Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 80 of 317

1581Mishkaat-al-Masabih

خدا کی ذات سے رحمت ہی کی امید رکھو

وعن عبد الله بن عمر قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بمنكبي فقال : كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل . وكان ابن عمر يقول : إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء وخذ من صحتك لمرضك ومن حياتك لموتك . رواه البخاري

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیک گمان رکھتا ہو۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور بخشش پر کامل اعتقاد اور اس کے وعدہ رحم و کرم پر اعتقاد رکھنا چاہئے اور ہمہ وقت اس کے کرم اور اس کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہے۔ نیز یہ کہ ہر شخص اللہ کے ساتھ ہر وقت اچھا گمان رکھے کہیں ایسا نہ ہو کہ بدگمانی رحمت مایوسی کی حالت میں مرجائے اور وہ مبتلائے قہر الٰہی ہو۔ علماء نے لکھا ہے کہ اخروی سعادت کی علامت یہ ہے کہ زندگی کے پورے عرصے میں خوف غالب رہے اور جب مرنے کے قریب پہنچے تو اس کی رحمت و بخشش کی امید غالب رہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اللہ کے ساتھ نیک گمان رکھنے سے مراد نیک اعمال کرنا ہے۔ یعنی اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرنے چاہئیں تاکہ موت کے وقت اللہ کے ساتھ اچھا گمان رہے کیونکہ جس کی زندگی اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کی خاطر عبادات و نیک اعمال میں گزاری ہوگی۔ وہ مرنے کے وقت اللہ کے ساتھ یہی نیک گمان قائم کئے رہے گا کہ انشاء اللہ میرے ساتھ اچھا ہی معاملہ ہوگا اس کے برخلاف جس کی زندگی اللہ کی نافرمانی اور برے اعمال میں گزری ہوگی وہ موت کے وقت اللہ کے ساتھ برا ہی گمان رکھے گا کیونکہ جب موت سر پر کھڑی ہوگی تو اسے اپنی زندگی کے برے اعمال یاد آئیں گے اس وقت اسے یہ خیال پیدا ہوگا کہ میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں ہوگا۔ نیز علماء لکھتے ہیں کہ امید کی حقیقت یہ ہے کہ عمل کرے اور امید رکھے خدمت مولیٰ کرے اور نظر اس کی عطا پر رکھے نہ کہ جھوٹی امید جو عمل سے باز رکھے اور گناہوں کا باعث ہو، یہ امید نہیں ہے بلکہ آرزو اور غرور ہے۔ حضرت امام حسن بصری (رح) کا یہ قول منقول ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص (جو بےعمل ہے) یہ کہتا ہے کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہوں تو وہ جھوٹ کہتا ہے کیونکہ اگر وہ اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا تو نیک عمل بھی کرتا۔

1582Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن اللہ کا سب سے پہلا سوال

وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل موته بثلاثة أيام يقول : لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله . رواه مسلم

حضرت معاذ ابن جبل ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (ہمیں مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ بات بتادوں جو اللہ قیامت کے دن سب سے پہلے مؤمنین سے فرمائے گا اور وہ بات بھی بتادوں جو سب سے پہلے مؤمنین اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہاں رسول اللہ! (ہمیں ضرور بتا دیجئے) آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرمائے گا کہ کیا تم میری ملاقات کو پسند کرتے تھے مؤمنین عرض کریں گے کہ ہاں! اے ہمارے رب (ہم تیری ملاقات کو پسند کرتے تھے) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے؟ مؤمنین عرض کریں گے اس لئے کہ ہم تجھ سے معافی و درگزر اور تیری بخشش و مغفرت کی امید رکھتے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے لئے میری بخشش واجب ہوگئی۔ یہ روایت شرح السنۃ میں ابونعیم نے حلیہ میں نقل کی ہے۔ تشریح ہو سکتا ہے کہ ملاقات سے مراد دار آخرت کی طرف رجوع کرنا اور یہ بھی احتمال ہے کہ ملاقات سے مراد حق تعالیٰ کا دیدار ہو۔ ابن مالک (رح) نے کہا ہے حدیث میں لفظ لم کے بعد یہ الفاظ ہونے چاہئیں لای سبب اذنبتم یعنی حق تعالیٰ پھر فرمائے گا کہ تم نے کیوں گناہ کئے ہیں؟ لیکن صحیح یہی الفاظ ہیں لم احببتم لقائی یعنی میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

1583Mishkaat-al-Masabih

موت کو کثرت سے یاد کرو

عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن شئتم أنبأتكم ما أول ما يقول الله للمؤمنين يوم القيامة ؟ وما أول ما يقولون له ؟ قلنا : نعم يا رسول الله قال : إن الله يقول للمؤمنين هل أحببتم لقائي ؟ فيقولون نعم يا ربنا فيقول : لم ؟ فيقولون : رجونا عفوك ومغفرتك . فيقول : قد وجبت لكم مغفرتي . رواه في شرح السنة وأبو نعيم في الحلية

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (دنیا کی) لذتوں کو کھو دینے والی چیز کو، کہ جو موت ہے کثرت سے یاد کرو۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ ) تشریح صحیح یہی ہے کہ لفظ ہاذم ذال کے ساتھ ہے جس کے معنی ہیں قطع کرنے والا، چناچہ جن لوگوں نے دال کے ساتھ یعنی لفظ ہادم بمعنی ڈھالنے والا جو نقل کیا ہے صحیح نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ اس بارے میں کسی راوی سے چوک ہوگئی ہو۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرنا چاہئے کیونکہ موت کو یاد کرنے سے غفلت جو نیک اعمال کے راستہ میں رکاوٹ بنتی ہے دور ہوتی ہے، موت کی یاد دنیا (کے برے کاموں) کی مشغولیت سے باز رکھتی ہے اور موت کو یاد کرنے والا طاعات و عبادات کی طرف متوجہ رہتا ہے جو توشہ آخرت ہے۔ نسائی نے اس روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں۔ فانہ لا یذکر فی کثیر الا قللہ ولا فی قلیل الا کثرہ (ترجمہ) جب مال کی زیادتی میں موت یاد آتی ہے تو وہ مال کو کم کردیتی ہے (یعنی موت یاد آجانے کی وجہ سے مال کی طرف کوئی رغبت نہیں رہتی اور مال کو فانی سمجھنے لگتا ہے اس لئے اس وقت زیادہ مال بھی نظروں میں حقیر ہوجانے کی وجہ سے کم ہی محسوس ہوتا ہے) اور جب مال کی کمی میں موت یاد آجاتی ہے تو وہ مال کو زیادہ کردیتی ہے (یعنی جب موت یاد آتی ہے تو دنیا کو فانی سمجھ کر کم مال پر قناعت کرتا ہے اس لئے تھوڑا مال بھی زیادہ معلوم ہونے لگتا ہے۔

1584Mishkaat-al-Masabih

اللہ سے حیا کرنے کا حق

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثروا ذكر هاذم اللذات الموت . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ ایک روز نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اللہ سے حیاء کرو جیسا کہ حیاء کا حق ہے (یعنی جس طرح اللہ سے حیاء کرنی واجب ہے) اور جس حیاء کا وہ لائق ہے اس حیاء کا حق ادا کرو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا جو حق ہے اس حق کو ادا کرو) صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! ہم بلاشبہ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہیں (بایں طور کہ فی الجملہ اس کے اوامرو نواہی پر عمل کرتے ہیں) اور تعریف اللہ کے لئے ہے (یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ توفیق عطا فرمائی ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا حیاء کا حق یہ نہیں ہے جسے تم یہ کہتے ہو کہ ہم اللہ سے حیاء کرتے ہیں بلکہ (حیا کا حق تو یہ ہے کہ) جو شخص اللہ سے حیاء کرنے میں حیاء کا حق ادا کرے تو اسے چاہئے وہ سر کی اور جو کچھ سر کے ساتھ ہے اس کی محافظت کرے اور پیٹ کی اور جو کچھ پیٹ کے ساتھ ہے اس کی محافظت کرے اور اسے چاہئے کہ موت کو اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے اور جو شخص آخرت کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے وہ دنیا کی زینت و آرائش کو چھوڑ دیتا ہے لہٰذا جس شخص نے یہ (مذکورہ بالا ہدایت پر عمل) اس نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی اور حق حیاء ادا کیا احمد و ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح سر کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ سر جسے اللہ نے شرف مکرمت سے نوازا ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کے کام نہ آئے۔ سر کو جسے اللہ نے انسانی تقدس عطا فرمایا ہے انسان کے ہاتھوں تراشے گئے فانی بتوں اور خود انسانوں کے سامنے سجدہ ریز کر کے ذلیل نہ کیا جائے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اپنی دینداری کا سکہ جمانے کے لئے نماز نہ پڑھی جائے۔ سر کو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے جھکایا نہ جائے اور سر کو از راہ غرور وتکبر بلند نہ کیا جائے۔ سر کے ساتھ کی چیزوں سے مراد ہیں۔ زبان، آنکھ اور کان اور ان چیزوں کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ ان اعضاء کو گناہ سے بچایا جائے، جیسے زبان کو غیبت میں مبتلا نہ کیا جائے اور نہ جھوٹ بولا جائے آنکھ سے نامحرم اور گناہ کی چیزیں نہ دیکھی جائیں اور کان سے کسی کی غیبت اور جھوٹ مثلاً کہانی وغیرہ نہ سنی جائے۔ پیٹ کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ حرام اور مشتبہ چیزیں نہ کھائی جائیں۔ پیٹ کے ساتھ کی چیزوں سے جسم کے وہ حصے اور اعضاء مراد ہیں جو پیٹ سے ملے ہوئے ہیں، جیسے ستر، ہاتھ پاؤں اور دل وغیرہ، مطلب یہ ہے کہ جسم کے ان اعضاء اور حصوں کو بھی گناہ سے محفوظ رکھا جائے مثلاً ستر کو حرام کاری میں مبتلا نہ کیا جائے، گناہ و فواحش کی جگہ جیسے میلے، تماشے، ناچ گانے میں نہ جایا جائے کہ اس طرح پاؤں معصیت سے محفوظ رہیں گے ہاتھوں سے کسی کو کسی بھی طرح کی ایذاء نہ پہنچائی جائے۔ جیسے نہ کسی کو مارے پیٹے، نہ کسی کا مال چوری کر کے یا چھین کرلے اور نہ نامحرم کو ہاتھ لگائے، اسی طرح دل کو برے عقیدوں، گندے خیالات اور اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی یاد سے پاک رکھا جائے۔ آخر میں انسان کے جسم خاکی کے فانی ہونے کا احساس دلایا گیا ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ اس بات کو کبھی نہ بھولنا چاہئے کہ آخرت کا ایک نہ ایک دن اس دنیا سے تعلق ہوجائے گا اور یہ فانی جسم خواہ کتنا ہی حسین و جمیل اور باعظمت کیوں نہ ہو قبر کی آغوش میں سلا دیا جائے گا جہاں گوشت تو گوشت ہڈیا تک بوسیدہ وخاک ہوجائیں گی۔ پھر اس کے بعد آیت (ومن اراد الآخرۃ) الخ فرما کر ایک ضابطہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ جو شخص جانتا ہے کہ دنیا فانی ہے وہ دنیا اور دنیا کی لذات و خواہشات کو ترک کردیتا ہے، نیز یہ کہ جو شخص آخرت کے ثواب اور وہاں کی ابدی نعمتوں اور سعادتوں کی خواہش رکھتا ہے وہ دنیا کی ظاہری زیب وزینت چھوڑ دیتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں پورے کمال کے ساتھ کسی ایک شخص میں یہاں تک کہ اولیاء میں بھی جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس حدیث کو لوگوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ بیان کرنا، اس کی اشاعت کرنا اور اس کے مفہوم و مطالب سے عوام کو باخبر کرنا بڑی سعادت اور فضیلت کی بات ہے، چناچہ نووی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو کثرت کے ساتھ ذکر وبیان کرنا مستحب ہے۔

1585Mishkaat-al-Masabih

موت تحفہ مومن ہے

وعن ابن مسعود أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال ذات يوم لأصحابه : استحيوا من الله حق الحياء قالوا : إنا نستحيي من الله يا نبي الله والحمد لله قال : ليس ذلك ولكن من استحيى من الله حق الحياء فليحفظ الرأس وما وعى وليحفظ البطن وما حوى وليذكر الموت والبلى ومن أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيى من الله حق الحياء . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن کا تحفہ موت ہے اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ مومن کے حق میں موت اللہ تعالیٰ کی جانب سے بمنزلہ تحفہ ہے، کیونکہ مومن موت کے ذریعہ آ کر کے اجر وثواب اور وہاں کے بلند درجات کو پہنچتا ہے۔

1586Mishkaat-al-Masabih

پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرنے کا مطلب اور اس کی حقیقت

وعن عبد الله بن عمرو قال ك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تحفة المؤمن الموت . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ پیشانی کے پسینہ کے ساتھ مرنا جان کنی کی شدت سے کنایہ ہے جس کے سبب سے مرنے والے کے گناہ دور ہوتے ہیں اور آخرت میں اس کے مرتبے بلند ہوتے ہیں۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ مومن تا دم مرگ حلال روزی کی طلب میں مشقت و محنت اٹھاتا ہے اور عبادت میں ریاضت و مجاہدہ کرتا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ مرنے کے وقت پیشانی پر پسینہ آنا سعادت و بھلائی کی علامت ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ موت مومن کے لئے مشقت و شدت اور کرب و تکلیف کا سبب نہیں ہے سوائے اس کے کہ صرف اس کی پیشانی عرق آلود ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔

1587Mishkaat-al-Masabih

ناگہانی موت

وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يموت بعرق الجبين . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت عبیداللہ بن خالد راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ناگہانی موت (اللہ کے) غضب کی پکڑ ہے۔ ( ابوداؤد) بیہقی نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ غضب کی پکڑ کافر کے لئے ہے۔ مگر مومن کے لئے رحمت ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ ناگہانی موت غضب الٰہی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اچانک موت واقع ہوجانے کی صورت میں مرنے والے کو اتنی بھی مہلت نہیں ملتی کہ سفر آخرت کی تیاری کرے بایں طور کہ توبہ و استغفار کر کے اپنے گناہوں کی بخشش چاہے اور نیک و صالح اعمال کر کے بارگاہ رب العزت میں سرخروئی حاصل کرے لیکن علماء لکھتے ہیں کہ یہ یعنی ناگہانی موت کو غضب کی پکڑ فرمانا کافروں کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے ہے جو نیک راستہ پر نہیں ہیں جیسا کہ حدیث کے آخری الفاظ سے کہ جسے بیہقی اور رزین نے نقل کیا ہے معلوم ہوتا ہے۔ گویا حاصل کلام یہ ہوا کہ ناگہانی موت اچھے و نیک لوگوں کے لئے اچھی چیز ہے اور برے و بدکار لوگوں کے لئے بری چیز ہے۔

1588Mishkaat-al-Masabih

موت کے وقت رحمت خداوندی کی امید

وعن عبيد الله بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : موت الفجاءة أخذة الأسف . رواه أبو داود وزاد البيهقي في شعب الإيمان ورزين في كتابه : أخذة الأسف للكافر ورحمة للمؤمن

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) نبی کریم ﷺ ایک جوان کے پاس تشریف لے گئے جو سکرات الموت میں مبتلا تھا آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم اپنے آپ کو کس حال میں پاتے ہو؟ (یعنی اس وقت آیا تمہارا دل رحمت الٰہی کی امید سے بھر پور ہے یا غضب الٰہی سے ہراساں وترساں؟ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں (یعنی اپنے آپ کو رحمت الٰہی کا امید وار پاتا ہوں) لیکن اس کے باوجود اپنے گناہوں سے خوف زدہ (بھی) ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب ایسے وقت میں بندہ کے دل میں خوف وامید (دونوں) جمع ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عنایت فرماتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے (یعنی اپنی رحمت) اور اسے اس چیز سے (یعنی عذاب سے) امن میں رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے (ترمذی، ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ایسے وقت سے مراد یا تو خاص طور پر سکرات الموت کا وقت ہے یا پھر ایسے اوقات بھی مراد ہیں جو سکرات الموت کے وقت کی طرح ہوتے ہیں جن میں انسان حکما بالکل موت کے کنارے پر ہوتا ہے جیسے لڑائی کا وقت یا قصاص کا وقت یا اسی قسم کے دوسرے اوقات۔

1589Mishkaat-al-Masabih

نیک اعمال میں زیادتی کے لئے درازی عمر باعث سعادت ہے

وعن أنس قال : دخل النبي على شاب وهو في الموت فقال : كيف تجدك ؟ قال : أرجوالله يا رسول الله وإني أخاف ذنوبي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجتمعان في قلب عبد في مثل هذا الموطن إلا أعطاه الله ما يرجو وآمنه مما يخاف . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا موت کی آرزو نہ کرو کیونکہ جان کنی کا خوف سخت ہے، بیشک یہ نیک بختی ہے کہ بندہ کی عمر دراز ہو اور اللہ تعالیٰ اسے طاعات کی طرف پھیر دے (احمد) تشریح مطلع اس بلند جگہ کو کہتے ہیں جس پر چرھ کر کسی چیز کو دیکھتے ہیں یہاں حدیث کے الفاظ میں مطلع سے مراد سکرات الموت اور اس کی سختی ہے کہ پہلے انسان اس میں گرفتار ہوتا ہے پھر مرتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ موت کی آرزو میں کوئی فائدہ اور نیک بختی نہیں ہے، جو شخص موت کی آرزو کرتا ہے وہ غم و آلام کی سختی دل شکستگی اور صبر و عزم کی کمی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے لہٰذا مرتے وقت اس کا غم اور اس کی دل شکستگی و مایوسی اور زیادہ ہوگی اور ایسے میں غضب الٰہی کا مستحق بھی ہوگا اس لئے موت کی آرزو سے کیا فائدہ؟ اس سے معلوم ہوا کہ بےصبری اور دل شکستگی و مایوسی کی وجہ سے موت کی آرزو ممنوع ہے ہاں دیدار الٰہی کے اشتیاق و شوق اور عالم آخرت کی محبت کی وجہ سے موت کی آرزو جائز ہے۔ حدیث کے الفاظ ان من السعادۃ سے آرزوئے موت کی ممانعت کی دوسری علت یہ بیان فرمائی جا رہی ہے کہ موت کی آرزو نہ کرو کیونکہ موت تو خود ایک نہ ایک دن آنے ہی والی ہے، دنیا کی اس چند روزہ زندگی کو غنیمت جانو اور اس زندگی میں آخرت کے لئے جو کچھ توشہ تیار کرسکتے ہو کرلو، یعنی نیک اعمال کئے جاؤ تاکہ جب موت آ ہی جائے اور تم اس دنیا سے دارالبقاء کو سدھارو تو تمہارا دامن نیک و صالح اعمال کی سعادت سے بھرپور ہو۔ الدنیا مزرع الآخرۃ یعنی یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، یہاں نیک اعمال کرو گے تو وہاں کام آئیں گے۔

1590Mishkaat-al-Masabih

نیک اعمال میں زیادتی کے لئے درازی عمر باعث سعادت ہے

عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تمنوا الموت فإن هول المطلع شديد وإن من السعادة أن يطول عمر العبد ويرزقه الله عز و جل الإنابة . رواه أحمد

حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) ہم لوگ رسول کریم ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے، آپ ﷺ نے پند و نصیحت فرمائی اور (آخرت کا خوف دلا کر) ہمارے دلوں کو نرم کردیا، چناچہ حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ رونے لگے اور بہت روئے اور پھر کہنے لگے کہ کاش میں بچپن ہی میں مرجاتا (تو گنہگار نہ ہوتا اور عذاب آخرت سے نجات پاتا) آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ سعد! کیا تم میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو؟ اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین بار کہے اور پھر ارشاد فرمایا سعد! اگر تم جنت کے لئے پیدا کئے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر دراز ہوگی اور جتنے اچھے اعمال ہوں گے اسی قدر تمہارے لئے بہتر ہوگا (احمد) تشریح آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کیا تم میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو؟ کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد تو موت کی آرزو کے لئے کوئی وجہ ہوسکتی ہے مگر میرے ہوتے ہوئے موت کی آرزو کیسی؟ کیوں کہ میرے جمال باکمال کا دیدار اور میری صحبت کا شرف عظیم تمہارے لئے ہر نعمت سے بہتر اور اعلیٰ ہے اگرچہ میرے سامنے مرنے کے بعد تمہیں وہاں کے اعلیٰ مراتب اور نعمتیں ہی کیوں نہ حاصل ہوں اور اس میں کیا شک کہ سرکار دو عالم ﷺ کے روئے مقدس اور چہرہ مبارک کے دیدار کے مرتبہ عظیم کو اور کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔ ایک مرد عارف سے کسی شخص نے پوچھا کہ مؤمن کے لئے جینا بہتر ہے یا مرنا؟ اس نے عارفانہ جواب دیا زمانہ نبوت میں جب کہ سرکار دو عالم ﷺ کے جمال جہاں کے دیدار کی نعمت عظمیٰ حاصل تھی مومن کے لئے جینا بہتر تھا اور اب ان کے بعد تو مرنا ہی بہتر ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کے بعد دوسری شق ذکر نہیں فرمائی گئی ہے جو گویا یہاں محذوف ہے اور وہ یہ ہے کہ (وان کنت خلقت للنار فلا خیر فی موتک ولا یحسن السراع الیہ)۔ یعنی اور اگر تم (نعوذ باللہ) آگ کے لئے پیدا کئے گئے ہو تو جب بھی نہ مرنے میں بھلائی ہے اور نہ موت کے لئے جلدی کرنی اچھی بات ہے۔

1591Mishkaat-al-Masabih

حضرت خ کا واقعہ

وعن أبي أمامة قال : جلسنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا ورققنا فبكى سعد بن أبي وقاص فأكثر البكاء فقال : يا ليتني مت . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا سعد أعندي تتمنى الموت ؟ فردد ذلك ثلاث مرات ثم قال : يا سعد إن كنت خلقت للجنة فما طال عمرك وحسن من عملك فهو خير لك . رواه أحمد

حضرت حارثہ بن مضرب (تابعی) فرماتے ہیں کہ میں حضرت خباب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ (وہ بیمار تھے) اور انہوں نے اپنے بدن پر سات جگہ داغ لگوائے تھے چناچہ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اگر میں نے رسول پاک ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نہ سنا ہوتا تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے تو میں ضرور موت کی آرزو کرتا۔ میں نے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ اپنے تئیں دیکھا ہے میں ایک درہم کا مالک بھی نہیں تھا اور اب یہ حال ہے کہ میرے گھر کے کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں حضرت حارثہ فرماتے ہیں پھر حضرت خباب کے پاس ان کا کفن لایا گیا ( جو بہت اعلیٰ اور نفیس تھا) انہوں نے جب اسے دیکھا تو رونے لگے اور فرمایا کہ اگرچہ یہ کفن جائز ہے (لیکن) حضرت امیر حمزہ ؓ کو (پورا) کفن نہیں ملا صرف ایک سیاہ اور سفید دھاری والی چادر تھی اور (وہ بھی اتنی چھوٹی تھی) جب ان کے سر پر اوڑھائی جاتی تو پیر کھل جاتے تھے اور جب ان کے پیر پر ڈالی جاتی تھی تو سر کھل جاتا تھا۔ آخر کار اس چادر سے سر کو ڈھانک دیا گیا اور پیروں کو اذخر سے چھپایا گیا اس روایت کو احمد اور ترمذی نے نقل کیا ہے لیکن ترمذی نے ثم اتی بکفنہ سے آخر تک الفاظ نقل نہیں کئے ہیں۔ تشریح حضرت خباب بن ارت ؓ جلیل القدر صحابی ہیں پہلے اسلام لانے والوں میں شمار کئے جاتے تھے یہی وہ مرد حق آگاہ ہیں جنہوں کفار کے طلم و ستم کے اس خشمگین ماحول میں سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بےانتہا تکلیف و سختیوں اور ظلم ستم میں مبتلا کئے گئے حضرت خباب بدر اور دوسرے جہادوں میں شریک ہوئے ہیں اور ٤٣ ھ میں واصل بحق ہوئے۔ ؓ۔ بدن پر داغ لگوانے اس زمانہ میں بہت سے امراض میں ایک معروف علاج تھا۔ ایک موقع پر اس سے منع فرمایا گیا ہے مگر بعض علماء نے وضاحت کی ہے کہ یہ ممانعت اس لئے فرمائی گئی تھی کہ اس طریقہ علاج کو اختیار کرنے والے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اس سے شفا ہوتی ہے لہٰذا اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ اعتقاد یہ ہو کہ یہ طریقہ علاج تو صرف ایک ظاہر سبب کے درجہ میں ہے شفا دینے والا اللہ ہی ہے تو پھر اس طریقہ علاج کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یا یہ کہا جائے گا کہ یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ فی الواقع اس طریقہ علاج کی ضرورت و حاجت نہ ہو۔ حضرت خباب کی طرف سے آرزوئے موت یا تو اس لئے تھی کہ وہ اس مرض کی شدت سے کہ جس کے لئے انہوں نے داغ لگوائے تھے بہت زیادہ بےقرار و بےتاب تھے یا پھر اس کی وجہ ان کی تونگر اور مالداری تھی کہ ان کا یہ احساس تھا کہ مال و زر یہ افراط وبہتات کہیں میرے پائے استقامت میں کوئی لغزش پیدا نہ کر دے جس کی وجہ سے میں آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤں اور یہی وجہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ ان کے یہ الفاظ ولقد رایتنی الخ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ حضرت حمزہ ؓ عبدالمطلب کے صاحبزادے اور آنحضر ﷺ کے چچا تھے، جنگ احد میں آپ نے شہادت پائی اور سیدالشہدا کے لقب سے یاد فرمائے گئے۔ اذخر وہاں کی ایک گھاس کا نام ہے جو خوشبودار ہوتی ہے۔ یہ گھاس چھت کے تختوں پر بچھائی جاتی ہے اور دوسری بہت سی ضروریات میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صبر کرنے والا مفلس و تنگ دست، شکر کرنے والے مالدار سے افضل ہے کیونکہ حضرت خباب جیسے جلیل القدر صحابی نے اپنے حال پر کہ انہیں مالداری و تونگری حاصل تھی اور ظاہر ہے کہ ان کے شاکر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں تھا۔ تاسف کیا۔

1592Mishkaat-al-Masabih

قریب المرگ کے سامنے جو چیز پڑھی جاتی ہے اس کا بیان

عن حارثة بن مضرب قال : دخلت على خباب وقد اكتوى سبعا فقال : لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يتمن أحدكم الموت لتمنيته . ولقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أملك درهما وإن في جانب بيتي الآن لأربعين ألف درهم قال ثم أتى بكفنه فلما رآه بكى وقال لكن حمزة لم يوجد له كفن إلا بردة ملحاء إذا جعلت على رأسه قلصت عن قدميه وإذا جعلت على قدميه قلصت عن رأسه حتى مدت على رأسه وجعل على قدميه الأذخر . رواه أحمد والترمذي إلا أنه لم يذكر : ثم أتي بكفنه إلى آخره

قریب المرگ سے مراہ وہ مریض ہے جس پر علامات موت ظاہر ہونے لگیں اور علماء نے لکھا ہے کہ علامات موت یہ ہے کہ مریض کے پاؤں سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا جائے تو کھڑے نہ ہو سکیں، ناک کا بانسہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے کنپٹیاں بیٹھ جاتی ہیں اور بیضتین کا پوست لٹک جاتا ہے۔ اور قریب المرگ کے پاس پڑھی جانے والی چیز سے مراد ہے کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین، سورت یسین کی تلاوت، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا اور دعائے مغفرت وغیرہ۔

1593Mishkaat-al-Masabih

قریب المرگ کو تلقین

عن أبي سعيد وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقنوا موتاكم لا إله إلا الله . رواه مسلم

حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ قریب المرگ ہوں انہیں (کلمہ) لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو (مسلم) تشریح تلقین کے معنی پڑھنا ہیں تلقین سے مراد قریب المرگ کے رو برو کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھنا، تاکہ وہ بھی سن کر پڑھے مگر قریب المرگ سے نہ کہا جائے یہ تم بھی پڑھو مبادا کہ شدت مرض یا بدحواسی کے سبب اس کے منہ سے انکار نکل جائے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ تلقین مستحب ہے۔

1594Mishkaat-al-Masabih

مریض وقریب المرگ کے سامنے بھلائی کے کلمات ہی کہے جائیں

وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا حضرتم المريض أو الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون . رواه مسلم

حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم کسی مریض کے پاس یا قریب المرگ کے پاس جاؤ تو منہ سے خیر و بھلائی کے کلمات نکالو کیونکہ تمہاری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے (خواہ دعائے خیر و بھلائی ہو یا دعاء شر و بد) فرشتے آمین کہتے ہیں (مسلم) تشریح حدیث کے لفظ میت سے میت حکمی یعنی قریب المرگ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور میت حقیقی یعنی وہ مردہ بھی مراد ہوسکتا ہے لہٰذا اگر میت حکمی مراد ہوگا تو لفظ او راوی کے شک کے اظہار کے لئے ہوگا اور اگر میت حقیقی مراد لیا جائے تو لفظ او تنویع کے لئے ہوگا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مریض و قریب المرگ کے سامنے اپنی زبان سے خیر و بھلائی کے کلمات ادا کرو بایں طور کہ اپنے لئے تو خیر کی، مریض کے لئے شفا کی اور میت کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔

1595Mishkaat-al-Masabih

مصیبت کے وقت صبر و رضا کا اجر

وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم تصيبه مصيبة فيقول ما أمره الله به : ( إنا لله وإنا إليه راجعون ) اللهم آجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها إلا أخلف الله له خيرا منها . فلما مات أبو سلمة قالت : أي المسلمين خير من أبي سلمة ؟ أول بيت هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم إني قلتها فأخلف الله لي رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کسی (چھوٹی یا بڑی) مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ الفاظ کہتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی طرف ہم کو واپس جانا ہے۔ دعا (اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا) اے اللہ! میری مصیبت پر مجھے ثواب دے (اور اس مصیبت میں) جو چیز میرے ہاتھ سے گئی ہے اس کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس چیز کا بہتر بدلہ عطا فرماتا ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہ ؓ (یعنی میرے پہلے شوہر) کا انتقال ہوا تو میں نے کہا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہوگا وہ ابوسلمہ جنہوں نے سب سے پہلے مع اہل و عیال کے آنحضرت ﷺ کی طرف ہجرت کی اور پھر میں نے مذکورہ بالا کلمات کہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابوسلمہ کے بدلے میں آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا یعنی میں آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئی)۔ (مسلم) تشریح انا للہ وانا الیہ راجعون کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور جو چیزیں کہ ہماری کہلاتی ہیں سب اللہ ہی کی ملکیت اور اس کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ہم لوٹ کر اسی طرف جانے والے ہیں گویا اس آیت میں یہ تسلیم و اقرار ہے کہ خود ہماری جان اور ہماری ذات اور وہ چیزیں جن کا ہم اپنے کو مالک سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے اختیار میں ہیں اور ہماری طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے وہ سب کی سب حقیقت میں اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ہمارے پاس تو وہ صرف عاریتا ہیں۔ اللہ ہی کی طرف سے ہماری ابتداء ہوئی اور اس کی طرف ہماری انتہا بھی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس مضمون کو اپنے قلب و دماغ میں راسخ کرے اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہو اس مصیبت پر صبر و رضا کے دامن کو پکڑے رہے تو اس کے لئے وہی مصیبت کی ہر مصیبت آسان و سہل ہوجاتی ہے لیکن اتنی بات جان لینی چاہئے کہ مصیبت و بلاء پر جزع و فزع کے ساتھ اس آیت کو محض زبان سے ادا کرنا چنداں مفید نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ اشکال پیدا ہو کہ مذکورہ بالا آیت و کلمات کے پڑھنے کا حکم بیان نہیں فرمایا تو پھر ارشاد گرامی کے اس جزء، فیقول ما امرہ اللہ بہ ( اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ کہے) کا کیا مطلب ہے؟ تو اس کا جواب مختصر طور پر یہ ہوگا کہ جب اس آیت اور مذکورہ بالا کلمات کے پڑھنے والے کی فضیلت بیان فرما دی تو گویا یہ حکم ہی فرمایا گیا ہے۔ لفظ اجرنی ہمزہ (الف) کے جزم اور جیم کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اور ہمزہ کے زبر اور جیم کے زیر کے ساتھ بھی منقول ہے مگر دونوں کا معنی و مراد ایک ہی ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے اس ارشاد فلما مات ابوسلمہ (جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا الخ) کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ پہلے سے سن رکھی تھی، چناچہ جب میرے خاوند ابوسلمہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے سامنے وفات پائی تو آپ کے حکم کی بجا آوری کی خاطر اور فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے چاہا کہ یہی کلمات پڑھو مگر میرے دل میں یہ خیال ہوا کہ حضرت ابوسلمہ سے بہتر اور کون شخص ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ابوسلمہ کے بدلہ میں مجھے بطور خاوند عطا فرمائے گا۔ چناچہ ام سلمہ حضرت ابوسلمہ کی فضیلت بیان کرتی ہیں کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ گئے تھے۔ ان میں حضرت ابوسلمہ ؓ ہی وہ سب سے پہلے مرد حق آگاہ تھے جنہوں نے اپنے اہل و عیال سمیت ہجرت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ حضرت ابوسلمہ آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی بھی تھے اس کے بعد حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ باوجود اس خلجان کے میں نے مذکورہ کلمات پڑھے جس کے سبب سے مجھے دنیا و آخرت کی سب سے عطیم سعادت و فضیلت حاصل ہوئی یعنی آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئی جو افضل البشر ہیں۔

1596Mishkaat-al-Masabih

میت کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا

وعن أم سلمة قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سلمة قد شق بصره فأغمضه ثم قال : إن الروح إذا قبض تبعه البصر فضج ناس من أهله فقال : لا تدعوا على أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون على ماتقولون ثم قال : اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وافسح له في قبره ونور له فيه . رواه مسلم

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (میرے پہلے شوہر) حضرت ابوسلمہ کے پاس اس وقت تشریف لائے جب کہ ان کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں چناچہ آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے۔ ابوسلمہ کے اہل بیت (یہ سن کر) سمجھ گئے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا چناچہ وہ سب رونے، چلانے لگے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے نفسوں کے بارے میں خیر و بھلائی ہی کی دعا کرو (یعنی واویلا اور بد دعا نہ کرو) کیونکہ تم (بری یا بھلی) جس دعا کے بھی الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دعا ارشاد فرمائی۔ (اللہم اغفر لابی سلمہ وارفع درجتہ فی المہدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین وغفرلنا ولہ یا رب العالمین وافسح لہ فی قبرہ ونور لہ فیہ)۔ اے اللہ٫ ابوسلمہ کو بخش دے اور اس کا مرتبہ بلند فرما ان لوگوں میں جو سیدھی راہ دکھائے گئے ہیں اور اس کے پسماندگان کا جو باقی رہے ہوئے لوگوں میں ہیں کا رساز بن جا اور اے دونوں جہاں کے پروردگار! ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں کشادگی کر اور اس کے لئے قبر کو منور فرما دے۔ آمین۔ (مسلم) تشریح ارشاد گرامی کے الفاظ ان الروح اذا قبض الخ کے ذریعہ گویا آپ اغماض یعنی آنکھیں بند کرنے کی علت بیان فرما رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنکھوں کو اس لئے بند کردیا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے لہٰذا آنکھیں کھلی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

1597Mishkaat-al-Masabih

آخری کلام کلمہ طیبہ دخول جنت کی ضمانت

عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة رواه أبو داود

حضرت معاذ بن جبل ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کا آخری کلام الا الہ الا اللہ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ( ابوداؤد ) تشریح مراد یہ ہے کہ جو شخص آخری وقت میں پورا کلمہ طیب لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اب یہ احتمال ہے کہ چاہے تو یہ دخول جنت عذاب سے پہلے دخول خاص ہے یا اپنے گناہوں کے بقدر عذاب دیئے جانے کے بعد ہو۔ لیکن پہلا ہی احتمال صحیح معلوم ہوتا ہے تاکہ ان مومنین میں جو کلمہ طیب پڑھتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کریں اور ان مومنین میں کہ جن کا آخری کلام کلمہ طیب نہ ہو امتیاز پیدا ہوجائے۔

1598Mishkaat-al-Masabih

قریب المرگ کے سامنے سورت یٰسین پڑھنے کا حکم

وعن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤوا سورة ( يس ) على موتاكم . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حضرت معقل بن یسار ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے مردوں کے سامنے سورت یٰسین پڑھو (احمد ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں۔ اس صورت میں سورت یٰسین پڑھنے کی حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ قریب المرگ اس سورت میں مذکورہ مضامین مثلاً ذکراللہ، احوال قیامت، بعث اور اسی قسم کے دوسرے عجیب و بدیع مضامین سے لطف اندوز ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث میں لفظ مردوں سے مراد قریب المرگ نہ ہوں بلکہ حقیقی مردے مراد ہوں اس صورت میں اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سورت یٰسین مردہ کے پاس اس کے گھر میں دفن سے پہلے دفن کے بعد اس کی قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔ ابن مردویہ (رح) وغیرہ نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس میت (یعنی قریب المرگ یا حقیقی میت) کے سر کے پاس سورت یٰسین پڑھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرماتا ہے۔ ابن عدی (رح) وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی (یعنی صرف ماں کی یا صرف باپ کی) قبر پر ہر جمعہ کو جاتا ہے اور پھر وہاں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو صاحب قبر کے لئے سورت یٰسین کے تمام حروف کی تعداد کے بقدر مغفرت عطا کی جاتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جمعہ سے مراد حسب ظاہر خاص طور پر یوم جمعہ بھی ہوسکتا ہے اور پورا ہفتہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔

1599Mishkaat-al-Masabih

مسلمان میت کو بوسہ دینا جائز ہے

وعن عائشة قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي حتى سال دموع النبي صلى الله عليه و سلم على وجه عثمان . رواه الترمذي و أبو داود وابن ماجه

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد ان کو بوسہ دیا اور ان کی مٹی پر روئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آنسو حضرت عثمان کے چہرے پر (ٹپک کر) بہہ نکلے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون ؓ ہی کا سب سے پہلے انتقال مدینہ میں ہوا ہے چناچہ سب سے پہلے یہی بقیع میں دفن کئے گئے جس کے بعد بقیع کو قبرستان کی حیثیت دی گئی آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پتھر اٹھا کر ان کی قبر پر بطور نشان کے رکھا۔ ؓ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان میت کو دفن کرنے سے پہلے بوسا دینا اور مسلمان میت پر آنسوؤں کے ساتھ رونا جائز ہے۔

1600Mishkaat-al-Masabih

مسلمان میت کو بوسہ دینا جائز ہے

وعن عائشة قالت : إن أبا بكر قبل النبي صلى الله عليه و سلم وهو ميت . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے جسد اطہر پر بوسہ دیا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)