سب سے سخت عذاب کن لوگوں پر ہوگا
وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من قتل نبيا أو قتله نبي أو قتل أحد والديه والمصورون وعالم لم ينتفع بعلمه .
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سخت ترین عذاب اس شخص پر ہوگا جو نبی کو قتل کرے یا جہاد میں اس کو نبی قتل کرے یا جو والدین میں سے کسی ایک کو قتل کرے اور جو شخص تصویر بنائے، یا جو عالم اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھائے یعنی اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے ان پر بھی سخت ترین عذاب ہوگا۔
تشریح
جس شخص کو میدان جہاد میں کسی نبی نے قتل کیا ہوگا اس کا سخت ترین عذاب میں مبتلا ہونا ایک اور روایت سے بھی ثابت ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ اشتد غضب اللہ علی رجل تقتلہ رسول اللہ فی سبیل اللہ یعنی اللہ کا سخت ترین غضب (عذاب) اس شخص پر ہوگا جس کو اللہ کے رسول نے اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں قتل کیا ہوگا! کیونکہ اللہ کے رسول کا مقتول اصل میں وہی شخض ہوگا جو اللہ کے رسول کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوگا، جہاد کی قید کے ذریعہ گویا اس قتل کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے جو حد اور قصاص کے طور پر ہو۔
وعن علي رضي الله عنه أنه كان يقول الشطرنج هو ميسر الأعاجم .
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے۔ شطرنج عجمی لوگوں یعنی غیر مسلم قوموں کا جوا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم قوموں کے لوگ شطرنج کے ذریعہ حقیقۃ جوا کھیلتے ہیں یا شطرنج کھیلنا صورۃ ان کے جوئے کی مشابہت رکھتا ہے اور ان کی ہر طرح کی مشابہت اختیار کرنا ممنوع ہے۔
وعن ابن شهاب أن أبا موسى الأشعري قال لا يلعب بالشطرنج إلا خاطئ .
اور حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی اشعری ؓ نے فرمایا۔ شطرنج صرف وہ شخص کھیلتا ہے جو خطا کار ہو۔
وعنه أن سئل عن لعب الشطرنج فقال هي من الباطل ولا يحب الله الباطل . روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان .
اور حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ ان سے شطرنج کھیلنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کھیل ایک باطل شئے ہے اور اللہ تعالیٰ باطل کو پسند کرتا۔ مذکورہ بالا چاروں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
ہدایہ میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی جس شخص نے شطرنج یا نرد شیر کھیلا اس نے گویا سور کے خون میں اپنا ہاتھ ڈبویا کی بنیاد پر نرد شیر اور شطرنج کھیلنا مکروہ تحریمی ہے۔ جامع ضغیر میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ شطرنج کھیلنے والا ملعون ہے اور جس شخص نے دل چسپی ورغبت کے ساتھ شطرنج کی طرف دیکھا گویا اس نے سور کا گوشت کھایا۔ اور بعض کتابوں میں جو یہ نقل کیا گیا ہے کہ امام شافعی نے شطرنج کے کھیل کو کچھ شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے تو نصاب الاحتساب میں امام غزالی سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک بھی یہ کھیل مکروہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ شافعی پہلے اس کے جواز کے قائل رہے ہوں گے لیکن پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کرلیا، درمختار وغیرہ کتابوں میں لکھا ہے کہ اس طرح سب کھیل مکروہ ہیں۔
وعن أبي هريرة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتي دار قوم من الأنصار ودونهم دار فشق ذلك عليهم فقالوا يا رسول الله تأتي دار فلان ولا تأتي دارنا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأن في داركم كلبا . قالوا إن في دارهم سنورا فقال النبي صلى الله عليه وسلم السنور سبع . رواه الدارقطني .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ انصار میں سے بعض لوگوں کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے، حالانکہ ان کے پڑوس میں اور لوگوں کے بھی گھر تھے (لیکن آپ ﷺ ان کے یہاں نہیں جاتے تھے) ان لوگوں پر یہ بات بڑی گراں گزرتی تھی (کہ ہمارے پڑوس میں دوسرے لوگوں کے گھر تشریف لاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں نہیں آتے چناچہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ فلاں کے گھر تو تشریف لاتے ہیں لیکن ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے (ہم نے کیا قصور کیا ہے، کہ ہمارا گھر آپ ﷺ کی تشریف آوری کی سعادت سے محروم ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارے گھر اس لئے نہیں آتا تمہارے گھروں میں کتے پلے ہوئے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ ان کے گھروں میں بلی پلی ہوئی ہے (اور جس طرح کتا درندہ ہے اسی طرح بلی بھی درندہ ہے پھر دونوں میں کے درمیان یہ فرق کیسا ہے؟ ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلی درندہ ہے۔ (دارقطنی )