مہمان داری) کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اس حدیث کی بھی وہی تاویل و توجیہ کی جائے گی، جو پیچھے حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی روایت میں کی گئی ہے۔

4148Mishkaat-al-Masabih

برائی کا بدلہ برائی نہیں ہے

وعن أبي الأحوص الجشمي عن أبيه قال : قلت : يا رسول الله أرأيت إن مررت برجل فلم يقرني ولم يضفني ثم مر بي بعد ذلك أأقريه أم أجزيه ؟ قال : بل اقره . رواه الترمذي

اور حضرت ابوالاحوص جشمی اپنے والد حضرت مالک بن فضلہ ؓ صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، میں نے (ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں کسی شخص کے ہاں سے گزروں یعنی اس کے یہاں مہمان ہوں اور وہ میری مہمانداری نہ کرے اور نہ میری مہمان داری کا حق ادا کرے اور پھر اس کے بعد اس کا گزر میرے یہاں ہو یعنی وہ میرے یہاں آ کر مہمان ہو، تو کیا میں اس کی مہمان داری کروں یا اس سے بدلہ لوں یعنی میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کروں جو وہ میرے ساتھ کرچکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں اس سے بدلہ نہ لو) بلکہ اس کی مہمان داری کرو۔ (ترمذی ) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ برائی کا بدلہ یہ نہیں ہے کہ تم بھی برائی کرو بلکہ جس شخص نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہی سب سے اچھا بدلہ ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ بدی رابدی سہل باشد جزا اگر مردے احسن الیٰ من اساء

4149Mishkaat-al-Masabih

کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لئے طلب اجازت کا جواب نہ ملے تو واپس چلے آؤ

وعن أنس أو غيره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن على سعد بن عبادة فقال : السلام عليكم ورحمة الله فقال سعد : وعليكم السلام ورحمة الله ولم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم حتى سلم ثلاثا ورد عليه سعد ثلاثا ولم يسمعه فرجع النبي صلى الله عليه وسلم فاتبعه سعد فقال : يا رسول الله بأبي أنت وأمي ما سلمت تسليمة إلا هي بأذني : ولقد رددت عليك ولم أسمعك أحببت أن أستكثر من سلامك ومن البركة ثم دخلوا البيت فقرب له زبيبا فأكل نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغ قال : أكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة وأفطر عندكم الصائمون . رواه في شرح السنة

اور حضرت انس ؓ یا ان کے علاوہ کسی اور (صحابی) سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے (ہاں پہنچ کر ان سے) گھر میں آنے کی اجازت طلب کی، چناچہ آپ ﷺ نے (دروازہ پر کھڑے ہو کر) فرمایا کہ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ تم پر اللہ کی سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو (کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ ) سعد ؓ نے (گھر میں سے جواب دیا کہ وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ اور آپ ﷺ پر بھی اللہ کی سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔ لیکن انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ جواب نہیں سنایا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد ؓ نے بھی آپ ﷺ کو تین مرتبہ جواب دیا، لیکن آپ ﷺ کو سنایا نہیں، یعنی حضرت سعد ؓ نے آپ ﷺ کے سلام کا جواب تینوں مرتبہ قصدا بہت آہستہ آواز میں دیا تاکہ آپ ﷺ سن نہ سکیں، چناچہ نبی کریم ﷺ (ان کا جواب نہ سن کر) واپس لوٹ پڑے اور حضرت سعد ؓ نے جب یہ دیکھا کہ جس چیز کو میں نے حصول سعادت میں زیادتی کا ذریعہ بنانا چاہا تھا وہ میرے لئے بالکل ہی محرومی کا باعث بنی جارہی ہے اور ایک طرح سے سوء ادبی کی صورت بھی پیدا ہوگئی ہے تو وہ لپک کر گھر سے نکلے اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے پیچھے آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان، آپ ﷺ نے جتنی بار بھی سلام کیا میرے کانوں نے سنا اور حقیقت یہ ہے کہ میں (ہر بار) جواب بھی دیتا تھا البتہ میں اس جواب کو آپ ﷺ کے کانوں تک نہیں پہنچنے دیتا تھا، کیونکہ میں آپ ﷺ کے زیادہ سے زیادہ سلام و برکت کا خواہش مند تھا (یعنی میرا مقصد یہ تھا کہ میرا جواب آپ ﷺ کے کانوں تک نہ پہنچے تاکہ آپ جتنا زیادہ سلام کریں گے میرے حق میں اتنا زیاہ حصول برکت وسعادت کا ذریعہ ہوگا) چنانچہ (حضرت سعد ؓ کی طرف سے اس اظہار حقیقت اور عذر خواہی کے بعد) آنحضرت ﷺ اور حضرت سعد ؓ مکان میں داخل ہوئے اور حضرت سعد ؓ نے آپ ﷺ کے لئے خشک انگور پیش کئے جن کو نبی کریم ﷺ نے کھایا، جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے اور ( حضرت سعد ؓ کے حق میں دعا کرتے ہوئے) فرمایا کہ اللہ کے نیک بندے تمہارے کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے لئے استغفار کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطار کریں۔ (شرح السنۃ)

4150Mishkaat-al-Masabih

پرہیز گار لوگوں کی ضیافت کرنا زیادہ بہتر ہے

وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : مثل المؤمن ومثل الإيمان كمثل الفرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى آخيته وإن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء وأولوا معروفكم المؤمنين . رواه البيهقي في شعب الإيمان وأبو نعيم في الحلية

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مؤمن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنی رسی میں بندھا ہوا ہوتا ہے اور ادھر ادھر چکر لگانے کے بعد پھر اپنی رسی کے پاس آجاتا ہے اور (اسی طرح مؤمن غفلت و کوتاہی کرتا ہے لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے لہٰذا تم اپنا کھانا متقی و پرہیز گار لوگوں کو کھلاؤ اور اپنے عطایا سے سب مسلمانوں کو نوازو۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابونعیم نے حلیہ میں نقل کیا ہے۔ تشریح اخیۃ اصل میں اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے دونوں سروں کو کنڈے کی طرح دیوار میں مضبوطی سے گاڑ دیتے ہیں اور پھر اس لکڑی میں رسی سے گھوڑے وغیرہ کو باندھ دیتے ہیں اور اس کے پاس گھاس وغیرہ ڈال دیتے ہیں، لہٰذا فرمایا گیا کہ جس طرح کوئی گھوڑا اپنے اخیہ یعنی کنڈے سے بندھا ہوا ادھر ادھر چکر لگاتا ہے اور پھر اپنے اخیہ کے پاس آ کر کھڑا ہوجاتا ہے نیز یہ تو ہوتا ہے کہ وہ اپنے کنڈے سے کبھی نزدیک ہوجاتا ہے کبھی دور، مگر اس سے بالکل جدا نہیں ہوسکتا ٹھیک یہی حال ایمان اور مؤمن کے درمیان تعلق کا ہوتا ہے کہ کبھی تو اعمال صالحہ کے ذریعہ اس کو قرب الہٰی حاصل ہوتا ہے اور کبھی گناہوں کی وجہ سے بعد ہوجاتا ہے مگر اصل میں ایمان سے جدا نہیں ہوتا، چناچہ اگر وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو آخر کار اس گناہ پر نادم ہو کر استغفار کرتا ہے اور اپنی فوت شدہ عبادات کا تدارک کر کے کمال ایمان کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تم اپنا کھانا پرہیز گار لوگوں کو کھلاؤ یہ جملہ اصل میں جزا ہے شرط مخدوف کی، اس اعتبار سے پورا مفہوم یوں ہوگا کہ اس مثال کے مطابق جب ایمان کی وہی حیثیت ہوئی جو اخیہ یعنی کنڈے کی ہے تو ان چیزوں کو مضبوط و قوی کرنے کے طریقے اختیار کرو جو تمہارے اور ایمان کے درمیان وسائل کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کا ایک بہترین و سہل طریقہ ضیافت کرنا ( کھانا کھلانا) ہے رہی یہ بات کہ کھانا کھلانے کے سلسلے میں پرہیز گاری کی تخصیص کیوں ہے تو اس کا سبب یہ ظاہر کرنا ہے کہ اگرچہ ہر بھوکے کو کھانا کھلانا جائز اور ایک نیک عمل ہے خواہ وہ پرہیز گار ہو یا غیر پرہیز گا، لیکن اول تو اولی یہ ہے کہ اگر کسی بھوکے کو کھانا کھلانا جائز منظور ہے تو ایسے بھوکے کو کھلاؤ جو پرہیز گار اور اللہ ترس ہو دوسرے یہ کہ جب تم پرہیز گاروں کو کھانا کھلاؤ گے تو نہ صرف یہ کہ تمہیں اس نیک عمل پر ثواب ملے گا بلکہ وہ تمہارا کھانا کھا کر جو عبادت کریں گے اس کا ثواب تمہیں بھی ملے گا اور وہ تمہارے حق میں جو دعا کریں گے وہ بھی قبول ہوگی لہٰذا پرہیز گاروں کی تخصیص مذکورہ سبب سے ہے ورنہ جہاں تک مطلق احسان و اعانت کا تعلق ہے وہ سب مسلمانوں کے ساتھ کرنی چاہئے، جیسا کہ فرمایا گیا اور عطایا سے سب مسلمانوں کو نوازو۔

4151Mishkaat-al-Masabih

کھانا کھاتے وقت زانو کے بل بیٹھنا تواضع وانکساری کی علامت ہے

عن عبد الله بن بسر قال : كان للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يحملها أربعة رجال يقال لها : الغراء فلما أضحوا وسجدوا الضحى أتي بتلك القصعة وقد ثرد فيها فالتفوا عليها فلما كثروا جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعرابي : ما هذه الجلسة ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا ثم قال : كلوا من جوانبها ودعوا ذروتها يبارك فيها . رواه أبو داود

اور حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے ہاں ایک کٹھڑا (چوبی ناند) تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے (یعنی جب اس میں کھانا رکھا جاتا تو وہ اتنا بھاری ہوجاتا تھا کہ اس کو چار آدمی اٹھاتے تھے یا وہ خالی ہی اتنا بڑا بھاری تھا کہ چار آدمیوں کے بغیر نہیں اٹھتا تھا) اس (کٹھڑے) کو غرا کہا جاتا تھا چناچہ جب چاشت کا وقت ہوجاتا اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ لیتے تو وہ کٹھڑا لایا جاتا اور اس میں ثرید تیار کیا جاتا، پھر لوگ جمع ہو کر اس کے گرد بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی تھی (اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہوجاتی) تو رسول کریم ﷺ گھٹنوں پر بیٹھتے (ایک دن آپ ﷺ کو اس طرح بیٹھے دیکھ کر) ایک دیہاتی نے کہا کہ یہ نشست کیسی ہے؟ یعنی اس طرح بیٹھنا آپ ﷺ کے شایان شان نہیں ہے۔ (یہ سن کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تواضع و انکسار کرنے والا بنایا ہے سرکش و ضدی نہیں بنایا ہے۔ (اور طرح بیٹھنا تواضع و انکسار اختیار کرنے کا قریبی راستہ ہے)۔ پھر آپ ﷺ نے (سب کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ اس کے کناروں (یعنی اپنے سامنے) سے کھاؤ اس کی بلندی کو چھوڑ دو یعنی درمیانی حصے کے کھانے پر پہلے ہاتھ نہ ڈالو تمہارے لئے اس میں برکت عطا کی جائے گی۔ (ابوداؤد ) تشریح غرا کے لغوی معنی ہیں روشن و چمکدار۔ اس بڑے برتن (کٹھڑا یا ناند) کو غرا اس مناسبت سے کہا جاتا تھا کہ وہ بڑا ہونے کی وجہ سے کھلا ہوا اور کشادہ تھا۔ اس میں برکت عطا کی جائے گی کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم اس طرح کھاؤ گے تو یہ اس کٹھڑے کے کھانے میں برکت کا باعث ہوگا اس کے برخلاف جب درمیان کے حصہ سے کھایا جاتا ہے تو نیچے کے حصے سے برکت منقطع ہوجاتی ہے۔

4152Mishkaat-al-Masabih

جمع ہو کر کھانا کھانے میں برکت نازل ہوتی ہے

وعن وحشي بن حرب عن أبيه عن جده : أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا : يا رسول الله إنا نأكل ولا نشبع قال : فلعلكم تفترقون ؟ قالوا : نعم قال : فاجتمعوا على طعامكم واذكروا اسم الله يبارك لكم فيه . رواه الترمذي

اور حضرت وحشی ابن حرب اپنے والد سے اور وہ (اپنے والد اور) وحشی کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے (کچھ) صحابہ نے (ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول کریم ﷺ! ہم (اگرچہ خاصی تعداد میں کھانا) کھاتے ہیں لیکن ہمارا پیٹ نہیں بھرتا (جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ یا تو ہمارا پیٹ بھر جایا کرے کہ ہم عبادت وطاعت کی طاقت حاصل کرسکیں، یا پھر ہمیں قناعت کی دولت میسر ہوجائے ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ (خاصی مقدار میں کھانا کھانے کے باوجود پیٹ نہ بھرنے کی ظاہری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ) تم لوگ شاید الگ الگ کھانا کھاتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا۔ تو پھر تم لوگ اپنے کھانے پر اکٹھے بیٹھا کرو اور اس پر (یعنی کھاتے وقت) اللہ کا نام لیا کرو تمہارے لئے اس (کھانے) میں برکت عطا کی جائے گی۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث کے راوی وحشی ابن حرب، کے دادا کا نام بھی وحشی ابن حرب ہی تھا، یہ (وحشی ابن حرب جو حدیث کے راوی وحشی کے دادا ہیں) وہی وحشی ہیں جہنوں نے غزوہ احد کے دن آنحضرت ﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو قتل کیا تھا اس وقت وحشی کافر تھے اور کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما تھے! لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت بخشی اور وہ مشرف باسلام ہوگئے، اسلام لانے کے بعد ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ کہ انہوں نے مشہور مدعی نبوت، مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے جہنم رسید کیا تھا! اس حدیث سے معلوم ہوا کہ الگ الگ کھانا، کھانا بےبرکتی کا باعث ہے جب کہ اکٹھے ہو کر کھانے پر بیٹھنا اس کھانے میں برکت کا ذریعہ ہے، نیز کھانے پر اکٹھے ہو کر بیٹھنا اور کھاتے وقت اللہ کا نام لینا یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرنا ان دونوں میں سے ہر ایک برکت کا باعث ہے اور اگر دونوں جمع ہوں کر کھانے پر اکھٹے بیٹھا بھی جائے اور کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا جائے تو یہ برکت میں زیادتی کا باعث بھی ہوگا اور ذکر اللہ کی کثرت کا ذریعہ بھی، رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو یہ فرمایا ہے کہ آیت ( لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْ تَاتًا) 24۔ النور 61) (یعنی اس بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم الگ الگ کھانا کھاؤ یا اکٹھے ہو کر) تو اصل میں یہ آیت یا تو رخصت) آسانی) پر محمول ہے یا اس کا تعلق ان لوگوں کو تنگی سے بچانے سے ہے جو اکیلے ہی رہتے ہیں۔

4153Mishkaat-al-Masabih

روٹی، کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضرورت بھی ہے اور اس کا پیدائشی حق بھی

عن ابی عسیب قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فمر بي فدعاني فخرجت إليه ثم مر بأبي بكر فدعاه فخرج إليه ثم مر بعمر فدعاه فخرج إليه فانطلق حتى دخل حائطا لبعض الأنصار فقال لصاحب الحائط : أطعمنا بسرا فجاء بعذق فوضعه فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ثم دعا بماء بارد فشرب فقال : لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة قال : فأخذ عمر العذق فضرب فيه الأرض حتى تناثر البسر قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال : يا رسول الله إنا لمسؤولون عن هذا يوم القيامة ؟ قال : نعم إلا من ثلاث خرقة لف بها الرجل عورته أو كسرة سد بها جوعته أو حجر يتدخل فيه من الحر والقر . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان . مرسلا

حضرت ابوعسیب ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ) رات کے وقت رسول کریم ﷺ گھر سے باہر نکلے اور میرے ہاں تشریف لائے اور مجھے بلایا میں (اپنے گھر سے) نکل کر آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیا، پھر آپ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور ان کو بلایا وہ بھی (اپنے گھر سے) نکل کر ساتھ ہو لئے، اس کے بعد آپ ﷺ حضرت عمر ؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور ان کو بلایا وہ بھی (اپنے گھر سے) نکل کر آپ ﷺ کے ساتھ ہو لئے پھر آپ ﷺ (ہم سب کو لے کر) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک باغ میں پہنچے جو ایک انصاری (صحابی) کا تھا آپ ﷺ نے باغ کے مالک سے فرمایا کہ ہمیں کھجوریں کھلاؤ۔ باغ کے مالک نے کھجوروں کا ایک خوشہ لا کر (ہمارے سامنے) رکھ دیا اس میں سے رسول کریم ﷺ نے (بھی) کھایا اور آپ ﷺ کے صحابہ (یعنی ہم لوگوں) نے (بھی) کھایا، پھر آپ ﷺ نے ٹھنڈا پانی منگوایا جس کو (آپ ﷺ نے اور ہم نے) پیا اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ یقینا قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ نے کھجوروں کا خوشہ لیا اور اس کو زمین پردے مارا یہاں تک کہ اس کی کچی کھجوریں رسول کریم ﷺ کے سامنے بکھر گئیں، پھر انہوں نے عرض کیا کہ، یا رسول اللہ! ﷺ کیا قیامت کے دن ہم سے اس کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! (ہر نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ البتہ تین چیزوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا ایک تو کپڑا کہ جس سے آدمی اپنا ستر ڈھانکے اور دوسری روٹی کا ٹکرا کہ جس کے ذریعہ اپنی بھوک کو دور کرے اور تیسرے بل کہ جس میں گرمی اور سردی سے ( بچنے کے لئے) گھس جائے ( احمد بیہقی) تشریح ایک انصاری کے بارے میں احتمال ہے کہ وہی ابوالہیثم ہوں جن کے باغ میں جانے کا واقعہ تو وہ ہے جس کا ذکر پہلی فصل کی حدیث میں بھی گزر چکا ہے اور یہ واقعہ (جو یہاں حدیث میں بیان کیا گیا ہے دوسری مرتبہ کا ہے گویا ایک واقعہ تو وہ ہے جس کا ذکر پہلی فصل کی حدیث (نمبر ٣) میں گزرا اور دوسرا واقعہ یہ ہے جو یہاں حدیث میں بیان کیا گیا ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ انصاری سے مراد ابوالہیثم نہ ہوں بلکہ کوئی دوسرے انصاری صحابی مراد ہوں۔ اور اس کو زمین پردے مارا حضرت عمر ؓ کا یہ عمل گویا ان حالت جذب کا مظہر تھا قیامت کے دن ہر چھوٹی بڑی چیز اور ہر طرح کے جزئی و کلی امور کے سوال و پرسش کے سلسلہ میں خوف اللہ اور مواخذہ آخرت کی ہیبت کی وجہ سے ان پر طاری ہوگئی تھی۔ حجر کا لفظ حاء کے پیش اور جیم کے سکون کے ساتھ بھی صحیح ہے، جس کے معنی حجرہ (کمرہ) کے ہیں لیکن مشکوٰۃ کے ایک صحیح نسخہ میں یہ لفظ حجر یعنی جیم کے پیش اور حاء کے سکون کے ساتھ منقول ہے جس کے معنی سوراخ اور بل کے آتے ہیں، اس صورت میں یہ مراد ہوگا کہ ایک ایسا چھوٹا سا مکان جس کو اس کے انتہائی، چھوٹا اور حقیر ہونے کی وجہ سے چوہے کے بل سے تعبیر کیا جاسکتا ہو اور جس میں سردی و گرمی سے بچاؤ کے لئے مشکل اور تنگی کے ساتھ رہا جاسکتا ہو۔

4154Mishkaat-al-Masabih

اجتماعی طور پر کھانا کھانے کی صورت میں سب کے ساتھ ہی کھانے سے ہاتھ کھینچو

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا وضعت المائدة فلا يقوم رجل حتى ترفع المائدة ولا يرفع يده وإن شبع حتى يفرغ القوم وليعذر فإن ذلك يخجل جليسه فيقبض يده وعسى أن يكون له في الطعام حاجة رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب دسترخوان بچھا دیا جائے (اور لوگ اس پر کھانے کے لئے بیٹھیں) تو کوئی شخص اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ دسترخوان نہ اٹھا دیا جائے اور (کھانے سے) اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ کھینچے جب تک کہ سب لوگ کھانے سے فارغ نہ ہوجائیں اگرچہ اس کا پیٹ بھر گیا اور اگر کسی عذر کی بنا پر دسترخوان سے پہلے اٹھنا ضروری ہو، یا دوسرے لوگوں کے کھانے سے فارغ ہونے سے پہلے اپنا ہاتھ کھینچنا ہو تو) چاہئے کہ اس عذر کو بیان کر دے (یعنی معذرت طلب کر کے دسترخوان پر سے اٹھے یا اپنا ہاتھ کھینچے) کیوں کہ یہ (یعنی اس صورت میں کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لینا جب کہ دوسرے لوگ ابھی کھانے میں مشغول ہوں) اپنے ہم نشین کو شرمندہ کردینا ہے، چناچہ (جب ایک شخص یہ دیکھے گا کہ اس کے ساتھی نے کھانا چھوڑ دیا ہے تو شرما حضوری میں) وہ (بھی) اپنا ہاتھ کھینچ لے گا جب کہ بہت ممکن ہے کہ ابھی اور کھانے کی خواہش رکھتا ہو (یعنی اس کا پیٹ نہ بھرا ہو۔ (ابن ماجہ، یبہقی) تشریح اس حدیث سے علماء نے مسئلہ اخذ کیا ہے کہ اگر دسترخوان پر ایک سے زائد آدمی ہوں تو ان میں سے کسی شخص کو دوسرے ساتھیوں سے پہلے اپنا ہاتھ کھانے سے نہ کھینچنا چاہئے بشرطیکہ اس کے ہاتھ کھینچنے کے بعد وہ (ساتھی) بھی شرما شرمی میں کھانا چھوڑ دیں۔ اور اگر کوئی شخص کم خوراک ہو ( کہ کم خور ہونے کی وجہ سے دسترخوان کے دوسرے ساتھیوں کا آخر تک ساتھ دینا اس کے لئے مشکل ہو) تو اس صورت میں اس کے لئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کھائے تاکہ آخر تک دوسرے لوگوں کا ساتھ دے سکے۔

4155Mishkaat-al-Masabih

اجتماعی طور پر کھانا کھانے کی صورت میں سب کے ساتھ ہی کھانے سے ہاتھ کھینچو

وعن جعفر بن محمد عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أكل مع قوم كان آخرهم أكلا . رواه البيهقي في شعب الإيمان مرسلا

اور حضرت امام جعفر صادق، ابن محمد اپنے والد یعنی امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے تو آپ ﷺ سب سے آخر تک کھانے والے شخص ہوتے تھے۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح حضرت امام محمد باقر اصل میں تابعی ہیں اور ان کو اپنے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سماعت حدیث کا شرف حاصل ہے اس اعتبار سے یہ حدیث مرسل ہے! حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ دسترخوان پر موجود دوسرے لوگوں سے پہلے اپنا ہاتھ کھانے سے نہیں کھینچتے تھے آخر تک کھاتے رہتے تھے اور یا تو یہ کہ آپ ﷺ ابتداء میں نہیں کھاتے تھے یا بہت آہستہ آہستہ اور کم کم کھاتے تھے اور اس طرح کھانے کے آخر تک سب کا ساتھ دیتے تھے تاکہ دوسرے لوگ بھی شرم ولحاظ میں کھانا نہ چھوڑ دیں۔

4156Mishkaat-al-Masabih

بھوک ہونے کے باوجود کھانے سے تکلفا انکار کرنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے

وعن أسماء بنت يزيد قالت : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بطعام فعرض علينا فقلنا : لا نشتهيه . قال : لا تجتمعن جوعا وكذبا . رواه ابن ماجه

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا اور پھر وہ کھانا ہمارے سامنے رکھا گیا (ہم اگرچہ بھوکے تھے اور کھانے کی خواہش رکھتے تھے مگر جیسا کہ عادت ہوتی ہے محض تکلفا) ہم نے کہا کہ ہم کو کھانے کی خواہش نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ بھوک اور جھوٹ کو جمع نہ کرو۔ (ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک اور کھانے کی خواہش کے باوجود بطور تکلف کھانے سے انکار کرے اور یہ کہے کہ مجھے کھانے کی خواہش نہیں ہے جو حقیقت میں جھوٹ بولنا ہے تو اس سے بڑا نادان کون ہوگا کہ دو نقصان برداشت کرنے پر تیار ہوجائے ایک تو دنیا کا نقصان کہ بھوک کی کلفت اٹھائے اور دوسرا دین کا نقصان کہ جھوٹ بولے۔

4157Mishkaat-al-Masabih

مل کر کھانا کھانا برکت کا باعث ہے

وعن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كلوا جميعا ولا تفرقوا فإن البركة مع الجماعة . رواه ابن ماجه

اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (کھانا) مل کر کھاؤ، الگ الگ مت کھاؤ کیوں کہ برکت، جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ )

4158Mishkaat-al-Masabih

مہمان کے استقبال و وداع کے لئے گھر کے دروازے تک جانا مسنون ہے

عن ابی ھریرۃ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من السنة أن يخرج الرجل مع ضيفه إلى باب الدار . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ یہ سنت ہے کہ آدمی اپنے مہمان (کا استقبال کرنے یا اس کو رخصت کرنے) کے لئے گھر کے دروازے تک نکل کر آئے۔ (ابن ماجہ) بیہقی نے شعب الایمان میں اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے نیز بیہقی نے کہا ہے کہ اس کے سلسلہ سند میں ضعف ہے۔ تشریح یہ بھی مہمان کی خاطر داری اور اس کا اکرام ہے کہ جب وہ آئے تو گھر کے دروازے پر اس کا استقبال کیا جائے اور جب وہ جانے لگے تو دروازے تک نکل کر اس کو رخصت کیا جائے، اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگ گھر میں ایک اجنبی کے آنے سے کسی وہم و وسوسہ کا شکار نہیں ہوں گے۔ یہ سنت ہے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ یہ عمل (یعنی مہمان کے استقبال و وداع کے لئے گھر کے دروازے تک جانا) ایک قدیم عادت ہے جس کو ہمیشہ سے تہذیب و شائستگی کا مظہر بھی سمجھا گیا ہے اور انسان کی فطرت سلیم کا غماز بھی یا یہ مطلب ہے کہ یہ عمل میری سنت اور میرے طریقے کے مطابق ہے۔ اس سلسلہ سند میں ضعف ہے اس سے نفس حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ یہ روایت متعدد اسناد سے منقول ہے اور اگر کوئی روایت متعدد اسناد سے منقول ہو اور اس میں سے کسی سلسلہ میں ضعف بھی ہو تو تعدد اسناد کی وجہ سے اس کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے، ویسے بھی یہ بات ملحوظ رہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایت بھی قابل قبول ہوتی ہے۔

4159Mishkaat-al-Masabih

کھانا کھلانے کی فضیلت

وعن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخیر اسرع الی البیت الذی یؤکل فیہ من الشفرۃ الیٰ سنام العیر۔(رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس گھر میں (مہمانوں کو) کھانا کھلایا جاتا ہے، وہاں خیر یعنی رزق، برکت اور بھلائی اتنی تیزی سے پہنچتی ہے جتنی تیزی سے چھری بھی اونٹ کے کوہان کی طرف نہیں پہنچتی۔ (ابن ماجہ) تشریح جب اونٹ کا گوشت کاٹا جاتا ہے تو اس کے سب اعضاء سے پہلے اس کے کوہان کو کاٹتے ہیں اور چونکہ کوہان کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے اس لئے وہ شوق کے ساتھ کھایا بھی جاتا ہے، پس فرمایا کہ جس طرح کوہان پر چھری جلدی پہنچتی ہے اس سے بھی زیادہ جلد اس گھر میں خیر و بھلائی پہنچتی ہے جس میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔

4160Mishkaat-al-Masabih

گزشتہ کے متعلقات کا بیان

یہاں باب کو کسی عنوان کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے باب میں جو موضوع چل رہا تھا اس باب میں بھی اسی سے متعلق احادیث نقل ہوں گی، تاہم مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں یہاں یہ عنوان قائم کیا گیا ہے باب فی اکل المضطر یعنی مضطر کے کھانے کا بیان۔ وھذا الباب خال عن الفضل الاول اور اس باب میں پہلی فصل نہیں ہے یعنی اب باب میں صاحب مصابیح نے بخاری و مسلم کی کوئی روایت نقل نہیں کی ہے اس لئے کہ اس باب کو فصل اول سے خالی رکھا ہے! واضح رہے کہ بعض نسخوں میں لفظ الاول کے بعد الثالث کا لفظ بھی ہے کیوں کہ اس باب میں تیسری فصل بھی نہیں ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے الثالث کا لفظ نہ ہونا چاہئے، کیوں کہ منصف مشکوٰۃ کا اصل مقصد صاحب مصابیح کے بارے میں بیان کرنا ہے کہ انہوں نے اس باب کو پہلی فصل سے خالی رکھا ہے جب کہ تیسری فصل کو شامل کرنے یا شامل نہ کرنے کا تعلق خود مصنف مشکوٰۃ کی ذات سے ہے اگر وہ کسی باب کو تیسری فصل سے خالی رکھیں تو اس کو بیان کرنا غیر ضروری سی بات ہوگی اور یہ بات ہے بھی کہ مصنف مشکوٰۃ نے اس کو بیان کرنے کا معمول نہیں رکھا ہے، جیسا کہ آگے آنے والے ایک باب باب تغطیۃ الاونی سے واضح ہوگا کہ اس باب میں منصف مشکوٰۃ نے تیسری فصل کو شامل نہیں کیا ہے اور یہ بیان نہیں کیا کہ اس باب میں تیسری فصل نہیں ہے۔

4161Mishkaat-al-Masabih

حالت اضطرار کا مسئلہ

عن الفجيع العامري أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : ما يحل لنا من الميتة ؟ قال : ما طعامكم ؟ قلنا : نغتبق ونصطبح قال أبو نعيم : فسره لي عقبة : قدح غدوة وقدح عشية قال : ذاك وأبي الجوع فأحل لهم الميتة على هذه الحال . رواه أبو داود

حضرت فجیع عامری ؓ سے روایت ہے کہ وہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ (حضرت! یہ بتائیں کہ) ہمارے لئے مردار میں سے کیا حلال ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ (پہلے یہ بتاؤ کہ) تم لوگوں کو کھانا کس مقدار میں ملتا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم کو ایک پیالہ دودھ کا شام کو اور ایک پیالہ دودھ کا صبح کو ملتا ہے۔ (حدیث کے راوی ابونعیم کہتے ہیں کہ (میرے استاد و شیخ حضرت عقبہ نے نغتبق اور نصطبح کی) یہی وضاحت کی ہے کہ ایک پیالہ دودھ کا صبح کو اور ایک پیالہ دودھ شام کو۔ (بہرحال رسول کریم ﷺ نے (فجیع کا جواب کر) فرمایا کہ کھانے کی یہ مقدار اپنے باپ کی قسم، بھوک کو واجب کرتی ہے یعنی صبح و شام محض ایک ایک پیالہ دودھ کا ملنا بھوک کو ختم کر کے انسانی زندگی کی بقا کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس صورت میں ان کے لئے مردار کو حلال قرار دیا۔ (ابوداؤد) تشریح غذا، انسان کی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے ایک ضروری چیز ہے انسان کو غذا کا ملنا یا اتنی مقدار میں ملنا جس سے نہ صرف یہ کہ بھوک کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو بلکہ زندگی کا وجود بھی خطرہ میں پڑجائے ایک ایسی صورت حال پیدا کردیتا ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں حالت اضطرار سے تعبیر کیا جاتا ہے، حالت اضطرار میں شریعت یہ اجازت دیتی ہے کہ انسان اگر کسی حرام چیز کو کھا کر اپنی زندگی بچا سکتا ہے تو وہ کھا لینی چاہئے، چناچہ سائل نے یہ سوال کر کے ہمارے لئے مردار میں سے کیا حلال ہے؟ اصل میں یہی معلوم کرنا چاہا تھا کہ وہ کون سی صورت حلال ہے جس پر حالت اضطرار کا اطلاق کیا جائے کہ اس صورت میں مردار یا کسی بھی حرام چیز کو کھایا جاسکتا ہے، یعنی اضطرار کی حد کیا ہے اور بھوک کی نوعیت کس درجہ کی ہو کہ جس کی وجہ سے حرام چیز کا کھانا مباح ہوسکتا ہے؟ اگرچہ سائل نے سوال کے لئے جو اسلوب و الفاظ اختیار کئے ہیں ان کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے گویا مردار کے کھانے کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ مردار چیزوں میں سے کونسی چیز یا یہ کہ اس کی کونسی مقدار ایسی ہے جس کو کھانا ہمارے لئے حلال ہے لیکن حقیقت میں نہ تو سائل کا مقصد یہ تھا اور نہ جواب اس کا دیا گیا ہے بلکہ مقصود یہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا یعنی حالت اضطرار کے بارے میں سوال کرنا چناچہ آنحضرت ﷺ نے جواب بھی اسی کے بارے میں دیا۔ علاوہ ازیں یہ عبارت ما یحل لنا المیتۃ کہ جس سے مردار کے بارے میں سوال کرنا معلوم ہوتا ہے، ابوداؤد کی ہے، لیکن طبرانی وغیرہ نے اس روایت کو جس طرح نقل کیا ہے اس میں یہ عبارت (یحل میں یاء کے پیش کے ساتھ) یوں ہے ما یحل لنا المیتۃ یعنی وہ کون سی حالت ہو جو ہمارے لئے مردار کے کھانے کو حلال قرار دیتی ہے! یہ عبارت سائل کے اصل مقصود کو زیادہ صاف اسلوب میں واضح کرتی ہے۔ تم لوگوں کو کھانا کس مقدار میں ملتا ہے؟ اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ تمہیں غذا کے نام پر کوئی چیز بھی کسی بھی مقدار میں میسر نہ ہو، اس صورت میں کوئی الجھاؤ ہی نہیں ہے، جب پیٹ میں ڈالنے کے لئے کوئی بھی چیز کسی بھی مقدار میں میسر نہ ہو تو حالت اضطرار بالکل طور پر متحقق ہوجاتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ غذا کے نام پر کوئی نہ کوئی چیز کسی نہ کسی مقدار میں تمہیں میسر ہو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ اس مقدار کی نوعیت کیا ہے کہ اس کے مطابق حالت اضطرار کے بارے میں فیصلہ ہوگا لہٰذا تم بتاؤ کہ اگر تمہیں کھانے کی قسم سے کوئی چیز دستیاب ہوتی ہے اس کی مقدار کیا ہے، تاکہ اس مقدار کو معلوم کر کے یہ اندازہ کیا جاسکے کہ اس کے ذریعہ تمہارے پیٹ کو کتنا سہارا مل سکتا ہے اور تمہاری بھوک، اضطرار کی حد کو پہنچی ہے یا نہیں؟ آنحضرت ﷺ نے یہ سوال کرتے وقت مخاطب کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کر کے گویا جماعت کو مخاطب کیا جب کہ سوال کرنے والے وہی ایک شخص (یعنی فجیع عامری) تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ جو حکم بیان کرنا چاہتے تھے وہ اگرچہ ایک شخص کے سوال کے پیش نظر تھا مگر حقیقت میں اس کا تعلق سب ہی لوگوں سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس طرح اس حکم کی عمومی حیثیت کو واضح فرمایا یہی وجہ ہے کہ فجیع بھی اپنے جواب میں جمع کا صیغہ لائے یعنی یوں کہا کہ ہم نے عرض کیا۔۔۔۔۔ الخ۔ نصطبح کا مادہ اشتقاق صبوح ہے صبح کے معنی صبح کے کھانے پینے کے ہیں اسی طرح نغتبق کا مادہ اشتقاق غبوق ہے جس کے معنی شام کے کھانے پینے کے ہیں یہاں روایت میں ان دونوں الفاظ سے مراد صبح و شام ایک ایک پیالہ دودھ پینا لیا گیا ہے جیسا کہ حدیث کے ایک راوی ابونعیم نے حضرت عقبہ ؓ سے یہ وضاحت نقل کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ابونعیم کی نقل کردہ وضاحت حضرت عقبہ ؓ ہی سے سماعت پر مبنی ہو یا دوسری روایتوں میں بھی یہ وضاحت منقول ہو، بہر صورت راوی کی یہ وضاحت مستند بھی ہے اور لائق اعتبار بھی۔ آنحضرت ﷺ کا اپنے باپ کی قسم کھانا بظاہر ایک تعجب خیز امر ہے جس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ آپ ﷺ کا یہ قسم کھانا اصل میں اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت نازل نہیں ہوئی تھی، یا یہ کہ پہلے اہل عرب عام طور پر چونکہ اسی قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے اور ایسی قسموں کے الفاظ ان کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے اس لئے اس عادت کے مطابق آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے بھی یہ قسم اضطرارًا (یعنی بلا قصد و ارادہ) نکل گئی۔ آپ ﷺ نے اس صورت میں ان کے لئے مردار کو حلال قرار دیا۔ اس صورت سے مراد صبح و شام ایک ایک پیالہ دودھ پینے کی صورت ہے یعنی گویا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ غذا کی اتنی تھوڑی سی مقدار تم لوگوں کو یقینا کافی نہیں ہوگی اور تم سب بھوکے رہے ہوگئے اس لئے یہ صورت حالت اضطرار کی ہے جس میں مردار کھانا حلال ہے لہٰذا تم مجبورا مردار بھی کھا کر اپنی جان بچا سکتے ہو۔

4162Mishkaat-al-Masabih

حالت اضطرار کا مسئلہ

وعن أبي واقد الليثي أن رجلا قال : يا رسول الله إنا نكون بأرض فتصيبنا بها المخصمة فمتى يحل لنا الميتة ؟ قال : ما لم تصطبحوا وتغتبقوا أو تحتفئوا بها بقلا فشأنكم بها . معناه : إذا لم تجدوا صبوحا أو غبوقا ولم تجدوا بقلة تأكلونها حلت لكم الميتة . رواه الدارمي

اور حضرت ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہم (کبھی ایسی زمین میں (یعنی ایسی جگہ پہنچ جاتے) ہیں کہ (یہاں ہمیں کھانا کو کچھ نہیں ملتا جس کی وجہ سے) ہم وہاں مخمصہ (بھوک) کی حالت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اس صورت میں مردار کھانا ہمارے لئے کب حلال ہوجاتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا جب کہ تم صبح تک یا شام تک (کھانے پینے کی کوئی چیز) نہ پاؤ یا اس زمین (یعنی اس جگہ کہ جہاں تم ہو) تو تمہاری حالت مردار سے متعلق ہوگی یعنی ایسی صورت پیش آنے پر مردار کھانا تمہارے لئے حلال ہوگا (اب اس کے بعد راوی حدیث کا ما حصل بیان کرتے ہیں کہ) اس ارشاد گرامی ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم دن بھر میں اور رات بھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پاؤ اسی طرح تمہیں ترکاری کی قسم سے بھی کوئی چیز (یہاں تک کہ گھاس اور درخت کے پتے بھی) میسر نہ ہوں جس کو تم کھا سکو (اور اپنی جان بچا سکو) تو اس صورت میں تمہارے لئے مردار حلال ہوگا۔ (دارمی) تشریح دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے کیوں کہ پہلی حدیث میں تو صبح و شام کو دودھ ملنے کی صورت کو بھی بھوک اور مخمصہ یعنی اضطرار کی حالت پر محمول کیا اور مردار کھانے کو مباح قرار دیا جب کہ اس دوسری حدیث میں حالت اضطرار کے پائے جانے کو اس امر کے ساتھ مشروط کیا کہ صبح و شام تک کھانے پینے کی کوئی بھی چیز میسر نہ ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ اس دائرے کو اتنا تنگ کیا کہ اگر ترکاری و سبزی اور اس کی مانند چیزیں جیسے گھاس اور درخت کے پتے وغیرہ ہی مہیا ہوجائیں اور ان کو پیٹ میں ڈالا جاسکے تو اس صورت میں حالت اضطرار متحقق نہیں ہوگی اور مردار کھانا مباح نہیں ہوگا۔ ان احادیث کے باہمی تعارض و اختلاف ہی کی بنا پر علماء کے مسلک و اقوال میں بھی اختلاف پیدا ہوا ہے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک تو یہ ہے کہ سدرمق یعنی جان بچانے کی خاطر از قسم مردار کوئی چیز کھانا اس صورت میں حلال ہوگا جب کہ بھوک کی وجہ سے جان کی ہلاکت کا خوف پیدا ہوجائے اور اسی قدر کھانا حلال ہوگا جس سے بس جان بچ جائے۔ حضرت امام شافعی کا ایک قول بھی یہی ہے، یہ مسلک و قول بظاہر سختی و تنگی پر محمول ہے، لیکن حقیقت میں احتیاط وتقویٰ اسی میں ہے۔ اس کے برخلاف حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور ایک قول کے مطابق حضرت امام شافعی، کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اتنی مقدار میں کھانا نہ پائے جس سے وہ سیر ہوجائے اور اس کی طبعی خواہش حاجت مند و متقاضی ہو تو اس کے لئے مردار کھانا حلال ہوگا، تاآنکہ وہ اپنی حاجت طبع پوری کرے، یعنی وہ سیر ہوجائے اور اس مسلک میں زیادہ نرمی و آسانی ہے۔ حاصل یہ کہ حالت، اضطرار میں از قسم مردار کوئی چیز کھانے کے سلسلے میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک تو سدرمق کا اعتبار ہے، کہ مضطر بس اتنا مردار کھا سکتا ہے جس سے جان بچی رہے جب کہ دوسرے آئمہ کے نزدیک حصول قوت یعنی شکم سیر ہو کر کھانے کا اعتبار ہے ان ائمہ کی دلیل پہلی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس حالت میں مردار کھانے کو حلال قرار دیا، جب کہ سائل کو ایک پیالہ دودھ دن میں اور ایک پیالہ دودھ رات میں میسر ہوتا تھا اور دن و رات میں ملنے والا ایک ایک پیالہ دودھ بلا شک و شبہ سدرمق یعنی جان بچانے کی حد تک کافی ہوسکتا ہے، اگرچہ اس کے ذریعہ شکم سیری نہ ہوسکتی ہو، لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اضطرار کی حد کی وجہ سے مردار کھانا مباح ہوجاتا ہے اصل میں شکم سیری کا حاصل نہ ہونا ہے اور بقدر حصول قوت مردار کھانا حلال ہے۔ ان ائمہ کے برخلاف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ) کے نزدیک جہاں تک پہلی حدیث کا تعلق ہے کہ جس سے دوسرے آئمہ استدلال کرتے ہیں اس کے بارے میں ان کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں صبح و شام ایک ایک پیالہ دودھ پوری قوم کو ملتا تھا، نہ کہ ایک ایک شخص ایک ایک پیالہ دودھ پاتا تھا، چناچہ لفظ طعامکم میں جمع کا صیغہ اس بات کی واضح دلیل ہے۔ اسی طرح حضرت فجیع عامری کا سوال کرنا محض اپنی ذات کی طرف سے نہیں تھا، بلکہ درحقیقت انہوں نے اپنی پوری قوم کی طرف سے سوال کیا تھا اسی لئے انہوں نے یہ الفاظ کہے ما یحل لنا (ہمارے لئے مردار میں سے کیا حلال ہے) انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ میرے لئے مردار میں سے کیا حلال ہے؟ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک کثیر جماعت کے لئے محض ایک پیالہ دودھ سدرمق یعنی جان بچانے کے لئے بھی ہرگز کافی نہیں ہوسکتا اور نہ وہ کسی ایک کی بھی بھوک کو ذرا برابر بھی ختم کرنے میں مددگار بن سکتا ہے، ہاں اگر ہر ایک کو ایک ایک پیالہ دودھ ملے تو وہ بیشک جان بچانے کے بقدر غذا بن سکتا ہے۔