Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 254 of 315
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
جابر بن عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اور تو نہیں سن رہا) تو وہ امانت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأبي الهيثمِ بن التَّيِّهان: «هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟» فَقَالَ: لَا. قَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ مِنْهُمَا» . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ. خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابو الہیشم بن التیہان سے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو پھر تم ہمارے پاس آنا ۔‘‘ نبی ﷺ کے پاس دو غلام لائے گئے تو ابو الہیشم بھی آپ کے پاس گئے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! آپ ہی پسند فرما دیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے ، اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: المجالسُ بالأمانةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ واقتطاع مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ» فِي «بَاب المباشرةِ» فِي «الْفَصْل الأول»\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین مجالس ، (جہاں) ناحق قتل کرنے یا زنا کرنے یا ناحق مال حاصل کرنے کے متعلق باتیں ہو رہی ہوں ، کے علاوہ مجالس (کی باتیں) امانت ہوتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n اور ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کہ :’’ بے شک بڑی امانت ‘‘ باب المباشرۃ کی فصل اول میں ذکر ہو چکی ہے ۔\n
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
عَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ: قُمْ فَقَامَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أدبر ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَقْبِلْ فَأَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْعُدْ فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَقْتُ خَلْقًا هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَلَا أَفْضَلُ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنُ مِنْكَ بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ وَبِكَ أُعَاتِبُ وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ العقابُ . وَقد تكلم فِيهِ بعض الْعلمَاء\n
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے عقل کو پیدا فرمایا تو اسے فرمایا : کھڑی ہو جا ، وہ کھڑی ہو گئی ، پھر اسے کہا : پیچھے مڑ ، تو وہ پیچھے مڑ گئی ، پھر اسے کہا : سامنے توجہ کر ، تو وہ سامنے آ گئی ، پھر اسے کہا : بیٹھ جا ، تو وہ بیٹھ گئی ، پھر اسے فرمایا : میں نے اپنی پوری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ بہتر و افضل اور سب سے اچھا بنایا ہے ، میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا ، تیری وجہ سے عنایت کروں گا اور تیری وجہ سے میں پہچانا جاتا ہوں ، میں تیری وجہ سے سزا دوں گا جزا اور ثواب کا انحصار بھی تجھ پر ہے ۔‘‘ اس کے متعلق بعض علما نے کلام کیا ہے ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ» . حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا: «وَمَا يُجْزَى يَوْم الْقِيَامَة إِلا بقدرِ عقله»\n
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلا شبہ ایک شخص نماز پڑھنے والوں ، روزہ رکھنے والوں ، زکوۃ دینے والوں ، حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہو گا ۔‘‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تمام اچھے کاموں کا ذکر کیا ۔’’ لیکن اس شخص کو ثواب اس کی عقل کے تناسب سے دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا ورع كالكفِّ ولاحسب كحسن الْخلق»\n
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ ابوذر ! تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں اور مشتبہات سے رک جانے جیسا کوئی تقویٰ نہیں اور نہ ہی حسن خلق جیسا کوئی حسب و شرف ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ» رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ\n
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خرچ کرنے میں میانہ روی نصف معیشت ہے ، (اچھے) لوگوں سے دوستی اور محبت نصف عقل ہے ، اور حسن سوال نصف علم ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے یہ چاروں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف منکر ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ لِعَائِشَةَ: «عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْء إِلَّا شانه»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے ، نرمی کو پسند فرماتا ہے ، اور وہ جس قدر نرمی پر عطا کرتا ہے ، وہ سختی پر عطا نہیں کرتا نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے ۔‘‘ اور مسلم ہی کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا :’’ نرمی اختیار کرو ، سختی اور بدزبانی سے اجتناب کرو ، بے شک جس چیز میں نرمی ہوتی ہے تو وہ اس (چیز) کو مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے اسے نکال لیا جاتا ہے تو وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جریر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نرمی سے محروم شخص (ہر قسم کی) خیر و بھلائی سے محروم ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنے شرمیلے نہ بنو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «الْحيَاء خير كُله» مُتَّفق عَلَيْهِ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حیا خیر ہی لاتا ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے :’’ حیا تو سرآپا خیر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحى فاصنعْ مَا شئْتَ رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں نے سابقہ انبیا ؑ کے کلام سے جو پایا ہے اس میں یہ (مقولہ) بھی ہے کہ جب تو حیا نہیں کرتا تو پھر جو چاہے سو کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَن النَّواس بن سمْعَان قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ: «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَن يطلع عَلَيْهِ النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نیکی ، اچھا اخلاق ہے ، جبکہ گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگ اس سے مطلع ہو جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب شخص وہ ہے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أحسنَكم أَخْلَاقًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِي حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو نرمی سے اس کا حصہ دیا گیا تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی سے اس کا حصہ دیا گیا اور جو شخص نرمی سے اپنے حصے سے محروم کر دیا گیا تو وہ دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّار» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حیا ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان (والے) جنت میں ہوں گے ، جبکہ فحش گوئی برائی ہے اور برائی (والے) جہنم میں جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ رَجُلٍ\nمِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»\n
مزینہ قبیلے کے آدمی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انسان کو جو عطا کیا گیا ہے اس میں سب سے بہتر چیز کونسی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن خلق ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَفِي\nشَرْحِ السُّنَّةِ\nعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ\n
اور شرح السنہ میں اسامہ بن شریک سے مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
وَعَنْ حَارِثَةَ\nبْنِ وَهْبٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلَا الْجَعْظَرِيُّ» قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الْغَلِيظُ الْفَظُّ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي «سُنَنِهِ» . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ وَصَاحِبُ» جَامِعِ الْأُصُولِ «فِيهِ عَنْ حَارِثَةَ. وَكَذَا فِي» شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ وَلَفْظُهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ» . يُقَالُ: الْجَعْظَرِيُّ: الْفَظُّ الْغَلِيظُ\nوَفِي نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ وَهْبٍ وَلَفْظُهُ قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الَّذِي جَمَعَ وَمَنَعَ. وَالْجَعْظَرِيُّ: الغليظ الْفظ\n
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بداخلاق اور سخت دل انسان جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔\n اور جامع الاصول والے نے بھی اسے روایت کیا ہے ، اور اس میں حارثہ سے مروی ہے ، اور اسی طرح انہی سے شرح السنہ میں بھی مروی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں ، فرمایا :’’ جواظ و جعظری ‘‘ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ جعظری کا یہ معنی کہا جاتا ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ اور مسابیح کے نسخوں میں عکرمہ بن وہب سے مروی ہے ، اور اس کے الفاظ ہیں :’’ جواظ ‘‘ کا معنی ہے : مال جمع کرنے والا بخیل ، اور ’’ جعظری ‘‘ کا معنی ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان و فی شرح السنہ و ذکر فی المصابیح السنہ ۔\n