Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 253 of 315

5041Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْهُ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سےروایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو (فریقوں ، دوستوں ، رشتہ داروں) کے درمیان برائی ڈالنے سے بچو کیونکہ وہ (دین کو) زائل کرنے والی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5042Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن أبي\nصرمة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب\n

ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی (مسلمان) کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے تکلیف پہنچاتا ہے ، اور جو شخص کسی کو مشقت میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی ۔

5043Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nبَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچاتا ہے یا اسے دھوکہ دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5044Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن ابنِ\nعمَرَ قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور با آواز بلند فرمایا :’’ اے لوگو ! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو جبکہ ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہنچا ، تم مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ اور نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ہی ان کے عیوب تلاش کرو ، کیونکہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے تو اللہ اس کے عیوب کا پیچھا کرتا ہے ، اور جس کے عیوب کا اللہ پیچھا کرتا ہے تو وہ اسے رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے وسط میں ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5045Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن سعيد\nبْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

سعید بن زید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سود کی سب سے سنگین صورت مسلمان کی عزت کے بارے میں زبان درازی کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5046Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: لما عرجَ بِي ربِّي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وجوهَهم وصدورهم فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب میرے رب نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے ، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے کہا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے (ان کی غیبت کیا کرتے تھے) اور ان کی عزتوں کے متعلق عیب جوئی کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5047Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن الْمُسْتَوْرد\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطعِمُه مثلَها منْ جهنَّمَ ومَن كَسا ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ لَهُ مَقَامَ سُمْعَةٍ ورياءِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

مستورد ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی مسلمان آدمی (کی غیبت) کی وجہ سے ایک لقمہ کھایا تو اللہ اس شخص کو اس کی مثل جہنم سے کھلائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان آدمی کی (غیبت کی) کی وجہ سے کوئی کپڑا پہنا تو اللہ اس شخص کو اس کی مثل جہنم سے (کپڑا) پہنائے گا اور جو شخص شہرت و ریاکاری کی جگہ کھڑا ہوا تو اللہ اس کو روز قیامت شہرت و ریاکاری کی جگہ پر کھڑا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5048Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حسْنِ العِبادةِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن ظن ، حسن عبادت میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

5049Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَن عائشةَ\nقَالَتْ: اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: «أَعْطِيهَا بَعِيرًا» . فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَهَا ذَا الْحُجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ: «مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا» فِي «بَابِ الشَّفَقَة وَالرَّحْمَة»\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صفیہ ؓ کا اونٹ بیمار ہو گیا جبکہ زینب ؓ کے پاس زائد سواری تھی ، رسول اللہ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا :’’ اس (صفیہ ؓ) کو اونٹ دے دو ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس یہودن کو دوں ! رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور آپ ﷺ نے ذوالحجہ ، محرم اور صفر کے چند ایام تک ان سے صحبت ترک کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔\nاور معاذ بن انس ؓ سے مروی حدیث :’’ جو شخص کسی مومن کی عزت بچاتا ہے ۔‘‘ باب الشفقۃ و الرحمۃ میں گزر چکی ہے ۔\n

5050Mishkaat-al-Masabihصحیح

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

عَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: رأى عِيسَى بن مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى: سَرَقْتَ؟ قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِي . رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو عیسیٰ ؑ نے اسے فرمایا : تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ! ہرگز نہیں ، (اس پر) عیسیٰ ؑ نے فرمایا : میں اللہ پر ایمان لایا ، اور میں نے اپنے نفس کی تکذیب کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5051Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كفرا وكادَ الحسدُ أَن يغلب الْقدر»\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ فقر (اللہ پر اعتراض کرنے کی وجہ سے) کفر بن جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5052Mishkaat-al-Masabihضعیف

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

وَعَنْ\nجَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذِرْهُ أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ كَانَ عَلَيْهِ مثلُ خَطِيئَة صَاحب المكس» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ: الْمَكَّاسُ: الْعَشَّارُ\n

جابر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اسے معذور نہ سمجھے یا وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس وصول کرنے والے کی مثل گناہ ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔\n یہ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور فرمایا : ((المکاس)) سے عشر لینے والا مراد ہے ۔\n

5053Mishkaat-al-Masabihصحیح

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يلْدغ الْمُؤمن من جُحر مرَّتَيْنِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5054Mishkaat-al-Masabihصحیح

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا الله: الْحلم والأناة . رَوَاهُ مُسلم

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عبد القیس کے سردار اشج سے فرمایا :’’ تم میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : حلم اور وقار ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5055Mishkaat-al-Masabihضعیف

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاس الرَّاوِي من قبل حفظه

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بردباری اللہ کی جانب سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سے ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور اسے غریب کہا ہے اور بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی عبد المہیمن بن عباس کے حافظے کے متعلق کلام کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5056Mishkaat-al-Masabihصحیح

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرُبَةٍ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لغزش کرنے والا ہی بردبار ہوتا ہے اور تجربہ کار ہی دانا ہوتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5057Mishkaat-al-Masabihضعیف

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: «خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا : آپ مجھے وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاملے پر غور و فکر کر ، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا منکر ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5058Mishkaat-al-Masabihضعیف

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْء إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مصعب بن سعد ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، جبکہ اعمش نے فرمایا : میں تو اس (حدیث) کو نبی ﷺ ہی سے جانتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمل آخرت کے علاوہ ہر چیز میں عجلت سے کام نہ لینا بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5059Mishkaat-al-Masabihصحیح

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَن عبد الله بن جرجس أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَعشْرين جُزْءا من النُّبُوَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اچھی سیرت ، تحمل و وقار اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5060Mishkaat-al-Masabihصحیح

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اچھا طریق اور اچھی سیرت نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔