Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 271 of 315

5401Mishkaat-al-Masabihضعیف

فتنوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه\n

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عنقریب ایک بڑا فتنہ ہو گا جو کہ تمام عربوں پر محیط ہو گا ، اس کے مقتولین جہنمی ہیں ، اس بارے میں زبان درازی کرنا تلوار زنی کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

5402Mishkaat-al-Masabihضعیف

فتنوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ صَمَّاءُ بكماء عمياءُ مَنْ أَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْ لَهُ وَإِشْرَافُ اللِّسَانِ فِيهَا كوقوع السَّيْف» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عنقریب بہرا ، گونگا اور اندھا فتنہ ہو گا ، جو شخص اس کے قریب جائے گا ، تو وہ اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گا ، اس بارے میں زبان درازی کرنا شمشیر زنی کرنے کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5403Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ: وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ. قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرَبٌ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي إِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كورك على ضلع ثمَّ فتْنَة الدهماء لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطْمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ: فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ. فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ من غده . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور آپ نے ان کے متعلق بہت بیان فرمایا حتیٰ کہ آپ ﷺ نے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا ، کسی نے عرض کیا ، فتنہ احلاس کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ بھاگنا اور لوٹنا ہے ، پھر فتنہ خوشحالی ہے اس کا ابھرنا میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے پاؤں کے نیچے سے ہو گا ، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے ، حالانکہ وہ مجھ میں سے نہیں ، میرے دوست تو متقی لوگ ہی ہیں ، پھر لوگ ایک ایسے شخص (کی امامت و حکمرانی) پر راضی ہو جائیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر ہو (یعنی نا اہل شخص کو حکمران بنا لیں گے) پھر فتنہ دہیماء اس امت کے ہر فرد پر اثر انداز ہو گا ، جب کہا جائے گا کہ وہ ختم ہو گیا ہے تو وہ دراز ہو جائے گا ، اس (فتنے) میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کو کافر حتیٰ کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ، ایمان کا گروہ جس میں کوئی نفاق نہیں ، اور نفاق کا گروہ جس میں ایمان نہیں ، جب یہ صورت ہو تو پھر دجال کا انتظار کرو آج ظاہر ہوا یا کل ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5404Mishkaat-al-Masabihضعیف

فتنوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ عربوں کے لیے ، شر سے جو کہ قریب آ چکا ہے ، ہلاکت ہے ، جس نے اپنا ہاتھ روک لیا وہ کامیاب ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5405Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

وَعَن\nالْمِقْدَاد بن الْأسود قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعادت مند شخص وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا ، سعادت مند شخص وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا ، بے شک سعادت مند شخص وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا ، اور جو شخص ان سے آزمایا گیا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لیے خوشخبری ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5406Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

وَعَنْ\nثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيين لَا نَبِيَّ بِعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\n

ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب میری امت میں (ایک دوسرے سے لڑائی کے لیے) تلوار مسلط کر دی جائے گی تو وہ روز قیامت تک اس سے نہیں اٹھائی جائے گی ، اور قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میری امت کے قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور حتیٰ کہ میری امت کے قبائل بتوں کی پوجا کریں گے ، اور میری امت میں تیس کذاب ہوں گے اور وہ سب دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ کا نبی ہے ، جبکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ہو گا ، وہ غالب رہیں گے ان کا مخالف ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5407Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا» . قُلْتُ: أَمِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى؟ قَالَ: «مِمَّا مضى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

عبداللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس برس تک (نظام کے تحت) چلتی رہے گی ، اگر انہوں نے (اختلاف کیا اور دین کو بے وقعت سمجھ کر) ہلاکت کو اختیار کیا تو پھر ان کی راہ وہی ہے جو ہلاک ہوئے (جیسے سابقہ امتیں)، اور اگر ان کے لیے ان کا دین قائم رہا تو وہ ان کے لیے ستر سال تک رہے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : کیا (وہ ستر برس) اس سے ہیں جو باقی رہ گیا یا اس سے ہیں جو گزر چکا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے جو گزر چکا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5408Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

عَن\nأبي واقدٍ اللَّيْثِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى غَزْوَةِ حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ كَانُوا يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى (اجْعَل لنا إِلَهًا كَمَا لَهُم آلهةٌ)\nوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قبلكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابو واقد لیشی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے گزرے ، جس پر وہ اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے ، اسے ذات انواط کہا جاتا تھا ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر فرما دیں جس طرح ان کے لیے ذات انواط ہے ، رسول اللہ ﷺ نے (تعجب سے) فرمایا :’’ سبحان اللہ ! یہ (بات) تو ایسے ہی ہے جیسے موسیٰ ؑ کی قوم نے کہا تھا :’’ ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیں جس طرح ان کے معبود ہیں ۔‘‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم بھی اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5409Mishkaat-al-Masabihصحیح

فتنوں کا بیان

وَعَن\nابْن الْمسيب قَالَ: وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى - يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ - فَلَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابٍ بَدْرٍ أَحَدٌ ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ - يَعْنِي الْحَرَّةَ - فَلَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدٌ ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَبِالنَّاسِ طَبَاخٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\n

ابن مسیّب ؒ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا :’’ پہلا فتنہ ، یعنی عثمان ؓ کی شہادت کا واقعہ ، رونما ہوا تو غزوۂ بدر میں شریک ہونے والا کوئی صحابی باقی نہیں تھا ، پھر دوسرا فتنہ یعنی واقعہ حرہ (یزید کے دور میں مدینہ پر حملہ ہوا) تو صلح حدیبیہ میں شریک کوئی صحابی باقی نہیں تھا ، پھر تیسرا فتنہ رونما ہوا تو وہ ختم نہ ہوا جبکہ لوگوں میں عقل نہ رہی ۔ رواہ البخاری ۔

5410Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قا ل: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعَوَاهُمَا وَاحِدَةٌ وَحَتَّى يبْعَث دجالون كذابون قريب مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَيظْهر الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولُ الَّذِي يعرضه عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ فَذَلِكَ حِينَ (لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا)\nوَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يطْعمهَا . مُتَّفق عَلَيْهِ\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ دو عظیم جماعتیں قتال کریں گی ، ان کے مابین بڑی قتل و غارت ہو گی ، اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا ، اور تقریباً تیس دجال کذاب بھیجے جائیں گے ، وہ سب یہی دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلے کثرت سے آئیں گے ، زمانہ (قیامت کا وقت) قریب آ جائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے ، قتل زیادہ ہوں گے ، اور تم میں مال کی کثرت ہو جائے گی اور ریل پیل ہو جائے گی ، مال والا خیال کرے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا ؟ اور یہاں تک کہ وہ اسے کسی کو دینے کی کوشش کرے گا تو وہ شخص ، جسے وہ پیش کش کرے گا ، کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ، اور لوگ بڑی بڑی عمارتوں کے متعلق باہم فخر کریں گے ، ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : کاش کہ اس کی جگہ میں ہوتا ، اور سورج مغرب سے نکلے گا ، جب وہ (اس طرف سے) طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو وہ سب ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی شخص کا ایمان اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا جو اس سے پہلے ایمان دار نہ ہو یا اس نے اپنے ایمان کی حالت میں اچھے کام نہ کیے ہوں ۔ اور قیامت اس طرح اچانک قائم ہو گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان اپنا کپڑا پھیلا رکھا ہو گا لیکن وہ نہ تو خرید و فروخت کر سکیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے ۔ اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ نکال چکا ہو گا لیکن وہ اسے کھا (پی) نہ سکا ہو گا اور قیامت قائم ہو گی کہ ایک شخص اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا لیکن وہ اس سے پی نہیں سکے گا ، اور قیامت قائم ہو گی کہ (ایک آدمی) نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھا لیا ہو گا لیکن وہ اسے کھا نہیں سکے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5411Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ وَحَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ ذُلْفَ الْأُنُوفِ كأنَّ وجوهَهُم المجَانُّ المُطْرَقة» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ تم ایک ایسی قوم کے ساتھ قتال کرو گے جن کے جوتے بال والے (یعنی چمڑے) کے ہوں گے ، اور یہاں تک کہ تم ترکوں سے جنگ کرو جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، چہرے سرخ ہوں گے ناک چپٹی ہو گی اور ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5412Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزًا وَكِرْمَانَ مِنَ الْأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوهِ فُطْسَ الْأُنُوفِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ وُجُوهُهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ نِعَالُهُمُ الشّعْر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ تم عجمیوں میں سے خوزا اور کرمان والوں سے قتال کرو ، وہ سرخ چہروں والے ، چپٹی ناک والے اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے ، ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال جیسے ہوں گے اور ان کے جوتے ، بال والے (یعنی چمڑے کے) ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5413Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَفِي راوية لَهُ وَعَن عَمْرو بن تغلب: «عراض الْوُجُوه»

اور صحیح بخاری ہی میں عمرو بن تغلب سے مروی روایت میں ہے :’’ چوڑے چہروں والے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5414Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يختبئ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ وَالشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ من شجر الْيَهُود . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ مسلمان ، یہودیوں سے قتال کریں گے ، مسلمان انہیں قتل کریں گے اس وقت یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو وہ پتھر اور درخت پکار کر کہے گا : اے مسلمان ! اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے ہے ، آؤ اور اسے قتل کرو ، البتہ غرقد کا درخت نہیں کہے گا ، کیونکہ وہ یہودیوں کے درختوں میں سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5415Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بعصاه» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ قحطان سے ایک آدمی نکلے گا وہ لوگوں کو اپنی لاٹھی کے ساتھ ہانکے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5416Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْجَهْجَاهُ . وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ: الجَهجاه . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دن رات ختم نہیں ہوں گے (قیامت قائم نہیں ہو گی) حتیٰ کہ جہجاہ نامی شخص مالک بن جائے گا ۔‘‘\n ایک دوسری روایت میں ہے :’’ حتیٰ کہ آزاد کردہ غلاموں میں سے جہجاہ نامی ایک شخص مالک بن جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

5417Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَض» . رَوَاهُ مُسلم

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مسلمانوں کی ایک جماعت آل کسریٰ کے خزانے پر قبضہ کر لے گی جو کہ سفید محل میں ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5418Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَكَ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَقَيْصَرُ لِيَهْلِكَنَّ ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَسَمَّى «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسریٰ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ، قیصر ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ، اور ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کیے جائیں گے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے لڑائی کا نام دھوکہ و فریب رکھا ۔ متفق علیہ ۔

5419Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَنْ\nنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّال فيفتحه الله» . رَوَاهُ مُسلم\n

نافع بن عتبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے تو اللہ فتح عطا کرے گا ، پھر فارس میں جہاد کرو گے اللہ فتح عطا کرے گا ، پھر تم روم پر حملہ کرو گے تو اللہ فتح عطا فرمائے گا ، پھر تم دجال سے قتال کرو گے تو اللہ فتح عطا فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5420Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنگوں کا بیان

وَعَن\nعَوْف بن مَالك قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ: اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا . رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں غزوۂ تبوک میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ چمڑے کے ایک قبے میں تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت سے پہلے چھ علامتیں شمار کرو ، میری وفات ، پھر بیت المقدس کی فتح ، پھر ایک وبا جو تم میں اس طرح پھیل جائے گی جس طرح بکریوں میں طاعون کی بیماری پھیل جاتی ہے ، پھر مال کی ریل پیل حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے مگر وہ پھر بھی ناراض ہو گا ، پھر ایک ایسا فتنہ بپا ہو گا جو عربوں کے تمام گھروں میں داخل ہو جائے گا ، پھر تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح ہو گی ، لیکن وہ عہد شکنی کریں گے ، وہ اسی پر چموں تلے تم پر حملہ کریں گے اور ہر پرچم تلے بارہ ہزار افراد ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔