Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 252 of 315

5021Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

عَنْ أَبِي\nذَرٍّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟» قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ. وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى أَبُو دَاوُد الْفَصْل الْأَخير\n

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو کون سے اعمال زیادہ پسند ہیں ؟‘‘ صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا : نماز ، زکوۃ ، اور کسی نے عرض کیا : جہاد ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ، اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر بغض رکھنا ہے ۔‘‘ احمد ۔ اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

5022Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nأُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» . رَوَاهُ أَحْمد\n

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنے رب و عزوجل کی تکریم کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

5023Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

وَعَن أَسمَاء\nبنت يزِيد أَنَّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُؤوا ذُكِر الله» رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

5024Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ عَبْدَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاحِدٌ فِي الْمَشْرِقِ وَآخَرُ فِي الْمَغْرِبِ لَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُولُ: هَذَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّهُ فِي\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دو بندے اللہ عزوجل کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں ، ایک مشرق میں ہے اور ایک مغرب میں ، تو روز قیامت اللہ ان دونوں کو اکٹھا کر دے گا اور فرمائے گا : یہ ہے وہ جس سے تم میری رضا کی خاطر محبت کیا کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5025Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

وَعَن أبي\nرَزِينٍ أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مِلَاكِ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تُصِيبُ بِهِ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ أَهْلِ الذِّكْرِ وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّكْ لِسَانَكَ مَا اسْتَطَعْتَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَأَحِبَّ فِي اللَّهِ وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ يَا أَبَا رَزِينٍ هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ زَائِرًا أَخَاهُ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِنَّهُ وَصَلَ فِيكَ فَصِلْهُ؟ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْمِلَ جَسَدَكَ فِي ذَلِك فافعل\n

ابورزین (لقیط بن عامر بن صبرہ ؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس دین کی بنیاد کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ذریعے تم دین و دنیا کی بھلائی حاصل کر لو ؟ تم اہل ذکر کی مجالس اختیار کرو ، جب خلوت میں ہو تو پھر جس قدر ہو سکے اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھو اور اللہ کی خاطر محبت کرو اور اللہ کی خاطر بغض رکھو ۔ ابورزین ! کیا تمہیں معلوم ہے ؟ کہ آدمی جب اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں اور وہ سب اس کے لیے دعائیں کرتے جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : ہمارے پروردگار ! اس نے تیری رضا کی خاطر تعلق جوڑا ہے تو اسے (اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ) جوڑ دے ، اگر تم اپنے جسم کو ان کاموں پر لگا سکو تو لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5026Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَسْكُنُهَا؟ قَالَ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللَّهِ وَالْمُتَلَاقُونَ فِي اللَّهِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ، ان پر زمرد کے بالا خانے ہیں ، ان کے دروازے کھلے ہیں ، وہ چمک دار ستارے کی طرح چمکتے ہیں ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں کون لوگ رہیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ، اللہ کی خاطر آپس میں ہم نشینی اختیار کرنے والے اور اللہ کی خاطر آپس میں ملاقات کرنے والے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5027Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيعرض هَذَا ويعرض هذاوخيرهما الَّذِي يبْدَأ بِالسَّلَامِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلقات کرے ، دونوں ملتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتا ہے ، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5028Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» . وَفِي رِوَايَة: «وَلَا تنافسوا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بدگمانی سے بچو ، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے ، تم کسی کے عیب مت تلاش کرو اور نہ جاسوسی کرو ، قیمت بڑھانے کے لیے بولی مت دو اور نہ باہم حسد کرو ، بغض مت رکھو اور نہ قطع تعلقی کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ (اور حسد کی بنا پر) باہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5029Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُفْتَحُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رجلا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءٌ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هذَيْن حَتَّى يصطلحا . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں ، شرک سے بیزار ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے ، البتہ اس شخص کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو ، کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ وہ صلح کر لیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5030Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا عبدا بَينه بَين أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر جمعے (سات دنوں میں) لوگوں کے اعمال دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز پیش کیے جاتے ہیں ، ہر بندہ مومن کو بخش دیا جاتا ہے ، البتہ اس بندے کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو ، کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ (عداوت سے) رجوع کر لیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5031Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

اُم کلثوم بن عقبہ بن ابی مقیط ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں ، وہ (دونوں سے) خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے اور (دونوں کو) خیر و بھلائی کی بات پہنچاتا ہے ۔‘‘ امام مسلم نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : ام کلثوم ؓ نے کہا میں نے انہیں یعنی نبی اکرم ﷺ کو تین امور کے علاوہ کسی معاملے میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا : لڑائی (جنگ) میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں اور میاں بیوی کی باہم گفتگو کرنے میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5032Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَذكر حَدِيث جَابر: «إِن الشَّيْطَان قد أيس» فِي «بَاب الوسوسة»

اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ شیطان مایوس ہو چکا ۔‘‘ باب الوسوسہ میں ذکر کی گئی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

5033Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

عَن أَسمَاء بنت يزِيد قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف تین مواقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے ، آدمی کا اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا ، لڑائی میں جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5034Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاء بإثمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرے ، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو تین مرتبہ اسے سلام کرے ، ہر مرتبہ وہ اسے سلام کا جواب نہ دے تو یہ (سلام کرنے والا) اس (ترک ملاقات) کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5035Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرے ، جس شخص نے تین دن سے زائد ترک تعلق توڑے رکھا اور وہ (اسی حالت میں) فوت ہو گیا تو وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

5036Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن أبي خرَاش السُّلَميَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كسفك دَمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوخراش سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے اپنے بھائی سے سال بھر ترک ملاقات کی تو وہ اس کے خون بہانے کے مترادف ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5037Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثلاثُ فَلْيلقَهُ فليسلم عَلَيْهِ فَإِن ردَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ المُسلِّمُ من الْهِجْرَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن سے تین دن سے زائد ترک ملاقات کرے ، جب تین دن گزر جائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے ملاقات کرے اور اسے سلام کرے ، اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں ، اور اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو وہی شخص گناہ گار ہو گا جبکہ سلام کرنے والا ترک ملاقات کے زمرے سے نکل جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5038Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nالدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ من درجةِ الصِّيامِ والصدقةِ وَالصَّلَاة؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح\n

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں روزے ، صدقے اور نماز سے بہتر درجے والے عمل کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو فریقوں ، دوستوں ، رشتہ داروں کے درمیان صلح کرانا ، جبکہ دو فریقوں کے درمیان فساد ایسی خصلت ہے جو (نیکیوں کو) زائل کر دینے والی ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

5039Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنِ الزُّبَيْرِ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ ولكنْ تحلق الدّين» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ\n

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سابقہ امتوں کی بیماری (غیر محسوس طریقے سے) تمہاری طرٖف منتقل ہو گئی ہے ، حسد اور بغض و عداوت اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہے ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ (بیماری) بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5040Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔