Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 245 of 315
وَعَن زيد بن أَرقم عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلِمَ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
زید بن ارقم ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی وعدہ وفائی کی نیت سے اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے لیکن اس سے وعدہ وفا نہیں ہوا اور نہ وہ وقت مقرر پر پہنچا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن عبدِ الله بن عامرٍ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟» قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَهُ تَمْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
عبداللہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے ، میری والدہ نے فرمایا : سنو ، آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَأْتِ أَحَدُهُمَا إِلَى وَقْتِ الصَّلَاةِ وَذَهَبَ الَّذِي جَاءَ لِيُصَلِّيَ فَلَا إِثمَ عليهِ» . رَوَاهُ رزين
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آدمی سے وعدہ کیا ، لیکن ان دونوں میں سے ایک وقت نماز تک نہ آیا جبکہ وہ شخص جو آ چکا تھا وہ نماز پڑھنے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ رزین ۔
عَن أنس قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» كَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے ساتھ تکلف نہیں برتتے تھے (گھل مل کر رہتے تھے) حتی کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے : ابوعمیر ! ’’ چڑیا نے کیا کیا ؟‘‘ ابوعمیر کی ایک چڑیا تھی وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا وہ مر گئی ۔ متفق علیہ ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو ہم سے خوش طبعی کر لیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں حق بات ہی کہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعَن أنسٍ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ؟» فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سواری طلب کی تو آپ نے فرمایا :’’ میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اونٹنیاں ہی اونٹ کو جنم دیتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اے دو کانوں والے !‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُوزٍ: «إِنَّهُ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُوزٌ» فَقَالَتْ: وَمَا لَهُنَّ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ. فَقَالَ لَهَا: «أَمَا تَقْرَئِينَ الْقُرْآنَ؟ (إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنشاءً فجعلناهُنَّ أَبْكَارًا)\nرَوَاهُ رَزِينٌ. وَفِي\nشَرْحِ السُّنَّةِ» بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ»\n
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ایک بڑھیا عورت سے فرمایا :’’ کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی ۔‘‘ اس (عورت) نے عرض کیا : ان کے لیے کیا (مانع) ہے ؟ اور وہ قرآن پڑھتی تھی ، آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا تم قرآن نہیں پڑھتی ہو ؟ بے شک ہم نے ان (حوروں) کو ایک خاص طریقے پر پیدا کیا ہے ، پھر ان کو کنوارا رکھا ۔‘‘ رزین ۔ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ، رواہ رزین و فی شرح السنہ ۔
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمه زَاهِر بن حرَام وَكَانَ يهدي النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ» . وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ دَمِيمًا فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خلفِه وَهُوَ لَا يُبصره. فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجعل لَا يألوا مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ وَجَعَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ» رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
انس ؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک گنوار شخص جنگل سے نبی ﷺ کے لیے تحائف لایا کرتا تھا ، اور جب وہ واپسی کا ارادہ کرتا تو رسول اللہ ﷺ اسے (سامان) دیا کرتے تھے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ زاہر جنگل میں ہمارا کارندہ ہے اور ہم شہر میں اس کے کار پرداز ہیں ۔‘‘ اور نبی ﷺ اس سے محبت کیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھا ، چنانچہ ایک روز نبی ﷺ تشریف لائے تو وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا ، آپ نے اس کے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا اور وہ آپ کو نہیں دیکھتا تھا ، اس نے عرض کیا : مجھے چھوڑ دو ، یہ کون ہے ؟ اس نے ایک طرف سے دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ نبی ﷺ ہیں ، جب اس نے آپ کو پہچان لیا تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی پشت نبی ﷺ کے سینہ مبارک کے ساتھ لگانے لگا ، اور نبی ﷺ فرمانے لگے :’’ اس غلام کو کون خریدے گا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میری بہت کم قیمت آپ کو ملے گی ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ لیکن تم اللہ کے ہاں کم قیمت کے نہیں ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: «ادْخُلْ» فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «كُلُّكَ» فَدَخَلْتُ. قَالَ عُثْمَان بن أبي عَاتِكَة: إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ چمڑے کے چھوٹے سے خیمے میں تھے ، میں نے سلام عرض کیا تو آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور فرمایا :’’ اندر آ جاؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سارا (اندر آ جاؤں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سارے کے سارے (اندر آ جاؤ) ۔‘‘ میں اندر چلا گیا ، عثمان بن ابی عاتکہ (راوی) بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : کیا میں چھوٹے سے خیمے میں سارے کا سارا آ جاؤں ؟ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن النعمانِ بن بشيرٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا وَقَالَ: لَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يحجزه وَأَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: «كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟» . قَالَتْ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا فَقَالَ لَهُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے نبی ﷺ سے آنے کی اجازت طلب کی اور انہوں نے عائشہ ؓ کی آواز بلند ہوتے ہوئے سنی ، جب وہ اندر تشریف لے آئے ، تو انہوں نے عائشہ ؓ کو پکڑا تا کہ انہیں طمانچہ ماریں ، اور انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی آواز پر آواز بلند کرتے ہوئے نہ دیکھوں ۔ نبی ﷺ ابوبکر ؓ کو روکنے لگے اور وہ غصے کی حالت میں باہر تشریف لے گئے ، جب ابوبکر ؓ باہر نکل گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیسے دیکھا کہ میں نے تمہیں اس آدمی (یعنی ابوبکر ؓ) سے بچایا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ چند دنوں کے بعد پھر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو ان دونوں (رسول اللہ ﷺ اور عائشہ ؓ) کو صلح کی حالت میں پایا اور انہوں نے ان دونوں سے کہا : تم مجھے اپنی صلح میں داخل کرو جیسے تم نے اپنی لڑائی میں مجھے داخل کیا تھا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ہم کر چکے ، ہم کر چکے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب\nوَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ\n
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے (مسلمان) بھائی سے جھگڑا نہ کر اور نہ اس سے (تکلیف دہ) مذاق نہ کر اور نہ ہی اس سے ایسا وعدہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَي النَّاس أكْرم؟ فَقَالَ: «أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ» . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: «فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» . قَالُوا: لَيْسَ عَن هَذَا نَسْأَلك. قَالَ: «فَمِمَّنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : لوگوں میں سے زیادہ معزز شخص کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان میں سے اللہ کے ہاں زیادہ معزز شخص وہ ہے جو ان میں سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب معزز شخص یوسف ؑ اللہ کے نبی ، اللہ کے نبی کے بیٹے ، اللہ کے نبی کے پوتے ، اللہ کے خلیل (ابراہیم ؑ) کے پڑپوتے ہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ہم اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کر رہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم عرب قبائل کے متعلق مجھ سے دریافت کر رہے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہی تمہارے اسلام میں بہتر ہیں بشرطیکہ وہ (آداب شریعت کے متعلق) سمجھ بوجھ حاصل کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بنِ إِسحاقَ بن إِبراهيمَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کریم بن کریم بن کریم بن کریم ، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِهِ يَعْنِي بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشِيَهُ الْمُشْرِكُونَ نَزَلَ فَجَعَلَ يَقُولُ «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»\nقَالَ: فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ\n
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں غزوۂ حنین کے روز ابوسفیان بن حارث ؓ آپ یعنی رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ، جب مشرکین نے آپ کو ہر طرف سے گھیر لیا تو آپ (سواری سے) نیچے اترے اور فرمانے لگے :’’ میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس دن تمام لوگوں میں سے آپ ﷺ سے زیادہ شجاع کوئی نہیں دیکھا گیا ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيم» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے پوچھا : مخلوق میں سے بہترین شخصیت ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ابراہیم ؑ ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُولُوا: عبدُ الله ورسولُه . مُتَّفق عَلَيْهِ
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری مدح میں ایسے مبالغہ نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی مدح میں مبالغہ سے کام لیا ، میں تو اس کا بندہ ہوں ، تم کہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن عياضِ بن حمارٍ المجاشعيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يبغيَ أحدٌ على أحد . رَوَاهُ مُسلم
عیاض بن حمار مجاشعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو حتی کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ أَوْ فَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آ جائیں ، وہ تو دوزخ کے کوئلے ہیں ، یا وہ اللہ کے ہاں کرم نجاست سے بھی زیادہ حقیر ہیں جو کہ اپنی ناک سے غلاظت دھکیلتا ہے ، بے شک اللہ نے آباؤ اجداد پر تمہارے جاہلی فخر و غرور کو ختم کر دیا ہے ، بس وہ (فخر کرنے والا) مؤمن متقی ہے یا فاجر بدبخت ، تمام لوگ آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے (پیدا ہوئے) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
وَعَن مطرف بن عبد الله الشِّخّيرِ قَالَ: قَالَ أَبِي: انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا. فَقَالَ: «السَّيِّدُ اللَّهُ» فَقُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا. فَقَالَ: «قُولُوا قَوْلَكُمْ أَوْ بَعْضَ قَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
مطرف بن عبداللہ بن شخیر ؒ سے روایت ہے ، وہ (اپنے والد سے) بیان کرتے ہیں ، میں بنو عامر کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے عرض کیا : آپ ﷺ ہمارے سید ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ سید تو اللہ ہے ۔‘‘ پھر ہم نے عرض کیا : آپ فضیلت میں ہم سے افضل ہیں اور ہم سے عظیم تر ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو کہہ رہے ہو وہ کہو یا اپنی بات کا کچھ حصہ کہو اور شیطان تمہیں (باتیں بنانے پر) دلیر نہ بنا دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔