Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 272 of 315

5421Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قسطنطينية فَبينا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ: إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِكَ بَاطِلٌ فَإِذَا جاؤوا الشامَ خرجَ فَبينا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلَاة فَينزل عِيسَى بن مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فيريهم دَمه فِي حربته . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ رومی فوجیں اعماق (مدینہ کے قریب جگہ) یا دابق کے مقام پر پڑاؤ ڈالیں گی ، تو مدینہ سے اس وقت روئے زمین کے بہترین افراد پر مشتمل ایک لشکر ان کی طرف روانہ ہو گا ، جب وہ صف بندی کر لیں گے تو رومی کہیں گے ، تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان ، جنہوں نے ہمارے افراد کو قیدی بنایا تھا ، راستہ چھوڑ دو ، ہم ان سے قتال کرنا چاہتے ہیں ، مسلمان کہیں گے ، نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان راہ خالی نہیں چھوڑیں گے ، وہ ان سے قتال کریں گے ، وہ تہائی شکست کھا جائیں گے ، اللہ ان کی کبھی توبہ قبول نہیں فرمائے گا ، ان میں سے تہائی قتل کر دیے جائیں گے وہ اللہ کے ہاں اعلیٰ درجے کے شہداء ہیں ، اور تہائی فتح یاب ہوں گے وہ کبھی آزمائے نہیں جائیں گے وہ قسطنطنیہ فتح کریں گے ، وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے ، اور انہوں نے اپنی تلواریں زیتون کے درخت کے ساتھ لٹکا دی ہوں گی اسی دوران شیطان ان میں زور دار آواز سے کہے گا کہ مسیح (دجال) تمہارے اہل و عیال میں آ چکا ہے ، وہ نکلیں گے اور یہ بات باطل ہو گی ، جب وہ شام پہنچیں گے تو وہ نکل چکا ہو گا اس اثنا میں کہ وہ قتال کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے ، صفیں درست کر رہے ہوں گے کہ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی تو عیسیٰ بن مریم ؑ نزول فرمائیں گے ، اور وہ ان کی امامت کرائیں گے ، جب اللہ کا دشمن (دجال) انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے ، اور اگر وہ اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ خود ہی گل سڑ کر ہلاک ہو جائے گا ، لیکن اللہ ان (عیسیٰ ؑ) کے ہاتھوں اسے قتل کرائے گا ، وہ اپنے نیزے پر اس کا لگا ہوا خون دکھائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5422Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الساعةَ لَا تقومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ ميراثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ. ثُمَّ قَالَ: عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الشَّامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ (يَعْنِي الرّوم)\nفيتشرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاء كل غير غَالب وتفنى الشرطة ثمَّ يَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غالبة فيقتتلون حت يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غير غَالب وتفنى الشرطة ثمَّ يشْتَرط الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فيقتتلون حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَد إِليهم بقيةُ أهلِ الإِسلام فيجعلُ الله الدَبَرةَ عَلَيْهِم فيقتلون مَقْتَلَةً لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ ليمر يجنابتهم فَلَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا فَيَتَعَادَّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أيّ مِيرَاث يقسم؟ فَبينا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ: أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشْرَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْض يَوْمئِذٍ» . رَوَاهُ مُسلم\n

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میراث تقسیم نہیں ہو گی ، اور مال غنیمت (کی تقسیم) پر خوشی محسوس نہیں ہو گی ۔ پھر انہوں نے فرمایا : دشمن اہل شام کے لیے جمع ہوں گے جبکہ اہل اسلام ان (رومیوں) کے لیے جمع ہو جائیں گے ، مسلمان ایک دستے کو موت کے لیے تیار کریں گے اور وہ غلبہ حاصل کر کے ہی واپس آئیں گے ، وہ قتال کریں گے حتیٰ کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی ، اور دونوں طرف کی فوجیں غلبہ حاصل کیے بغیر واپس آ جائیں گی ، اور منتخب دستے شہید کر دیئے جائیں گے ، پھر مسلمان ایک دستے کو موت کے لیے تیار کریں گے اور وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے ، وہ قتال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ ان کے مابین رات آڑے آ جائے گی ، تو دونوں طرف کی فوجیں غلبہ حاصل کیے بغیر واپس آ جائیں گی اور منتخب دستہ شہید کر دیا جائے گا ، پھر وہ مسلمان (تیسری مرتبہ) ایک دستہ موت کے لیے تیار کریں گے وہ غلبہ حاصل کر کے واپس آئیں گے ، وہ قتال کرتے رہیں گے ، حتیٰ کہ شام ہو جائے گی ، اور دونوں طرف کی فوجیں غلبہ حاصل کیے بغیر واپس آ جائیں گی اور منتخب دستہ شہید کر دیا جائے گا ، جب چوتھا روز ہو گا تو اہل اسلام کے باقی افراد ان کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے ، تو اللہ ان (کفار) پر ہزیمت مسلط کر دے گا ، وہ خوب لڑیں گے اس جیسی لڑائی کبھی نہ دیکھی گئی ہو گی حتیٰ کہ اگر پرندہ ان کی طرف سے گزرنا چاہے گا تو وہ مردہ حالت میں گر پڑے گا ، ایک باپ کے بیٹے لڑائی سے پہلے گنے گئے تو وہ سو تھے ، لیکن لڑائی کے بعد وہ ان میں سے صرف ایک آدمی پائیں گے ، تو کس غنیمت پر خوشی ہو گی ، اور کون سی میراث تقسیم کی جائے گی ؟ وہ اسی اثنا میں ہوں گے کہ وہ اچانک ایک لڑائی کے متعلق سنیں گے جو کہ اس سے بھی بڑی ہو گی ، ان تک آواز پہنچے گی ، دجال ان کی اولاد میں ظاہر ہو چکا ہے ، ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہو گا وہ اسے پھینک دیں گے ، اور ادھر متوجہ ہوں گے ، وہ خبر حاصل کرنے کے لیے دس گھڑ سواروں کو بھیجیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں اور وہ روئے زمین پر بہترین گھڑ سوار ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5423Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بني إِسحاق فَإِذا جاؤوها نَزَلُوا فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ أحدُ جانبيها. - قالَ ثورُ بنُ يزِيد الرَّاوِي: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ -: الَّذِي فِي الْبَحْر يَقُولُونَ الثَّانِيَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ثُمَّ يَقُولُونَ الثَّالِثَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيُفَرَّجُ لَهُم فيدخلونها فيغنمون فَبينا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ فَقَالَ: إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ ويرجعون . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے ایک ایسے شہر کے متعلق سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی ہے اور ایک طرف سمندر ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ بنو اسحاق کے ستر ہزار افراد وہاں جہاد کریں گے ، جب وہ وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالیں گے تو وہ نہ تو اسلحہ سے لڑیں گے اور نہ تیر اندازی کریں گے ، ’’ وہ لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھیں گے تو اس کی ایک جانب گر پڑے گی ۔‘‘ ثور بن یزید راوی بیان کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا مگر حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس جانب کے متعلق فرمایا جو سمندر کی طرف ہے ’’ پھر وہ دوسری مرتبہ :’’ لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھیں گے تو اس کی دوسری جانب بھی گر پڑے گی ، پھر وہ تیسری مرتبہ ’’ لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھیں گے تو وہ (شہر) ان کے لیے کھول دیا جائے گا تو وہ اس میں داخل ہوں گے اور مال غنیمت حاصل کریں گے ، وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ایک زور دار آواز انہیں سنائی دے گی کہ دجال کا ظہور ہو چکا ہے ، چنانچہ وہ ہر چیز چھوڑ کر واپس آ جائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5424Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

عَنْ\nمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَفَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّال» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیت المقدس کی آبادی ، یثرب کی بربادی کے وقت ہو گی ، اور یثرب کی خرابی بڑی جنگ کے وقت ہو گی ، اور بڑی جنگ فتح قسطنطنیہ کے وقت ہو گی ، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کے وقت ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5425Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنگوں کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الملحمة الْعُظْمَى وَفتح القسطنطينة وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد\n

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بڑی جنگ ، قسطنطنیہ کی فتح اور خروج دجال سات ماہ میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

5426Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنگوں کا بیان

وَعَن\nعبد الله بن بُسر أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: هَذَا أصح\n

عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنگ عظیم اور شہر کی فتح کے مابین چھ سال کا وقفہ ہو گا جبکہ دجال کا ظہور ساتویں سال ہو گا ۔‘‘ ابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5427Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عُمَرَ قَالَ: يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحٌ وَسَلَاحٌ: قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : قریب ہے کہ مسلمانوں کو مدینہ تک محصور کر دیا جائے حتیٰ کہ ان کی سب سے دور والی سرحد سلاح ہو گی ۔ اور سلاح خیبر کے قریب ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5428Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَن\nذِي مِخبَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ\nفَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ\nفَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «فَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ فيكرم الله تِلْكَ الْعِصَابَة بِالشَّهَادَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ذومخبر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب تم (مسلمانو !) رومیوں سے معاہدہ امن کرو گے ، تم اور وہ اپنے پیچھے ایک دشمن سے جنگ کرو گے ، تمہاری مدد کی جائے گی اور تم مال غنیمت حاصل کرو گے اور تم سلامت رہو گے ، پھر تم واپس آؤ گے حتیٰ کہ تم سرسبز سطح مرتفع پر اترو گے تو عیسائیوں (رومیوں) میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا اور کہے گا صلیب غالب آ گئی ، اس پر ایک مسلمان شخص غصے میں آ کر اس (صلیب) کو توڑ ڈالے گا اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے اور وہ جنگ کے لیے جمع ہوں گے ۔‘‘ اور بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ تب مسلمان اپنے اسلحہ کی طرف دوڑیں گے اور وہ قتال کریں گے ، اللہ اس جماعت کو شہادت کے اعزار سے نوازے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5429Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک حبشی تم سے تعرض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو ، کیونکہ کعبہ کا خزانہ باریک پنڈلیوں والا حبشی ہی نکالے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5430Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ رَجُلٌ\nمِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ\n

نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا :’’ تم حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور (اسی طرح) جب تک ترک تمہیں چھوڑے رکھیں تم بھی ان کو چھوڑے رکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

5431Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nبُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ: «يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الْأَعْيُنِ» يَعْنِي التّرْك. قَالَ: «تسوقونهم ثَلَاث مَرَّات حَتَّى تلحقوهم بِجَزِيرَة الْعَرَب فَأَما السِّيَاقَةِ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ وَأَمَّا الثَّانِيَة فينجو بعض وَيهْلك بعض وَأما الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ» أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

بریدہ ؓ نبی ﷺ سے اس حدیث میں روایت کرتے ہیں ، جس میں ہے :’’ چھوٹی آنکھوں والے یعنی ترک تم سے قتال کریں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ تم تین مرتبہ انہیں دھکیلو گے حتیٰ کہ تم انہیں جزیرۂ عرب تک پہنچا دو گے ، پہلی مرتبہ دھکیلنے کے موقع ، بھاگ جانے والے بچ جائیں گے ، دوسری مرتبہ بعض بچ جائیں گے اور بعض ہلاک ہو جائیں گے ، جبکہ تیسری مرتبہ وہ ہلاک کر دیے جائیں گے ۔‘‘ یا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5432Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَنْزِلُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ فِي أَذْنَابِ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے کچھ لوگ نہر کے پاس ہموار نشیبی زمین پر پڑاؤ ڈالیں گے جسے وہ بصرہ کے نام سے موسوم کریں گے ، اور اس نہر کو دجلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا ، اس پر ایک پل ہو گا ، اسکے رہنے والے بہت ہوں گے ، اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا ، اور جب آخری دور ہو گا تو بنو قنطورا آئیں گے ، جو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے ، حتیٰ کہ وہ نہر کے کنارے پڑاؤ ڈالیں گے اور وہ (بصرہ والے) تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ گائے کی دُمیں پکڑ لے گا اور وہ جنگلوں میں (کھیتی باڑی کریں) گے ، اور وہ ہلاک ہو جائیں گے ، ایک گروہ اپنی جانوں کے لیے امان حاصل کر لیں گے اور وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے ، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنی پشت کے پیچھے کر لیں گے اور وہ ان سے قتال کریں گے اور یہی شہداء ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5433Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يمصِّرون أمصاراً فَإِن مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ: الْبَصْرَةُ فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكَلَأَهَا ونخيلها وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا فَإِنَّهُ يَكُونُ بهَا خَسْفٌ وقذفٌ ورجْفٌ وقومٌ يبيتُونَ ويصبحون قردة وَخَنَازِير رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انس ! لوگ شہر آباد کریں گے اور ان میں سے ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جائے گا ، اگر تم وہاں سے گزرو یا تم وہاں جاؤ تو اس کی شور والی زمین ، گھاس والی زمین ، اس کے نخلستان ، اس کے بازاروں اور اس کے حکمرانوں کے دروازوں سے بچتے رہنا (مذکورہ جگہوں پر نہ جانا)، اور تم اس کے اطراف میں رہنا کیونکہ اس میں زمین کا دھنسنا ہو گا ، آندھیاں اور زلزلے آئیں گے ، وہاں لوگ رات کو سوئیں گے تو صبح کے وقت وہ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5434Mishkaat-al-Masabihضعیف

جنگوں کا بیان

وَعَن\nصَالح بن دِرْهَم يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولُ هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ؟ سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ\nوَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي الدَّرْدَاءِ: «إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ» فِي بَابِ: «ذِكْرِ الْيَمَنِ وَالشَّامِ» . إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى\n

صالح بن درہم بیان کرتے ہیں ، ہم حج کے لیے روانہ ہوئے ، تو ایک آدمی نے ہمیں کہا : تمہارے پاس ایک بستی ہے جسے ابلہ کہا جاتا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : تم میں سے کون مجھے ضمانت دیتا ہے کہ وہ میری خاطر مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے گا ، اور وہ کہے گا کہ یہ (رکعتیں) ابوہریرہ کے لیے ہیں ، میں نے اپنے دوست ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ عزوجل روز قیامت مسجد عشار سے شہداء اٹھائے گا ، ان کے علاوہ شہدائے بدر کے ساتھ کوئی اور کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\nابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : یہ مسجد نہر کے کنارے واقع ہے ، اور ہم ابودرداء ؓ سے مروی حدیث :’’ کہ مسلمانوں کے خیمے ...... ‘‘ باب ذکر الیمن و الشام میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔\n

5435Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

عَن شَقِيق عَن حُذَيْفَة قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ: قَالَ: هَاتِ إِنَّكَ لِجَرِيءٌ وَكَيْفَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ» فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْر. قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أويفتح؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ: ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا. قَالَ: فَقُلْنَا لحذيفةَ: هَل كَانَ عمر يعلم مَنِ البابُ؟ قَالَ: نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةٌ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

شقیق ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ہم عمر ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم میں رسول اللہ ﷺ سے فتنے کے متعلق مروی حدیث کون یاد رکھتا ہے ؟ میں نے کہا : میں یاد رکھتا ہوں جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ عمر ؓ نے فرمایا : سناؤ ! تم تو بڑے دلیر ہو ، اور آپ ﷺ نے کیسے فرمایا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آدمی کے لیے اس کے اہل و عیال ، اس کا مال ، اس کی جان ، اس کی اولاد اور اس کا پڑوسی فتنہ و آزمائش ہیں ، جبکہ روزہ ، نماز ، صدقہ اور نیکی کا حکم کرنا ، برائی سے روکنا اس کا کفارہ ہے ۔‘‘ (اس پر) عمر ؓ نے فرمایا : میری یہ مراد نہیں تھی ، میری مراد تو وہ (فتنہ) ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ آئے گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، امیر المومنین ! آپ کو اس سے کیا سروکار ؟ کیونکہ اس کے اور آپ کے درمیان بند دروازہ ہے ، انہوں نے کہا : وہ دروازہ کھول دیا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا ، انہوں نے فرمایا : پھر یہ اس کے زیادہ لائق ہے کہ وہ کبھی بند نہ کیا جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا : کیا عمر ؓ اس دروازے کے متعلق جانتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، جیسے رات کے بعد دن آنے کا علم ہوتا ہے ، بے شک میں نے اسے حدیث بیان کی جس میں کوئی غلطی و ابہام نہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے خوف کی وجہ سے حذیفہ ؓ سے اس دروازے کے متعلق دریافت نہیں کیا ، ہم نے مسروق سے کہا کہ آپ حذیفہ ؓ سے پوچھیں ، انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : وہ عمر ہیں ۔ متفق علیہ ۔

5436Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَن أنسٍ\nقَالَ: فَتْحُ القسطنطينة مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

انس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : قسطنطنیہ کی فتح ، قیامت کے ساتھ (یعنی قریب) ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5437Mishkaat-al-Masabihصحیح

علاماتِ قیامت کا بیان

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنا ويكثُرَ شُربُ الخمرِ ويقِلَّ الرِّجالُ وتكثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «يَقِلُّ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ علامات قیامت میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا ، جہالت زیادہ ہو جائے گی ، زنا کثرت سے ہو گا ، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی ، مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کے لیے ایک منتظم ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\nایک دوسری روایت میں ہے :’’ علم کم ہو جائے گا اور جہالت غالب آ جائے گی ۔‘‘\n

5438Mishkaat-al-Masabihصحیح

علاماتِ قیامت کا بیان

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قیامت سے پہلے (نبی ﷺ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے والے) کذاب ہوں گے ، تم ان سے محتاط رہنا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5439Mishkaat-al-Masabihصحیح

علاماتِ قیامت کا بیان

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: بَيْنَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» . قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: «إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ نبی ﷺ گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک ایک اعرابی آیا تو اس نے عرض کیا : قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب امانت ضائع ہو جائے تو پھر قیامت کا انتظار کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اس کا ضائع کرنا کیسے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5440Mishkaat-al-Masabihصحیح

علاماتِ قیامت کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا» رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة: قَالَ: «تبلغ المساكن إهَاب أَو يهاب»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ مال زیادہ ہو جائے گا اور اس کی خوب ریل پیل ہو گی کہ آدمی اپنی زکوۃ کا مال لے کر نکلے گا لیکن اسے وصول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا اور حتیٰ کہ سر زمین عرب سرسبز و شاداب اور بہتی نہروں والی وادی بن جائے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\nمسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں فرمایا :’’ مدینہ کی آبادی اہاب یا یہاب تک پہنچ جائے گی ۔‘‘\n