مردانہ لباس پہننے والی عورت اور زمانہ لباس پہننے والے مرد پر آنحضرت ﷺ کی لعنت
وعن ابن أبي مليكة قال قيل لعائشة إن امرأة تلبس النعل قالت لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجلة من النساء . رواه أبو داود .
اور حضرت ابوملیکہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کو بتایا گیا کہ ایک عورت مردانہ جوتے پہنتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے۔ (ابوداؤد)
تشریح
وہ مشابہت مذموم ہے جو لباس، وضع قطع، بول چال اور رہن سہن میں اختیار کی جائے اور جو عورت علم و عقل اور حکمت و دانائی میں مردوں کی مشابہت اختیار کرے تو وہ مذموم نہیں ہے جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کانت عائشہ رجلۃ الرای (یعنی عائشہ کی عقل مردوں کی عقل کی طرح تھی )
اپنے اہل بیت کا راحت وآرام کی زندگی اختیار کرنا آنحضرت ﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ
وعن ثوبان قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سافر كان آخر عهده بإنسان من أهله فاطمة وأول من يدخل عليها فاطمة فقدم من غزاة وقد علقت مسحا أو سترا على بابها وحلت الحسن والحسين قلبين من فضة فقدم فلم يدخل فظنت أن ما منعه أن يدخل ما رأى فهتكت الستر وفكت القلبين عن الصبيين وقطعته منهما فانطلقا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكيان فأخذه منهما فقال يا ثوبان اذهب بهذا إلى فلان إن هؤلاء أهلي أكره أن يأكلوا طيباتهم في حياتهم الدنيا . يا ثوبان اشتر لفاطمة قلادة من عصب وسوارين من عاج . رواه أحمد وأبو داود .
اور حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے اہل و عیال کے لوگوں میں سب سے آخری وقت حضرت فاطمہ ؓ کو عطا کرتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں جاتے یعنی سفر کے لئے روانگی کے وقت آپ ﷺ پہلے دیگر اہل بیت سے الوداعی ملاقات فرماتے پھر ان سب سے فارغ ہو کر اور سب کو رخصت کر کے آخر میں حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لے جاتے ان سے جو کچھ کہنا سننا ہوتا کہتے اور جو کوئی وصیت و نصیحت کرنی ہوتی وہ کرتے اور ان کو اللہ حافظ کہہ کر کے روانہ ہوجاتے اور پھر جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں تشریف لے جاتے اور سب سے پہلے ان سے ملاقات کرتے چناچہ (ایک مرتبہ) آنحضرت ﷺ ایک جہاد کے سفر سے واپس آئے تو اس وقت حضرت فاطمہ ؓ نے اپنے مکان کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ لٹکا رکھا تھا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے وہ پردہ آرائش کی خاطر لٹکایا تھا) کیونکہ اگر پردہ کی ضرورت کی خاطر لٹکایا ہوا ہوتا تو آنحضرت ﷺ کو کوئی ناگواری نہیں ہوتی) نیز انہوں نے (اپنے دونوں صاحبزادوں) حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو چاندی کے دو کڑے پہنا رکھے تھے (یعنی ان میں سب سے ہر ایک کو ایک ایک کڑا یا دو دو کڑے پہنا رکھے تھے) جب آنحضرت ﷺ اپنے معمول کے مطابق سفر سے واپسی میں حضرت فاطمہ ؓ کی ملاقات کے لئے ان کے گھر، تشریف لائے اور یہ چیزیں دیکھیں تو آپ ﷺ ان کے گھر میں داخل نہیں ہوئے، حضرت فاطمہ ؓ سمجھ گئیں کہ جس چیز نے آنحضرت ﷺ کو میرے گھر میں داخل ہونے سے روکا وہ یہ ہے جو آپ ﷺ نے دیکھا ہے (یعنی دروازہ پر پردہ لٹکنا اور حسن و حسین ؓ کے ہاتھوں میں کڑے کا ہونا چناچہ حضرت فاطمہ ؓ نے (فورًا) پردہ کو پھاڑ ڈالا اور دونوں صاحبزادوں کے ہاتھ سے دونوں کڑوں کو اتار لیا اور ان کو توڑ ڈالا پھر دونوں صاحبزادے ان ٹوٹے ہوئے کڑوں کو لے کر) روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں گئے، آپ ﷺ نے آپنے رشتہ داروں میں کسی شخص کا نام لے کر فرمایا کہ اس کے گھر والوں کو دے آؤ کیونکہ وہ محتاج و ضرورت مند تھے، چونکہ یہ دونوں بچے میرے اہل بیت میں سے ہیں اس لئے میں اس کو اچھا نہیں سمجھتا کہ یہ دنیاوی زندگی میں بہترین غذا کھائیں (یعنی میرے نزدیک یہ پسندیدہ) نہیں ہے کہ میرے یہ بچے بہترین غذاؤں اور نفیس پوشاک و اسباب سے لذت و فائدہ اٹھائیں یا آپ ﷺ نے بہترین غذا سے عیش و آرام کی زندگی اختیار کرنا اور دنیا کی لذتیں حاصل کرنا مراد لیا۔ نیز آپ ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ گویا یہ واضح فرمایا کہ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں اس چیز کو اختیار کرتا ہوں کہ وہ اس دنیا میں فقر و زہد اور سختی و مشقت کی زندگی اپنائیں تاکہ آخرت میں ان کے درجات بلند ہوں اور ان کا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آیت (اذہبتم طیباتکم فی حیوتکم الدنیا) لیکن اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ چشم تصور سے اپنی لخت جگر فاطمہ ؓ کی شکستہ دلی کو بھی دیکھ رہے تھے اس لئے ان کے تئیں شفقت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ثوبان! فاطمہ کے لئے عصب کا ایک ہار اور دونوں بچوں کے لئے ہاتھی دانت کے دو کڑے خرید لینا تاکہ فاطمہ ؓ کی بھی دلجوائی ہوجائے اور بچوں کی اشک شوئی ہوجائے۔ (احمد، ابوداؤد )
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر . وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كانت له مكحلة يكتحل بها كل ليلة ثلاثة في هذه وثلاثة في هذه . رواه الترمذي .
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اصفہانی سرمہ (برابر) لگایا کرو، کیونکہ وہ سرمہ بینائی کو روشن کرتا ہے اور بالوں یعنی پلکوں کو اگاتا ہے جو آنکھوں کی زیبائی و حفاظت کی ضامن ہوتی ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک لمبی سرمہ دانی تھی، جس سے آپ ﷺ روزانہ رات میں تین بار اس آنکھ میں اور تین بار اس آنکھ میں سرمہ لگاتے تھے (یعنی مسلسل تین سلائی دائیں آنکھ میں اور تین سلائی بائیں آنکھ میں لگاتے تھے )۔ (ترمذی)
تشریح
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اثمد مطلق سرمہ کو کہا جاتا ہے لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ اثمد ایک مخصوص قسم کے سرمہ کو کہا جاتا ہے اور بعض حضرات کے قول کے مطابق وہ مخصوص قسم اصفہانی سرمہ ہے جو آنکھ سے بہنے والے پانی کو روکتا ہے، آنکھ کے اندر اگر زخم پیدا ہوجاتے ہیں اور یا سوزش ہوتی ہے تو اس کو دفع کرتا ہے اور آنکھ کی رگوں کو جو روشنی کا ذریعہ ہیں طاقت دیتا ہے خاص طور پر بڑی عمر والوں اور بچوں کے حق میں زیادہ فائدہ مند رہتا ہے۔ ایک روایت میں بالاثمد کے بجائے بالاثمد المروح کے الفاظ ہیں یعنی وہ سرمہ جس میں خالص مشک مخلوط ہو۔ روزانہ رات میں سے ہر روز رات میں سونے سے پہلے مراد ہے جیسا کہ ایک روایت میں وعند النوم کے الفاظ منقول بھی ہیں، رات میں سونے سے پہلے سرمہ لگانے میں حکمت و مصلحت یہ ہے کہ سرمہ کے اجراء آنکھوں میں زیادہ عرصہ تک رہتے ہیں اور اس کے اثرات آنکھ کے اندرونی پردوں اور جھیلوں تک اچھی طرح سرایت کرتے ہیں۔
وعنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكتحل قبل أن ينام بالإثمد ثلاثا في كل عين قال وقال إن خير ما تداويتم به اللدود والسعوط والحجامة والمشي وخير ما اكتحلتم به الإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر وإن خير ما تحتجمون فيه يوم سبع عشرة ويوم تسع عشرة ويوم إحدى وعشرين وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم حيث عرج به ما مر على ملأ من الملائكة إلا قالوا عليك بالحجامة . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن غريب .
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (رات میں) سونے سے پہلے ہر آنکھ میں اصفہانی سرمہ کی تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے! نیز حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم علاج کے لئے جن چیزوں کو اختیار کرتے ہو ان میں بہترین چیزیں چار ہیں ایک تو لدود، دوسرے سعوط تیسرے حجامۃ اور چوتھے مشی! آنکھوں کے لگانے کی چیزوں میں بہترین چیز اصفہانی سرمہ ہے جو بینائی کو روشن کرتا ہے اور پلکوں کے بالوں کو جماتا ہے، نیز بھری ہوئی سینگی کھنچوانے کے لئے (چاند کی) سترھویں، انیسویں اور اکیسویں (تاریح) بہترین دن ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب معراج میں تشریف لے گئے تو فرشتوں کی کوئی بھی ایسی جماعت نہیں تھی جس کے پاس سے آپ ﷺ گزرے ہوں اور اس نے یہ نہ کہا ہو کہ بھری ہوئی سینگی کھنچوانا آپ ﷺ کے لئے ضروری ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
لدود اس کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں باچھ کی طرف سے ٹپکائی جائے! سعوط اس دوا کو کہتے ہیں جو ناک میں ٹپکائی جائے! حجامہ بھری سینگی کھنچوانے کو کہتے ہیں! اور مشی اسہال کی دواء کو کہتے ہیں، یہ لفظ مشی بمعنی چلنے سے مشتق ہے چونکہ دست آور دوا کے استعمال سے بیت الخلاء جانے کے لئے بار بار چلنا پڑتا ہے اس مناسبت سے اس دوا کو مشی کہا جاتا ہے۔ چوں کہ مہینہ کی ابتداء سے وسط مہینہ تک خون، بلکہ تمام رطوبات میں بڑھوتری، غلبہ اور جوش رہتا ہے، ادھر مہینہ کی آخری تاریخوں میں ان چیزوں کا عمل سست کمزور اور سرد ہوجاتا ہے اس اعتبار سے گویا مہینہ کے وسط ایام اور خاص طور پر مذکورہ تاریخیں انسانی جسم کے لئے معتدل ہوتی ہیں، لہٰذا ان دنوں میں سینگی کھنچوانا زیادہ سود مند ہوتا ہے حجامۃ کے بارے میں تفصیلی باتیں انشاء اللہ کتاب الطب والرقی میں نقل کی جائیں گی۔
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى الرجال والنساء عن دخول الحمامات ثم رخص للرجال أن يدخلوا بالميازر . رواه الترمذي وأبو داود .
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے منع فرما دیا تھا، پھر بعد میں آپ ﷺ نے مردوں کو اس صورت میں جانے کی اجازت دے دی تھی جب کہ ان کے جسم پر تہبند ہو! (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
حمام سے مراد وہ غسل خانے ہیں جو عوامی ضرورت کے لئے بازاروں میں بنائے جاتے ہیں اور جہاں ہر کس و ناکس نہانے کی غرض سے آتا جاتا ہے بلکہ پہلے زمانوں میں تو اس قسم کے حمام ہوتے تھے، جہاں علیحدہ علیحدہ نہانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا بلکہ کئی کئی آدمی ایک ہی جگہ ساتھ ساتھ غسل کرتے تھے ظاہر ہے کہ اس صورت میں ستر پوشی ممکن نہیں ہوسکتی تھی اس لئے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو حمام میں جانے سے منع کردیا البتہ بعد میں مردوں کو اس شرط کے ساتھ جانے کی اجازت دی کہ وہ بغیر تہبند کے جو گھٹنوں تک ہونا ضروری ہے وہاں غسل نہ کریں۔ مظہر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (تہبند کی شرط کے ساتھ بھی) عورتوں کو حمام میں جانے کی اجازت اس لئے نہیں دی کہ ان کے اعضاء ستر کے حکم میں داخل ہیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی کھولنا جائز نہیں ہے تاہم واقعی ضرورت و مجبوری کی صورت میں عورتوں کے لئے بھی اجازت ہے مثلا شدید سردی کے موسم میں حیض و نفاس سے فراغت کے بعد، یا ناپاک ہونے کی صورت میں نہانے کی ضرورت ہو یا کسی علاج کے سلسلے میں گرم پانی سے نہانا ضروری ہو اور گرم پانی کا حمام کے علاوہ اور کہیں انتظام نہ ہو نیز ٹھنڈے پانی سے نہانا ضرر و نقصان کا باعث ہو تو اس صورت میں عورت کو بھی حمام جانے کی مخصوص اجازت ہوگی۔ یہاں یہ خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ اس وضاحت سے وہ وجہ ظاہر نہیں ہوئی جس سے یہ واضح ہوتا کہ اس ممانعت میں مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق کیوں کیا گیا ہے کیونکہ عورت کی موجودگی میں عورت کے لئے فرق وہی حکم ہے جو مرد کی موجودگی میں مرد کے لئے ہے جس طرح مرد کو کسی مرد کے سامنے اپنے جسم کو کھولنا جائز ہے۔ علاوہ اس حصہ جسم کے جو شرعی طور پر عورت کے لئے ستر کے حکم میں ہے اس اعتبار سے قیاس کا تقاضا تو یہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی یہ اجازت ہونی چاہئے کہ وہ زنانہ حمام میں جاسکتی ہیں بشرطیکہ وہ اپنے جسم کے اس حصے کو ضرور چھپائے رہیں جن کو عورت کے سامنے بھی کھولنا جائز نہیں ہے؟ اس خلجان کو اس توجیہ کے ذریعہ رفع کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عورتوں کو مذکورہ شرط کے ساتھ حمام میں جانے کی اجازت اس لئے نہیں دی ہوگی کہ عام طور پر عورتیں اپنی ہم جنسوں کے سامنے اپنی ستر پوشی کا کوئی خاص لحاظ نہیں رکھتیں، بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو عورتوں کے سامنے حتی کہ اجنبی عورتوں تک کے سامنے اپنے ستر کی عریانیت کو معیوب نہیں سمجھتیں، چہ جائیکہ اپنی اقا رب جیسے ماں یا بیٹی یا بہن وغیرہ کے سامنے ستر کھولنے کو کوئی برائی سمجھیں یہاں تک کہ گھر میں بھی غسل وغیرہ کے مواقع پر عورتیں ایک دوسرے کے سامنے اپنے ستر کو چھپانے کا خیال نہیں رکھتیں چہ جائیکہ حمام میں کہ جہاں ویسے بھی ایک دوسرے کے سامنے ستر پوشی بڑی مشکل سے قائم رکھنی پڑتی ہے بلکہ اکثر عورتیں تو کوئی کپڑا وغیرہ لپٹنیے تک روادار نہیں ہوتیں، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے نور نبوت کے ذریعہ عورتوں کی اس حالت کا ادراک کرلیا اور ان کے لئے راستہ ہی کو بند کردیا۔
وعن أبي المليح قال قدم على عائشة نسوة من أهل حمص فقالت من أين أنتن ؟ قلن من الشام فلعلكن من الكورة التي تدخل نساؤها الحمامات ؟ قلن بلى قالت فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا تخلع امرأة ثيابها في غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربها . وفي رواية في غير بيتها إلا هتكت سترها بينها وبين الله عز وجل . رواه الترمذي وأبو داود .
اور حضرت ابوملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں (ملک شام کے شہر) حمص کی کچھ عورتیں آئیں، حضرت عائشہ ؓ نے ان سے پوچھا تم کہاں کی رہنے والی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ملک شام کی، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ شاید تم اس علاقہ کی رہنے والی ہو جہاں کی عورتیں حمام میں جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! تب حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو بھی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور کپڑے اتارتی ہے تو (گویا) وہ اس پردہ کو چاک کردیتی ہے جو اس کے اور اللہ عزوجل کے درمیان ہے، یعنی اس روایت میں فی بیت غیر زوجھا کی بجائے فی بیتھا کے الفاظ ہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد )
تشریح
حضرت عائشہ ؓ نے گویا مذکورہ حدیث عورتوں کے حمام جانے کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ پردہ میں رہے اور اس بات سے اپنے آپ کو بچائے کہ کوئی اجنبی اس کو دیکھے، یہاں تک کہ اس کے لئے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی کے علاوہ خلوت (تنہائی) میں بھی اپنا ستر کھولے، لہٰذا جب وہ ضرورت شرعی حمام میں گئی اور وہاں اس نے اجنبی نظروں کا لحاظ کئے بغیر اعضاء و جسم کو عریاں کردیا تو اس نے گویا اس پردہ کو چاک کردیا جس میں اپنے جسم کو چھپانے کا حکم اس کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ مذکورہ ارشاد گرامی ﷺ کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لباس کو اس لئے نازل کیا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے ستر کو چھپایا جائے گویا وہ لباس اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا ذریعہ ہے، لہٰذا جس عورت نے اللہ تعالیٰ کے اس منشاء و حکم کو پورا نہیں کیا اور اپنے ستر کو عریاں کیا تو گویا اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے۔
وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ستفتح لكم أرض العجم وستجدون فيها بيوتا يقال لها الحمامات فلا يدخلنها الرجال إلا بالأزر وامنعوها النساء إلا مريضة أو نفساء . رواه أبو داود .
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب تمہیں عجم کی سر زمین پر فتح حاصل ہوگی جہاں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جن کو حمام کہا جائے گا، لہٰذا (خبردار) ان میں داخل ہونے سے بالکل منع کردینا الاّ یہ کہ کوئی عورت بیمار ہو یا نفاس کی حالت میں ہو۔ (ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مردوں کو تو حمام میں جانے کی اس شرط کے ساتھ اجازت بھی ہے کہ وہ تہبند باندھے رکھیں، لیکن عورتوں کو مطلق اجازت نہیں ہے خواہ وہ تہبند باندھے ہوئے ہوں یا بغیر تہبند کے ہوں، کیونکہ عورت کا پورا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جب کہ مرد کا پورا جسم ستر نہیں ہے بلکہ صرف ناف سے زانوں تک کا حصہ چھپانا اس کے لئے ضروری ہے اس لئے تہبند باندھنے سے ان کی ستر پوشی ہوجاتی ہے تاہم اگر کوئی عورت بیمار ہو اور کسی علاج کے سلسلے میں اس کے لئے گرم پانی سے نہانا ضروری ہو، یا کوئی عورت ولادت سے فارغ ہوئی ہو تو غسل کے لئے یا اسی طرح کے کسی اور شرعی عذر کی بنا پر اس کے زنانہ حمام میں داخل ہونا جائز ہوگا خواہ وہ وہاں تہبند جیسی کوئی چیز لپیٹ کر غسل کرے یا بالکل عریاں حالت میں، بغیر عذر حمام میں داخل ہونا عورتوں کے لئے جائز نہیں ہے۔
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام بغير إزار ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجلس على مائدة تدار عليها الخمر . رواه الترمذي والنسائي .
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی عورت کو حمام میں داخل نہ ہونے دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چلتا ہو۔ (ترمذی، نسائی )
تشریح
اپنی عورت کو حمام میں داخل نہ ہونے دے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو حمام میں جانے کی اجازت نہ دے اس حکم میں ماں، بیٹی اور بہن وغیرہ ایسی عورتیں بھی شامل ہیں جو اس (مرد) کے قابو و اختیار میں ہوں، نیز مرد کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ حمام میں جانے کی اجرت دینے کے لئے اپنی بیوی وغیرہ کو روپیہ پیسہ دے کیونکہ اس صورت میں وہ ایک مکروہ عمل کا مددگار بنے گا۔ فقہ کی بعض کتابوں میں آنحضرت ﷺ کا حمام میں جانا نقل کیا گیا ہے لیکن محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے اور اس کے بارے میں حدیث منقول ہے اس کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ بات درجہ صحت پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی بھی حمام میں نہیں گئے ہیں بلکہ آپ ﷺ نے حمام کی صورت بھی کبھی نہیں دیکھی! رہی اس حمام کی بات جو مکہ معظمہ میں حمام النبی ﷺ کے نام سے مشہور ہے تو ہوسکتا ہے کہ جس جگہ آنحضرت ﷺ نے کبھی غسل کیا ہوگا اس کو حمام کی صورت دے دی گئی ہو اور پھر اس کو حمام النبی ﷺ کہا جانے لگا ہو، نیز ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ جگہ حمام النبی ﷺ اس مناسبت سے زبان زد خاص و عام ہوگئی ہو کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش مبارک کی جگہ اسی مقام کے اطراف و جوانب میں واقع ہے تاہم احادیث میں حمام کا ذکر ضرور موجود ہے جیسا کہ مذکورہ روایات سے ظاہر ہوا۔ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے کا مطلب یہ ہے کہ اس جگہ ہرگز نہ جائے جہاں شراب کا دور چلتا ہو اور شرابی لوگ وہاں مے نوشی کرتے ہوں۔ لہٰذا وہاں جانے والا مسلمان اگر شراب نوشی میں شامل نہ بھی ہو تو اس صورت میں اس پر یہ تو واجب ہو ہی گا کہ وہ وہاں شراب پینے والوں کو اس برے فعل سے روکے لیکن وہاں پہنچ جانے کے باوجود اگر اس نے نہ تو ان لوگوں کو شراب پینے سے روکا، نہ ان سے بےاعتنائی کا برتاؤ کیا اور نہ ان کے خلاف اپنی نفرت و غصہ کا اظہار کیا تو یقینا اس کا شمار کامل مؤمنین میں نہیں ہوگا۔
آنحضرت ﷺ نے سر مبارک پر کبھی خضاب نہیں کیا
عن ثابت قال سئل أنس عن خضاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال لو شئت أن أعد شمطات كن في رأسه فعلت قال ولم يختضب زاد في رواية وقد اختضب أبو بكر بالحناء والكتم واختضب عمر بالحناء بحتا .
حضرت ثابت ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے نبی کریم ﷺ کے خضاب کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں آنحضرت ﷺ کے سر مبارک میں سفید بالوں کی تعد اد شمار کرنا چاہتا تو یقینا کرلیتا (یعنی آپ ﷺ کے سر مبارک میں چند ہی بال سفید تھے) اس صورت میں آپ ﷺ کو خضاب کرنے کی کیا ضرورت تھی چناچہ آپ ﷺ نے کبھی خضاب نہیں کیا۔ ایک روایت میں حضرت انس ؓ نے یا حضرت انس ؓ سے ثابت ؓ نے یہ عبارت مزید نقل کی کہ حضرت ابوبکر ؓ نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا اور حضرت عمر ؓ نے صرف مہندی کا خضاب استعمال کیا۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
آپ ﷺ نے کبھی خضاب نہیں کیا۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سر مبارک میں کبھی خضاب کا استعمال نہیں کیا اس صورت میں یہ روایت پیچھے نقل کی گئی اس روایت کے منافی نہیں ہوگی جس میں ریش مبارک پر خضاب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ آگے بھی حضرت ابن عمر ؓ کی روایت آرہی ہے۔ نیز مہندی اور وسمہ دونوں کے مخلوط اور صرف مہندی کے خضاب کے سلسلے میں جو بحث کی جاتی ہے وہ بھی پیچھے گزر چکی ہے۔
آنحضرت ﷺ کے خضاب کرنے کا ذکر
وعن ابن عمر أنه كان يصفر لحيته بالصفرة حتى تمتلئ ثيابه من الصفرة فقيل له لم تصبغ بالصفرة ؟ قال إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها ولم يكن شيء أحب إليه منها وقد كان يصبغ ثيابه كلها حتى عمامته . رواه أبو داود والنسائي .
اور حضرت ابن عمر ؓ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی داڑھی پر زرد خضاب کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے کپڑے بھی زرد آلود ہوجاتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ زرد خضاب کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اپنی ریش مبارک پر) زرد خضاب کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ ﷺ کے نزدیک داڑھی پر خضاب کرنے کے لئے زرد رنگ سے زیادہ پسندیدہ کوئی چیز نہیں تھی، نیز آنحضرت ﷺ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی رنگ دیتے تھے۔ (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
زرد خضاب سے مراد ورس کے ذریعہ خضاب کرنا ہے جو ایک گھاس ہوتی ہے اور زعفران کے مشابہ ہوتی ہے۔ بسا اوقات ورس کے ساتھ زعفران کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یصبغ بہا سے ابن عمر ؓ کی مراد یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی ریش مبارک پر زرد خضاب کرتے تھے جیسا کہ ترجمہ کے دوران قوسین میں اس کو واضح کیا گیا، بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ بالوں کو رنگنا مراد ہے اور بعض حضرات کے قول کے مطابق کپڑوں کو رنگنا مراد ہے، نیز سیوطی نے کہا ہے کہ یہی قول اشبہ یعنی صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بالوں کا رنگنا منقول نہیں ہے لیکن ملا علی قاری کہتے ہیں کہ جب یہ بات درجہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسم کے رنگے ہوئے اور زعفرانی کپڑے پہننے سے منع کیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مذکورہ جملہ کو کپڑوں کے زرد رنگنے پر محمول کیا جائے لہٰذا زیادہ صحیح بات وہی ہے جو صاحب نہایہ نے نقل کی ہے کہ مختار قول یہ ہے کہ کبھی تو آپ ﷺ نے بالوں کو رنگا اور اکثر نہیں رنگا لہٰذا راویوں میں سے ہر ایک نے اسی چیز کو بیان کیا جس کو اس نے دیکھا ہے اس اعتبار سے ہر راوی اپنے بیان میں سچا ہے۔ تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو زرد رنگ دیتے تھے اس سے یہ قطعا مراد نہیں ہے کہ آپ ﷺ خاص طور کپڑوں کو زرد رنگتے تھے اور پھر اس کو پہنتے تھے، کیونکہ زرد رنگ کے کپڑے پہننے کی ممانعت منقول ہے بلکہ عبارت کا مقصد، محض یہ واضح کرنا ہے کہ آنحضرت ﷺ جو زرد خضاب لگاتے تھے اس کے اثر سے آپ ﷺ کے کپڑے بھی زرد ہوجاتے تھے۔
آنحضرت ﷺ کے خضاب کرنے کا ذکر
وعن عثمان بن عبد الله بن موهب قال دخلت على أم سلمة فأخرجت إلينا شعرا من شعر النبي صلى الله عليه وسلم مخضوبا . رواه البخاري .
اور حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ ایک دن میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم ﷺ کا ایک موئے مبارک نکال کر دیکھایا جو رنگین تھا! (بخاری)
تشریح
میرک ؓ کہتے ہیں کہ ابن ماجہ اور احمد نے اپنی روایت میں رنگین کے ساتھ مہندی اور وسمہ کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں یعنی وہ موئے مبارک مہندی اور وسمہ کے مخلوط رنگ سے رنگین تھا۔ بخاری کی جو روایت نقل کی گئی ہے اسی طرح کی ایک روایت ترمذی نے بھی شمائل میں حضرت انس ؓ سے نقل کی ہے کہ انہوں نے (یعنی انس نے) بیان کیا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کا ایسا موئے مبارک دیکھا جو رنگین تھا، لیکن حضرت انس ؓ ہی کی یہ روایت بھی گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ خضاب نہیں کرتے تھے تو ہوسکتا ہے کہ جس روایت میں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے خضاب کرنے کی نفی کی ہے اس سے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ ﷺ اکثر خضاب نہیں کرتے تھے اور جس روایت سے خضاب کا اثبات ہوتا ہو وہ اقل احوال پر محمول ہو یعنی کبھی کبھار آپ ﷺ نے خضاب کیا ہوگا نیز یہ کہنا بھی صحیح ہوسکتا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک روایت تو حقیقت پر مبنی ہے اور دوسری مجاز پر محمول ہے یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی خضاب نہیں کیا، لیکن کسی موقع پر آپ ﷺ نے درد سر کے دفعیہ کے لئے اپنے سر مبارک پر مہندی لگائی ہوگی اس کے رنگ کا اثر آپ ﷺ کے بالوں پر بھی آگیا ہوگا یا یہ کہ وہ موئے مبارک جو حضرت انس ؓ نے دیکھا تھا خوشبوؤں میں بسا کر رکھا جاتا ہوگا اور ان خوشبوؤں کے اثر سے وہ ایسا نظر آیا ہوگا جیسے خضاب کیا ہو اس اعتبار سے حضرت انس ؓ نے اس موئے مبارک کو رنگین کہا۔ ملا علی قاری کہتے ہیں کہ میرے نزدیک زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ خضاب کی نفی کو اس پر محمول کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ نے سفید بالوں کو چھپانے کے لئے اپنے سر مبارک پر کبھی خضاب نہیں کیا اور جس روایت سے خضاب کا اثبات ہوتا ہے اس کو اس پر محمول کیا جائے کہ آپ ﷺ نے اپنی ریش مبارک کے ان چند بالوں پر خضاب کیا تھا جو سفید ہوگئے تھے اور بخاری کی جس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس آنحضرت ﷺ کی ریش مبارک کا ایک بال تھا جس پر مہندی اور وسمہ کے خضاب کا اثر تھا تو اس پر شمائل میں منقول حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس مطلق روایت کو محمول کیا جائے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا گیا کہ آنحضرت ﷺ خضاب کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔
آنحضرت ﷺ کے حکم سے ایک مخنث کو شہر بدر کرنے کا ذکر
وعن أبي هريرة قال أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بال هذا ؟ قالوا يتشبه بالنساء فأمر به فنفي إلى النقيع . فقيل يا رسول الله ألا تقتله ؟ فقال إني نهيت عن قتل المصلين . رواه أبو داود .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مخنث کو لایا گیا جس نے (عورتوں کی طرح) اپنے ہاتھ پر مہندی لگا رکھی تھی رسول کریم ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ اس کو کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ شخص (اپنے رہن سہن، بول چال اور طور طریقوں میں) عورتوں کی مشابہت کرتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس کو شہر سے باہر نکال دینے کا حکم دیا اور اس کو (مدینہ کی ایک جگہ) نقیع میں بھیج دیا گیا، پھر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم اس کو موت کے گھاٹ نہ اتار دیں یعنی چونکہ یہ فسق و فساد اور برائی کی گند پھیلا رہا ہے اس لئے اگر آپ ﷺ حکم دیں تو اس کو قتل کردیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھ کو نماز پڑھنے والوں کو قتل سے منع کیا گیا ہے۔ (ابوداؤد )۔
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز کے ذریعہ بطور کنایہ اس کے اسلام کو ذکر کیا گویا آپ ﷺ نے واضح کیا کہ چونکہ وہ شخص بہرحال مسلمان ہے اس لئے اس کے قتل کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے! نماز بول کر اسلام مراد لینے کی بنیاد یہ بھی ہے کہ حقیقت میں نماز ایک ایسا عمل ہے جو اسلام کے اظہار کا ذریعہ ہے اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا تو گویا وہ ظاہر کرتا ہے کہ میرا اسلام سے تعلق نہیں ہے اسی لئے اس قول اگر کوئی مسلمان نماز نہ پڑھے تو اس کو قتل کردیا جائے کو بعض علماء نے اس کے ظاہری مفہوم ہی پر محمول کیا ہے،
مرد کے لئے رنگدار خوشبو کا استعمال ممنوع ہے
وعن الوليد بن عقبة قال لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة جعل أهل مكة يأتونه بصبيانهم فيدعو لهم بالبركة ويمسح رؤوسهم فجيء بي إليه وأنا مخلق فلم يمسني من أجل الخلوق . رواه أبو داود .
اور حضرت ولید بن عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کو مکہ پر فتح حاصل ہوئی ( اور آپ ﷺ مکہ شہر میں رونق افروز ہوئے ) تو مکہ والوں نے اپنے بچوں کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لانا شروع کیا، چناچہ آنحضرت ﷺ ان بچوں کے لئے برکت کی دعا کرتے اور (پیار و شفقت سے) ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اس موقع پر مجھے بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لایا گیا لیکن چونکہ میرے بدن پر (زعفران وغیرہ کی بنی ہوئی خوشبو) خلوق لگی ہوئی تھی اس لئے آپ ﷺ نے مجھ کو خلوق آلودہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہیں لگایا۔ (ابوداؤد)
تشریح
خلوق چونکہ عورتوں کی مخصوص خوشبو ہے اس لئے اگر کوئی مرد اس خوشبو کو لگائے تو عورتوں کی مشابہت لازم آتی ہے لہٰذا مرد کے لئے خلوق کا استعمال ممنوع ہے۔
بالوں کی دیکھ بھال کرنے کا ذکر
وعن أبي قتادة أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم إن لي جمة أفأرجلها ؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نعم وأكرمها قال فكان أبو قتادة ربما دهنها في اليوم مرتين من أجل قول رسول الله صلى الله عليه وسلم نعم وأكرمها . رواه مالك .
اور حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میرے (سر کے بال) منڈھوں تک ہیں، کیا ان میں کنگھا کیا کروں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! اور ان کی تکریم بھی کیا کرو یعنی ان میں تیل وغیرہ لگا کر ان کی دیکھ بھال کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد ہاں اور ان کی تکریم کیا کرو کی تعمیل میں حضرت ابوقتادہ ؓ اکثر دن بھر میں دو مرتبہ اپنے بالوں میں تیل لگایا کرتے تھے۔ (مالک)
تشریح
بالوں میں تیل لگانے اور کنگھی کرنے کو کثرت کے ساتھ اختیار کرنا اس صورت میں غیر پسندیدہ اور نا محمود ہے جب کہ اس کا مقصد محض زینت و آرائش ہو اور اس میں بےجا انہماک و اہتمام سے کام لیا جائے، لیکن حضرت ابوقتادہ ؓ کے بارے میں جو نقل کیا گیا ہے اس کی نوعیت بالکل جدا گانہ تھی کہ ان کا یہ عمل یعنی بالوں میں اکثر تیل لگانا اور کنگھی کرنا محض آنحضرت ﷺ کے حکم کی بجا آوری اور منشاء نبوی ﷺ کی تعمیل کی خاطر تھا جو یقینا پسندیدہ و محمود کہلائے گا جیسا کہ حضرت انس ؓ کی والدہ کے بارے میں بیان کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے انس کے گیسو محض اس لئے نہیں کاٹے کہ ان کو آنحضرت ﷺ کھینچا اور پکڑا کرتے تھے۔
غیر مسلم قوموں کی وضع قطع کے بال رکھنے ممنوع ہیں
وعن الحجاح بن حسان قال دخلنا على أنس بن مالك فحدثتني أختي المغيرة قالت وأنت يومئذ غلام ولك قرنان أو قصتان فمسح رأسك وبرك عليك وقال احلقوا هذين أو قصوهما فإن هذا زي اليهود . رواه أبو داود .
اور حضرت حجاج بن حسان کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ یعنی میں اور میرے گھر کے کچھ افراد حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس دن کے واقعہ کو مجھ سے میری بہن نے بیان کیا جن کا نام مغیرہ ہے یعنی اس وقت میں بچہ تھا اور مجھے اس دن حضرت انس ؓ کی خدمت میں حاضر ہونا تو یاد ہے لیکن اس حاضری کی کیفیت اور وہاں جو احوال پیش آئے ان کی تفصیل مجھے یاد نہیں ہے چناچہ میری بہن نے (مجھے بتایا کہ) تم ان دونوں میں بھی تھے اور تمہارے سر پر دو گندھے ہوئے گیسو۔ یا دو گچھے تھے، حضرت انس ؓ نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے حق میں برکت کی دعا کی نیز فرمایا کہ ان دونوں کو منڈوا ڈالو یا کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہودیوں کی وضع ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
یا وہ گچھے تھے یہاں راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ حضرت حجاج نے اس موقع پر لفظ قربان کہا تھا یا قصتان قصتان اصل میں قصہ کا تثنیہ ہے جس کے معنی سر کے بالوں کے ہیں جو آگے کی جانب (پیشانی) پر پڑے رہتے ہیں۔
عورت کو اپنا سر منڈانا حرام ہے
وعن علي قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه النسائي .
اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی عورت اپنا سر منڈائے!۔ (نسائی)
تشریح
عورت کے حق میں سر کے بالوں کی وہی اہمیت ہے جو مرد کے حق میں داڑھی کی ہے لہٰذا جس طرح مرد کو داڑھی منڈانا حرام ہے اسی طرح عورت کو سر منڈانا حرام ہے۔
سر اور داڑھی کے بالوں کا بکھرا ہوا ہونا غیر مہذب ہونے کی علامت ہے
وعن عطاء بن يسار قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فدخل رجل ثائر الرأس واللحية فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده كأنه يأمره بإصلاح شعره ولحيته ففعل ثم رجع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أليس هذا خيرا من أن يأتي أحدكم وهو ثائر الرأس كأنه شيطان . رواه مالك . ( حسن )
اور حضرت عطاء بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ مسجد نبوی ﷺ میں تشریف فرما تھے کہ ایک ایسا شخص آیا جس کے سر کے اور داڑھی کے بال پراگندہ ( یعنی بکھرے اور الجھے ہوئے) تھے رسول اللہ ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) اس (کے سر اور داڑھی) کی طرف (اپنے دست مبارک سے اس انداز میں) اشارہ کیا جیسے آپ ﷺ اس کو یہ حکم دے رہے ہوں کہ وہ اپنے سر کے بالوں اور داڑھی کو سنوارے، چناچہ اس شخص نے اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو سنوارا اور پھر واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس حالت میں آئے کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں اور وہ ایسا دکھائی دے جیسے کوئی شیطان (جن) ہو (یعنی اس نے اپنی شکل و صورت ایسی بنا رکھی ہو جیسے کوئی جن اپنے بال بکھیرے ہوئے اور بدہئیت شکل و صورت میں ہوتا ہے )۔ (مالک )
گھر کے صحن کو صاف ستھرا رکھو
وعن ابن المسيب سمع يقول إن الله طيب يحب الطيب نظيف يحب النظافة كريم يحب الكرم جواد يحب الجود فنظفوا أراه قال أفنيتكم ولا تشبهوا باليهود . قال فذكرت ذلك لمهاجرين مسمار فقال حدثنيه عامر بن سعد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله إلا أنه قال نظفوا أفنيتكم . رواه الترمذي .
اور حضرت ابن مسیب (تابعی) سے روایت ہے کہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا گیا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے پاکی پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ نہایت ستھرا ہے ستھرائی کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ کرم کرنے والا ہے کرم کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت سخی اور عطا کرنے والا ہے، سخاوت و عطا کو پسند کرتا ہے لہٰذا تم صاف ستھرا رکھو (حضرت ابن مسیب سے روایت کرنے والے) راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ ابن مسیب نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنے صحنوں کو (یعنی فنظفوا کے بعد افنیتکم کا لفظ بھی کہا تھا گویا اس جگہ پورا جملہ یہ ہے کہ تم اپنے صحنوں کو صاف ستھرا رکھو) اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو (جو اپنے گھروں کے صحن و آنگن کو کوڑے کرکٹ سے ناپاک و گندہ رکھتے ہیں )۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسیب کا یہ قول حضرت مہاجر بن مسمار تابعی کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت عامر بن سعد (تابعی) نے اور انہوں نے اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ (صحابی) سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ لیکن مہاجر نے جو حدیث نقل کی اس میں انہوں نے یہ نقل کیا کہ تم اپنے گھروں کے صحن کو صاف ستھرا رکھو۔ یعنی ان کی روایت میں افنیتکم کا لفظ صریحا مذکور ہے جب کہ ابن مسیب کی روایت میں یہ لفظ گمان کے درجہ میں نقل کیا گیا ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ پاک ہے یعنی وہ ہر عیب، ہر نقصان، ہر برائی اور ہر اس چیز سے پاک و منزہ ہے جو شان الوہیت اور شان ربوبیت کے منافی ہو۔ یحب الطیب میں لفظ طیب طاء کے زیر کے ساتھ ہے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوش کرداری و خوش کلامی محبوب و پسندیدہ ہے، یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوشبو ایک پسندیدہ چیز ہے اور چونکہ اس ساری چیزوں کی بنیاد پاکی و پاکیزگی ہے لہذا جو بندہ ان چیزوں کو اختیار و استعمال کر کے اپنے اندر پاکی و پاکیزگی پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے اور اس کے عمل سے خوش ہوتا ہے، ایک نسخہ میں یہ لفظ طاء کے زبر اور یاء مشددہ کے زیر کے ساتھ یعنی طیب لکھا ہوا ہے اس صورت میں اس سے مراد وہ شخص ہوگا جو طیبات یعنی عقائد و خیالات کی اچھائی، اقوال اور زبان وبیان کی پاکیزگی اور اعمال و اخلاق کی بلندی و نیک خوئی کے اوصاف کا حامل ہو، نظافۃ جس کا ترجمہ ستھرائی کیا گیا ہے کے معنی ظاہر و باطن کی صفائی و پاکی کے ہیں۔ طیبی کہتے ہیں کہ گھروں کے صحن کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم اصل میں کرم اور جود اختیار کرنے کا کنایہ ہے، یعنی اس حکم سے اصل مقصد یہ تلقین کرنا ہے کہ اپنے اندر عطاء و بخشش اور سخاوت و مہمان نوازی کے اوصاف پیدا کرو اور ظاہر ہے کہ گھر کی صفائی ستھرائی اس وصف کی تکمیل کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ جس گھر کا صحن و آنگن صاف ستھرا رہتا ہے اور مکان کے در و دیوار سے صفائی و سلیقہ شعاری ہویدا ہوتی ہے اس گھر میں لوگوں کو اور مہمانوں کے آنے اور ٹھہرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
مونچھیں ترشوانے کی سنت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جاری ہوئی
وعن يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يقول كان إبراهيم خليل الرحمن أول الناس ضيف الضيف وأول الناس اختتن وأول الناس قص شاربه وأول الناس رأى الشيب فقال يا رب ما هذا ؟ قال الرب تبارك وتعالى وقار يا إبراهيم قال رب زدني وقارا . رواه مالك .
اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو رحمن (اللہ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے مہمان کی مہمانداری کی یعنی مہمان کی پذایرائی و مہمانداری کی ابتداء انہوں نے ہی کی وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے ختنہ کیا، وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چناچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو) عرض کیا کہ میرے پروردگار! یہ کیا ہے؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا میرے وقار میں اضافہ فرما۔ (مالک)
تشریح
سیوطی نے موطا کے حاشیہ میں ایسی اور چیزوں کا بھی ذکر کیا ہے جن کی ابتداء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی ہے، جو یہ ہیں ناخن کاٹنا، مانگ نکالنی، استرا استعمال کرنا، پائجامہ پہننا، مہندی اور وسمہ کا خضاب لگانا، منبر پر خطبہ پڑھنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، میدان جنگ میں لشکر کو میمنہ، میسرہ، مقدمہ اور قلب کی ترتیب کے ساتھ صف آراء کرنا، لوگوں کے ساتھ معانقہ کرنا اور ثرید تیار کرنا۔
تصاویر تصویر کی جمع ہے، جس کے معنی صورت بنانے کے ہیں، یہاں تصاویر سے مراد جاندار کی تصویریں ہیں جو پردوں وغیرہ پر کڑھی یا بنی ہوئی ہوں۔