Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 257 of 315
وَعَنْ أَنَسٍ\nأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى الله قَبِلَ الله عذره»\n
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے ، اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو روک لیتا ہے ، روز قیامت اللہ اس سے اپنا عذاب روک لے گا اور جو شخص اللہ کے حضور معذرت کرتا ہے ، اللہ اس کی معذرت قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ والعلانيةِ والقولُ بالحقِّ فِي الرضى وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ «. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي» شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں باعث نجات ہیں اور تین چیزیں باعث ہلاکت ہیں باعث نجات چیزیں یہ ہیں : ظاہر و باطن میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا ، رضا و ناراضی میں حق بات کرنا ، اور تونگری و محتاجی میں میانہ روی اختیار کرنا ، اور باعث ہلاکت چیزیں یہ ہیں : ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے ، ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے ، اور انسان کی خود پسندی ، اور یہ ان سب سے زیادہ مہلک ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ظلم روز قیامت کئی اندھیروں کا باعث ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يفلته» ثمَّ يقْرَأ (وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظالمة)\nالْآيَة. مُتَّفق عَلَيْهِ\n
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن وہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستی کے ظالموں کو پکڑتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: «لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ» ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى اجتاز الْوَادي. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مقام حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ تم ان مساکن میں ، جہاں کے باشندوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، روتے ہوئے داخل ہونا کیونکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کہیں تم بھی اس میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کر دی حتیٰ کہ وہ وادی سے گزر گئے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص پر اپنے (مسلمان) بھائی کا ، اس کی عزت سے متعلق یا کسی اور چیز سے متعلق کوئی حق ہو تو وہ (دنیا میں) ، اس سے معافی تلافی کروا لے قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جب اس کے پاس درہم و دینار نہیں ہوں گے ، اگر اس کے پاس عمل صالح ہوں گے تو وہ اس سے اس کے ظلم کے بقدر لے لیے جائیں گے ، اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو حق دار کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» . قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْم الْقِيَامَة بِصَلَاة وَصِيَام وَزَكَاة وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا. وَأَكَلَ مَالَ هَذَا. وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرح فِي النَّار» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جس شخص کے پاس درہم ہوں نہ مال و متاع ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو روز قیامت نماز ، روزے اور زکوۃ لے کر آئے گا اور وہ بھی آ جائے گا جسے اس نے گالی دی ہو گی ، جس کسی پر بہتان لگایا ہو گا ، جس کسی کا مال کھایا ہو گا ، جس کسی کا خون بہایا ہو گا اور جس کسی کو مارا پیٹا ہو گا ، اس (مظلوم) کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دے دی جائیں گی ، اور اگر اس کے ذمے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان (حق داروں) کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «اتَّقَوُا الظُّلم» . فِي «بَاب الإِنفاق»\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم روز قیامت حق داروں کو ان کے حقوق ضرور ادا کرو گے ، حتیٰ کہ سینگوں والی بکری سے سینگوں کے بغیر بکری کو بدلہ دلایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ ظلم سے بچو ۔‘‘ باب الانفاق میں ذکر کی گئی ہے ۔\n
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وإِن أساؤوا فَلَا تظلموا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ. وَيصِح وَقفه على ابْن مَسْعُود
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ امّعہ نہ بنو ، (وہ اس طرح کہ) تم کہو : اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے ، اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے ، بلکہ تم اپنے آپ سے عزم کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «من التمَس رضى الله بسخط النَّاس كفاهُ اللَّهُ مؤونة النَّاس وَمن التمس رضى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ» وَالسَّلَام عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ کے نام خط لکھا کہ آپ اختصار کے ساتھ مجھے وصیت لکھیں ، چنانچہ انہوں نے لکھا : سلام علیک ! امابعد ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص لوگوں کی ناراضی کے بدلے میں اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے شر سے کافی ہو جاتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی ناراضی کے بدلے میں لوگوں کی خوشی تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔‘‘ والسلام علیک ! سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَن ابْن مَسْعُود قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: (الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمانهم بظُلْم)\nشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا: يَا رَسُول اله: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: (يَا بني لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ؟)\nفِي رِوَايَةٍ: «لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَان لِابْنِهِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ\n
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔‘‘ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے یہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے مراد شرک ہے ، کیا تم نے لقمان ؑ کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا :’’ بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ایسے نہیں جو تم گمان کرتے ہو ، یہ تو وہ ہے جیسے لقمان ؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي\nأُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ شخص بدترین ہو گا جس نے کسی کی دنیا (بنانے) کی خاطر اپنی آخرت ضائع کر لی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
وَعَنْ\nعَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ. يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ)\nوَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بينَهم وبينَ الله فَذَاك إِلَى اللَّهِ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِن شَاءَ تجَاوز عَنهُ\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اعمال نامے تین قسم کے ہیں ، ایک وہ اعمال نامہ جسے اللہ معاف نہیں فرمائے گا ، وہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے ، اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ بے شک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ۔‘‘ ایک وہ اعمال نامہ ہے جسے اللہ نہیں چھوڑے گا ، وہ ہے بندوں کا آپس میں ظلم کرنا حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لے لیں ، اور ایک وہ نامہ اعمال ہے جس کی اللہ پرواہ نہیں کرے گا ، وہ ہے بندوں کا اپنے اور اللہ کے درمیان ظلم کرنا ، یہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى حَقَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حق حَقه»\n
علی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے اور بے شک اللہ حق دار سے اس کا حق نہیں روکتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَن أوْسِ\nبن شَرحبيل أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَام»\n
اوس بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تا کہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلَى وَاللَّهِ حَتَّى الْحُبَارَى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ظالم شخص اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے ، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم ! حتیٰ کہ سرخاب ظالم کے ظلم کی وجہ سے دبلی پتلی ہو کر اپنے آشیانے ہی میں مر جاتی ہے ۔ امام بیہقی نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عَن أبي سعيدٍ الخدريِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فبقلبه وَذَلِكَ أَضْعَف الْإِيمَان» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر وہ طاقت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان سے ، اگر وہ (اس کی بھی) استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنے دل سے (بدلنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اس سے نفرت رکھے) ، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: مثلُ المدهنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ استهمواسفينة فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: مَالك؟ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ. فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود (قائم کرنے) میں سستی کرنے والے اور ان میں مبتلا ہونے والے شخص کی مثال اس قوم کی مثل ہے جنہوں نے ایک کشتی (میں سوار ہونے) کے متعلق قرعہ اندازی کی تو ان میں سے بعض اس کی نچلی منزل پر اور بعض بالائی منزل پر بیٹھ گئے ، جو نچلی منزل میں تھے وہ پانی لینے کے لیے بالائی منزل والوں کے اوپر سے گزرتے ، جس سے اوپر والے تکلیف محسوس کرتے ، لہذا نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگے ، چنانچہ اوپر والے ان کے پاس آئے اور پوچھا : تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ (ہمارے اوپر جانے سے) تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور پانی بھی ہماری مجبوری ہے ، اگر اوپر والوں نے اس کے ہاتھ روک لیے تو وہ اسے بھی بچا لیں گے اور اپنے آپ کو بھی بچا لیں گے ، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیں گے تو وہ اسے بھی ہلاک کر دیں گے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کر لیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ . مُتَّفق عَلَيْهِ
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت ایک آدمی لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، اس کی انتڑیاں آگ میں نکل آئیں گی ، وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے ، جہنمی اس پر جمع ہو جائیں گے ، اور اس سے دریافت کریں گے : اے فلاں ! تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تو ہمیں نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی کرنے سے نہیں روکتا تھا ؟ وہ کہے گا : میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا ، اور میں تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ وَلَا يُسْتَجَاب لكم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کر دے ، پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہ ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔