مؤمن کامل بخار میں کیوں مبتلا ہوتا ہے؟
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد مريضا فقال : أبشر فإن الله تعالى يقول : هي ناري أسلطها على عبدي المؤمن في الدنيا لتكون حظه من النار يوم القيامة . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک بیمار کی عیادت کی (جب بخار میں مبتلا تھا) اور اس سے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو! کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخار میری آگ ہے۔ جسے میں اپنے بندہ پر اس لئے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ (بخار) اس کے حق میں قیامت کے دن دوزخ کی آگ کا بدلہ اور حصہ ہوجائے۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آیت (وان منکم الا واردھا) یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو (قیامت کے دن) دوزخ میں داخل نہ ہو۔ لہٰذا بندہ مؤمن کو اس داخل ہونے کے بدلے دنیا میں بخار میں مبتلا کیا جاتا ہے اس طرح وہ بخار کی وجہ سے عذاب سے جو دوزخ میں داخل ہونے کی وجہ سے ہوتا بچا رہے گا اگرچہ داخل ہونا بایں طور سب کے لئے ہوگا کہ پل صراط دوزخ کے اوپر قائم کیا جائے اور اس کے اوپر سے سب ہی گزریں گے۔ مذکورہ بالا تشریح کے پیش نظر حدیث میں لفظ مؤمن کے ساتھ کامل کی قید لگا دینی چاہئے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حدیث کے مفہوم کا تعلق مؤمن کامل سے ہے۔ کیونکہ بعض گناہگار مؤمن بھی آتش دوزخ کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے اس طرح وہ مؤمن جو اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔ حدیث کے مفہوم و مصداق سے خارج ہوجائیں گے۔
فقر وبیماری گناہوں کی بخشش کا ذریعہ
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرب سبحانه وتعالى يقول : وعزتي وجلالي لا أخرج أحدا من الدنيا أريد أغفر له حتى أستوفي كل خطيئة في عنقه بسقم في بدنه وإقتار في رزقه . رواه رزين
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ بزرگ و برتر فرماتے ہیں کہ قسم ہے اپنی عزت و بزرگی کی جس بندہ کو میں بخشنا چاہتا ہوں اسے میں دنیا سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک کہ اس کے بدن کو بیماری میں مبتلا کر کے اور اس کے رزق کی تنگی میں ڈال کر اس کے ہر گناہ کا بدلہ جو اس کے ذمہ ہو نہ دے لوں گا (رزین)
تشریح
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس بندہ کو میں آخرت کی ابدی سعادت سے نوازنا چاہتا ہوں اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں بایں طور دے دیتا ہوں کہ کبھی تو اسے بیماری میں مبتلا کردیتا ہوں کبھی مال و رزق کی تنگی اس پر مسلط کردیتا ہوں۔ پس وہ بخشا جاتا ہے اور عذاب آخرت سے نجات پاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ فقر و بیماری اور بلا و مصیبت گناہوں کو دور کرتی ہے۔
ابن مسعود (رض) کا ایک واقعہ
وعن شقيق قال : مرض عبد الله بن مسعود فعدناه فجعل يبكي فعوتب فقال : إني لا أبكي لأجل المرض لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المرض كفارة وإنما أبكي أنه أصابني على حال فترة ولم يصبني في حال اجتهاد لأنه يكتب للعبد من الجر إذا مرض ما كان يكتب له قبل أن يمرض فمنعه منه المرض . رواه رزين
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ (جب) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیمار ہوئے (تو ہم لوگ آپ کی عیادت کو گئے، وہ ہمارے سامنے رونے لگے لوگوں نے (یہ گمان کر کے کہ وہ بیماری کی تکلیف اور اپنی زندگی کی محبت کی وجہ سے رو رہے ہیں) اس پر ناگواری کا اظہار کیا، حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں کیونکہ میں نے تو خود رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری گناہوں کے دور ہونے کا سبب ہے میں تو صرف اس لئے رو رہا ہوں کہ میں سستی (یعنی بڑھاپے) کی حالت میں بیماری میں مبتلا ہوا قوت (یعی جوانی) کی حالت میں بیماری میں مبتلا کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اس کے ( ایام بیماری میں) وہی اعمال لکھے جاتے جو اس کے بیمار ہونے سے پہلے لکھے جاتے تھے اور اب بیماری نے اسے اس عمل سے باز رکھا۔ (رزین)
تشریح
جوانی کے ایام میں بحالت صحت و تندرستی نیک عمل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لئے اس بشارت کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حالت بیماری میں بیمار بندہ کے نامہ اعمال میں فرشتوں کو ان اعمال کا ثواب لکھنے کا حکم دیتا ہے جنہیں وہ حالت تندرستی میں کیا کرتا تھا اور اب بیماری کی وجہ سے نہیں کرسکتا۔ ایام جوانی کی بیماری میں بھی کم اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے اس لئے حضرت ابن مسعود ؓ یہی فرماتے ہیں کہ کاش میں ایام جوانی میں بیمار ہوتا تاکہ میرے نامہ اعمال میں زیادہ اعمال کا ثواب لکھا جاتا۔
وعن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم لا يعود مريضا إلا بعد ثلاث . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ تین دن کے بعد مریض کی عیادت کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بیمار ہونے کے تین دن بعد مریض کی عیادت کے لئے آپ تشریف لے جاتے تھے اس سلسلہ میں جہاں تک کہ مسئلہ کا تعلق ہے تو جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں عیادت کسی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے جب چاہے کرے خواہ پہلے کرے خواہ بعد میں۔ چناچہ بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ بعض حضرات نے تو اسے حدیث موضوع تک قرار دیا ہے۔
مریض سے اپنے لئے دعا کراؤ
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال ك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخلت على مريض فمره يدعو لك فإن دعاءه كدعاء الملائكة . رواه ابن ماجه
حضرت عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم بیمار کے پاس جاؤ تو اس سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مریض کی دعا کو فرشتوں کی دعا کے مانند قرار دیا گیا ہے کیونکہ بیمار کی تو ملائکہ کے ساتھ بہت مشابہت ہوتی ہے بایں طور کہ جس طرح فرشتے گناہوں سے پاک و صاف رہتے ہیں، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہتے ہیں اور ہمہ وقت بارگاہ رب العزت میں دعا مناجات اور التجا کرتے رہتے ہیں، اسی طرح بیمار بھی گناہوں سے بچتا ہے، ہر وقت اللہ ہی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ہمہ وقت دعا درازی اور التجا میں مصروف رہتا ہے۔
مریض کے پاس غل غپاڑہ نہ مچانا چاہئے
وعن ابن عباس قال : من السنة تخفيف الجلوس وقلة الصخب في العيادة عند المريض قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كثر لغطهم واختلافهم : قوموا عني رواه رزين
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عیادت کے وقت مریض کے پاس کم بیٹھنا اور شور و غوغا نہ کرنا سنت ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ صحابہ ؓ میں شور و غوغا اور اختلاف زیادہ ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو۔ (رزین)
تشریح
حضرت ابن عباس ؓ کے ارشاد سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ عیادت کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مریض کے پاس عیادت کے وقت صرف اتنا عرصہ کے لئے بیٹھنا چاہئے جس میں بیمار کی مزاج پرسی اور اس کے حالات و کیفیات کا علم ہوجائے۔ گویا اس کے پاس خواہ مخواہ کے لئے زیادہ دیر تک بیٹھ کر بیمار کے مزاج پر بوجھ نہ بننا چاہئے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار کے پاس بیٹھ کر غل غپارہ مچانا اور شور و غوغا کرنا مکروہ ہے۔ روایت کے دوسرے جزو کی تفصیل حضرت ابن عباس ہی کی روایت کی روشنی میں جو بخاروی و مسلم میں مروی ہے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب مرض میں مبتلا ہوئے اور وصال کا وقت قریب آیا تو اس موقع پر جب کہ آپ کے پاس بہت زیادہ لوگ جمع تھے جن میں حضرت عمر ؓ بھی تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوات قلم لاؤ میں تمہارے لئے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں تاکہ تم میرے بعد گمراہی میں مبتلا نہ ہو سکو! (یہ سن کر حاضرین کو مخاطب کر کے) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ (معلوم ہوتا ہے کہ) اس وقت آنحضرت ﷺ پر شدت مرض غالب ہے اسی لئے آپ ﷺ وصیت نامہ لکھنے کے لئے فرما رہے ہیں ورنہ تو وصیت نامہ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور کتاب اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد اہل بیت اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی اپنی بات کہنی شروع کردی کوئی تو کہتا تھا کہ قلم و دوات لا دینا چاہئے تاکہ آنحضرت ﷺ تمہارے لئے وصیت نامہ لکھ دیں بعض لوگ حضرت عمر ؓ کی تائید کر رہے تھے۔ غرض اس معاملہ میں جب بحث مباحثہ زیادہ بڑھا اور لوگوں کے اظہار رائے نے شور و غوغا کی صورت اختیار کرلی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو۔ اس صورت واقعہ سے روافض یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اس وصیت نامہ میں خلافت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے تھے (مثلاً یہ کہ میرے بعد خلیفہ اول علی ؓ ہوں) مگر حضرت عمر نے آپ کو اس سے روک دیا۔ علامہ ابن حجر (رح) نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ روافض کا یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس واقعہ کی حقیقت تو یہ تھی کہ گویا آنحضرت ﷺ نے جب وصیت نامہ لکھنے کا رادہ فرمایا اور حاضرین میں اختلاف پیدا ہوا تو آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ بات آئی کہ مصلحت یہی ہے کہ کوئی وصیت نامہ نہ لکھا جائے۔ چناچہ آپ نے حضرت عمر ؓ کے کہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے اختیار سے صرف یہ کہ اس وقت وصیت نامہ نہیں لکھا بلکہ لکھنے کا ارادہ بھی ترک فرما دیا کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ نے کسی چیز کے لکھنے کا مصمم ارادہ فرما لیا ہوتا تو حضرت عمر وغیرہ کی کیا مجال تھی کہ آپ ﷺ کے اس فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے، چناچہ آنحضرت ﷺ اس واقعہ کے بعد تین دن تک زندہ رہے اور ان ایام میں آپ ﷺ کے پاس حضرت عمر اور دوسرے صحابہ موجود نہیں تھے بلکہ اہل بیت مثلاً حضرت علی اور حضرت عباس ؓ وغیر ہما بارگاہ رسالت میں حاضر رہے اگر آپ اس موقع پر خلافت کے بارے میں کوئی وصیت نامہ لکھنے ہی میں مصلحت سمجھتے تو ضرور لکھتے۔ پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے خلافت کے بارے میں ایسا طریقہ اختیار فرمایا جس میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش ہی نہ رہی تھی آپ ﷺ نے اپنے آخری ایام میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو نماز میں لوگوں کا امام مقرر فرمایا۔ اسی وجہ سے حضرت علی ؓ نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے واسطے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر کو ہمارے دین کے لئے امام منتخب فرمایا یعنی نماز میں ہمارا امام مقرر فرما دیا تو کیا ہم انہیں اپنی دنیا کے لئے یعنی خلافت کے لئے منتخب نہ کریں؟ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت ابوبکر کو نماز میں لوگوں کا امام بننے کے لئے بلا بھیجا تو اس وقت میں آپ ﷺ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا اور آپ مجھے دیکھ رہے تھے (مگر آپ نے مجھے امام مقرر نہیں فرمایا) حضرت ابوبکر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ کہ آیت (لایخافون لومۃ لائم)۔ (یعنی یہ لوگ ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے)۔ منقول ہے کہ ابوسفیان بن حرب نے (جب ایک موقع پر) حضرت علی ؓ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ابوبکر سے لڑائی کے لئے مدینہ کا میدان گھوڑوں اور پیادوں سے بھر دوں (تو حضرت علی) ابوسفیان کی اس بات سے بہت ناراض ہوئے اور انہیں ڈانٹا اور بہت برا بھلا کہا تاکہ نہ صرف ابوسفیان بلکہ دوسرے لوگ بھی جان لیں کہ ابوبکر کی خلافت منشاء نبوت کے مطابق ہونے کی وجہ سے اتنی مستحکم اور حقیقی ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو اس وقت آنحضرت ﷺ ہی نے حضرت علی ؓ کی خلافت کے بارے میں کچھ لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا اور نہ خود حضرت علی ؓ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں حضرت ابوبکر ؓ سے مقدم ہوں اور خلافت میرا حق ہے کیونکہ حضرت علی اگر حضرت ابوبکر پر فضیلت رکھتے اور خلافت پہلے ان کا حق ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس کی ضرور وصیت کرتے۔ چہ جائیکہ آپ ﷺ نے اس کی طرف کوئی اشارہ بھی نہیں فرمایا جب کہ حضرت ابوبکر کو نماز میں لوگوں کا امام مقرر فرما کر اس طرف کھلا ہوا اشارہ فرما دیا تھا کہ میرے بعد ابوبکر ہی خلیفہ ہونگے۔
عیادت کے وقت مریض کے پاس بہت کم بیٹھنا چاہئے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العيادة فواق ناقة
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عیادت کا افضل مرتبہ اونٹنی کے دو مرتبہ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے بقدر ہے اور حضرت سعید بن مسیب کی روایت کے جو بطریق ارسال منقول ہے یہ الفاظ ہیں کہ بہترین عیادت وہی ہے جس میں عیادت کرنے والا جلد اٹھ کھڑا ہو۔ (بیہقی)
تشریح
پہلی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اونٹنی کا دودھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ کر کے دوہتے ہیں جن کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ دودھ دوہا پھر ذرا رک گئے اور بچوں کو تھنوں سے لگا دیا تاکہ دودھ خوب اترے پھر اس کے بعد دودھ دوہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح دونوں مرتبہ کا درمیانی وقفہ بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا عیادت کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے۔ جب کوئی کسی مریض کے پاس عیادت کے لئے جائے تو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھے بلکہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے بقدر بیٹھے تاکہ مریض کو تکلیف نہ ہو۔ کتابوں میں ایک شخص کا واقعہ منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سری سقطی (رح) کی عیادت کو گئے جب کہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ ہم ان کے پاس بہت دیر تک بیٹھے رہے اس وقت ان کے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! ان لوگوں کو مریض کی عیادت کرنے کے آداب و طریقے سکھا! گویا انہوں نے اس دعا سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مریض کے پاس جب عیادت کے لئے جائے تو زیادہ دیر تک نہ بیٹھے بلکہ تھوڑی دیر بیٹھ کر اور عیادت کر کے چلا آئے۔ ہاں اگر کوئی عیادت کرنے والا یہ جانے کہ بیمار پر اس کا زیادہ دیر تک بیٹھنا گراں نہیں گزر رہا ہے بلکہ دوست ہونے کی حیثیت سے یا برکت حاصل کرنے کی غرض سے اور یا خدمت دلداری کی وجہ سے مریض کی خواہش یہ ہے کہ وہ اس کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھے تو اس صورت میں مریض کے پاس سے جلدی اٹھ کھڑا ہونا افضل نہیں ہوگا۔
مریض جو چیز مانگے کھلادینی چاہئے
وفي رواية سعيد بن المسيب مرسلا : أفضل العيادة سرعة القيام . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کی عیادت کی پھر اس سے پوچھا کہ کیا چیز کھانے کو تمہارا جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا کہ گیہوں کی روٹی کھانے کو میرا جی چاہتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو (یعنی اس مریض کے پاس) بھیج دے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بیمار ہو اور کسی چیز کی خواہش کرے تو اسے وہ چیز کھلادینی چاہئے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
خواہش سے مراد خواہش صادق ہے اور وہ صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ چناچہ بعض مریضوں کو اس چیز کا کھانا کہ جسے کھانے کے لئے مریض کا دل چاہتا ہو نقصان دہ نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ وہ چیز مقدار میں تھوڑی ہو اور ایسی نہ ہو جس کے نقصان اور ضرر کا پہلو غالب ہو۔ لہٰذا حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ حکم اذا اشتھی فلیطعمہ کلی اور عمومی طور پر نہیں ہے بلکہ جزئی اور انفرادی طور پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مریض کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ جو بھی چیز مانگے خواہ وہ اس کے مرض کے لئے کتنی ہی نقصان دہ اور مضر کیوں نہ ہو اس دیدی جائے جبکہ بعض مخصوص حالات میں اگر کوئی مریض کسی ایسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے جس میں نقصان اور ضرر کا پہلو غالب نہ ہو اور یہ کہ معالج اس کے خلاف نہ ہو تو وہ چیز مریض کو دے دینی چاہئے۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم تو کل یا زندگی سے مایوسی پر مبنی ہے یعنی جس مریض کی زندگی کی امید باقی نہ رہی ہو اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ جو چیز مانگے اسے کھلا دینی چاہئے۔
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم عاد رجلا فقال له : ما تستهي ؟ قال : أشتهي خبز بر . قال النبي صلى الله عليه و سلم : من كان عنده خبز بر فليبعث إلى أخيه . ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا اشتهى مريض أحدكم شيئا فليطعمه . رواه ابن ماجه
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کی وفات مدینہ میں ہوئی جو مدینہ ہی میں پیدا ہوا تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر فرمایا! کہ کاش! یہ شخص اپنے پیدا ہونے کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ مرا ہوتا! صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اپنے وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ مرتا ہے تو اس کے وطن سے لیکن اس کے مرنے کے مقام تک کی جگہ اس کے لئے جنت میں پیمائش کی جاتی ہے۔ (نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص وطن سے دور حالت سفر میں مرتا ہے تو اس کے وطن اور اس کے مرنے کی جگہ تک کے درمیان جتنی مسافت ہوتی ہے اس کے بقدر جگہ اس کو جنت میں ملتی ہے لین اس بارے میں صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے مراد صرف طاعت یعنی جہاد وغیرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اجر و انعام اس شخص کو ملتا ہے جو جہاد کے لئے یا دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یا اسی قسم کے دوسرے بامقصد و مطلوب کام کے لئے وطن سے دور مرا ہو۔
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن عبد الله بن عمرو قال ك توفي رجل بالمدينة ممن ولد بها فصلى عليه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا ليته مات بغير مولده . قالوا ولم ذاك يا رسول الله ؟ قال : إن الرجل إذا مات بغير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة . رواه النسائي وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حالت مسافرت کی موت شہادت ہے۔ (ابن ماجہ)
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : موت غربة شهادة . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص بحالت مرض مرتا ہے تو وہ شہید مرتا ہے اور قبر کے فتنوں سے بچایا جاتا ہے نیز (ہر صبح شام اسے جنت سے رزق دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مشکوۃ کے صحیح نسخوں میں لفظ مریضا ہی لکھا ہوا ہے لیکن بعض نسخوں میں تغیر کر کے مریضا کے بجائے لفظ غریبا لکھ دیا گیا ہے لیکن صحیح ابن ماجہ میں لفظ مرابطا منقول ہے۔ اسی لئے میرک (رح) نے مشکوۃ کے اپنے نسخہ کے حاشیہ میں یہ الفاظ صوابہ مرابطا (یعنی صحیح لفظ مرابطا ہی ہے) لکھ کر اس کے نیچے یہ لکھا ہے کہ کذا فی سنن ابن ماجہ فی باب ما جاء من مات مرابطا مات شہیدا۔ پھر یہ کہ لفظ مریضا کے بارے میں علماء نے تو لکھا ہے کہ مرض سے مراد عام مرض ہے جب کہ بعض حضرات نے خاص مرض جیسے استسقاء مراد لیا ہے۔ لیکن ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں ان قیود کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ یہاں راوی سے چوک ہوگئی ہے کیونکہ حدیث کے صحیح الفاظ من مات مرابطا ہیں نہ کہ من مات مریضاً۔
طاعون کی موت شہید کی موت کی طرح ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات مريضا مات شهيدا أو وقي فتنة القبر وغدي وريح عليه برزقه من الجنة . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہداء اور وہ لوگ جو اپنے بچھونوں پر (یعنی اپنے گھروں میں) مرے ہیں (اور حقیقی شہید نہیں ہوئے ہیں) اپنے پروردگار بزرگ برتر کے سامنے ان لوگوں کے بارے میں جو طاعون زدہ ہو کر مرے ہیں، جھگڑا کریں گے چناچہ شہداء تو یہ کہیں گے کہ ( یہ لوگ طاعون زدہ ہو کر مرے ہیں) ہمارے بھائی ہیں (یعنی ہماری طرح ہیں) (یعنی ہمارے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا انہیں ہمارا ہم مرتبہ ہونا چاہئے) کیونکہ جس طرح ہم قتل کئے گے تھے اسی طرح یہ بھی قتل کئے گئے تھے۔ اور جو لوگ اپنے بچھوں پر مرے ہیں کہیں گے کہ ہمارے بھائی ہیں (یعنی ہماری طرح ہیں) کیونکہ یہ لوگ اسی طرح بچھونوں پر مرے ہیں جس طرح کہ ہم مرے ہیں۔ پس ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخموں کو دیکھا جائے اگر ان کے زخم شہدا کے زخم کی مانند ہیں تو یہ شہداء میں سے ہیں (یعنی باعتبار ثواب کے شہداء کے ہم پلہ ہیں اور حشر و نشر میں) ان کے ساتھ ہیں۔ چناچہ جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخم کے مشابہ ہوں گے۔ (احمد، نسائی)
تشریح
بارگاہ رب العزت میں طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہداء کی اس دلیل کہ جس طرح ہم قتل کئے گئے اسی طرح یہ بھی قتل کئے گئے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم دشمنان دین اور کفار کے ہاتھوں زخمی ہو کر مرے ہیں اسی طرح یہ بھی جنات کے ہاتھوں زخمی ہو کر مرے ہیں۔ کیونکہ علماء نے لکھا ہے کہ بسا اوقات طاعون زدہ کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کوئی نیزے مار رہا ہو اسی لئے اس مرض کو طاعون کا نام دیا گیا ہے جو طعن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں نیزہ مارنا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص طاعون میں مبتلا ہو کر مرے گا وہ شہیدوں میں سے ہے اس لئے قیامت کے روز وہ ان کے ساتھ ہوگا۔
طاعون سے بھاگنے کی مذمت اور اس پر صبر کرنے کی فضیلت
عن العرباض بن سارية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يختصم الشهداء والمتوفون على فرشهم إلى ربنا في الذين يتوفون من الطاعون فيقول الشهداء : إخواننا قتلوا كما قتلنا ويقول : المتوفون على فرشهم إخواننا ماتوا على فرشهم كما متنا فيقول ربنا : انظروا إلى جراحهم فإن أشبهت جراحهم جراح المقتولين فإنهم منهم ومعهم فإذا جراحهم قد أشبهت جراحهم . رواه أحمد والنسائي
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا طاعون کی بیماری سے (یعنی جہاں یہ وبا پھیلی ہو وہاں) بھاگنے والا جہاد میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنے والے کی طرح ہے اور طاعون میں صبر کرنے والے کو شہید کا ثواب ملتا ہے۔ (احمد)
تشریح
طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ مشابہت گناہ کبیرہ کے اعتبار سے ہے یعنی جس طرح کفار کے مقابلہ سے بھاگنے والا گناہ کبیرہ میں مبتلا ہوتا ہے اسی طرح طاعون سے بھاگنے والے کو بھی گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ اور یہ اعتقاد رکھتے ہوئے طاعون زدہ علاقہ سے بھاگنا کہ اگر میں یہاں سے بھاگ جاؤں گا تو سلامت رہوں گا اگر نہ بھاگا تو مرجاؤں گا۔ کفر ہے۔ بظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون میں صبر کرنے والے کو شہید کا ثواب ملتا ہے اگرچہ اس کی موت نہ ہو۔
آرزوئے موت اور موت کو یادر کھنے کی فضیلت کا بیان
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الفار من الطاعون كالفار من الزحف والصابر فيه له أجر شهيد . رواه أحمد
جسمانی تکلیف و مصیبت اور دنیاوی ضرر نقصان مثلاً مرض، تنگدستی اور دوسری بلاء و پریشانیوں کی وجہ سے موت کی آرزو کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ بےصبری اور تقدیر الٰہی پر راضی نہ ہونے کی علامت ہے۔ دیدار الٰہی کے شوق و محبت، اس سرائے فانی اور اس کی محبت سے نجات، دارالبقاء پہنچنے کی خواہش اور وہاں کی نعمتوں کی تمنا میں موت کی آرزو ایمان اور کمال ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح دینی ضرر و نقصان کے خوف سے بھی موت کی آرزو کرنا مکروہ نہیں ہے۔ موت کو یاد رکھنا دراصل کنایہ ہے اس بات سے کہ اللہ رب العز کا خوف قلب میں جاگزین ہو اس کی رضاء و خوشنودی کا حصول اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہمہ وقت پیش نظر ہے رسول کریم ﷺ کی محبت اور ان کی لائی ہوئی شریعت پر عمل ہو، توبہ و استغفار کا ورد ہو اور دنیاوی نفع نقصان پر آخرت کے نفع و نقصان کو مقدم رکھا جائے۔ ورنہ تو محض موت کو یاد رکھنا اور یاد کرنا اور عملی طور پر بےراہ روی اختیار کرنا چنداں فائدہ مند نہیں ہے بلکہ قساوت قلب کا سبب ہے جیسا کہ غفلت کے ساتھ اللہ رب العزت کو یاد کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ نسأل اللہ العافیۃ۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنى أحدكم الموت إما محسنا فلعله أن يزداد خيرا وإما مسيئا فلعله أن يستعتب . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ (یعنی موت کی آرزو کرنے والا) نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ (اس کی عمر دراز ہونے کی وجہ سے) اس کے نیک اعمال میں زیادتی ہوجائے اور اگر بدکار ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (توبہ کر کے اور لوگوں کے حقوق ادا کر کے) اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی حاصل کرلے (بخاری)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إنه إذا مات انقطع أمله وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نہ (تو دل سے) موت کی آرزو کرے اور (زبان سے) موت کی دعا مانگے قبل اس کے کہ اس کی موت آئے۔ کیونکہ انسان جب مرجاتا ہے تو (بھلائی کی زیادتی کے لئے) اس کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں اور مؤمن کی عمر کی درازی اس کی بھلائی ہی میں زیادتی کرتی ہے۔ (مسلم)
تشریح
ظاہر ہے کہ جب انسان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے تو نیکی و بھلائی کی راہیں بھی منقطع ہوجاتی ہیں کیونکہ اگر زندگی ہوگی تو اعمال نیک ہوں گے اور جب اعمال نیک ہوں گے تو سعادت بھلائی میں زیادتی ہی زیادت ہوگی اسی لئے فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن کی زندگی جب دراز ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بھلائی وسعادت میں زیادتی ہوتی ہے کیونکہ بندہ مؤمن بلاء و مصیبت پر صبر کرتا ہے نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، تقدیر الٰہی سے راضی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کے احکام کی فرمانبرداری کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ثواب بڑھتا ہی جاتا ہے۔
دنیاوی تکلیف ونقصان کی وجہ سے موت کی آرزو کرنے کی ممانعت
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه فإن كان لابد فاعلا فليقل : اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص (جسمانی و مالی) ضرر و تکلیف کی وجہ سے کہ جو اسے پہنچے موت کی آرزو نہ کرے اور اگر اس قسم کی آرزو ضروری ہی ہے تو پھر یہ دعا مانگے دعا (اللہم احینی ما کانت الحیاۃ خیرا لی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی۔ اے اللہ! مجھ کو اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندگی (موت سے) بہتر ہو اور مجھے موت دے اس وقت دے جب کہ میرے لئے موت (زندگی سے) بہتر ہو۔
تشریح
نووی (رح) نے فتویٰ دیا ہے کہ دینی فتنہ و فساد کے خوف سے موت کی آرزو کرنا مکروہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ چناچہ اس سلسلہ میں انہوں نے حضرت امام شافعی اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہما اللہ وغیرھما کے بارے میں نقل کیا ہے کہ ان حضرات نے دینی فتنہ و فساد کے خوف سے موت کی آرزو کی تھی اسی طرح کے راستہ میں شہادت کی آرزو کرنی بھی مستحب ہے اس لئے کہ یہ حضرت عمر ؓ وغیرہ سے ثابت و منقول ہے بلکہ حضرت معاذ ؓ کے بارے میں تو یہاں تک منقول ہے کہ انہوں نے طاعون عمو اس کے وقت موت کی آرزو کی تھی اس لئے معلوم ہوا کہ شہادت کی آرزو کرنا اگرچہ وہ از قسم طاعون وغیرہ ہی کیوں نہ ہو مستحب ہے۔ مسلم میں یہ روایت منقول ہے کہ جس شخص نے صدق دل سے اور خلوص نیت کے ساتھ شہادت کی تمنا کی تو اسے شہادت کا ثواب دیا جاتا ہے (اگرچہ اسے شہادت حاصل نہ ہو سکے) مدینہ میں موت کی آرزو کرنا مستحب ہے کیونکہ بخاری میں منقول ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ دعا مانگی تھی۔ دعا (اللہم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک واجعل موتی فی بلد رسولک) اے اللہ! اپنی راہ میں مجھے شہادت نصیب فرما اور اپنے رسول کے شہر میں مجھے موت دے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک زندگی موت سے بہتر ہے جب تک کہ گناہ کے مقابلہ میں طاعات زیادہ ہوں اور زمانہ دینی فتنہ و فساد سے خالی ہو۔ ہاں جب صورت حال بالکل برعکس ہو۔ بایں طور کہ طاعات کے مقابلہ میں گناہ زیادہ ہوں اور زمانہ دینی فتنہ و فساد سے خالی نہ ہو تو پھر جینے سے مرجانا ہی بہتر ہے۔
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه فقالت عائشة أو بعض أزواجه : إنا لنكره الموت قال : ليس ذلك ولكن المؤمن إذا حضره الموت بشر برضوان الله وكرامته فليس شيء أحب إليه مما أمامه فأحب لقاء الله وأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا حضر بشر بعذاب الله وعقوبته فليس شيء أكره إليه مما أمامه فكره لقاء الله وكره الله لقاءه
حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا ہے (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نے یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی اور زوجہ مطہرہ نے عرض کیا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا (یہ مراد) نہیں بلکہ (مراد یہ ہے کہ) جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے اور اسے بزرگ رکھتا ہے چناچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی اللہ کے ہاں اپنے اس فضیلت و مرتبہ سے) زیادہ کسی چیز (یعنی دنیا اور دنیا کی چمک دمک) کو محبوب نہیں رکھتا، اس لئے بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے (قبر میں) اللہ کے عذاب اور (دوزخ کی سخت ترین) سزا کی خبر دی جاتی ہے۔ چناچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی عذاب و سزا) سے زیادہ کسی اور چیز کو ناپسند نہیں کرتا اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے (یعنی اسے اپنی رحمت اور مزید نعمت سے دور رکھتا ہے) اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں منقول ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے۔
تشریح
مشہور تو یہی ہے کہ لقاء مولیٰ (یعنی اللہ کی ملاقات) سے مراد موت ہے، لیکن اس بارے میں تحقیقی بات یہ ہے کہ لقاء مولیٰ سے موت مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آخرت کی طرف متوجہ ہونا، حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کا طالب ہونا، دنیا کی طرف مائل نہ ہونا اور دنیا و آخرت کی محبت میں گرفتار نہ ہونا۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا ترک کی اور دنیا اور اس کی چیزوں کو ناپسند کیا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو پسند کیا! اور جس شخص نے دنیا کو اختیار کیا، دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوا اور دنیا کی طرف اپنا میلان رکھا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو ناپسند رکھا! یہی وجہ ہے کہ لقاء مولیٰ کا اشتیاق موت کی محبت اور اس کے اشتیاق کو لازم ہے یعنی جو شخص لقاء مولیٰ کو پسند کرے گا وہ موت کو بھی پسند کرے گا کیونکہ لقاء مولیٰ کے لئے موت وسیلہ ہے۔ ام المؤمنین چونکہ یہی سمجھیں تھیں کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد لیس الامر کذالک کے ذریعہ وضاحت فرمائی کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت نہیں ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ بتقاضائے جبلت طبعی موت سے محبت ہو اور بالفعل موت کی آرزو کرنی چاہئے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص رضاء حق کا طالب ہو اور لقاء مولیٰ کا شائق ہوتا ہے وہ لقاء مولیٰ کے لئے وسیلہ ہونے کی وجہ سے موت کو ہمیشہ عقلی طور پر محبوب رکھتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب زندگی کا وقت پورا ہونے لگتا ہے اور موت کا وقت قریب آتا ہے اور اسے حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خوشخبری دیدی جاتی ہے تو پھر اس وقت وہ موت کو طبعی طور پر پسند کرتا ہے اور لقاء مولیٰ کا اشتیاق اس کی طبعی خواہش کی آواز بن جاتا ہے چناچہ حدیث کے الفاظ ولکن المؤمن الخ (یعنی جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے الخ) اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے الفاظ موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ہی یہ شرف حاصل ہوتا ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے وہ موت کو بھی پسند کرتا ہے کیونکہ اس عظیم شرف وسعادت کا حصول موت کے ذریعہ سے ممکن ہے اور یہ کہ لقاء الٰہی کا وجود موت کے وجود سے پہلے متصور نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ لقاء الٰہی اور موت دنوں ایک چیز نہیں ہیں بلکہ دونوں الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔
مؤمن کی موت خود اس کی راحت کا ذریعہ ہے اور فاجر کی موت دنیا والوں کی راحت کا سبب ہے
وفي رواية عائشة : والموت قبل لقاء الله
حضرت ابوقتادہ ؓ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ راحت پانے والا ہے، یا یہ کہ اس سے دوسروں کو راحت نصیب ہوئی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ راحت پانے والا کون ہے؟ اور وہ کون ہے جس سے دوسروں کو راحت نصیب ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا بندہ مؤمن اپنی موت کے ذریعہ دنیا کے رنج و ایذاء سے راحت پاتا ہے اور اللہ کی رحمت کی طرف جاتا ہے اور بندہ فاجر (یعنی گنہگار) کی موت کے ذریعہ اس کے شر فساد سے بندے، شہر، درخت اور جانور (سب ہی) راحت پاتے ہیں (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب بندہ مؤمن وفات پاتا ہے تو وہ دنیا کے رنج سے بایں طور راحت پاتا ہے کہ دنیا میں اعمال و احوال کی وجہ سے وہ جس مشقت و محنت میں مبتلا تھا اس سے نجات مل جاتی ہے اور دنیا کی ایذاء سے بایں طور راحت پاتا ہے کہ وہ دنیاوی تکلیف و پریشانی مثلاً گرمی سردی، تنگدستی و مفلسی وغیرہ سے یا یہ کہ اہل دنیا کی ایذاء رسانی سے اسے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اسی لئے مسروق (رح) نے کہا ہے کہ مجھے کسی چیز پر بھی کسی چیز کے سبب اتنا رشک نہیں آتا جتنا رشک اس مؤمن پر آتا ہے جو قبر میں سلا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے عذاب سے مامون ہوجاتا ہے اور دنیا سے راحت و سکون پا لیتا ہے۔ نیز ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب کے پاس جانے کے شوق میں موت کو پسند کرتا ہوں۔ گناہ کے کفارہ کے لئے مرض کو پسند کرتا ہوں۔ اور اپنے رب کے سامنے تواضع و انکساری کی خاطر فقر کو پسند کرتا ہوں۔ جب بندہ فاجر یعنی گنہگار مرتا ہے تو اس سے بندے تو یوں راحت پاتے ہیں کہ جب وہ اپنی زندگی میں خلاف شرع باتیں کرتا اور لوگ اسے منع کرتے تو وہ انہیں ایذاء پہنچاتا اور اگر سکوت و خاموشی اختیار کرتے تو اپنے دین اور اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتے۔ اور جب وہ گنہگار مرگیا تو لوگوں نے اس سے چھٹکارا پایا۔ اور شہر و درخت وغیرہ اس کے مرنے سے بایں طور راحت پاتے ہیں کہ گناہ و ظلم ہونے کی وجہ سے عالم میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ارکان دین میں خلل واقع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ گنہگارو ظالم کو مبغوض رکھتا ہے لہٰذا اس کی وجہ سے زمین اور وہ تمام چیزیں جو زمین میں ہیں نقصان اٹھاتی ہیں پھر یہ کہ اس کی شومی گناہ کے سبب اللہ تعالیٰ بارش نہیں برساتا، اب جب کہ مرا تو بادلوں نے اپنے منہ کھول دیئے اور زمین کا شجر و پودا ہرا بھرا ہوگیا اور اس طرح سب ہی نے راحت پائی۔
دنیا میں مسافر بلکہ راہ گیر کی طرح رہو
وعن أبي قتادة أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر عليه بجنازة فقال : مستريح أو مستراح منه فقالوا : يا رسول الله ما المستريح والمستراح منه ؟ فقال : العبد المؤمن يستريح من نصب الدنيا وأذاها إلى رحمة الله والعبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (پہلے تو) میرا مونڈھا پکڑا (تاکہ میں متنبہ ہوجاؤں) پھر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر بلکہ راہ گیر ہو حضرت ابن عمر ؓ (اس کے بعد لوگوں سے) فرمایا کرتے تھے کہ جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو، نیز اپنی صحت کو بیماری سے غنیمت جانو اور اپنی زندگی کو موت سے غنیمت سمجھو۔ (بخاری)
تشریح
یہاں حدیث میں لفظ بمنکنی حرف یا کے سکون کے ساتھ بصیغہ مفرد نقل کیا گیا ہے جبکہ مشکوۃ کے ایک دوسرے نسخہ میں حرف یا کے تشدید کے ساتھ بصیغہ تثنیہ منقول ہے۔ فانک غریب (گویا تم مسافر ہو) کا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی طرف رغبت نہ رکھو اس لئے کہ تم اس دنیا سے آخرت کی طرف سفر کرنے والے ہو، لہٰذا تم اس دنیا کو اپنا وطن نہ بناؤ، دنیا کی لذتوں کے ساتھ الفت نہ رکھو اور دنیا دار لوگوں سے اور ان کے اختلاط سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ تم ان سب لوگوں سے جدا ہونے والے ہو، اس دنیا میں اپنی بقا کو وہم و گمان میں بھی نہ رکھو، ان امور سے قطعا اجتناب کرو جن سے ایک مسافر غیر وطن میں اجتناب کرتا ہے اور ان چیزوں سے مشغول نہ رہو جن میں وہ مسافر کہ جو اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے، مشغول نہیں ہوتا، گویا کہ تم کلیۃ اس دنیا میں بالکل اسی طرح رہو جس طرح کہ ایک مسافر اپنے وطن اور اپنے اہل و عیال سے دور غیر وطن میں رہتا ہے۔ پھر آگے زیادہ مبالغہ کے ساتھ فرمایا کہ بلکہ ایک راہ گیر (راستہ چلنے والے) کی طرح رہو کیونکہ مسافر تو اپنے سفر کے دوران مختلف شہروں میں قیام بھی کرلیتا ہے بخلاف راستہ چلنے والے کے کہ وہ تو کسی جگہ قیام بھی نہیں کرتا۔ لہٰذا دنیا کو نہ صرف یہ کہ سفر گاہ سمجھنا چاہئے بلکہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ راستہ چل رہا ہوں نہ تو وطن میں ہوں اور نہ حالت سفر میں کہیں ٹھہرا ہوا ہوں۔ جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو الخ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں نہ معلوم موت کا پنجہ کس وقت گردن آدبوچے، ایک لمحے کے لئے بھی کسی زندگی کا بھروسہ نہیں ہے صبح کے وقت کسی کو معلوم نہیں کہ شام کا وقت دیکھنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں، شام کے وقت کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ صبح تک اس کی زندگی ضرور ہی باقی رہے گی حاصل یہ کہ صبح و شام ہر وقت تم موت کو اپنے سامنے حاضر سمجھو، زندگی کی آرزؤوں اور تمناؤں کو دراز نہ کرو، عمل خیر کرنے میں پیش روی اختیار کرو دن کی عبادات اور نیک اعمال کو رات پر اور رات کی عبادات و نیک اعمال کو دن پر اٹھا نہ رکھو کیونکہ غنیمتے شمر اے شمع وصل پروانہ ایں معاملہ تا صبح دم نہ خواہد ماند صحت کو بیماری سے غنیمت جانو کا مطلب یہ ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرو تاکہ حالت بیماری میں جب تم نیک اعمال کرنے پر قادر نہ رہوگے ویسا ہی ثواب پا سکو۔ اپنی زندگی کو موت سے غنیمت جانو یعنی تمہاری جتنی بھی زندگی ہے اس میں عمل ہی عمل کئے جاؤ تاکہ جب یہ زندگی اپنا وقت پورا کرے اور تم موت کی آغوش میں پہنچ جاؤ تو پھر اس کے بعد تمہاری زندگی کے انہیں اعمال کا ثواب تمہیں پہنچتا رہے۔ غنیمت داں جو انا دولت حسن جوانی را نہ پنداری کہ ایام جوانی جاوداں باشد بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ اذا امسیت۔۔۔ من حیاتک لموتک حضرت ابن عمر ؓ کا ارشاد موقوف ہے لیکن احیاء العلوم میں اسے مرفوعاً یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم