لباس کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 140 · 205 hadiths · Page 10 of 11

4382Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے اور رکھنے کا مسئلہ

عن أبي طلحة قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير .

حضرت ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں کتا ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ یہاں وہ تصویر اور کتا مراد ہے جن کا گھر میں رکھنا حرام نہیں ہے جیسے وہ کتا جو شکار یا کھیت کھلیان اور مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کے لئے پالا گیا ہو یا ایسی تصویریں جو بچھونوں وغیرہ پر ہوں اور ان کی تحقیر و پامالی کی جاتی ہو چناچہ گھر میں ایسے کتے یا ایسی تصویروں کی موجودگی فرشتوں کے داخل ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتی لیکن یہ مسئلہ محض ان تصویروں کے رکھنے یا استعمال کا ہے کیونکہ تصویر بنانا تو ہر صورت میں حرام ہے خواہ بچھونے پر ہو خواہ درہم سکوں اور نوٹوں پر ہوں اور خواہ کسی اور چیز پر بنائی جائے جاندار کی تصویر و مورت وغیرہ کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ حکم عمومی نوعیت کا ہے یعنی کسی گھر میں مطلق تصویر اور کتے کی موجودگی ملائکہ کے داخل ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے اگرچہ کتا اور تصویریں اسی نوعیت کی کیوں نہ ہوں جن کا گھر میں رکھنا نہیں ہے۔ فرشتوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے اور ان کی حفاظت پر مامور نہیں ہوتے کیونکہ جو فرشتے اعمال لکھنے اور حفاظت کرنے پر معمور ہوتے ہیں وہ کسی بھی حال میں انسان سے جدا نہیں ہوتے۔

4383Mishkaat-al-Masabih

غیر ضروری کتوں کو مار ڈالا جائے

وعن ابن عباس عن ميمونة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أصبح يوما واجما وقال إن جبريل كان وعدني أن يلقاني الليلة فلم يلقني أم والله ما أخلفني . ثم وقع في نفسه جرو كلب تحت فسطاط له فأمر به فأخرج ثم أخذ بيده ماء فنضح مكانه فلما أمسى لقيه جبريل فقال لقد كنت وعدتني أن تلقاني البارحة . قال أجل ولكنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة فأصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ فأمر بقتل الكلاب حتى إنه يأمر بقتل الكلب الحائط الصغير ويترك كلب الحائط الكبير . رواه مسلم .

اور حضرت ابن عباس ؓ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت رسول کریم ﷺ بہت اد اس و غمگین نظر آئے اور اس اداسی و غمگینی کا سبب بیان کرتے ہوئے میمونہ ؓ سے یا کسی اور زوجہ مطہرہ سے یا اپنے دل میں اور یا اظہار تعجب و حیرت کے طور پر خود اپنے سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل نے آج کی رات میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ میرے پاس نہیں آئے، اللہ کی قسم! (اس سے پہلے) ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انہوں نے وعدہ خلافی کی ہو پھر (اچانک) آپ ﷺ کے ذہن میں کتے کے اس پلہ کا خیال آیا جو آپ ﷺ کے خیمے (یعنی کسی تخت یا ٹاٹ وغیرہ) کے نیچے پڑا تھا، چناچہ آپ ﷺ سمجھ گئے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اسی پلہ کی وجہ سے میرے پاس نہیں آئے اور آپ ﷺ نے اس پلے کو نکال دینے کا حکم دیا، جب وہ پلہ وہاں سے نکال دیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں میں پانی لے کر اس جگہ چھڑکا جہاں وہ پلہ بیٹھا ہوا تھا، پھر جب شام ہوئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ (علیہ السلام) نے تو گزشتہ شب میں مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس کے بعد دوسرے دن صبح کو رسول کریم ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ چھوٹے باغات کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے دیا اور بڑے بڑے باغات کے کتوں کو چھوڑنے کا حکم دیا، (کیونکہ ان باغات کی حفاظت کے لئے کتوں کا رکھنا ضروری تھا )۔

4384Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ تصویر دار چیزوں کو ضائع کردیتے تھے۔

وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يترك في بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه . رواه البخاري . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز نہ چھوڑتے تھے جس پر تصویر ہو اور آپ ﷺ اس کو توڑ نہ ڈالتے ہوں! (بخاری) تشریح تصالیب اصل میں تو تصلیب کی جمع ہے جس کی معنی صلیب (سولی) کی تصویر بنانا ہیں اور جن کو عیسائی برکت کے لئے اپنے پاس رکھتے ہیں اور اس کی پرستش تک کرتے ہیں ان کے خیال میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں نے سولی پر چڑھا دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر کے اٹھا لیا، چناچہ اس سولی کی تصویر ان کے نزدیک ایک مقدس مذہبی علامت ہوتی ہے۔ لیکن یہاں حدیث میں تصالیب سے مطلق جاندار کی تصاویر مراد ہیں۔

4385Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والوں کو آخرت میں عذاب بھگتنا پڑے گا

وعنها أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل فعرفت في وجهه الكراهية قالت فقلت يا رسول الله أتوب إلى الله وإلى رسوله ما أذنبت ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بال هذه النمرقة ؟ قلت اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة ويقال لهم أحيوا ما خلقتم . وقال إن البيت الذي فيه الصورة لا تدخله الملائكة . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ ایسا تکیہ خرید لیا جس پر تصویریں تھیں، چناچہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں داخل ہوتے وقت اس تکیہ کو دیکھا تو دروازے پر رک گئے اور حجرہ میں داخل نہیں ہوئے، حضرت عائشہ ؓ اس تصویر دار تکیہ کی وجہ سے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے اثرات کو بھانپ گئیں! حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نافرمانی چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف متوجہ ہوتی ہوں، میں نے ایسا کونسا گناہ کیا ہے کہ آپ ﷺ میرے حجرے میں داخل نہیں ہو رہے ہیں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ تکیہ کیا ہے اور تم اس کو کہاں سے لائی ہو؟ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے جواب دیا۔ میں نے اس تکیہ کو آپ ﷺ کے لئے خریدا ہے کہ آپ ﷺ جس وقت چاہیں اس کا سہارا لے کر بیٹھیں اور جس وقت چاہیں اس کو سوتے وقت سر کے نیچے رکھیں۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ یاد رکھو تصویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تصویریں تم نے بنائی ہیں ان میں جان ڈالو اور ان کو زندہ کرو۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے اسی طرح انبیاء (علیہ السلام) واو لیا کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ تصویر والے گھر میں داخل ہوں؟ (بخاری ومسلم )

4386Mishkaat-al-Masabih

آرائشی پردے لٹکانا ناپسندیدہ

وعنها أنها كانت على سهوة لها سترا فيه تماثيل فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم فاتخذت منه نمرقتين فكانتا في البيت يجلس عليهم . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے شہ نشین پر ایک ایسا پردہ ڈال دیا جس پر تصویریں تھیں، رسول کریم ﷺ نے اس پردہ کو دیکھا تو اس کو پھاڑ دیا، حضرت عائشہ ؓ نے (اس پھٹے ہوئے پردہ کا یہ مصرف نکالا کہ) اس کے دو تکئے بنا دیئے چناچہ وہ دونوں تکئے گھر میں رکھے رہتے تھے اور ان پر تکیہ لگا کر بیٹھتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح بظاہر یہ حدیث اس حدیث کے منافی ہے جو اس سے پہلے گزری ہے کیونکہ پہلی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تکیہ پر بنی ہوئی تصویریں گھر میں ملائکہ کو داخل ہونے سے روکتی ہیں، اگرچہ ایسی تصویروں کا گھر میں رہنے دینا حرام نہ ہو، اس صورت میں وہ دونوں تکیے جن پر تصویریں تھیں حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں کیسے رکھے ہوئے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان تکیوں پر جو تصویریں تھیں وہ کسی جاندار کی نہیں تھیں جن کا بنانا اور رکھنا حرام ہے اور آپ ﷺ نے جو اس پردہ کو پھاڑ ڈالا تھا تو اس کی وجہ بھی اس پردے پر تصویروں کی موجودگی نہیں تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ در و دیوار پر بلا ضرورت پردے لٹکانا منشاء الٰہی کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ پتھر اور مٹی کو کپڑے پہنائے جائیں جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے معلوم ہوگا اور اگر بالفرض وہ تصویریں کسی جاندار ہی کی تھیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ جب تکیہ بنانے کے لئے پردہ کی کانٹ چھانٹ ہوئی تو اس پر جو تصویریں تھیں ان کے سر کٹ گئے تھے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ہتک (کہ جس کا ترجمہ پھاڑ ڈالنا کیا گیا ہے) کے معنی ان تصویروں کا کاٹنا اور مٹا دینا ہیں جو اس پردہ پر تھیں۔

4387Mishkaat-al-Masabih

آرائشی پردے لٹکانا ناپسندیدہ

وعنها أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج في غزاة فأخذت نمطا فسترته على الباب فلما قدم فرأى النمط فجذبه حتى هتكه ثم قال إن الله لم يأمرنا أن نكسو الحجارة والطين . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ جہاد کے لئے سفر پر تشریف لے گئے تو میں نے آپ ﷺ کے جانے کے بعد ایک کپڑا حاصل کیا اور اس کا پردہ دروازہ پر لٹکایا جب آنحضرت ﷺ سفر جہاد سے واپس تشریف لائے اور وہ پردہ پڑا ہوا دیکھا تو اس کو کھینچ کر پھاڑ ڈالا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم نہیں دیا ہے کہ ہم مٹی اور پتھر کو کپڑے پہنائیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح نمط ایک عمدہ قسم کے فرش یا بچھونے کو کہتے ہیں جس کے کنارے باریک اور ملائم تانے کے ہوتے ہیں اس کو ہودج پر بھی ڈالتے ہیں اور اس کا پردہ بھی بناتے ہیں، احتمال ہے کہ یہ لفظ نمد کا معرب ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے غالباً اس کپڑے کو دروازے پر آرائش کی خاطر لٹکایا ہوگا ورنہ اگر پردے کے مقصد سے دروازے پر ڈالتیں تو اس پر عتاب ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اس کپڑے پر گھوڑے کی تصویریں تھیں اس لئے آپ ﷺ نے اس کو ضائع کردیا اور گویا ان تصویروں کو مٹا ڈالا، لیکن یہ قول حدیث کے سیاق کے خلاف معلوم ہوتا ہے کیونکہ حدیث کا ربط مضمون یہ واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ کا اس کپڑے کو پھاڑنا اور گویا اس کو دروازے پر لٹکانے سے منع کرنا تصویر کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ در و دیوار کو کپڑے سے ڈھانپنے کی کراہت کی بنا پر تھا جیسا کہ آپ ﷺ کے ارشاد سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ در و دیوار کو کپڑے سے ڈھانپنے کی ممانعت نہی تنزیہی طور پر ہے کیونکہ اس چیز کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ ہونا ممانعت پر دلالت نہیں کرتا رہی یہ بات کہ پھر آنحضرت ﷺ نے اس پردے پر اس قدر ناگواری کا اظہار کیوں کیا کہ اس کو پھاڑ بھی ڈالا تو اس کی وجہ محض یہ تھی کہ یہ چیز آپ ﷺ کے نزدیک اہل بیت کی شان اور ان کے ورع وتقویٰ کے خلاف تھی، تاہم یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گھر کی دیواروں وغیرہ کو کپڑے سے ڈھانپنے سے منع کیا جائے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اگر کوئی بری چیز دیکھی جائے تو اس کو اپنے ہاتھ سے خراب و برباد کردیا جائے اور اس کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا جائے۔

4388Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والے کے بارے میں وعید

وعنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں؟ (بخاری ومسلم) تشریح مشابہت اختیار کرتے ہیں یعنی صورت بنانا اللہ کا کام ہے لہٰذا جو شخص تصویر بناتا ہے وہ گویا اپنے فعل کو اللہ تعالیٰ کے فعل کے ساتھ مشابہ کرتا ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تصویر بنانے والا گویا اس چیز (تصویر) کو بناتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ ہوتی ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ اگر مصور کا فعل تصویر سازی اسی نظرئے (عقیدے) کے تحت ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فعل صورت گری کی مماثلت کرنے والا ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کو اس کے اس قبیح کفر کی بنا پر دوسرے کافروں کی بہ نسبت زیادہ سخت عذاب بھگتنا ہوگا اور اگر وہ ایسا عقیدہ نہ رکھتا ہو تو پھر اس کے حق میں یہ حدیث تہدید پر محمول ہوگی۔

4389Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال الله تعالى ومن أظلم ممن ذهب بخلق كخلقي فليخلقوا ذرة أو ليخلقوا حبة أو شعيرة . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو میرے پیدا کرنے کی طرح پیدا کرے یعنی جس طرح میں صورت بناتا ہوں اسی طرح وہ بھی صورت بناتا ہے اگرچہ حقیقت میں وہ اس مادہ سے صورت نہیں بناتا جس مادہ سے اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں ہیں تاہم وہ کوئی صورت بناتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ یہ صورت میری بنائی ہوئی ہے اگر تصویر و مورت بنانے والے واقعہ تخلیق کا دعوی کرتے ہیں تو ذرا وہ ایک چیونٹی تو بنائیں یا ایک دانہ تو پیدا کریں یا ایک جو تو پیدا کر کے دکھائیں؟ (بخاری ومسلم )

4390Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والے کے بارے میں وعید

وعن عبد الله بن مسعود قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول أشد الناس عذابا عند الله المصورون . ( متفق عليه )

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور ہے! (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا ان میں مصور بھی ہوگا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ وعید اس شخص کے حق میں ہے جو بتوں کی مورتیاں اس لئے بناتا ہے کہ ان کی پوجا کی جائے اور چونکہ ایسا شخص یقینا کافر ہوگا اس لئے اگر اس کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا تو کچھ بعید نہیں اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مشابہت کی نیت سے تصویر بنائے وہ بھی کافر ہے اور سخت ترین عذاب کا مستوجب۔ اور جو شخص اس نیت کے بغیر تصویر سازی کرے وہ کافر نہیں ہوگا بلکہ فاسق کہلائے گا اور اس کا وہی حکم ہوگا جو مرتکب معاصی کا ہے اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ حدیث میں جس مصور کے بارے میں وعید بیان کی گئی ہے اس سے جاندار کی تصویر بنانے جاندار کی تصویر بنانے والا مراد ہے نہ کہ درختوں اور عمارات وغیرہ کی تصویر بنانے والا اسی لئے عام طور پر مصور کا اطلاق جاندار کی تصویر بنانے والے پر ہوتا ہے اور جمادات و نباتات وغیرہ کی تصویر بنانے والے نقاش کہتے ہیں! مجاہد نے پھل دار درختوں کی تصویر بنانے کو بھی مکروہ کہا ہے دوسرے محققین کے نزدیک غیر جاندار کی تصویر بنانا کراہت سے خالی نہیں اور لہو و لعب نیز بےمقصد والا یعنی چیزوں میں داخل ہے۔

4391Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والے کے بارے میں وعید

وعن ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم . قال ابن عباس فإن كنت لابد فاعلا فاصنع الشجر وما لا روح فيه .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اگر تمہیں تصویر بنانے کی ضرورت ہی ہو تو درختوں یا کسی غیر ذی روح کی تصویربنا لو۔ (بخاری و مسلم) تشریح یوں تو ہر طرح کی تصویر اور مورت بنانا ناجائز ہے تاہم اکثر علماء نے لڑکیوں کے لئے گڑیوں کو مستثنیٰ رکھا ہے یعنی ان کے نزدیک لڑکیوں کے حق میں گڑیاں بنانا مباح ہے لیکن امام مالک نے مردوں کو ان کا خریدنا مکروہ قرار دیا ہے اور بعض علماء نے مذکورہ اباحت کو منسوخ قرار دیا ہے۔

4392Mishkaat-al-Masabih

تصویر بنانے والے کے بارے میں وعید

وعنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من تحلم بحلم لم يره كلف أن يعقد بين شعيرتين ولن يفعل ومن استمع إلى حديث قوم وهم له كارهون أو يفرون منه صب في أذنيه الآنك يوم القيامة ومن صور صورة عذب وكلف أن ينفخ فيها وليس بنافخ . رواه البخاري .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ایسا خواب دیکھنے کا دعوی کرے جو کہ اس نے نہیں دیکھا ہے یعنی جھوٹا خواب بیان کرے تو اس کو قیامت کے دن دو جو میں گرہ لگانے پر مجبور کیا جائے گا، جس کو وہ ہرگز نہیں کرسکے گا اور جو شخص کچھ لوگوں کی بات چیت کی طرف اپنا کان لگائے جب کہ وہ لوگ اس شخص کے سننے کو پسند نہ کریں اور اس سے فرار اختیار کریں تو قیامت کے دن اس شخص کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا اور جو شخص تصویر بنائے گا اس کو آخرت میں عذاب دیا جائے گا اور اس کو اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے حالانکہ وہ ہرگز روح نہیں پھونک سکے گا۔ (بخاری) تشریح جس کو وہ ہرگز نہیں کرسکے گا کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کو آپس میں جوڑ کر ایک کر دے اور جب وہ ایسا نہیں کرسکے گا تو اس کو پھر عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور اسی طرح اس کو عذاب دیا جاتا رہے گا۔ جھوٹا خواب بیان کرنے اور جو کے دو دانوں کو آپس میں جوڑنے کے درمیان مناسبت یہ ہے کہ جس طرح اس شخص نے خواب کی بےبنیاد اور جھوٹی باتوں کو جوڑا اسی طرح اس سے کہا جائے گا کہ اب ذرا جو کے دو دانوں کو جوڑ کر دکھلا؟ واضح رہے کہ جھوٹا خواب بیان کرنا بھی اگرچہ جھوٹ کی ایک قسم ہے لیکن اس جھوٹا خواب بیان کرنے پر مطلق جھوٹ بولنے کی بہ نسبت زیادہ سخت عذاب اس لئے دیا جائے گا کہ اصل میں خواب کا تعلق عالم غیب سے ہے اور سچا خواب اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہے اور ایک طرح سے وحی کے درجہ کا حکم رکھتا ہے لہٰذا جس شخص نے جھوٹا خواب بیان کیا اس نے گویا حق تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا جھوٹ کی سب سے سخت قسم ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے جو جھوٹے خواب کے ذریعہ نبوت یا ولایت کا دعوے کرے، مثلاً وہ یوں کہے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو نبی بنایا ہے یا ولی بنایا ہے اور مجھ کو خبر دی ہے کہ فلاں شخص کی مغفرت ہوگئی ہے یا فلاں شخص ملعون ہے وغیرہ وغیرہ، یا یوں بیان کرے کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ کو خواب میں فلاں حکم دیا ہے حالانکہ حقیقت میں اس نے خواب کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس شخص کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا یہ وعید اس شخص کے حق میں ہے جو ان لوگوں کی باتیں چغل خوری اور فتنہ و فساد پھیلانے کی غرض سے سنے، اس کے برخلاف اگر وہ ان لوگوں کی باتیں اس غرض سے سنے کہ اگر وہ اپنی اس بات چیت کے ذریعہ کسی فتنہ و فساد پھیلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو ان کو اس سے روکے یا ان کی شرانگیزیوں سے اپنے آپ کو یا دوسرے کو محفوظ رکھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

4393Mishkaat-al-Masabih

نرد شیر کھیلنے کی مذمت

وعن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه . رواه مسلم .

اور حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے نرد شیر کے ذریعہ کھیلا اس نے گویا سور کے گوشت اور خون میں اپنا ہاتھ ڈبویا۔ (رواہ مسلم) تشریح نرد شیر چوسر کی قسم سے ایک کھیل ہے جس کو فارس (ایران) کے ایک بادشاہ شاپور ابن بابک نے ایجاد کیا تھا چونکہ سور کا گوشت اور لہو نہ صرف یہ کہ نجس ہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ نفرت بھی ہوتی ہے اس لئے خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا تاکہ لوگ اس کھیل سے نہایت بیزاری برتیں۔ واضح رہے کہ مطلق نرد کے ذریعہ کھیلنا تمام علماء کے نزدیک حرام ہے خواہ وہ چوسر کی صورت میں ہو تختہ نرد کی صورت میں اور یا کسی اور طرح کا۔

4394Mishkaat-al-Masabih

بچھونے پر تصویروں کا ہونا مکروہ نہیں

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاني جبريل عليه السلام قال أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر برأس التمثال الذي على باب البيت فيقطع فيصير كهيئة الشجرة ومر بالستر فليقطع فليجعل وسادتين منبوذتين توطآن ومر بالكلب فليخرج . ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه الترمذي وأبو داود .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں گزشتہ شب آپ ﷺ کے پاس آیا تو تھا لیکن مجھ کو گھر میں آنے سے جس چیز نے روکا وہ یہ تھی کہ دروازے کے پردے پر تصویریں تھیں بایں طور کہ گھر میں جو رنگین منقش کپڑا تھا اس کا پردہ بنایا گیا تھا اور اس پر وہ تصویریں بنی ہوئی تھیں نیز گھر میں کتا بھی موجود تھا لہٰذا آپ ﷺ ان تصویروں کے سر کاٹے جانے کا حکم دیجئے جو دروازے (کے پردے) پر ہیں اور ان تصویروں کے سر اس طرح کاٹ دیئے جائیں کہ ان کی ہیئت و شکل بدل جائے اور وہ درخت کی شکل کے ہوجائیں اور پھر اس پردہ کو کاٹ کر ان کے دو تکئے بنانے کا حکم دیجئے جو سہارا لے کر بیٹھنے اور تکیہ لگا کر سونے کے کام میں آنے کے لئے گھر میں فرش پر پڑے رہیں اور روندے جاتے رہیں۔ نیز کتے کو بھی گھر سے نکال باہر کرنے کا حکم دیجئے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا (جیسا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا تھا )۔ (ترمذی، ابوداؤد ) تشریح فتاویٰ قاضی خاں میں لکھا ہے کہ اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ مصلے کے آگے یا سر کے اوپر یا دائیں طرف یا بائیں طرف کوئی تصویر موجود ہو یا نمازی کے کپڑے پر تصویر بنی ہو، البتہ بچھونے پر تصویر کے ہونے کے بارے میں دو قول ہیں ان میں سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ بچھونے یا فرش پر تصویر کا ہونا مکروہ نہیں ہے بشرطیکہ اگر اس بچھونے یا فرش پر نماز پڑھی جائے تو اس جگہ سجدہ نہ کیا جائے جہاں کوئی تصویر ہو۔ واضح رہے کہ یہ مسئلہ اس صورت کا ہے جب کہ تصویریں بڑی ہوں اور دیکھنے والوں کو بغیر کسی تکلف کے نظر آئیں اور اگر تصویریں چھوٹی ہوں یا ان کے سر کٹے اور مٹے ہوں تو ان میں کوئی مضائقہ نہیں۔

4395Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن مصور وغیرہ پر مسلط کیا جانے والا خاص عذاب

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج عنق من النار يوم القيامة لها عينان تبصران وأذنان تسمعان ولسان ينطق يقول إني وكلت بثلاثة بكل جبار عنيد وكل من دعا مع الله آلها آخر وبالمصورين . رواه الترمذي .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دوزخ میں سے ایک گردن نکلے گی یعنی آگ کا ایک شرارہ لمبی گردن کی صورت میں نکلے گا اس گردن میں دیکھنے والی دو آنکھیں ہوں گی، سننے والے دو کان ہوں گے اور بولنے والی زبان ہوگی۔ وہ گردن کہے گی کہ میں تین طرح کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات پر متعین کیا ہے کہ میں ان تین طرح کے لوگوں کو دو زخ میں کھینچ کرلے جاؤں اور لوگوں کے سامنے ان کو ذلیل و رسوا کر کے عذاب میں مبتلا کروں ان میں سے ایک طرح کے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کے ساتھ تکبر وعناد کا برتاؤ کیا (یعنی دنیا میں ان پر حق ظاہر ہوا مگر انہوں نے حق کو قبول نہیں کیا) دوسری طرح کے لوگوں میں ہر وہ شخص شامل ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارا ہے اور تیسری طرح کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تصویر سازی کی ہے۔ (ترمذی )

4396Mishkaat-al-Masabih

شراب جوا اور کو بہ حرام ہے

وعن ابن عباس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله تعالى حرم الخمر والميسر والكوبة وقال كل مسكر حرام . قيل الكوبة الطبل . رواه البيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت ابن عباس ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا اور کو بہ بجانے کو لسان نبوت کے ذریعہ حرام قرار دیا ہے نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ کو بہ طبل کو کہتے ہیں۔ (احمد ابوداؤد) تشریح کو بہ کے معنی میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو نرد، دوسرے بربط اور تیسرے طبل جیسا کہ مصنف نے حدیث کے کسی راوی سے نقل کیا ہے، ڈھول کی اور ڈھولک وغیرہ کی طرح طبل بھی ایک خاص قسم کا دور خابا جا ہوتا ہے، حدیث میں وہ طبل مراد ہے جو محض لہو و لعب کے لئے ہو نہ کہ غازیان اسلام کا طبل۔

4397Mishkaat-al-Masabih

شراب جوا اور کو بہ حرام ہے

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الخمر والميسر والكوبة والغبيراء . الغبيراء شراب يعمله الحبشة من الذرة يقال له السكركة . رواه أبو داود .

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شراب، جوئے، کو بہ اور غبیراء سے منع کیا ہے اور غبیراء ایک قسم کی شراب ہوتی ہے جس کو حبشہ کے لوگ جوار سے بناتے ہیں اور اس کو سکرک کہتے ہیں!۔ (احمد، ابوداؤد) تشریح غبیراء کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ یا تو حضرت ابن عمر ؓ ہی سے منقول ہے یا کسی دوسرے راوی کی بیان کی ہوئی ہے

4398Mishkaat-al-Masabih

نرد سے کھیلنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نا فرمانی کرنا ہے

وعن أبي موسى الأشعري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله . رواه أحمد وأبو داود . ( حسن )

اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نرد سے کھیلا درحقیقت اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ (احمد، ابوداؤد) تشریح نرد سے کھیلنا اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کے مرادف اس لئے ہے کہ یہ کھیل اگر بازی لگا کر کھیلا جائے تو حقیقۃ جوا ہے اور بغیر بازی لگائے کھیلا جائے تب بھی صورۃ جوا ہی ہوگا اور یہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ مطلق نرد سے کھیلنا حرام ہے۔

4399Mishkaat-al-Masabih

کبوتر بازی حرام ہے

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يتبع حمامة فقال شيطان يتبع شيطانة . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتروں کے پیچھے پڑا ہوا تھا یعنی ان کے ساتھ لہو و لعب کرنے اور ان کو اڑانے میں مشغول تھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے اور شیطان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، بیہقی، ) تشریح اس شخص کو شیطان اس لئے فرمایا کہ وہ حق سے بعد اختیار کئے ہوئے تھا اور لایعنی و بےمقصد کام میں مشغول تھا اور ان کبوتروں کو اس بنا پر شیطان فرمایا کہ انہوں نے اس شخص کو بازی اور لہو و لعب میں مشغول کر کے ذکر الہٰی اور دین و دنیا کے دوسرے کاموں سے باز رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ کبوتر بازی حرام ہے اور نووی نے لکھا ہے کہ انڈے سے بچے حاصل کرنے کے لئے دل کو بہلانے کی خاطر اور نامہ بری کے مقصد سے کبوتروں کو پالنا بلا کراہت جائز ہے لیکن ان کو اڑانا مکروہ ہے۔

4400Mishkaat-al-Masabih

تصویر کشی کا پیشہ ناجائز ہے

عربی حدیث نہیں ہے

اور حضرت سعید بن الحسن تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن میں ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ناگہاں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا ابن عباس ؓ میری معاشی زندگی کا انحصار میرے ہاتھوں کی محنت مزدوری پر ہے جن کے ذریعہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں (اب سوال یہ ہے کہ میں کیا کروں کیونکہ شریعت نے اس پیشہ کو حرام قرار دیا ہے اور کوئی دوسرا پیشہ مجھے آتا نہیں کہ جس کے ذریعہ اپنی روزی کا انتظام کروں تو کیا اس مجبوری کے تحت میرے لئے یہ پیشہ جائز ہے یا نہیں؟ ) حضرت ابن عباس ؓ نے جب یہ دیکھا کہ تصویر کشی کے کام سے اس شخص کا تعلق سخت نوعیت کا ہے اور شاید میرے منع کرنے سے باز نہ آئے تو انہوں نے اس کے سامنے آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کی، چناچہ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے اس بات کے علاوہ اور کوئی بات بیان نہیں کروں گا جس کو میں نے رسول کریم سے سنا ہے (تو تم توجہ سے سنو کہ) میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تصویر سازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں مبتلا رکھے گا یہاں تک کہ وہ اس تصویر میں روح پھونک دے درآنحالیکہ وہ اس تصویر میں ہرگز روح نہیں پھونک سکے گا۔ اس شخص نے (یہ وعید سن کر) بڑا گہرا سانس لیا اور اس کا چہرہ خوف کی وجہ سے پیلا پڑگیا، حضرت ابن عباس ؓ نے (اس کی یہ حالت دیکھی تو) فرمایا کہ تم پر افسوس ہے اگر تم اس تصویر کشی کے پیشہ کے علاوہ دوسرے پیشوں (کو قبول کرنے سے) انکار کرتے ہو (کیونکہ تم کوئی اور پیشہ جانتے ہی نہیں) تو ایسا کرو کہ ان درختوں کی اور ان چیزوں کی تصویریں بنانے لگو جو بےجان ہیں۔ (بخاری )

4401Mishkaat-al-Masabih

کنیسہ کا ذکر

وعن عائشة قالت لما اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم ذكر بعض نسائه كنيسة يقال لها مارية وكانت أم سلمة وأم حبيبة أتتا أرض الحبشة فذكرنا من حسنها وتصاوير فيها فرفع رأسه فقال أولئك إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا ثم صوروا فيه تلك الصور أولئك شرار خلق الله .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ بیمار ہوئے تو آپ ﷺ کی ازواج میں سے بعض نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جس کو ماریہ کہا جاتا تھا (کنیسہ یہود و نصاری کی عبادت گاہ کہتے ہیں، جو کنشیت کا معرب ہے اسی کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بیماری میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی ازواج مطہرات آپ ﷺ کی دلبستگی کے لئے باتوں میں مشغول تھیں کہ بعض ازواج مطہرات یعنی ام سلمہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ نے کنیسہ کا ذکر کیا جس کو انہوں نے ملک حبشہ میں دیکھا تھا اور آپ ﷺ کی وہ ازواج مطہرات یعنی ام سلمہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ حبشہ جا چکی تھیں جہاں کے لوگ عیسائیت کے پیروکار تھے) چناچہ ان دونوں نے کنیسہ کی خوبصورتی اور اس میں بنی ہوئی تصویروں کا ذکر کیا، آنحضرت ﷺ نے یہ تذکرہ سن کر اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا کہ وہ لوگ (یعنی حبشہ والے یا انصاری ایسا کرتے ہیں کہ) جب ان میں سے کوئی نیک و صالح آدمی مرجاتا ہے تو وہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا لیتے ہیں (جس کو کنیسہ کہا جاتا ہے) اور اس کنیسہ میں (اپنے نیک و صالح لوگوں کی) یہ تصاویر بناتے ہیں وہ لوگ (حقیقت میں) اللہ کی بدترین مخلوق ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ قبروں پر عبادت گاہ بنانے اور ان قبروں کی طرف منہ کر کے عبادت کرنے کی وجہ سے وہ اللہ کی بدترین مخلوق میں شمار کئے جاتے ہیں۔