Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 258 of 315
وَعَن الْعرس بن عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عرس بن عمیرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب زمین پر گناہ کیا جائے اور وہاں موجود شخص اسے ناپسند کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو وہاں موجود نہیں ، اور جو شخص اس وقت وہاں موجود نہ ہو لیکن وہ اس پر راضی ہو تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو وہاں موجود ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنكم تقرؤونَ هذهِ الْآيَة: (يَا أيُّها الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ)\nفَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا مُنْكَرًا فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أبي دَاوُد: «إِذا رَأَوْا الظَّالِم فَم يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّن يعمله»\n
ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا :’’ لوگو ! تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو :’’ ایمان والو ! تم (گناہوں کے متعلق) اپنا خیال رکھو ، جب تم ہدایت پر ہو تو پھر گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔‘‘ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک جب لوگ کسی برائی کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں تو پھر قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔\nاور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جب وہ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں اور وہ اس کے ہاتھوں کو نہ روکیں تو پھر قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘\nاور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے :’’ جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں پھر وہ انہیں روکنے کی طاقت کے باوجود نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ انہیں عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘\nایک اور روایت میں ہے :’’ جس قوم کی اقلیت گناہ میں مبتلا ہو جائے اور وہ اکثریت جو گناہ تو نہیں کرتی مگر کرنے والوں کو روکتی بھی نہیں (وہ بھی عذاب سے دوچار ہو جائے گی) ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی و ابوداؤد ۔\n
وَعَن جَرِير بن عبد الله قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّروا عَلَيْهِ وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ قبل أَن يموتو» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر کوئی شخص کسی قوم میں گناہ کرتا ہو اور وہ لوگ اسے روکنے کی طاقت کے باوجود نہ روکیں تو پھر اللہ ان کے مرنے سے پہلے انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ولبعض فقره شَوَاهِد)\nوَعَن أبي ثعلبةَ فِي قَوْلُهُ تَعَالَى: (عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضل إِذا اهْتَدَيْتُمْ)\nفَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَلِ ائْتَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رأيتَ شُحّاً مُطاعاً وَهوى مُتَّبَعاً ودينا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ فَمَنْ صَبَرَ فِيهِنَّ قَبَضَ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه\n
اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ تم اپنی جانوں کو لازم پکڑو ، جب تم خود ہدایت پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔‘‘ کے بارے میں ابوثعلبہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : سن لو ! اللہ کی قسم ! میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلکہ تم نیکی کرنے کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ، حتیٰ کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے ، خواہش کی اتباع کی جاتی ہے ، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہر شخص اپنی رائے و عقل پر خوش ہے ، اور تم دیکھو کہ ایک ایسا امر جس سے بچنا مشکل ہے تو پھر تم اپنی جانوں کو لازم پکڑو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو ، کیونکہ آگے ایام صبر آنے والے ہیں ، جس شخص نے ان ایام میں صبر کیا گویا اس نے انگارہ پکڑا ، ان ایام میں عمل کرنے والے کے لیے پچاس آدمیوں کے عمل کرنے کے برابر اجر و ثواب ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان کے پچاس آدمیوں کے اجر کی مانند ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان پچاس آدمیوں کے اجر کی مانند جو تم میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ وَكَانَ فِيمَا قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ» وَذَكَرَ: «إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَا غَدْرَ أَكْبَرُ مِنْ غَدْرِ أَمِيرِ الْعَامَّةِ يُغْرَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ» . قَالَ: «وَلَا يَمْنَعْنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ» وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنْ رَأَى مُنْكَرًا أَنْ يُغَيِّرَهُ» فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ: قَدْ رَأَيْنَاهُ فَمَنَعَتْنَا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيهِ. ثُمَّ قَالَ: «أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى فَمنهمْ مَن يولَدُ مُؤمنا وَيحيى مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيحيى كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيحيى مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيحيى كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا» قَالَ: وَذَكَرَ الْغَضَبَ «فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى وَخِيَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ» . قَالَ: «اتَّقُوا الْغَضَبَ فَإِنَّهُ جَمْرَةٌ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى انْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ؟ وَحُمْرَةِ عَيْنَيْهِ؟ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَضْطَجِعْ وَلْيَتَلَبَّدْ بِالْأَرْضِ» قَالَ: وَذَكَرَ الدَّيْنَ فَقَالَ: «مِنْكُمْ مَنْ يَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ وَإِذَا كَانَ لَهُ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ فإحداهُما بِالْأُخْرَى وَمِنْهُم مَن يكونُ سيِّءَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهُ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى وَخِيَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَحْسَنَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهُ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَسَاءَ الْقَضَاءَ وَإِنْ كَانَ لَهُ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ» . حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رؤوسِ النَّخْلِ وَأَطْرَافِ الْحِيطَانِ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نماز عصر کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے قیام قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات بیان فرمائے ، کچھ لوگوں نے اسے یاد رکھا اور کچھ لوگوں نے اسے بھلا دیا ، آپ کے خطاب میں یہ بھی تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا شیریں و شاداب ہے ، بے شک اللہ تمہیں اس میں خلیفہ و جانشین بنانے والا ہے ، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، سن لو ! دنیا سے بچو ، اور عورتوں (کے فتنے) سے بچو ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ذکر فرمایا :’’ روز قیامت ہر عہد شکن کے لیے ، دنیا میں اس کی عہد شکنی کے مطابق ایک جھنڈا ہو گا ، اور امیر عامہ (صدر) کی عہد شکنی سے بڑھ کر کوئی عہد شکنی نہیں ہو گی ، اس کا جھنڈا اس کی سرین پر نصب کیا جائے گا ، اور لوگوں کا خوف تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے جبکہ وہ اسے جانتا ہو ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اگر وہ کوئی برائی دیکھے ، تو اسے روک دے لوگوں کا خوف اسے ایسا کرنے سے نہ روکے ۔‘‘ چنانچہ (یہ بیان کر کے) ابوسعید ؓ رونے لگے ، اور فرمایا : یقیناً ہم نے اس کو دیکھا لیکن لوگوں کے خوف نے ہمیں اس کے متعلق بات کرنے سے روک دیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! آدم ؑ کی اولاد مختلف طبقات پر پیدا کی گئی ، ان میں سے کوئی تو مومن پیدا کیا گیا ، وہ اسی حالت میں زندہ رہا اور اسی حالت پر فوت ہوا ، اور ان میں سے کچھ کو کافر پیدا کیا گیا ، وہ حالت کفر پر زندہ رہے اور کافر ہی فوت ہوئے ، اور ان میں سے کچھ مومن پیدا ہوتے ہیں ، حالت ایمان پر زندہ رہتے ہیں اور حالت کفر پر فوت ہو جاتے ہیں ، اور ان میں سے کچھ حالت کفر پر پیدا ہوتے ہیں ، اسی حالت پر زندہ رہتے ہیں اور حالت ایمان پر فوت ہوتے ہیں ۔‘‘ اور راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے غصے کا ذکر فرمایا :’’ ان میں سے کچھ کو جلد غصہ آ جاتا ہے اور جلد ہی اتر جاتا ہے ، ان میں سے ایک (خصلت) دوسری (خصلت) کا بدل ہے ، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور دیر سے جاتا ہے یہ بھی ایک (خصلت) دوسری کا بدل ہے ، اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جسے غصہ دیر سے آتا ہو اور جلد زائل ہوتا ہو ، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جسے غصہ تو جلد آتا ہو جبکہ وہ زائل دیر سے ہوتا ہو ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ غصے سے بچو ، کیونکہ وہ ابن آدم کے دل پر ایک انگارہ ہے ، کیا تم اس کی رگوں کے پھولنے اور اس کی آنکھوں کی سرخی کی طرف نہیں دیکھتے ، جو شخص ایسی کیفیت محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے اور زمین کے ساتھ لگ جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے قرض کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ تم میں سے کوئی ادائیگی میں اچھا ہوتا ہے لیکن جب اس نے کسی سے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں سختی کرتا ہے ، یہ (خصلت) دوسری کا بدل ہے ، (تاہم یہ وصف قابل ستائش نہیں) کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ادائیگی میں برے ہوتے ہیں جبکہ وصولی میں اچھے ہوتے ہیں تو یہ بھی دوسری (خصلت) کا بدل ہے ، (تاہم یہ وصف قابل ستائش نہیں) اور تم میں سے بہتر شخص وہ ہے کہ جب اس پر قرض ہو تو وہ اچھی طرح ادا کرتا ہے ، اور جب اس نے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں اچھا ہوتا ہے ، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں برا ہو اور اگر اس نے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں سخت ہو ۔‘‘ حتیٰ کہ جب دھوپ کھجور کے درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کی اطراف پر آ گئی تو فرمایا :’’ سن لو ! دنیا بس اتنی ہی باقی رہ گئی ہے جتنا آج کے دن کا یہ حصہ باقی رہ گیا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ أَبِي\nالْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لن يهْلك النَّاس حَتَّى يعذروا فِي أنفسهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
ابوبختری ، نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ اس وقت تک گناہوں کی وجہ سے تباہ و برباد نہیں کئے جائیں گے جب تک وہ گناہوں کے جواز کے لیے جھوٹے عذر پیش نہیں کریں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ عَدِيِّ\nبْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَوْلًى لَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ العامَّةَ والخاصَّةَ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n
عدی بن عدی کندی بیان کرتے ہیں ، ہمارے آزاد کردہ غلام نے ہمیں حدیث بیان کی کہ اس نے میرے دادا کو بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کی نافرمانی کی وجہ سے سب لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ اپنے سامنے برائی ہوتی دیکھیں اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اسے نہ روکیں ، جب وہ اس طرح کے ہو جائیں تو پھر اللہ عام و خاص (زیادہ اور تھوڑوں سب کو) عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَآكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَلَعَنَهُمْ عَلَى لسانِ دَاوُد وَعِيسَى ابْن مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ» . قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ: «لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطِرُوهُمْ أَطْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: «كَلَّا وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ ولنأطرنه على الْحق أطرا ولنقصرنه عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ»\n
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بنو اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو ان کے علما نے انہیں منع کیا ، وہ باز نہ آئے تو وہ (علما) ان کے ہم نشین اور ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بن گئے ، اللہ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے مشابہ کر دیا اور داؤد و عیسیٰ بن مریم ؑ کی زبان پر ان پر لعنت فرمائی ، اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرتے تھے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے ، رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ بیٹھ گئے ، پھر فرمایا :’’ نہیں (تم بھی کامیاب نہیں ہو گے) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! حتیٰ کہ تم ان (گناہ گاروں ، ظالموں) کو سختی سے منع کرو ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! تم ضرور نیکی کا حکم کرو ، تم ضرور برائی سے منع کرو اور تم ضرور ظالم کے ہاتھوں کو پکڑو تم ضرور اسے حق کی طرف مائل کرو اور تم ضرور اسے حق پر قائم رکھو ورنہ پھر اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے مشابہ کر دے گا ، پھر وہ تم پر بھی لعنت فرمائے گا جس طرح اس نے ان پر لعنت فرمائی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
وَعَنْ\nأَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ: مَنْ هؤلاءِ يَا جبريلُ؟ قَالَ: هؤلاءِ خُطباءُ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبَرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة «وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الإِيمان وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: «خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يقولونَ مَا لَا يفعلونَ ويقرؤونَ كتابَ اللَّهِ وَلَا يعملونَ»\n
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے معراج کی رات کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کی امت کے خطیب حضرات ہیں ، یہ لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر خود کو بھول جاتے تھے ۔‘‘ شرح السنہ ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور ان کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ آپ کی امت کے وہ خطیب حضرات ہیں جو یہ کہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے ، وہ اللہ کی کتاب پڑھتے تھے لیکن عمل نہیں کرتے تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ عَمَّارِ\nبْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَتِ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَاءِ خُبْزًا وَلَحْمًا وَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لغَدٍ فمُسِخوا قَردةً وخَنازيرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آسمان سے روٹی اور گوشت پر مشتمل دسترخوان اتارا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ وہ خیانت نہ کریں اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کریں ، لیکن انہوں نے خیانت کی ، ذخیرہ کیا اور کل کے لیے اٹھا رکھا ، جس کی وجہ سے انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَنْ عُمَرَ\nبْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ تُصِيبُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ سُلْطَانِهِمْ شَدَائِدُ لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا رَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ فَجَاهَدَ عَلَيْهِ بِلِسَانِهِ وَيَدِهِ وَقَلْبِهِ فَذَلِكَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ السَّوَابِقُ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ فَصَدَّقَ بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَأَى مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ أَحَبَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ رَأَى مَنْ يَعْمَلُ بِبَاطِلٍ أَبْغَضَهُ عَلَيْهِ فَذَلِكَ يَنْجُو على إبطانه كُله»\n
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری دور میں میری امت کو ان کے بادشاہوں کی طرف سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑے گا ، اور ان سے صرف وہی شخص بچے گا جو اللہ کے دین کو پہچان کر اپنی زبان ، اپنے ہاتھ اور اپنے دل کے ذریعے اس کے خلاف جہاد کرے گا ، یہ وہ شخص ہے جسے پہلی سعادتیں حاصل ہوں گی ، اور وہ شخص جس نے اللہ کے دین کی معرفت حاصل کی اور اس کی تصدیق بھی کی ، اور وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا لیکن اس (کے بیان و تفصیل) پر خاموشی اختیار کی ، اگر اس نے کسی کو اچھا کام کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر اس کو پسند کیا ، اور اگر کسی کو برا کام کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر اس سے ناراض ہوا ۔ یہ شخص اپنی مخفی پسند و ناپسند پر کامیاب ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلى جبريلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا قَالَ: يارب إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ . قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ فَإِنَّ وَجهه لم يتمعر فِي سَاعَة قطّ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے جبریل ؑ کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو اس کے باسیوں سمیت الٹ دو ۔ اس نے عرض کیا : رب جی ! ان میں تو تیرا فلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر تیری نافرمانی نہیں کی ۔‘‘ نبی ﷺ نے بیان فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس (شہر) کو اس پر اور ان پر الٹ دے ، کیونکہ اس کا چہرہ میری خاطر کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی متغیر نہیں ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ أَبِي\nسَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: مَا لَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ فَلَمْ تُنْكِرْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيُلَقَّى حُجَّتَهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ خِفْتُ النَّاسَ وَرَجَوْتُكَ «. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ\n
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ عزوجل روز قیامت بندے سے سوال کرتے ہوئے فرمائے گا : تجھے کیا ہوا تھا کہ جب تو نے برائی دیکھی تو تُو نے اسے کیوں نہیں روکا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو اس کی دلیل سکھا دی جائے گی اور وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں لوگوں سے ڈر گیا اور تجھ سے امید رکھی ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ أَبِي\nمُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا «. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الإِيمان\n
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! بے شک نیکی اور برائی دو (الگ الگ) مخلوق ہیں ، روز قیامت انہیں لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا ، چنانچہ نیکی تو اپنے ساتھیوں (یعنی نیکوکاروں) کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی ، جبکہ برائی کہے گی : دور رہو ، دور رہو ، لیکن وہ (برائی کرنے والے) اس سے جدا نہیں ہو سکیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں : صحت اور فراغت ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يجعلُ أحدُكم إصبعَه فِي اليمِّ فَلْينْظر بِمَ يرجع» . رَوَاهُ مُسلم
مستورد بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کی قسم ! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال بس ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے ، پھر وہ دیکھے کہ وہ (انگلی پانی کی) کتنی مقدار کے ساتھ لوٹتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ. قَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟» فَقَالُوا: مَا نحبُّ أَنه لنا بشيءقال: «فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُم» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بکری کے ایک چھوٹے کانوں والے مردار بچے کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم تو اسے کسی معمولی چیز کے بدلے میں لینا بھی پسند نہیں کرتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ (بکری کا مردہ بچہ) تمہارے نزدیک حقیر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ المؤمنِ وجنَّةُ الكافرِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ جبکہ کافر کے لیے جنت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَة يجزى بهَا» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کسی مومن کی کوئی نیکی ضائع نہیں کرتا ، اس کو اس (نیکی) کے بدلے میں دنیا میں عطا کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے آخرت میں جزا دی جائے گی ، اور کافر کو اس کی دنیا میں اللہ کے لیے کی گئی نیکیوں کے بدلے میں کھلایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ جب وہ آخرت کو پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی نہیں ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے ۔ رواہ مسلم ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. إِلَّا أَنْ عِنْدَ مُسْلِمٍ: «حُفَّتْ» . بَدَلَ «حُجِبَتْ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کو شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ صحیح مسلم میں ((حجبت)) کے بدلے ((حفت)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔