تجہیز وتکفین میں جلدی کرنی چاہئے
وعن حصين بن وحوح أن طلحة بن البراء مرض فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده فقال : إني لا أرى طلحة إلا قد حدث به الموت فآذنوني به وعجلوا فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله . رواه أبو داود
حضرت حصین ابن وحوح ؓ فرماتے ہیں کہ طلحہ بن براء ؓ بیمار ہوئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور (ان کے اہل بیت سے) فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت آگئی ہے (یعنی ان پر علامات موت ظاہر ہونے لگی ہیں) لہٰذا جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے (فورا) خبر دینا۔ (تاکہ میں ان کی نماز پڑھنے کے لئے آسکوں) اور تم تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اسے لوگوں کے درمیان روکے رکھا جائے ( ابوداؤد )
تشریح
اگر میت کی تکفین و تدفین میں تاخیر ہو تو لاش کے سڑ جانے کا خوف ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ لاش کے سڑ جانے سے لوگ اس سے بےاعتنائی اور نفرت کا معاملہ کرتے ہیں اس صورت میں میت کی حقارت اور توہین ہوتی ہے مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ معظم و مکرم پیدا فرماتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس کی تکفین و تدفین میں جلدی کرو تاکہ مذکورہ بالا صورت پیدا نہ ہو سکے۔
وعن عبد الله بن جعفر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقنوا موتاكم لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين قالوا : يا رسول الله كيف للأحياء ؟ قال : أجود وأجود . رواه ابن ماجه
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ قریب المرگ کو اس کلمہ کی تلقین کرو، دعا (لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم الحمدللہ رب العالمین)۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بردبار و بزرگ ہے پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کی ہیں جو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! تندرستوں کو یہ کلمہ سکھانا کیسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بہتر اور بہت بہتر۔ (ابن ماجہ)
تشریح
ابن عساکر (رح) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے رسول کریم ﷺ سے چند کلمات سنے ہیں کہ جو شخص انہیں اپنے انتقال کے وقت پڑھ لے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور وہ کلمات یہ ہیں۔ لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم تین مرتبہ الحمدللہ رب العالمین تین مرتبہ اور اس کے بعد آیت (تبارک الذی بیدہ المک یحییٰ ویمیت وھو علی کل چیز قدیر)۔
مومن اور کافر کی روح قبض ہونے کا بیان
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الميت تحضره الملائكة فإذا كان الرجل صالحا قالوا : اخرجي أيتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب اخرجي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال : من هذا ؟ فيقولون : فلان فيقال : مرحبا بالنفس الطيبة كانت في الجسد الطيب ادخلي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تنتهي إلى السماء التي فيها الله فإذا كان الرجل السوء قال : اخرجي أيتها النفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث اخرجي ذميمة وأبشري بحميم وغساق وآخر من شكله أزواج فما تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال : من هذا ؟ فيقال : فلان فيقال : لا مرحبا بالنفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث ارجعي ذميمة فإنها لا تفتح له أبواب السماء فترسل من السماء ثم تصير إلى القبر . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قریب المرگ ہوتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک و صالح ہوتا ہے تو (اس کی روح سے رحمت کے) فرشتے کہتے ہیں کہ اے پاک جان جو پاک بدن میں تھی! اس حال میں (جسم سے) نکل کہ (خدا اور مخلوق کے نزدیک) تیری تعریف کی گئی ہے اور تجھے خوشخبری ہو دائمی راحت و سکون کی، جنت کے پاک رزق کی اور اللہ سے ملاقات کی جو (تجھ پر) غضبناک نہیں ہے۔ قریب المرگ کے سامنے فرشتے برابر یہی بات کہتے ہیں یہاں تک کہ روح (خوشی خوشی) باہر نکل آتی ہے اور پھر فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں، آسمان کا دروازہ اس کے لئے (فرشتوں کے کہنے سے یا پہلے ہی سے) کھول دیا جاتا ہے (آسمان کے دربان) پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے؟ اسے لے جانے والے فرشتے (اس کا نام و نسب بتا کر) کہتے ہیں کہ یہ فلاں شخص (کی روح) ہے۔ پس کہا جاتا ہے کہ آفرین ہو اس جان پاک کو جو پاک بدن میں تھی اور ( اے پاک جان آسمان میں) داخل ہو اس حال میں کہ تیری تعریف کی گئی اور خوشخبری ہو تجھے راحت کی، پاک رزق کی اور پروردگار سے ملاقات کی جو غضبناک نہیں ہے۔ اس روح سے برابر یہی بات کہی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس آسمان پر (یعنی عرش پر) پہنچ جاتی ہے۔ جہاں اللہ رب العزت کی رحمت خاص جلوہ فرما ہے!۔ اور اگر وہ برا (یعنی کافر) ہوتا ہے تو ملک الموت کہتے ہیں کہ اے خبیث جان جو پلید بدن میں اس حال میں (جسم سے) باہر نکل کہ تیری برائی کی گئی ہے اور یہ بری خبر سن لے کہ گرم پانی، پیپ اور ان کے علاوہ دوسری طرح کے عذاب تیرے منتظر ہیں۔ اس بدبخت قریب المرگ کے سامنے بار بار یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح (بادل نخواستہ) باہر نکل آتی ہے پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے (تاکہ اس کی ذلت و خواری اس پر ظاہر کردی جائے) جب اس کے لئے آسمان کے دروازے کھلوائے جاتے ہیں تو دربانوں کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون شخص ہے؟ جواب دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص! پس کہا جاتا ہے کہ نفریں ہو اس خبیث جان پر جو پلید جسم میں تھی اور (اے خبیث جان) واپس چلی جا اس حال میں کہ تیری برائی کی گئی ہے اور تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ چناچہ اسے آسمان سے پھینک دیا جاتا ہے اور وہ قبر کی طرف آجاتی ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قریب المرگ کے پاس اس کی روح قبض کرنے کے لئے رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آتے ہیں، اگر قریب المرگ نیک و صالح ہوتا ہے تو رحمت کے فرشتے اپنا کام کرتے ہیں اور قریب المرگ بدکار ہوتا ہے تو پھر عذاب کے فرشتے اپنا کام کرتے ہیں۔ نیک و صالح سے یا عمومی طور پر مومن مراد ہے یا پھر وہ نیک بخت مراد ہے جو حقوق اللہ حقوق العباد دونوں ادا کرتا ہے اور اس کی زندگی اطاعت و فرمانبردار کی راہ پر گزری ہو۔ حدیث میں نیک و صالح اور کافر کی روح قبض کرنے کے بارے میں تو تفصیل بتائی گئی ہے لیکن فاسق کے بارے میں بالکل سکوت اختیار کیا گیا کیونکہ فاسق کے بارے میں کتاب و سنت کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ خوف ورجاء کے درمیان رہے۔ مومن اور کافر کی روح کے درمیان اس امتیاز اور فرق کو بھی واضح کردیا گیا ہے کہ کافر کی روح تو آسمان سے دھتکار دی جاتی ہے اور اسے ہمیشہ کے لئے اسفل السافلین میں قید کردیا جاتا ہے بخلاف مومن صالح کی روح کے کہ اسے آزادی حاصل ہوتی ہے اور آسمان و زمین میں جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہے، جنت میں میوے کھاتی ہے، عرش کے نیچے قندیلوں کی طرف اپنی جگہ اختیار کرتی ہے۔ پھر یہ کہ اسے قبر اپنے جسم کے ساتھ بھی تعلق رہتا ہے بایں طور کہ مردہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے سکوت و راحت سے لطف اندوز ہوتا ہے، دولھا کی نیند سوتا ہے اور اپنے اپنے حسب مراتب و درجات جنت میں اپنا مسکن دیکھتا رہتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ رہے کہ روح کا معاملہ اور برزخ کے احوال اگرچہ خوارق عادات میں سے ہیں کہ ہماری دنیاوی زندگی ان سے مانوس و متعارف نہیں لیکن اس امور کے وقوع کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔
مومن اور کافر کی روح قبض ہونے کا بیان
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا حضر المؤمن أتت ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون : اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح الله وريحان ورب غير غضبان فتخرج كأطيب ريح المسك حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا حتى يأتوا به أبواب السماء فيقولون : ما أطيب هذه الريح التي جاءتكم من الأرض فيأتون به أرواح المؤمنين فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه فيسألونه : ماذا فعل فلان ماذا فعل فلان ؟ فيقولون : دعوه فإنه كان في غم الدنيا . فيقول : قد مات أما أتاكم ؟ فيقولون : قد ذهب به إلى أمه الهاوية . وإن الكافر إذا احتضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون : اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله عز و جل . فتخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتون به باب الأرض فيقولون : ما أنتن هذه الريح حتى يأتون به أرواح الكفار . رواه أحمد والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ علیہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں اور روح سے کہتے ہیں کہ تو (جسد سے) نکل اس حال میں کہ تو اللہ تعالیٰ سے راضی ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی، بہترین رزق اور پروردگار کی طرف کہ جو تجھ پر غضبناک نہیں ہے چل، چناچہ روح مشک کی بہترین خوشبو کی طرح (جسم سے) نکلتی ہے اور فرشتے اس کو (از راہ تعظیم و تکریم) ہاتھوں ہاتھ لے چلتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان کے دروازوں تک آتے ہیں، وہاں فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کیا خوب ہے یہ خوشبو جو تمہارے پاس زمین سے آرہی ہے۔ پھر اسے ارواح مومنین کے پاس علیین میں یا جنت میں یا جنت کے دروازہ پر اور یا عرش کے نیچے کہ جہاں مومنین کی روحیں اپنے اپنے حسب مراتب و درجات رہتی ہیں۔ چانچہ وہ روحیں اس روح کے آنے سے اسی طرح خوش ہوتی ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اس وقت خوش ہوتا ہے جب کہ اس کے پاس اس کا غائب آتا ہے یعنی تم میں سے کوئی شخص جب سفر سے واپس آتا ہے تو جس طرح اس کے اہل و عیال اس کی واپسی پر خوش ہوتے ہیں اس طرح آسمان میں مومنین کی روحیں اس وقت بہت زیادہ خوش ہوتی ہیں جب کہ کسی مومن کی روح زمین سے ان کے پاس آتی ہے، پھر تمام روحین اس روح سے پوچھتیں ہیں کہ فلاں کیا کرتا ہے اور فلاں کیا کرتا ہے؟ یعنی روحیں ان متعارفین کے بارے میں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ کر آئی تھیں نام بنام پوچھتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص کا کیا حال ہے مگر پھر روحیں (خود) آپ میں کہتی ہیں کہ اس روح کو چھوڑ دو (ابھی کچھ نہ پوچھو کیونکہ) یہ دنیا کے غم و آلام میں تھی (جب اسے ذرہ سکون مل جائے تو پوچھنا) چناچہ روح (جب سکون پالیتی ہے تو خود کہتی ہے) کہ فلاں شخص (جو بدکار تھا ور جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو) مرگیا، کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ چناچہ وہ روحیں اسے بتاتی ہیں کہ وہ تو دوزخ کی آگ کی طرف لئے گئے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو عذاب کے فرشتے اس کے پاس ٹاٹ کا فرش لے کر آتے ہیں اور اس کی روح سے کہتے ہیں کہ اے روح (کافر کے جسم سے) مردار کی بدبو کی طرح نکلتی ہے پھر فرشتے اسے آسمان کے دروازوں کی طرف لاتے ہیں وہاں فرشتے کہتے ہیں کہ کتنی بری ہے یہ بدبو! پھر اس کے بعد اسے کافروں کی ارواح کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ (احمد نسائی)
تشریح
مومن کی موت کے وقت رحمت کے فرشتے ریشم کا ٹکڑا غالباً اس لئے لاتے ہیں تاکہ اس کی روح کو اس میں لپیٹ کرلے جائیں۔ ماذا فعل فلان (فلاں کیا کرتا ہے) یعنی مومنین کی ارواح آنے والی روح مومن سے ان لوگوں کے بارے میں کہ جنہیں وہ دنیا میں جانتی تھیں اور دنیا میں چھوڑ کر آئی تھیں پوچھتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص کس حال میں ہیں؟ اور اس دریافت حال سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ معلوم ہو کہ ان کی زندگی اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزر رہی ہے تو خوش ہوں اور راہ حق پر ان کی استقامت کے لئے دعا کریں اور اگر کسی کے بارے میں انہیں یہ معلوم ہو کہ اس کی زندگی گناہ و معصیت کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے تو رنج و غم کریں اور اللہ سے ان کی ہدایت اور ان کی مغفرت و تحسین کی دعا مانگیں۔ حتی یأتون بہ الی باب الارض (پھر فرشتے اسے زمین کے دروازوں کی طرف لاتے ہیں) کے بارے میں علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ زمین کے دروازوں سے مراد آسمان زمین (یعنی پہلے آسمان) کے دروازے ہیں جیسا کہ گزشتہ حدیث نمبر ١٢ کے الفاظ ثم یعرج بہا الی السماء دلالت کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ زمین کے دروازوں سے مراد زمین ہو۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہے ہوگا کہ کافر کی روح اسفل السافلین کی طرف پھینک دی جاتی ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک بھی دوسری صورت بہتر اور صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کافروں کی ارواح کے پاس لے جایا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اسے کافروں کی ارواح کے پاس کہ جن کا مسکن سجین ہے پہنچا دیا جاتا ہے۔ سجین جہنم کی گہرائیوں میں ایک جگہ کا نام ہے۔
مومن اور کافر کی روح قبض ہونے کا بیان
وعن البراء بن عازب قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر ولما يلحد فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلسنا حوله كأن على رؤوسنا الطير وفي يده عود ينكت به في الأرض فرفع رأسه فقال : استعيذوا بالله من عذاب القبر مرتين أو ثلاثا ثم قال : إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة بيض الوجوه كأن وجوههم الشمس معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول : أيتها النفس الطيبة اخرجي إلى مغفرة من الله ورضوان قال : فتخرج تسيل كما تسيل القطرة من في السقاء فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وفي ذلك الحنوط ويخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض قال : فيصعدون بها فلا يمرون - يعني بها - على ملأ من الملائكة إلا قالوا : ما هذه الروح الطيب فيقولون : فلان بن فلان بأحسن أسمائه التي كانوا يسمونه بها في الدنيا حتى ينتهوا بها إلى سماء الدنيا فيستفتحون له فيفتح له فيشيعه من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها حتى ينتهى بها إلى السماء السابعة - فيقول الله عز و جل : اكتبوا كتاب عبدي في عليين وأعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى قال : فتعاد روحه فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولون له : من ربك ؟ فيقول : ربي الله فيقولون له : ما دينك ؟ فيقول : ديني الإسلام فيقولان له : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول : هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقولان له : وما علمك ؟ فيقول : قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت فينادي مناد من السماء أن قد صدق فأفرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابا إلى الجنة قال : فيأتيه من روحها وطيبها ويفسح له في قبره مد بصره قال : ويأتيه رجل حسن الوجه حسن الثياب طيب الريح فيقول : أبشر بالذي يسرك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول له : من أنت ؟ فوجهك الوجه يجيء بالخير فيقول : أنا عملك الصالح فيقول : رب أقم الساعة رب أقم الساعة حتى أرجع إلى أهلي ومالي . قال : وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح فيجلسون منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول : أيتها النفس الخبيثة اخرجي إلى سخط من الله قال : فتفرق في جسده فينتزعها كما ينتزع السفود من الصوف المبلول فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يجعلوها في تلك المسوح ويخرج منها كأنتن ريح جيفة وجدت على وجه الأرض فيصعدون بها فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا : ما هذا الروح الخبيث ؟ فيقولون : فلان بن فلان - بأقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا - حتى ينتهي بها إلى السماء الدنيا فيستفتح له فلا يفتح له ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم ( لا تفتح لهم أبواب السماء ولا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط ) فيقول الله عز و جل : اكتبوا كتابه في سجين في الأرض السفلى فتطرح روحه طرحا ثم قرأ : ( ومن يشرك بالله فكأنما خر من السماء فتخطفه الطير أو تهوي به الريح في مكان سحيق ) فتعاد روحه في جسده ويأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له : من ربك : فيقول : هاه هاه لا أدرى فيقولان له : ما دينك ؟ فيقول : هاه هاه لا أدري فيقولان له : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول : هاه هاه لا أدري فينادي مناد من السماء أن كذب عبدي فأفرشوا له من النار وافتحوا له بابا إلى النار فيأتيه حرها وسمومها ويضيق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه ويأتيه رجل قبيح الوجه قبيح الثياب منتن الريح فيقول أبشر بالذي يسوؤك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول : من أنت ؟ فوجهك الوجه يجيء بالشر فيقول : أنا عملك الخبيث فيقول : رب لا تقم الساعة وفي رواية نحوه وزاد فيه : إذا خرج روحه صلى عليه كل ملك بين السماء والأرض وكل ملك في السماء وفتحت له أبواب السماء ليس من أهل باب إلا وهم يدعون الله أن يعرج بروحه من قبلهم . وتنزع نفسه يعني الكافر مع العروق فيلعنه كل ملك بين السماء والأرض وكل ملك في السماء وتغلق أبواب السماء ليس من أهل باب إلا وهم يدعون الله أن لا يعرج روحه من قبلهم . رواه أحمد
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ ہم) نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک انصاری شخص کے جنازہ کے ساتھ چلے ہم قبر پر پہنچے (قبر تیار نہ ہونے کی وجہ سے) ابھی جنازہ سپرد خاک نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم ﷺ ایک جگہ تشریف فرما ہوگئے ہم بھی آپ کے گردا گرد (اس طرح) بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں (یعنی ہم بالکل خاموش سر جھکائے بیٹھے) آنحضرت ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی۔ جس سے آپ زمین کرید رہے تھے (جس طرح کہ کوئی شخص انتہائی تفکر و استغراق کے عالم میں ہوتا ہے) پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور (ہمیں مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ آپ ﷺ نے دو یا تین بار فرمایا۔ اور پھر فرمایا جب بندہ مومن دنیا سے اپنا تعلق ختم کرنے کو ہوتا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے (یعنی مرنے کے قریب ہوتا ہے) تو اس کے پاس آسمان سے نہایت روشن چہرے والے فرشتے اترتے ہیں (جن کے چہرہ کی چمک دمک ایسی ہوتی ہے) گویا کہ ان کے چہرے آفتاب ہیں، ان کے ہمراہ جنت کا (یعی ریشمی کپڑے کا) کفن اور جنت کی خوشبو (یعنی مشک و عنبر وغیرہ کی خوشبو) ہوتی ہے اور وہ (بسبب کمال ادب اور روح نکلنے کے انتظار میں) اس کے سامنے اتنی دور کہ جہاں تک کہ اس کی نگاہ پہنچ سکے، بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت (علیہ السلام) آتے ہیں اور اس کے سر کے قریب بیٹھ کر کہتے ہیں کہ اے پاک جان! اللہ بزرگ و برتر کی طرف سے مغفرت و بخشش اور اس کی خوشنودی کی طرف پہنچنے کے لئے جسم سے نکل! آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) بندہ مومن کی جان (اس کے جسم سے) اس طرح ( یعنی آسانی اور سہولت سے) نکل آتی ہے جس طرح کہ مشک سے پانی کا قطرہ بہ نکلتا ہے۔ چناچہ ملک الموت اس کو لے لیتے ہیں، جب ملک الموت اسے لے لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے اس جان کو ملک الموت کے ہاتھ میں پلک جھپکنے کے بقدر بھی نہیں چھوڑتے یعنی غایت اشتیاق کی بنا پر فورا اس جان کو ملک الموت کے ہاتھوں سے (اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اس کو اس کفن میں اور اس خوشبو میں کہ جسے وہ اپنے ہاتھ میں لائے تھے رکھ لیتے ہیں اور اس جان سے بہترین وہ خوشبو نکلتی ہے جو روئے زمین پر (زمین کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی فنا تک) پائی جانے والی مشک کی بہترین خوشبوؤں کے مانند ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتے اس جان کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں، چناچہ جب وہ فرشتے اس جان کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں تو (زمین و آسمان کے درمیان موجود) فرشتوں کی کسی بھی جماعت کے قریب سے گزرتے ہیں تو وہ جماعت پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کون ہے؟ وہ فرشتے جو اس روح کو لے جا رہے ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا (یعنی اس کی روح) ہے اور وہ فرشتے اس کو بہترین نام و لقب (اور اس کے اوصاف) بتاتے ہیں جن کے ذریعہ اہل دنیا اس کا ذکر کرتے ہیں اسی طرح سوال و جواب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ فرشتے اس کو لے کر آسمان دنیا (یعنی پہلے آسمان تک) پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں جو ان کے لئے کھول دیا جاتا ہے (اسی طرح ہر آسمان کا دروازہ اس کے لئے کھولا جاتا ہے) اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے دوسرے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں تک (اسی اعزازو اکرام کے ساتھ) پہنچا دیا جاتا ہے۔ پس اللہ عز وجل (فرشتوں سے) فرماتا ہے کہ اس بندہ کا نامہ اعمال علیین میں رکھو اور اس جان کو زمین کی طرف یعنی اس کے بدن میں جو زمین میں مدفون ہے واپس لے جاؤ (تاکہ یہ اپنے بدن میں پہنچ کر قبر کے سوال و جواب کے لئے تیار رہے) کیونکہ بیشک میں زمین ہی سے جسموں کو پیدا کیا ہے اور زمین ہی میں ان کو (یعنی اجسام و ارواح کو) واپس بھیجتا ہوں اور پھر زمین ہی سے ان کو دوبارہ نکالوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کے بعد وہ جان اپنے جسم میں پہنچا دی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے (یعنی منکر نکیر) آتے ہیں جو اسے بٹھلاتے ہیں اور پھر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ بندہ مومن جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے پھر وہ پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے پھر وہ پوچھتے ہیں کہ یہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کون ہیں؟ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ تم نے کیسے جانا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب کو پڑھا، اس پر ایمان لایا۔ اور دل سے اسے سچ جانا (جس کی وجہ سے مجھے آنحضرت ﷺ کا رسول ہونا معلوم ہوا پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے (یعنی اللہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ) میرا بندہ سچا ہے اس کے لئے جنت کا بستر بچھاؤ اسے جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چناچہ اس کی طرف جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اسے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے۔ پھر اس کی قبر کو حد نظر تک کشادہ کردیا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کے بعد اس کے پاس ایک خوبصورت شخص اچھے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ خوشخبری ہو تجھے اس چیز کی جو تجھے خوش کرنے والی ہے۔ یعنی تیرے لئے وہ نعمتیں تیار ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا آج وہ دن ہے جس کا (دنیا میں) تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ بندہ مومن اس سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ حسن و جمال میں کامل ہے اور تم بھلائی کو لائے ہو اور اس کی خوشخبری سناتے ہو وہ شخص جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں (جو اس شکل و صورت میں آیا ہوں) آج وہ دن ہے جس کا (دنیا میں) تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا بندہ مومن (یہ سن کر) کہتا ہے اے میرے پروردگار قیامت قائم کر دے! قیامت قائم کر دے قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل و عیال کی طرف جاؤں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور جب بندہ کافر دنیا سے اپنا تعلق ختم کرنے اور آخرت کی طرف جانے کو ہوتا ہے (یعنی اس کی موت کا وقت قریب آتا ہے) تو اس کے پاس سے آسمان سے (عذاب کے) کالے چہرے والے فرشتے آتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے اور وہ اتنی دور کہ جہاں تک نگاہ پہنچ سکے بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کے سر کے قریب بیٹھ کر کہتا ہے کہ اے خبیث جان! اللہ کی طرف سے عذاب (مبتلا کئے جانے کے لئے جسم سے باہر) نکل! آپ ﷺ نے فرمایا (کافر کی روح یہ سن کر) اس کے جسم میں پھیل جاتی ہے (یعنی روح کافر جب عذاب الٰہی کے آثار دیکھتی ہے تو اس کے خوف سے اپنے جسم سے نکلنے کے لئے تیار نہیں بلکہ پورے جسم میں چھپی چھپی پھرتی ہے بخلاف مومن کی روح کے کہ وہ انوار الٰہی اور پروردگار کے کرم کے آثار دیکھ کر جسم سے خوشی خوشی نکل آتی ہے) چناچہ ملک الموت اس روح کو سختی اور زور سے باہر نکالتا ہے جیسا کہ تر صوف سے آنکڑا کھینچا جاتا ہے (یعنی جس طرح تر صوف سے آنکڑا بڑی سختی اور مشکل سے کھینچا جاتا ہے اور اس سختی سے کھینچنے کی وجہ سے صوف کے کچھ اجزاء اس آنکڑا سے لگے ہوئے باہر آجاتے ہیں تو یہ حال ہوتا ہے کہ جیسے کہ روح کے ساتھ رگوں کے کچھ اجزاء لگے ہوئے باہر آگئے ہیں) جب ملک الموت اس روح کو پکڑ لیتا ہے دوسرے فرشتے اس روح کو ملک الموت کے ہاتھ پلک جھپکنے کے بقدر بھی نہیں چھوڑتے بلکہ اسے لے کر ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں، اس روح میں سے ایسے (سڑے ہوئے) مردار کی بدبو نکلتی ہے جو روئے زمین پر پایا جائے۔ وہ فرشتے اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں چناچہ جب وہ فرشتوں کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ جماعت پوچھتی ہے کہ یہ کون ناپاک روح ہے؟ وہ فرشتے جو اسے لے جا رہے ہوتے ہیں جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا ہے (یعنی فلاں شخص کی روح ہے) اور اس کے برے نام برے اوصاف کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہیں کہ جن نام و اوصاف سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب اسے آسمان سے دنیا تک پہچنا دیا جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کے واسطے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے استدلال کے طور پر یہ آیت پڑھی ( لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَا ءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ) 7۔ الاعراف 40)۔ ان کافروں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس روح کا اعمال نامہ سجین میں لکھ دو جو سب سے نیچے کی زمین ہے۔ چناچہ کافر کی روح (نیچے) پھینک دی جاتی ہے، پھر آنحضرت ﷺ نے (استدلال کے طور پر) یہ آیت تلاوت فرمائی ( وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَا ءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ) 22۔ الحج 31)۔ جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے (یعنی ایمان و توحید کی بلندی سے کفر و شرک کی بستی میں) گرپڑا۔ چناچہ اسے پرندے اچک لیتے ہیں (یعنی وہ ہلاک ہوجاتا ہے) یا ہوا اسے (اڑا کر) دور پھینک دیتی ہے (یعنی رحمت الٰہی سے دور ہوجاتا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اسے شیطان نے گمراہی میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ مقام قرب سے دور جا پڑا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا) اس کی روح اس کے جسم میں آجاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا۔ پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا پھر وہ فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی آنحضرت ﷺ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے کون ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا! (اس سوال و جواب کے بعد) پکارنے والا آسمان کی طرف سے پکار کر کہتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے لہٰذا اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو!۔ چناچہ (اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے) جس سے اس کے پاس دوزخ کی گرمی اور اس کی گرم ہوا آتی رہتی ہے اور اس کے لئے اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ (دونوں کنارے مل جانے سے) اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر نکل جاتی ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک بدصورت شخص آتا ہے جو برے کپڑے پہنے ہوئے ہوتا ہے اور اس سے بدبو آتی رہتی ہے اور وہ اس سے کہتا ہے کہ تو وہ بری خبر سن، جو تجھے رنج و غم میں مبتلا کر دے، آج وہ دن ہے جس کا تجھ سے (دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے؟ تیرا چہرہ انتہائی برا ہے جو برائی لئے ہوئے آیا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ تیرا برا عمل ہوں (یہ سن کر) مردہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار قیامت قائم نہ کیجیے۔ ایک اور روایت میں اسی طرح منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب مومن کی روح (اس کے جسم سے) نکلتی ہے تو ہر وہ فرشتہ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اور ہر وہ فرشتہ جو آسمان میں ہے اس پر رحمت بھیجتا ہے۔ اس لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور (ہر آسمان کا) ہر دروازے والا (فرشتہ) اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ اس مومن کی روح اس کی طرف سے آسمان پر لے جائی جائے (تاکہ وہ اس مومن کی روح کے ساتھ چلنے کا شرف حاصل ہو سکے) اور کافر کی روح رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے چناچہ زمین و آسمان کے درمیان تمام فرشتے اور وہ فرشتے جو (پہلے آسمان کے) ہیں اس پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے لئے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور پہلے آسمان کے تمام دروازے والے اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ (اس کافر) بکی روح ان کی طرف سے نہ چڑھائی جائے (احمد)
تشریح
حدیث کے الفاظ فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من السقاء سے تو یہ معلوم ہوا کہ بندہ کی جان بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ نکلتی ہے جب کہ ایک اور روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جان نکلنے کے معاملہ میں مومون بھی بڑی سختی اور کرب میں مبتلا ہوتا ہے لہٰذا ان دونوں روایتوں میں تطبیق پیدا کی جاتی ہے کہ مومن کی روح تو جسم سے نکلنے سے پہلے سختی میں مبتلا ہوتی ہے اور جسم سے نکلنے کے وقت آسانی و سہولت سے باہر آجاتی ہے مگر بخلاف کافر کی روح کے کہ اس کی روح جسم سے نکلتے وقت بھی بڑی سختی اور کرب میں مبتلا ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا ہے کہ مومن کی روح ساتویں آسمان تک پہنچائی جاتی ہے جب کہ ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ روح مومن عرش تک پہنچائی جاتی ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ بعض روحین ساتویں آسمان تک پہنچائی جاتی ہوں اور بعض روحوں کو عرش تک لے جایا جاتا ہو۔ علیین ایک جگہ کا نام ہے جو ساتویں آسمان پر واقع ہے اور جس میں نیک لوگوں کے اعمال نامے رہتے ہیں۔ حدیث میں منکر نکیر کا تیسرا سوال اس طرح نقل کیا گیا ہے یعنی آنحضرت ﷺ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے کون ہیں؟ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں سے تو اسی طرح سوال کیا جاتا ہو اور بعض لوگوں سے اس طرح پوچھا جاتا ہو کہ تمہارا نبی کون ہے؟ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں منقول ہے۔ حتی ارجع الی اھلی ومالی (تاکہ میں اپنے اہل و عیال کی طرف جاؤں) میں اہل سے مراد حوریں اور خدام ہیں اور مال سے محل جنت کے باغ اور وہاں کی از قسم مال دوسری چیزیں مراد ہیں یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اہل سے مراد مومن کے اہل قرابت اور مال سے مراد حور و قصور وغیرہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ سجین ساتویں زمین کے نیچے دوزخ کی گہرائیوں کا ایک جگہ کا نام ہے جہاں دوزخیوں کے نامہ اعمال رکھے جاتے ہیں چناچہ حدیث کے الفاظ اکتبوا کتابہ فی سجین فی الارض السفلی میں اس طرف اشارہ ہے کہ دوزخ ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ اللہ کے باغی اور سرکش لوگوں کو اپنی آغوش میں قبر کس دردناک طریقہ سے بھینچتی ہے؟ یہ تو آپ کو اس حدیث سے معلوم ہوا لیکن بعض مومنین بلکہ اکابر موحدین یعنی اولیاء اللہ کے لئے بھی ضغط یعنی قبر کا بھینچنا ثابت ہے مگر اس کی کیفیت یہ نہیں ہوتی بلکہ مومن کے لئے قبر اپنے دونوں کنارے اس طرح ملاتی ہے جیسے کوئی ماں انتہائی اشتیاق و محبت کے عالم میں اپنے بچے کو گلے سے لگاتی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ کافر کی روح رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کافر کی روح اپنا جسم بہت مشکل اور بڑی سختی سے چھوڑتی ہے۔ چونکہ اسے اپنے جسم سے کمال تعلق ہوتا ہے اور وہ جسم سے نکلنا نہیں چاہتی اس لئے موت کا فرشتہ اسے کھینچ کر باہر نکالتا ہے۔
عالم برزخ میں مومن کی روح
وعن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه قال : لما حضرت كعبا الوفاة أتته أم بشر بنت البراء بن معرور فقالت : يا أبا عبد الرحمن إن لقيت فلانا فاقرأ عليه مني السلام . فقال : غفر الله لك يا أم بشر نحن أشغل من ذلك فقالت : يا أبا عبد الرحمن أما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أرواح المؤمنين في طير خضر تعلق بشجر الجنة ؟ قال : بلى . قالت : فهو ذاك . رواه ابن ماجه والبيهقي في كتاب البعث والنشور
حضرت عبدالرحمن بن کعب اپنے والد مکرم (حضرت کعب ؓ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت کعب ؓ کی موت کا وقت قریب آیا تو حضرت براء بن معرور ؓ کی صاحبزادی حضرت ام بشر ؓ ان کے پاس آئیں اور کہنے لگھیں کہ اے ابوعبدالرحمن! (یہ حضرت کعب کی کنیت ہے) اگر آپ مرنے کے بعد عالم برزخ میں فلاں شخص سے ملیں تو ان سے میرا سلام کہئے گا! حضرت کعب ؓ نے جواب دیا ام بشر! اللہ تجھے بخشے وہاں ہماری مشغولیت اس سے زیادہ ہوگی! ام بشر نے کہا کہ ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ کہ (عالم برزخ میں) مومنین کی روحیں سبز جانوروں کے قالب میں ہوں گی اور جنت کے درختوں سے میوے کھاتی ہوں گی۔ حضرت کعب نے کہا کہ ہاں! (میں نے یہ ارشاد گرامی سنا ہے) ام بشر نے فرمایا یہی وہ) فضل و کرامت) ہے جس سے تمہارے نوازے جانے کی امید ہے) (ابن ماجہ بیہقی)
تشریح
حضرت عبدالرحمن اجل تابعین میں سے ہیں اور ان کے والد مکرم حضرت کعب کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے اسی طرح حضرت براء بن معرور بھی صحابی ہیں اور انصار میں سے ہیں حضرت ام بشر ان کی صاحبزادی تھیں۔ حضرت کعب ؓ جب دار آخرت کے سفر کی تیاری میں تھے اور ان کی اجل قریب تھی تو ام بشر نے اس بات کی درخواست کی کہ جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو کر عالم برزخ میں پہنچیں تو اگر فلاں شخص سے ملاقات ہو تو انہیں میرا سلام کہہ دیں۔ بظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص راوی کے الفاظ ہیں۔ ام بشر نے اس موقع پر حضرت براء یا حضرت بشر کا نام لیا ہوگا۔ حضرت کعب نے ام بشر سے کہا کہ اللہ تجھے بخشے۔ یہ الفاظ اس موقع پر بولے جاتے ہیں جب کہ متکلم اپنے مخاطب سے کوئی ایسی بات سنتا ہے جو اسے کہنی نہیں چاہئے تھی۔ گویا حضرت کعب کا مطلب یہ تھا کہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو! وہاں تو ہماری مشغولیت اس سے کہیں زیادہ ہوگی کہ کو وہاں پہنچ کر کسی کو پہچانیں اور ان تک کسی کا سلام پہنچائیں۔ یعنی وہاں پہنچ کر میں اپنے ہی حال میں گرفتار ہوں گا کہ اپنی بھی خبر نہ ہوگی چہ جائیکہ دوسروں کی خبر، اسی طرح وہاں سب ہی اپنے اپنے حال میں گرفتار ہوں گے حاصل یہ کہ وہاں کون اپنے آپ میں ہوگا اور کسے اپنے حال سے فرصت ملے گی کہ کسی کو کوئی سلام و پیام پہنچائے۔ ام بشر نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کی روشنی میں ان کے اسی عذر کا یہ جواب دیا کہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے کہ جو گرفتار وحشت ہوں بلکہ آپ تو ان مومنین میں سے ہوں گے جن کے حق میں آنحضرت ﷺ نے یہ عظیم خوشخبری دی ہے گویا آپ بھی وہاں خوش حال و مطمئن ہوں گے اور اللہ رب العز کے بےپایاں رحم و کرم سے بہرہ ور ہوں گے۔ ایک اور روایت میں عالم برزخ میں ارواح مومنین کا حال کچھ تفصیل سے اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ مومنین کی ارواح سبز جانوروں کے قالب میں ہوں گی۔ جو جنت میں چرتی ہوں گی وہاں کے میوے کھاتی ہوں گی وہاں کا پانی پیتی ہوں گی اور عرش کے نیچے سونے کے قندیلوں میں اپنا مسکن بنائے ہوئے ہوں گے۔
عالم برزخ میں مومن کی روح
وعن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه قال : أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنا نسمة المؤمن طير طير تعلق في شجر الجنة حتى يرجعه الله في جسده يوم يبعثه . رواه مالك والنسائي والبيهقي في كتاب البعث والنشور
حضرت عبدالرحمن اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ وہ (یعنی عبدالرحمن کے والد حضرت کعب) رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کرتے تھے کہ عالم برزخ میں مومن کی روح پرندہ کے قالب میں جنت کے درختوں سے میوے کھاتی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اسے اٹھائے گا (یعنی قیامت کے دن) اسے اس کے بدن میں واپس بھیج دے گا۔ (مالک، نسائی، بیہقی)
تشریح
اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ جب انسان کی روح کو جانور کا بدن ملا تو اس کا مرتبہ گھٹ گیا کیونکہ اس صورت میں وہ انسان سے جانور ہوگیا اور قلب حقیقت لازم آیا؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ روح مومن کو پرندہ کے جسم کے ساتھ ایسا تعلق نہیں ہوتا جیسا کہ اپنے حقیقی جسم کے ساتھ روح کا تعلق ہوتا ہے اور اس پر اپنا تصرف کرتی ہے بلکہ یہ تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی قیمتی چیز مثلاً لعل یا جواہر کو اس کی حفاظت اور احتیاط کی خاطر صندوق میں رکھ دیا جائے۔ لہٰذا روح مومن کو پرندہ کے قالب میں کردینے سے نہ تو اس کے رتبہ میں کمی ہوتی ہے اور نہ قلب حقیقت لازم آتا ہے بلکہ اس طرح اس کی تعظیم و تکریم ہی ہوتی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حدیث میں روح مومن کے بارے میں جو کیفیت بیان فرمائی گئی ہے اس کا تعلق شہداء کے ساتھ ہے جب کہ دوسرے بعض علماء کا یہ قول ہے کہ اس کا تعلق عام مومنین سے ہے جیسا کہ حدیث کے ظاہری مفہوم سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
عالم برزخ میں مومن کی روح
وعن محمد بن المنكدر قال : دخلت على جابر بن عبد الله وهو يموت فقلت : اقرأ على رسول الله صلى الله عليه و سلم السلام . رواه ابن ماجه
حضرت محمد بن منکدر (رح) فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب کہ وہ قریب المرگ تھے۔ چناچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ (عالم برزخ میں پہنچ کر) رسول کریم ﷺ سے میرا سلام عرض کردیں۔ (ابن ماجہ)
میت کو نہلانے اور کفنانے کا بیان
اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے مردہ کو نہلانے اور کفنانے کے احکام و مسائل اور آداب کا علم ہوگا۔ تمام علماء کے نزدیک میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے یعنی اگر کچھ لوگ نہلا دیں گے تو سب کے ذمہ سے فرض ادا ہوجائے گا اور اگر کوئی بھی شخص میت کو نہ نہلائے تو سب کے سب گنہ گار ہوں گے۔ اس بارے میں علماء کے یہاں اختلاف ہے کہ غسل میت میں نیت شرط ہے یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک شرط ہے اور بعض کے نزدیک شرط نہیں ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ نیت شرط ہے جیسا کہ حضرت شیخ ابن ہمام (رح) کا قول ہے۔
عن أم عطية قالت : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نغسل ابنته فقال : اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوه وقال : أشعرنها إياه وفي رواية : اغسلنها وترا : ثلاثا أو خمسا أو سبعا وابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها . وقالت فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها
حضرت ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی بیٹی (حضرت زینب ؓ کو نہلا رہے تھے آپ نے فرمایا تم تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اور اگر مناسب سمجھو (یعنی ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے (یعنی بیری کے پانی میں جوش دے کر اس پانی سے نہلاؤ (کیونکہ بیری کے پتوں کے جوش دئیے ہوئے پانی سے بہت زیادہ پاکی اور صفائی حاصل ہوتی ہے) اور آخری مرتبہ میں کافور یا یہ فرمایا کہ کافور کا کچھ حصہ (پانی میں) ڈال دینا۔ اور جب تم (نہلانے سے) فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر دینا، چناچہ جب ہم فارغ ہوگئے تو آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی گئی، آپ نے اپنا تہ بند ہماری طرف بڑھا دیا اور فرمایا کہ اس تہ بند کو اس کے بدن سے لگا دو (یعنی اس تہ بند کو اس طرف کفن کے نیچے رکھ دو کہ وہ زینب کے بدن سے لگا رہے) اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے طاق یعنی تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو اور غسل اس کی دائیں طرف سے اور اس کے اعضاء وضو سے شروع کرو۔ حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھ کر ان کے پیچھے ڈال دیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ اغسلنہا ثلاثا او خمسا او اکثر من ذالک اور اغسلنہا وترا ثلاثا او خمسا او سبعا میں حرف او ترتیب کے لئے ہے تخییر کے لئے نہیں ہے کیونکہ اگر پہلے غسل میں پاکی حاصل ہوجائے تو تین مرتبہ نہلانا مستحب ہے اور اس سے تجاوز کرنا مکروہ ہے اور اگر پاکی دو بار یا تین بار میں حاصل ہو تو پھر پانچ مرتبہ نہلانا مستحب ہے یا زیادہ سے زیادہ سات مرتبہ، سات مرتبہ سے زیادہ نہلانا منقول نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ نہلانا مکروہ ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے غسل میت میت کو بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے نہلانا چاہئے اس سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ دو دو مرتبہ تو بیری کے پتوں کے پانی سے نہلایا جائے جیسا کہ کتاب ہدایہ سے معلوم ہوتا ہے نیز ابوداؤد کی روایت ہے کہ ابن سیرین (رح) نے حضرت ام عطیہ ؓ سے غسل میت سیکھا تھا۔ وہ بیری کے پتوں کے پانی سے دو مرتبہ غسل دیتی تھیں۔ اور تیسری مرتبہ کافور کے پانی سے غسل دیا جائے۔ کافور پانی میں ملایا جائے یا خوشبو میں؟ شیخ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ کافور اس پانی میں ملایا جائے جس سے میت کو نہلایا جا رہا ہو چناچہ جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے، جب کہ کوئی کہتے ہیں کہ کافور حنوط میں یعنی اس خوشبو میں ملایا جائے جس سے میت کو معطر کیا جا رہا ہو اور میت کے نہلانے اور اس کے بدن کو خشک کرنے کے بعد بدن پر لگایا جائے نیز علماء نے لکھا ہے کہ اگر کافور میسر نہ ہو تو پھر مشک اس کا قائم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کی خاصیت علماء لکھتے ہیں کہ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے میت کو غسل دینے اور میت کے بدن پر کافور ملنے کی وجہ یہ ہے کہ بیری کے پتوں سے تو بدن کا میل اچھی طرح صاف ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے مردہ جلدی بگڑتا نہیں نیز بیری کے پتوں اور کافور کے استعمال کی وجہ سے موذی جانور پاس نہیں آتے۔ حصول برکت کے لئے بزرگوں کا کوئی کپڑا کفن میں شامل کیا جاسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنا تہ بند صاحبزادی کے کفن کے ساتھ لگانے کے لئے اس لئے عنایت فرمایا تاکہ اس کی برکت اسے پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کوئی شخص اہل اللہ اور بزرگان دین سے اس کے لباس کا کوئی کپڑا موت سے پہلے حاصل کر کے اپنے پاس برکت کے لئے رکھتا ہے یا اسے استعمال کرتا ہے اس طرح موت کے بعد بزرگوں کے لباس سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے بایں طور کہ ان کا کوئی کپڑا لے کر کفن میں شامل کردیا جائے لیکن اس سلسلہ میں یہ امر ملحوظ رہے کہ وہ کپڑا کفن کے کپڑوں سے زیادہ نہ ہو۔ ابدان بمیا منہا کا مطلب یہ ہے کہ میت کو اس کے دائیں ہاتھ دائیں پہلو اور دائیں پاؤں کی طرف سے نہلانا شروع کرو اسی طرح مواضع الوضو منہا میں حر واو مطلق جمع کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غسل میت میں پہلے اعضاء وضو دھونے چاہئیں اس کے بعد دوسرے اعضاء دھوئے جائیں اور اعضاء وضو سے مراد وہ اعضاء ہیں کہ جن کا دھونا فرض ہے۔ چناچہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی دینا حنفیہ کے نزدیک مشروع نہیں بعض علماء نے اس بات کو مستحب کہا ہے کہ میت کو نہلانے والا اپنی انگلیوں پر کپڑا لپیٹ لے اور اس سے میت کے دانتوں کو، تالو، کو اندر سے دونوں کلوں کو اور نتھنوں کو ملے، چناچہ اب یہی معمول بہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ غسل کے وقت میت کے سر پر مسح کیا جائے اور اس کے پاؤں غسل کے بعد نہ دھوئے جائیں بلکہ جب دوسرے اعضاء وضو دھوئے جاتے ہیں تو اسی وقت پیروں کو بھی دھویا جائے۔ نیز میت کے ہاتھ پہلے نہ دھوئے جائیں بلکہ غسل کی ابتداء منہ دھونے سے کرنی چاہئے بخلاف جنبی (ناپاک شخص) کے کہ وہ جب غسل کرتا ہے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ اس لئے دھوتا ہے تاکہ دوسرے اعضاء دھونے کے لئے دونوں ہاتھ پاک ہوجائیں جب کہ میت دوسروں کے ہاتھوں نہلائی جاتی ہے اس لئے اس کے دونوں ہاتھوں کو دھلانے کی حاجت نہیں ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی میت ہو تو غسل کے بعد اس کے بال کھلے ہی رہنے دئیے جائیں انہیں گودھا نہ جائے۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كفن في ثلاثة أثواب يمانية بيض سحولية من كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین کپڑوں میں کفنائے گئے تھے جو سفید یمنی اور سحول کی بنی ہوئی روئی کے تھے، نہ ان میں (سیا ہوا) کرتہ تھا نہ پگڑی تھی۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
لیس فیہا قمیص ولا عمامۃ (نہ ان میں کرتہ تھا اور نہ پگڑی تھی) کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں ان کپڑوں کے علاوہ کرتہ اور عمامہ بالکل نہ تھا۔ بعض حضرات نے اس جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں میں نہیں تھا بلکہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں کے علاوہ تھا۔ اس صورت میں آنحضرت ﷺ کے کفن میں پانچ کپڑوں کا ہونا لازم آئے گا۔ حالانکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں تین کپڑے تھے لہٰذا اس جملہ کا یہی مطلب صحیح ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں کرتہ و عمامہ بالکل نہیں تھا صرف تین کپڑے تھے۔ اس جملہ کے پیش نظر علماء کے مسلک میں بھی یہ اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا یہ مستحب ہے کہ کفن میں کرتہ اور عمامہ ہو یا نہ ہو؟ چناچہ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ کفن میں تین لفافہ ہوں (یعنی صرف تین چادریں ہوں جن میں میت کو لپیٹا جاسکے) اور ان میں کرتہ و عمامہ نہ ہو۔ جب کہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ کفن میں تین کپڑے ہونے چاہئیں (١) ازار یعنی لنگی (٢) قمیص یعنی کفن (٣) لفافہ یعنی پوٹ کی چادر۔ لہٰذا حدیث میں قمیص کی جو نفی فرمائی گئی ہے اس کی تاویل حنفیہ یہ کرتے ہیں کہ سیا ہوا قمیص نہیں تھا بلکہ بغیر سیا ہوا قمیص تھا جس کو کفنی کہا جاتا ہے۔ سحولیہ سحول کی طرف منسوب ہے اور سحول یمن کی ایک بستی کا نام ہے۔
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفنائے تو اسے چاہئے کہ وہ اچھا کفن دے (مسلم)
تشریح
ابن عدی کی روایت ہے کہ اپنے مردوں کو اچھا کفن دو اس لئے کہ وہ مردے اپنی قبروں میں آپس میں (ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں) بہرحال اچھے کفن سے مراد یہ ہے کہ کفن کا کپڑا پورا ہو اور بغیر کسی اسراف کے لطیف و پاکیزہ ہو اور سفید ہو خواہ دھلا ہوا ہو یا نیا ہو۔ اچھے کفن سے وہ اعلیٰ و قیمتی کپڑوں کے کفن مراد نہیں ہیں جو بعض جاہل دنیا دار از راہ ناموری اور تکبر کے استعمال کرتے ہیں بلکہ ایسا کفن سخت حرام ہے۔ علامہ تورپشتی (رح) فرماتے ہیں کہ اسراف کرنے والوں نے یہ جو طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ بہت زیادہ قیمتی کپڑے کفن میں دیتے ہیں یہ شرعی اعتبار سے ممنوع ہے کیونکہ اس سے مال کا خواہ مخواہ ضائع ہونا لازم آتا ہے۔
وعن عبد الله بن عباس قال : إن رجلا كان مع النبي صلى الله عليه و سلم فوقصته ناقته وهو محرم فمات ن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا رأسه فإنه يبعث يوم القيامة ملبيا وسنذكر حديث خباب : قتل مصعب بن عمير في باب جامع المناقب إن شاء الله
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص (سفر حج کے دوران) آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تھا، اس کی اونٹنی نے (اس کو گرا دیا اور) اس کی گردن توڑ دی، وہ شخص محرم (یعنی حج کی نیت سے اور احرام باندھے ہوئے) تھا اسی حال میں وہ مرگیا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اسے اسی کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانکو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے تو اسے اسی کے لباس میں کہ جسے وہ بطور احرام استعمال کرتا تھا کفنا دیا جائے اور اس پر خوشبو نہ لگائی جائے۔ چناچہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک کفن کے بارے میں محرم اور غیر محرم دونوں برابر ہیں۔ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اسی کے دونوں کپڑوں میں کہ جسے وہ بطور محرم کے استعمال کرتا تھا کفنانے کا حکم دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس ان دونوں کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ تھا کہ اسے علیحدہ سے پورا کفن دیا جاتا اسی طرح آپ ﷺ نے اس کے سر کو ڈھانکنے سے جو منع فرمایا تو یہ ممانعت بھی صرف اس شخص کے لئے تھی عام طور پر سب کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔ و سنذکر حدیث خباب قتل مصعب بن عمیر فی باب جامع المناقب انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور خباب کی وہ حدیث کہ جس کی ابتداء یہ ہے قتل مصعب بن عمیر ہم انشاء اللہ باب جامع المناقب میں نقل کریں گے۔
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم ومن خير أكحالكم الإثمد فإنه ينبت الشعر ويجلوا البصر . رواه أبو داود والترمذي
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم سفید کپڑے پہنو اس لئے کہ تمہارے لئے وہ بہترین کپڑے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کپڑوں میں کفناؤ، نیز تمہارے لئے بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ تمہاری پلکوں کے بال اگاتا ہے اور آنکھ کی بینائی کو بڑھاتا ہے ابوداؤد ترمذی نے اس روایت کو لفظ موتاکم تک نقل کیا ہے۔
تشریح
مردوں کو سفید کپڑے میں کفنانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے چناچہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ کفن کا کپڑا اگر سفید ہو تو اولی بہتر ہے ورنہ تو مردوں کے کفن کے لئے برد (یعنی دھاری دار کپڑا) اور کتان کے کپڑے اور عورتوں کے کفن کے لئے ریشمی، زعفرانی اور سرخ رنگ کے کپڑے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ مرد ہو یا عورت اس کے لئے اس کی زندگی میں جن کپڑوں کا استعمال جائز ہے مرنے کے بعد انہیں کپڑوں کا کفن دینا بھی جائز ہے۔ اثمد اسی سرمہ کو کہتے ہیں جو عام طور پر ہمارے یہاں استعمال ہوتا ہے، اس سرمہ کے استعمال کے بارے میں یہ افضل ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کے پیش نظر اسے سوتے وقت لگایا جائے پھر یہ کہ سوتے وقت سرمہ لگانا اپنے فوائد کے اعتبار سے بہت زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔
قیمتی کپڑے کے کفن کی ممانعت
وعن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا . رواه أبو داود
حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کفن میں زیادہ قیمتی کپڑا نہ لگاؤ اس لئے کہ وہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے ( ابوداؤد)
تشریح
جلد چھین لیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جلد ہی خراب اور پرانا ہوجاتا ہے پھر کیا ضرورت ہے کہ نفیس اور زیادہ قیمت کا کپڑا کفن میں لگایا جائے غرض کہ حدیث کا حاصل کفن کے بارے میں اسراف کرنے سے منع کرنا ہے اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ کفن میں اوسط درجہ کا کپڑا لگانا مستحب ہے۔
قیامت میں مردہ کس حال میں اٹھے گا؟
وعن أبي سعيد الخدري أنه لما حضره الموت . دعا بثياب جدد فلبسها ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها . رواه أبو داود
حضرت ابوسعید خدری ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں زیب تن کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردہ انہیں کپڑوں میں اٹھایا جاتا ہے جن میں وہ مرتا ہے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوسعید ؓ نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرنے کے لئے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں زیب تن کیا۔ بظاہر حدیث کی مراد یہ ہوئی کہ قیامت میں جب مردوں کو دوبارہ زندگی بخشی جائے گی اور وہ اٹھ کر میدان حشر میں آئیں گے تو اس وقت ان کے بدن پر کپڑا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہی مفہوم حدیث کا مراد ہے تو مسئلہ بڑا نازک ہوجاتا ہے کیونکہ صحیح حدیث کے ذریعہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قیامت کے روز لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں اٹھیں گے۔ اس لئے علماء نے اس حدیث کے معنی یہ لکھے ہیں کہ حدیث میں کپڑوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن پر زندگی ختم ہوتی ہے چناچہ ایسا ہوتا ہے کہ اہل عرب کبھی کبھی لفظ ثیاب (یعنی کپڑے) بولتے ہیں اور اس سے اعمال مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح کپڑے بدن سے لگے رہتے ہیں اسی طرح اعمال بھی بدن سے متعلق ہوتے ہیں یہی وجہ کہ آیت کریمہ (وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) 74۔ المدثر 4) کی تاویل بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ اپنے اعمال صحیح کرو۔ حضرت ابوسعید نے اس وقت جب کہ وہ دنیا سے رخصت ہو رہے تھے محض صفائی و ستھرائی اور پاکیزگی کے لئے نئے کپڑے زیب تن کئے۔ اتفاقاً یہ حدیث بھی ان کے ذہن میں آگئی جسے انہوں نے بیان کیا نہ یہ کہ حضرت ابوسعید نے اس نئے کپڑے پہننے کی دلیل کے طور پر یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جن کپڑوں میں موت واقع ہوگی وہ اپنی قبر سے تو انہیں کپڑوں میں اٹھے گا میدان حشر میں برہنہ حالت میں پہنچے گا۔
وعن عبادة بن الصامت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خير الكفن الحلة وخير الأضحية الكبش الأقرن . رواه أبو داود
حضرت عبادہ بن صامت ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والا دنبہ ہے۔ ترمذی نے اور ابن ماجہ نے یہ روایت حضرت ابوامامہ سے نقل کی ہے ( ابوداؤد )
تشریح
حلہ سے چادر، لنگی اور اس کے نیچے کی قمیص یعنی کفنی مراد ہے، کفن میں یہ تینوں کپڑے مسنون ہیں یا پھر یہ کہ حلہ سے مراد قمیص (کفنی) کے علاوہ صرف چادر اور لنگی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کفن میں ایک کپڑے پر اکتفاء نہ کیا جائے گا بلکہ کم سے کم دو کپڑے ہونے بہتر ہیں کیونکہ یہ کفن کفایہ اور ادنیٰ درجہ ہے اور اگر کفن میں تین کپڑے یعنی چادر، لنگی اور اس کے ساتھ قمیص بھی دیں تو یہ سنت اور درجہ کمال ہے۔ سینگوں والا دنبہ چونکہ اکثر فربہ اور قیمتی ہوتا ہے اس لئے اس کی قربانی کو بہتر فرمایا گیا ہے۔
شہداء کو انہیں کپڑوں میں دفن کیا جائے جن میں وہ شہید ہوئے ہوں
وعن ابن عباس قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتلى أحد أن ينزع عنهم الحديد والجلود وأن يدفنوا بدمائهم وثيابهم . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لوہے (ہتھیار، زرہیں) اور چمڑے (کی پوستیں وغیرہ یعنی وہ اشیاء جو خون آلود نہیں ہیں) ان کے بدن سے اتار لی جائیں پھر انہیں ان کے (خون آلودہ) کپڑوں اور خون سمیت دفن کردیا جائے۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک میں شہید کے لئے نہ غسل ہے اور نہ نماز جنازہ ہے جب کہ حضرت امام اعطم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شہداء کے لئے غسل تو نہیں ہے مگر نماز جنازہ ہے۔
حضرت مصعب اور حضرت امیر حمزہ (رض) کا کفن
عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أن عبد الرحمن بن عوف أتى بطعام وكان صائما فقال : قتل مصعب بن عمير وهو خير مني كفن في بردة إن غطي رأسه بدت رجلاه وإن غطي رجلاه بدا رأسه وأراه قال : وقتل حمزة وهو خير مني ثم بسط لنا من الدنيا ما بسط أو قال : أعطينا من الدنيا ما أعطينا ولقد خشينا أن تكون حسناتنا عجلت لنا ثم جعل يبكي حتى ترك الطعام . رواه البخاري
حضرت سعد بن ابراہیم اپنے والد مکرم (حضرت ابراہیم) سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے پاس جب کہ وہ روزہ سے تھے (افطار کے لئے) کھانا لایا گیا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت مصعب بن عمیر جو شہید کر دئیے گئے تھے مجھ سے بہتر تھے مگر وہ صرف ایک چادر میں کفنائے گئے تھے۔ (جو اس قدر چھوٹی تھی) کہ اگر ان کا سر ڈھانکا جاتا تھا تو ان کے پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانک دئیے جاتے تھے تو ان کا سر کھل جاتا تھا آخر کار ان کا سر تو اس چادر سے ڈھک دیا گی اور پیروں پر اذخر ڈال دی گئی جیسا کہ باب جامع المناقب کی حدیث میں یہ تفصیل ہے حضرت ابراہیم حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے یہ بھی فرمایا حضرت حمزہ جو شہید کر دئیے گئے تھے مجھ سے بہتر تھے اور ان کو بھی ایسا ہی کفن نصیب ہوا جیسا کہ حضرت مصعب بن عمیر کو اور جب مسلمانوں کی تنگدستی و پریشانی کا یہ دور اللہ کے فضل سے ختم ہوا تو پھر ہمارے لئے دنیا اس قدر فراخ کی گئی کہ جو ظاہر ہے یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں اس قدر دی گئی جتنی کہ دی گئی ہے۔ ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا صلہ ہمیں جلد ہی (یعنی دنیا ہی میں) نہ مل گیا ہو، پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (اسی خوف کی وجہ سے) رونے لگے یہاں تک کہ انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔ (بخاری)
تشریح
حضرت عبدالرحمن بن عوف بڑے باعظمت صحابی ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، اسی طرح حضرت مصعب ابن عمیر بھی جلیل القدر اور ذی شان و باعظمت صحابہ میں سے ہیں، جنگ بدر میں شریک ہوئے ہیں اور جنگ احد میں شہید ہوئے۔ حضرت مصعب بن عمیر اسلام قبول کرنے سے پہلے بڑے مالدار تھے مگر جب ایمان و اسلام کی مقدس شعاعوں نے قلب و دماغ کو منور کیا اور غلامان رسالت میں شامل ہوئے تو مال و دولت سے منہ موڑ کر زہد و فقر کی زندگی اختیار کی منقول ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں اس حال میں حاضر ہوئے کہ کمر میں تسمہ بندھا ہوا تھا، آپ نے انہیں دیکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی روشنی سے اس کا دل منور کردیا ہے۔ میں نے اسے مکہ میں اس حال میں دیکھا ہے کہ اس کے ماں باپ اسے اچھا سے اچھا کھانا کھلاتے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے جسم پر دو سو درہم کا لباس ہوتا تھا۔ مگر اب اس شخص نے اللہ اور رسول ﷺ کی محبت میں اپنے آپ کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے محترم چچا ہیں۔ اہل بدر میں سے تھے اور جنگ احد میں شہد ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں سیدالشہداء فرمایا ہے۔ حضرت عبدالرحمن کے قول ولقد خشینا الخ ہمیں اس بات کا خوف ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی نعمتوں نے جس فراخی سے اپنی آغوش ہمارے لئے کھول دی ہے اس کی وجہ سے ہم ڈرتے ہیں کہیں ہم بھی ان لوگوں میں داخل نہ ہوجائیں جن کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ آیت (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّ لْنَا لَه فِيْهَا مَا نَشَا ءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَه جَهَنَّمَ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) 17۔ الاسراء 18)۔ جو شخص دنیا (کی نعمتوں کے حصول) کا ارادہ کرتا ہے تو ہم ایسے شخص کو دنیا میں جو چیز چاہتے ہیں اور جس کے واسطے چاہتے ہیں جلدی ہی دیدیتے ہیں پھر ہم اس کے لئے جہنم تجویز کرتے ہیں جس میں وہ بدحال اور راندہ درگارہ ہو کر داخل ہوگا۔ چونکہ حضرت عبدالرحمن بن عوف پر خوف الٰہی غالب اور ان کا دل خشیت الٰہی سے لرزاں تھا اس لئے انہیں خیال ہوا کہ مبادا میں ان لوگوں میں داخل ہوجاؤں جن کے بارے میں حق تعالیٰ یہ سخت وعید بیان فرما رہے ہیں ورنہ تو ظاہر ہے کہ آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو شخص صرف دنیا اور محض دنیا کی نعمتوں کا خواہش مند و طلب گار ہوتا ہے اور دنیا و دنیا کی نعمتوں کے علاوہ اس کے خواہش و طلب کا محور اور کوئی چیز نہیں ہوتی تو ہم دنیا میں اسے اپنے انعام سے نواز دیتے ہیں لیکن ہم اسے وہی دیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں نہ یہ کہ جو کچھ اس کی خواہش ہوتی ہے اسی طرح ہم اس شخص کو دنیا کی نعمتیں دیتے ہیں جسے ہم دینا چاہتے ہیں نہ یہ کہ ہر خواہش مند و طلب گار کو ہم دنیا کی نعمتیں دیتے ہیں حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں ان لوگوں کے بارے میں وعید بیان کی گئی ہے جو صرف دنیا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت عبدالرحمن ان لوگوں میں سے نہیں تھے مگر ان پر چونکہ خوف اللہ غالب تھا اس لئے ڈرے کہ دنیا کی اس آسائش و فراخی کی وجہ سے کہیں ہمارا شمار بھی انہیں لوگوں میں نہ ہوجائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف پر خوف الٰہی اور خشیت الٰہی کے غلبہ ہی کا یہ اثر تھا کہ روزہ دار ہونے کی وجہ سے باوجود شدید احتیاج اور ضرورت کے انہوں نے کھانا تک چھوڑ دیا اور کچھ کھایا نہیں کیونکہ جب کسی کا قلب خوف الٰہی سے لرزاں ہوتا ہے تو وہ کسی بھی دنیاوی و جسمانی خواہش و لذت کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بوقت ضرورت جس قدر بھی کفن میسر آجائے وہی مسنون ہے۔
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے ساتھ اس کے انتقال کے بعد آنحضرت ﷺ کا معاملہ
وعن جابر قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الله بن أبي بعدما أدخل حفرته فأمر به فأخرج فوضعه على ركبتيه ن فنفث فيه من ريقه وألبسه قميصه قال : وكان كسا عباسا قميصا المشي بالجنازة والصلاة عليها - الفصل الأول
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عبداللہ بن ابی کے پاس اس وقت تشریف لائے جب کہ وہ اپنی قبر میں اتارا جا چکا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے (اس کی قبر) سے نکالنے کا حکم فرمایا جب وہ نکالا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اپنا مبارک لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اسے اپنا کرتہ پہنایا حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی نے حضرت عباس کو اپنا کرتہ پہنایا تھا (بخاری ومسلم)
تشریح
عبداللہ بن ابی اسلامی تاریخ کا ایک جانا پہچانا شخص ہے، جب نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ فروکش ہوئے اور اس طرح اسلامی دعوت و تبلیغ کا مرکز مکہ سے مدینہ منورہ منتقل ہوا تو اسلام کی دعوت توحید و رسال کے نتیجہ میں تین جماعتیں سامنے آئیں، ایک جماعت تو ان باسعادت و مقدس اور عظیم انسانوں پر مشتمل تھی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، خلوص اور صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے اور نبوت کے بعد نسل انسانی کے سب سے عظیم و باسعات مرتبہ صحابیت سے نوازے گئے۔ دوسری جماعت پہلی کے بالکل برعکس ان بدبخت وسیہ کار لوگوں پر مشتمل تھی جنہوں نے علی الاعلان آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور جس کے نتیجہ میں نسل انسانی کے سب سے ذلیل و کمتر درجہ کفر و شرک پر قائم رہے۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ایک تیسری جماعت تھی یہ تیسری جماعت ان خود غرض و مفاد پرست لوگوں پر مشتمل تھی جو اپنی اغراض و مقاصد کے تحت بظاہر تو مسلمان ہوگئے تھے اور مسلمانوں کو دکھانے کے لئے ان کے ہمنوا بھی ہوتے تھے مگر اندرونی طور پر ان کی ساری سرگرمیوں کا مرکز دعوت اسلامی کی مخالفت اور مسلمانوں کی بیخ کنی کا جذبہ ہوتا تھا۔ یہی وہ جماعت تھی جو انسانیت کی ارذل ترین اور قابل نفرین خصلت نفاق سے بھر پور تھی اور اسلامی تاریخ میں یہی جماعت منافقین کے نام سے یاد کی گئی۔ عبداللہ بن ابی اسی جماعت کا سربراہ اور سردار تھا۔ حضرت عباس ؓ (آنحضرت ﷺ کے عم محترم) اگرچہ غزوہ بدر سے بہت پہلے ہی اسلام قبول کرچکے تھے مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کیا تھا، چناچہ جب جنگ بدر ہوئی تو یہ کفار مکہ کی طرف سے بدر میں مجبورا شریک ہوئے۔ مگر آنحضرت ﷺ کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ یہ مسلمان ہوچکے ہیں اس لئے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو آگاہ فرما دیا تھا کہ جنگ میں ان پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ بہر حال جب جنگ ختم ہوئی اور حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و غلبہ نصیب فرمایا تو اسلامی لشکر کفار مکہ کی ایک بڑی تعداد کو میدان جنگ سے اسیر بنا کر مدینہ لایا۔ انہیں قیدیوں میں حضرت عباس ؓ بھی تھے، حضرت عباس جب مدینہ لائے گئے تو ان کے بدن پر کپڑا نہیں تھا اور چونکہ وہ دراز قد تھے اس لئے کسی مسلمان کا لباس ان کے جسم پر نہیں آیا، اتفاق سے عبداللہ بن ابی بھی دراز قد تھا اس نے اپنا کرتہ حضرت عباس کے لئے پیش کیا جسے بدرجہ مجبوری قبول کرلیا گیا اس طرح حضرت عباس نے عبداللہ بن ابی کا کرتہ پہنا۔ چناچہ جب عبداللہ بن ابی مرا تو آنحضرت ﷺ نے اس کے کرتہ کا بدلہ اتارنے کے لئے اپنا کرتہ اس کو پہنا دیا تاکہ آپ ﷺ پر ایک منافق کا احسان باقی نہ رہے۔ اس موقعہ پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آیت (ولا تصلی علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علیٰ قبرہ)۔ منافقین میں سے جو مرجائے اس کے لئے (مغفرت و بخشش کی) کبھی دعا نہ کیجئے اور نہ ہی اس کی قبر پر جائیے۔ مگر اس کے باوجود آنحضرت ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کو اپنا کرتہ پہنایا اور اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا؟ علماء نے اس اشکال کے بہت سارے جواب دئیے ہیں جو پوری تفصیل کے ساتھ دوسری شروح میں مذکور ہیں یہاں تو صرف یہ جواب نقل کردینا کافی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ مذکورہ بالا آیت نازل نہیں ہوئی تھی، پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کا مقصد صرف اس کے ایک احسان کا بدلہ اتارنا تھا جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا، نیز عبداللہ بن ابی کا لڑکا چونکہ مخلص و صادق مومن تھا اور وہ نفاق سے پاک تھا اس لئے اس کی تالیف قلب اور خاطر داری بھی پیش نظر تھی۔