Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 246 of 315
وَعَن الْحسن عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَه
حسن بصری ؒ سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا میں باعث اعزاز مال ہے جبکہ اللہ کے ہاں (آخرت میں) باعث اعزاز تقویٰ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
وَعَن أُبيِّ\nبن كعبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيهِ وَلَا تُكَنُّوا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»\n
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص جاہلی نسب کی طرف نسبت کرے (اور اس پر فخر کرے) تو اس سے کہو اپنے باپ کا آلہ تناسل کاٹ کر منہ میں لے لو اور یہ بات کنایہ سے مت کہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و احمد و البخاری فی الادب المفرد ۔
وَعَنْ\nعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ عَنْ أبي عُقبةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَلَّا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
عبدالرحمن بن ابی عقبہ ؒ ، ابو عقبہ ؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اہل فارس کے آزاد کردہ غلام تھے ، انہوں نے کہا : میں غزوۂ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھا ، میں نے ایک مشرک پر وار کیا تو میں نے کہا : اسے میری طرف سے وصول (برداشت) کرو ، میں فارسی النسل ہوں ، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ تم نے ایسے کیوں نہ کہا ، اسے میری طرف سے وصول (برداشت) کرو اور میں انصاری ، جوان ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنِ\nابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رَدَى فَهُوَ يُنزَعُ بذنَبِه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنی قوم کی ناحق حمایت و نصرت کی تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو کنویں میں گر جائے اور اسے اس کی دم سے پکڑ کر کھینچا جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن\nواثلةَ بن الأسقَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! عصبیت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم ناحق اپنی قوم کی معاونت کرو ۔‘‘ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن\nسُراقَة بن مالكِ بن جُعْشُم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «خير كم الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ تم میں سے بہترین دفاع کرنے والا وہ ہے جو اپنے خاندان کا دفاع کرتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن\nجُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِيَّةً وَلَيْسَ مِنَّا من مَاتَ علىعصبية» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی طرف بلایا ، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر قتال کرے اور وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر فوت ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي\nالدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
ابودرداء ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی چیز سے تیری محبت اندھا اور بہرہ بنا دیتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عَن عُبَادَةَ\nبْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَن امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ\n
اہل فلسطین سے عبادہ بن کثیر شامی اپنی (فلسطینی) فسیلہ نامی عورت سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا ، میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ بھی عصبیت کے زمرے میں آتا ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ عصبیت تو یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ناحق حمایت و نصرت کرے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
وَعَنْ\nعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْسَابُكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تملؤوه لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے یہ انساب (ذات ، قبیلے) کسی کے لیے باعث عار نہیں ، تم سب آدم کی اولاد ہو اور تم سب باہم اس طرح برابر ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے ، دین اور تقویٰ کے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ، آدمی کے لیے عار کے لحاظ سے یہی کافی ہے کہ وہ زبان دراز ، فحش گو اور بخیل ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمَّكَ» . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ «أُمَّكَ» . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبُوكَ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثمَّ أدناك أدناك» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری والدہ ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری ماں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری ماں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیرا باپ ۔‘‘\n ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیرا باپ ، پھر تیرا قریبی رشتہ دار ، پھر اس سے کم قریبی رشتہ دار ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ» . قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ثمَّ لم يدْخل الْجنَّة» . وَرَاه مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو !‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کس کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پا لے پھر وہ (ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے) جنت میں داخل نہ ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نعم صِليها» . مُتَّفق عَلَيْهِ
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، میری والدہ میرے پاس تشریف لائیں جبکہ وہ مشرکہ تھی ، یہ اس وقت کی بات ہے جب قریش سے (حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بے شک میری والدہ میرے پاس آئی ہیں جبکہ وہ بہتر سلوک کی متمنی ہے تو کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ! اس سے صلہ رحمی کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ آل فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ
عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آل ابو فلاں میرے دوست و حمایتی نہیں ، میرا حمایتی تو اللہ اور صالح مومن ہیں ، لیکن ان کے ساتھ رشتہ داری ہے جسے میں صلہ رحمی کے ذریعے برقرار رکھوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَن الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَمَنَعَ وَهَاتِ. وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے ماؤں کی نافرمانی کرنے ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے ، بخل کرنے اور دست سوال دراز کرنے کو تم پر حرام قرار دیا ہے ، اور فضول باتیں کرنے ، (لوگوں کے احوال جاننے کے لیے) زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو تمہارے متعلق ناپسند فرمایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ ويسبُّ أمه فيسب أمه» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، وہ کسی آدمی کے والد کو گالی دیتا ہے تو (بدلے میں) وہ اس کے والد کو گالی دیتا ہے ، اور یہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ، تو (بدلے میں) وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَن يولي» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک آدمی کا اپنے والد کے فوت ہو جانے کے بعد ، اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرنا سب سے بڑی نیکی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَره فَليصل رَحمَه» . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا رزق فراخ کر دیا جائے اور اس کی عمر دراز کر دی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوَيِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: مَهْ؟ قَالَتْ: هَذَا مقَام العائذ بك من القطيعةِ. قَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ قَالَ: فَذَاك . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ، اور جب وہ اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا اور اس نے رحمن کی کمر پکڑ لی ، اس پر (رحمن) نے فرمایا : ہٹ جا ؟ اس (رحم) نے عرض کیا ، یہ مقام اس کا ہے جو تیرے ساتھ قطع رحمی سے پناہ طلب کرتا ہے ، فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے تعلق قائم رکھوں جو تجھ سے تعلق قائم رکھے ، اور جو تجھ سے تعلق توڑ دے میں اس سے تعلق توڑ دوں ، رحم نے عرض کیا ، رب جی ! کیوں نہیں (میں راضی ہوں) ، فرمایا :’’ یہ میں نے جو کہا ایسے ہی ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ. فَقَالَ اللَّهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رحم ، رحمن سے مشتق ہے ، اللہ نے فرمایا :’’ جس نے تجھ سے تعلق قائم کیا میں اس سے تعلق قائم کروں گا اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا میں اس سے تعلق توڑ دوں گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔