لباس کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 140 · 205 hadiths · Page 8 of 11

4342Mishkaat-al-Masabih

روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت

وعن عبد الله بن مغفل قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الترجل إلا غبا . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي .

اور حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ ایک روز ناغہ دے کر کنگھی کی جائے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ) تشریح قاضی کہتے ہیں، کہ غب کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کام ایک دن کیا جائے اور ایک دن ترک کیا جائے، لہٰذا حدیث کا یہ مطلب ہوا کہ کنگھی ہر روز نہ کی جائے بلکہ ایک دن کا ناغہ کر کے کی جائے، لیکن یہ ممانعت محض نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور اس سے ضرورت و بےضرورت ہر روز کنگھی کرنے کا اہتمام کرنے اور اس کو بطور عادت اختیار کرلینے کی ممانعت مراد ہے کیونکہ یہ زینت و آرائش میں مبالغہ اور بےجا تکلف و اہتمام کرنے کی صورت ہے۔ واضح رہے کہ لفظ غب جب ملاقات کے سیاق میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے زرغبا تزدد حبا تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ ملاقات کی جائے اور جب یہ لفظ بخار کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس سے ایک دن کا ناغہ دے ہوتا ہے۔ ہر روز کنگھی کرنے کی ممانعت میں سر کے بالوں اور داڑھی دونوں میں کنگھی کرنا شامل ہے، لہٰذا جو لوگ ہر وضو کے بعد کنگھی کرتے ہیں اس کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح احیاء العلوم میں امام غزالی کے علاوہ اور کسی نے بھی اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے، بلکہ شیخ ولی الدین العرقی کے قول کے مطابق امام غزالی نے احیاء العلوم میں اس حدیث کے علاوہ بھی بعض ایسی احادیث نقل کی ہیں جن کی کوئی اصل ثابت نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت صرف مرد کے لئے ہے یا مرد عورت دونوں کے لئے؟ تو بظاہر یہ بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ ممانعت صرف مردوں کے حق میں ہے کیونکہ عورتوں کے لئے زینت و آرائش کرنا مکروہ نہیں ہے تاہم بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس ممانعت کا تعلق مرد و عورت دونوں سے ہے لیکن وہ حضرات بھی یہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے حق میں یہ ممانعت ہلکے درجے کی ہے کیونکہ ان کے لئے زینت و آرائش کا دائرہ مردوں کی بہ نسبت بہت وسیع ہے۔

4343Mishkaat-al-Masabih

زیادہ عیش وآرام کی زندگی اختیار کرنا میانہ روی کے خلاف ہے

وعن عبد الله بن بريدة قال قال رجل لفضالة بن عبيد ما لي أراك شعثا ؟ قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهانا عن كثير من الإرفاه قال مالي لا أرى عليك حذاء ؟ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا أن نحتفي أحيانا . رواه أبو داود .

حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت فضالہ بن عبیدہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ میں آپ کو پراگندہ بال (یعنی آپ کے بال بغیر کنگھی کئے ہوئے) دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ عیش و آرام کی زیادہ چیزیں اختیار کرنے سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے (اور کنگھی و تیل کا زیادہ استعمال بھی اسی میں شامل ہے) اس شخص نے پھر یہ پوچھا کہ کیا بات ہے کہ میں آپ کے پیروں میں جوتیاں نہیں دیکھ رہا ہوں! انہوں نے جواب دیا کہ رسول کریم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم کبھی کبھی ننگے پیر بھی پھیرا کریں۔ (ابو داؤد) تشریح عیش و آرام کی زیادہ چیزیں اختیار کرنے سے اجتناب کرنے اور کبھی کبھی ننگے پیر پھرنے کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح سے ایک تو مزاج و طبیعت میں تواضع و انکسار پیدا ہوتا ہے دوسری طرف اس ریاضت و مشقت کے ذریعہ نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور اس کا ایک تو بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حالات و معیشت کی سختی و تنگی کے وقت وہ ریاضت و مشقت کام آتی ہے اور سختی و تنگی کو انگیز کرنے کی ہمت و توانائی عطا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ آنحضرت ﷺ بالوں میں تیل بھی لگاتے تھے اور کنگھی بھی کرتے تھے بلکہ اس کو اچھا سمجھتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی حکم و ترغیب کے ذریعہ اس پر عمل کراتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ بعض حاملین زہد و ریاضت کو اس کے خلاف بھی رکھتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص آپ ﷺ کے سامنے ان چیزوں کو ترک کرتا تو آپ ﷺ اس کو ٹوکتے نہیں تھے بلکہ ان چیزوں کو ترک کرنے کا حکم بھی فرماتے تھے! اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس سلسلے میں اصل کراہت جس بات میں ہے وہ یہ ہے کہ عیش و راحت اور خوشحالی و آسودگی میں حد اعتدال سے تجاوز کیا جائے یہاں تک کہ نفس تن آسانی کا خوگر ہوجائے اور تیل لگانے و کنگھی کرنے اور زینت و آرائش میں ایسا انہماک ظاہر کرے جو دین بیزار اور عیش و عشرت کے دلدادگان کا شیوہ ہے لہٰذا جب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ زیب وزینت کے ذرائع اختیار نہ کرو اور اپنے رہن سہن میں سادگی و انکساری اور بےتکلفی بلکہ زہد و ریاضت کو اختیار کرو تو اس سے یہ مراد مطلق نہیں ہوتی کہ میلے کچیلے رہ کر پاکیزگی و نظافت کو ترک کردو اور اپنے کو اول جلول بنا کر تہذیب و شائستگی اور خوش ہیتی کا مذاق اڑاؤ۔ بلکہ اس حکم کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بہر صورت اعتدال اور میانہ روی کو ملحوظ رکھو! کسی بھی شرعی حکم کا یہ منشا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ رہن سہن کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو تہذیب و شائستگی کے خلاف اور نفاست و پاکیزگی کے منافی ہو کیونکہ انسان کو مہذب و شائستہ بنانا اسلام کا ایک مقصد اور تہذیب و پاکیزگی، دین کا ایک جزو ہے جیسا آگے آنے والی حدیث میں فرمایا گیا ہے۔

4344Mishkaat-al-Masabih

بالوں کو اچھی طرح رکھنے کا حکم

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من كان له شعر فليكرمه . رواه أبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص سر پر بال رکھے ہوئے ہو اس کو چاہئے کہ اپنے بالوں کو اچھی طرح رکھے یعنی اس کو دھویا کرے ان میں تیل لگایا کرے، کنگھا کیا کرے اور اول جلول شخص کی طرح ان کو بکھرا ہوا نہ رہنے دے کیونکہ نفاست و صفائی اور خوش ہئیتی ایک پسندیدہ محبوب چیز ہے۔ (ابوداؤد )

4345Mishkaat-al-Masabih

بالوں کو اچھی طرح رکھنے کا حکم

وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أحسن ما غير به الشيب الحناء والكتم . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي .

اور حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن چیزوں کے ذریعہ بڑھاپے یعنی بالوں کی سفیدی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ان میں سب سے بہتر مہندی اور وسمہ ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح کتم اور بعض حضرات کے قول کے مطابق کتم ایک گھاس کا نام ہے جو وسمہ کے ساتھ ملا کر بالوں پر خضاب کرنے کے کام میں لائی جاتی ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کتم اصل میں وسمہ ہی کو کہتے ہیں بہرحال حدیث کے مفہوم کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے کہ آیا یہ مراد ہے کہ مہندی اور وسمہ دونوں کو ملا کر خضاب کیا جائے یا مراد ہے کہ صرف مہندی یا صرف وسمہ کا خضاب کیا جائے؟ چناچہ نہایہ کے قول کے مطابق بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں صرف کتم، یا صرف مہندی کا خضاب کرنا مراد ہے کیونکہ اگر کتم کو مہندی کے ساتھ ملایا جائے تو اس سے خضاب، سیاہ ہوجاتا ہے اور صحیح روایات میں سیاہ خضاب کی ممانعت مذکور ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ یہ اصل میں۔ بالحناء والکتم ہے (یعنی حرف واؤ کے بجائے او ہے) جس کا مطلب ہے کہ خضاب کرنے والے کو اختیار ہے کہ چاہئے مہندی کا خضاب کرے اور چاہئے کتم کا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت متعدد طریق و اسانید سے منقول ہے اور سب نے بالحناء والکتم ہی نقل کیا ہے اگرچہ اس سے مذکورہ مفہوم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ حرف و مفہوم کے اعتبار سے حرف او کے معنی میں ہوسکتا ہے۔ بعض حواشی میں یہ لکھا ہے کہ صرف مہندی کا خضاب سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور صرف کتم کا خضاب سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ بعض حضرات کے قول سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ خالص کتم کا خضاب سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اور اگر کتم کو مہندی کے ساتھ ملا کر خضاب کیا جائے تو سرخ مائل بہ سیاہی رنگت پیدا ہوجاتی ہے اس صورت میں اگر یہ کہا جائے کہ حدیث میں کتم اور مہندی دونوں کا مرکب خضاب مراد ہے تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہوگا، چناچہ آگے حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت آرہی ہے (نمبر ٣٦) اس سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے ملاعلی قاری نے یہ لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کتم اور مہندی کے مرکب خضاب کی مختلف نوعیت ہوتی ہے اگر کتم کا جزء غالب ہو یا کتم اور مہندی دونوں برابر ہوں تو خضاب سیاہ ہوتا ہے اور اگر مہندی کا حصہ غالب ہو تو خضاب سرخ ہوتا ہے۔

4346Mishkaat-al-Masabih

سیاہ خضاب کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يكون قوم في آخر الزمان يخضبون بهذا السواد كحواصل الحمام لا يجدون رائحة الجنة . رواه أبو داود والنسائي .

اور حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ آخر زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو کبوتر کے پوٹے کی مانند اس سیاہی کے ذریعہ خضاب کریں گے، یعنی جو خضاب استعمال کریں گے وہ ایسا ہوگا جیسے بعض کبوتروں کے پوٹے سیاہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جنت کی بو بھی نہیں پائیں گے۔ (ابو داؤد، و نسائی ) تشریح اس سیاہی سے مراد خالص سیاہی ہے اس صورت میں وہ سیاہی مستثنیٰ ہوگی جو مائل بہ سرخی ہو جیسے کتم اور مہندی کے خضاب کا رنگ ہوتا ہے۔ جنت کی بو نہیں پائیں گے۔ یہ دراصل میں سیاہ خضاب کرنے والے کے حق میں زجر و تہدید کو زیادہ شدت کے ساتھ بیان کرنا ہے یا یہ ارشاد گرامی ﷺ اس شخص پر محمول ہے جو سیاہ خضاب کا نہ صرف استعمال کرے بلکہ اس کو جائز بھی سمجھے! بعض خواشی میں یہ لکھا ہے کہ ایسے لوگ اگرچہ جنت میں داخل ہوں گے لیکن اس کی بو یعنی اس کے کیف وسر ور سے محفوظ و بہرہ مند نہیں ہوں گے۔ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ موقف میں جنت سے جو فرحت بخش مہک آئے گی اور جس سے مسلمان محفوظ و مسرور ہوں گے اس سے مذکورہ لوگ محروم رہیں گے۔ بہرحال حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ سیاہ خضاب حرام ہے

4347Mishkaat-al-Masabih

زرد خضاب کرنا جائز ہے

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يلبس النعال السبتية ويصفر لحيته بالورس والزعفران وكان ابن عمر يفعل ذلك . رواه النسائي . ( جيد )

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دباغت دیئے ہوئے اور بغیر بال کے چمڑے کی پاپوش پہنتے تھے اور اپنی ریش مبارک پر روس (ایک گھاس جو یمن کے علاقہ میں ہوتی تھی اور زعفران کے ذریعہ زرد رنگ چڑھاتے تھے نیز حضرت ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے (یعنی مذکورہ پاپوش پہنتے اور مذکورہ خضاب استعمال کرتے )۔ (نسائی) تشریح اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ اپنی ریش مبارک پر خضاب کرتے تھے جب کہ کتاب اللباس میں حضرت انس ؓ کی جو روایت گزری ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی خضاب کا استعمال کیا چناچہ ان روایتوں کے درمیان مطابقت کی جو صورت ہے وہ اسی جگہ (حضرت انس ؓ کی روایت کے ضمن میں) بیان کی جا چکی ہے۔

4348Mishkaat-al-Masabih

زرد خضاب کرنا جائز ہے

وعن ابن عباس قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما أحسن هذا . قال فمر آخر قد خضب بالحناء والكتم فقال هذا أحسن من هذا ثم مر آخر قد خضب بالصفرة فقال هذا أحسن من هذا كله . رواه أبو داود .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا یہ خضاب کتنا اچھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک شخض گزرا جس نے مہندی اور وسمہ کا خضاب لگا رکھا تھا جو خالص سیاہ نہیں تھا آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ خضاب پہلے سے بھی بہت اچھا ہے اس کے بعد ایک اور شخص گزرا جس نے زرد خضاب لگایا تھا آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ ان سب سے زیادہ اچھا ہے۔ (ابوداؤد )

4349Mishkaat-al-Masabih

خضاب کرنے کا حکم

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود . رواه الترمذي . ورواه النسائي عن ابن عمر والزبير . ( حسن )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بڑھاپے (یعنی بالوں کی سفیدی) کو خضاب کے ذریعہ بدل ڈالو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو جو خضاب نہیں کرتے (ترمذی) اور نسائی نے اس روایت کو ابن عمر ؓ اور زبیر (بعض نسخوں میں ابن زبیر ہے) سے نقل کیا ہے۔ تشریح احتمال ہے کہ حدیث مذکورہ حکم خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ہو جو برسر جہاد ہوں تاکہ اس کے ذریعہ دشمنوں پر مسلمانوں کی طاقت کا اظہار ہو اور وہ (دشمن) خوف میں مبتلا ہوں۔

4350Mishkaat-al-Masabih

بالوں کی سفیدی نورانیت کی غماز ہوتی ہے

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تنتفوا الشيب فإنه نور المسلم من شاب شيبة في الإسلام كتب الله له بها حسنة وكفر عنه بها خطيئة ورفعه بها درجة . رواه أبو داود .

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سفید بالوں کو نہ چنو کیونکہ بڑھاپا (یعنی بالوں کا سفید ہونا ) مسلمانوں کے لئے نورانیت کا سبب ہے، جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے یعنی جب کسی مسلمان کا ایک بال سفید ہوتا ہے تو اس کی وجہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کی ایک خطا کو محو کردیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح بڑھاپے کی نورانیت کا سبب اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ بڑھاپا اصل میں وقار کا مظہر ہے، جیسا کہ تیسری فصل میں آنے والی ایک روایت سے واضح ہوگا کہ بنی آدم میں سب سے پہلے شخص پر سفید بالوں کی صورت بڑھاپا آیا وہ حضرت ابراہیم علیہ والسلام تھے چناچہ جب انہوں نے پہلے پہل اپنی داڑھی میں سفید بال کی صورت میں بڑھاپا دیکھا تو بار گاہ کبریائی میں عرض کیا کہ میرے پروردگار! یہ کیا ہے؟ جواب آیا کہ یہ وقار ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ خداوند ا! میرے وقار کو زیادہ کر۔ وقار، دراصل ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو گناہ فسق اور بےحیائی کی باتوں سے روکتا ہے اور توبہ و طاعات کی طرف مائل کرتا ہے، اس اعتبار سے یہ وصف انسان میں اس نور کو پیدا کرتا ہے جو میدان حشر میں ظلمت و تاریکیوں کو چیرتا ہوا آگے آگے چلے گا، جیسا کہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔ آیت ( يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ) 57۔ الحدید 12) لہٰذا اس توجیہ کی روشنی میں بڑھاپے کے نور سے قیامت کے دن کا نور مراد ہے چناچہ ایک روایت میں اس کی تفریح بھی ہے اور اگر نورانیت سے شکل و صورت کی خوشنمائی و دل کشی اور باطن کی صفائی نیک سیرتی مراد ہو جو اس دنیا میں بوڑھوں کو حاصل ہوتی ہے تو یہ بھی بعید از حقیقت نہیں ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ سفید بالوں کو چننا مکروہ ہے۔

4351Mishkaat-al-Masabih

بالوں کی سفیدی نورانیت کی غماز ہوتی ہے

وعن كعب بن مرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة . رواه الترمذي والنسائي . ( حسن )

اور حضرت کعب بن مرہ ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوتا ہے اس کا بڑھاپا قیامت کے دن نور کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ (ترمذی، نسائی ) تشریح اس موقعہ پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب بڑھاپا (یعنی بالوں کا سفید ہونا) دنیا و آخرت دونوں جگہ نورانیت کا سبب ہے تو خضاب کے ذریعہ اس کو ظاہر نہ ہونے دینا اور اس کو تبدیل کرنا شریعت نے جائز کیوں قرار دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خضاب کی مشروعیت بھی دراصل ایک دینی مصلحت کے سبب سے ہے اور وہ یہ کہ اس کے ذریعہ دشمنوں کے سامنے قوت وہیبت کا اظہار ہوتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو ضعیف و نا تو اں جان کر دلیر نہ ہوں اس صورت میں پھر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ مصلحت کی خاطر خضاب کرنا مشروع ہے تو اسی مصلحت کے لئے بالوں کو جڑ سے اکھاڑنا پڑتا ہے جو اول تو تکلیف کا باعث ہے دوسرے بدہئیی اور بدنمائی کا سبب بھی بنتا ہے جب کہ خضاب کا لگانا خوش ہئیتی میں اضافہ کرتا ہے لہذا اخضاب کرنے اور بالوں کو چننے میں بڑا فرق ہے

4352Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے سر مبارک کے بال

وعن عائشة قالت كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء واحد وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة . رواه الترمذي والنسائي .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول کریم ﷺ ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے یعنی پانی سے بھرا ہوا ایک ہی برتن ہم دونوں کے درمیان رکھا رہتا تھا اور آنحضرت ﷺ کے سر کے بال جمہ کے اوپر اور وفرہ کے نیچے ہوتے تھے ( نسائی) تشریح سر کے بالوں کو عربی میں تین ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے ایک تو جمہ دوسرے وفرہ اور تیسرے لمہ۔ چناچہ اگر کسی شخص کے سر پر اتنے لمبے بال ہوں جو کانوں تک پہنچ جائیں تو ان بالوں کو جمہ کہتے ہیں اور اگر کان کے لوؤں تک بال ہوں تو ان کو وفرہ کہتے ہیں اور جو بال کان کی لو اور کاندھے کے بین بین ہوتے ہیں یعنی کان کی لو سے نیچے تھے جن کو لمہ کہتے ہیں ویسے بعض مواقع پر جمہ مطلق بالوں کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ شمائل ترمذی میں یہ منقول ہے کہ وکانت جمۃ تضرب شحمۃ اذنیہ۔

4353Mishkaat-al-Masabih

مردوں کے بالوں کی زیادہ لمبائی ناپسندیدہ

وعن ابن الحنظلية رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم نعم الرجل خريم الأسدي لولا طول جمته وإسبال إزراه فبلغ ذلك خريما فأخذ شفرة فقطع بها جمته إلى أذنيه ورفع إزراه إلى أنصاف ساقيه . رواه أبو داود .

اور حضرت ابن حنظلہ جو نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص ہیں روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ خریم اسدی اچھا آدمی ہے اگر اس کے بال لمبے نہ ہوں اور اس کا تہ بند لٹکتا ہوا نہ ہو۔ جب خریم کو آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا علم ہوا تو انہوں نے ایک استرا لے کر اپنے بالوں کو کانوں کی لوؤں تک کاٹ ڈالا اور اپنے تہبند کو آدھی پنڈلیوں تک کرلیا!۔ (ابوداؤد )

4354Mishkaat-al-Masabih

مردوں کے بالوں کی زیادہ لمبائی ناپسندیدہ

وعن أنس قال كانت لي ذؤابة فقالت لي أمي لا أجزها كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمدها ويأخذها . رواه أبو داود .

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میرے سر پر لمبے بال تھے میری والدہ کاٹنے سے منع کرتی تھیں کیونکہ آپ ﷺ ان بالوں کو پکڑتے تھے (لہٰذا میں برکت حاصل کرنے کے لئے ان بالوں کو یونہی چھوڑوں گی۔ (ابوداؤد )

4355Mishkaat-al-Masabih

اگر بالوں کی صفائی ستھرائی میں کوئی امر مانع ہو تو سر کو منڈا دینا چاہئے

وعن عبد الله بن جعفر أن النبي صلى الله عليه وسلم أمهل آل جعفر ثلاثا ثم أتاهم فقال لا تبكوا على أخي بعد اليوم . ثم قال ادعوا لي بني أخي . فجيء بنا كأنا أفرخ فقال ادعوا لي الحلاق فأمره فحلق رؤوسنا . رواه أبو داود والنسائي .

اور حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جعفر کی اولاد کو تین دن کی مہلت دی یعنی جب حضرت جعفر طیار ؓ کی شہادت کی خبر آئی تو آپ ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک رونے دھونے اور سوگ کرنے کی اجازت دی اور اس عرصہ میں آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف نہیں لائے، پھر آپ ﷺ (ان لوگوں کو تسلی دلاسہ دینے کے لئے) ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ بس آج کے بعد میرے بھائی (جعفر) پر مت رونا۔ پھر فرمایا کہ میرے بھتیجوں (یعنی عبداللہ، عون اور محمد) کو (جو جعفر کے لڑکے ہیں) میرے پاس لے کر آؤ۔ (چنانچہ ہم سب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر لائے گئے اور اس وقت ہم چوزوں کی طرح یعنی بہت کمسن تھے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ نائی کو بلا کر میرے پاس لاؤ۔ (جب نائی آگیا تو) آپ ﷺ نے اس کو (ہمارے بال) مونڈنے کا حکم دیا اور اس نے ہمارے سروں کو مونڈا! (ابوداؤد ) تشریح حضرت جعفر ؓ ابوطالب کے بیٹے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حقیقی بھائی تھے۔ اس اعتبار سے وہ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی ہوئے۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نوحہ اور جزع فزع کے بغیر میت پر رونا، غمگین و افسردہ ہونا اور رنج و الم کا اظہار کرنا تین دن تک جائز ہے، تین دن کے بعد نہ تو رونا دھونا اور سوگ کرنا جائز ہے اور نہ تعزیت کرنا رواہ ہے۔ حج وعمرہ سے فراغت کے بعد تو سر کو منڈانا افضل ہے لیکن اس کے علاوہ بال رکھنا ہی افضل ہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے حضرت جعفر ؓ کے لڑکوں کے سر مونڈنے کا حکم اس لئے دیا کہ ان کی ماں یعنی اسماء بنت عمیس شوہر کی دائمی جدائی کے سخت ترین صدمہ سے دوچار تھیں، ان کو اپنی اس مصیبت سے اتنی فرصت کہاں ملتی کہ وہ بچوں کے سر کے بالوں کی صفائی ستھرائی اور تیل کنگھے کا خیال رکھتیں اس صورت میں ان کے سروں میں جوئیں وغیرہ پڑجانے کا خدشہ تھا لہٰذا آپ ﷺ نے ان کے بالوں کو منڈوا دینا ہی بہتر سمجھا۔

4356Mishkaat-al-Masabih

عورت کی ختنہ کا ذکر

وعن أم عطية الأنصارية أن امرأة كانت تختن بالمدينة . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم لا تنهكي فإن ذلك أحظى للمرأة وأحب إلى البعل . رواه أبو داود وقال هذا الحديث ضعيف وراويه مجهول .

اور حضرت ام عطیہ انصاری ؓ کہتی ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جو (عورتوں کی) ختنہ کیا کرتی تھی (جیسا کہ اس زمانہ میں عورتوں کی ختنہ کا بھی رواج تھا) نبی کریم ﷺ نے (ایک دن) اس عورت سے فرمایا کہ ٹنہ کو زیادہ مت کاٹا کرو (بلکہ تھوڑا سا اوپر سے کاٹ دیا کرو) کیونکہ یہ (یعنی زیادہ نہ کاٹنا) عورت کے لئے بھی بہت لذت بخش ہوتا ہے اور مرد کو بھی بہت پسندید ہوتا ہے (یعنی اگر اس کو زیادہ کاٹ دیا جائے تو جماع میں نہ عورت کو لذت ملتی ہے اور نہ مرد کو) ابوداؤد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کے راوی مجہول ہیں۔ تشریح وراویہ مجہول (اور اس کے راوی مجہول ہیں) میں جس طرح یہ احتمال ہے کہ یہاں جنس راوی مراد ہے یعنی اس حدیث کے سب راوی مجہول ہیں، اسی طرح یہ بھی احتمال ہے کہ اس جملہ سے اصل میں یہ مراد ہے کہ کوئی ایک راوی مجہول ہے جیسا کہ ایک دوسرے صحیح نسخے میں منقول ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے وفی روایۃ مجہول بہرحال اس روایت کو طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ اور حاکم نے اپنی مستدرک میں ضحاک ابن قیس سے نقل کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں احفضنی ولاتنہ کی فانہ انضر للزوجۃ واحظی عند الزوج۔

4357Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کا سر کے بالوں پر مہندی کا خضاب کرنا پسندیدہ

وعن كريمة بنت همام أن امرأة سألت عائشة عن خضاب الحناء فقالت لا بأس ولكني أكرهه كان حبيبي يكره ريحه . رواه أبو داود والنسائي .

اور حضرت کریمہ بنت ہمام سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ ؓ سے (سر کے بالوں پر) مہندی کا خضاب کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگرچہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن میں اس کو اچھا نہیں سمجھتی کیونکہ میرے محبوب (یعنی آنحضرت ﷺ اس کی بو کو پسند نہیں فرماتے تھے! (ابوداؤد، نسائی) تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ عورتوں کے سر کے بالوں پر مہندی کا خضاب کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کیونکہ اگر آپ کے نزدیک عورتوں کے لئے مطلق مہندی کا استعمال ناپسندیدہ ہوتا تو آپ ﷺ ہندہ کو محض اس لئے بیعت کرنے سے انکار کیوں فرماتے کہ ان کے ہاتھ مہندی سے عاری تھے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔

4358Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو ہاتھوں پر مہندی لگانا مستحب ہے

وعن عائشة أن هندا بنت عتبة قالت يا نبي الله بايعني فقال لا أبايعك حتى تغيري كفيك فكأنهما كفا سبع . رواه أبو داود .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عتبہ کی بیٹی ہندہ نے (جب) یہ کہا اے اللہ کے نبی ﷺ مجھ کو بیعت کرلیجئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو (مہندی لگا کر ان کی رنگت کو) متغیر نہ کرلو گی میں تم سے (زبانی) بیعت نہیں لوں گا۔ (ابوداؤد) تشریح ہندہ عتبہ کی بیٹی، ابوسفیان کی بیوی اور معاویہ کی ماں تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بالا میں جس بیعت کا ذکر کیا گیا ہے وہ فتح مکہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن کا واقعہ ہے۔ حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عورتوں کو اپنے ہاتھوں پر مہندی لگانا مستحب ہے اور اس کو ترک کرنا مکروہ ہے اور یہ کراہت مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔

4359Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو ہاتھوں پر مہندی لگانا مستحب ہے

وعنها قالت أومت امرأة من وراء ستر بيدها كتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده فقال ما أدري أيد رجل أم يد امرأة ؟ قالت بل يد امرأة قال لو كنت امرأة لغيرت أظفارك يعني الحناء . رواه أبو داود والنسائي .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کیا جس میں ایک پر چہ تھا جو کسی شخص نے رسول کریم ﷺ کو بھیجا تھا (یعنی اس عورت نے پردہ کے پیچھے سے اپنا ہاتھ نکال کر وہ پر چہ آنحضرت ﷺ کو دینا چاہا) لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کھینچ لیا یعنی وہ پر چہ نہیں لیا) اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ہاتھ مرد کا ہے یا عورت کا؟ اس عورت نے عرض کیا کہ یہ ہاتھ عورت کا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم عورت ہوتیں (یعنی تمہیں عورتوں کا طور طریقہ ملحوظ رکھنا آتا) تو اپنے ناخن کی رنگت کو مہندی کے ذریعہ ضرور تبدیل کرتیں۔ (ابوداؤد، نسائی) تشریح یہ حدیث عورتوں کے ہاتھوں پر مہندی لگانے کے استحباب کو اور رہن سہن کے طور طریقوں نیز آداب معاشرت کی تلقین کو پر زور انداز میں واضح کرتی ہے۔

4360Mishkaat-al-Masabih

کسی مرض وعذر کی وجہ سے گودنا اور گدوانا جائز ہے

وعن ابن عباس قال لعنت الواصلة والمستوصلة والنامصة والمتنمصة والواشمة والمشتوشمة من غير داء . رواه أبو داود .

اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ملانے والی یعنی اپنے بالوں میں انسانی بالوں کا جوڑا لگانے اور لگوانے والی اور بالوں کو چننے والی اور چنوانے والی، نیز بغیر کسی مرض کے گودنے اور گدوانے والی، یہ سب عورتیں ملعون قرار دی گئی ہیں! (ابوداؤد) تشریح حدیث میں مذکورہ الفاظ کی وضاحت پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر گودنے کی کوئی ضرورت اور حاجت ہو تو اس صورت میں گودنا اور گدوانا جائز ہے اگرچہ اس کے نشان باقی رہیں۔

4361Mishkaat-al-Masabih

مردانہ لباس پہننے والی عورت اور زمانہ لباس پہننے والے مرد پر آنحضرت ﷺ کی لعنت

وعن أبي هريرة قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لبسة المرأة والمرأة تلبس لبسة الرجل . رواه أبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو زنانہ لباس پہنے، اسی طرح اس عورت پر بھی لعنت فرمائی ہے جو مردانہ لباس پہنے۔ (ابوداؤد )